Categories
شاعری

کششِ ثقل (رضوان علی)

میرے پیر زمین پہ جمے ہوئے ہیں
لیکن میں دراصل
اس زمین سمیت
خلاء میں تیر رہا ہوں
ایک کائنات سے دوسری کی طرف
جاتے ہوئے

ازل سے ابد تک کا سفر
مجھے اپنے اندر ہی طے کرنا ہے

بہت جلد
سارے خداؤں کے درمیان
ایک گھمسان کی جنگ چھڑے گی
بس وہی فیصلے کی گھڑی ہے
اور پھر ۔۔۔
نو آسمان تہہ بہ تہہ
ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں گے
اور میں تم سے
بہت دور چلا جاؤں گا

مجھے تمہاری کمی
پہلے سے بھی زیادہ
محسوس ہو رہی ہے

یہاں آؤ ۔۔۔
بچھڑنے سے پہلے
میں ایک بار تمھیں
بہت قریب سے
دیکھنا چاہتا ہوں

Categories
شاعری

اسلام پورہ میں ایک بدروح افسردہ ہے (زاہد امروز)

عورت جو چھ سال پہلے مر چکی ہے
اس کی لاش ابھی تک صحن میں پڑی ہے
عورتیں میّت کے سرہانے بیٹھی ہیں
کمرہ چغلیوں سے بھراہوا ہے

اسلام پورہ کی گلیوں میں بد روحیں پھرتی ہیں
اور میرے دل میں سستا نے آتی ہیں

میں یاد کرتا ہوں
وہ چھت پر سو رہی ہوتی
ایک جِن میرا ہاتھ اُس کی رانوں پر پھیرتارہتا
میں بریزیئر میں بنیان اُڑس کر پستان بناتا
اورمشت بھر لطف کے بیج گراتا

جب میں اسے آخری بار ملا
چیونٹیاں اُس کی ایک ٹانگ کُتر چکیں تھی
اس کے تن کا تنا سوکھ چکا تھا
رفتہ رفتہ وقت کی بکری بدن کا پھل بھی چر گئی
قسمت لادین تھی
تعویز بے اثر گئے
اور ڈاکٹر کی دوائی عامل کے کرائے سے مہنگی تھی

عصر کی اذان کے بعد اُسے دفنانے لے جائیں گے
میں اسے تب بھی دیکھتا تھا اورآج بھی دیکھتا ہوں
کل ہمارے درمیان اُس کا شوہر تھا
کل ہمارے درمیان حاملہ عورت کے پیٹ جیسی قبر ہوگی

بنیان جو اَب میں نہیں پہنتا
بریزیئر جو اَب وہ نہیں پہنے گی
غسل خانے میں لٹک رہے ہیں

Categories
شاعری

تم میری یادوں سے نہیں بچ پاؤ گے! (نصیر احمد ناصر)

دوستو! اب میرے پاس بچا ہی کیا ہے
ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی
تم وہ بھی چھین لینا چاہتے ہو
افسوس کہ تم نہیں جانتے
خود فریبی کا کوئی انت نہیں ہوتا
یہ جہاں سے شروع ہوتی ہے
وہیں پر ختم ہو جاتی ہے
میں نے اپنے ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی کے ساتھ
زندہ رہنا سیکھ لیا ہے
تمھیں پتا ہی نہیں چلے گا
اور میں ایک خواب سے نکل کر
دوسرے خواب میں داخل ہوتا رہوں گا
اور زندہ رہوں گا
ہر زمانے کی اسطورہ کے ساتھ
میں زندہ رہوں گا
پھولوں اور پودوں میں
پہاڑوں، آبشاروں اور جھیلوں میں
نیلی گھاس کے رقبوں،
گلیوں میں کھیلتے بچوں
اور لکیروں کی طرح پھیلے ہوئے راستوں میں
اور سب سے بڑھ کر
تم پر حملہ آور ہونے والی سفاک یادوں میں!!

Categories
شاعری

بس کرو (رضی حیدر)

رینٹ
کلچر تیری ۔۔۔
(انسان ایک سوشل اینیمل ہے)
بس کرو!
(تمہارا جین خود غرض ہے)
بس کرو!
(تنہائی کے اس ہاویہ سے ڈرو جس کا ایندھن صرف انسانوں کے دل ہیں پتھر نہیں )
بس کرو!
فلسفے بگھارتے، فروعی بکواس کرتے کب تک گزرے گی ۔۔۔ ؟
بک بک بک بک
بس کرو!
اس کلچر کی لسی رڑکتے رہو
ہر بار سمیولیٹ کرو،
یوں کرنا ٹھیک ہے یا یوں
میں یہاں اِن جیسا ہو جاؤں؟
اور اب واپس پاکستان جاؤں تو اُن جیسا ہو جاؤں؟
(وہ ہو پائے گی اُن جیسا؟
لبرل عورتیں قدامت پسندی کی پوشاک نہیں پہنا کرتیں
پہن لے تو کیا ہرج ہے؟
میرے زخمی میل شاونسٹ بندر کو ملہم لگا دے بس
پر کیوں کرے وہ ایسا
نہیں کر پائے گی)
بک بک بک بک
بس کرو
میں خود کون ہوں؟
شاید ایک بندر ہی ہوں جو
دو ایتھوس کا بنا،
رنگ برنگا،
پیوند لگا پیراہن پہن کر
نہ ادھر کا ہے نہ ادھر کا
(بندر ہوتا ہے یا کتا؟)
(میں)
کوئی درمیان کی چیز ۔۔۔
مجھے زنخوں پر بہت پیار آ رہا ہے جو میری طرح
دو شناختوں کے درمیان ناچ رہے ہیں
میں تو فقط ہونا چاہتا تھا، نہ ایسا نہ ویسا
فقط ہونا چاہتا ہوں!
ایک آشوب جہاں ، یا ہنگامہ قیامت کا
شاید دھڑکنیں ہوں میری
یا میرا کوئی نیا فتور
یا فقط شور
سیمیولیٹڈ شور
بس کرو!

Categories
شاعری

ہم قیدی ہیں (صدیق شاہد)

ہم قیدی ہیں
اور ہمارے چاروں طرف دیواریں ہیں

قیدی قیدی !!
ان دیواروں سے باہر بھی اک پنجرہ ہے
پنجرے میں دیواریں ہیں
اور قیدی ہیں

قیدی قیدی !!
وہ آتے ہوں گے
تازہ پھلوں کی خوشبو ہم کو پاگل کر دیتی ہے
ہونٹوں کو کاٹنے لگتی ہیں
اور دہرانے لگتی ہیں
ہم کچی پکی جھول رہی تھیں شاخوں سے جب توڑی گئیں
کانٹا چبھا اور سو گئیں ہم
آنکھ کھلی تو دیواریں
چاروں جانب دیواریں تھیں

قیدی قیدی !!
جب رنگ برنگے خوشبو بیچنے والے آتے ہیں
تو گدگدی ہونے لگتی ہے
تب ہم ٹانگوں کو بھینچ کے سوتی ہیں
اور ہماری مائیں اپنی قبروں میں دہرانے لگتی ہیں

بِٹیا۔۔۔۔ بِٹیا۔۔۔۔

خوشبو بیچنے والے سوداگر پھولوں کا مول بھی جانت ہیں
تم بچ کے رہیو
اکھین کو نیچا رکھیو
اور چھپ کے رہیو
ان دیواروں کے بھیتر
جن کے باہر بھی دیواریں ہیں

قیدی قیدی !!
سنتے ہو ؟؟
کہتے ہیں دور سمندر پار بھی ایک سمندر ہے
جس کی لہریں ان دروازوں سے ٹکراتی ہیں
جن کے باہر کوئی دیوار نہیں
اور وہاں انسانوں جیسی اک جاتی ہے
جس کو ہنسنا آتا ہے
جو اپنی مادہ کے سنگ کُھش کُھش رہتا ہے
پر ہم کاہے جانیں
ہم نے تو ان دیواروں بھیتر آنکھیں کھولیں
جن کے باہر بھی دیواریں تھیں

قیدی قیدی !!
او قیدی قیدی۔۔۔

پر تم بھی کاہے جانو۔۔۔

Categories
شاعری

دو نظمیں (عبدالودود دائم)

[divider]وہ نظم جو میں تمہیں پچاس سال بعد سنانا چاہتا تھا[/divider]

اسٹوو پر دھری کیتلی کی بھاپ اور سیٹی
کمرے میں پھیلتی چلی جاتی ہے
بزرگ آنکھوں سے چشمہ سرکنے لگتا ہے
نیند کا بوجھ، زندگی کی تھکن کو مات دینے لگتا ہے
کتابوں کے میلے میں
جس کا بچپن گم چکا ہے

اونگھنے لگتا ہے
راوی کہانی پھر بھی روکتا نہیں
سنائے چلا جاتا ہے
گاؤں کا خستہ گھر
(جس کی دیواروں کا رنگ سیلن چاٹ چکا ہے )
رات کے آخری پہر تک
جاگتا ہے
کمرے میں اسٹوو پر دھری
کیتلی کی سیٹی رک جاتی ہے
راوی کی دھیمی آواز رکتی نہیں

[divider]اندھی نظمیں[/divider]

مرا فقط تم سے مکالمہ ہے
تمہیں خبر ہے ؟؟؟
کہ وقت بھی تو اک دائرہ ہے
دائرہ، جس میں اک تسلسل سے گھومنا ہے
دائرہ جس میں ایک نقطہ
کسی بھی نقطے سے ایک نقطہ بھی آگے آ کر، اگر بڑھا تو
یہ حادثوں میں شمار ہو گا
پھر اس کے بعد
اک طویل انتظار ہو گا
وقت پھر، اس ابتدا سے شمار ہو گا
جو
قدیم روحوں پے بار ہو گا
اس لیے،
انتظار کے دکھ سے نم
ادھار جذبوں، ادھار لفظوں سے معتبر
میں نے نظمیں کہیں
جن کی آنکھیں نہیں تھیں!

Categories
شاعری

ناموجودگی کی آزادی سے آزادی کی ناموجودگی تک (شاعر: داراعبداللہ، ترجمہ: ادریس بابر)

دارا عبداللہ کی ان عربی نظموں کا ترجمہ انگریزی میں مونا کریم اور اردو میں ادریس بابر نے کیا۔ شاعر کے کلام میں فارم کے اعتبار سے روا رکھے گئے تجربات کے بارے میں خدشہ تھا کہ انہیں ہو بہو برقرار رکھنے سے خود شعریت سرے سے زائل ہو جائے گی. دیکھئے، کہ بعض ایسی نظموں کے لیے عشروں کی صورت کیسی موزوں رہی ہے۔

[divider]جلاد کا ڈر[/divider]

جلاد کو لاحق ہے
شدید ترین درجے کا
اعصابی تناو کا مرض
اور یہ سبب بھی نہیں

اس سے سرزد ہونے والی
کوئی بھی غلطی
وہ کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو
کسی صورت نہیں مٹائی جا سکتی
جب تک وہ ارتکاب نہ کرے
اس سے بھی بڑی غلطی کا

اور یونہی چلتا رہتا ہے
دار و رسن کا یہ سلسلہ

[divider]لفظوں کا دھواں[/divider]

شیشے کا ایک بڑا جار
کاغذ کی کترنوں سے لبالب

ایک مٹھی بھر پرچیاں نکالو
ترتیب دو، ان پہ لکھے لفظ
سنائیں گے تمہیں کہانی تمہاری

یاد کرو، یہ وہی تو لفظ ہیں
جو تم عام طور سے دہراتے پھرتے ہو

جار کو آگ لگانے کی غلطی نہ کرنا
دم گھٹ کے مر جائیں گے
لوگ، اپنے لفظوں کے ہاتھوں

[divider]ہجرت[/divider]

آزادی!
اپنی آزادی کو استعمال کرنے کی آزادی
تمہارے بر خلاف!

اُن کی آزادی
ایک قید ہے
تمہارے لیے

آزادی
چلو بطور ایک لفظ سہی
سب سے بڑا کرب ہے
کسی ایسے شخص کے لیے
جو فرار ہونے میں کامیاب رہا
جبر کے شکنجے سے
آزادی کی تلاش میں
آزادی کی سرزمین تک!

[divider]کوڑا کرکٹ کی یاد[/divider]

عام سی بات ہے
چیزوں کی ری سائیکلنگ
ہمارے یہاں جرمنی میں

جیسے یہی، تمہارے کھانے پینے کا چمچ
ممکن ہے اس سے پہلے کہیں رہ چکا ہو
کسی شامی جنگجو کی بندوق کی نالی
یا کسی بانکے کے کانوں کی بالی
یا کسی گھوڑے کے سموں کی جالی
وہ بھی ڈنمارک میں

سوچو تمہارے بعد تمہارا کیا بنے گا

[divider]میرے ذہن میں پھنسے ہوئے فقرے[/divider]

(الخطیب جیل میں قید تنہائی کے دوران لکھی گئی)

تیس دن تک الجزیرہ کے پیج کو لایک پہ لایک کرتے جانا

آج میرے خاندان کو بتایا گیا کہ میں زندہ ہوں. جب میں نے انہیں سنتری کے موبایل سے کال کی تو ابا نے رو رو کے برا حال کر لیا. انہوں نے بتایا کہ میرے جنازے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ انہیں میری شہادت کا پورا یقین تھا. یہاں اندر میں زندہ ہوں، وہاں باہر مردہ۔

جلاد، موت کا باپ، 17-7-2011

خاموشی کو احتیاط سے سنو، ابو خالد الساعور!

پھولوں کو کچلنے سے بہار کی آمد تو ٹلنے سے رہی، ابو خالد الساعور!

میں یہاں سے گزرا تھا

اگر تم دیوار پر لکھنا چاہو تو دائیں کونے رکھے ڈبے میں ایک کیل موجود ہے۔ جب تم لکھنا بند کرو اسے اس کی جگہ پر لوٹا دو.

Categories
شاعری

یہ کوئی نظم نہیں ہے اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

یہ کوئی نظم نہیں ہے

رات کہتی ہے
—–عورتیں محبت مانگتی ہیں
کنواں کہتا ہے
—–انسان مینڈک ہے
درخت کہتا ہے
—–کلہاڑی شیطان کی ایجاد ہے
نظم کہتی ہے
—–آدمی استعاروں میں زندہ ہے
صحرا نورد کہتا ہے
—–زندگی طویل سفر مانگتی ہے
سمندر کہتا ہے
—–آدمی عرشے پر کھڑا بھلا لگتا ہے
کرسی کہتی ہے
—–تھکن کا کوئی نعم البدل نہیں
سرخ نوٹ کہتا ہے
—–عورت کے سینے سے نرم کوئی جگہ نہیں
خواب کہتا ہے
—–آدمی کی شلوار سیلن زدہ رہتی ہے
اندھیرا کہتا ہے
—–خوف انسان کا دیوتا ہے
زمین کہتی ہے
—–چلنے سے تم رندے کی طرح گھستے رہتے ہو
اور بستر کہتا ہے
—–آدمی مباشرت کے لئے زندہ ہے

میں تمہاری سمت غروب ہونا چاہتا ہوں

جب انگلیاں دو زانو ہو کر
تمہارے جسم کا طواف کرتی ہیں
ہمسایوں کی کھڑکیاں ہمارے خلاف
ایک دوسرے کے کانوں میں
نفرت کی سرگوشیاں کررہی ہوتی ہیں

جب تمہارے جسم کی سرحد کو چومتے ہوئے
محبت کی موسیقی ترتیب دے رہا ہوتا ہوں
شہر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے
معنویت سے خالی باتیں اگل رہا ہوتا ہے

رد کئے ہوئے لمحوں میں
جب میں خود کو جمع کر رہا ہوتا ہوں
چوک میں کھڑے میلے کچیلے ہاتھ
خوابوں کی بھیگ مانگ رہے ہوتے ہیں

جب کاربن سے اٹے مزدور اپنے چہرے کو
بچوں کی چیخوں سے صاف کر رہے ہوتے ہیں
میں تمہارے ہونٹوں پر تیرتی ہنسی کو
چھونے کی ریاضت کر رہا ہوتا ہوں

حب ریستوران سایوں کے شور سے بھر جاتے ہیں
اور سڑکوں پر بے چہرہ لوگ
آپس میں ٹکرا ریے ہوتے ہیں
تم میری بانہوں میں مرجھا چکی ہوتی ہو
اور میں قطرہ قطرہ
تمہارے جسم کے کسی خانے میں
محفوظ ہوجانا چاہتا ہوں

بارش ہر کسی کو مصروف کر دیتی ہے

چاند بارش میں بھیگ رہا ہے
گراموفون موت کا گیت گا رہا ہے
آدمی عرشے سے
ریت میں دھنسی عورت کی تصویر کشی کر رہا ہے
مالی امرود کے درخت کے پہلو میں سو رہا ہے
اسے پھولوں میں سوئی لڑکی کے خواب آ رہے ہیں
اداسی کیکٹس کے پھولوں سے
پول میں مشت زنی کرتے لڑکے کو جھانک رہی ہے

آدمی بے موسمی پھل اگانے کی کوشش میں
کئی موسم ضائع کر رہا ہے
چوک میں کھڑے ریڑھی بان
قہقہے ہانک رہے ہیں

بچے نیند کے فیڈر پیتے ہوئے
دو سمتوں میں سفر کررہے ہیں
کلاک کا پینڈولم تھکتا ہی نہیں ہے

شہر کے حاکم کو آٹھ راتوں سے
امرد پرستی کے خواب آ رہے ہیں

شام بادلوں کے پیچھے تیر رہی ہے
میں اسے بھیگتے ہوئے دیکھ رہا ہوں

آنسوؤں میں بٹی زندگی

ہماری آنکھیں
صرف تھوکے ہوئے منظر
یا بس کے پیچھے
لٹکتے ہوئے آدمی کو دیکھ سکتی ہیں
مگر میں نے اپنی آنکھیں
ہم دونوں کے درمیان حائل فاصلہ
ماپتے ہوۓ ضائع کیں

ہمارے کان
گیت اور دعا سے پہلے
آنسوؤں کا ترانہ سننے کے عادی ہیں
اور انگلیاں
مٹی کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے
لکڑی کی شکل میں تبدیل ہو چکی ہیں
یہ تو صرف ایک ماں ہی بتا سکتی ہے
کہ مٹی میں آنسو جلدی جذب ہوتے ہیں
یا پھر پسینہ؟

میں ہر رات
کشتی بنانے کے منصوبے ترتیب دیتا ہوں
تاکہ چپوؤں سے
سمندر کی گہرائی معلوم کرتے وقت
مچھلی سے پوچھا جاسکے
کہ سمندر کا پانی زیادہ میٹھا ہوتا ہے
یا پھر آدمی کے آنسوؤں کا؟

شاید میں اب
ایک چپو بھی نہیں بنا سکتا
کیو نکہ جوۓ کی بازی میں
رات کی بچائی ہوئی
آدھی روٹی بھی ہار چکا ہوں

میرے پاس اب صرف دل بچا ہے
جس کے ذریعے
میں ایک چھینی ہوئی محبت کرسکتا ہوں

تم کھڑکی کھول کر نہیں دیکھتی

تمہارے کمرے کی کھڑکی
سمندر کی طرف کھلتی ہے
تم آسانی سے
بادلوں کو چھو سکتی ہو
مگر میرے پیغام کا جواب دینے کی بجائے
طویل انتظار
میسج میں رکھ کر بھیج دیتی ہو

تم نیند کے ساحل پر
خوابوں کا بادبان اوڑھے سوئی رہتی ہو
تمہیں اس وقت کی خبر نہیں ہوتی
جب کوئی سیاح
تمہاری خوشبو سونگھ کر مچل جاتا ہے
اور سانسوں کے رستے سے
تم میں داخل ہوجانا چاہتا ہے

بارش کی شاموں میں
تم برہنہ بستر کا لباس بنی رہتی ہو
تمہارے کمرے کے آتشدان سے نکلتا دھواں
آسمان میں شگاف کردیتا ہے

خود لذتی کے دوران
آوازیں نکالتے ہوئے
جب تم دیواروں کے کان
بند کر رہی ہوتی ہو
کوئی شہوت کا مارا
تمہارے کمرے کی دیواروں میں
کسی درز کو تلاش کررہا ہوتا ہے

مگر تم کھڑکی کھول کر نہیں دیکھتی

شناخت

جب وہ پیدا ہوا
گھر والوں نے اس کا نام جمال الدین رکھا
سکول کے رجسٹر میں اس کا نام
محمد جمال الدین درج ہوا

جب بچپن کو بیچ کر
اس نے بلوغت کمائی
اور داڑھی رکھنا شروع کردی
تو محلے والے اسے مولوی پکارنے لگے

عمر کے درمیانی حصے میں
جب وہ شہر میں چپڑاسی بھرتی ہوا
بڑے صاحب نے اس کا نام
بگاڑ کر “جالو “رکھ  دیا

مگر وہ خوش تھا
کہ پہچان تو چہروں سے ہوتی ہے

جن دنوں سرکاری معلومات
کمپیوٹر میں محفوظ کی جارہی تھی
ایک چیک پوسٹ پر
تلاشی لینے کے بہانے
اس کے اعضاء کو بکھیر دیا گیا
یوں اپنے اصل نام کے ساتھ
وہ کہیں بھی درج نہ ہو سکا

جب ٹی وی اسکرین پر
اس کی موت کی خبر نشر ہوئی
تو گھر والے خوش تھے
کہ اس کے نام کی بجائے
مسخ شدہ چہرے کے ساتھ
صرف شہید لکھا ہوا تھا

Categories
شاعری

تمہارا سایہ (رضی حیدر)

تمہارا سایہ ابھی بھی ٹیبل کے اس پار
مجھے گھور رہا ہے
واپس آ جاؤ
آؤ گیلی ریت پر لیٹ جائیں گے
آؤ کچھوؤں کی پشت پر سمندر کی
تہ میں موتی ڈھونڈیں گے
وہ سپی کہاں رکھ دی تم نے
جس کی قید میں ایک آنسو نے
اس سمندر کا سپنا دیکھا تھا
آؤ ہم پھر سے اسے ڈھونڈتے ہیں
واپس آ جاؤ
میں نے گھر کی ساری مکڑیاں مار دی ہیں
ان کے جالے ہٹا دیے ہیں
میں اب ان سے طلسمی کہانیاں نہیں سنتا
نیم شب میں ان سے باتیں نہیں کرتا
واپس آ جاؤ
ہر شام آنسوؤں کی ایک کتاب لکھنے کا سوچتا ہوں
رات کے آخری پہر تک اسے لکھتا ہوں
پر صبح اٹھ کر دیکھتا ہوں تو اس کے صفحوں پر سمندری نمک کے علاؤہ کچھ نہیں پاتا
میرے لفظ مٹ رہے ہیں
واپس آ جاؤ
چادریں صاف ہیں اور فرش چمکتے ہیں
تمہاری پسندیدہ چاکلیٹ فرج میں لا رکھی ہے
اور یہ بکھری کتابیں جن سے تم ہمیشہ چڑتی تھیں
سب جلا دی ہیں
یہ بک بک کرتے فلسفے
اور میری زبان سے نکلتی قنوطی بکواس
زبان کاٹ دوں؟
واپس آ جاؤ
وہ بستر جہاں ہم دونوں لخت لیٹا کرتے تھے
میری چتا ہے
آؤ اسے جلتا دیکھو
کیا اس آگ کو ہمیشہ جلنا ہے
خامیاں، خرابیاں، بحثیں، سوال
سوال در سوال
وہ سب تو ابھی تک یہیں ہیں
ناچتے ہیں
میں بھی ناچ رہا ہوں
میں بھی ایک سوال ہی تو ہوں شاید
پر میرے پاس اپنا کوئی جواب نہیں ہے

Categories
شاعری

قید اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

[divider]قید[/divider]

میری روح کا جھنڈا
ایک اداس پرندے کے ہاتھ میں ہے
جو زندگی کی سمتوں میں قید
آزادی یا موت کا منتظر ہے

[divider]ایک بھلائی جانے والی لڑکی[/divider]

وہ اپنے چہرے پر
گزرے دنوں کا میک اپ کرتی ہے
اس کی زرد سرخی میں
ہجر کے ذرات دیکھے جا سکتے ہیں
مستقبل کی چکی میں
وعدوں کو پیس کر
آنکھوں پر کاجل کی طرح سجانا
اسے ہمشہ پسند رہا ہے

فارغ اوقات میں
اپنے سینے پر محفوظ
مختلف ذائقوں کو محسوس کرنا
اس کے نزدیک
وقت گزارنے کا بہترین مشغلہ ہے

ضدی شوہر جب بھی
گردن پہ ابھری
نیلی رگوں پر بوسہ دیتا ہے
بیتے دنوں کی شفاف یادیں
ناف کے گرد
زبان پھیرنے لگتی ہیں
وہ خود کو
کھڑکی میں ٹھٹھرتی بلی کی طرح
سرد محسوس کرتی ہے

وہ اپنا غصہ
اس کے داہنے گال پر تھوکتا ہے
اور
نیند کے سینے میں دفن ہو جاتا ہے

[divider]تمہارے بدن سے چرائی ہوئی نظم[/divider]

دھوپ سے خالی
ایک دوپہر میں
جب تم اپنے بوسوں سے
میرے سینے کو نرم کر کے جا چکی تھیں
تمہارے ہاتھ کی لکیروں جیسی
اپنے بستر کی سلوٹ میں
مجھے برہنہ نظم ملی تھی
جس پر نیلے پھول کڑھے ہوئے تھے

اور اس میں سے
تمہارے بوسوں جیسی خوشبو آ رہی تھی!

[divider]خواب کے ہاتھ پر لکھی نظم[/divider]

تمہاری باتوں سے
بارود کی بو آتی ہے
تم سے خوفزدہ لوگ
اندھیرے میں
زندہ رہنے کی اداکاری کرتے ہیں
تم جنگ سے لوٹےگھڑ سوار کی
بے خوابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
اس کے خوابوں کو قتل کرنا جانتے ہو
تم محبت کے نام پر جسم جیت سکتے ہو
مگر اس لڑکی کو کبھی نہیں سمجھ سکے
جس کے آنسوؤں سے
تمہارے جسم پر دستخط ہو چکے ہیں
اور وہ تمھیں جوان کرنے کی کوشش میں
خود بوڑھی ہوتی جارہی ہے

بے خواب راتوں میں
شہر کی اکلوتی ویشیا
اپنی ساری سانسیں جمع کر کے
جب تمہارے جسم کو چومتی ہے
اس کی آنکھوں سے بہتی نیند
تمہارے جسم کے خفیہ خانوں میں گر جاتی ہے

اور جب چیونٹیاں
زمین کے کانوں میں اذان دے رہی ہوتی ہیں
تم روشنی سے آنکھیں چرائے
زمین کی کوکھ میں پناہ لینا چاہتے ہو
مگر ویشیا خود کو مکمل کرنے کے لیے
جب تمہارا پیچھا کرتی ہے
تم اپنا خون آلود ہاتھ
خدا کے قدموں میں پھینک چکے ہوتے ہو !

[divider]تم کبھی محبت کا لباس نہ پہن سکے[/divider]

جب تم پیدا ہوئے
تم سے پوچھے بغیر
کسی ان دیکھے رشتے سے باندھ دیا گیا
یوں تم سے
ایک محبت کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا
اور لڑکی کا جسم
تمہارے لئے ممنوع قرار پایا!

بارش کے موسم میں
جب زمین کی تنہائی نے کروٹ لی
تم کئی بدن جھانکنے نکلے
مگر اپنے ساتھ
باتوں کی مہک سے خالی آنگن جیسی
خاموشی لے کر لوٹے

تم نے اپنے خالی کمرے میں
جب جسم کی فصل کاٹنے
اور محبت حاصل کرنے کی مہم شروع کی
تو تمہارے خراٹے
جنسی آوازوں جیسے ہو گئے

گھر والوں نے
تمہیں قتل کرنے کے منصوبے بنائے
اور جس رات تم خوابوں کے سفر پر نکلے
بے عکس آئینے کے سامنے کھڑی لڑکی
اپنے جسم پر زہر ملے
تمہیں محبت کا لباس پہنانے کی منتظر تھی

Categories
شاعری

چائے کے لیے ایک نظم اور دیگر نظمیں (نسیم خان)

[divider]چائے کے لیے اک نظم[/divider]

کپ غصے کا گواہ ہو سکتا ہے یا نفرت کا؟
کپ خاموش کیوں ہے؟
گواہی گمراہی نہیں ہے

چائے اپنے آنسو فرش کے چہرے پر مل رہی ہے
فرش کو اس سے ہمدردی ہے پر اسے پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ خوشی کے آنسو ہیں یا غم کے؟
اگرچہ اسے معلوم ہے کہ خوشی میں زیادہ اور غم میں کم آنسو نہیں بہائے جا سکتے

شاید چائے خفا ہو کہ اسے کپ نے اپنے سینے سے نکال دیا ہے جیسے کہ درد کے دوران منہ سے کسی آہ کو نکال پھینکا جاتا ہے
یا
شاید وہ خوش ہو کہ اسے بہہ جانے کا تجربہ بھی ہو گیا ہے اور اصل زندگی تو بہنا ہی ہے
بہنا گمراہی نہیں ہے
آنسووں کو بہنے دو
لہو کو بہنے دو
پھر اس کے بعد آنکھیں اور زخم ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھیں گے کہ بہنا ان کی خوشی کا اظہار ہے یا غم کا
مگر یہ بات تو واضح ہے کہ بہنا گمراہی نہیں ہے
کپ خاموش رہے

[divider]شاعر، شاعری اور نقاد[/divider]

نظم کو نیند سے جگانے والا پنچهی اسے آسمانوں کی سیر پر لے جاتا ہے
تخیل اڑن کھٹولا ہے
ملکی وے کی ساری رنگینیاں لے کر وہ اسے خلا کے حوالے کرتا ہے
تکمیل یہی سے شروع ہوتی ہے
نظم آہستہ آہستہ عروج کی طرف قدم بڑھاتی ہوئی
کشش ثقل کے بانہوں میں پہنچ جاتی ہے

شاعر کی آنکھ کھلتی ہے
اور وہ خود کو زندہ پاکر خوشی سے پاگل ہونے لگتا ہے
خواب کی تعبیر شاعر کے حق میں نکلتی ہے
اور نقاد کا منہ کسی بلیک ہول کی طرح کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے

[divider]میں نرگس ہوں[/divider]

انار کلی دیوار سے نکل آئی ہے
دیوار میرے سینے میں داخل ہورہی ہے
کھورہی ہے

انارکلی! نرگس میری آنکھیں چوم رہی ہے
زمیں جھوم رہی ہے
خلا پانی پانی ہوگیا ہے
میں نرگس میں بدل رہا ہوں

افروڈائٹی (Aphrodite)مجھے گلے لگانا چاہتی ہے
حق جتانا چاہتی ہے
انار کلی! دیوار میں واپس جاکر دیوار میرے سینے سے باہر پھینک دے
میری دھڑکن رکتی جارہی ہے
اور رقص ہنوز جاری ہے۔

[divider]میر تقی میر کے نام[/divider]

فطرت میری سگی نہیں ہے
زمیں مجھ سے نفرت کرتی ہے
دن مجھ پر فقرے کستا ہے
دن بھر مجھے ذلیل کرتا ہے
میری نظموں کو مکروہ گردانتا ہے
میرے بارے میں سب کچھ جانتا ہے؟

خلا میرا بھائی ہے
آسمان مجھے پسند کرتا ہے
رات مجھے نہیں گھورتی
اور ستارے مجھے آنکھ مارتے ہیں
آنکھ مارنے والے لڑکے رات بھر میری بانہوں میں ہوتے ہیں
(خواب مجھے سے کوئی نہیں چھین سکتا)
اورستاروں کے چھپتے ہی میر اور میں پھر سے اپنی تنہائیوں میں خود کو چھپا لیتے ہیں

 

[divider]نیوٹن دامن پھیلائے کھڑا ہے[/divider]

نیوٹن دامن پھیلائے کھڑا ہے

اور سیب نہیں گر رہا
ایک پنچھی آکر اس کے سر پر ہگتا ہے
کشش ثقل اسے شاہی تاج پہناتی ہے

نظم جس کا IQ لیول میری طرح کم ہے
جیلس ہوتی ہے
اور میں پہاڑ کے دامن میں پتھروں کی بارش کا انتظار کرنے لگ جاتا ہوں
ردعمل ضرور ہو گا

Categories
شاعری

پرانے روزنامچے میں اونگھتے دن اور دیگر نظمیں (روش ندیم)

[divider]پرانے روزنامچے میں اونگھتے دن[/divider]

انامیکا!

اگر ان ہی دنوں ہم سے خدا بھی پوچھتا
—————-تو ہم فقط اپنی لِکھت کی ہی قسم کھاتے
ہمیں پورا یقیں تھا
——–جو بھی لکھیں گے فلک پر کہکشاں بن کر ہمیشہ مسکرائے گا
مکاں کے حافظے میں اور زماں کی لوح پر
————ازلوں تلک وہ جگمگائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اس موسم کا قصہ ہے
————کہ جب اندھے یقیں کی عمر کا نشّہ
————جوانی کی امنگ
اور دل کے کہنے پر سبھی کچھ کر گزرنے کا
——————–کوئی لاوا رگ وپے میں دھڑکتا تھا
صحیفے، آسماں، یہ کائناتیں اور خدا
——–ہم کو سبھی کچھ ہیچ لگتا تھا
فقط اپنا ہی ہونا آخری سچ تھا
گو ایسا تھا
کہ اک افلاس کا تپتا ہوا سورج ہمارے سر پہ رہتا تھا
ہمیں بس بے کراں سی بھوک تھی
——–اتنے بڑے عالم میں پلتی ایک اک شے کی
کوئی خفگی، کوئی غصہ، کوئی ناراضگی بے دید سی شے سے
——————–جسے ہم جانتے کب تھے؟
کوئی بے شکل سی، بے نام سی اک آرزو کا سحر تھا
——–جس میں ہمیشہ ڈوبے رہتے تھے
——————–جسے ہم مانتے کب تھے؟
کسی آدرش میں بھیگی ہوئی اک تابناکی تھی
کہ اپنے خون سے اس ساری دنیا کو نیا پھر سے بنائیں گے
فلک کو چومتے کہسار جیسا اک ارادہ تھا
——–کہ جو لکھے ہوئے لفظوں کی شریانوں میں بہتا تھا
قلم بارود کے دریا اگلتا تھا
تخیل پر دہکتی آبشاریں راج کرتی تھی
فقط تاراجیٔ دنیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
فقط بربادیٔ ماضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
مگر اک خوبصورت سی نئی دنیا بسانے کو
—————-نیا انساں بنانے کو
سو ہم کو یہ یقیں تھا جو بھی لکھیں گے
——–فلک پہ کہکشاں بن کر ازل تک مسکرائے گا

انامیکا!
مگر یہ وقت کا پتھر قلم کی ضرب سے کس طور ٹوٹے گا!!

[divider]غارِثور سے کائنات کا نظارہ[/divider]

انامِکا ! سن
میں کیسے تاریخ کے وہ سارے رجسٹروں کو ہی پھاڑ دیتا
پھر ان کے ٹکڑے گئے زمانوں کے کوڑے دانوں میں پھینک آتا
اور اپنی مرضی سے اک نئے دودھیا ورق پر پھر اپنا ماضی بکھیر دیتا
یہ ایسا آسان بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

سو کیا میں کرتا
کہ میں جو تاریخ کی شرارت
اسی کی شوخی کا شاخسانہ
خدا کی مٹھی سے دھیرے دھیرے پھسلتی جاتی کوئی کہانی؟
——————–کہ نامکمل سی کوئی تمثیل؟
میں اس کی عِلت ہوں یا نتیجہ؟
میں اس کا فنکار ہوں کہ فن ہوں؟
ازل سے جاری کسی ڈرامے کا کوئی ہیرو
——–کہ بس اضافی سا کوئی کردار

انا مِکا! بات ایسی آسان بھی نہیں تھی
سو میں اٹھا
——–اور ہاتھ جھاڑے
—————-ذرا سا چو گرد میں نے دیکھا
——————–بیاض تھامی
بڑی خموشی سے اس زمان ومکاں کے جھنجھٹ سے لوٹ آیا

[divider]ادھورے خواب کا نوحہ[/divider]

انا میکا!
کہانی گھومتی پھرتی اسی نقطے پر آئے گی
——–جہاں پر بے یقینی کے گھنے جنگل
——–وساوس اوڑھ کر چپ چاپ بیٹھے ہیں
ادھورے عہد میں ایمان کی تکمیل کیا ہوتی؟
——–یہاں تو خود خدا بھی نامکمل ہیں
تو پھر کیسے میں اپنی ذات کی تیرہ حدوں سے بھاگ سکتا تھا؟
مری سوچوں کی لوحوں پر
——–مری ماں نے وہی کندہ کیا تھا
جو اسے اجداد نے اپنی وارثت میں تھمایا تھا
انا میکا!
تمہارے واسطے میں کوئی خوشخبری نہیں لایا
جھلستی رہگزاروں سے میں کیسے پھول لے آتا؟
اندھیروں کے جہنم سے میں کیسے روشنی لاتا؟
ابھی برفیں نہیں پگھلیں
——–نہ ساحل پر پڑے دریاؤں کی نیندیں ہی ٹوٹی ہیں
مگر پھر بھی
——–میرے اس آرزوؤں کے ہرے آنگن میں چڑیاں چہچہاتی ہیں
——————–(وہ تم لے لو)
میں اپنی ناک پر خوش فہمیوں کی کوئی عینک رکھ نہیں سکتا
مگر کم تو نہیں، پھر بھی تمہارے ساتھ ہنستا ہوں
تمہارے قہقہوں کی بارشوں میں بھیگ جاتا ہوں
——–کہ شاید اک نہ اک دن میں بھی اس شہرِ سبا کا بھید پا لوں
——–جس کے بارے میں
——–مرے اجداددن بھر کی مشقت کاٹ کر مجھ سے یہ کہتے تھے:
————“سنو اک روز ایسا آئے گا
————جب تم بہاروں کے نگر میں پھول بن کر مسکراو گے”
پہ کتنی ان گنت صدیاں سلو موشن کے پنگوڑے میں بیٹھی ہیں
اور اب تو میرے بالوں میں بھی چاندی کا بسیرا ہے
نگاہیں آج بھی ان آرزوئوں کے کھنڈر میں گشت کرتی ہیں

[divider]سوچوں کے ہینگر پہ ٹنگی آنکھیں[/divider]

انا میکا!
ذرادیکھو
——–کہ سورج کتنے جنموں سے مری گلیوں میں ٹھہرا ہے
مگر ایسی سیاہی تو کبھی دیکھی نہیں ہو گی
سیہ سورج
سیہ گندم
سیہ آنسو
سیہ پرچم
سیہ اوراق بھی تم نے کبھی دیکھے نہیں ہوں گے
انامیکا! جنم بھومی ہے یہ میری
——–جہاں عیسیٰ صلیبِ شہر کا ہمزاد ہو بیٹھا
پھر اس کے بعد سے جو دن چڑھا
——–وہ لب پہ گالی، ہاتھ میں پستول لے کر سر پہ آ بیٹھا
یہاں جب رات بھی آئی
——–تو سر میں مقتلوں کی راکھ، آنکھوں میں لہو لائی
مرا ٹیچر تو کہتا تھا :
——–“محبت مر نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
——–شعوروآگہی بھی بک نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
پہ میرے شہر میں ہمدم!
——–شعوروآگہی حرص وہوس کارزق بنتے ہیں
(وہ شاید سچ ہی کہتا تھا
——–کہ وہ اس وقت ٹیچر تھا، میں اک معصوم سا بچہ)
مگر جب مکتبوں سے ڈگریاں لے کر میں لوٹا تھا
اسی دن سے
——–مرا یہ شہر تو اندھے سرابوں کے
——–کسی لامنتہا جنگل میں رہتا ہے
اور اب تو اپنے ماضی کے ہزاروں بت تراشے
——–مسجدوں میں گونجنے والی اذانوں پر وہ اٹھتا
——————————–اور سوتا ہے
شکستہ یاد کی سیڑھی پہ بیٹھا
——–ہاتھ میں تسبیح کے دانے گھماتا اور کہتا ہے کہ
——–اب لوحِ مقدر پر لکھا مٹ ہی نہیں سکتا!!
انا میکا!
مری سوچوں کے ہینگر پر ٹنگی آنکھیں یہ کہتی ہیں :
——–“ستارے کیوں نہیں چمکے؟
——–سویرے کیوں نہیں مہکے؟
——–چوراہے میں کھڑے برگدکی آنکھیں کیوں نہیں برسیں؟
——–زبانوں پر لگے چپ کے یہ تالے کیوں نہیں ٹوٹے؟
——–خیالوں میں تنے مکڑی کے جالے کیوں نہیں اترے؟”
انا میکا!
تمہیں شب کے کناروں پر نیا سورج بنانا ہے
تمہیں اندھے نگر کے ہاتھ پر آنکھیں بنانی ہیں
——–صداقت امر کرنی ہے!

[divider]کائنات سے باہر گری وقت کی کترن[/divider]

امر لمحہ
(کہ جیسے ہو کسی ویرانے میں اک اونگھتا معبد)
ہزاروں سال پہلے مضطرب گوتم کے من میں آن ٹھہرا جو
گزشتہ کل صحن کی ادھ گری دیوار کے نزدیک
——–جس پر جنگلی بیلیں دسمبر کی سنہری دھوپ
——–میں مدہوش لیٹی ہیں
——–مرے اندر اتر آیا تھا دھیرے سے
یہ ساری کائناتیں جم گئی تھیں یوں
کہ جیسے ہوازل کے بیکراں ساگر میں ٹھہری شانتی کا نم
ہوا، خوشبو، خموشی، رنگ
——–جو تھے اس زمیں کے اولیں باسی
——–مجھے پہلی دفعہ ملنے کو آئے تھے
یہ شاید وقت اس لمحے ہی جنما تھا
وہ جس کی دوڑ سے ناآشنا
——–ماچس کی ننھی تیلیوں کے کھیل میں گم سم انا میکا
—————-اسی لمحے میں جیتی ہے
سو اس کے سامنے مغرور سایہ وقت پیچ وتاب کھاتا یوں کھڑا ہے
—————————-جیسے بے بس ہے

انامیکا!
بچارے وقت کو بس دوڑنے
——–اور ہانپنے
یا بیت جانے کے سوا
————آتا ہی کیا کچھ ہے؟

Categories
شاعری

آج کا گیت: آ کہ تجھ بن اس طرح (جگر مراد آبادی، مجدد نیازی)

اس سلسلے میں شامل مزید گیت سننے کے لیے کلک کریں۔

آ کے تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

ہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیے
مجھ کو سمجھاتے ہیں لوگ اور تجھ کو سمجھاتا ہوں میں

تیری محفل تیرے جلوے، پھر تقاضا کیا ضرور
لے اٹھا جاتا ہوں ظالم لے چلا جاتا ہوں میں

ایک دل ہے اور طوفان حوادث ہے جگر
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں

یہ غزل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
شاعری

پیٹرول میں لہو کی لکیر (شاعر: اشرف فیاض، ترجمہ: ادریس بابر)

اشرف فیاض یکم جنوری 2014 سے سعودی عرب میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ پانچ سات برس پہلے تک، دوستوں اورملاقاتیوں کے توسط سے ان کا احوال اور کلام سلاخوں سے باہر پہنچتا رہا۔ اس طرح ان کی عربی نظموں کا مجموعہ بیروت سے چھپ پایا۔ لکھاریوں کی عالمی تنظیم پین انٹرنیشنل اشرف فیاض کو اعزاز سے نواز چکی ہے۔ ان کی منتخب نظموں کا ترجمہ انگریزی میں مونا کریم اور اردو میں ادریس بابر نے کیا ہے۔

گھومنے پھرنے کا حق
اسے بہرطور حاصل نہیں
نہ جھومنے کا
نہ لہرانے
رونے کا نہ گانے کا
کوئی حق نہیں اسے
کھڑکیاں کھولنے کا
ہوا لگوانے کا
تجدید کروانے کا
اپنے آنسوؤں کی
اپنی رائگانی کی

کتنی جلدی بھول جاتے ہو تم
کہ تم ہو کیا چیز
محض روٹی کا ایک ٹکڑ
اور کچھ نہیں!

بے ضرر مائع ہے
پیٹرول کا کوئی نقصان نہیں
یہ اپنے پیچھے کوئی نہیں چھوڑتا
سوائے ایک لکیر کے
جسے خط ِغربت کہتے ہیں

دیکھنا اس دن
مزید چہرے
بجھے ہوئے
دریافت ہوا
جس دن
ایک اور کنواں تیل کا

تب بخشی جائے گی
تمہیں
حیاتِ نو
مزید تیل
کھینچ تان کے نکال سکو
اپنے جی جان لگا کے
دوسروں کے لیے
تم سے یہ پکا ہے وعدہ تیل کا۔۔۔
خس کم
۔۔۔ جہاں پاک

کہا گیا
بس یہیں قیام کرو
البتہ تم میں سے بعض مخالف ہیں
ہر شے کے

سو، جانے دو
رہنمائی کے لیے
دیکھو اپنے آپ کو
دریا کی تہہ سے

تھوڑا ترس کھائیں
تم میں سے جو اوپر ہیں
ان پر جو کچلے گئے

آدمی جسے ہلا دیا گیا
اپنے مقام سے
وہ بیچارہ
بہتے لہو کی طرح ہے
جو بے قیمت رہا
تیل کی اس منڈی میں

معذرت چاہتا ہوں
معاف کر دو مجھے
نہیں بہا سکتا میں
اشکوں کے دریا
تمہارے لیے

نہیں بڑبڑا سکتا میں
تمہارا نام
یاد آوری کے طور پر

کسی نہ کسی طرح
موڑ لیا ہے
میں نے اپنا چہرہ
تمہاری بانہوں کی دبازت
ان کی تمازت کی طرف

پہلی اور آخری
تمہی محبت ہو میری
اور میں تمہاری

نہیں کلام کرنے کا
تمہارا گونگا لہو
جب تک تم مباہات کے بہانے تلاش کرتے رہو
موت کے بیچ

جب تک تم جاری کرتے رہو
خفیہ اعلانات
اپنی روح کو گروی رکھنے کے بارے میں
ان لوگوں کے ہاتھ
جنہیں اس کی پہچان ہے نہ قدر

ابھی وقت لگے گا
روح کو ہمیشہ کے لیے کھونے میں
اس سے کہیں زیادہ
جتنی دیر لگے گی
تمہیں آنکھوں کو تسلی دینے میں
جو تیل کے آنسو بہاتی مریں

Categories
شاعری

برتولت بریخت کی نظمیں (مترجم: بکل دیو)

ادھر برتولت بریخت کی نظموں کے کئی ترجمے پڑھنے میں آئے۔ ان نظموں کو سیدھے طور پر ترجمہ کہا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں ایک قسم کی موزوں ترجمانی کہنا زیادہ ٹھیک رہے گا۔ بریخت کی نظم کا اصل تاثر گرفت میں لے کر میں نے یہ کوشش کی ہے کہ کوئی اردو شاعر اگر اس قسم کے خیال سے دوچار ہوتا تو اس کا رد عمل کیا ہوتا؟ اردو کی جو کلاسیکی شعری روایت ہے، جو تہذیب ہے، جو آہنگ ہے، جو زبان ہے، اس میں ڈھلنے پر وہ خیال کیسا لگتا۔

ان پانچ نظموں میں سے چار کے ساتھ اصل نظم کے انگریزی تراجم بھی دیے گئے ہیں۔

دیکھا جائے تو لغوی معنوں میں یہ نظمیں بھلے ہی ترجمہ نہ ہوں، لیکن خیال کی سطح پر ترجمہ ہی ہی ہیں۔ اور خیال کی سطح پر ترجمہ ہونے کے بعد بھی ان کا اپنا اسلوب ہے، اپنی زمین ہے۔

 

[divider]نہیں ۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے[/divider]

[column size=one_half position=first ]

نہیں ۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے

زمیں کو سر کرنا چاہتا تھا
تیمور کوئی
سنا ہے میں نے

عجیب لگتا ہے شغل ایسا
کہ ہم زمیں کیا
بھلا بھی سکتے ہیں آسماں کو
ذرا سی مے سے

نہیں۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے

مگر کروں کیا
کہ میں نے دیکھے ہیں فرد ایسے
جو صرف ہونے پہ خوش تھے اپنے

ذرا توقع کے مستحق ہیں
وہ لوگ سارے
تمام دشواریوں کے ہوتے
جو جی رہے تھے
جو جی رہے ہیں

میں سوچتا ہوں
عظیم ہونا بھی شاپ ہے کیا؟

کہ میں نے دیکھا ہے اکثر اکثر
عظیم لوگوں کو
متفق جو نہیں تھے خود سے

دروں میں جن کے کوئی خلا تھا
خلا جسے بھرنے کی قواعد کو لوگ عظمت پکارتے ہیں

اک ایسی عظمت
کہ جس میں سگریٹ کا کش بھی لو تو
سکوں نہ آئے

کہ جس میں ہاتھوں میں جام ہو پر
نہ درد کم ہو نہ لطف آئے

کہ جس میں محبوب کی جبیں پر
نظر پڑے تو
کسی علاقے کی کوئی سرحد
ابھرتی جائے ابھرتی جائے

کوئی بتائے
کہ ایسی عظمت کا مول کیا ہے؟

نہیں۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے
[/column][column size=one_half position=last ]

I’M Not Saying Anything Against Alexander

Timur, I hear, took the trouble to conquer the earth.
I don’t understand him.
With a bit of hard liquor you can forget the earth.

I’m not saying anything against Alexander,
Only I have seen people who were remarkable,
Highly deserving of your admiration
For the fact that they were alive at all.

Great men generate too much sweat.
In all of this I see just a proof that
They couldn’t stand being on their own
And smoking and drinking and the like.
And they must be too mean-spirited to get
Contentment from sitting by a woman.

[/column]

[divider]آنے والی نسلوں کے لیے[/divider]

[column size=one_half position=first ]

مجھے یہ اعتراف ہے
کہ اب مفر کی راہ بھی نہیں بچی
مجھے یہ اعتراف ہے
کہ دل میں اب امید تک نہیں رہی
مجھے یہ اعتراف ہے
میں اپنی غلطیاں بھی خرچ کر چکا
مجھے یہ اعتراف ہے
میں مر چکا میں مر چکا میں مر چکا

سو میری اور سے بیاں ہے آخری
خلا ہمارا ہمقرآں ہے آخری

[/column]

[column size=one_half position=last ]

Future generations

I confess this:
I have no hope.
The blind talk about an escape.
I see.
When the errors are consumed
The nothing will sit next to us as our last companion.

[/column]

 

[divider]شیطان کا مکھوٹا[/divider]

 

[column size=one_half position=first ]

ایک نقاشی ٹنگی ہے
گھر کی اک دیوار پر

اور نقاشی
مکھوٹا ہے کسی شیطان کا
سرخی  مائل سونے کا پانی چڑھا

اور میں حساس دل
تکتا ہوں ہمدردی سے
اس کے ماتھے کی نسیں
پھولی ہوئیں ابھری ہوئیں

اور پھر یہ سوچتا ہوں
کتنا مشکل ہے
جہاں بھر کے اندھیرے کا کوئی عنوان ہونا

سخت اذیت
سخت اذیت کن ہے اک شیطان ہونا

[/column]

[column size=one_half position=last ]

On my wall hangs a Japanese carving,
The mask of an evil demon, decorated with gold lacquer.
Sympathetically I observe
The swollen veins of the forehead, indicating
What a strain it is to be evil.

[/column]

 

[divider]سامان مسرت[/divider]

[column size=one_half position=first ]

صبح کی پہلی کرن باد صبا
پربتوں پر برف کی اجلی قبا

موسموں کے رنگ ان کی آب و تاب
طاق پر مل جائے اک کھوئی کتاب

سگ کا سستانا گلی کی دوب پر
شاعری سے گفتگو اسلوب پر

صبح دم اخبار گرنا صحن میں
کوئی جملہ کوندھ جانا ذہن میں

راستے میں اک گھنے برگد کی چھاوں
خوش ترک اور مخملی جوتوں میں پاوں

جھانکنا بٹوے سے اک تصویر کا
یک بہ یک کھل جائے مصرع میر کا

ہوکے گم پھر کھوجنا جنگل میں راہ
گنگنانا نظم اپنی گاہ گاہ

کوہ سے گرتا ہوا اک آبشار
اک پرانے گیت میں بجتا ستار

دل سے بھی دنیا سے بھی منسوب ہیں
ہم کو سامان مسرت خوب ہیں

[/column]
[column size=one_half position=last ]

Pleasures

First look from morning’s window
The rediscovered book
Fascinated faces
Snow, the change of the seasons
The newspaper
The dog
Dialectics
Showering, swimming
Old music
Comfortable shoes
Comprehension
New music
Writing, planting
Traveling
Singing
Being friendly

[/column]

 

[divider]پامالی کا حسن[/divider]

پیتل کا گلدان پرانا
جس پرکھڈا پڑا ہواہے
میز سے گرجانے کے باعث
جس کی کوریں گھسی ہوئی ہیں

ایک شکستہ بت
ایسا بت
جس کے بازو کٹے ہوئے ہیں
اور ڈھائے جانے پر بھی
جس کی آنکھیں چمک رہی ہیں

ان گن ہاتھوں سے گزرے یہ

چمچ کانٹے چھری پتیلے
مبہم مبہم نقش ہیں جن پر
نرم پڑچکے جن کے ہتھے
ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہیں

آئینہ تمثال ہو چکا
گھاٹ کے زینے کا اک پتھر
ہنستے ہنستے
دھوپ کو جیسے ٹھیل رہا ہے

ایک قدیم عمارت جس کو
کھنڈر کہیں تو ٹھیک رہے گا
کھنڈر کہ جس نے
شکل بنا رکھی ہے ایسی
جیسے اک تصویر مکمل ہونا چاہے

کب سے ہے یہ کیفیت جو
خبر نہیں ہے
لیکن سچ ہے
اک عرصے سے

اشیا جو پامال ہوچکیں
مجھ کو وہ احساس سکوں ہیں
منظر جو ویران ہوچکے
ساماں ہیں تسکین نظر کا

کار نمو سے اوب چکا میں
ایک چٹان سے پیٹھ ٹکائے سوچ رہا ہوں

پامالی کا اپنا حسن ہوا کرتا ہے
پامالی کے ضبط پہ دنیا ٹکی ہوئی ہے