معنیٰ کے اثبات میں اور دیگر نظمیں

لکیر کے پار کچھ نہیں ہے
نہ تم کہیں ہو نہ میں کہیں ہوں
اکیس صبحوں کا سفر اور دیگر نظمیں (قاضی علی ابوالحسن)
فرض کرو
تم نہ بچھڑتی تو
میں تمہیں بوڑھا ہوتے دیکھنے کے صدمے سے دو چار ہوتا
تم میری یادوں سے نہیں بچ پاؤ گے! (نصیر احمد ناصر)

دوستو! اب میرے پاس بچا ہی کیا ہے
ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی
دو نظمیں (عبدالودود دائم)

میں نے نظمیں کہیں
جن کی آنکھیں نہیں تھیں!
پرانے روزنامچے میں اونگھتے دن اور دیگر نظمیں (روش ندیم)

بچارے وقت کو بس دوڑنے
اور ہانپنے
یا بیت جانے کے سوا
آتا ہی کیا کچھ ہے؟
ہینگروں میں لٹکے سائے اور دیگر نظمیں (عظمیٰ طور)

آدمی زندان ہے
اور بنا روزن کے اپنے ہی بدن میں پڑا سر کو ڈھلکائے ہوئے
لہروں پر جھومتا چاند! (ایچ-بی-بلوچ)

لہروں پر جھومتا چاند رات کے طول کا ایک دیدہ عکس ہے باقی نادیدہ سراپا پانی کی نظر ہو چکے ہیں گزرے لمحات کی قبر میں مدفون اے میری راحت! میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں نے تجھے کبھی چوما تھا ! میں اکیلائی کے جسم پر مجوزہ منصوبوں کی وارداتیں لکھتا ہوں […]
تنہا رہنے کا موسم اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

میرے پاس سب کچھ ہے
سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے
میں کچھ نہیں جانتا (نصیر احمد ناصر)

میں نے کبھی نظموں کا پیچھا نہیں کیا
لیکن جانتا ہوں
لفظ کہاں سے آتے
اور کہاں گم ہو جاتے ہیں
بے لفظی کا خوف اور دیگر نظمیں (حسین عابد)

بے لفظی کا خوف لفظ مجھ سے روٹھ گئے ہیں یا وہ معنی کی تلاش میں چلے گئے ہیں روٹھا ہوا لفظ زیادہ دور نہیں جا سکتا معنی کا حمل سنبھالے اس کی سانس پھول سکتی ہے وہ کہیں بھی بیٹھ سکتا ہے کسی نیم تاریک گلی کے موڑ پر دن کے صور سے متوحش […]
ناخن جو اب ہتھیلی پر اگ آئے — (سبین محمود کے لیے) — مدثر عباس

بمارے دل کی تیز دھڑکن کا طبعی معائنہ نہ کریں بلکہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیوں آپ نے ہمارے لوگوں کو چاند کا فریم درست کرنے کے جرم میں ہمارے گھر کی فیملی فوٹو سے پھاڑ کر اپنی بھدی تصویر کے ساتھ جوڑ لیا ہے؟ ہمارا تازہ غیر رجسٹرڈ گیت کیوں آپ کی چلتی ہوئی […]
خاموش موت — محمد حکیم

محمد حکیم: وہ سمجھ بیٹھے کہ
میں مغرور ہوگیا ہوں
لیکن انہیں معلوم نہیں کہ
میری موت واقع ہو گئی ہے
چاند رات (عادل یوسف)

اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے ہر آنکھ میں مردہ خوابوں کی لاشیں تیرتی رہتی ہیں جو فاتحہ کی امید پہ اکثر آنکھوں سے ٹکراتی رہتی ہیں انہیں ہر دن رشتوں کے گدھوں کی خوراک بننا ہے لڑکیاں جو شادیوں کی […]
ایک گیت گایا نہیں جا سکتا (فیثا غورث)

ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے ایک گیت جو تم کبھی نہیں سنو گے راستے میں چلتے ہوئے گھیر لیتا ہے ایک گیت تمہیں گلے لگا لیتا ہے ایک گیت جس کے لیے تم زندہ رہ سکتے ہو ایک گیت جس کے لیے تم مر سکتے ہو […]
تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں کی گئی میرے کارناموں پر کہیں کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا اور کوئی قومی دن میرے لیے مختص نہیں کیا گیا تمہاری وجہ سے میں ان عمارتوں کا افتتاح […]