Laaltain

چاند رات (عادل یوسف)

اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے ہر آنکھ میں مردہ خوابوں کی لاشیں تیرتی رہتی ہیں جو فاتحہ کی امید پہ اکثر آنکھوں سے ٹکراتی رہتی ہیں انہیں ہر دن رشتوں کے گدھوں کی خوراک بننا ہے لڑکیاں جو شادیوں کی […]

تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں کی گئی میرے کارناموں پر کہیں کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا اور کوئی قومی دن میرے لیے مختص نہیں کیا گیا تمہاری وجہ سے میں ان عمارتوں کا افتتاح […]

آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب چہرے سے چھلکتا ہے، وصل اور ہجر کی درمیانی کیفیت کو شاید نزع کہتے ہیں، تم نے اقرار کرنے میں اعترافِ جرم جیسی دیر کر دی، گویا پیلے بلب کے سامنے بیٹھا، ناکردہ گناہوں کا مجرم، آنکھوں کو تھکا دینے والی روشنی کی تاب […]

اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں موت کو رشوت دیتے ہیں اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں اور امید رکھتے ہیں ہم خود کو ہلاک کر لیں گے وہ چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں اور جب ہم وہاں سیر […]

دودھ والے وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں (ساحر شفیق)

اگر مجھے بیس منٹ میں کچھ لکھنے کو کہا جائے تو میں کاغذ پر ۷ تک پہاڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں لکھ سکوں گا ___یا شاید___ متعدد بار اپنا نام اور پتہ اس رسم الخط میں/ جو میں نے خود ہی ایجاد کیا تھا میں ان بیس منٹوں میں اپنے دن بھر کے معمولات […]

اجنبیت سے بھرا دن (ثاقب ندیم)

اجنبیت سے بھرا دن اہم شخص کو غیر اہم بنا سکتا ہے میں ایک اجنبی دن کے اندر سے گُزرا جہاں خاموشی کمرے کی درزوں سے بہہ رہی تھی جہاں تمہاری آنکھوں میں ایک اجنبی اداسی تھی یہ میرا پہلا تعارف تھا اُس لہجے سے جِس میں اجنبی دن بولا کرتے ہیں اور پاس سے […]

اور جب تم دیکھو ۔۔۔۔۔۔ (نصیر احمد ناصر)

اور جب تم دیکھو کہ رات معمول سےطویل ہو گئی ہے اور سورج طلوع ہونے کا نام نہیں لے رہا تو تم صبح کی واک ملتوی کر دینا اور پورچ کی گُل کی ہوئی بتیاں پھر سے روشن کر دینا اور جب تم دیکھو کہ ہوا ہموار راستوں پر چلنے سے گھبرانے لگی ہے اور […]

غلام گردشوں کے نگہبان ستارے (صدیق شاہد)

ہم !! غلام گردشوں کے نگہبان ستارے فرق نہیں کرتے کھلکھلاتے یا اداس گالوں میں اتر آتے ہیں بے ستون محرابوں تلے آسمان ڈھونڈتی آنکھ میں ریشمی جھالروں کی سلوٹوں سے یا کسی بھی روزن سے کوئی آئینہ شاہی نظام یا مسلح دربان حتیٰ کہ عظیم الشان لشکر بھی ہمیں روک نہیں پاتے تمہارے گال […]

Vibes اور دیگر نظمیں (ماریہ حبیب)

[blockquote style=”3″] یوتھ یلزایک رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔ آپ کا اسلوب سنجیدہ ہے یا چٹخارے دار۔۔ آپ سماج پر تنقید کا جذبہ لیے ہوئے ہیں یا خود پر ہنسنے کا حوصلہ۔۔۔۔ “لالٹین” آپ کی ہر تحریر کو خوشآمدید […]

سماعتوں کے اندھیرے (عظمیٰ طور)

میں ان سماعتوں سے بھی واقف ہوں کہ جو گفتار کی بیساکھیاں تھیں مگر ٹوٹ چکی ہیں اب کسی کو کسی کے سہارے کی ضرورت کہاں ہے میں اس سماعت کے مفلوج ہونے کی بھی گواہ ہوں جو گفتار کو اپاہج سمجھ کر خود اپنی ہی سناٹوں میں گونجتی اپنی آوازوں سے محظوظ ہونے کی […]

مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے ایک راستہ چاہیے جو پاؤں سے نہیں دل سے نکلتا ہو مجھ تک آنے کے لیے ایک دروازہ چاہیے جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے کھل سکتا ہو اور ایک کھڑکی جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو مجھ تک آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت […]

دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی دروازے کیا ہوتے ہیں؟ کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟ یا صرف اندر آنے کے لیے؟ دروازوں کا درست مصرف سمجھنے سے فلسفی قاصر رہے ہم تمام عمر ان کی حقیقت سے ناآشنا رہے ہمیں معلوم نہ ہو سکا اور دروازے ہمارے اندر سے خارج ہو گئے یا شاید اپنے […]

غصے کی بے مہر چنگاری (سلمیٰ جیلانی)

غصے کی اک بے مہر چنگاری کتنا کچھ جھلسا دیتی ہے بچوں سے پیار اور دلار چھین کر ان کی آنکھوں میں خوف و دہشت بھر دیتی ہے ماں اپنا سوہنا روپ بھلا کے بھتنی سی بن جاتی ہے کبھی کبھی قبر میں جا کر بھی سو جاتی ہے اور دنیا سائے کے بنا اجاڑ […]

نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے میں نے کئی بار کھڑکی سے باہر جھانکا اداسی بہت دبیز تھی مگر میں جانتا ہوں کہ راستے ترتیب دیتے ہوئے آنکھیں ہمیشہ مصلحت کے غبار میں گم ہو جاتی […]

جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے مگر جھک نہیں سکتی ماں کی نظروں سے مجبور اٹھا کر نہیں کھائے گی آپ کے ہاتھوں سے گرے چپس کے ٹکڑے پیار کرتی ہے مگر جھک نہیں سکتی عزت سے مجبور آپ کے تقاضوں پر چھوڑ دے گی آپ کو ہمیشہ کے لیے اچھی بیوی ہے مگر جھک نہیں سکتی بچوں […]