Categories
شاعری

وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے (گلزار)

[blockquote style=”3″]

گلزار کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے جو بارڈر پر
اُسی کی دیوار میں جڑا اک سپاہی رائفل لیے کھڑا ہے
جمائیاں لے رہا ہے کب سے
اُسے بھی اب نیند آ رہی ہے
وہ تھک گیا ہے

لکیر اپنی جگہ سے ہٹتی نہیں، نہ ہٹتا ہے وہ سپاہی
چَھپے ہوئے لفظ کی طرح سے پڑے ہیں دونوں

نہ جانے کل رات کیا ہوا تھا
گلے پہ بندوق رکھ کے اس نے
چلا دی گولی

وہ لفظ لیکن مَرا نہیں ہے
وہیں پہ رائفل لیے ہوئے
دوسرا سپاہی جڑا ہوا ہے

Categories
شاعری

بھکارن

[blockquote style=”3″]

نورالہدیٰ شاہ کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
بھکارن
بدلتے زمانے کے چوراہے پر گڑی ہوں
فاسٹ فارورڈ منظر کے بیچ کھڑی ہوں
تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے مگر
دل رکھنے کی جگہ ڈھونڈ رہی ہوں
عشقِ خاکستر کا جسم کندھے پر لادے
راہگیرانِ شہر سے بھیک مانگ رہی ہوں
عشق اپنے آخری دموں پر ہے شہر والو
دل سوکھ کر کانٹا ہو چکے ہیں شہر والو
اب کے برس قحط سوزِ دل بھی نگل چکا ہے
ہر قطرہ، ہر آنکھ کا کنکر بن چکا ہے
محبت میّسر نہیں اب کسی بھی دوا خانے میں
ہر شفا خانے کا شٹر گر چکا ہے
طبیبِ دل چُن چُن کر مار دیے گئے ہیں
جو بچ رہ گئے ہیں، تاریک غاروں میں دبے پڑے ہیں
بس نقلی نوٹ کی سی اک نگاہِ محبت عطا ہو جائے
جو کسی سستے سے ڈھابے پر ہی چل جائے
مرتے عشق کو گدلے پانی کا اک قطرہ مل جائے
مرتے عشق کا حلق بس ذرا سا تَر ہو جائے
Categories
شاعری

نظمیں ستارے بناتی ہیں

[blockquote style=”3″]

انور سین رائے کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
شاعر: انور سین رائے

ستاروں سے مجھے وہ سیاہی درکار تھی
جو نظمیں لکھنے کے کام آ سکتی تھی
لیکن وہ غیر ضروری ذمہ داریوں میں الجھے رہے
پہلے سے بڑھ گئی ہیں ستاروں کی ذمہ داریاں
پہلے وہ صرف راتوں اور اندھیرے کے خوف کم کرتے تھے
صبح تک سڑکیں ناپنے والوں کی دلجوئی کرتے تھے
بھٹکے ہوؤں کو راستے سجھاتے تھے
ہم لڑکپن میں داخل ہونے کے لیے اپنے بچپن کو ان کے پاس چھوڑ سکتے تھے
لیکن اب میں نظمیں لکھتا ہوں
یہ جانے بغیر کہ کیوں لکھتا ہوں کب تک لکھوں گا
اور کیا ہو جائے گا اگر نہیں لکھوں گا ایک میں
میں نظمیں ہی لکھوں گا
چاہے ستارے سیاہی سے خالی ہو جائیں
اور آسمان کاغذ بننے سے انکار کردے
چاہے زمین سیاہی سے خالی ہو جائے
اور بادل دیوار بننے سے انکار کر دیں
چاہے محبت کی دوات الٹ جائے یا کرچی کرچی ہو جائے
اور خواب نوٹ بک بننے سے انکار کر دیں
میں آخری وقت تک نظمیں لکھوں گا
چاہے لکھنی پڑیں پلکوں سے، نظروں سے
یا آخری لمس سے
حالاں کہ جب میں نظم لکھتا ہوں
تو لگتا ہے کہ آ گیا ہے میرا آخری وقت
نظم اپنی ابتدا کرتی اور مجھے قتل کرنا شروع کرتی
نظم ناز کرتی اٹھلاتی بڑھتی جاتی ہے اور میں مرتا جاتا ہوں
نظم ختم ہو تی ہے،
ایک ستارہ تلاش کرتی ہے اپنے لیے اور میرے لیے
مجھے اُس ستارے سے جوڑ دیتی ہے
تا کہ جی اٹھوں ،
تا کہ قتل کیا جا سکوں ایک بار پھر
Categories
شاعری

سمندر ہی زمانے خلق کرتا ہے

[blockquote style=”3″]

عمران ازفر کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
سمندر ہی زمانے خلق کرتا ہے
ہمیشہ زور میں بہتا
سمندر کھیلتا رہتا ہے پیروں سے لپٹ کر
رات بھر بانہوں میں بھرے کسمساتا ہے
تمھاری اوک میں بھر کر
کئی گزرے جزیروں کی مٹھائی سے بھری لہریں
مری کمزور چھاتی پر بچھی رہتی ہیں
دھیمے ساز میں لپٹے عروسی گیت گاتی ہیں
گلانی آبگینوں سے مسلسل خواب اُڑتے ہیں
بنفشی پھول سا چہرہ
نظارہ لے کے لہروں سے اُبھرتا ہے
سمندر رات ہے جس میں
خبر احوال کی کب ہے
لہو جو دوڑتا پھرتا ہے
ریشم سی تنابوں سے وہ آنکھوں میں ٹھہرتا ہے
سمندر کوکھ سے اپنی زمانے خلق کرتا ہے
جہاں نظمیں، مری نظمیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
کئی قوسیں بناتی ہیں
جو میرے جسم شجرے پر تمھارا نام لکھتی ہیں
تمھارے جسم جادو پر مرا چہرہ بناتی ہیں
حسیں لہروں پہ رقصاں فاختاؤں کے
پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے
دھنیں ترتیب پاتی ہیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
ہوا میں گیت گاتی ہیں
مری نظمیں,ترا رخ آرزؤں کے لحافوں میں چھپا
سب کونپلوں پھولوں کو اپنا لمس دیتا ہے
بدن تقسیم ہوتا ہے
کئی ٹکڑے، کئی قاشیں
سنہری دائرے تخلیق کرتے ہیں
میرے پیروں کی پوروں سے لپٹ کر
سب شکستہ آرزوئیں پوچھتی ہیں
اب تمنا اوڑھ کر
یہ کون سوتا ہے۔۔۔۔

Image: Chalermphol Harnchakkham

Categories
شاعری

اب کوئی آواز آتی نہیں

[blockquote style=”3″]

وجاہت مسعود کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اب کوئی آواز آتی نہیں
بچپن اور جوانی کے بیچ
میں بہت دن اداس رہا
جوانی مجھے ڈراتی تھی
اپنی اور کھینچ کر
یوں بھینچتی تھی
مانو جوانی بیوہ کی رات ہے

کھلے میں برف پر آہستہ آہستہ پاؤں رکھتا
بھیڑیا ہے
غسل خانے میں پانی گرنے کی آواز ہے
اور صابن کے اس ٹکڑے کی خوشبو
جسے تم نے ابھی ابھی
اپنے کندھوں کے بیچ ملا تھا
میں نے دیکھا تو نہیں
بس مجھے یونہی محسوس ہوا تھا

جوانی سے کچھ پہلے
ناک بہت تیز ہو جاتی ہے
خوشی کو
تنگ گلیوں میں
پرانے مکانوں میں
اور نیم روشن کھڑکیوں کے پار
سونگھ لیتی ہے
الگنی سے لٹکی اترن
اور ملے دلے بستر کے سرہانے رکھے دوپٹے میں
ڈھونڈ نکالتی ہے
لیکن کچھ ایسا ہوا
کہ جوانی مجھ پہ آئی ہی نہیں
بس بہت سی بیزارکن تکان
میرے کندھوں
اور گردن میں اتر آئی
بیوہ کی رات کی طرح

کیا اب بھی وہ راتوں کو چونک کر
دالان پرکان لگائے
جاگتی رہتی ہے

جوانی کے کچھ بعد
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی!

Image: Tai-Shan Schierenberg

Categories
شاعری

میں کیا اوڑھوں؟

[blockquote style=”3″]

عارفہ شہزاد کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
تم نے کیا پہنا ہوا ہے؟
اک بساند بھراقہقہہ؟
مت ہنسو
اجنبی قہقہے کراہنے لگتے ہیں
اس میں ایک کھوکھلے قہقہے کا سُر
سب سے اونچا ہے
ارادتا”لڑھکائے ہوئے قہقہے
سماعت کا راستہ نہیں بھولے
مگر بھول گئے ہیں
پچھلے برس
یا اس سے پچھلے برس۔۔۔
یاد نہیں کیا تھا
بس ایک ہیولی’
تھرتھراتا رہتا ہے
جاگتے رہتے ہیں ہونٹ
نہیں جاگتی مسکراہٹ
چھوٹی چھوٹی باتوں میں
کیا رکھا ہے؟
خوابوں کی کھرچن
ناخنوں میں پھانس بن کر چبھنے لگے
تو نیند کا ذائقہ بھول جاتا ہے
نیند میں دیکھے ہوئے خواب
ہر روز تکرار نہیں کرتے
کھلی آنکھ میں خواب دھرے رہو
اور کچھ مت دیکھو
سامنے کیا ہے؟
اردگرد کی دیواروں کا
اندازہ نہیں کیا جا سکتا
جب تک ان کے درمیان کے راستے پر
بار بار پاوں نہ دھرے جائیں
اندر کی آوازوں کو دبانے کے لیے
رات کی کھڑکی سے باہر
خلا میں قدم رکھ کر
ساکت کھڑے رہنا پڑتا ہے
تمہاری طرح۔۔۔!
تم جو چاہو کر سکتے ہو
تم جلتا دن اوڑھ سکتے ہو
میں کیا اوڑھوں؟

Image: Hayv Kahraman

Categories
شاعری

سرمائی بارش میں بحرِ ابدیت کی جانب

[blockquote style=”3″]

نصیر احمد ناصر کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
سرمائی بارش میں بحرِ ابدیت کی جانب
شاعر: نصیر احمد ناصر

سرمائی بارش کی آواز
زمانوں دُور لے جاتی ہے
آبائی راستوں سے گزرتے ہوئے
قدموں کی آواز سنائی نہیں دیتی
وقت زمین کو آگے کی طرف دھکیلتا رہتا ہے
لیکن مٹی اپنی جگہ نہیں چھوڑتی
ایک مکان سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے تک
ڈمپر اور مشینیں تھک جاتی ہیں
گزرے وقتوں کے خلا نہیں بھرتے
سفالینہ کا رنگ تہذیبوں کی طرح گہرا
اور صحنچی میں لگی اینٹوں سے زیادہ پختہ ہوتا ہے
درختوں اور فصلوں کی شاعری
صرف ہوا پڑھ سکتی ہے
جو دروازوں، دریچوں، درزوں
اور دلوں سے
دبے پاؤں گزرتی ہے
یا رنگین چونچوں اور پروں والے پرندے
جو رات کے گھنے جنگلوں میں
صبح دم چہچہانے کے لیے
دم سادھے پڑے رہتے ہیں
دن بھر دانہ چگتے، جفتی کرتے
اور گھونسلوں اور کھوڑوں میں انڈے سیتے ہیں
یا ارضیہ جیسی کوئی چیز
جو اندر ہی اندر سر سر کرتی
عمروں اور لفظوں کی خاموشی تک چاٹ جاتی ہے
اور بچے کمروں میں
اندھیرے کی لوری سن کر
جھوٹ موٹ آنکھیں بند کر لیتے ہیں
اور خدا اور باپ دونوں تنہا ہوتے ہیں
جو غیر مرئی اونگھ میں بھی جاگتے رہتے ہیں
دکھائی نہ دینے والے آنسوؤں کی چاپ
سنائی دیے بغیر آتی رہتی ہے
اور پانی بند کھڑکی کے شیشوں پر
بے آواز گرتا چلا جاتا ہے
اور بارش ہوتی رہتی ہے
دیر تک اور دور تک
اور ایک درد کا دریا
بحرِ ابدیت کی جانب بہتا رہتا ہے
اور زمانے گزرتے چلے جاتے ہیں
آتش دان کے پاس
جھولا کرسی (راکنگ چیئر) پر
کوئی جھولتے جھولتے سو جاتا ہے!
Categories
شاعری

خوبانی

[blockquote style=”3″]

عمران ازفر کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
خوبانی
میری خواہش، میری ساتھی
خوبانی ہے
کل دن نکلا تو
اپنے کچے صحن کے تھالے کے پیندے پر
اپنے بدن کو کچی مٹی کی بانہوں میں
سونپ دیا
اور گیلے گیلے ہونٹوں والے چہرے کی
مخمور ہنسی میں اپنے آپ کو چھوڑ دیا

خوبانی ہے
جلتے جسم کی حیرانی میں
تازہ نرمیلی قاشیں ہیں
جو اک تھال کے بستر اوپر
لمبی تان کے سوتی ہیں اب
بیج بدن میں پھوٹتے ہیں
اور آنکھیں خوشبو بوتی ہیں

خوبانی ہے
ڈھیلے ڈھالے لچکیلے سے ٹہنوں اوپر
جیسے بیج بدن سے لہرائیں
ان البیلی سی قاشوں میں
جب جسم کا سونا اُگنا ہے
ہر خواب خوبانی ہونا ہے
اور دھوپ کے تھالے میں چمکیں
وہ شوق کی حدت
جس میں خوبانی سے باداموں کی نرمی
پوشیدہ ہے…..
Categories
شاعری

گلابی اور نارنجی

[blockquote style=”3″]

رفعت ناہید کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
شاعرہ: رفعت ناہید

یہ تب کی بات ہے
جب بڑا دریا یہاں سے گزرتا تھا
اور دریا کے کنارے رس کے بھرے، ملائم اور چکنے تھے
درختوں میں ہوائیں عام تھیں
اور جنوبی چٹانیں ابھی سمندر میں نہیں ڈوبی تھیں
تب تم نے دریا میں بہتے ہوئے پھولوں میں سے
ایک گلابی اور نارنجی پھول اٹھا کر میری ہتھیلی پر رکھا تھا
اور میرے ماتھے پر ویسا ہی
(گلابی اور نارنجی) بوسہ دیا تھا
شاید وہ دنیا کا پہلا بوسہ تھا
اب جبکہ
بڑا دریا اپنا راستہ بدل چکا ہے
ہواؤں نے رہنے کے لیے کوئی
اور درخت منتخب کر لیے ہیں
اور دریا کے کناروں پر بڑی بڑی دراڑوں میں
زہریلی بوٹیاں اگ آئی ہیں
جنوبی چٹانیں بھی سمندر میں ڈوب گئی ہیں
صرف سورج ہے
جو اب بھی مغرب میں ڈوبتا ہے
یا یہ پھول جو میری ہتھیلی پر مہک رہا ہے
اور یہ بوسہ
جو میری پیشانی پر ارغوانی تپش دے رہا ہے!

Image: Chalermphol Harnchakkham