Categories
شاعری

اب کوئی آواز آتی نہیں

[blockquote style=”3″]

وجاہت مسعود کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اب کوئی آواز آتی نہیں
بچپن اور جوانی کے بیچ
میں بہت دن اداس رہا
جوانی مجھے ڈراتی تھی
اپنی اور کھینچ کر
یوں بھینچتی تھی
مانو جوانی بیوہ کی رات ہے

کھلے میں برف پر آہستہ آہستہ پاؤں رکھتا
بھیڑیا ہے
غسل خانے میں پانی گرنے کی آواز ہے
اور صابن کے اس ٹکڑے کی خوشبو
جسے تم نے ابھی ابھی
اپنے کندھوں کے بیچ ملا تھا
میں نے دیکھا تو نہیں
بس مجھے یونہی محسوس ہوا تھا

جوانی سے کچھ پہلے
ناک بہت تیز ہو جاتی ہے
خوشی کو
تنگ گلیوں میں
پرانے مکانوں میں
اور نیم روشن کھڑکیوں کے پار
سونگھ لیتی ہے
الگنی سے لٹکی اترن
اور ملے دلے بستر کے سرہانے رکھے دوپٹے میں
ڈھونڈ نکالتی ہے
لیکن کچھ ایسا ہوا
کہ جوانی مجھ پہ آئی ہی نہیں
بس بہت سی بیزارکن تکان
میرے کندھوں
اور گردن میں اتر آئی
بیوہ کی رات کی طرح

کیا اب بھی وہ راتوں کو چونک کر
دالان پرکان لگائے
جاگتی رہتی ہے

جوانی کے کچھ بعد
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی!

Image: Tai-Shan Schierenberg

Categories
نان فکشن

طبقات مسعودی از ڈاکٹر عبدالمجید عابد

کچھ عرصہ قبل برادرم حسنین جمال نے مدیر ’ہم سب‘ کا خاکہ لکھا تو احباب کی جانب سے فرمائش آئی کہ اب ’خاکہ اڑایا جائے‘۔ خاکسار لڑکپن سے ’فکاہیہ نویسی‘ اور ’خاکہ اڑائی‘ جیسے فنون عالیہ کا طالب علم رہا ہے لہٰذا ’اب ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو‘۔ واضح رہے کہ فدوی کا صاحب مضمون سے بیک وقت دوستی، شاگردی اور ’معالجی‘ کا رشتہ ہے۔

 

گوجرانوالہ ان کا آبائی شہر ہے۔ شائد اسی لئے گوجرانوالہ اور اس کے باسیوں کے متعلق ایک خاص غبار دل میں چھپائے بیٹھے ہیں۔ کہتے ہیں:’اس شہر کی جانب سے تو کبھی ہمیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی نصیب نہیں ہوا‘ اور یہ کہ ’ہر برائی آخر وہیں جا کے نکلتی ہے‘۔ عمر کے اس حصے میں مائل بہ فربہی ہیں البتہ موقعے کی مناسبت سے مستعد اور چست بھی ہو سکتے ہیں۔ وضع قطع خالصتاً دہلوی ہے، سفید کرتا پاجامہ زیب تن کئے صبح شام ’ہم سب‘ کی ادارت میں مشغول رہتے ہیں۔ ملاقات میں خوش اخلاق اور ہنس مکھ ہیں(یعنی اپنی تصاویر کے برعکس)۔

 

فی زمانہ درویش تخلص کرتے ہیں۔ اسی لئے شہر سے کئی کوس دور ویرانے میں کٹیا بنا رکھی ہے اور صبح شام ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے‘ کی مالا جپتے رہتے ہیں۔
فی زمانہ درویش تخلص کرتے ہیں۔ اسی لئے شہر سے کئی کوس دور ویرانے میں کٹیا بنا رکھی ہے اور صبح شام ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے‘ کی مالا جپتے رہتے ہیں۔ اجمل کمال کو ان کے آشیانے پر جانے کا اتفاق ہوا تو آدھے ہی راستے میں پکار اٹھے: ’بھئی کیا فیصل آباد قریب ہی ہے؟‘اگر آپ ان سے ملنے کے مشتاق ہیں تو براہ کرم ان سے راستہ مت پوچھ بیٹھئے گا۔ و ہ قوم کو راستہ دکھانے والوں میں سے ہیں لیکن اپنے گھر کی بجائے آپ کو وہ کاہنا کاچھا پہنچا دیں گے۔

 

صاحبان یقین کیجئے کہ خاکسار نے زندگی میں بہت سے کٹھن مراحل دیکھے ہیں اور کثیر النوع امتحانات کا سامنا کیا ہے لیکن استاد محترم کو ساتھ بٹھا کے گاڑی چلانا شائد ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔میں شیر خان کے لئے تمغہ استقامت کی سفارش کرنا چاہتا ہوں جو کئی سال سے یہ ذمہ داری نبھا رہا (اور طعن و تشنیع سہہ رہا) ہے۔ ادھر گاڑی کی رفتار بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے متجاوز نہیں ہوئی کہ پاکستانی عوام اور سڑک کے پیچیدہ رشتے پر ایک پرمغز تقریر کا آغاز ہوتا ہے جو متنوع القابات اور غیر پارلیمانی الفاظ سے مزین ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو دیکھتے ہی ان پر قر یب قریب تشنج کی کیفیت طاری ہو نے لگتی ہے۔ ان کے کئی مضامین میں موٹر سائیکل ایک پہئے پر چلانے کو نوجوان نسل کی غیر سیاسی سوچ کا استعارہ قرار دیا جا چکا ہے۔

 

گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے اور تین چوتھائی دنیا دیکھ لی لیکن باقر خانی اب بھی چائے میں ڈبو کر کھانا پسند کرتے ہیں۔ عوام میں گھلنے ملنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات سے انہیں خاص کد ہے، فدوی نے کم ازکم ایک دفعہ انہیں ایک مشترکہ دوست کے ولیمے سے برق رفتاری کے ساتھ غائب ہوتے دیکھ رکھا ہے۔ لاہور میں کچھ برس سے Organic Food کا اتوار بازار لگتا ہے۔ دختر نیک اختر کی فرمائش پر وہاں کا ایک چکر لگا آئے تو کئی روز طبیعت مضمحل رہی۔ دن اور رات کے اوقات ان کے لئے بے معنی ہیں۔ ایک مشترکہ دوست کے مطابق ان کے ہاں شام کی چائے اس وقت پی جاتی ہے جب گرد ونواح کے رہائشی عشائیے سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ کسی ٹی وی پروڈیوسر نے دریافت کیا کہ آیا وہ صبح ساڑھے آٹھ بجے پروگرام میں شرکت کر سکیں گے؟ جواب ملا: میاں، اگر صور اسرافیل آٹھ بجے پھونکا جائے تو ہی کچھ امکان بن سکتا ہے وگرنہ ہمیں معاف کیجئے۔

 

بھلے وقتوں میں ’ایشیا کو سرخ کرنے‘ کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ سرخ رنگ دیکھ کر ہی بدک جاتے ہیں۔
اپنی صحت کے معاملے میں حد درجہ لاپرواہ ہیں۔ خاکسار کو کئی دفعہ طعنہ مل چکا ہے کہ ’آپ نے آخر اتنی صحت کا کیا کرنا ہے؟‘۔ عمرِ رفتہ اور کثرت سگرٹ نوشی کے باعث دانت جواب دے گئے تو دندان سازوں سے پالا پڑا۔ مصیبت یہ ہے کہ موصوف دندان سازوں کے زیر علاج رہنے کو ایک نہایت بورژوا قسم کی حرکت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے گوجرانوالہ سے تعلق ہونے کے باوجود گوشت خوری ترک کر دی (اور سبزی خور ہو گئے) لیکن علاج سے کئی کوس دور بھاگتے رہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق (احمد مشتاق سے معذرت کے ساتھ) اس معرکے میں عشق بیچارہ ہار گیا اور استاد محترم کو نئی بتیسی نصیب ہوئی۔

 

بھلے وقتوں میں ’ایشیا کو سرخ کرنے‘ کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ سرخ رنگ دیکھ کر ہی بدک جاتے ہیں۔ سوویت روس کی تاریخ کے مختلف پہلووں پر دسترس رکھتے ہیں۔ ان کے لئے اڑچن یہ ہے کہ دائیں اور بائیں بازو کے احباب انہیں حسبِ ذائقہ ایجنٹ، غدار، ڈالر خور اور ملک دشمن ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن مرشد پاک ان دیومالائی ڈالروں اور ’لفافوں‘کے انتظار میں بوڑھے ہو چلے ہیں۔ چاند پینٹ کرنے کی خواہش لئے بلوچ سرمچاروں سے بھڑ گئے تھے، اب فرماتے ہیں:’جب تم لوگوں نے بلوچستان آزاد کرا لیا تو بے شک مجھے وہاں کا ویزہ نہ دینا‘۔ عصر حاضر کے ’سرخوں‘ سے نالاں ہیں اور کہتے ہیں: ’جن ممالک میں یہ نظام نافذ رہا ہے، وہاں سے کبھی کمیونزم کے احیاء کی صدا بلند نہیں ہوئی، ہمارے انوکھے لاڈلوں کو یہ بات کون سمجھائے؟‘

 

اس نوع کے بزرگ (ان کو یہ لقب بالمشافہ ملاقات میں عطا کرنے کا حوصلہ ہم میں فی الحال موجود نہیں) کارنس پر سجانے کے لائق ہیں۔ کالم میں تین دفعہ ’جسدِ اجتماعی‘ استعمال نہ کریں تو طبیعت کی ناسازی کا گمان ہوتا ہے۔ ’انحراف‘ ان کا پسندیدہ مشغلہ اور شائد پسندیدہ لفظ بھی ہے۔ مختلف مسائل کے ’منطقی انجام‘ سے وہ خوب باخبر ہیں۔ ’قرائن‘ سے بہت کچھ معلوم کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ جمہوریت کے ایسے قصیدہ گو کہ گویا گوجرانوالہ کی جگہ قدیم ایتھنز میں پیدا ہوئے ہوں۔ بقول محمد خالد اختر ’نثر اردو کو لباس تکلف اور زیور سخن آراستہ کر کے روکش ماہ تمام‘ بنانا اور ’الفاظ کے روپ کو غازے کی تابانی دے کر شاہد نگارش کی سنہری رو پہلی پیرہن‘ پہنانا مرشد کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ناقدین کے خیال میں عبدالمجید سالک کی اتباع کرتے ہیں لیکن الفاظ غالب کے زمانے کے استعمال کرتے ہیں۔ان کا کالم پڑھنے کے لئے فرہنگِ آصفیہ اور پاکستان انسائکلوپیڈیا ساتھ رکھنا پڑتا ہے جب کہ سمجھنے کے لئے کئی ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ فارسی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے جن کی اکثریت راقم جیسے کم علموں کے پلے نہیں پڑتی۔ متنازع موضوعات پر لکھنے کے متعلق ان کا ایک قولِ زریں ہے :’لڑکی سے پہلے لڑکی کی ماں کو منانا پڑتا ہے‘ اور خاکسار کو ’سخت زبان‘ استعمال کرنے پر کئی مرتبہ ڈانٹ پڑ چکی ہے۔گزشتہ برس صدارتی ایوارڈ ملنے کا اعلان ہوا تو ان کے ایک دوست نے ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی۔ ’ہم بھی وہیں موجو د تھے‘ البتہ رات چودھویں کی نہیں تھی۔ ان کے یارِ غار، یاسر پیرزادہ نے انہیں پاکستانی تاریخ کا ’ڈاکٹر ذاکر نائیک‘ قرار دیا جو خاکسار کے نزدیک بالکل درست لقب ہے۔ تعریف سننے پر ان کی جھینپ اور شرماہٹ کا وہ عالم تھا جو پہلے روز کی دلہنوں کا سٹیج پر بیٹھتے وقت ہوتا ہے۔

 

کالم میں تین دفعہ ’جسدِ اجتماعی‘ استعمال نہ کریں تو طبیعت کی ناسازی کا گمان ہوتا ہے۔ ’انحراف‘ ان کا پسندیدہ مشغلہ اور شائد پسندیدہ لفظ بھی ہے۔
کتب بینی بلکہ کتب خوری ان کا مشغلہ ہے۔ ان جیسے وسیع المطالعہ اور معلومات عامہ کا خزینہ لوگ تو اب نسخے میں ڈالنے کو بھی نہیں ملتے۔ اپنی کتابیں ادھار دینے کے معاملے میں بخیل واقع ہوئے ہیں۔ اس بخل میں ہم ان کو دوش نہیں دے سکتے کہ کئی احباب مختلف مواقع پر ان کی کتب، مالِ مسروقہ سمجھ کر ضبط کر چکے ہیں۔ حافظہ کمال کا پایا ہے۔ غالب، اقبال اور فیض کے اتنے اشعار ازبر ہیں کہ شاید ان بزرگوں کو خود بھی نہ یاد ہوں۔ اپنے کالموں میں وہ موزوں اشعار یا مصرعے بلا تکلف استعمال کرتے ہیں۔ کتابوں سے اقتباس لفظ بہ لفظ دہرا تے ہیں۔ راقم کئی سالوں سے ان کے حوالے اور اقتباسات کی تحقیق کر تا رہا ہے اور کئی نایاب کتب میں ان سے سنے اقتباس ڈھونڈ چکا ہے۔ ان سے اب تک جو بھی کتاب مستعار لی، بروقت لوٹا دی لیکن کچھ کتب کے معاملے میں وہ بہت جلد جذباتی ہو جاتے ہیں(ان کتب کی فہرست ’ہم سب‘ پر ’نوجوان لکھاریوں کو کیا پڑھنا چاہئے‘ کے عنوان سے موجود ہے)۔

 

کرکٹ سے خاص دلچسپی ہے اور ’ہم سب‘ کی ادارت کا بوجھ اضافی ہونے لگے تو شڑاپ سے کرک انفو کھول کر حسب موقعہ میچ کی صورت حال سے باخبر رہتے ہیں۔ با غبانی سے بے تحاشا رغبت ہے۔ قیاس ہے کہ گزشتہ جنم میں بہت سا وقت گل وگلستاں کے ہمراہ گزار چکے ہیں۔ موسیقی کے رسیا ہیں اور سینکڑوں قدیم البم اور گانے ان کے پاس موجود ہیں البتہ وہ ہمیشہ تخلیے کے عالم میں موسیقی سننا پسند کرتے ہیں۔ خادم کو ان کے ہاں استاد بسم اللہ خان اور بڑے غلام علی خان کی آواز سننے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ زبانیں وہ بہت سی جانتے ہیں۔ پڑھنے میں انگریزی، لکھنے میں اردو اور بولنے میں پنجابی کو فوقیت دیتے ہیں۔ ان کا صحافتی کیریر انگریزی روزنامے سے شروع ہوا اور ایک زمانے میں وہ فرضی نام سے فکاہیہ کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ پنجابی میں ان کی شاعری کی کتاب ’والٹن کیمپ نئیں مکیا‘ اب نایاب ہو چکی ہے۔ ایک دفعہ ہاتھ لگی اور ان سے ’کلامِ شاعر بذبان شاعر‘ کی فرمائش کی جس کو پہلے پہل وہ ٹالتے رہے لیکن ہماری ثابت قدمی کے باعث چند نظمیں سنا دیں۔ نظم سناتے وقت بھی شرماہٹ کا عالم دیدنی تھا۔ پنجابی مصنفین نے انہیں ’اصلی تے سُچا‘ پنجابی لکھاری نہیں مانا اوروہ بذات خود اپنی پنجابی شناخت سے نالاں رہتے ہیں۔ فلم بینی میں دلچسپی لیتے ہیں اور دنیا بھر کی فلمیں ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کے بچوں کے اصلی یا عرفی نام فلم سے متعلقہ اشخاص سے موخوذ ہیں۔
در ویش اتنے ملنسار ہیں کہ ہر طبقہء فکرسے تعلق رکھنے والے ان کے قدر دانوں میں شامل ہیں۔ ان کا گھر اکثر احباب مہمان خانے کی طرح استعمال کرتے ہیں اور شائد ہی ایسا اتفاق ہوا ہو کہ ان کے ہاں کسی مہمان سے ملاقات نہ ہو۔ گزشتہ تین سالوں میں خاکسار ان کے گھر میں ادباء، شعراء، سرکاری افسران، اساتذہ، سیاست دانوں، نگری نگری بھٹکتے مسافروں اور مختلف النوع کرداروں سے ملاقات کر چکا ہے۔ ان کی جولانی طبیعت کے باعث گھر بار کی ذمہ داری تنویر جہاں صاحبہ کے پاس ہے جو اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود یہ بار گراں اٹھانے پر راضی ہیں۔ ان کی شخصیت مرشد کی موجودگی میں ایک Stabilising Force یا یوں کہئے کہ Shock-Absorber کی سی ہے۔ان کی عدم موجودگی میں’ سلیقہ نام تھا جس کا، گیا مسعود کے گھر سے‘، کا سماں ہوتا ہے۔ تنویر جہاں کی شخصیت اس قابل ہے کہ ان کے فضائل پر ایک الگ، خصوصی مضمون رقم کیا جائے۔

 

ان کا گھر اکثر احباب مہمان خانے کی طرح استعمال کرتے ہیں اور شائد ہی ایسا اتفاق ہوا ہو کہ ان کے ہاں کسی مہمان سے ملاقات نہ ہو۔
ان کے پاس کچھ عرصہ قبل دو موبائل فون تھے اور اکثر یہ عالم ہوتا کہ مرشد ایک صاحب کے اقوالِ زریں سے استفادہ کر رہے ہیں کہ کسی دوسرے بھائی کی کال آگئی جو اپنی سنانے پر مصر ہیں۔ اس ہنگامی حالت میں اگر کوئی ان کے پاس بیٹھا ہے تو اس بیچارے کو لائن مصروف رکھنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ پانچ برس قبل خاکسار نے ان کانمبر حاصل کیا اور جھجکتے جھجکتے کال ملائی۔ اس سے پہلے ان سے ایک ملاقات کا اتفاق ہوا تھا اور اس دوران تعارف کی نوبت بھی نہیں آئی تھی۔ بہرحال خلاف توقع انہوں نے کال سنی اور دعوت دی کہ آپ اس نمبر پر مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اب تو خیر ان کو وہ فراغت میسر نہیں وگرنہ ان کی آواز میں حالات حاضرہ پر کراکرا تبصرہ سننے کا اپنا مزہ ہے۔ آج کل وہ ’ہم سب‘ میں اتنے مگن ہیں کہ دو کی جگہ ایک فون سننا بھی اذیت سمجھتے ہیں۔

 

احباب کے خیال میں ٹی وی پر جاری مسلسل طوفان بدتمیزی اور دائیں بازو کی واضح برتری کے باعث مرشد اور ان جیسے افراد کو ٹی وی پر نظر آنا چاہئے۔ نظریاتی سطح پر یہ بات شاید درست ہے لیکن عملی سطح پر کچھ مشکل درپیش ہے۔ جب آپ بات کے دوران ’میں آپ سے عرض کروں‘ اور ’معاف کیجئے گا‘ بطور ٹیپ کا مصرعہ استعمال کرتے ہوں تو چنگھاڑتے ہوئے اینکروں اور دھینگا مشتی کے شوقین پروڈیوسروں کو آپ سے شغف کیوں ہونے لگا؟ ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو پبلک سپیکنگ سے اجتناب ہے۔ اگر کسی جگہ مجبوری کے طور پر ’خطاب‘ کرنا پڑے تو پہلے ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں اور وقت آنے پر وہ مختصر الفاظ میں اپنی بات کہہ کر سٹیج سے فرار ہو جاتے ہیں۔

 

کسی بات سے اختلاف ہو تو جھگڑا نہیں کرتے، تحمل سے اپنی بات واضح کرتے ہیں اور ایک حد تک تنقید سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں (اس نکتے پر سرخے بھائی اور خان زمان کاکڑ معترض ہو سکتے ہیں،جو ان کا پیدائشی حق ہے)۔

 

ان کی وسیع و عریض شخصیت کو خاکے کے کوزے میں سمونا ناانصافی ہے۔ ہم لیکن اتنی ہی استطاعت رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی چھتر چایا تلے ہمیں علم کی مزید گتھیاں سلجھانے کا موقع نصیب ہوتا رہے۔

Art work: Asad Fatemi

Categories
گفتگو

اُردو صحافت اور نئے نظریات

wajahat
[blockquote style=”3″]

وجاہت مسعود بیکن ہاوس یونیورسٹی میں میڈیا کے پروفیسر ہیں۔انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے اور بین الاقوامی قانون میں ایل ایل ایم کیا ہے۔ بی بی سی اردو میں لکھنے کے علاوہ مختلف اخبارات میں ادارتی کام کر چکے ہیں۔

[/blockquote]

لالٹین : اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
وجاہت: میرے سات بہن بھائی تھے، سب ماں باپ کے ساتھ ہی رہتے تھے لیکن میں دادا کے پاس رہتا تھا ۔ وہ پوسٹل اینڈ ٹیلی گرافک سروس میں ملازم تھے۔ میرا تعلق غریب طبقے سے تھا اور مجھے بچوں کے عمومی اشغال میسر نہیں تھے۔ گھر میں موجود علمی دولت کل ملا کر بانگِ درا، شاہنامہِ اسلام اور بہشتی زیور پر مشتمل تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں بانگ درا کو کمزور کتاب کہہ رہا ہوں لیکن یہ ایسے ہی تھا جیسے کسی نے گھر میں ہرن کا مجسمہ رکھا ہو، بغیر اس کی فنی اہمیت جانے۔ گویا ارد گرد کچھ ایسی مضبوط علمی روایت موجود نہیں تھی۔
لالٹین : بچپن اور لڑکپن میں کون سے تجربات نے شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا ؟
وجاہت: میرے داد ایک مہذب آدمی تھے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد جب اُن کی نظر بہت کمزور ہوگئی تو میں اُن کو ’اِمرو ز ‘ اَخبار پڑھ کر سُنایا کرتا تھا۔ اِمروز معیاری زبان و بیان اور عمدہ صحافتی معیار کا حامل اخبار تھا، یہ بھٹو صاحب کا اِبتدا ئی زمانہ تھا۔ پریس ٹرسٹ کا اخبار ہونے کے ناتے امروز کا رجحان ترقی پسندی کی طرف تھا۔ کچھ اثر وہاں سے آیا۔
میری دادی کا ایک بیٹا1947 ءکے فسادات میں مارا گیا تھا اوروہ کبھی کمرے کے اندر نہ سوتی تھیں۔ اُنہیں لگتا تھا کہ انکا بیٹا مرا نہیں اور کسی رات واپس آکر دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ اگر وہ کمرے میں سو رہی ہوں گی تو انہیں آواز نہیں آئے گی Partition riots were a deplorable human experience and a man-made disaster تقسیم کے فسادات کا اِلزام میں کسی ایک مذہبی فرقے پہ نہیں دھرتا۔ جو دُکھ میں نے دادی سے محسوس کیا ،وہ یقینا ہندو اور سکھ ماﺅں نے بھی جھیلا ہو گا۔
میری شخصی تربیت میری پھوپھی نے کی جو ایک نہا یت مہذب اور درد مند خاتون ہیں۔ انہوں نے 42برس تک سکول میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ خود بے حد مذہبی خاتون ہیں لیکن مجھے انہوں نے اخلاقیات کی تعلیم دی۔ میں نے ان کی تربیت کے زیر اثر سب انسانوں سے محبت کرنے کو نیکی سمجھا۔
لالٹین : اَدب اور شاعری کی طرف کیسے مائل ہوئے اور پنجابی شاعری کا تجربہ کیسا رہا ؟
وجاہت: ادب میرے لیے وہ خط ہے جومحاذِ جنگ سے ہم اپنی ماں کو لکھتے ہیں۔ زندگی ایک جنگ ہے اور جس طرح کی زندگی ہم گزارتے ہیں، اسی کا احوال اِس مکتوب میں آئے گا۔ کسی ادبی تخلیق کے معیار کے بارے میں تنقیدی شعور اپنی جگہ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تخلیقی فعل بذات خود ایک قابل احترام تمدنی اور تہذیبی عمل ہے۔
پنجابی شاعری میں نے شعو ری طور پر اختیار نہیں کی۔ کئی برس پہلے اُداسی کے عالم میں مَیں نے کچھ لکھنا شروع کر دیا۔ لکھنے کے بعد میں نے دیکھا تو وہ کوئی شاعری نما چیز تھی۔ شاعری کے لیے پنجابی کا انتخاب کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اُردو اَصوات میری نہیں ہیں، مجھے معلوم نہیں ہے کہ اردو میں کون سا حرف ساکن ہے اور کون سا متحرک۔ میں نثر اردو اور انگریزی میں لکھتا ہوں لیکن شاعری کے لیے پنجابی کو چنا اور اب تو قریب دس برس سے پنجابی شاعری کا دروازہ بھی بند ہے۔ شاید مجھے اتنا ہی کہنا تھا۔
لالٹین : صحافت بطور پیشہ پہلے سے طے شدہ تھا یا حالات اس طرف لے آئے؟
وجاہت: بنیادی فیصلہ تومیں نے معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے کا کیا تھا۔ دیکھیے معاشرے میں تبدیلی تو آناہے۔ آپ کوشش کریں تو بھی معاشرہ بدلے گا، نہ کریں تو بھی بدلے گا۔ لیکن جب آپ کوشش کرتے ہیں تو آنے والی تبدیلی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر اثر انداز ہونے کا موثر ترین ذریعہ سیاست ہے۔ مہذب معاشرہ سیاست اور سیاسی کارکن کو قابل احترام سمجھتا ہے۔ غیر جمہوری معاشرے میں سیاست کواحترام اس لیے نہیں دیا جاتاتاکہ ایک خاص گروہ کی اجارہ داری برقرار رہے۔
میری رائے کے مطابق سیاست ذہانت کی اعلیٰ ترین سطح مانگتی ہے اورمیں اپنے بارے میں اس غلط فہمی میں نہیں ہو ں کہ میں اس کی اہلیت رکھتا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ ایک نوجوان جو سرے سے وراثت کا قائل ہی نہیں، وہ اپنے والد کی جائیداد تو ایک طرف، والد کے گھر ہی سے چلا جاتا ہے، اُس کے پاس اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں، کوئی سماجی و سیاسی پس منظر نہیں ہے، جو مالی وسائل نہیں رکھتا، وہ انتخابی سیاست میں نہیں جا سکتا۔ یہ طے ہونے کے بعد فطری طور پر دوسرا انتخاب صحافت تھی۔
لالٹین : مالی وسائل اور سیاسی پس منظرکے بغیر ایک عام شخص سیاست میں نہیں آسکتا تو کیا اسے سسٹم کی خرابی کہیں گے؟

شہریوں کی قانونی اور آئینی مساوات کی اساس ہی سیکولرازم کہلاتی ہے۔ سیکولرازم مذہب سے بیزاری نہیں، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے یکساں احترام کا نام ہے۔ بدقسمتی سے بہت نقصان ہو گیا ہے۔ اِن ساٹھ برسوں میں ہم نے زبان، ثقافت اور، عقائد کی بنیاد پر بہت خون بہایا ہے۔
وجاہت: نہیں یہ کلی طور پر درست نہیں ہو گا۔ اس میں مجھے بہت سے سچ بولنا پڑیں گے۔ بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مالی وسائل اورسماجی پس منظر نہ ہوتے ہوئے بھی سیاست کی۔ اُس کے لیے جس آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے، وہ بہت مشکل ہے۔ باچا خاں صاحب، اجمل خٹک، سوبھو گیا ن چندانی اور میجر اسحاق جیسے کتنے قابل احترام سیاسی کردار ہیں جو بہت سادہ پس منظر کے ساتھ سیاست میں آئے لیکن آپ دیکھیں پھر وہ کس کٹھنائی سے گزرے اور کتنا بڑا مقام حاصل کیا۔ یہ صرف نظام کی کمزوری نہیں، میں اپنی کوتاہی بھی تسلیم کرتا ہوں۔
لالٹین : آپ نے ماسٹرز تو انگریزی ادب میں کیا لیکن صحافت میں آپ نے اردو کا انتخاب کیوں کیا؟
وجاہت: آغاز تو میں نے انگریزی ہی سے کیا تھا، مختلف انگریزی اخبارات میں کام کرتا رہا۔ انگریزی میں بہت نفیس صحافت ممکن ہے اور معاشی طور پہ بھی نفع بخش ہے لیکن اردو میں لکھنے کا جو فیصلہ میں نے کیا اس پر مجھے خوشی ہے۔ میں اس ترغیب میں نہیں آیا کہ انگریزی صحافی کو ہمارے ہاں ذرا اشرافیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ بات تو لوگوں تک پہنچنے کی ہے، کام تو بات کو سمجھنے اور سمجھانے کا ہے۔ اس ملک میں گریجویٹ آبادی 2سے 3 فیصد سے زائد نہیں ہے اور اُن میں سے بھی کتنے لوگ انگریزی پڑھتے ہیں۔ ہمارے ملک کے سارے انگریزی اخبارات کی سرکولیشن ملا کر بھی ایک اردو اخبار کی سرکولیشن کے برابر نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ انگریزی میں بات کہنے کی بہت سی ایسی سہولتیں میسر ہیں جو اُردو میں دستیاب نہیں۔ لیکن اگر ہم نے عوام سے بات کرنا ہے تو ہمیں اُردو اِستعمال کرنا ہو گی۔
لالٹین : اردو اور انگریزی میڈیا میں زبان کے علاوہ کیا بنیادی فرق دیکھتے ہیں؟
وجاہت: حقیقت تو یہ ہے کہ بطورِسماجی اِدارہ ہماری صحافت نے عوام دشمن کردار ادا کیا ہے۔ اُردو صحافت یا مقامی زبانوں میں ہونے والی صحافت نے اس رجحان میں زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو تحکمانہ (Authoritarian) معاشرے ہوتے ہیں وہاں پر نظریاتی مفروضات کھڑے کئے جاتے ہیں۔ میں انہیں مفروضات ہی کہتا ہوں خواہ وہ دائیں بازوکے ہوں یا بائیں بازو کے، مذہب کے نام پہ ہوں یا طبقے کے نام پہ، قومی سلامتی کے نام پہ ہوں یا شناخت کے نام پہ۔
انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لئے نہیں دباتے تھے کہ انگریز ی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔ میراتو یہ کہنا ہے کہ جو بنیادی فرق ہے وہ زبان کا نہیں ہے وہ صحافت کی حتمی اجتماعی سمت (Ultimate Collective Vector)کا ہے۔ ہماری صحافت کا جو اجتماعی رخ متعین ہوا ہے وہ عوام دشمنی کا ہے، وہ تاریخ کو مسخ کرنے اور سیاسی شعور کو تباہ کرنے کا ہے۔ البتہ ہماری صحافت میں بھی نہایت قابل فخرمستثنیات موجود رہی ہیں ۔ میں آپ کو چند نام جنہوں نے میرے مطابق بڑا کام کیا ہے بتائے دیتا ہوں۔ اس میں اردو یا انگریزی کی تمیز نہیں اور تقدیم وتاخیر کا خیال بھی نہیں۔ چراغ حسن حسرت، ضمیر نیازی، احمد علی خان، نثار عثمانی، مظہر علی خان، رضیہ بھٹی، عزیز صدیقی، خالد حسن، خالد احمد، حسین نقی، آئی اے رحمان اور منو بھائی۔ ان بزرگوں نے اور ان جیسے اور بہت سے صحافیوں نے جن حالات میں اور جس اعلیٰ معیار کا کام کیا، پاکستانی قوم کوان کا شکر گزار ہونا پڑے گا۔
لالٹین : ہماری صحافت کے عوام دشمن کردار اور اُردو اورانگریزی کی اِس مصنوعی تقسیم میں کون کون سے سماجی اور تاریخی عوامل کارفرما ہیں ؟
پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین کومچھلی بازار بنانا صحافت کی آزادی کا معیار نہیں۔ صحافت کی آزادی کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنے علم اور ضمیر کی روشنی میں جس بات کو درست سمجھیں، اسے بلا خوف و خطر بیان کر سکیں۔
وجاہت: بنیادی بات تو سماجی، سیاسی اور معاشی تحکم پسندی (Authoritarianism) کی ہے۔ انسانوں کی اکثریت طاقت کا ساتھ دیتی ہے کیونکہ بہاو کے خلاف تیرنا مشکل ہوتا ہے۔ مزیدبرآں آپ کو یاد ہو گا کہ ہمارے کوئی 110کے قریب دانشور صحافی ایسے تھے جنہیں ضیا الحق نے مکمل بین کر دیا تھا کہ وہ ریڈیو پر نہیں آ سکتے، اخبار میں نہیں لکھ سکتے، ٹی وی پہ نہیں آسکتے، اِ ن کو کسی سرکاری اجتماع میں نہیں بلایا جا سکتا۔ اس خلا کو جن لوگوں سے پُر کیا گیا آج وہ ہمارے مرکزی دھارے کی صحافت کے بڑے طاقتور لوگ ہیں۔ ہمیں ان کی Origin بھی معلوم ہے اور معاف کیجئے ان کی اخلاقی قامت بھی کچھ ایسا ریاستی راز نہیں۔
ہمارے ملک کی اٹھارہ کروڑ آبادی میںبارہ سے چودہ کروڑ وہ ہیں جو 1978ءمیں پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ 1978ءو ہ تاریک برس ہے جب ضیا الحق نے جماعتِ اسلامی کے تعاون سے ہمارے ملک میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ کا وہ بیانیہ مرتب کیا تھا جو آج تک رائج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بارہ سے چودہ کروڑ لوگوں نے ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، کتاب، نصاب، کمرہ جماعت، سیاسی جلسہ گاہ گویا ہر سمت سے ایک ہی بات سنی ہے۔ جب ہم ان سے کہتے ہیں کہ پاکستان ایک وفاقی، آئینی اور سیاسی بندوبست کا نام ہے۔ پاکستانی ریاست کا مذہب اسلام سے، جو چودہ سو برس پرانا ہے، جسے پاکستان سے باہر رہنے والے کروڑوں لوگ بھی مانتے ہیں، عقیدے پر مبنی کوئی تعلق نہیں، سوائے اس کے کہ پاکستان میں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کی ایک خاص تعداد پائی جاتی ہے، تو لوگ آپ کا منہ دیکھنے لگتے ہیں، ان کو اِس بات کی سمجھ ہی نہیں آتی۔
تاہم یہ رائے میں تسلیم نہیں کرتا کہ اردو پس ماندہ ذہنیت کی حامل ہے، بالکل ایسی بات نہیں ہے۔ کوئی زبان بھی ایسی نہیں ہوتی، ہر زبان میں محبت اور نفرت کی لغت موجود ہوتی ہے۔ احمد مشتاق کا ایک شعر عرض کرتا ہوں۔
زبانوں پر الجھتے دوستوں کو کون سمجھائے
محبت کی زبان ممتا ز ہے ساری زبانوں سے
ہمارے ہاں تو جتنی بھی روشن خیالی ہے وہ آئی ہی اردو لکھنے والوں کے طفیل سے ہے، تو ہماری اجتماعی ذہنی پس ماندگی کا کسی خاص زبان سے کوئی تعلق نہیں۔
لالٹین : آپ کے خیال میں وہ کون سے جدیدنظریات ہیں جو نہ صرف سماجی طورپر ذمہ دار صحافت بلکہ ذمہ دار سماجی اورسیاسی رویوں کے ضامن ہیں ؟
وجاہت: دیکھیں اس خطے کے رہنے والے لوگوںکا سیاسی و سماجی ارتقا باقی دنیا سے کٹا ہوا تو نہیں ہے، آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ دنیا نشاة ثانیہ (Renaissance) اور روشن خیالی (Enlightenment)کی پیداوار ہے۔ نشاة ثانیہ کے بعد کی دنیا کا علمی منہاج ہی مختلف ہے۔ علم، پیداوار، حاکمیت اور اقدار کے سانچے اب ا سی نئے علمی منہاج سے پھوٹیں گے۔
جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے، سوال یہ نہیں ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا یا کیسے بنا؟ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو چلانا کیسے ہے۔ تو اِس میں میرا یہ کہنا ہے کہ ہمیں سائنسی فکر کو آگے بڑھانا چاہئے۔ ہمیں علم اور پیداوار کو بنیادی اجتماعی اقدار کے طور پر اپنانا چاہئے۔ ہمیں رواداری اور رائے کے اختلاف کو احترام دینا چاہئے۔ اور ایسا کرنا تمام شہریوں کی آئینی اور قانونی مساوات کے بغیرممکن نہیں۔ شہریوں کی قانونی اور آئینی مساوات کی اساس ہی سیکولرازم کہلاتی ہے۔ سیکولرازم مذہب سے بیزاری نہیں، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے یکساں احترام کا نام ہے۔ بدقسمتی سے بہت نقصان ہو گیا ہے۔ اِن ساٹھ برسوں میں ہم نے زبان، ثقافت اور، عقائد کی بنیاد پر بہت خون بہایا ہے۔
لالٹین : کیا بنیاد پرستی اور طالبانائزیشن کی تحریک ایسا اختلاف رائے ہے جسے برداشت کیا جا سکے؟
وجاہت: ہر گز نہیں۔ ہم جن اختلافات کو برداشت کرنے کی بات کرتے ہیں وہ ایک آئینی، سیاسی اور تمدنی دائرے میں پرامن طور پر سماجی نقطہ نظر کا اختلاف ہے۔ عقائد، زبان، ثقافت، رہن سہن، سیاسی خیالات اور علمی آرا کا اختلاف ہوتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی بات ہے۔ طاقت اور تشدد کے بل پر معاشرے پر اپنا فہم مذہب اور اپنا ترجیحی سیاسی یا سماجی نمونہ مسلط کرنے کے حامی بنیادی طور پر ایک فسطائی نصب العین رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور وہ دستاویز ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کاباہمی عمرانی معاہدہ ہے، تمام مذاہب کے ماننے والوں، تمام نسلوں اور تمام خطوں کے لوگوں نے اُس پر اتفاق کیا ہے، رواداری اس کا حصہ ہے۔ طالبان سرے سے انسانی حقوق کے بیانیے کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وہ قومی ریاست کی حدود کو نہیں مانتے۔ ہماری آئین اور آئینی اداروں کو نہیں مانتے۔ وہ اپنی رائے کو قوت کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ فسطائیت کے ساتھ سمجھو تہ کرنا رواداری کے ذیل میں نہیں آتا، وہ

ظالم کے ہاتھ پر بیعت میں شمار ہوتا ہے۔

تو میرے دست بریدہ کا کنایہ تو سمجھ
یعنی تجھ کو میری بیعت نہیں ملنے والی
لالٹین : انسانی حقوق کے میدان میں آپ کا وسیع کام ہے۔ پاکستان میں اِنسانی حقوق سے متعلق منفی رویے کی حرکیات پر روشنی ڈالیں۔
وجاہت: بات یہ ہے کہ دنیا کی بہت سی دوسری ریاستوں کی طرح پاکستانی ریاست بھی اِنسانی حقوق کو کچھ زیادہ خوشگوار نہیں پاتی کیونکہ اس سے جو ریاستی ذمہ داریاں جنم لیتی ہےں، وہ اِسے قبول نہیں۔ انہیں تسلیم کرنے کے لیے ہمیں بنیادی ریاستی پالیسیاں تبدیل کرنا پڑیں گی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ پچھلے ساٹھ، باسٹھ برس میں انسانیت نے جو ترقی کی ہے اس میں بظاہر نادیدہ لیکن نہایت وقیع حصہ انسانی حقوق کے فریم ورک کی طرف بڑھنا ہے۔انسانی حقوق کے معیارات انسانوں کی ہزاروں برس پر محیط جدوجہد کا قیمتی ترین ثمر ہیں اور انسانیت انہیں چھوڑے گی نہیں۔
ہمیں اچھا لگتا ہے کہ طاقتور حلقوں کی سرپرستی حاصل رہے اور استہزائیہ ڈھنگ میں سوال کیا جائے کہ ہیومن رائٹس کیا ہوتے ہیں۔ چنانچہ جہاں انسانی حقوق کا بیانیہ آگے بڑھا ہے، تو اسکی مخالفت کے لیے بھی دلائل اور ہتھکنڈے گھڑے گئے ہیں۔ لیکن میرا ایقان ہے کہ تاریخ کا بہاﺅ انسانی حقوق کے بہتر احترام اور زیادہ آزادیوں کی طرف ہے۔
لالٹین : صحافتی زبان کیسی ہونی چاہیے۔ اپنی تحریروں کی روشنی میں بتائیں؟
وجاہت: صحافت کی زبان خالص اَدبی نہیں ہوتی لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ تھڑے کی زبان بھی تو نہیں۔ کیونکہ اب تو یہ تقاضاشروع ہو گیا ہے کہ آپ زبان کو اتنا آسان کریں کہ وہ تھڑے والے کو بھی سمجھ آجائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا تھڑے والے کے ذہنی شعور کی سطح نصب العین یا معیار ہے یا ہمیں تھڑے والے کو تربیت کرتے ہوئے آگے لے کر چلنا ہے۔ دوسری بات یہ کہ غلط زبان معیار کیسے ہو سکتی ہے۔ میری رائی میں جو بنیادی نکتہ ہمیں سمجھنا چاہےی وہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی شعور کا ایک بہت اہم حصہ انسانی زندگی کی پیچیدگی کو تسلیم کرنا ہے، جب ہم اس پیچیدگی سے جان چھڑاتے ہوئے اسے سادہ بیانیے کے روپ میں سادہ لوحی کی طرف لے کر جاتے ہیں تو ہم پڑھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ پیچیدہ مسائل کو سادہ بنا کر پیش کرنے سے کوتاہ نظری اور عقیدہ پرستی جنم لیتی ہے۔
عوام کو نعرہ بہت آسانی سے سمجھ آجاتا ہے، لیکن معاف کیجیے گا نعرہ اکثر و بےشتر گمراہ کن ہوتا ہے۔ میں نے اپنے لیے شعوری طور پریہ زبان چنی ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ زبان کو آسان تر کروں لیکن میں خیال کو سادہ کیسے کروں؟ میں خیال کو بھی سادہ کرنے کی کوشش کرتا لیکن میری رائے میں خیال کی حقیقت پسندی اعلیٰ سماجی شعور کی طرف لے کر جاتی ہے۔ خیال بذات خود سماجی شعور کی ایک خاص سطح کی عکاسی کرتا ہے۔ خیال کو سادہ کرنے کا مطلب ہے کہ میں انسانوں کی ذہنی سطح کو پست دیکھنا چاہتا ہوں۔ ’یہ ہم سے نہیں ہو گا‘۔
لالٹین : آپ پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اِس د ہائی کی ترقی سے بخوبی آگاہ ہیں، ایک وسیع تناظر میں اِسکے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لئے نہیں دباتے تھے کہ انگریزی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔
وجاہت: کچھ زاویوں سے تو یہ ایک بہت خوشگوار پیش رفت ہے۔ 17اکتوبر 1979ءسے1983 ءکے اس دن تک جب ضیاالحق نے مجلسِ شوریٰ میں آئندہ انتخابات کا اعلان کیا، ہماری صحافت قید و بند، سنسر شپ، عقوبت گاہوں، کوڑوں اوردیدہ و نادیدہ دباﺅ کی جس آزمائش سے گزری، پاکستان کے لوگوں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد صحافت پر ایسا برا وقت کبھی نہیں دیکھا۔ لیکن اس میں ہوا یہ ہے کہ ہمارے کچھ صحافی بہن بھائیوں کے جوڑ پٹھے اکڑ گئے ہیں۔ اِس سنسر شپ میں رہتے ہوئے وہ پرواز کا ڈھنگ بھول گئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ صحافت کی آزادی بہت بڑی ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اور ذمہ داری علم کے بغیر نبھائی نہیں جا سکتی اور علمی معیار ہمارے ہاں نیچے آیا ہے۔ تیسری بات میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری بہت سی صحافتی آزادی اس وقت بھی ایک سراب ہے۔ کیونکہ بعض امور پہ بات کرنے کی تو بہت آزادی ہے لیکن بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن پر اب بھی صحافی، اخبار یا الیکٹرانک میڈیا میں بات نہیں کر سکتا۔
ہمارا ہم عصر صحافی سیاستدانوں کو تو بڑی سہولت کے ساتھ بُرا بھلا کہتاہے۔ سیاسی عمل کی مخالفت میں اسے عار نہیں، جمہوریت کی ساکھ بگاڑنے سے اسے اجتناب نہیں۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں چار مارشل لا لگانے والی قوت کا ذکر کرتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ ہمارے ملک میں امتیازی قوانین موجود ہیں۔ صحافت اس پر کیوں سوال نہیں اٹھاتی۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ جب تک بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا نہیں گیا، پاکستان کے کسی اخبار میں اس کی تصویر شائع نہیں ہوئی۔ خوف کا یہ عالم تھا۔ اب بھی پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین کومچھلی بازار بنانا صحافت کی آزادی کا معیار نہیں۔ صحافت کی آزادی کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنے علم اور ضمیر کی روشنی میں جس بات کو درست سمجھیں، اسے بلا خوف و خطر بیان کر سکیں۔
لالٹین : پاکستان کے سیاسی مستقبل میں جمہوریت ہی واحد رستہ ہے۔ اس پر کچھ روشنی ڈالیں :
وجاہت: بدقسمتی سے ہماری لغت پر غور فرمائیے۔ ہم کہتے ہیں، ”ہم نے 2008ءمیں جو جمہوری تجربہ شروع کیا“ تو عرض یہ ہے کہ جمہوریت تجربہ نہیں ہے۔ جمہوریت ایک طرز حیات ہے۔ جمہوریت کا کوئی متبادل ہی نہیں۔ فسطائیت مذہب کے نام پہ ہو یا نسل کے نام پہ ، کوئی مسیحا وردی پہن کر آئے یا داڑھی رکھ کر آجائے، کیا ہم نے یہ تجربے کر کے نہیں دیکھے؟ اور وہ تجربے ناکام ہوئے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت ناکام نہیں ہوئی جمہوریت کے ساتھ جو کھلواڑکیا گیا، وہ ناکام ہوا ہے۔
لالٹین : آپ کی شریکِ حیات آپ کے کام اور نظریات میں آپ کی معاون رہی ہیں۔ ان کا آپ کی زندگی پر کیا اثر ہے ؟
وجاہت: میں اِس میں کسی بد دیانتی سے کام نہیں لینا چاہتا۔ مجھ میں توبہت سی کمزوریاں ہیں۔ میری افتاد میں جلا وطنی کی ایک کیفیت مسلسل میرے ساتھ رہی ہے۔ آپ تو سمجھتے ہیں اس سے بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ تنویر جہاں نے سب سے اہم مہر بانی یہ کی کہ اس نے مجھ سے کبھی ایسا تقاضانہیں کیا کہ میں جس طرح کی زندگی گزارنا چاہتا ہوں وہ نہ گزاروں۔ ہمارا رشتہ بنیادی طور پر مساوات کا رشتہ ہے۔ جو زندگی میں نے گزاری ہے وہ اُس کے بغیر ممکن نہ تھی۔ اس نے اپنی اخلاقی قامت اور سوجھ بوجھ سے مجھے بہت سی ایسی غلطیوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جن کے لیے میں زبردست کشش محسوس کرتا تھا۔
لالٹین : پاکستان کی اِ س پیچیدہ صورتحال میں نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
وجاہت: نوجوانوں میں بہت امکان ہوتا ہے اور اُن میں بددیانتی کا عنصر بھی کم ہوتاہے۔ اُنہیں چاہیے کہ پیداواری، تخلیقی اور جذباتی طور پر خوشگوار زندگی گزاریں۔ معاشرے کو نوجوانوں میں اِن تینوں چیزوں کا خواب جگانا چاہیے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ جنس کوضروری اِحترام دے۔ ہم نے نوجوانوں کو دکھی کیا ہوا ہے اور دکھی نوجوان بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی جبلتوں کی مناسب تہذیب نہ کی جائے تو پھر ان کی توانائی اِستحصال، نفرت، بدعنوانی، تشدد اور تفرقے کا رخ اختیار کر لیتی ہے۔