Categories
شاعری

سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے
ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا
جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی

اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں
یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی

سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں لگتا تھا
پھر بھی ہمارے درمیان تھا

محبت ٹھنڈے پانی کی بوتل نہیں ہوتی
جسے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُسے پیش کر سکتا

اگر میں نے سمندر کے بارے میں کوئی کتاب پڑھی ہوئی ہوتی
___ یا___
میں اس تباہ شدہ جہاز کا کپتان رہا ہوتا تو
اُس سے کچھ دیر گفتگو کر سکتا تھا

اگر میرے پاس کچھ پھول ہوتے تو میں اُسے دکھا کر سمندر میں بہا دیتا
پیغام دینے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے
ریل کے سفر میں بننے والا تعلق
___ اور___
سمندر پہ کی گئی محبت ہمیشہ دُکھ دیتی ہے

آج برسوں بعد___
خودکشی کے لیے کسی مناسب مقام کی تلاش میں پھرتا ہوا
میں سوچ رہا ہوں
اگر اُس شام کوئی لہر مجھے بہا کر لے جاتی
تو___میں اُسے کچھ گھنٹے یاد رہ سکتا تھا
Image: Huebucket

Categories
شاعری

سمندر ہی زمانے خلق کرتا ہے

[blockquote style=”3″]

عمران ازفر کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
سمندر ہی زمانے خلق کرتا ہے
ہمیشہ زور میں بہتا
سمندر کھیلتا رہتا ہے پیروں سے لپٹ کر
رات بھر بانہوں میں بھرے کسمساتا ہے
تمھاری اوک میں بھر کر
کئی گزرے جزیروں کی مٹھائی سے بھری لہریں
مری کمزور چھاتی پر بچھی رہتی ہیں
دھیمے ساز میں لپٹے عروسی گیت گاتی ہیں
گلانی آبگینوں سے مسلسل خواب اُڑتے ہیں
بنفشی پھول سا چہرہ
نظارہ لے کے لہروں سے اُبھرتا ہے
سمندر رات ہے جس میں
خبر احوال کی کب ہے
لہو جو دوڑتا پھرتا ہے
ریشم سی تنابوں سے وہ آنکھوں میں ٹھہرتا ہے
سمندر کوکھ سے اپنی زمانے خلق کرتا ہے
جہاں نظمیں، مری نظمیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
کئی قوسیں بناتی ہیں
جو میرے جسم شجرے پر تمھارا نام لکھتی ہیں
تمھارے جسم جادو پر مرا چہرہ بناتی ہیں
حسیں لہروں پہ رقصاں فاختاؤں کے
پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے
دھنیں ترتیب پاتی ہیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
ہوا میں گیت گاتی ہیں
مری نظمیں,ترا رخ آرزؤں کے لحافوں میں چھپا
سب کونپلوں پھولوں کو اپنا لمس دیتا ہے
بدن تقسیم ہوتا ہے
کئی ٹکڑے، کئی قاشیں
سنہری دائرے تخلیق کرتے ہیں
میرے پیروں کی پوروں سے لپٹ کر
سب شکستہ آرزوئیں پوچھتی ہیں
اب تمنا اوڑھ کر
یہ کون سوتا ہے۔۔۔۔

Image: Chalermphol Harnchakkham

Categories
شاعری

ساگردیوتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ساگردیوتا

[/vc_column_text][vc_column_text]

کہو تم کہاں ہو؟
مرکب صداؤں کے ریلے میں
کس کو پکاروں؟
عجب نم زدہ سلوٹوں میں گھری زندگی ہے
زمیں ایک آبی عمل سے گزر کر
مدور ہوئی ہے
چٹانوں کے نیچے بھی، اندر بھی
خوابیدہ بل دار آبی چٹانیں
شبِ ارتقا کی عجب داستانیں
بدن کی پہاڑی میں خفتہ
نمک اور چونے کی کانیں
نمی چاٹتے ریگزاروں کی سوکھی زبانیں
سیہ سنگِ آہن ربا اور سنگِ ستارہ
جزیرے، ڈھلانیں
حجر اور جل کھور مٹی کے تودے
خراطین، پھل، پھول، پودے
پتاور، سماروغ، تالوس
جل ناگ، سیلا
شکن دار اصداف، سرطان، کچھوے
سمک اور بگلے ۔۔۔۔۔۔۔
مگر تم کہاں ہو؟
تمہیں ڈھونڈتے ہیں مِرے خواب کب سے
میں صدیوں کے ساحل پہ تنہا
تمہارے جنم روپ، ساروپ کا منتظر ہوں
مجھے پھر سے وہ زندگی دو
جسے میں نے اپنے بدن سے جدا کر دیا تھا
زمینوں، زمانوں کی خواہش سے آگے
فقط ایک آبی ردا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

میرے سوگواروں میں آج، میرا قاتل بھی ہے

انسان کا ربط انسانیت سے ہے اور اسی انسانیت سے ہی اقدار انسانی پروان چھڑتی ہیں ، جب انسان سے انسانیت رخصت ہو جائے تو اس سے ایک بد تر اور بد نما درندہ جنم لیتا ہے ۔انسانیت کسی دین ، دھرم کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ یہ ان اعلیٰ صفات اور نفیس احساسات کا دوسرا نام ہے جو رنگ ، نسل، دین اور قومیت سے بلند اور ارفع ہیں۔ زندگی میں کئی حوادث پیش آتے ہیں مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جن پر شیطانیت ہنستی ہے اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑتی نظر آتی ہے۔ ایساہی ایک حادثہ ترکی کے ساحل سمندر پر پیش آیا جسے دیکھ کر انسانیت اپنا چہرہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ ایک معصوم پھول کی نعش سمندر کے آنسوؤں سے بھیگی ہوئی ساحل پر ایسے پڑی تھی جیسے یہ ہزاروں سال سے یہیں موجود ہو اور سمند نے اسے اپنے آنچل میں چھپا کر محفوظ کر رکھا ہو۔
ایک معصوم پھول کی نعش سمندر کے آنسوؤں سے بھیگی ہوئی ساحل پر ایسے پڑی تھی جیسے یہ ہزاروں سال سے یہیں موجود ہو اور سمند نے اسے اپنے آنچل میں چھپا کر محفوظ کر رکھا ہو۔
اگر یہ کہا جائے کہ یہ تین سالہ ایلان کی نعش نہیں بلکہ عالمی و علاقائی طاقتوں کے بد نما چہروں کا عکس ہے جو امن پسندی اور اخلاقیات کا راگ الاپتے نہیں تھکتیں مگر ان کے افعال ان کے مکروہ ارادوں کے پروردہ ہی ہوتے ہیں ۔یہ استعماری ممالک اور ان کے آلہ کار دنیا کو جنگوں کی آگ میں جھونکنے کا کوئی لمحہ ضائع کرتے نظر نہیں آتے۔ جو آگ کا کھیل کئی سالوں سے پوری دنیا بالخصوص خطہ عرب میں کھیلا جا رہا ہے انسانیت سوز ہے۔ اس کھیل میں خطے کے عرب ممالک اپنی ثروت کے نشے میں دھت ہو کر لاکھوں انسان کی زندگیاں اجیرن بنا چکے ہیں ۔ ان بد مست بادشاہوں کے عمل سے انسانیت کو جلا تونہیں مل رہی البتہ مفادات کی جلتی بھٹی میں انسانیت ضرور سسک سسک کر دم توڑتی نظر آ رہی ہے ۔ عربوں کے تیل کی خریدو فروخت کے درمیان انسانیت کچلی جا رہی ہے جس کا واضح ثبوت ایلان کردی کی وہ نعش ہے جو ساحل سمندر پر بے یارو مدد گارپڑی ہے۔ یہ معصوم نعش امریکہ اس کے اتحادی مغربی ممالک اور بد مست عرب بادشاہوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جنہوں نے مشرقی وسطیٰ میں اپنے مکروہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے آگ اور خون کا کھیل شروع کر رکھا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیاایلان کی قاتل سمندر کی وہ بے رحم موجیں ہیں ، یا پھر وہ عرب ریاستیں اور حکومتیں جن کے سیاسی عزائم نے اس خطے کے لوگوں کے لیے زندگی دشوار بنا دی ہے؟
ایلان علی کی نعش پر آج پورا جہاں ماتم کدے کا منظر پیش کر رہا ہے اور ننھے ایلان کے جنازے کے مناظرے دکھانے کیلئے دنیا ء بھر کا میڈیا متحرک ہو چکا ہے۔ ایلان کی موت پر غم کا اظہار درد بھر لے لہجوں اور دکھ بھرے جملوں میں کیا جا رہا ہے ، مگر کوئی بھی ایلان کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے والا نظر نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایلان کی قاتل سمندر کی وہ بے رحم موجیں ہیں ، یا پھر وہ عرب ریاستیں اور حکومتیں جن کے سیاسی عزائم نے اس خطے کے لوگوں کے لیے زندگی دشوار بنا دی ہے؟ ترکی کے ساحل پے پڑی ایلان کے نعش یہ بتلا رہی ہے کہ اسے سمندر کی موجوں سے کوئی خوف نہیں تھا اسے خوف تھا تو انہی لوگوں کا جو آج اس کے مرنے پر نوحہ کناں ہیں۔
ہر خطے کے افراد نے تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر ہجرت کی ہے اور وطن بدری کے مصائب و آلام جھیلے ہیں۔ ان ہجرتوں کی دکھ بھر ی داستانوں میں ایلان کی دکھ بھر ی کہانی کچھ الگ نظر آتی ہے ۔ ایسے سانحات زندہ ضمیر انسانوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی ہے جو ظالم اور مظلوم کاتعین کرے، کیاکوئی ہے جو حق کی گواہی دے ، کیا کوئی ہے جو ظالم کاہاتھ جھٹک دے؟ بے حسی اور بے شرمی کی انتہاء ہو چکی ہے۔ بہت ہو چکا امن اور ترقی کے علمبردار عالمی اداروں کا کردار، بہت ہو چکا اقوام متحدہ کی فعالیت کا تماشہ ۔۔۔۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھر میں جاری جنگوں کو روکنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ عرب خطہ اسلحے ا ور بارود کا ڈھیر بن چکا ہے ، زمین کا چپہ چپہ خون انسانی سے تر ہو چکا ہے، عربوں پر ان کی اپنی زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ شام، یمن اور عراق میں عرب ایران تنازعے، سعودی استعمار پسندی اوردولت اسلامی کی بہیمانہ کارروائیوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم انسانیت کا سبق بھول چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خطہ عرب میں جاری خونی کھیل کو بھڑکانے کی روش ترک کردی جائے۔ اب بد مست عرب حکمرانوں کو سمجھنا ہو گا کہ جس خونی آگ پر وہ تیل چھڑ ک رہے ہیں ، اسی آگ کے بلند شعلے ایک دن ان کے گھروں کو جلا کر خاکستر کر دیں گے۔
عرب خطہ اسلحے ا ور بارود کا ڈھیر بن چکا ہے، زمین کا چپہ چپہ خون انسانی سے تر ہو چکا ہے،عربوں پران کی اپنی زمین تنگ کر دی گئی ہے۔
اس صورت حال میں کچھ مغربی ممالک کو شرم آ ہی گئی اور انہوں نے تارکین وطن کیلئے اپنے دروازے کھول دئیے ہیں مگر تیل کی دولت کے نشے میں بد مست عرب حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔عرب حکمرانوں کے پروردہ دہشت گرد ان ممالک کے عالمی استعماری ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ابھی جہاد اسلامی کا مقدس فریضہ خون ناحق بہا کر ادا کر رہے ہیں ۔ دیکھیئے کب ضمیر انسانی جاگتا ہے ، اور کب ظالمین کی سرکوبی کی جاتی ہے۔
کردوں کے مسکن کوبانی جس کی آزادی کی جنگ ہر مردوزن نے اپنے لاکھوں ایلان قربان کرکے جیتی ہے ، میں ایلان کو دنیا بھر کے میڈیا کیمروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ ہر آنکھ اشک بار نظر آتی ہے مگر ایلان کی ننھی سے قبر انسانیت کے ضمیر سے ہمیشہ یہ سوال کرتی رہے گی کہ کوئی ہے جو ظالم کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کرے ، کوئی ہے ؟