Categories
شاعری

دو بدن (مصطفیٰ ارباب)

مجھ میں
ادھوری لذت سو رہی ہے
میں
اِس کی نیند کو
طُول دینا چاہتا ہوں
لیکن ایسا مُمکن نہیں
اپنے طے شُدہ اوقات میں
یہ بیدار ہو جاتی ہے
اپنی تکمیل کی جُست جُو میں
اُس بدن کے حُصول میں لگ جاتی ہے
جس میں
ادھوری لذت کا
بقیہ حصہ سویا ہوا ہے
دو بدن
لذت کے یرغمالی ہوتے ہیں
آپ اُن پر
فردِ جُرم عائد نہیں کر سکتے
Image: Ahmer Farooq

Categories
شاعری

گالی

میں
کبھی نہیں جان سکا
گالی
جذبے کی کون سی سطح ہے
میں نے کبھی گالی نہیں دی
مگر مجھے ہمیشہ
گالیوں سے دل چسپی رہی
میں ہر روز
ہر طرح کی گالیاں سُنتا ہوں
گالی کسی کو بھی دی جائے
اُسلوب میں عورت ضرور آتی ہے
میری ساری زندگی
لفظوں کے درمیان گزری
مجھے ہمیشہ لفظ نظر آتے ہیں
گالی
لفظوں کی ایک ترتیب کے سوا کُچھ بھی نہیں
میں
گالی دے کر
عام آدمی کی طرح
زندہ رہنا چاہتا ہوں
ایک ترتیب
مجھے عام آدمی بننے نہیں دیتی

Categories
شاعری

مجھے نہیں معلوم

مجھے نہیں معلوم
اس نظم کو
کس نے تحریر کیا ہے
میں
اس نظم کا حصہ نہیں ہوں
مجھے زندگی کی تلاش تھی
زندگی
نظم سے باہر رہتی ہے
زندگی
مل کر بھی
مجھے نہیں ملی
اس نے حسبِ معمول
مجھے کھو دیا ہے
میرا نام
گُم گشتہ افراد کی فہرست میں
شامل ہو چکا ہے
پتا نہیں
یہ فہرست کس نے ترتیب دی ہے
ہمارے حق میں
زندگی کوئی کوشش نہیں کرتی
زندگی کا صدر مقام
نظم سے باہر ہوتا ہے

Categories
شاعری

آنسوؤں کی سیڑھی

میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے
یہ آنسو
ایک حادثے میں
زخمی ہو گئے تھے
زور سے مت بولو
آواز کے ارتعاش سے
آنسوؤں میں درد اٹھتا ہے
میں احتیاط سے
ان کو جوڑ کے
زینے بناتا ہوں
یہاں سے ہر چیز
نمی سے بنی ہوئی لگتی ہے
محبت
خواب
خوشی
اور آدمی بھی
آنسوؤں سے بنے ہوئے لگتے ہیں
یہ سیڑھی
بلند ہوتی جارہی ہے
ایک دن
آنسوؤں کی سیڑھی کے ذریعے
میں خدا تک پہنچ جاؤں گا
جس نے اپنی طرح
ہر چیز
آنسوؤں سے بنائی ہے

Categories
شاعری

وہ برسوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہے

لوگ نیند میں
خواب دیکھتے ہیں
وہ جاگتے میں
سونے سے پہلے
ہر روز ایک خواب دیکھنا شروع کرتا ہے
یہ ایک طویل اور مسلسل خواب ہے
جو روز وہیں سے شروع ہوتا ہے
جہاں پچھلی رات ختم ہوا تھا
وہ ایک ہی وقت میں
دو جگہوں پر
دو طریقوں سے
زندگی بسر کر رہا ہے

Image: Kim Daehyun

Categories
شاعری

ریت کے دیس میں

[blockquote style=”3″]

یہ نظم دنیا زاد کے شمارہ نمبر 42 میں شائع ہو چکی ہے۔

[/blockquote]

ریت کے دیس میں
ہم
ریت سے بنے ہوئے لوگ ہیں
ہم نے
ریت سے روٹیاں بنانے کا فن ایجادکیا ہے
ہماری بے خواب آنکھوں میں
ریت اُڑتی رہتی ہے
ریت کے دیس میں
کوئی پردیسی ٹِک نہیں سکتا
یہاں رہنے کے لیے
ریت ہونا پڑتا ہے
ہوا چلتی ہے تو
ہمارے ریتیلے بدن سے
ریت اُڑنے لگتی ہے
ہم ایک جگہ سے معدوم ہوکر
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں
ہم بہت خوش ہیں
ہماری آنکھوں میں
آنسوؤں کی ایک بُوند بھی نہیں ہے
ہم نے سارے آنسو نچوڑ کے نکال دیے ہیں
صحرائے تھر میں
آبی مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی