Categories
نان فکشن

صالح شاہ کا امام باڑا

ہمارا گھر صالح شاہ کے امام باڑے (امام بارگاہ ) کے ساتھ ہی تھا۔ امام باڑے کے گرد پیلو کی جھاڑیوں کی باڑ تھی۔ امام باڑے کے اندر علم کے علاوہ پیلو کے چند جھاڑ اور دو تین سینگر کے درخت تھے۔پیلو پر پھل آتا تو میٹھے پیلو جلد ہی غائب ہوجاتے۔ سینگر کی پھلیوں کی سبزی آس پاس کے گھروں میں بننے لگتی۔ صالح شاہ کے مزار کے ساتھ چند کچی قبریں بنی ہوئی تھیں۔ ان میں ایک آدھ ننھی قبر بھی تھی۔

امام باڑے کے داخلی دروازے کے دائیں طرف ایک کُٹیا بنی ہوئی تھی جس میں ایک چٹائی، ایک ڈنڈا کونڈا، پانی کا مٹکا، اور دو تین آب خورے پڑے ہوئے تھے۔کٹیا کے درمیان دوتین اینٹیں جوڑ کر ایک چولھا بنا ہوا تھا جو ہمیشہ دن کے وقت چلم گرم کرنے کے لیے سلگتا تھا۔ امام باڑے سے کبھی شور شرابے کی آواز نہیں آتی تھی۔ معمول کے مطابق دو تین افراد ہی کا آنا جانا رہتا تھا۔ وہ اتنے نرم خُو ہوتے تھے کہ ان کے آنے جانے کی چاپ تک سنائی نہیں دیتی تھی، گویا ہوا پر تیرتے آتے اور ہوا ہی پر تیرتے ہوئے چلے جاتےتھے۔ان کی موجودگی کا احساس کبھی کبھار ” یا علی مولا مدد” کے نعرے ہی سے ہوتا تھا۔ آس پاس رہنے والوں کو کبھی ان سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ ایسا لگتا تھا وہ ہر آدمی کی زندگی سے جٌڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں معصوم بچوں سے ہر کوئی نالاں رہتا تھا۔

میں صرف دو افراد ہی کو ناموں سے جانتا تھا۔ ایک محمد بخش اور دوسرا حسین بخش شر بلوچ۔حسین بخش دبلا پتلا اور بہت دھیمے انداز میں ہمیشہ مٹھاس بھرے لہجے میں بات کرتا تھا۔اس کا سر ہمیشہ جھکا ہوا ہوتا تھا اور ہر بات کے ساتھ “بابا یا بابلا ” کہتا تھا۔ وہ پولیس میں سپاہی بھی رہ چکا تھا۔ بعد میں کسی وجہ سے ملازمت چھوڑ دی تھی یا اس سے ہو نہیں پائی، معلوم نہیں۔ اس کی عمر اتنی زیادہ نہیں تھی۔ابھی جوان ہی تھا، نجانے کس دکھ نے اسے گوشہ نشین بنا دیا تھا۔وہ امام باڑے کی کٹیا میں چٹائی پر لیٹ کر، سر اینٹ پر رکھے ایک موٹی کتاب پڑھتا رہتا تھا۔شام کو جاتے وقت کتاب جھونپڑی کی چھت میں لگی لکڑیوں میں اٹکا دیتا۔ میں نے بچوں کے رسالے اور کہانیوں کی کتابیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ ہر وقت نئی کتاب کی کھوج میں رہتا۔ ایک دن وہ کتاب کو اوپر رکھنا بھول گیا اور کتاب میرے ہاتھ لگ گئی۔ اس ضخیم کتاب کا نام ” مشاہیرِ روما “تھا۔ جس میں مسولینی اور دیگر کئی مشاہیر کی سوانح لکھی ہوئی تھیں۔میں نے بار بار اسے پڑھنے کی کوشش کی مگر مجھے سمجھ نہیں آئی۔ میرے ہاتھ میں ہر وقت کتاب دیکھ کر ایک بار حسین بخش نے میرے بھائی سے کہا،
” دیکھنا یہ کتابیں پڑھ پڑھ کر ایک دن میری طرح پاگل ہو جائے گا”۔

امام باڑے کی فضا میں ہمیشہ پرندوں کی چہچہاہٹ گونجتی رہتی تھی۔ شام کے وقت بچے کھیلتے ہوئے امام باڑے میں چلے جاتے جس کے داخلی راستے پر دروازے کے نام پر چھوٹا سا لکڑی کا تین چار فٹ لمبا اور دو تین فٹ چوڑا ایک پلڑا سا بنا ہوا تھا جس میں لگا ہوا کنڈا بہت کم اپنے درست مقام پر ہوتا تھا۔

امام باڑے کا متولی چاچا اسحاق خاں تھا جو بہت غصیلے مزاج کا تھا۔ غصے کی آنچ کی وجہ سے اس کی آنکھیں ہمیشہ لال دکھائی دیتی تھیں۔ فربہ بدن چھوٹے قد اور چہرے پر گھنی مونچھوں کی وجہ سے اس کی شخصیت رعب دار لگتی تھی۔ شخصی تاثر میں وہ کسی اجڑی ہوئی ریاست کا معزول شدہ نواب لگتا تھا۔گھٹنے میں تکلیف کی وجہ سے ایک ٹانگ پر ہمیشہ زور دے کر چلتا تھا۔ بچے امام باڑے میں آکر شور غُل مچاتے تو وہ لاٹھی یا پتھر لے کر اپنے تھل تھل کرتے بھاری جسم کے ساتھ ان کے پیچھے دوڑتا۔بچے ڈر کر بھاگ جاتے۔کوئی بچہ اس کی گرفت میں آنے لگتا تو وہ یکا یک اپنی رفتار دھیمی کر لیتا۔

بابا کسی سیاسی شخصیت سے ملنے جاتے تو کبھی کبھی اسحاق خاں بھی جناح کیپ پہن کر بابا کے ساتھ جاتا تھا۔ ہمارے گھرانے کے ساتھ ان کا تعلق خاندان کے ایک فرد جیسا تھا۔ وہ سینتالیس کے بعد ہندستان سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ ظاہری سخت خول کے باوجود اندر سے وہ ایک ملائم اور دردمند انسان تھے۔ اسحاق خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ان کی اہلیہ ہمارے گھر آتی تو میرے سر پر ہاتھ پھیر کر پیشانی چومتے ہوئے” میرا بچہ، میرا بیٹا” کہتی تھیں۔پان کی گلوری ہمیشہ ان کی منہ میں ہوتی۔ مجھے ہمیشہ ان میں سے اپنی ماں جیسی مہک آتی تھی۔ایک گاؤں میں ایک بچے کی ایک نہیں بہت ساری مائیں ہوتی ہیں۔

پھلاڈیوں ایک چھوٹا سا شہر تھا مگر اس کا مزاج شہری نہیں دیہاتی تھا۔

لوگ صالح شاہ کے امام باڑے کی طرف بھول کر بھی پاؤں کر کے نہیں سوتے تھے۔

محرم کا مہینا آتا تو سارے ریڈیو بند ہوجاتے تھے۔ شہر میں صرف ہمارے گھر پر جنریٹر سے چلنے والا بلیک اینڈ وائٹ فلپس ٹیلی ویژن تھا، جو محرم کے پہلے عشرے میں بند کر دیا جاتا۔

شہر کے لوگ مسلکی تفریق سے آشنا نہیں تھے۔ شہر میں چند ہی گھرانے شیعہ مسلک کے تھے مگر جمعہ کی نماز اسحاق خاں اور ڈاکٹر الیاس سمیت سبھی جامع مسجد میں ہمارے ساتھ ہی پڑھتے تھے۔ سب کے ہاتھ پیٹ پر بندھے ہوتے تھے مگر چند ہاتھ کھلے ہوئے رہتے تھے، جنھیں کبھی کسی نے محسوس نہیں کیا۔ عید کی نماز بھی سب اسی مسجد میں ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔

نو محرم کو صالح شاہ کے امام باڑے میں مجلس ہوتی تھی۔ قریب و دور کے شیعہ اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ امام باڑے میں نیا سیاہ پرچم لگ جاتا تھا۔ اسحاق خاں صفائی ستھرائی کے بعد چھڑکاؤ کرواتے تھے اور امام باڑا زندگی سے بھر جاتا تھا۔

مجلس شروع ہوتی تو سارا شہر امنڈ پڑتا۔ کیا ہندو کیا مسلمان کیا سنی، سب کے سب ایک فریکوئنسی پر آ جاتے۔ مجلس کے ذاکر کربلا کا بیان کرتے تو امام باڑے کے باہر کھڑے لوگوں کی آنکھیں بھی بھیگنے لگتی تھیں۔ مجھ سمیت کئی بچے بھی مجلس میں بیٹھ جاتے اور پورا ذکر سنتے اور دل درد سے بھر جاتا۔ ایک عجیب سی کیفیت ہوجاتی تھی۔ نیاز آتی تو افسردگی کی وجہ سے ذائقہ بھی ماتمی سا محسوس ہونے لگتا تھا۔

سہ پہر کے بعد مجلس اپنے اختتام کی طرف جاتی۔عزادار ایک جلوس کی شکل میں امام باڑے سے ماتم کرتے ہوئے نکل کر شہر کے مرکزی چوک پر آکر رک جاتے۔ ان کے ماتم کی” لے” پر سرائیکی نوحے پورے شہر کی فضا کو ماتمی سیاہ لبادہ اوڑھا دیتے۔ جلوس کے ارد گرد شہر کے لوگوں کا ہجوم ہوتا۔چوک پر نیزے اور چھریوں کے ساتھ ماتم دیکھ کر لوگوں کے دل دہل جاتے۔ بھاری بھرکم نیزے بلندی سے آکر سینے پر لگتے تو سبھی کے سینے سے درد کی ٹیس بلند ہونے لگتی۔ میرے کئی شیعہ دوست سینہ پیٹتے دکھائی دیتے۔ یہ جلوس رک رک کر چلتا رہتا۔ کچھ سنی اور ہندو پسینے سے شرابور عزاداروں کو پنکھا جھل کر ہوا دیتے رہتے۔

شہر اپنے آخری کنارے تک ایک چیخ میں تبدیل ہو جاتا تھا۔ سارے عزادار اس نہ سنائی دینے والی چیخ کی سرنگ میں سے گزرتے ہوئے کچھ کلو میٹر دور، ماڑی مٹھو فقیر ڈھیر (درگاہ ) کی طرف رواں دواں رہتے جہاں دس محرم کو مرکزی مجلس ہوتی تھی۔

ہر سال محرم آتا اور ہر سال اسی طرح شہر عزا خانے میں تبدیل ہو جاتا۔

ستر کی دہائی کے اولین برسوں میں باہر کہیں سے ایک مولوی صاحب آئے۔ بہت اچھے خطیب تھے۔ میں نے قرانی قاعدہ انھی سے پڑھا تھا۔ جمعے کو ان کا خطبہ سماں باندھ دیتا تھا مگر رفتہ رفتہ ان کے خطاب میں ایسے مسائل زیر بحث آنے لگے کہ ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے والے میرے دوستوں نے مسجد میں آنا بند کر دیا۔ نجانے کہاں سے گرم ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں۔ ہمیں کہا گیا نیاز مت کھاؤ۔ اس میں یہ شامل ہوتا ہے، وہ شامل ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ماحول تبدیل ہونے لگا۔ فاصلے بڑھنے لگے۔مجلس شروع ہوتی تو شہر کا شہر امام باڑے کے گرد ہمیشہ کی طرح کھڑا ہوجاتا مگر مسجد کا لاؤڈ اسپیکر بھی اسی وقت کھل جاتا۔ شہر کی زمین تانبے کی طرح تپنے لگی۔ اب تنفر کے نیزوں اور چھریوں کا ایک متوازی جلوس بھی نکلنے لگا جو دکھائی تو نہیں دیتا تھا مگر محسوس سبھی کو ہونے لگا۔

نجانے کیوں چند افراد ہی ہمیشہ اکثریت پر غالب رہتے ہیں۔ چند برس تناؤ کی یہ کیفیت قائم رہی مگر مخصوص افراد کے منظر سے ہٹتے ہی ماحول دوبارہ سے پرسکون ہونے لگا، مگر اب وہ پہلی سی بات نہیں رہی تھی۔ اب ایک فریکوئنسی پر سارے دل نہیں دھڑکتے تھے۔

میں کئی دہائیوں سے اب میرپورخاص میں رہتا ہوں، اپنے گاؤں نہیں جا پاتا کیوں کہ وہاں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ میں نہ جانے کیوں اب بھی تبدیل نہیں ہو پایا، اور ہر نویں محرم کو میرا دل صالح شاہ کا امام باڑا بن جاتا ہے۔

Categories
شاعری

دو بدن (مصطفیٰ ارباب)

مجھ میں
ادھوری لذت سو رہی ہے
میں
اِس کی نیند کو
طُول دینا چاہتا ہوں
لیکن ایسا مُمکن نہیں
اپنے طے شُدہ اوقات میں
یہ بیدار ہو جاتی ہے
اپنی تکمیل کی جُست جُو میں
اُس بدن کے حُصول میں لگ جاتی ہے
جس میں
ادھوری لذت کا
بقیہ حصہ سویا ہوا ہے
دو بدن
لذت کے یرغمالی ہوتے ہیں
آپ اُن پر
فردِ جُرم عائد نہیں کر سکتے
Image: Ahmer Farooq

Categories
شاعری

گالی

میں
کبھی نہیں جان سکا
گالی
جذبے کی کون سی سطح ہے
میں نے کبھی گالی نہیں دی
مگر مجھے ہمیشہ
گالیوں سے دل چسپی رہی
میں ہر روز
ہر طرح کی گالیاں سُنتا ہوں
گالی کسی کو بھی دی جائے
اُسلوب میں عورت ضرور آتی ہے
میری ساری زندگی
لفظوں کے درمیان گزری
مجھے ہمیشہ لفظ نظر آتے ہیں
گالی
لفظوں کی ایک ترتیب کے سوا کُچھ بھی نہیں
میں
گالی دے کر
عام آدمی کی طرح
زندہ رہنا چاہتا ہوں
ایک ترتیب
مجھے عام آدمی بننے نہیں دیتی

Categories
شاعری

مجھے نہیں معلوم

مجھے نہیں معلوم
اس نظم کو
کس نے تحریر کیا ہے
میں
اس نظم کا حصہ نہیں ہوں
مجھے زندگی کی تلاش تھی
زندگی
نظم سے باہر رہتی ہے
زندگی
مل کر بھی
مجھے نہیں ملی
اس نے حسبِ معمول
مجھے کھو دیا ہے
میرا نام
گُم گشتہ افراد کی فہرست میں
شامل ہو چکا ہے
پتا نہیں
یہ فہرست کس نے ترتیب دی ہے
ہمارے حق میں
زندگی کوئی کوشش نہیں کرتی
زندگی کا صدر مقام
نظم سے باہر ہوتا ہے

Categories
شاعری

کُمہار

کُمہار
اپنے چاک پر
خُوب صورت گُل دان
مٹی کے پیالے
منقش صراحیاں
اور بہت سے برتن بناتا ہے
لوگ
انھیں استعمال کرنے کا سلیقہ بُھول چکے ہیں
گلیوں میں
ٹُوٹے ہوئے برتن
کُمہار کو
اپنے وجود کے ٹُکڑے لگتے ہیں
وہ
مٹی سے ایک چُھری بناتا ہے
لوگ اُسے
خود پر حملہ آور ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں
اور مسخرہ سمجھ کر
اس کی جانب سکے پھینکتے ہیں
وہ گیلی آنکھوں سے
مٹی کی چُھری کو دیکھتا ہے
پھر اعتماد سے
اپنے گلے پر چلا دیتا ہے
لوگ حیرت سے
کُمہار کو مٹی میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں
۔
(سندھی سے تخلیق و ترجمہ)

Categories
شاعری

آنسوؤں کی سیڑھی

میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے
یہ آنسو
ایک حادثے میں
زخمی ہو گئے تھے
زور سے مت بولو
آواز کے ارتعاش سے
آنسوؤں میں درد اٹھتا ہے
میں احتیاط سے
ان کو جوڑ کے
زینے بناتا ہوں
یہاں سے ہر چیز
نمی سے بنی ہوئی لگتی ہے
محبت
خواب
خوشی
اور آدمی بھی
آنسوؤں سے بنے ہوئے لگتے ہیں
یہ سیڑھی
بلند ہوتی جارہی ہے
ایک دن
آنسوؤں کی سیڑھی کے ذریعے
میں خدا تک پہنچ جاؤں گا
جس نے اپنی طرح
ہر چیز
آنسوؤں سے بنائی ہے

Categories
شاعری

وہ برسوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہے

لوگ نیند میں
خواب دیکھتے ہیں
وہ جاگتے میں
سونے سے پہلے
ہر روز ایک خواب دیکھنا شروع کرتا ہے
یہ ایک طویل اور مسلسل خواب ہے
جو روز وہیں سے شروع ہوتا ہے
جہاں پچھلی رات ختم ہوا تھا
وہ ایک ہی وقت میں
دو جگہوں پر
دو طریقوں سے
زندگی بسر کر رہا ہے

Image: Kim Daehyun

Categories
شاعری

ریت کے دیس میں

[blockquote style=”3″]

یہ نظم دنیا زاد کے شمارہ نمبر 42 میں شائع ہو چکی ہے۔

[/blockquote]

ریت کے دیس میں
ہم
ریت سے بنے ہوئے لوگ ہیں
ہم نے
ریت سے روٹیاں بنانے کا فن ایجادکیا ہے
ہماری بے خواب آنکھوں میں
ریت اُڑتی رہتی ہے
ریت کے دیس میں
کوئی پردیسی ٹِک نہیں سکتا
یہاں رہنے کے لیے
ریت ہونا پڑتا ہے
ہوا چلتی ہے تو
ہمارے ریتیلے بدن سے
ریت اُڑنے لگتی ہے
ہم ایک جگہ سے معدوم ہوکر
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں
ہم بہت خوش ہیں
ہماری آنکھوں میں
آنسوؤں کی ایک بُوند بھی نہیں ہے
ہم نے سارے آنسو نچوڑ کے نکال دیے ہیں
صحرائے تھر میں
آبی مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی
Categories
شاعری

کوئلا

کوئلا
صحرائے تھر کا کوئلا
ہیرا نہیں بن سکا تو
اس میں سے
ہماری زندگی تخلیق کر دی گئی
کوئلے سے بنا آدمی بھی
ہیرے کی ابتدائی شکل ہوتا ہے
وہ
ہر قیمت پر ہیر ے چاہتے ہیں
ہم
کوئلے کی دنیا میں رہتے ہوئے
کوئلے کی طرح دکھائی دیتے ہیں
زمین تنگ ہونے لگے تو
لوگ خواب میں چلے جاتے ہیں
ہمارے خواب اور خوشیاں بھی
کوئلے سے لکھی جاتی ہیں
مرنے کے بعد بھی ‏
ہمارے حصے میں زمین نہیں آتی
ہمارے آبا و اجداد کی ہڈیاں بھی
انھوں نے کھود کر گم کر دی ہیں
تا کہ ثابت کر سکیں
ہم گوشت پوست کے انسان نہیں
ہمیشہ سے ایسے ہی ہیں
ہم
اپنے آنسوؤں سے
پوری دنیا کو غرق کر سکتے تھے
مگر ہماری آنکھوں سے
کوئلے کے ٹکڑے نکلتے رہتے ہیں
ہم سلگتے ہوئے
جل اٹھتے ہیں تو
وہ
ہماری روشنی چرا کر لے جاتے ہیں
ہمارے پاس صرف دھواں
کوئلے سے رستے تیزابی پانی کا ایک ڈیم رہ جاتا ہے
اس ڈیم میں چھلانگ لگا کر
ہمیں
مرجانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے

Image: GEO TV