Categories
فکشن

پارو

جب وہ آنگن میں چت کبَرے کو باندھ رہا تھا تو دھیرے دھیرے یہ بھی بڑبڑا رہا تھا:
”جب اساڑھ آئے گا اور بھڑولے بھر جائیں گے تو تجھ جیسا ایک اور ضرور لاؤں گا“

کھونٹے سے بندھی رَسی کو اس نے کھنچ کر گرہ کی مضبوطی کا اِطمینان کیا پھر سیدھا کھڑا ہو گیا اور چِت کبَرے کی پشت پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
ایسا کرنے پر اس کے بدن میں عجب سی سرشاری اترنے لگی۔

ابھی اطمینان کی یہ سرشاری پوری طرح اس کے بدن میں نہ اُتر پائی تھی کہ اُسے اَپنی پُشت پر بے ہنگم سانسوں کے طوفان کا احساس ہوا۔ وہ جلدی سے گھوما ‘مگر تب تک یہی بے ہنگم سانس ایک دردناک چیخ میں ڈھل کر فضا کو چیر چکے تھے۔

لوگ کہتے ہیں:
”وہ پارو کی آخری چیخ تھی“
پارو‘ ولایت خان کی بیوی تھی جس پر جنات کا سایہ تھا۔
لوگ یہ بھی کہتے ہیں:
”اس آخری چیخ کے بعد پارو کو کبھی دورہ نہ پڑا“
لیکن یہ واقعہ بھی اَپنی جگہ ہے کہ اس کے بعد کسی نے اُسے بولتے بھی نہ سنا۔

لوگ پارو کی اِس کیفیت پر دُکھ کا اِظہار کرتے ہیں اور اُن دنوں کو بہتر خیال کرتے ہیں جب اُسے دورے پڑتے تھے مگر جونہی وہ جنات کے اثر سے نکلتی تھی تو چنگی بھلی ہو جاتی۔ اتنی اچھی کہ ولایت خان اُسے دیکھتا رہ جاتا اور سارا گھر اس کی مسکراہٹوں سے بھر جاتا۔

لیکن اس آخری چیخ کے بعد یوں ہوا کہ اُس کے سارے لفظ‘ اُس کی ساری مسکراہٹیں‘ حتّٰی کہ اس کی چیخیں بھی کہیں گم ہو گئی تھیں۔ اُسے دورے نہ پڑتے تھے مگر اُس کے ہونٹوں پر فقط چپ کی پپڑی تھی۔

اماں حجن پارو کی ویران گود اور لمبی چپ کو دیکھ کر ولایت خان سے کہتی:
”میں جانتی ہوں تم پارو کا بہت خیال رَکھتے ہو۔ پارو جنات کے زیرِ اَثر رہی‘ چیخی چلائی مگر تم نے اُسے پھولوں کی طرح رَکھا۔ اب دِل جکڑ لینے والی چپ ہے اور گھر کا سُونا پن۔ مگر تم واقعی حوصلے والے ہو جو تم نے دوسری عورت کا سوچا تک نہیں۔ کوئی اور ہوتا تو کب کی دوسری لاچکتا۔ میری مانو تو وقت کو تھام لو۔ ایک اور بیاہ کرلو۔ خدا نے چاہا تو اس سونے آنگن میں بہار آ جائے گی۔“

ولایت خان جب بھی یہ سنتا اُس کے چہرے کا رنگ زرد پڑجاتا۔ وہ کچھ کہنے کی بہ جائے پارو کے ہونٹوں کو تکنے لگتا جن پر فقط چپ کا پہرہ تھا۔
شروع شروع میں اس گھر میں اُس کی مسکراہٹیں تھیں جو پورے گھر کو اُجال دیا کرتی تھیں۔ یہ مسکراہٹیں بہت جلد مدہم پڑنے لگیں۔ ایسے میں ولایت خان آنگن کے اُس سرے پر کھرلیوں کے پاس بندھی بیلوں کی وہ جوڑی پر اپنا دھیان مرکوز کر لیا کرتا تھا ‘ جو ہر مِیلے میں جیت کر لوٹتی تھی۔

ولایت خان اپنے سوہنے بیلوں کی جوڑی کو دیکھتا تو سرفخر سے بلند کر لیتا اور جب پارو کو دیکھتا تو آنکھیں چمک کر بجھنے لگتیں اور سینے کے اَندر دِل کہیں گہرائی میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا۔

اُدھر پارو بھی عجب مخمصے میں تھی۔
ابھی اُن کے بیاہ کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا۔

اور بہ ظاہر مخمصے میں پڑنے کی کوئی خاص وجہ بھی نہ تھا۔۔۔۔۔۔ مگر کچھ تھا جو اُسے سمجھ نہ آرہا تھا۔ اور جو اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اُسے اُلجھاتا چلا جاتا تھا۔ یہی اُلجھاوا ہنسی کے اُس پرنالے میں پھنس کر رکاوٹ بن گیا تھا جو بے اِختیار شڑاپ شڑاپ بہتا سارے گھر کو جل تھل کر دیا کرتا تھا تاہم ولایت خان‘ کہ جو کبڈی کے ہر اکھاڑے میں مقابل کو مٹی چاٹنے پر مجبور کر دیتا تھا‘ کی وجاہت کسی نہ کسی طور اس کے اندر اطمینان اتار دیتی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ اطمینان کے کڑوے گھونٹ‘ جو وہ اپنے حلق سے جبراً اُتارتی رہی تھی‘ اُس کے سارے وجود میں زہر بن کر سرایت کرنے لگے۔

یہ تب کی بات ہے جب ولایت خان کو گھر میں چِت کبرا لائے سال ‘سوا سال کا عرصہ گزرچکا تھا۔
گاﺅں بھر کے وہ چند ایسے جوانوں میں سرفہرست تھا جنہیں ہر کوئی محبت سے دیکھتا ہے۔

محبت سے دیکھے جانے کی ایک وجہ تو اس کا اپنا مضبوط جثّہ‘ مناسب کلا جبڑا‘ اونچا قد کاٹھ اور کبڈی کے ہر میدان میں فتح تھی تو دوسری وجہ بیلوں کی وہ خوبصورت جوڑی تھی جو ہرمیلے اور ہر مقابلے میں پنجالی گردن پر پڑتے ہی یوں کراہ لے کر دوڑتی کہ مقابل اس کی دھول تک کو نہ چھو پاتے۔
اپنا جثّہ بنائے رَکھنے کا فن وہ جانتا تھا۔ منھ اندھیرے اُٹھ کھڑا ہوتا۔ میلوں دوڑتا ‘ پلٹتا تو کلہاڑا لے کر کئی کئی من لکڑیاں کاٹ ڈالتا۔ غذا میں دیسی گھی میں تلے پراٹھے‘ دودھ اور لسی کا اہتمام کرتا۔ شام کو بدن کی مالش ہوتی۔ گھنٹہ بھر کے لیے دوستوں سے زور اور ڈنٹر پیلنا اُس کے معمولات کا حصہ تھے۔

بیلوں کی جوڑی کے ساتھ بھی وہ خوب تھکتا۔ انہیں نہلاتا‘ خوب رگڑ کر ان کا بدن صاف کرتا ‘ سینگوں اور کھروں پر تیل لگاتا۔ خود چارہ کاٹ کر لاتا‘ کترا بناتا‘ ونڈا بھگوتا‘ ونڈے اور کترے کو چھی طرح صاف کیے ہوئے بھوسے میں ملا کر گتاوا بناتا اور کھرلی تک خود بیلوں کو کھول کر لاتاتھا۔

اور جب دونوں بیل مزے مزے سے گتاوا کھانے لگتے تو اسے تب چین آتاتھا۔
لیکن جب اتنا تھک چکنے کے بعد اُسے بے چینی رہنے لگی تو وہ چِت کبرا لے آیا۔

اُس کا اِرادہ تھا‘ اساڑھ میں جب بھڑولے بھر جائیں گے تو وہ چت کبرے کے مقابل کا ایک اور بیل لے آئے گا جو پہلی جوڑی کی جگہ لے لے گا۔
اَساڑھ آیا اور گزر گیا۔

منھ تک بھر جانے والے بھڑولے دِھیرے دِھیرے خالی ہوتے چلے گئے۔
مگر‘د وسرا بیل نہ آیا۔ کیسے آتا؟کہ ولایت خان کا ارادہ بدل چکا تھا۔

یوں تو وہ دُھن کا پکا تھا‘ جو من میں آتا اُسے پتھر پر لکیر سمجھتا‘ جب تک کر نہ چکتا چین سے نہ بیٹھتاتھا۔
لیکن اس بار نہ صرف ارادہ بدل چکا تھا بل کہ ایک لذّت بھی اس کے بدن میں اُتر رہی تھی۔
ہوا یوں کہ ابھی چت کبرے کو آئے چند ہی روز ہوئے تھے اور ولایت خان اس کے فوطے کچلوانے کے لیے ہسپتال لے جانے کا ارادہ باندھ ہی رہا تھا کہ فضلو اَپنی گائے لے آیا۔

گائے پر دِن آئے ہوئے تھے۔
اورفضلو کے خیال کے مطابق دور نزدیک کے کسی گاﺅں میں کوئی اچھی نسل کابیل نہ تھا۔
جب کہ وہ گائے کی نسل نہ بگاڑنا چاہتا تھا۔
ولایت خان کو پہلے پہل تامل ہوا۔
ویسا ہی تامل ‘جیسا پارو سے شادی کے وقت ہوا تھا۔
اُس کا خیال تھا ‘اکھاڑے میں اُترنے والوں کو عورت ذات کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہیے۔ لیکن ضد میں آکر اسے اپنا خیال بدل دینا پڑا۔
وہ ضد میں یوں آیا کہ اس کے اکھاڑے کے دوستوں نے اُسے پارو دِکھائی اور کہا:
”مرد وہ ہے جو اُسے حاصل کرے گا۔“
پارو نمبردار فیروز کی بیٹی تھی اور پچھلے کچھ عرصے میں یک دَم جوان ہو گئی تھی۔
اس قدر جوان کہ سارے گاﺅں پر اس کی جوانی چھا گئی تھی۔

ایک مُدّت سے گاﺅں کی لڑکیوں پر جوانی چپکے چپکے آرہی تھی ‘ یوں کہ اِرد گرد والوں کو تو کیا خود لڑکیوں کو بھی اس کی خبر نہ ہوتی تھی۔
مگر پارو پر جوانی چیختی چنگھاڑتی آئی تھی۔ کچھ اس دھج سے کہ اس کا سارا بدن اپنے جوان ہونے کا زور زور سے اعلان کرنے لگاتھا۔

یہ اعلان ولایت خان نے بھی سنا۔ تاہم نہ تو اس کے اندر کوئی خواہش جاگی‘ نہ بدن پر بے چینی کی چیونٹیاں رینگیں لیکن لنگوٹ کَس کر اکھاڑے میں اُترنے والے اُس کے ساتھی پارو کو حاصل کرنے والے ہی کو مرد تسلیم کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔
اور وہ چاہتا تھا اسے مرد تسلیم کیا جائے۔
وہ ضد میں آگیا اور قسم کھا بیٹھا کہ وہ پارو کو حاصل کر کے دَم لے گا۔

اگرچہ وہ بہت بڑا زمیندار نہ تھا مگر جتنی بھی زمین اس کی ملکیت تھی وہ اس کی ضرورتوں سے کہیں زیادہ تھی۔ خوبصورت جسم ‘کبڈی کے ہر میدان کا فاتح‘ صاف ستھرا شجرہ نسب۔ یہ وہ عوامل تھے جو پارو کے حصول میں اُس کے معاون بنے تھے۔

اور جب وہ پارو کو حاصل کر چکا تو بالکل ویسی ہی بے کلی اُس کے بدن میں اُتری تھی جیسی کہ اب فضلو کی بات سنتے ہوے اُتری تھی۔
فضلو کَہ رہاتھا۔

”دیکھ پُت ولایت گائے اعلیٰ نسل کی ہے۔ دریا پار سے لایا تھا تو بوری نوٹوں کی اُٹھ گئی تھی اِس پر۔ دودھ دیتی ہے تو ولٹوہے کناروں تک چھلکنے لگتی ہیں۔ سچ جانو تو میں اس کی کھیری بھی دیکھتے ہوے جھجکتا ہوں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔ اور ماشااللہ تمہارا بیل ‘واہ‘ دیکھنے میںاس قدر صحت مند لگتا ہے کہ آنکھ دیکھتے ہوئے بھتی نہیں ہے۔ یقیناً اس سے نسل بھی اچھی چلے گی۔“

فضلو اس کے بعد بھی بہت کچھ کہتا رہا مگر ولایت خان چپ چاپ اپنے قدموں پر اُٹھا اور فضلو کو گائے چِت کبرے کے پاس لانے کا اشارہ کیا۔
جب فضلو کی گائے کا خوبصورت اور صحت مند سا بچھڑا ہوا اور دُودھ کی مِقدار پہلے سے بھی بڑھ گئی تو وہ سیدھا ولایت خان کے ہاں پہنچا۔
ولایت خان نے سنا تو عجب سی سرشاری اُس کی نَس نَس میں دوڑ گئی۔

فضلو مہینہ بھر اُس کے ہاں دُودھ بھیجتا رہا۔
ولایت خان اُسے منع کرتا رہا مگر وہ باز نہ آیا۔
اسی دودھ کی لَسّی بلوتے بلوتے ایک روز پارو کو دورہ پڑا۔ یوں کہ اُس نے بدن کے کپڑے پھاڑ ڈالے‘ بال نوچ لیے‘ جبڑے اکڑ گئے اور ہاتھ پاﺅں ٹیڑھے میڑھے ہونے لگے۔
اماں حجن کا خیال تھا ‘ پارو پر جنات کا سایہ ہو گیا ہے۔

تعویذ گنڈے ہونے لگے۔ مزاروں کے چکر کاٹے گئے۔ دھونی دہکائی گئی۔ حصار باندھا گیا۔ چلہ کشی ہوئی۔ مگر جنات کا سایہ ویسے کا ویسا رہا۔

ولایت خان پارو کی اِس کیفیت کو دیکھتا تو دُکھی ہوتا۔ اُسے سمجھ نہ آرہا تھا اس معصوم نے جنات کا کیا بگاڑا تھا جو وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔
پارو کے دورے اور چت کبرے کی تعریفیں ایک ساتھ شروع ہوئی تھیں۔

فضلو نے اپنے بچھڑے کی خوبصورتی اور دودھ میں اِضافے کا ڈھنڈورا یوں ہر کہیں پیٹا تھا کہ ولایت خان نہال ہوتا چلا گیا۔
پھر یوں ہو اکہ نہ صرف اُس کے اپنے گاﺅں بلکہ اردگرد کے مواضعات کے لوگ اَپنی گائیں چت کبرے کے پاس لانے لگے۔
صحت مند بچھڑوں اور بچھیوں کی پیدائش کی خبریں اور بعدازاں دودھ نذرانے آنا‘ معمول بن گئے۔
گھر میں دودھ گھی کی فراوانی نے اُس کے بدن میں مزید نکھار پیدا کیا۔
مگر پارو ‘کہ جس پر پہلے پہل لَسّی بلوتے جنات آیا کرتے تھے ‘اَب موقع بے موقع دوروں میں لوٹنے لگتی تھی۔
جب وہ جنات کے زیر اثر آتی تو عجب عجب حرکتیں کرتی۔ کبھی کبھی یوں لگتا وہ کسی ننھے منے بچے کو پیا ر سے پچکار رہی ہو۔
غالباً یہی وہ حرکت تھی‘ جسے دِیکھ کر اماں حجن نے خیال ظاہر کیا تھا:
” اگر پارو کے ہاں اولاد ہوتی تو شاید اسے دورے اس شدت سے نہ پڑتے۔“
دوروں میں شدت بڑھتی چلی گئی کہ پارو کی گود ہری ہونے کا دُور دُور تک نشان تھا نہ آس اُمید۔

”یہ جو عورت کا بدن ہوتا ہے نا! یہ نرا گورکھ دھندا ہے۔ باہر سے نواں نکور ہوگا مگر اندر نہ جانے کیا کیا روگ پال رکھے ہوتے ہیں۔ اب جو ولایت خان جیسے شینہہ جوان کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی تو یقیناً پارو میں کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔“
اماں حجن نے جو کہا سب نے اس پر یقین کر لیا۔
ایک مرتبہ پھر پیروں فقروں کے پاس لے جایا گیا۔ سنیاسیوں کے نسخے اِستعمال ہوئے۔
مزاروں پر منتیں مانی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔
پارو اب اپنے لیے آسانی سے تعویذ لینے یا دوا کھانے پر راضی نہ ہوتی تھی۔ اماں حجن کا اصرار تھا۔
”پارو کا علاج ہونا چاہیے۔“
علاج ہوتا رہا مگر اولاد نے نہ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہوئی۔
ولایت خان یہ سب کچھ لاتعلقی سے دِیکھ رہا تھا‘ جیسے راضی بہ رضا ہو۔

اُس کے لیے یہ بھی بہت کچھ تھا کہ گاﺅں سے کوئی نہ کوئی فرد اپنے ہاں بچھڑا پیدا ہونے کی خبر سناتا تھا اور دودھ کی بھری بالٹیاں بھیج دیتا تھا۔
دِنوں کا یہی معمول تھا۔ وہ اَپنے صحن میں چِت کبرے کے بدن پر محبت سے ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پاس کھڑا‘ ساتھ والے گاﺅں کا ایک شخص اُسے اپنے ہاں صحت مند بچھڑے کی پیدائش کی خبر سنا رہا تھا۔ ایسے میں اُسے برآمدے میں لسی بلوتی پاروکے تڑپ کر گرنے اور چیخنے کی آواز سنائی دی۔ وہ بھاگ کر برآمدے میں آیا۔ پارو چت زمین پر لیٹی ہوئی تھی اور اس کا منھ اَدھ رِڑکے کی جھاگ سے بھرا ہوا تھا۔ چیخیں ہونٹوں پر جم گئی تھیں اور وہ نہایت محبت سے چکنی گیلی مدھانی پر یوں ہاتھ پھیر رہی تھی جیسے کہ وہ ایک ننھا سا بچہ ہو۔

تب ولایت خان نے ایک فیصلہ کیا۔ اپنے قدموں پر پلٹا چت کبرے کو کھونٹے سے کھولا سیدھا ہسپتال جا پہنچا۔

اور جب وہ چت کبرے کے فوطے کچلوا کرواپس پلٹا تھاتو اپنی پشت پر پارو کی بے ہنگم سانسوں کو کرب ناک چیخ میں ڈھلتے پایا۔
لوگ کہتے ہیں:

”وہ پارو کی آخری چیخ تھی جو سنی گئی تھی۔“

لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اُس پردورے نہیں پڑتے مگر لوگ افسوس کرتے ہیں کہ جنات پاروکے سارے لفظ اَپنی گٹھڑیوں میں باندھ کر لے گئے تھے۔
Image: Saeed Akhter

Categories
نان فکشن

منشایاد کا افسانہ اور سماجی معنویت

’’میرے اندر کھلبلی مچ گئی۔

عمر کے اس حصے میں، جب لطیف اور نازک جذبے سرد پڑ جاتے ہیں اور آدمی کے اندر کا بیل تھک کر تھان پر بیٹھا جگالی کر رہا ہوتا ہے۔ اسے ڈچکروں اور ٹھوکروں سے حرکت میں نہیں لایا جاسکتا۔ اسے ہلانے جلانے کے لیے تابڑ توڑ ڈنڈے برسانا پڑتے ہیں۔

اس کی موت کی خبر سن کرمجھے صدمہ ضرور ہوا جیسے بیٹھے بیٹھائے کسی نے ٹھوکر مار دی۔ میں چونکا اور پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔‘‘

صاحب ‘ منشایاد کی کہانی’’سارنگی‘‘ کایہ دلچسپ ٹکڑا عین تمہید میں آپ کواس لیے سنادیا ہے کہ مجھے تیزی سے بدلتے ہوئے سماج کے ساتھ جڑے رہنے کی شدید خواہش رکھنے والے منشایاد کا لگ بھگ اپنے ہر دوسرے افسانے میں ایک عجب دھج سے چونکنا لطف دیتا رہا ہے۔

اسے آگے کا سفر کرنا تھا مگر اُسے بار بار بیک مرر دیکھنا پڑتاتھا۔ یادرہے ’’بیک مرر ‘‘ اس کا ایک افسانہ ہے اورساتھ ہی ساتھ محبوب استعارہ بھی… وہ اس بیک مرر میں دیکھتاتھا ‘ بار بار دیکھتاتھا ‘عقب میں تیزی سے معدوم ہوتے منظرنامے کو بھی اور ونڈاسکرین میںسے تیر کی تیزی سے اپنی سمت بڑھتے نامانوس وقت کو بھی۔ جو کچھ جانا پہچاناہوتا وہ اس کے اندر بس جاتا اور جو سامنے ہوتا وہ اس دھرتی جیسا ہوجاتا ہے جسے بیل نے اپنے سینگوں پر اُٹھا رکھا ہے۔

ہم جو ماضی کے ساتھ ایک بامعنی رشتہ رکھنا چاہتے ہیں اور ارضیت کو اپنی سانسوں میں بسائے ہوئے ہیں‘ زمین سے چاہے جتنا اوپر اٹھ جائیں اپنے حصے کی مٹی اپنی مٹھی میں ضرور رکھتے ہیں۔ تو یوں ہے کہ منشایاد کی مٹھی میں جو مٹی تھی وہ جگنو بن کر چمکتی تھی۔ ان سورجوں کی طرح جن کے مقابل آکر نئے عہد کی صارفیت زدہ مجہول حسیت کے چراغ منہ چھپانے لگتے ہیں۔

منشایاد کے افسانوں میں متشکل ہونے والے جس سماج کی میں بات کر رہاہوںاس میں خالص اور پاکیزہ رشتوں میں ایسے ایسے کردار ملتے ہیں جن کا تصور مادیت زدگی نے مشکل بنا دیا ہے اورایسی ایسی فضا ملتی ہے کہ جس کے اندر سے زندگی کی خوشبو کے جھرنے پھوٹ بہتے ہیں۔ مگر کون نہیں جانتا کہ ضرورت ‘ پیداواریت اور سرمائے کی افزودگی کی بنیادوں پر اُسارے جارہے نئے عہد کے شیش محل کے اندر اس خوشبو کاداخلہ ممنوع ہے۔

مگر… اُسے تو اِس خوشبو کے ساتھ ہی اس کانچ محل میں داخل ہوناتھا۔
اور منشایاد اس امتناع کو توڑنا چاہتاتھا۔
مجھے ’’سارنگی‘‘کا جملہ ایک بار پھر دہرانے دیجئے:
’’ میں چونکا اور پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر میرے سینگوں پر دھرتی کا بوجھ تھا۔‘‘
تو یوں ہے کہ کہ منشایاد نے ہمت کرکے اور نیت باندھ کر کچھ افسانے تو اسی دھرتی کے بارے میں لکھے جو سینگوں پر بوجھ کی طرح جھول رہی ہے اور بہت سارے افسانے اس مٹی کے بارے میں لکھے ہیں جو خوشبو بن گئی۔ وہ خوشبوجس نے انسان کا وجود بامعنی بنا دیا ہے۔

میں اس دونوںقسم کے افسانوں کی سماجی معنویت کو بھی الگ الگ پہچان سکتا ہوں۔
ایک قسم کے افسانوں کے اندر آدمی اڑیل بیل کی طرح دکھایا گیاہے جسے اس کا مالک آگے کوکھنچتا ہے مگر بیل پیچھے کو زور لگاتا ہے حتی کہ مالک بپھر جاتا ہے۔ اس قبیل کے افسانوں کی ایک عمدہ مثال منشایاد کا ۸ اکتوبر کے سانحے کے حوالے سے لکھا گیا ’’ آگے خاموشی ہے ‘‘ کا نام پانے والاافسانہ ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ اس افسانے کا ماسٹر دین محمد اپنے طالب علموں سمیت ملبے کے اندر دب گیا تھا۔ اس کے شاگرد ایک ایک کرکے اس کے سامنے مرتے رہے اور وہ خود جرعہ جرعہ موت لنڈھاتے ہوئے بھی زندہ رہا۔ اور پھر یوں ہوا تھا کہ ہمارے نام نہاددانش وروں کی رکی ہوئی سوچ کے تعفن نے اسے تڑپایا اور ماردیاتھا۔اس کہانی میں منشایاد نے ماسٹر دین محمدکے ہاتھ میں اس کے مرنے سے پہلے جوتا تھمانا چاہا ہے کہ وہ اسے اُن دانش وروں کی سمت اُچھال سکے۔ اورسجھانے کا جتن کیا ہے کہ جمود زدہ متعفن سوچ رکھنے والوں کو جب تک چوٹ نہ لگے وہ اڑیل بیل کی طرح پیچھے ہی کو زور دیتے رہتے ہیں۔

اُس کا فیصلہ ہے کہ آگے نہ دیکھیں تو راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور پلٹ کر دیکھنا بھول جائے توشناخت گم ہو جاتی ہے۔

منشایاد کے افسانوں پربات کرتے ہوئے مجھے خواہش ہونے لگی ہے کہ اسی کی طرح چلتی ہوئی بات کی گاڑی کی ونڈاسکرین سے نظر اٹھا کر بیک مرر میں دیکھوں۔ تو یوں ہے کہ اس بار وہ اڑیل بیل نظر آگیا ہے جس کامالک اُسے آگے کھینچنے سے اُکتا گیا تھااور بپھر کراُس کے کولہوں پر چوٹ لگانا چاہتا تھا۔

دوسری قبیل کے افسانوں کی دنیا ہی کچھ اور ہے الگ سی مگر روح کو سرشار کرنے والی۔ان افسانوں میں فکری دائروںسے کہیں زیادہ زندگی کی تفہیم کی راہیں نکلتی ہیں۔ منشایادنے ’’شہر افسانہ‘‘ کی ابتدائی سطور میں لکھا ہے کہ ’’سائنسی علوم اورٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ انسان روز بروز مشین میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ ‘‘ مشین میں ڈھلتے مصروف آدمی کا جو ہیولا منشایاد نے بنایا ہے وہ آدمی اپنے بنجراپے سے بولایا ہوا ہے۔ تاہم جب جب وہ اسی گھٹن زدہ ماحول کے مقابل دیہی زندگی کے کشادہ ماحول کو لے کر آیاتو یوں لگا جیسے تاریکی کی لمبی سرنگ کے اندر سے روشنی کی چیخ جادو بنسری کے سر کی طرح برآمد ہوگئی ہے‘ یوں کہ تاریک سرنگ کا دوسرا کنارہ روشن ہو گیا ہے۔

میں اسی روشن کنارے پر منشایاد کے افسانے ’’اپنا گھر‘‘ کے میلے کچیلے مگر فرشتوں جیسے اس شخص کو دیکھتا ہوں جس کا دل اپنے بچوں سے ملنے کو چاہا تھاتو اس نے چارہ کاٹنا اور ہل چلانا وہیں موقوف کیا۔ بس پکڑی اور ملنے آگیا تھا۔

جسے میں نے تاریک غار سے شناخت کیا ہے منشایاد کے مرکزی کردار نے اس صورت حال کا نقشہ اسی افسانے کے آغاز میں یوں کھینچا ہے۔

’’ وہی ہر طرف مداریوں کی طرح چتر چالاک آدمی اور آسمان میں تھگلی لگانے والی تیرہ تالن عورتیں۔

منافقت سے اٹی ہوئی صورتیں …خود غرضی کے جالے …سازشوں کی مکڑیاں اور وہی ٹانگیں کھینچنے اور میرے اٹھنے بیٹھنے کی جگہوں پر مرغیوں کی طرح گندگی پھیلاتے احباب۔ وہی ہر روز ایک طرح سو کر اٹھنا اور وہی ستر ستر قدم پیچھے ہٹ کر ایک دوسری سے ٹکریں مارتی دیواریں۔

بھاگم بھاگ دفتر کے لیے تیار ہونا …وہی میز اور وہی ایک جیسا ناشتہ…وہی دفتر اور وہی انتظار میں بیٹھے ہوئے گدھوں کی طرح افسران بالا کی نظریں۔

وہی فائلیں اور وہی ایک جیسے قے کیے ہوئے لفظوں کے پیٹ بھرنا۔‘‘

تو صاحب !یہ منظر نامہ جو منشایاد نے دکھایا ہے اس نے نئے آدمی کے رنگ ڈھنگ اور چال ڈھال کے بے ڈھنگے پن کوننگا کر دیا ہے۔ آدمی اپنے تہذیبی آہنگ سے نکل چکا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے آدمی کا آدمی سے تعلق سماجی نہیں رہابازاری ہوگیا ہے۔ عقیدے دم توڑنے لگے ہیں‘ عقیدت اور احترام کے قرینے قریہ بدر ہوئے اور اقدار بدل گئی ہیں۔ حقیقت کے معنی اُلجھ گئے اور سچائیGray Areas کا رزق ہو گئی ہے۔ الفاظ ہیں‘ معنی عنقا ہیں۔ جملہ ہے مگر اس کے بطن میں مفہوم کا حمل ٹھہرتا ہی نہیں ہے۔ پریشان نظری ہے ‘ فکری انتشار ہے۔شمیم حنفی نے اسے آڈن کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ ’’بے چینی‘‘ کا عہد ہے ‘ فرانز الیگزنڈر نے اسے ’’عدم تعقل‘‘ کا دور کہا مگر یار لوگ تہذیبی اقدار پر شب خون مارنے والے اس عہد کو روشن خیال‘ ترقی یافتہ‘ اور انسانی فلاح کا عہد قرار دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔ منشایاد کے ہاں معاملہ یہ رہا کہ اس کی گفتگوؤں میں جتنی توجہ یہ بدلا ہوا زمانہ پاتا تھا اس کا تخلیقی وجود عین مین اِس تناسب سے اس تبدیلی کوقبول نہیں کرپاتا‘کہ اپنے افسانوںکوجس سماجی معنویت سے وہ جگمگا رہا تھا اس کا غالب حصہ ارضیت ‘ تہذیب اور روایت ہی میں پیوست تھا۔
میں نے کسی اور جگہ لکھا تھا کہ منشایاد کو بیدی کی طرح گرہستن اور خاندان سے جڑی ہوئی عورت پر لکھنا اچھا لگتا ہے اور آج کی نشست میںاس پر یہ اضافہ کرنا ہے کہ اس کا سبب محض اور صرف یہ ہے کہ رشتوں میں جڑی ہوئی عورت ہی اسے سماج کے اندر بامعنی دِکھتی ہے۔ جب کہ رشتوں سے کٹی ہوئی عورت ’’شے ‘‘ بن جاتی ہے‘ ’’صارف‘‘ ہوتی ہے یاپھر محض ’’کارآمد/بے کار‘‘ پُرزہ(اور لگ بھگ یہی بات تو مردوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔) یہی سبب ہے کہ ان رشتوں کے لیے وہ بہت کچھ قربان کر سکتا ہے حتی کہ اپنا عشق بھی۔ اس باب میں منشایاد کے معروف افسانے ’’تیرہواں کھمبا ‘‘ کو دھیان میں لائیے اور اس نوبیاہتا جوڑے کو بھی جو ریل کار میں سوار ہو گیا تھا۔ منشایاد نے اپنے قاری کوایک عجب صورت حال سے دوچار کرنے کے لیے اسی منظر نامے میں ایک تیسرے کردارکو بھی موجود رکھا ہے۔ یہ تیسرا شخص نوبیاہتا دلہن کی زندگی میں کبھی اہم رہا ہوگا مگر نئے اور تخلیقی رشتے سے جڑ جانے والی کے لیے (پراناعشق بھولنا مشکل سہی)‘نیا رشتہ اہم ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو اپنی کیمسٹری میں چاہے عشق جتنا اخلاص نہ رکھتا ہو اس کی ایک سماجی معنویت ہوتی ہے۔ تو یوں ہے کہ اس افسانے کے آخر میں منہ زور عشق ہار جاتا اور تخلیقی رشتہ سماجی معنویت سے ہم کنار ہوجاتا ہے۔منشایاد چاہتا تو اس تیسرے آدمی کو ریل سے کود کر خود کشی کی راہ دکھا دیتا ‘ نوبیاہتا انجی کی چھاتی سے چیخ برآمد کرکے اس کے عشق کا بھانڈا پھوڑ کر سماجی رشتے میں دراڑیں ڈال سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔جس گوں کا وہ آدمی تھا اس گوں کا آدمی اپنے کرداروں کو اوچھا نہیں رہنے دیتا انہیں وسیب کا ذمہ دار آدمی بنا دیتا ہے۔سو اس نے منہ زور عشق کو پچھاڑ دیا اور سماج کو ایک تخلیقی رشتے سمیت بچا لیا۔

جی،مجھے موقع ملا ہے کہ میں منشایاد کے افسانوں کا نہایت سنجیدگی سے مطالعہ کروں اور اس مطالعے میں محسوس کیا ہے کہ سماجی منظر نامے میں منشایاد کے ہاں تخلیقی رشتے بہت احترام پاتے ہیں۔ ’’سزا اور بڑھا دی جائے‘‘ ’’سارنگی‘‘اور ’’ساجھے کا کھیت‘‘جیسی کہانیوں سے میں صحیح یا غلط اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مادی تعیش کے عہد میں‘ بنتی بگڑی حسیات والے نئے تفریحی آدمی سے کہیں زیادہ اسے تہذیبی اور سماجی آدمی بہت محبوب ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ جس دور میں منشایاد نے شناخت پائی وہ علامت نگاری اور تجرید کا زمانہ تھااور اس عہد کے افسانے میں اس نے سماجی اور تہذیبی علامت کے شعور کے ساتھ جو افسانے لکھے وہ الگ سے مطالعہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔تاہم مجھے ان کے حوالے سے یہاں یہ کہنا ہے کہ اگر منشایاد کو سماجی رشتوں میں بندھے آدمی سے محبت نہ ہوتی اور وہ فرد کے محض باطنی آشوب کو ہی کہانی کا وسیلہ بناناچاہتا تو بھی اس ڈھنگ میں اس نے ایسی ایسی کامیاب کہانیاں لکھی ہیں کہ وہ بہت دور تک جا سکتا تھا مگر بہت جلد ادھر سے دامن جھٹک کر الگ ہو گیا۔محض دیہات نگاری بھی اس کا مسئلہ نہیں بن پایا ورنہ وہ بالا دست جاگیردار طبقے کی چیرہ دستیاں دکھا کر اور ہمارے دل دہلا کر بھی مقبول ہو سکتا تھا۔ ذرا تصور باندھیے ’’کچی پکی قبریں‘‘ والے کوڈو فقیر کا جس کی نظر کدال پر پڑی تھی توفاتحانہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ناچنے لگی تھی۔ پکی قبریں ادھیڑ کران میں اپنے مردے رکھنے والے ایسے جی دار کردار اس کی کہانیوں میں آئے ضرور ‘مگر سماجی معنویت کے باب میں اس نے ترقی پسندوں کی طرح اسے طبقاتی مسئلے کے فیتے نہیں لگائے۔ اس کے کردار کہیں بھی اپنی شناخت گم نہیں کرتے پوری کہانی میں یوں رچے بسے ہوتے ہیں جیسے رات کی رانی کے بدن میں اس کی مست کر دینے والی مہک۔میلے ٹھیلے کے رسیا‘ نچلی ذاتوں کے کمی کمین‘ جنس کے مارے ہوئے مرد اور عوتیں‘ اپنوں سے پچھڑے ہوئے مگر ایسے کردار جن کے وجود کی مٹی کو خلوص کے پانیوں سے گوندھا گیا ہوتا ہے۔جو سماج کو جینے کے قابل بنانے کی للک رکھتے ہیں اور اپنے وسیب کی دانش کے امیں ہوتے ہیں۔

یوں تو عصری آگہی اور سیاسی شعور بھی منشایاد کے افسانوں کا ایک قوی حوالہ بنتا ہے’’۹۷۸ا کا آخری افسانہ:پناہ‘‘ ’’بوکا‘‘ اور’’کہانی کی رات‘‘ جیسے اہم افسانے اس باب میں عمدہ مثال ہیں کہ ایسے افسانوں میں منشا یاد نے تاریخ کو مسخ کرنے والے چہروں کو نوچ ڈالا ہے۔ عام آدمی کو مات دینے والے سیاست دانوں کو لتاڑا ‘جمہوریت کے حق میں آواز بلند کی اور سامراج کے دروغوں کے منہ پر تھوکا ہے مگرآج کی نشست میں میرا دھیان منشایاد کی اس دھج کی طرف رہا ہے جورواں منظر نامے سے اوب کر اور چونک کر عقب میں دیکھتا اور لمحہ لمحہ مادیت سے مات کھاتے آدمی کے ضمیر پر دستک دیتا رہاہے۔اس نہج سے مطالعے نے مجھے حوصلہ دیا ہے کہ منشایاد کے فکشن کے محبوب سروکاروں میں سماجی رشتوں کی مہک کو بھی قدرے نمایاں جگہ دوں کہ یہ ایسی مہک ہے جو سماج کو بامعنی اور تخلیقی بنا رہی ہے۔

Categories
فکشن

ملبا سانس لیتا ہے

جب آوی کے پاس فرشتے اترے

ماسٹر فضل جُو ٹھیک ٹھیک آنکنے میں ناکام رہے تھے کہ اُنہوں نے کِتنی دِیر تلاوت کی تھی رمضان کے عین آغاز میں ہی وہ تخمینہ لگا چکے تھے کہ روزانہ اِتنا پڑھیں گے تو ستائیسویں کو ختم القرآن کی مطلوبہ تعداد مکمل ہو گی۔ مگر جوں جوں روزے ایک ایک کرکے کم ہو رہے تھے اُن کی تَشویش بڑھتی جا رہی تھی۔جِس قدر اُنہیں پڑھنا چاہیے تھا ‘ وہ پڑھ نہیں پا رہے تھے اور بعض روز تو یوں ہوتا تھا کہ وہ اپنے تئیں رات بھر تلاوت کرتے رہتے تھے مگر جو ورق اُلٹ پلٹ کر دیکھتے توخود کو کوسنے اور شیطان مَردُودکو پَھٹکار نا شروع کر دیتے کہ آخر تلاوت کرتے کرتے وہ کہاں چلے جاتے تھے

تو یوں تھا کہ آج بھی وہ کہیں اور تھے۔

رَات تَراوِیح سے لوٹے تو یہی کوئی گھنٹہ پون گھنٹہ ہی کمر سیدھی کر پائے ہوں گے کہ انہیں لگا جیسے کوئی روئی جیسے ملائِم ہاتھوں سے اُن کے پاﺅں کے تَلوے سہلا رہا ہو۔ اُنہیں مزا آرہا تھا مکّر مار کر پڑے رہے حتیٰ کہ تراویح میں مُسلسل کھڑے رہنے سے ٹانگوں میں جمع ہو کر جم جانے والا خُون نرم و گدازلمس کی لطیف حرارت سے پھر رواں ہو گیا ایسے میں ہی شاید ‘دائیں پاﺅں کے تلوے کی عین ڈھلوان میں ‘وہاں جہاں پوست قدرے زیادہ ڈھیلا پڑ جانے کی وجہ سے سہولت سے چٹکی میں آجاتاہے‘ چٹکی میں لا کر مسل دیا گیا۔ چٹکی میں آنے والے پوست سے لگے گوشت نے لمحہ بھر کے اندر اندر ایک میٹھے درد کوپورے بدن میں جھونک دیا وہ ہڑ بڑا کر اُٹھے اور ابھی نظر کا چشمہ تلا ش نہ کر پائے تھے کہ ایک کھنک سی فضا میں تیر گئی اُن کے سنبھلتے سنبھلتے سارا کمرا گہری خاموشی اور اکیلے پن کے احساس سے گونج رہا تھا۔

کمرے میں مدھم روشنی والا بلب‘ فینسی شیڈ کے اندر سے اُن کے بستر سے قدرے دور‘ دبیز قالین پر‘ایک دائرے میں روشنی پھینک رہا تھا۔ وہ کچھ بھی سوچے بغیر بٹر بٹر اس دائرے کو بہت دیرتکتے رہے حتی کہ خواب میں بدن کا حصہ ہو جانے والا لطیف احساس خود بخود معدوم ہو گیا۔ اب انہیں اس ماہ مبارکہ کی پاکیزہ ساعتوں کے یوں ہی گزر جانے کا احساس تڑپا رہا تھا لہذا اُٹھے اور سیدھے واش روم میں گھس گئے۔

وضو تازہ کرنے کے بعد وہ تب سے پڑھنے بیٹھے تھے ‘ اور سحری کے لیے جگانے والے سرکاری سائرن کی دوسری لمبی گھوں پر وہ بوکھلا کر سیدھے ہوگئے تھے۔ یہ بوکھلانا اتنا شدید اور غیرمتوقع تھا کہ گود میں پڑا ہوا قرآن پھسلنے لگا تھا انہوں نے فوراً اُسے تھام لیا ہڑ بڑاہٹ کچھ کم ہوئی تو اس نشانی کو تلاش کیا جہاں سے انہوں نے تلاوت کا آغاز کیا تھا پھرتیز تیز ورق اُلٹتے الٹتے وہاں پہنچے جہاں تک ‘وہ اَپنی دَانست میں پڑھ چکے تھے۔

”ہائیں ‘ بس اتنا ہی “

یہ انہوں نے قدرے اُونچی آواز میں کہا تھا اور ابھی تک فضا میں اُن کی بات ٹھہری ہوئی تھی کہ اُنہوں نے قرآن پاک کو دونوں طرف سے اور وسط میں بار بار بوسے دینے اوردائیں بائیں آنکھوں سے لگانے کے بعد چھاتی سے یوں بھینچ لیا جیسے فضیلت بھینچ لیا کر تی تھی
جب اُس کی ڈولی اُٹھی تھی توفضیلت جان کو سولہواں لگا تھا اَلہڑ اِتنی کہ ِایڑھیاں زمین پر ٹکتی نہ تھیں قد نکلتا ہوا ‘ رَنگ کِھلتا ہوا اور آواز یوں کہ آدمی سنے تو مست ہو جائے جب وہ آئی تھی تو اس کا نام فضیلاں تھا اور اسے بہت ساری باتوں کی سمجھ بھی نہ تھی جیجو کمہار کی بے ماں بیٹی ‘ جو باپ کے ساتھ مٹی ڈھوتے‘ اسے گوندھتے‘صحنکیں‘ گھڑے‘ بٹھل‘ چھونیاں‘ کوزے ‘ چلمیں اور ہویجے چاک پر چڑ ھاتے اور ان کی صورتیں بناتے ہوے خود ایسی بھولی بھالی صورت میں ڈھل گئی تھی کہ اٹھی نظر ہٹتی نہ تھی۔ جیجو خود بھی اسے دیکھتاتو اس کے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔ فضیلاں کے پیدا ہونے اور فضیلاں کی ماں کے مرنے کا واقعہ ایک ساتھ ہوا تھا تب سے اب تک وہ اس کے لیے امتحان تھی اور جب اس کا امتحان اس کی برداشت سے باہر ہو گیا تو خدا نے اس کی مشکل خود ہی آسان کر دی۔
یہ مشکل یوں آسان ہوئی تھی کہ فضل جُو بھی اُس کے گھر کے پھیرے لگانے لگا تھا۔

فضل جُو‘جو ابھی خاکوٹ کے پرائمری اسکول میں ماسٹر نہیں لگا تھا‘ دوسرے نوجوانوں کی طرح بلاسبب کئی کئی بار مٹی کے تباخ اور صراحیاں خرید چکا تھا۔ وہ اس کے گھر کے چکر کیوں لگا رہا تھا؟ وہ بہت جلد سمجھ گیا تھا اور یہ بھی جان گیا تھا کہ وہ یہاں سے جو کچھ خرید لے جاتا تھا ‘گھر نہ لے جاتا تھا اگر لے گیا ہوتا تو پیش امام صاحب ‘ اور بی بی صاحبہ کو ضرور کھٹک جاتا۔ تاہم وہ بے بس تھا اور اِتنا کم حیثیت کہ کوئی خدشہ یا کوئی شکایت منھ پر لانے کا سوچتا بھی تو اس کی کمر کے کپڑے گیلے ہو جاتے تھے۔

واقعات کے اِسی تسلسل میں ‘ جب جیجو مایوسی کی اس انتہا کو پہنچ گیا تھا جس میں خودسے خدشہ ہونے لگتا ہے کہ اس روگ سے تنگ آکر کہیں اَپنی جان کا نقصان ہی نہ کر بیٹھے‘ ایک ایسا واقعہ ہوا کہ مایوسی اس کے بدن سے خود بخود نچڑ گئی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ فضل جُو گاﺅں کے دوسرے لونڈوں سے اُلجھ پڑا تھا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اور جیجو کی آوی کے چکر لگائے یہ اکیلا تھا اور وہ چار ‘لہذا انہوں نے فضل جُو کی ہڈیاں کوٹ کر رَکھ دِی تھےں۔ یہ واقعہ اگرچہ خُوشگوار نہ تھا مگر اس ایک واقعے نے کل تک گاﺅں بھرکے دوسرے لونڈوں جیسا نظر آنے والے فضل جُو کو ان سب سے مختلف ہو کر دیا تھا جو اس کی بیٹی فیضلاں پر شرمناک نظریں گاڑنے اورلَپ لَپ رَالیں ٹپکانے والے تھے۔

پیش اِمام صاحب جتنی بار مسجد جاتے تھے‘ فضل جُو لگ بھگ اتنی ہی باربہانے بہانے سے جیجو کے گھر کے پھیرے لگا آتا۔ فضل جُوکا باپ گاﺅں کی مسجد میں پیش امام تھا اور جیجو کمہار ماشکی۔ جیجومسجد کا پانی تو باقاعدگی سے بھرتا تھا مگر نمازی وہ عید بقر عید والا تھا کہ اس بہانے اسے کپڑوں کا نیا جوڑا پہننے کو مل جاتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ نئے کپڑے جسم پر نماز کے بعد ہی حلال ہوتے اور زیادہ عرصے تک چلتے تھے۔ کپڑوں کے نئے جوڑے میں برکت کی نیت سے وہ مسجد کے اندرجاکر ماتھا ٹیک آتا تھا مگر پوری یکسوئی سے نمازاس لیے نہ پڑھ پاتا کہ رکوع میں جاتے ہوے یا پھرسجدہ کرتے ہوے کپڑوں کا نیا پن اسے اَپنی طرف متوجہ رَکھتا تھا نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے نکلتے ہی اسے فکر لاحق ہو جاتی تھی کہ سجدہ کرتے اور رکوع میں بیٹھتے ہوے اس کے کپڑے گھٹنوں تلے آکر مسک گئے ہوںگے وہ تسلی کرنے لیے راہ میں کئی بار جھک کر انہیں دیکھتا ‘ ہاتھوں میں تان کر اور پھٹک کر جانچتا۔ ایسا کرنے میں وہ اس قدر مگن ہوجاتا تھا کہ اکثرراہ گیروں سے ٹکرا جاتا تھا۔ ایسے میں اسے تو بہت خجالت کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب کوئی بڑی عمر کی خاتون اس پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتی تھی۔

گاﺅں کی دوسری روایات کی طرح کمہار ہونے کی حیثیت سے ماشکی کا کام بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ نمازیوں کی خدمت کا جذبہ اس کے اندر شاید اس لیے پیدا نہ ہو سکا تھا کہ مسجد کا حوض بھرتے بھرتے اس کی کمر دوہری ہوگئی تھی۔ جب بھی اس کے کپڑے پھٹتے تھے ‘ یا تو کمر سے پھٹتے ‘جہاں وہ مشک ٹکایا کرتا تھا یا پھر عین گھٹنوں کے اوپر سے۔ اسے ہربار شک ہوتا کہ پہلے روز سجدہ کرتے وقت گھٹنوں تلے آکر کپڑا زمین سے رگڑکھا کرپتلا ہوگیا ہوگا اور چھاننی بن جانے والا کپڑاتو ایک روز پھٹ ہی جایا کرتا ہے۔ ایسے میں وہ خلوص ِدِل سے تمنا کرتا کہ کاش وہ ماشکی نہ ہوتا اورصرف کمہار ہوتا مگر دوسرے ہی لمحے اسے اَپنی حماقت پر رونا آجاتا تھا کہ بھلا کیسے ممکن تھا ؛ایک آدمی کمہار تو ہو اور ماشکی نہ ہو؟

کمہار ہو کر مسجد کا ماشکی ہونا اسے وراثت میں ملا تھا اس کا باپ‘ بہت پہلے شدیدسردیوں میں ‘ابھی تاروں کی چمک مدہم نہیں ہوئی تھی اور شیدے بانگی نے فجر کی اذان بھی نہیں دی تھی‘ پانی بھرکر لاتے ہوے عین مسجد کی پرلی نکر کے پاس ‘ٹھوکر کھاکر منھ کے بل گر گیا یوں کہ‘ چمڑے کی مَشک کے منھ پر مضبوطی سے جما اُس کا ہاتھ ڈِھیلا پڑ گیا ‘ اور گڑ گڑ کرتا پانی نکل کر اسے پوری طرح بھگو گیا تھا اُسے گھٹنے پر چوٹ آئی ‘ چوٹ اگر چہ زیادہ نہ تھی مگر کسی پتھر کی نوک پر پڑنے سے گھٹنے میں اتنی فوری اور شدیدتکلیف ہوئی تھی کہ اس کی آنکھوں کے آگے تِرمِرے ناچ گئے تھے جب تک اس درد کی شدت مدھم ہوئی‘ مشک کا یخ پانی اسے پوری طرح بھگو چکا تھا گھر پہنچا تو وہ ٹَھرّوںٹَھرّوں کر رہا تھا پھر اسے تپ چڑھا اور اس تپ نے اسے اتنی ہی مہلت دی کہ مشک بیٹے کو تھمادیتا بیٹے کی مسیں ابھی پوری طرح بھیگی نہ تھیں کہ بھیگا ہوا باپ ٹھٹھر کر مر گیا۔ اسے مشک سے نفرت ہو گئی…. مگر وہ اس نفرت کے ساتھ زندہ رہنے پر مجبور تھا۔

جیجو اپنے مرحوم باپ کی طرح وضو خانے سے ملحق حوض کو پانی سے بھرتا رہتا۔ حوض ہر نماز کے بعد خالی ہو جاتا تھا اسے ان لوگوں پر بہت غصہ آتا جو اس کے گمان میں زیادہ پانی خرچ کرتے تھے۔ ان میں سے جازو جولاہے‘ فیقے مستری اور میر شفیع کو وہ مسجد سے واپس آتے ہوے ہر بار اس حال میں دِیکھا کرتا کہ ان کی قمیضوں کے دَامن ‘داڑھیاں یا پھر شلواریں گھٹنوں تک تر نظر آتی تھیں۔ سودے لُون کے بارے میں توگاﺅں بھر میں لطیفہ مشہور تھا کہ اسے اپناایک ایک عضو بھگونے کے لیے الگ سے بھرا ہواپانی کا لوٹاچاہیے ہوتا ہے۔

جیجو جب بھی خالی مشکیزہ کندھے پر جماکر سائیں سوجھے کی چِٹّی قبر کے پیچھے سے ہوتا پہاڑی کے مُڈھ سے بَل کھا کر گزرتے پتلاپانی تک پہنچتا تھا تو اس کے پاﺅں کے پنجے ڈھلوان میں مسلسل اُترنے کی وجہ سے اوپر اٹھنا بھول چکے ہوتے تھے۔ اسے وہاں سے مشکیزہ بھرنا ہوتا تھا وہاں پتھروں پر آگے ہی آگے چھچھلتی پھسلتی چلے جانے والی اُتھلے پانی والی یہ ندی پیالہ بن کر لمحہ بھر کے لیے پانی ٹھہرا کر آئینہ بنالیتی تھی۔

وہ مشکیزہ بھر کر اس کا منھ مٹھی میں دَبالیتا اورشیشہ بنے پانی میں خاکوٹ کے مکانوں کے عکس دیکھتا تو اس کا دِل بیٹھ جاتا تھا۔ ایسے میں جھک کر کندھے پر مشکیزے کواٹھانا اور بھی مشکل ہوجاتا تاہم وہ بوجھل دِل کے ساتھ اوپر کو چل دیتا تھا مسجد تک پہنچتے پہنچتے اسے سودے لُون سے جازو جولاہے تک جو بھی یاد آتا اس کی دِل ہی دِل میں ماں بہن ایک کرتا جاتا تاہم وہ واقعہ جس نے اس کے روّیے کو تبدیل کرکے رکھ دیا تھا‘ وہ فضل جُو کا گاﺅں کے دوسرے لونڈوں سے مار کھانا تھا اَب وہ اوپر سے پتلے پانی تک جس طرح بھاگتا ہوا جاتا تھااور جیسے پانی سے بھر اہوا مشکیزہ اٹھا کرپنجوں کے بَل اچھلتا کودتا اوپرپہنچتاتھا‘اُس پر سائیں سوجھے کی چٹی قبر ہر بار اسے حیرت سے دیکھنے لگتی تھی۔

بُری طرح پِٹ کر زخمی ہونے والے فضل جُو کو جب لوگوں نے اُس کے گھر پہنچایا تو اس کی ماں ‘ جو بچیوں کو قرآن پڑھانے کی نسبت سے گاﺅں بھر میں محترم تھیں اور سب انہیں بی بی صاحبہ کہتے تھے ‘ پہلے تو بیٹے کی حالت دیکھ کر چکرا کر گریں ‘ اور جوں ہی ہوش آیا ‘ چھاتی پیٹ پیٹ کر اپنے بچے پر یہ ظلم ڈھانے والوں کو کوسنے لگیں۔ پیش امام صاحب عصر کی نماز کے بعد مسجد گئے تو واپس پلٹنے کی بہ جائے اپنے مُرشد کے ملفوظات کی کتاب پڑھنے کے لیے وہیں حجرے میں بیٹھ گئے تھے ‘ خلاف معمول اَپنی بی بی کی کوسنے اٹھاتی آواز سنی تو ہڑ بڑا کر حجرے سے باہر نکلے اور مسجد کے دروازے سے ملحق اپنے گھر کے دروازے پرجمع ہجوم کو چیرتے اندر گھس گئے۔ لوگوں نے اتنے قلیل عرصے میں وہ اشارے کر دے دِیے تھے جو بیٹے کی حالت دیکھ کراور بی بی کے بین سن کر انہیں سارا معاملہ سمجھا گئے تھے۔ تاہم اس لمحے جب وہ اپنے گھر کے آنگن میں کھڑے تھے‘انہیں نہ تو زخمی بیٹا نظر آ رہا تھا نہ پڑوسنوں کے درمیان کھڑی چھاتی کوٹتی اور گالیاں بکتی بی بی کہ وہ تو اَپنی اس نیک نامی اور عزت کو خاک میں ملتا دیکھ رہے تھے جو عمر بھر کی ریاضت کا حاصل تھی۔ انہوں نے چھاتی کو وہاں زورسے دبایا جہاں انہیں بوجھ محسوس ہو رہا تھا ‘ آنکھوں کے آگے اندھیرا سا لہرانے لگا۔ اس خدشے کے باعث کہ کہیں چکرا کر وہ گر ہی نہ جائیں وہیں زمین پر بیٹھ گئے۔ بی بی صاحبہ نے پیش امام کو یوں زمین پر بیٹھتے دیکھا تو ان کی آواز حلقوم ہی میںڈھے گئی تھی۔

شام کی نماز سے پہلے پہلے وہ ہوش میں آگئے تھے ‘ مگر ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ مسجد جائیں۔ تاہم انہوں نے یہ نماز قضا نہیں ہونے دی اور جب وہ رو رو کر اپنے ان گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے جو ان کی یادداشت سے باہر پڑے تھے اور جن کی سزا اُنہیں اِس رُسوائی کی صورت مِل رہی تھی تو آنسوﺅں سے اُن کی داڑھی بھیگ گئی تھی وہ بہت دیر بعد مصلے سے اٹھے‘ زخمی فضل جُو کا ہاتھ تھاما ‘ یوں زور سے جَھٹکادے کر اُسے چارپائی سے اتار‘ کہ اگر وہ نہ اُترتا تو ہو سکتا تھا اُس کا بازو ہی کندھے سے اُترجاتا بی بی صاحبہ نے یہ دِیکھا تو بھاگتے ہوے بیچ میں آئیں پیش امام صاحب نے اسے دوسرے ہاتھ سے پرے دھکیل دیا وہ فضل جُو کو گھسیٹتے ہوے باہر نکل گئے گاﺅں والے ایک بار پھر بی بی صاحبہ کی چیخیں سُن رَہے تھے۔

جیجو کے لیے اَن ہونی ہو گئی تھی۔ پیش امام صاحب نے کچھ نام لیے اور انہیں فوراً بلا لانے کو کہا۔ جیجوسب کو بلا لایاحالاں کہ یہ سارے وُہ لوگ تھے‘ جن کی داڑھیاں ‘ دامن یا گیلی شلواریں ہمیشہ اسے جی ہی جی میں مغلظات بکنے پر مجبور کیاکرتی تھیں۔ مگرجب وہ ان سب کو آوی کے پاس اَپنی ٹوٹی ہوئی ان دوچارپائیوں پر بیٹھا دیکھ رہا تھا جن کے علاوہ اس کے گھر بیٹھنے کو کچھ تھا ہی نہیں‘ تو یہ بھی دِیکھ رہا تھا کہ ان کے چہرے نور دھارے نے اجال رکھے تھے پیش اِمام سمیت یہ سارے لوگ اُسے آسمان سے اُترے ہوے فرشتے لگ رہے تھے۔

لذت کہاں تھی؟

ماسٹر فضل جُو اب مڑ کر فضیلت کے بارے میں سوچتے تھے تو انہیں یوں لگتا تھا جیسے وہ تو ان کے لیے آسمان سے اُتری تھی ‘ پنکھ لگاکر۔ وہاں جہاں جیجو کی آوی تھی گاﺅں کے لڑکوں سے پٹنا‘ ماں کا چھاتی کوٹ ڈالنا‘ ابا کا چکرا کر گرنااور پھر گاﺅں والوں کا جیجو چاچے کی آوی پر اکٹھے ہو کر اس کا نکاح کر دینا بس ایک بہانہ اور وسیلہ تھا۔

جب وہ چھاتی سے قرآن لگائے فضیلت کو سوچنے لگتے تو ڈھیروںوقت تیزی سے معدوم ہو جاتا تھا۔ جتنا وقت ا نہوں نے فضیلت کو سوچتے گزار دیا تھا‘ اتنا تو وہ ان کے پاس رہی بھی نہیں تھی۔ جس طرح فضیلت کو جنم دیتے ہوے اس کی ماں مر گئی تھی بالکل اسی طرح ‘اَپنی شادی کے لگ بھگ چوتھے سال‘ جب کہ ابھی وہ محض انیس سال کی تھی‘ ماسٹر فضل جُو کے بیٹے کو جنم دیتے ہوے وہ خود بھی دم توڑ گئی تھی۔ ان چار برسوں کی رفاقت انہوں نے کھینچ تان کر ساری عمر پر پھیلا لی تھی۔ چپکے سے چلے جانے والی ‘ پنجوں کے بل چل کر آجاتی تھی اور سارے میں اُجالا پھیل جاتا تھا۔

” فضیلت ادھر آﺅ تمہیں پڑھنا سکھا دوں“

وہ اُسے پاس بلاتے ‘ قرآنی قاعدہ کھول کر پہلے حرف پر انگلی رَکھتے اور اس کی بھولی صورت دیکھ کر ” آ“ کی آواز نکالنے کو کہتے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتی۔

یہ کیا پڑھنا ہوا جی ‘ اس طرح تو میں ابا کے کہنے پر شیدو ہاتو کی مرغیاں گھیرا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔“
فضیلت اتنے بھولپن سے یہ کہتی تھی کہ فضل جُو کی بھی ہنسی چھوٹ جاتی۔

وہ فوراًہی مچلنے لگتی کہ اسے اسی طرح پڑھنا سکھایا جائے جس طرح خود لہک لہک کر ماسٹر جی تلاوت کرتے تھے۔ وہ بھاگ کر جاتی اور کارنس سے قرآن پاک اٹھالاتی۔ محبت سے اس کا غلاف الگ کرتی۔ اسے دائیں اور بائیں آنکھ سے لگا کر چومتی اوردونوں بازﺅوں میں یوں بھینچ لیتی تھی جیسے وہ اس کتاب کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینے میں اتار لینا چاہتی ہو۔ ماسٹر فضل جُو کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اَپنی بیوی کی اس خواہش کو کس طرح پورا کرے وہ شدید خواہش رَکھتے ہوے بھی لفظوں کو پوری صحت کے ساتھ اور صحیح مخرج سے ادا کرنے پر قادر نہ تھی بعض اوقات تو وہ سبق دہرانے میں اتنی شدید غلطیاں کر جاتی تھی کہ وہ” نعوذ باللہ ‘نعوذبا للہ“ کا ورد کرنے لگتے تھے۔ انہیں ساری عمر افسوس رہا تھا کہ وہ اسے نہ تو ڈھنگ سے نماز پڑھنا سکھا پائے تھے نہ قرآن۔ مگر جس طرح وہ سینے سے قرآن لگا کر لہک لہک کرگاتی رہتی تھی اس کی بابت سوچتے تو پورے بدن میں ایک عجب طرح کا کیف اور مستی بھر جاتی تھی:

”اَتُل کھرسی وِچ قرآن
آسوں پاسوں‘تو رحمان
لوہے دِیاں کنجیاں ‘تَرامے دِے تالے
یا نبی تُساں کرماں والے
کول میرے ہن کوئی نئیں تھوڑ
اللہ والے مینوں تیری لوڑ
یانبی دِی چڑھی سواری
چواں گُٹھاں دِی خبر داری“

اپنے پاک نبی کی اِس خبرداری میں وہ نہال رہتی تھی۔ تاہم”آیت “ اور ”کرسی“ کے عام سے الفاظ بھی وہ صحیح طور پر ادا کرنے پر قادر نہ تھی ”آیت“ اور” ال “ کو ملا کر پڑھتی تو ”اَتُل “ ہو جاتا اور ”کرسی “ کی بہ جائے وہ ”کھرسی “ کہتی تھی ماسٹر صاحب سمجھاتے :
”کھرسی نہیں کرسی“

اور وہ سوچے سمجھے بغیراِنتہائی عقیدت اور محبت سے دہراتی:
”کھرسی نہیں کھرسی“

جتنی بار اس کی تصحیح کی جاتی وہ اتنی بار‘ ویسے ہی پڑھ دیتی تھی جیساکہ کوئی لفظ شروع سے اس کی زبان پر چڑھا ہواہوتا تھا تاہم جب وہ خود تلاوت کرنے لگتے تو اصرار کرتی کہ آوازذرا بلند رکھی جائے وہ لپٹ لپٹا کر پاس ہی بیٹھ جاتی اور ہر آیت میں حروف کی ادائی کے دوران جس طرح آواز اوپر نیچے ہوتی اس کی سانسیں بھی پھولنا شروع ہو جاتیں۔ حتی کہ وہ ہچکیاں باندھ کر رونے لگتی تھی نمازکے لیے وہ اماں بی بی صاحبہ کی طرح دوپٹہ خوب اچھی طرح لپیٹ لیتی تھی۔ پانچوں وقت مصلے پر ضرور کھڑا ہوتی ماسٹر صاحب یہ سوچ کر کہ وہ نماز میں کیا پڑھتی ہو گی اپنے تئیں بہت شرماتے رہتے مگر نماز میں اس کی حضوری کا عالم دیکھتے تو خود پر شرماتے تھے انہیں بہت جلد اِحساس ہو گیا تھا کہ قرآن پڑھنے کا معاملہ ہو یا نماز روزے کا نادُرُست ہو کر بھی وہ سب کچھ اتنے یقین‘ محبت اور اہتمام سے کرتی تھی کہ انہیں اس کے مقابلے میں اپنا ایمان اور علم دونوں ہیچ لگنے لگتے تھے۔ وہ مر گئی تو بھی ماسٹر صاحب اس کے مقابلے میں خود کو کمتر سمجھتے رہے اسے خوابوں میں بلاتے اور اس سے اس خالص پن کا سبق لیتے جو اس کے وجود سے نور بن بن کر چھِن رہا تھا۔
مگر‘ کچھ دنوں سے یہی نور اُن کی آنکھوں میں چبھتا اور سینے میں چھید کرتا تھا شاید اب ماسٹر فضل جُو کچھ زیادہ ہی زودحِس ہو گئے تھے انہیں فضیلت کا یوں آنا بار بار ستانے کے مترادف دِکھنے لگا تھا۔ تاہم اس کاتو وہی معمول تھا جو ہمیشہ سے رہا تھا۔ رات کے کسی پہر چلے آنے والا‘ پنجوں کے بل ….اورچپکے سے وجود میں سرایت کر جانے والا…. اس معمول میں کبھی رخنہ نہیں آیا تھا۔ اور شاید اس سے کم پر فضیلت خود بھی راضی نہ تھی۔

ماسٹر صاحب نے خوب اِحتیاط سے ان زیادہ ستائے جانے والے دنوں کا حساب لگایا تو یہ اتنے ہی بنتے تھے جتنے دنوں سے وہ اپنے بیٹے کے ہاں اُٹھ آئے تھے اَب پیچھے پلٹ کر دِیکھتے تھے توبیٹے کے ہاں اُٹھ آنا انہیں یوں لگنے لگتا جیسے زِندگی یکدم رس سے خالی ہو گئی ہو۔ ایک خوب صورت سنہرے سیب جیسی زِندگی ‘ جوماسٹر صاحب کی دَست رَس میں تھی‘ وہ اس پر اپنے دانت گاڑھ سکتے تھے مگر اس میں سے لذّت نکلتی ہی نہ تھی۔ ہر بار منھ پھوگ سے بھر جاتا تھا۔

زمین کے چلنے سے پہلے

جو زِندگی وہ تج کر یہاں آگئے تھے اُس کے آخری حصے میں ان کی روح کے لیے اگرچہ لذّت کے ہلکورے باقی تھے مگر بدن کے ضعف نے اس میں سو طرح کے رَخنے ڈال دےے تھے اُن کی سانسیں ناہم وار رہتیں اور جوڑوں میں درد بھی وقفے وقفے سے جاگ اُٹھتا تھا۔ ایسے میں ماسٹر فضل جُو نے وہ جو عمر بھرکی ریاضت سے دین اور دنیا میں توازن کاایک نظام قائم کرلیاتھا ‘اس میں انہیں سو طرح کی خرابیاں نظر آنے لگتیں۔ ان کی زِندگی کرنے کا وتیرہ ان کے بہشتی باپ سے بالکل مختلف تھا گزرے ہوے زمانے کے ایک پیش امام کی دنیا ہو بھی کتنی سکتی تھی ڈیڑھ دوسو گھروں پر مشتمل چھوٹی سی بستی خاکوٹ میں زِندگی تھی بھی بہت سادہ اور اکہری مگر پیش امام اس سے بھی دست کش رہے تھے مسجد ‘ اس کا حجرہ یا پھر ایک کمرے اور پسار والا گھر۔ مسجد سلکھنی کے صحن سے گاوں کے بچوں اور ان کے گھرسے بچیوں کے سبق دہرانے کی آوازیں گونجتی رہتی تھیں….یوں‘ جیسے سپارے نہ پڑھے جا رہے ہوں‘بہتاپانی پتھروں سے پھسلتا‘ گنگنا کر گزرے چلا جاتا ہو۔

بی بی صاحبہ کی زِندگی کی ضروریات تو پیش امام کی ضرورتوں سے بھی کم تھیں۔ چولہا بھی کبھی کبھار ہی جلنے پاتا تھا کہ گاﺅں والوں نے اپنے آپ ہی دِن باندھ لیے تھے کسی نے دِن کے اُجالے میں پیش اِمام اور بی بی صاحبہ کوآپس میں بات کرتے نہ دیکھا تھا۔ حتّی کہ فضل جُو کو بھی ماں باپ کاباہم صلاح کرنایا کسی بات پرکُھل کرقہقہہ لگانا یاد نہ آتا تھا۔ بعد میں جب بھی انہوں نے اپنے باپ کو ذہن میں لانا چاہا اُن کے دھیان میں مسجد سلکھنی کا‘ روئی کے گالوں جیسی داڑھی والا پیش اِمام آجاتا تھا ‘جس کا سر ہمیشہ کروشیئے والی سفید ٹوپی اوربُمَل بندھے چارخانوں والے رومال سے ڈھکا رہتا تھا۔

پیش امام صاحب گھر میں داخل ہونے کے بعد جوں جوں پسار کی طرف بڑھتے توں توں اُن کی گردن جھکتی چلی جاتی۔ اس اثنا میں اُن کی ماں کا گھونگھٹ بھی نکلنے لگتا تھا۔ وہ اَپنی انگلیاں ماتھے کے وسط سے اوپر‘ وہاں سے چادر کو گرفت میں لے کر لمبا گھونگھٹ نکال دِیتی تھیں‘ جہاں سے چاندی جیسے بالوں کے درمیان ‘بالکل سیدھ میں مانگ نکلی ہوتی تھی۔ اُن کا گھونگھٹ اِتنا لمبا ہوتا کہ وہ اس لمحے فضل جُو کی ماں یا اس کے باپ کی بیوی نہ رہتی تھی بی بی صاحبہ ہو جاتی تھیں۔ ایسے میں فضل جُو کی سماعتوں میں پسار کے اند رسے پتلے پانی کے بہاﺅ کی رچی بسی گنگناہٹ خود سے جاری ہو جاتی تھی۔

فضل جُومیں حوصلہ تھا نہ ہمت کہ وہ پیش امام صاحب جیسی زِندگی کواپنے لیے اختیار کرتے محکمہ تعلیم میں نوکری مل گئی تھی ‘ ہر طرف سے احترام ملاجسے دیکھو ‘ماسٹر صاحب ‘ماسٹر صاحب ‘کہتے تھکتا نہ تھا۔ لوگ سلام کرنے میں پہل کرتے۔ جہاں وہ تھے وہاں ابھی استاد ہونا یا صاحب علم ہونا واقعی لائق تکریم تھا جب ہر طرف سے اتنی عزت ملی تو چھاتی پھولنے اور شملہ تننے لگا۔ تاہم اس سب کو وہ اس کی عطا سمجھتے رہے تھے جس کے لیے اُن کے اَبا جی نے دنیا تج دِی تھی۔

جب تک وہ اَپنی زِندگی میں رُجھے رہے ‘سب کچھ ٹھیک ٹھیک چلتا رہا۔ مگر ریٹائرمنٹ کے بعد ‘ اور اَپنی عمر سے مات کھا کر ‘جب سے وہ بیٹے کے ہاں اُٹھ آئے تھے اُن کے اَندر بہت توڑ پھوڑ ہوئی تھی۔ انہیں جس خدا سے معاملہ رہا تھا وہ اس جدید طرز کے ٹاور کے کسی اور حصے میں ہو تو ہو وہاں نہیں تھا جہاں اُن کا بیٹااور بہو رہتے تھے۔ شاید یہی سبب ہوگا کہ اپنے کمرے میں انہیں اسے پاس بلانے رابط خاص قائم کرنے اور اس کا ہو جانے میں بہت جتن کرنے پڑتے تھے اگرچہ اس گھر میں اشیاءنے بہت جگہ گھیر رکھی تھی تاہم یہ خلوص سے جتن کرتے تھے تو وہ راہ بناتا چلا آتا تھا۔

اس رات کہ‘ جس کے معدوم ہو چکنے کے بعد بھونچال کوچپکے سے آکر سب کچھ تلپٹ کر کے رَکھ دِینا تھا‘عین اسی رات کو فضیلت نے آکرماسٹر فضل جُو کو بہت ستایا تھا۔ وہ پڑھتے ہوے بار بار اونگھتے اور اِسی اونگھ جھپکی میں لمبا غوطہ کھا جاتے ‘ یوں جیسے پینگ ہلارے لیتے لیتے ایک لمبی جست لے اوربادلوں میں اترکر واپس آنا بھول جائے۔ خواب کے اس لمبے ہلارے نے جن بادلوں میں انہیں اتارا تھا ‘وہاںفضلیت تھی‘ جو بار بار پوچھے جاتی تھی:

” ماسٹر جی تم ان کے لیے کیوں پڑھتے ہو جو خود پڑھ سکتے ہیں‘ مگر پڑھنا نہیں چاہتے ؟‘‘
ماسٹر جی چپ رہے تو وہ تن کر اُن کے سامنے کھڑی ہو گئی :
”دیکھیں جی‘ میں جو ہوں آپ کے سامنے ‘ بالکل کوری‘ ایک بھی مبارک لفظ ڈھنگ سے نہ پڑھ سکنے والی ‘ لیکن ایک ایک لفظ کے لیے اپنے پورے وجود کو سماعت بنا لینے والی …. آپ میرے لیے کیوں نہیں پڑھتے جی؟“
انہیں کوئی جواب نہ سوجھا تو وہ ہڑبڑا کر اُٹھ گئے اور پورے بدن کو جھلا جھلا کر پڑھنے لگتے غالباً وہ تیسرا یا چوتھا جھلارا ہوگا کہ ایک سرگوشی کی سنسناہٹ پورے کمرے میں تھرا گئی:
’ ’ کوئی نہیں سن رہا“

انہوں نے اس آیت پر انگلی رکھی جسے پڑھ رہے تھے اور کمرے میں چاروں طرف دیکھا۔ چپکے چپکے اورٹھہر ٹھہر کر یوں جیسے انہیں یقین ہو کہ وہاں کوئی تھا مگر اَپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے ان کی نظروں میں آنے سے بچ رہاتھا۔ تھک ہار کران کی نظر یں پاک صحیفے پر سرنگوں اَپنی شہادت کی انگلی پر آکر رک گئیں مگرزبان تالو کے ساتھ چمٹی رہی انہوں نے قرآن پاک کو وہیں سرہانے پر کھلا رکھ دیا اور ٹانگیں سیدھی کرکے پلنگ سے لٹکانا چاہیں ایک آدھ لمحہ اُس اینٹھن کو جَھٹکنے میں لگ گیا جوایک ہی رخ بیٹھے بیٹھے ان ٹانگوں میں ہونے لگی تھی تاہم جب ٹانگوں پر بوجھ ڈال کر کھڑے ہو ئے تو وہ بہت جلد توازن برقرار رکھنے کے قابل ہو چکے تھے۔

انہوں نے کھڑے کھڑے فضا میں متحرک ان مقناطیسی لہروں کو محسوس کیا جو پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی تھیں۔ یہ لہریں اُن کے جسم پر یوں رینگنے لگیں جیسے چیونٹیاں رینگتی ہیں‘ جس سے ان کے بدن کا رواں رواں کھڑا ہو گیا۔ اُن کے دِل پر بھی خُون کا دباﺅ بڑھ رہا تھا جس نے انہیں بوکھلا دِیا اس بوکھلاہٹ میں ان کے قدم دروازے کی سمت اٹھنے لگے جب وہ دروازے کی طرف جا رہے تھے توانہیں یوں لگا تھا؛جیسے عین ان کے عقب میں فضلیت بھی پنجوں کے بل چلی آتی تھی۔ وہ غصے میں دھونکنی کی طرح چلنے والی اس کی سانسوں کی آنچ بھی اَپنی گردن پر محسوس کر رہے تھے :

”وہاں کوئی نہیں ہے “
اُنہوں نے پیچھے مڑ کر دِیکھا وہاں آواز نہیں ‘ایک سسکاری تھی۔ دِل بیٹھنے لگا تو دھیان ہٹانے کے لیے آگے بڑھ کر دروازہ چوپٹ کر دیا ….
وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔
لاونج کے خالی پن کو چیر کر ان کی نظر یں اپنے بیٹے اور بہو کے بیڈ روم کے بند دروازے پرپڑیں۔ ایک عجب طرح کی بے پرواہی وہاں ٹھہری ہوئی تھی۔

دروازے میں کھڑے کھڑے جب اُن کے سوچنے کے لیے کچھ نہ رہا تو ماسٹر فضل جُو نے گردن موڑ موڑ کر کمرے میں دیکھنا بھی معطل کر دیا تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ وہاں اب کسی کی خُوشبو تھی نہ قہقہے‘ سرگوشیاں تھیں نہ لہجے کی وہ آنچ جو کب سے ان کی محسوسات کا حصہ تھی۔ وہاں فقط برہم اور اجنبی سی مقناطیسی لہریں تھیں تعطل کے اسی عرصے میں انہیں یاد آیا کہ وہ بستر کے سرہانے قرآن کھلا چھوڑ آئے تھے:

”بیٹا قرآن یوں کھلا نہیں چھوڑتے ‘ شیطان پڑھنے لگتا ہے“

یہ بی بی صاحبہ کی آواز تھی۔ نحیف سی آوازجو انہوں نے مُدّت بعد سنی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ شیطان کے قرآن پڑھ لینے والی بات محض اس لیے کی جاتی تھی کہ بچیاں قرآن پڑھنے کے بعد غلاف میں لپیٹ کر اور کارنس پر رَکھ کر جایا کریں تاہم بعد میں انہوں نے اس کا یہ مفہوم خودسے اخذ کر لیا تھا کہ مومنین کے لیے ہدایت بنتی آیات کو شیطان مردود کھلے قرآن سے اُچک کر ان میں سے اپنے مطلب کے معنی نکال کر اِدھر اُدھر پھیلا دیتا ہوگا؛ تب ہی تو پہلی عمر میں تواتر سے سنے گئے اس جملے کے سچا ہونے کا انہیں یقین سا ہو چلا تھا۔ انجانے خوف کے زیرِ اثر وہ بھاگتے ہوے اپنے بیڈ تک پہنچے ‘ سرہانے سے قرآن پاک کو اُٹھا کر تَہ کرتے ہوے کئی بار بوسے دیئے اسے آنکھوں سے لگا کرسینے کے ساتھ چمٹایااور دروازے میں آکھڑے ہوئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب زمین اپنے آپ چل پڑی تھی۔

ملبا درد کی گرہیں کھولتا ہے

کہتے ہیں جب پیش امام صاحب ‘ نے کچی لکیر پار کی تھی تو پیش امام نہیں تھے۔ وہ تو اُدھرپونچھ میں صاحب حیثیت آدمی تھے ماں باپ نے لس جُو نام رکھا اور اِسی نام سے پکارے جاتے تھے۔ ایک بار یوں ہوا کہ وہ حضرت بل کے پاس سے گزرتے ہوے بے ارادہ اندر داخل ہو گئے۔ دِل پر ایسا رُعب پڑا کہ کئی گھنٹے باہر نہ آسکے۔ اِسی بے خودی کے دورانیے میں اُنہیں کچی لکیرپھاند لینے کا حکم ہوا۔ انہوں نے سب کچھ سے ہاتھ جھٹکا‘اور ادھر اٹھ آئے تھے۔ کچھ کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے کہ ان کا جوان بھائی مار دِیا گیا اور مارنے والے ان کے تعاقب میں تھے لہذا ادھر آنے کا حیلہ انہوں نے اَپنی جان اور نسل بچانے کے لےے کیا تھا۔

لس جُو نے جان بچالی تھی مگر اس کی نسل کے قدموں تلے‘ اب جو زمین تھی ‘وہ اپنے آپ چل پڑی تھی۔

جب لس جُو پونچھ سے تتری کوٹ آئے تھے تو ان کا وجود ایک عجب طرح کے شدیداِحساس سے لرزتا رہتا تھا۔ یہاں ادھر کی خبریں آتی رہتی تھیں جو احساس کے عُجب اور شدت میں اضافہ کرتی رہتیں۔ پوری طرح سمجھ میں نہ آنے والا یہ اِحساس انہیں کبھی تو ایک بار پھر کچی لکیر پار کرنے پر اکساتا اور کبھی اس سے دور پٹخ دیتا تھا۔ اس پراسرار اِحساس سے چھٹکاراپانے کے لیے انہوں نے اپنا گھر کاندھے پر رَکھ لیا اور پہاڑوں کے اندر بھٹکنے لگے۔ کبھی گڑمنڈہ‘ سدھن گلی‘ کامی منجہ اورحسّہ تو کبھی پرس ‘ بٹل اور چناری حتی کہ وہاں سے خاکوٹ آگئے جس نے انہےں اپنے اندر بسالیا تھا۔ پہلی بار تتری میں رہائش اِختیار کرنے کی مناسبت سے وہ ایک عرصہ تک لس جو تتری کہلاتے رہے۔ پھر یوں ہوا کہ مسجد سلکھنی کی پیش امامی ان کی زِندگی کا وظیفہ ہو گئی جس نے ان کا اصل نام سب کے ذہنوں سے محو کر دیا تھا۔

جس روز بھونچال آیا تھا‘اس روز دن ڈھلے تک سب یہ سمجھ رہے تھے کہ اسلام آباد کے پوش علاقے میں بس ایک ملٹی سٹوری ٹاور گرا تھا۔ وہی‘ جس کے چھٹے فلو ر پر ماسٹر فضل جُو شیطان کی نظر کھلے ہوے قرآن پر پڑنے کے خدشے سے اپنے بیڈ تک آئے تھے اور قرآن چھاتی سے چمٹا کر واپس دروازے کی چوکھٹ میں جاکھڑے ہوے تھے۔ عین اس وقت کہ جب بہت سارے کیمروں کو گواہ بنا کر حکومت کا سربراہ اس ٹاورکے ملبے پر چڑھ کر اعلان فرما رہے تھا کہ بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ‘ اس وقت تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ ادھر پہاڑوں پرکتنی بڑی قیامت ڈھے چکی تھی۔ وہاں زمین نے کئی پلٹے کھائے اور پہاڑوں نے بُھربُھرا ہو کر خاکو ٹ کواپنے اندر چھپالیا تھا۔ مسجدسلکھنی کے میناروں ‘ پیش امام صاحب اور بی بی صاحبہ کی قبروں ‘ جیجو کی اجڑ چکی آوی اوراوپر سے نیچے کو دھیمے سروں میں بہنے والے پتلے پانی‘ اور اس کے مکینوں کی نارسائیوں اور معصومیت سمیت سب کچھ خاک کا رزق ہو چکا تھا ….کہ اب وہاں کچھ بھی نہ تھا۔

لگ بھگ یہ وہی وقت بنتاہے‘ ملبے کے اوپر چڑھ کر تصویریں بنوانے والا‘ اور وہ بھی یوں جیسے کوئی شوباز شکاری پہلے سے مرے ہوے شیر کو دیکھے اور اس کے بدن پرپاﺅں رکھ کر لوگوں کے دلوں پر دھاک بٹھانے کے لیے تصویریں اتروانا شروع کردے ‘…. ہاں‘ عین مین وہی وقت ‘ جب اوپر سے کدال پڑنے ‘ اور لوہا کاٹنے کی آوازیںآنے والے کے پروٹو کول میں کچھ وقت کے لیے معطل ہو گئی تھیں۔ تب سیمنٹ اور سریے کی کئی تہوں تلے ماسٹر فضل جُو کو اپنے زندہ ہونے کا احساس ہوا تھا۔ بہت جلد زِندگی کے اِس اِحساس کوان کی دمچی سے ‘ ٹانگوں ‘پنڈلیو ں اورکمر سے بازﺅوں‘ گردن اور گدی سے اٹھنے والے درد نے پچھاڑ دیا تھا۔ وہ بے بسی اور درد سے جس قدر بلبلا سکتے تھے بلبلائے ‘رو ئے اورپھر سسکتے چلے گئے۔ مگر جب اُنہیں اِحساس ہوا کہ اُن کی چیخوں اور رونے دھونے کو سننے والا وہاں کوئی نہیں تھاتو وہ یوں چپ ہوگئے جیسے ازل سے بولنا جانتے ہی نہ تھے۔ تب انہیں اپنا بیٹا اور بہو ایک ساتھ یاد آئے۔ اپنے بہشتی ماں باپ کی طرح انہیں بھی انہوں نے آپس میں کم ہی صلاح کرتے یا کھل کھلا کر ہنستے دیکھا تھا تاہم اس ایک وتیرے کی تاثیردونوں کے ہاں بالکل مختلف اور متضاد ہو جاتی تھی۔ وہ دونوں‘جو اندر تھے ان کی آنکھوں کے سامنے والے دروازے کے پیچھے ‘ یقینا وہ ایک بیڈ پر ہوں گے مگر وہ اندازہ کر سکتے تھے کہ مصروفیت کی تھکن نے انہیں دونوں کناروں پر ہی گرادیا ہو گا ؛یوں کہ وہ پہلو بدل کر قریب بھی نہ ہو پائے ہوں گے۔ اس فاصلے کو انہوں نے ان کے بیڈ روم کے دروازے پر کھدا ہو دیکھ لیا تھا یہ جو آنے ولا وقت اُن کی محسوسات پر دستک دینے لگتا تھا اس سے بچنے کے لیے انہوں نے اندازے لگانا بند کر دیے تھے۔

ابتدا میں جو اندازے لگائے جارہے تھے وہ سارے ہی غلط ہو چکے تھے۔ تتری کوٹ سے خاکوٹ تک پہاڑوں پر بستیاں لاشوں سے بھری پڑی تھیں اور انہیں بے گوروکفن پڑے اتنا وقت گزر چکا تھا کہ وہ تعفن چھوڑنے لگی تھیں انہیں یا تو دفنانے والا کوئی نہ بچا تھا اور اگر کوئی بچ گیا تھا تو اپنوں کی اتنی لاشیں زمین میں دبا چکا تھا کہ اس کے ہاتھ شل ہو چکے تھے ادھر شہر کے وسط میں ڈھے جانے والے ٹاور سے بھی لاشیں نکالی جا رہی تھیں۔ ملبے میں سے گاہے گاہے زندہ لوگ بھی نکل آتے تھے اور جب ایسا ہوتا تو متحرک اور ساکت تصویریں بنانے والے کیمروں کو اٹھائے میڈیا کے منتظر لوگ بھاگ بھاگ کر اس کی تصویریں اتارنے اور رپورٹیں نشر کرنے میں سبقت لے جانے میں مگن ہو جاتے ایسے میں یوں لگتا تھا جیسے موت کے سناٹے سے زِندگی کی ہماہمی نے یک لخت جنم لے لیاہو۔ تاہم ابھی تک نہ توماسٹر فضل جُو کو دریافت کیا جا سکا تھا اور نہ ہی ملبے کے ڈھیر میں دبی ہوئی ایک بیڈ کے دونوں کناروں پر پڑی ان کے بیٹے اور بہو کی لاشوں کو نکالا جا سکا تھا۔

ماسٹر فضل جُو اِس سارے عرصے میں دَرد سہے چلے جانے کے لائق ہو گئے تھے اسی دوران میں انہیں یہ اِحساس بھی ہوا تھا کہ قرآن پاک اُن کی چھاتی سے لگا ہواتھا۔ تاریکی کی بے شمار تہوں کے باوجود اُنہوں نے چاہا کہ اُسے کھول کر پڑھیں۔ اَپنے بازوﺅں پر زور لگا کرایسا کرنا بھی چاہا مگر بازو جہاں تھے‘ وہیں جمے رہے۔ ملبے نے چاروں طرف سے اُن کے بازوﺅں کو جسم سمیت دَبا رکھا تھا ‘ یوں کہ وہ ذرا سی حرکت بھی نہ کر سکتے تھے۔ تب اُنہیں ایک بار پھر ایک نحیف سی آواز سنائی دے گئی تھی؛وہی شیطان سے چوکنا کرنے والی ماں کی آوازانہوں نے بازﺅوں کو کو کھولنے کے جتن ترک کر دِیے تھے۔

جب ٹھہرے ہوے وقت اور تاریکی کو کاٹ ڈالنے کا کوئی بھی حیلہ ان کے ہاتھ نہ لگا تو انہوں نے اَپنی یادداشت پر زور ڈال کر کچھ آیات تلاوت کرنا چاہیں مگر ہوا یہ کہ وہ سورة زلزال کی اِبتدائی آیات کے بعد سورة والعصر کی اِنسان کو خسارے میں بتانے والی آیات پڑھ گئے تھے انہوں نے پھر سے درست درست پڑھنا چاہا تو ایسا متشابہ لگا کہ کہیں سے کہیں نکل گئے۔ سب کچھ گڈ مڈ ہو رہا تھا۔ اس پر وہ اتنا بوکھلائے کہ اُمید کا دامن اُن کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ایسے میں انہیں اِحساس ہوا کہ وہاں تو سانس لینے کے لےے ہوا ہی نہیں تھی۔

اور جب ماسٹر فضل جُو نے اَپنے تئیں ملبے کے اَندر پھنسی ہوئی ہوا کو کھینچنے کے لیے آخری حیلہ کیا تو اُن کی پسلیاں چٹخنے لگیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سیمنٹ اور سریے کی تہیں کاٹ کرفضیلت وہاں پہنچ گئی تھی؛ سارے غصے کو تھوک کر‘ اور اُن ساری آوازوں کو ساتھ لے کر ‘جو ملبے میں دبنے والوں کے دُکھ سے بوجھل ہو گئی تھیں۔ یہ آوازیںگنتی میں نہ آنے والے لوگوں کے سینوں سے اُبل اُبل کر ویسی ہی گنگناہٹ پیدا کر رہی تھیں جیسی ماسٹر فضل جُو کی سماعت میں خاکوٹ کے پتلا پانی نے بسا رَکھی تھی۔ تب ماسٹر صاحب کو یوں لگا تھا کہ جیسے ان کے بازو تو ویسے ہی جکڑے ہوے تھے مگر اُن کے حصار میں موجود‘ ایک مُدّت سے خوابیدہ سارے مبارک اور روشن لفظ‘ خودبخود ان کی چھاتی کے اندرمقطر ہو رہے تھے۔ فضلیت نے آتے ہی اَپنے ہاتھوں کے ملائم لمس سے اُن کے وجود کی ساری گرہوں کو کھولنا اور سارے دَردوں کو سمیٹنا شروع کر دِیا تھا۔

وہ اَپنی ہی دُھن میں مگن رہی‘ حتی کہ اس کی ریاضت مستجاب ہوئی اور اسے اپنے سنگ آنے والی ساری آوازوں کے ساتھ ان کے وجود کے اَندر حلول کر جانے کا اِذن ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی زِندگی کی لذّت میں گندھا ہوا تازہ ہواکا لطیف جھو نکا ملبے میں گھس کر ان کے ڈھے جانے والے وجود کے اندر بہت گہرائی میں اترگیا …. اب صرف وہی سانس نہ لیتے تھے‘ پورا ملبا سانس لیتا تھا۔

Categories
نان فکشن

راجندر سنگھ بیدی کی یاد میں

راجندر سنگھ بیدی پر بات آغاز کرنا چاہتا ہوں اور اسی کے افسانے ’’ببل‘‘ کا یہ جملہ میرے خیالوں میں ایک گونج سی پیدا کررہا ہے
’’درباری لال شام سے گھر ہی بیٹھا سیتا کے ساتھ بیکار ہو رہا تھا‘‘
یہ جملہ بھی اور اس سے متصل ایک وضاحت بھی، لیجئے وہ بھی بتائے دیتا ہوں
’’کسی کے ساتھ بے کار ہونا ،اس حالت کو کہتے ہیں ، جب آدمی دیکھنے میں ایوننگ نیوز یا غالب کی غزلیں پڑھ رہا ہوں لیکن خیالوں میں کسی سیتا کے ساتھ غرق ہو۔‘‘

تو معاملہ یہ ہے صاحب، کہ پچھلے کچھ برسوں سے ہم نے غلام عباس، اختر حسین رائے پوری، حیات اللہ انصاری ، عزیز احمد، کرشن چندر، میراادیب وغیرہ کو صدی بھر کی شخصیت کے طور پر دیکھنا چاہا، انہیں بھی اورراشد،میرا جی ، مجید امجد، حتی کہ فیض جیسے ہر دل عزیز شاعر کو بھی ،مگر منٹو منٹو کے ہنگامے کے بعد لگتا ہے کہ تب سے اب تک غرق تو ہم منٹو کے ساتھ ہی ہیں اِدھر اُدھر تو سب بے کار ہو تے رہے ہیں۔ ایسی فضا میں کہ جب بہ قول انتظار حسین ،’’منٹو کا پیریڈ‘‘ بہت طوالت کھینچ چکا ہے ، لاہور کے ترقی پسندوں کی ہمت کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے اسی شہر میں پیدا ہونے ،اسی شہر میں عملی زندگی کو آغاز دینے ، اور اسی شہر سے اپنی تخلیقی قوتوں کے لیے تحریک لینے والے راجندر سنگھ بیدی کو خوب اہتمام سے یاد کرنا چاہا ہے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ بیدی کا ذکر بیکاری کے باب میں نہیں لکھا جائے گا۔ میرا جی چاہتا ہے ، اسے بھی طول کھینچنا چاہیے ، مگر میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے ، کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقت نے اپنی مٹھی میں بند کر رکھے ہوتے ہیں۔

خیر ایسا بھی نہیں ہے کہ جب منٹو کے ساتھ کسی اور کا ذکر نہ ہورہا تھا ، مجھے یاد ہے ہمارے محترم شمس الرحمن فاروقی کی منٹو پر ایک دلچسپ کتاب آئی ؛’’ ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ تو اس میں وہ انہوں نے بیدی کو بھی یاد کیا تھا ۔ اچھا،یہیں ایک بات کہتا چلوں کہ فاروقی نے بیدی کے جن دو افسانوں، یعنی’’ سونفیا‘‘ اور’’ متھن ‘‘کو رد کیاتھا، یہ دونوں کئی اعتبار سے میری توجہ کھینچتے ہیں ۔ مثلاً ان میں سے ایک افسانے میں سونفیا کا کردار جس قرینے سے بیدی کے قلم نے تراشا ہے ، جیتا جاگتا اور لطف لذت کے چھینٹے اُڑاتا ہوا،اِس سے پورے افسانے کا لفظ لفظ بیانیہ ایک متجسس دِل کی طرح دھڑکنے لگاہے۔ سونفیا بیس بائیس سال کی ایک کھلے ہاتھ پیر والی لڑکی ہے ۔ مطمئن بالذات ۔اوراس کے اندر کی آگ اور جوش کا اندازہ بس اتنا ہی لگایا جاسکتا تھا ، جتنا کہ کوئی دیکھنے والا بجلی کے تار کو دیکھ کر، اس کے اندر رواں قوت اور جوش کا لگا سکتا ہے۔ ہرے بھرے شاداب بدن والی سونفیا ہو یا’’ متھن‘‘ کی کیرتی ،آپ دونوں سے دور کہاں جا سکتے ہیں ،اور کتنے دور رہ سکتے ہیں ۔ آپ یہ کردار پڑھتے ہیں تو سونفیا اگر اپنے لانبے بالوں کا جوڑا بناتے ، اور دونوں ہاتھوں سے جوڑے کو دباتے اپنے بدن کے اُبھاروں کی ساری لذتیں پڑھنے والے کی جھولی میں انڈیل کر اُسے بھر دیتی ہے یا چھوٹے قد،مگر گٹھے ہوئے جسم والی اداس کیرتی ،جب نیوڈ بنانے کے بعداپنے آپ کو ساڑھی میں آگے پیچھے سے ڈھانپ رہی ہوتی ہے، تو پڑھنے والے، بدن سے چپکنے والے مہین کپڑے سے لذت قطرہ قطرہ اپنے اپنے حلقوم میں اتارنے لگتے ہیں۔ خیر، فاروقی صاحب کو اگرلگا کہ ان افسانوں میں عورت ذات کے خلاف بیدی کے دل میں کوئی نفرت تھی جو زہر بن کر اس کے قلم سے ٹپکنے لگی تھی تو مجھے لگا ہے کہ عورت کو جاننے ،اس کے قریب ہونے بلکہ قریب تر ہو کر اس سے پچھڑنے کی جو لذت بیدی کے ہاں ہے، اسے نفرت کے زہر سے تعبیر دینا بیدی کے ساتھ ظلم کے مترادف ہوگا۔

ممکن ہے بیدی کی وہ تعبیر جو فاروقی صاحب نے کی ہے ، اس سبب ہو کہ ایک بار پریم کپور کو انٹرویو دیتے ہوئے بیدی نے کہہ دیا تھا، ہمیں عورت اور مرد کے بنیادی فرق کو سمجھنا ہوگا، اور جو فرق بیدی سمجھانا چاہتا تھا اس کے لیے بیدی نے اُلٹا سوال کیا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عورت ایک مہینے میں ماں بن سکنے کے قابل ہوتی ہے جب کہ مرد کے ایک بار کے جوہر میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ دنیا بھرکی عورتوں کی گود بھردے ۔ یہ بیدی نے کہا تھا اور مرد کو اونچے خیالات تخلیق کرنے والا اور عورت کی حفاظت کرنے والا بتا یاتھا اور زور دے کر کہا تھا کہ اس نے اپنے افسانوں میں اس مسئلے کو اٹھایا بھی تھا۔ مانا کہ یہ خیالات بہ سہولت ہضم نہیں ہو سکتے مگرطرفگی یہ کہ یہی اونچے خیالات تخلیق کرنے والا مرد ، خود بیدی کے افسانوں میں ، اسی عورت کے ہاتھوں مات کھاتا رہا ہے۔ شاید اس کا احساس خود بیدی کو بھی ہو گیا تھا تبھی تو اپنی تخلیقی زندگی کی تکمیل کے بعد اورمرنے سے لگ بھگ چار ماہ پہلے بیدی نے عصمت چغتائی اور فیاض رفعت کو آل انڈیا ریڈیو کے لیے ایک انٹرویو میں کہا تھا:

’’ میں نے دیکھا ہے کہ عورت ہمیشہ آدمی سے زیادہ پاور فل رہی ہے، اپنی تخلیق کی صلاحیت کی بنا پر ،مگر لوگ اس کا استحصال کرتے ہیں۔ اسے کچلتے ہیں۔ اسے دباتے ہیں۔ لیکن عورت تمام جکڑ بندیوں کے باوجود آزاد ہے ، اسے دبایا نہیں جا سکتا اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

تو یوں ہے کہ بیدی نے اپنے افسانوں میں اسی عورت کو دکھایا ہے، چاہتے نہ چاہتے ہوئے ، اور یہ عورت اس کے افسانوں میں کہیں نہ کہیں مرد کو پچھاڑ دیتی ہے ۔ اس پچھاڑنے والی عورت کی کوئی نہ کوئی جھلک اگر بھولا کی مایا، مادھو کی کلکارنی، پشپا کی شمی، پرسادی کی رتنی میں ہے تو میا ،شبو،جنتو،درشی، مصری،سیتا،ڈولی جیسے کرداروں یا تیز بارش میں بھیگنے والی راٹا میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان نسائی کرداروں کی طرح عورت سے کسی نہ کسی سطح پر پچھڑنے والے مرد کرداروں کی بھی ایک قطار لگی ہوئی ہے۔ کتھو رام، سنت رام،رسیلا، خاکروب ولیم بھاگو، حضور سنگھ اورجنتو کو آلو تک نہ دلا سکنے والا انقلابی لکھی سنگھ اور اس طرح کے کئی اور کردار۔ ان سب کا اس نہج سے مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

مثلاً افسانہ’’ ببل‘‘ ہی لے لیجئے، اس کہانی کے ابتدائی حصے میں پکے ،بلکہ کالے رنگ کی جوان بھکارن مصری اور اس کا نرم نرم گول مٹول بچہ ہماری توجہ کھینچتے ہیں ۔ بیدی نے بچہ یوں دکھایا ہے جیسے وہ اسفنج کا بنا ہوا ہے، اپنی ماں کے برعکس گورا چٹا۔ یہ بچہ اپنی بھکارن ماں کے لیے کماؤ مردہے، اس کا اپنا کماؤ مرد۔کہ وہ کماتا ہے اور کھاتی مصری ہے۔افسانے کے آخر میں ایک وقت آتا ہے کہ یہی ببل سیتا کے بازوؤں میں جھول کر اور اس کی بھری بھری چھاتیوں میں سر گھسا کر اُس کی ممتا جگا دیتا ہے۔ یوں کہ یہ بدلی ہوئی اور توانا ہو چکی سیتا عورت درباری جیسے جنس کی طلب میں کھولتے مرد کو پچھڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

تو یوں ہے کہ کردار بنانااور انہیں اپنے بیانیے کے اندر پوری قامت سے کھڑے کر لینا ، انہیں متحرک کرنا یوں کہ اپنے وسیب کے اندر وہ اپنی شباہت بنائیں ، انہیں اُتنے ہی نہ رہنے دینا جتنا کہ وہ عام زندگی میں مشاہدے میں آتے رہے، اُس سے کہیں بڑھ کر قامت نکالنے دینا، اور جن مشکلوں میں پڑے ہوئے ہیں ، یا جن سماجی دلدلوں میں دھنسے ہوئے ہیں ، وہاں سے نکالنے کے انقلابی طریقے بتانے کی بجائے ، انہیں انسانی فطرت ، اور زمینی صورت حال سے قریب تر رکھ کر اپنا آپ بچا لینے کی راہیں سجھادینا، یا بہت ہی غیر محسوس طریقے سے پڑھنے والے کے دِل ایسی صورتحال سے بچ نکلنے کی تاہنگ پیدا کردینا ؛ یہ ہے و ہ کردار سازی کاوہ قرینہ، جس نے بیدی کو اپنے ہم عصروں سے اپنے اسلوب میں الگ اور نمایاں کیا ہے۔

دوسری اہم بات جو مجھے بیدی کی طرف متوجہ کرتی رہی ہے ، اور شاید دوسروں کو بھی متوجہ کرتی ہو ، وہ یہ ہے کہ اُس کی کہانیوں میں جہاں رنگ رس ہے، وہاں گودا بھی بہت ہے ۔ جی، میں بیدی کی کہانیوں میں مواد کے گودے کی بات کر رہا ہوں ۔ ’’بھولا‘‘،’’ ہمدوش‘‘، ’’من کی من میں‘‘،’’ ببل‘‘،’’ سونفیا‘‘،’’لاجونتی‘‘،’’ لمبی لڑکی‘‘ غرض کوئی بھی افسانہ اُٹھا لیں یا پھر اُس کا اکلوتا ناول،ُُ ایک چادر میلی سی‘‘ کو لے لیں، ہر کہیں بیانیہ یوں مواد سے بھرا ہوا ملے گا جیسے پوری طرح زندہ آدمی کی ہدیوں میں گودا بھرا ہوا ہوتا ہے۔ بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ کہیں کہیں تو یہ مواد کی زیادتی پڑھنے والے کو روک کر اِس کے لکھنے والے کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔ لکھنے والا، جو بہت سوچ سوچ کر اور سارے پہلو سامنے رکھ کر ایک افسانوی سازش تیار کر رہا ہوتا ہے۔میرے لیے یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ اپنے گہرے مگر ہمہ جہت مشاہدے اورتخیل کو کام میں لاتا ہے تو کہیں بھی ہمیں قلت مواد کا سوکھا محسوس نہیں ہوتا ۔ یقیناً آپ کو یاد آرہا ہوگا کہ یہ سوچ سوچ کر لکھنے والی بات منٹو نے ایک طعنے کی صورت بیدی کی سمت لڑھکائی تھی اور خیال کو دامِ خیال میں لاکر ایک افسانوی طرز کی سازش پیدا کرنے اور جزا میں افسانہ پانے کی بات خو د بیدی نے کی تھی ، سو واقعہ یہ ہے کہ بیدی افسانے کو ایک سازش کی طرح بنتا ہے ، سوچ سوچ کر اور پورے مواد کو برتتے ہوئے ، یوں کہ ہم اس کے گرفتار ہوتے ہیں ، جیسے کوئی خواب میں کھو جاتا ہے۔ ایسے خواب میں کہ بہ قول بیدی جاگنے پر بھی جی چاہنے لگتا ہے سرہانے میں آنکھیں دبا کر پھر سے خواب دیکھیں۔

جہاں بیدی اپنے کرداروں کو ایک قرینے سے تعمیر کرتا ہے ،یا افسانوی مواد کی فراوانی اور اس مواد کے پیچیدہ مگر سلیقے سے بیانیہ میں استعمال کے ذریعے توجہ حاصل کرتا ہے وہیں اس کے افسانوں کی تیسری اہم خوبی خالص مقامیت کی فضا میں رچی بسی کھری کھردری، مسلسل رگڑ کھاتی اور اکھڑ زندگی کی کہانیوں کو زبان کے تہذیبی ، اساطیری اورا ستعاراتی وسیلوں کے ذریعے پر از معنی کرنا بھی ہے ۔ گوپی چند نارنگ نے بیدی کے افسانوں کی اس جہت پر بہت مفصل سے بات کی ہے تاہم میں سمجھتا ہوں جہاں اس قرینے نے ان افسانوں میں معنی کا ایک جہان آباد کیا وہیں زبان کو کسی نہ کسی سطح پر اجنبیا بھی دیا ہے ۔ اجنبیانے کا یہ عمل جہاں بیدی کو اس قاری تک پہنچنے سے روک رہا ہے جس تک منٹو بہ سہولت پہنچ جاتا ہے، وہیں اس کے سنجیدہ قاری کے لیے ایسی داخلیت رکھ چھوڑی ہے جو اُسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور دیر تک افسانے کی فضا سے وابستہ رہنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ جہاں بیدی نے ہندو میتھالوجی سے اپنے افسانوں کے لیے معنویت کشید کی ہے یا ایسا کرنے کے جتن کیے ہیں وہیں اُس نے مقامی رسم و رواج، مختلف گروہوں کے تعصبات، دیہی دانش کے لسانی ٹکڑوں، گیتوں اورگالیوں،طعنوں مہنوں، بوسیدگی کی آغوش میں اترتے بظاہر ان گڑھ نظر آنے والی مزاجوں غرض زندگی کے ایک ایک مظہر کو سلیقے سے اور سوچ سمجھ کر برتا ہے۔ کہیں کہیں بیدی کا قلم شوخ ہوا ہے اور کہیں گہرے طنز کی کاٹ سے اس نے ہمیں معاملے کی کسی اور جہت کی طرف لے جانا بھی چاہا ہے ۔ وہ اپنے کرداروں کی زبان سے مقامی الفاظ، مقامی لہجے میں ادا کرواتا ہے تاہم کہیں کہیں ایسا اُس راوی کی زبان سے بھی ہونے لگتا ہے ، جو اگرچہ کہانی کا کردار نہیں ہوتا مگر بیدی کی کہانی میں مداخلت کے لیے سہولت کار ہو جاتا ہے ۔ خیر، مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو زبان کے اِن رُخوں اور سطحوں پر استعمال سے افسانے کاایسا بیانیہ مرتب ہو جاتاہے جو بیدی کے اسلوب کے طور پر الگ شناخت کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں بیدی کے افسانوں کی ایک اور خوبی؛ اور یہ خوبی ہے ، انسانی جذبات کی لطیف ترین جنبشوں کو گرفت میں لینے کے لیے جزیات نگاری کو وسیلہ کرنا۔ یاد رہے یہ جزیات نگاری اس تفصیل نگاری سے بالکل الگ ہے ،جو کہانی کے اندر تہوں میں اُترنے سے روکتی ہے۔ بیدی اس قرینے کو بروئے کار لاکر اپنے کرداروں کا زندہ وجود اپنے قاری کے سامنے لے آتا ہے۔ کچھ ایسے کہ پڑھنے والا اُس سے خاص اور خالص جذبوں سے بھرا ہوا رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ یہ رشتہ ایسا ہے جو بیدی کے کرداروں کو مرنے نہیں دیتا۔ ایسے ہی زندہ جاوید کرداروں میں ایک کردار افسانہ لاجونتی کی لاجو کا ہے ۔ سندر لال کی لاجو ، پتلی چھمک سی دیہاتی لڑکی۔ ہر قسم کا بوجھ اُٹھانے اور ہر قسم کا صدمہ برداشت کرنے کی سکت رکھنے والی ۔ افسانے کی جزیات میں اس کے شوہر کے وتیرے کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اوراُس کی ہر قسم کی مار پیٹ اور بدسلوکی کوسہہ جانے والی کی محبت کا رُخ، جس طرح بیدی نے سہارتے ہوئے، روک روک کرلکھا اور لکھتے ہوئے دکھا دیا ہے ، بٹوارے میں اغوا ہونے کے بعد ، اس کی معنویت اور بھی کھلتی چلی جاتی ہے۔ تقسیم میں ہنگاموں کے دوران اغوا ہونے سے پہلے اپنی لاجو پر تشدد بھری محبت نچھاور کرنے والے سندر لال کو جب اس کی بیوی بتاتی ہے کہ اس کا مسلمان اغوا کار جماں، اُس سے اچھا سلوک کرتا تھا،تو اُس کا رویہ بھی بدل جاتا ہے، اب وہ سندر لال کے لیے دیوی ہے۔بیدی نے لکھا ہے کہ لاجو کو یوں بسنا یوں تھا جیسے کہ اُس کا اُجڑ جانا۔ جس طرح افسانے کا قضیہ چھوٹی چھوٹی جزیات کے ذریعے قائم ہوتا ہے وہ قاری کے لہو میں بھی اُبال پیدا کرتا اور کردار کے ساتھ اُسے جذباتی سطح پر وابستہ کر دیتا ہے ۔ ایسا ہی بیدی کے اکثر افسانوں میں ہوتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بیدی نچلے طبقے کے گرے پڑے کرداروں کو چنتا ہے ، انہیں بل کھاتی کہانی میں اپنی اپنی مکمل شناخت قائم کرنے دیتا ہے اور اُس تندمزاج اور اکھڑ زندگی کے مقابل کر دیتا ہے جو ایسے کرداروں کے نصیبے میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ اجزاء کے بہم ہونے سے ماجرے کی طرف جاتے ہوئے وہ خالص کہانی کے بیانیے سے رشتوں میں گندھی ہوئی زندگی کی تندی اور تیزی کو سہج سہج گرفت میں یوں لیتا ہے کہ قاری کو بہ سہولت انسانی نفسیات اور جذبوں کی لطیف متحرک سطحوں تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں، بیدی نے انسانی نفسیات کو سمجھنے اور انسانی بطون میں اتر کراس کے گنجھل کھولے ہیں، انتہائی ضبط اور پورے خلوص کے ساتھ ،اور یہ کوئی معمولی اور کم اہم واقعہ نہیں ہے ۔ انہی تخلیقی قرینوں کا فیضان ہے کہ بیدی اُردو افسانے کی تاریخ کا ایک مستقل باب ہو گیا ہے۔

Categories
شاعری

آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی

وہ پیتل کی بوسیدہ زرد سوئیوں میں
سرخ دھاگہ ڈالے
سفید روشن لباس بنانے میں مصروف ہیں
نیکی کے معصوم بچے
چوکھٹ کے پیچھے سہمے تھر تھر کانپ رہے ہیں
شرافت کی دوشیزہ
چلمن سے ہٹ کر پردے گرا چکی ہے
اور اندھیرا
بولائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے