Categories
نان فکشن

اسما حسن کے افسانے “شہرِ بُتاں” کا تاثراتی جائزہ

اس مجرد آرٹ پیس کو مذہب کے تناظر میں دیکھنا اس کی آفاقی معنویت کو محدود کر دینے کے مترادف ہے یہ انسانیت کا نوحہ ہے ظلم و بربریت کا نوحہ ہے اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کے نقارہ ِ خدا بننے کا ماجر ہے اس کہانی کا پیٹرن اس خوبصورتی سے بُنا گیا ہے کہ بار بار کی قرات لطف دوبالا کیے دے رہی ہے اس کے لیے مصنفہ بے شک داد کی مستحق ہیں چودہ پندرہ سال کا لڑکا سلے ہونٹ ابی کے قتل کا ماجرا بائیس کا اس کے وطن میں آ کر خیمے لگانا اس کا ان کے کانوں میں سرگوشی کرنا سورج کا طلوع ہونا لوگوں کا اتنے سالوں بعد سورج کو دیکھ کر مزید سہم جانا سلائی کا ادھڑ جانا دانش مندوں کا اس کے ہونٹوں کی سلائی ادھڑی دیکھنا بائیس گواہیاں لڑکے کے چہرے پر خوشی کے آثار اس کا باقی سلائی کو یوں ادھیڑنا جیسے اس کے ابی کی کھال نوچ لی گئی تھی اس کا اس سمت بھاگنا جس سمت سے آواز آ رہی تھی اس کی تیئسویں گواہی اور پھر ہر سمت سے گواہی کی آواز آنے لگنا یہ سب سامراجیت کے خلاف متحد ہونے کے اشارے ہیں میرا خیال ہے اس پوری کہانی کا میکنزم سمجھنے کی ضرورت ہے ان بائیس کو اس کہانی سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے نا کہ کہانی کو ان بائیس سے جوڑ کر دیکھنے کی۔۔۔۔۔

“ﺟﺐ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﭘﮭﯿﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ”

ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﺮ ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻭﮦ ” ﺑﺎﺋﯿﺲ ” ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯿﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﺲ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍﮨﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺗﺤﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ یہ بائیس ہر اس شخص کا نمائندہ ہیں جو باطل کے خلاف حق کی گواہی دینے پر آمادہ ہے

“ﻭﮦ ﻃﻠﻮﻉِ ﺷﺎﻡ ﮐﻮﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻨﺤﺮﻓﯽ ﺍﻭﺭﻏﺮﻭﺏِ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﮯﻣﻨﮑﺮﭨﮭﮩﺮﮮ ﺗﮭﮯ۔۔۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﺌﮯ ﻣﺴﮑﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺭﺧﺖِ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ”

ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﻮﻉِ ﺷﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﻨﺤﺮﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﻭﺏ ِ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﺳﮯ ﻣﻨﮑﺮﯼ ۔ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺑﺮﺑﺮﯾﺖ , ﺳﺮﻣﺎﯾﺎﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯿﺖ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﻣﺴﮑﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺧﺖ ِ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﺭ ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭﯼ ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺎ۔

“ﻭﮦ ﮐُﻞ ” ﺑﺎﺋﯿﺲ ” ﺗﮭﮯ،ﺟﻮ ﭘﺎ ﭘﯿﺎﺩﮦ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﮩﺎﻥِ ﺑُﺘﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ،ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﺤﻼﺕ ﻭﺍﯾﻮﺍﻥ ﺳﻮﻧﺎ، ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﻭﺭﻕ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﺗﮭﮯ۔۔۔ ” ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﺳﺮﻣﺎﯾﺎﺩﺍﺭ ﻃﺒﻘﮧ ﺗﻮ ﻋﯿﺶ ﻭ ﻋﺸﺮﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﯿﺎﺷﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺑﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﮕﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ اس سے آگے زندہ لاشیں غریب اور مفلوک الحال تمام عوام / انسانوں کی علامت ہیں۔ اس کے بعد مصنفہ ظلم کا ایک واقعہ بیان کرتی ہیں اور اس لڑکے کے ہونٹ سینے کا ماجرا بیان کرتی ہیں جسے وہ “بائیس “چور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں”۔

“ﻣﺤﮑﻮﻡ ﻓﻀﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣُﻠﺘﻤﺲِ ﻧﻮ ﺑﮩﺎﺭﺗﮭﯽ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﮒ ﺟﻼﺋﯽ۔ ﺩﯾﮑﺘﮯﺍﻻﺅ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻭﮦ، ﻟﮑﮍﯼ ﮐﮯﭼﮭﻮﭨﮯ،ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﻌﻠﮧ ﺳﺎ ﺑﮭﮍﮎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﺎﺋﯽ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯾﺘﺎ۔ﺟﻮﮞ ﺟﻮﮞ ﺷﻌﻠﮧ ﺑﮭﮍﮐﺘﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﮐﻮ ﺩﮨﮑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ﻧﺌﯽ ﺍﻣﻨﮕﯿﮟ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﮐﺮﺍﮞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭨﮭﺎﭨﯿﮟ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ﺁﮒ ﮐﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﯿﮟ۔ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ،ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺸﮏ ﭘﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭﮈﺍﻟﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺑﻄﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮﺁﻣﺎﺩﮦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔۔ ﻣﭩﯽ ﮐﮯﻧﻨﮭﮯﻧﻨﮭﮯ ﺫﺭﮮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯﭨﮑﺮﺍﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ۔۔”

درج بالا پیراگراف میں بہت خوبصورتی سے مصنفہ نے ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے بیدار ہوتی سوچ کو ظاہر کیا ہے کہ اس پر جتنی بھی داد دوں کم ہے کمال فنکارانہ مہارت اس پیرے میں دیکھی جا سکتی ہے ان کا ایک دوسرے کو دیکھنا محکوم فضا کا ان کے قدم چھو کر ملتمس ِ نوبہار ہونا لکڑیاں جمع کر کے آگ جلانا لکڑیاں آگ میں ڈالنے سے شعلہ بھڑکنا اور روشنی کا چہروں پر پھیلنا امنگوں کا جنم لینا اور چنگاریوں کا چہروں سے ٹکرا کر دھرتی ماں کا قرض یاد دلانا کمال ہی کمال بہت داد مصنفہ کے لیے یہ افسانہ سکھاتا ہے کے ظلم سے بھاگنے کا کوئی راستا نہیں ظلم کے خلاف متحد ہو کر حق کا علم بلند کرنا ضروری ہے ظلم کی جگہ اگر میں سامراجی قوتوں کا لفظ استعمال کروں جنہوں نے ایک طبقے کو اپنے فائدے کے لیے دولت اور عیش و عشرت کے بدلے خرید کر اندھا بہرا گونگا بنا دیا ہے اور یہ چند لوگ سات ارب انسانوں پر حکمران بن کر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اور یہ افسانہ منتج ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی چھوٹی آواز کو چھوٹا نہ سمجھا جائے ایک چھوٹی کرن بھی ایسا سورج بن کر نمودار ہو سکتی ہے جو ایک ہنستا مسکراتا سماج تشکیل دے دے “مگر اس کے لیے جس طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے وہ ممکن نہیں میرے نزدیک اس خواب کا شرمندہ ِ تعبیر ہونا بعید از قیاس ہے”” خیر مصنفہ کا یہ افسانہ ظلم کے خلاف چوبیسویں گواہی تو بہر حال ہے اتنا اچھا فن پارہ پیش کرنے پر مصنفہ کے لیے مبارک باد اور داد و تحسین۔

شہرِبُتاں اسماء حسن

وہ طلوعِ شام کوسجدہ کرنے کے منحرف اورغروبِ آفتاب کی پرستش کےمنکرٹھہرے تھے۔۔۔ انہوں نے کسی نئے مسکن کی تلاش میں رختِ سفر باندھ لیا تھا۔۔۔وہ کُل بائیس تھے،جو پا پیادہ سفر کرتے ہوئے ایک ایسے جہانِ بُتاں میں داخل ہوئے،جس کے محلات وایوان سونا، چاندی کے ورق سے آراستہ تھے۔۔۔جہاں “صُم بُکم,عُمی” کے پہرے تھے۔خوابیدہ محل کے وہ لوگ جن کے ہونٹوں کو موٹی سوئی اوردھاگہ لےکرسی دیا گیا تھا۔۔جہاں زرخرید روحیں قیدِ با مشقت کاٹ رہی تھیں اور فرمانرواؤں کے پاؤں تلے دھرتی ماں بھی کانپ رہی تھی۔۔جب وہ وہاں پہنچے تھےتو زندہ لاشیں ادھر اُدھر گھوم رہی تھیں۔۔ڈرے،سہمے اور مٹی میں اٹے چہروں نےجب انہیں دیکھا تو بھاگتے ہوئے،کسی نہ کسی اوٹ میں پناہ لینے لگے۔۔۔نہ توکسی نے ان پر پتھر اچھالے اور نہ ہی ان کے متحرک چُست قدموں کوزنجیرپہنائی گئ۔۔ وہ آگے بڑھتے رہے تو زندہ لاشیں پیچھےہٹتی رہیں۔۔ ان کے سرخ وسفید چہروں پر کسی مہیب پرچھائی کا بسیرا صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔ ان بائیس نے کچھ دور پہنچ کر ایک خاص مقام پرخیمے گاڑنے شروع کر دیئے تھے۔کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان کی دھرتی ماں پر قدم رکھنےکی لغزش میں کوئی ان سےجراتِ استفسار کرتا۔وہ کیلوں پرضرب لگاتے ہوئے خیمے گاڑتے چلے جا رہے تھے۔ زوردار آوازیں لوگوں کے کانوں تک پہنچتیں تو وہ اپنی قوتِ سماعت سے محروم ہونے کی دعا کرنے لگتے۔ان کے لئے اس سے زیادہ مناسب جگہ اور کوئی نہ تھی،جہاں سب کے ہونٹوں کے پیچھے قُفلِ ابجد کا سا راز پوشیدہ تھا۔جن کےھاتھ کٹے ہوئے تھے اور سیسہ پگھلا کر ان کی آنکھوں میں ڈال دیا گیا تھا۔۔ایسی زندہ لاشیں دیکھ کر وہ مطمئن ہو چلے تھے کہ وہ بالکل صحیح مقام پر ڈیرے ڈالنے والے ہیں۔شام گہری ہوتی چلی گئی اورآسمان پرسیاہ رات،کسی کالی ناگن کی طرح کنڈلی مارکر بیٹھ گئی۔ تاروں پر آزُردگی نے بُکل مارلی۔۔ہوکا ساعالم چاروں اور دکھائی دینے لگا۔سب اپنے اپنے گھروں میں دُبک کر بیٹھ گئے۔ لیکن ایک چودہ،پندرہ سال کا نوجوان خیموں کے سامنے والی کٹیا سے،غیض وغضب کےعالم میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ ایسی ہی کالی رات کا ایک کرب ناک منظر،اس کی آنکھوں میں نقشِ جاوداں کی مانند ثبت تھا۔جس میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔جب اس کے”ابی”کو بڑی بےدردی سے گھسیٹا جا رہا تھا۔وہ اپنےابا کو پیارسے”ابی”بلایا کرتا تھا۔۔ باپ کا ھاتھ ابھی بیٹے کی انگلی تک ہی پہنچا تھا کہ اچانک “ابی” کو کچھ جانور نما ھاتھوں نے یوں گھسیٹا کہ رات کے آوارہ جانور بھی انسانی درندگی سے خوف زدہ ہو کر جھاڑیوں میں منہ چھپانے لگے۔ وہ “ابی ابی” پکارتا ہوا ان کے پیچھے بھاگتا رہا۔ مگر ! ظلم کی رفتار نے مظلومیت کو مات دے ڈالی تھی۔۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کا چولا خون میں لت پت تھا۔اس کے ابی کو سزا ملی تھی،کالے پانی کی سی سزا۔وہ اماں کو کہا کرتا تھا کہ وہ کبھی اپنے لب نہیں سیئے گا۔ ” نہیں اماں میں اپنے ہونٹ کبھی نہیں سیئوں گا۔میں بولوں گا،کبھی چُپ نہیں رہوں گا۔۔ تب وہ آخری باربولاتھا۔جب کانپتےہونٹوں سے اس نے”ابی”کا قصہ ماں کو بتایا تھا۔اس دن اس کی ماں نے اس کے ہونٹوں کو بھی موٹے دھاگے سے سی دیا۔ وہ مسافر چور آنکھ سے اس “لڑکے” کو دیکھتے رہے۔جاڑے کی یخ بستہ ٹھنڈ ان کی رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ محکوم فضا ان کے قدموں کو چھوتی ہوئی مُلتمسِ نو بہارتھی۔انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور چھوٹی چھوٹی لکڑیاں جمع کر کے آگ جلائی۔ دیکتےالاؤ کے گرد بیٹھے وہ، لکڑی کےچھوٹے،چھوٹے ٹکڑوں کو آگ کے سپرد کرتے تو ایک شعلہ سا بھڑک کر ان کے چہروں پر روشنائی بکھیر دیتا۔جوں جوں شعلہ بھڑکتا کوئی ان دیکھا خواب ان کی روح تک کو دہکانے لگتا۔نئی امنگیں جنم لیتیں اوران کا تخیل کسی بے کراں سمندر کی طرح ان کے اندر ٹھاٹیں مارنے لگتا۔آگ کے شعلوں سے اٹھنے والی چنگاریاں ان کے چہروں کو چھوتیں اور آسمان کی طرف پرواز کر جاتیں۔تیز ہوا،درختوں کے خشک پتوں اورڈالی سے بچھڑے پھولوں کو آگ کے بطن میں خودکشی کرنے پر آمادہ کر رہی تھی۔۔ مٹی کےننھےننھے ذرے ان کے چہروں سےٹکراتے اور دھرتی ماں کا قرض یاد کرواتے۔۔ دور بیٹھا وہ “لڑکا” بھی یہ سب تماشا دیکھتا رہا۔ اس کےہونٹوں پر لگی سلائیاں ادھڑنے لگیں۔۔ چاند کی آنکھ میں دُبکی بیٹھی زردی باہر نکلنے لگی۔ آسمان پر ستارہ صبح نمودار ہونے لگا،جس نے کالی بدلی کو اٹھا کر افق کے اُس پار پھینک دیا۔۔اُس نے علم اٹھایا اور لےجا کر،دیکتے الاؤ کے ساتھ گاڑ دیا۔ ان بائیس کےکان میں کوئی سرگوشی کی اور بھاگ کر کٹیا میں واپس چلا گیا۔ مدت کے بعد، صبح نے کھل کرانگڑائی لی تھی۔ موجِ شفق نےگھروں کےکونوں،کھدروں میں جھانکنےکی جسارت کی تولوگ خوفزدہ ہوکراٹھ بیٹھےاور ڈرے،سہمے ہوئے باہر نکلے، تو دیکھا کہ میدان پوری طرح صاف تھا اور خیمے اتار لئے گئے تھے۔۔ وہاں صرف دہکتےکوئلوں کی آخری چنگاری باقی تھی۔۔ آفتاب کی کرنیں چہارسُو پھیل رہی تھیں اور زندہ لاشوں پرمسکراہٹ پھیلا رہی تھیں۔ مگر وہ لوگ زندان خانے کے ایسے مقید تھے،جنہیں،صدیوں بعد سورج کی رفاقت کا موقع ملے تو وہ اس کی تمازت اور حدت کو برداشت نہ کرپائیں۔کوئےبتاں کے وہ مکین پہلے سے بھی زہادہ سہم گئے اوراپنےبچوں کی آنکھوں پرھاتھ رکھ کرکسی نہ کسی اوٹ میں پناہ لینے لگے۔ شائد وہ پھر سے جذبات فروشی کا سودا ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ انسانیت سوز درندگی کے پھر سے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ جہاں زندہ انسانوں کی کھالیں کھینچوا دی جاتی ہیں۔جہاں حق بات کہنے کا خراجِ متخرفہ نہ جانے، کتنی دہائیوں تک ادا کرنا پڑتا ہے۔ سورج کی روشنی بڑھتی چلی جا رہی تھی مگر وہ لوگ، ہراساں و پریشان، ابھی بھی لات و منات جیسے بتوں کو پوچنے کے پابند تھے۔ جو سالہا سال اندھیروں کے پس منظر میں جیتے ہیں انہیں کیا معلوم کہ جب روشنی پھیلتی ہے تو معمولی سوراخ بھی پورے کمرے کوروشن کرسکتا ہے۔خوف اور دہشت کے مارے وہ لوگ،اپنے بچوں کے ہونٹوں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط دھاگوں میں پرونے لگے۔۔۔گھروں میں موت کا ماتم روح قبض پونے سے پہلے ہی منایا جانے لگا۔۔ ان کے سامنے ٹنکے آئینوں میں مُردے نوحہ کناں تھے۔۔ جن کے کفن بھی جگہ جگہ سے تار تار تھے۔۔ وہ سب لوگ اس”لڑکے”کی طرف مشکوک نظروں سےدیکھ رہے تھے،مگر وہ دُبک کر بیٹھا رہا۔۔ کچھ بینا و دانا نے اس کےہونٹوں کی اُدھڑی سلائی دیکھ لی تھی۔۔۔ اسی اثنا میں دُور کہیں سے ایک آواز سنائی دی”میں گواہی دیتا ہوں”اور ساتھ ہی آواز دم توڑ گئی۔یہ سنتے ہی اس”لڑکے”کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اس نے ہونٹوں کی سلائی کو پکڑ کر کچھ یوں اُدھیڑا، جیسے اس کے سامنے اس کے”ابی” کی کھال کو کھینچ کر اتار دیا گیا تھا۔۔۔ ڈرے سہمے ہوئے شہر بُتاں والے محو حیرت تھے۔۔ سکتہ کسی بھوت پریت کی طرح سایہ فِگن تھا۔۔ اس “لڑکے” نے گھر کی دہلیز سے باہر ننگے پاؤں قدم رکھ دیا تھا۔ وہ اس سمت بھاگنے لگا جہاں سے”میں گواہی دیتا ہوں”کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں اور دم توڑتی چلی جا رہی تھیں۔۔بائیسویں گواہی کے دم توڑتے توڑتے وہ “لڑکا” وہاں پہنچ چکا تھا۔۔ظالم سامراج قہقہے لگاتے ہوئے اپنی فتح کا جشن منا رہے تھے۔۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید اب کوئی گواہی باقی نہ رہی ہو۔مگر انہیں کیا معلوم کہ تئیسویں گواہی ابھی باقی تھی۔ فضا میں پھر سے ایک زوردار آواز گونجی تھی”میں گواہی دیتا ہوں “نشانہ باندھنےوالوں نےدیوانہ وار نشانےلگانےشروع کئے مگر کوئی نشانہ اپنی سمت متعین نہ کر سکا۔۔ کیوںکہ آواز اب چاروں طرف سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

Categories
نان فکشن

منیر احمد فردوس کے افسانے “کالی شلوار والی” کا تاثراتی جائزہ

پہلے دو باتیں منیر احمد فردوس کے بارے میں اختصار میں جامعیت جس طرح میں نےمنیر احمد فردوس کے ہاں دیکھی ہے یہ چیز کم کم ہی دوسرے ہم عصر لکھاریوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں اختصارافسانے کا حسن دو چند کر دیتا ہے وہاں ان کا قلم تخلیق میں ایسی جامعیت پیدا کر دیتا ہے کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ ادیب سماج کا ایک ماہرمعالج ہوتا ہے جو نا صرف سماج کو لگی بیماریوں کی تشخیص کرتا ہے بلکہ ان کی دوا اورعلاج بھی تجویز کرتا ہے۔اب اگر مریض تجویز کردہ علاج کو نہ اپنائے اور بیمار ہی پڑا رہے تو معالج کا کیا قصور؟

سماج اپنے زمانوں کے مطابق تہذیب اور تمدن کے پیٹنز بناتے ہیں جو پہلے سے مروج تہذیبی اور تمدنی پیٹرنز پر پرت در پرت چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ تہذیب اور تمدن کی ہر نئی پرت یا نیا پیٹرن پرانی پرت یا پیٹرن میں حقیقی بدلاؤ پیدا کرے جس سےسماج اقدار کی بلند سطح پر اٹھتا چلا جائے-لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ اورایسا کیوں نہیں ہوتا؟ یہ سوال طویل وقتی بحث کا متقاضی۔اس سارے قضیے کو سمجھنے کے لیے تہزیب اور تمدن کے کوڈز کو الگ الگ سمجھنے اور جانچے پرکھنے کی ضرورت ہے بہت سارے سماج متمدن ہیں لیکن وہ اب تک مہذب نہیں ہوئے بالکل اسی طرح جیسے بہت سارے سماج مہذب تو ہو گئے ہیں لیکن متمدن نہیں ہو سکے۔یہ دو الگ انتہائیں یا صورتیں ہیں اس سلسلے میں ایسی ہی اور بھی بہت سی انتہائیں یا صورتیں گنوائی جا سکتی ہیں۔ جیسے ان ہی میں سے ایک صورت ہے ہمارے خطے کی جو حقیقی معنوں میں نہ مہذب ہوا ہے اور نہ متمدن۔پہلے سے مروج تہذیبی اور تمدنی پیٹرنز پر ہم نے دوسرے سماجوں سے درآمد کیے ہوئے مصنوعی پیٹرنزچڑھا کر خود سے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم مہذب بھی ہو گئے ہیں اور متمدن بھی۔ لیکن ہمارے ہی غیر حقیقی رویے ہماری تہذیب اور تمدن کے پیٹرنز کی کلی کھولتے چلے جاتے ہیں۔

منیر احمد فردوس کا افسانہ ” کالی شلوار والی” ایک بے رحم بیانیہ ہے جواشرافیہ کے چہروں پر رکھ رکھاؤ تمدن اور تہذیب کے نام پر پڑی دکھاوے کی چادرکو ایک ہلے میں نوچ ڈالتا ہے جس کے پیچھے چھپا اشرافیہ کا حقیقی چہرہ پورے معاشرے کی عکاسی کرتا ہوا ظاہر ہو جاتا ہے۔

مشہور افسانوں کے کرداروں یا واقعات کو برت کر نیا خیال تخلیق کر لانے کی تکنیک کوئی نئی نہیں ہے سریندر پرکاش “بجوکا” میں پریم چند کے افسانے کے ایک کردار ہُوری کو مرکزی کردار کے طور پر اپناتے ہیں ایسا کرنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں مصنف کے پاس ۔ ایک تو کردار کا تشخص دوبارہ اُجاگر نہیں کرنا پڑتا قاری صرف کردار کا نام پڑھ کر ہی اس کے متعلق تمام تر بنیادی معلومات تک پہنچ جاتا ہے بشرط ِ کہ اس نے مزکورہ افسانہ پڑھ رکھا ہو۔
کالی شلوار والی میں منیر احمد فردوس نے بھی اسی تکنیک کا استعمال کیا ہے انہوں نے منٹو کے مشہور افسانے ” کالی شلوار” کی سلطانہ کو اپنے افسانے کے مرکزی کردار کے طوور پر چنا ہے افسانے کا راوی مصنف خود ہے جو منٹو کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقدہ ایک سرکاری کانفرنس یا سیمینار کی روداد سنا رہا ہے سیمینار کی ابتدا سے لیکر پہلے دن کے اختتام تک کی گہما گہمی پر نظر کریں تو لگتا ہے کہ ہم ایک مہذب اور متمدن سماج ہیں جس پر دنیا کا ہر سماج ہر معاشرہ رشک کر سکتا ہے۔جس کی اقدار اپنانے کو کوئی بھی ملک اپنا فخر سمجھ سکتا ہے۔لیکن حقیقت یکسر مختلف ہے۔جو رات ہوتے ہی ننگ دھڑنگ ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔۔ جب کالی شلوار والی سلطانہ ایک جیتے جاگتے انسان سے اشرافیہ کی تفریح کے سامان میں بدل دی جاتی ہے بلکہ اگر کہوں کہ خود اپنے وجود سمیٹ کالی شلوار بنا دی جاتی ہے جس کے ایک ایک بخیے کو یہ نام نہاد مہذب اور متمدن اشرافیہ رات بھر پرکھتے ٹٹولتے رہتے ہیں۔یہاں اگر ہم غور کریں تو مصنف نے ماہر معالج کی طرح اپنی چابقدستی سے سماج کے ایک موذی مرض کی نشاندہی کی ہے ۔ اس نے اپنی پوری ایمانداری سے دکھانے کی کوشش کی ہے کہ نہ تو ہم مہذب ہوئے ہیں نہ متمدن۔۔ بلکہ ایک مصنوعی لیپ کے زریعے ہم نے خود کو مہذب اور متمدن بنا کر دکھایا ہے حقیقت کا جس سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے آگے چل کر مصنف نے ایک اور کمال کیا ہے اس نے اس کالی شلوار کو جو منٹو کی سلطانہ سے ہوتی ہوئی منیر احمد فردوس کی سلطانہ تک آ پہنچی ہے اسے منٹو کی مرقد پر سلطانہ کے ہاتھوں چادر کی طرح چڑھوا دیا ہے۔۔۔

قاری جو اس ہی معاشرے کا حصہ ہے جب اس افسانے کے ذریعے منٹو کی قبر پر پہنچتا ہے تو خود کو افسانے میں دکھائے گئے اشرافیہ کے ساتھ کھڑا محسوس کرتا ہے افسانے کے بطن میں موجزن معانی کا سیال قاری کے لیے کھولتا ہوا لاوا ثابت ہوتا ہے جو قاری کو آن کی آن میں پورا نگل جاتا ہے۔
سماج کی تشکیل اتنی نا ہموار ہے کہ اسے کہاں سے چھیلیں اور کہاں سے بھریں کہ یہ ہموار ہو جائے سمجھ ہی نہیں آتی وقت کا دھارا سرک کر 1940 سے 2018 تک آن پہنچا ہے لیکن ہماری بد قسمتی کہ وہ سلطانہ کی کالی شلوار اپنے ساتھ اٹھا لایا ہے اور اسے 2018 کی سلطانہ کے ہاتھوں منٹو کی مرقد تک پہنچا دیا ہے ۔ کہنے کو وقت بدل گیا ہے۔ لیکن بدلا کچھ بھی نہیں سماجی سوچ پہلے سے بھی زیادہ پسماندہ ہو گئی ہے دوسری طرف سلطانہ زیادہ با شعور ہو گئی ہے جس نے کالی شلوار منٹو کی قبر پر چادر کی طرح چڑھا کر کمال کر دکھا یا ہے ایسا کمال جس نے معاشرے کے بخیئے ایک ہی جست میں ادھیڑ کر اس کے ہاتھ میں تھما دیے ہیں۔ کالی شلوار سماج کی فصیل پرعلم کی طرح لہرانے لگی ہے اور سب کو ایک بار پھر ان کے چہرے اصل حالت میں دکھانے لگی ہے۔ اور چیخ چیخ کر کہنے لگی ہے حقیقی تہذیب اور تمدن اس سماج کو چھو پر بھی نہیں گزرا۔جانے کتنی اور سلطانہ اس پاداش میں پسیں گی جانے کتنی کالی شلواریں پہنا کر اس معاشرے کے ننگے پن کو ڈھانپنا پڑے گا جانے کب یہ سماج حقیقی معنوں میں مہذب اور متمدن ہو جائے گا جانے کب؟

“کالی شلوار والی” جیسا شاہکار افسانہ لکھنے پر جناب منیر احمد فرردوس کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اسے “کہانی میرے دور کی” کے لیے منتخب کرتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالی شلوار والی

آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ سرکار نے اُس چوٹی کے ادیب کو کبھی بھولے سے بھی یاد کیا ہو۔ پتہ نہیں ایک دم سے سرکاری ایوانوں میں کیسی ہوا چل پڑی تھی کہ سیاسی ماحول یکسر ادبی موسم میں بدل گیا اور صفِ اول کے اُس کہانی کار کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے لاہور جیسے ادبی مرکز میں سرکاری سطح پر ایک سیمینار رکھ دیا گیا تھا, ایک ایسا شہر جہاں کے پوش علاقے لکشمی مینشن میں رہتے ہوئے وہ تقسیم کے دنگے فساد کے خونی لمحات کا چشم دید گواہ بن کر انہیں اپنے افسانوں میں اتارتا رہا اور امر ہوتا رہا۔

سیمینار کے بارے میں جس نے بھی سنا سرکار کی جھولی میں چند تعریفی سکے پھینکے بغیر نہ رہ سکا کہ چلو اُس کی زندگی میں نہ سہی, مرنے کے بعد ہی افسانے کے اُس بے تاج بادشاہ کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔

لاہور کے ایک اعلیٰ ترین ہوٹل کا سب سے بڑا ہال زرد اور سفید روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ ہوٹل انتظامیہ نے بھی کمال کر دکھایا تھا کہ اُس شہرہ آفاق افسانہ نگار سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے ہال کا نام ہی ٹوبہ ٹیک سنگھ ہال رکھ دیا تھا جو اس کے افسانوں کا سب سے بڑا حوالہ تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ ھال میں ہر طرف اُس بڑے ادیب کی تصویریں, اس کے کاٹ دار تیکھے جملے اور مختلف بینر لگے ہوئے تھے۔ ہال کے باہر تو اُس کی شان ہی الگ تھی کہ جہاں اُس کا ایک بڑا سا سنہری رنگ کا چمکتا ہوا عینک والا مجسمہ نصب کر دیا گیا تھا جس کے ساتھ کھڑے ہو کر ہر آنے جانے والا فوٹو بنوا کر اس سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتا نظر آتا تھا جن میں زیادہ تر نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل تھیں جو شاید سب لکھاری ہی تھے۔

شہر کا شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ ہال میں پلٹ آیا تھا جہاں ملکی سطح کے جانے مانے ادیبوں نے اُس کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے اًس کی کہانیوں کو موجودہ سماجی ناہمواریوں کے ساتھ جوڑ کر انہیں نئے زاویئے عطا کئے۔ اس کی الجھی ہوئی شخصیت کی کئی گمنام پرتیں کھول کر لوگوں کی آنکھوں پر حیرتیں باندھی گئیں اور پردہِ سکرین پر اس کی ڈاکو مینٹری پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مشہورِ زمانہ افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پر مبنی ٹیلی فلم دکھا کر تقریب میں نئے رنگ بکھیرے گئے تھے اور اس کا لازوال تخلیقی جملہ “اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانہ دی منگ دی دال آف لالٹین” پورے ہال میں بار بار گونجتا رہا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہال کبھی تالیوں سے جی اٹھتا, کبھی افسردگی کے گاڑھے دھوئیں سے بھر جاتا اور کبھی پورے ہال پر ایک دم سے سنجیدگی کی چادر تن جاتی تھی۔ میڈیا کے لوگ ان یادگار لمحات کو مستعدی سے اپنے کیمروں میں محفوظ کرتے یہاں وہاں بھاگتے پھر رہے تھے۔ سٹیج پر نامی گرامی ادیبوں کے علاوہ چند بڑے حکومتی عہدیدار بھی کلف لگے اکڑے ہوئے سوٹوں میں بڑے طمطراق کے ساتھ کالے چشمے لگائے براجمان تھے۔

سیمینار کا دلچسپ ترین اور حیران کن پہلو یہ تھا کہ اُس بڑے ادیب کی عظمتوں کو ایک نئے ڈھنگ سے پیش کرنے کی ایک بہت عمدہ کوشش کی گئی تھی۔ علامتی طور پر اُس کے چند مشہور کرداروں کو بھی سٹیج پر بٹھایا گیا تھا اور حاضرین کی آنکھیں تو جیسے ان پر چپک کر رہ گئی تھیں۔ جن میں “نیا قانون” کا منگو کوچوان, “کھول دو” کی سکینہ, “بابو گوپی ناتھ” کا بابو, “گورمُکھ سنگھ کی وصیت” کا گورمُکھ سنگھ اور “کالی شلوار” کی سلطانہ بھی شامل تھی اور یہ سب یادگار کردار تمام لوگوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔

رات گئے تک سیمینار جاری رہا اور لوگ آخری دم تک پرجوش ہو کر یوں بیٹھے رہے جیسے سٹیج پر وہ چوٹی کا ادیب بھی بیٹھا ہو۔ تقریب ختم ہوئی تو لوگوں نے تمام علامتی کرداروں کو گھیر لیا اور ان کے ساتھ تصویریں بنوانے لگے۔ کافی دیر تک فوٹو سیشن چلتے رہے اور پھر آہستہ آہستہ لوگ وہاں سے رخصت ہونے لگے۔ تمام بڑے لوگ جو مہمان تھے, دن بھر کے تھکے ماندے اپنے اپنے ٹھنڈے کمروں میں جا گھسے۔ اُس بڑے ادیب کے سبھی کرداروں کو بھی رخصت کر دیا گیا تھا سوائے کالی شلوار والی سلطانہ کے جو سٹیج پر بھی کالی شلوار پہنے اپنے بے پناہ حسن سے سبھی کے دلوں میں ہلچل مچاتی رہی اور لوگوں کی تیکھی نظریں اسے جگہ جگہ سے ٹٹولتی رہی تھیں۔ بڑے لوگوں کی فرمائش پر سلطانہ کو ہوٹل میں ہی روک لیا گیا اور رات بھر اس کی کالی شلوار مختلف کمروں میں سفر کرتی رہی۔ پوری رات اسے ایک پل کو بھی آرام کرنے کا موقع نہ مل سکا تھا۔

صبح ہوئی تو دیر تک بڑے لوگ اپنے کمروں میں دھت پڑے رھے۔ ہوٹل کی انتظامیہ انہیں نہ جگاتی تو شاید وہ سارا دن یونہی سوئے رہتے۔ ناشتے کے لئے سب ایک ہی جگہ پر جمع ہو گئے۔ سبھی کے خمار آلود چہروں پر ایک خاص قسم کی مسکراہٹ ناچ رہی تھی اور ان کی چمکتی آنکھیں کالی شلوار کو ڈھونڈتی ادھر ادھر گردش کرتی ہوئیں آپس میں ٹکرا جاتیں مگر وہ کسی کو بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ کوئی بھی نہ جانتا تھا کہ کالی شلوار والی سلطانہ صبح ہوتے ہی کہاں چلی گئی تھی۔

رات کے نشیلے لمحوں میں کھوئے سب نے مل کر پر تکلف ناشتہ کیا اور پروگرام کے مطابق اُس بڑے ادیب کی قبر پر حاضری دینے کے لئے سب تیار ہو گئے جہاں انہیں پھول اور چادر چڑھانا تھی۔

دس بارہ لوگوں کا وفد ایک بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کر سیدھا میانی صاحب قبرستان کی طرف روانہ ہو گیا۔ آگے پیچھے پولیس کی دو گاڑیاں دوڑ رہی تھیں جن پر گنیں تھامے کالی وردیوں میں ملبوس پولیس کے جوان چوکس بیٹھے تھے۔ پون گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ سب قبرستان کے داخلی دروازے پر کھڑے تھے۔ غیر معمولی گہما گہمی, بڑے لوگوں کا ہجوم, پولیس گاڑیوں کے بجتے سائرن, پروٹوکول اور اخباری نمائندوں کو دیکھ کر ہوائی چپل پہنے بوکھلایا ہوا گورکن دور سے بھاگتا ہوا آیا اور عاجزانہ انداز میں جھک کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
“منٹو کی قبر کس طرف ہے۔۔۔؟” کسی پولیس والے نے ادھیڑ عمر گورکن سے پوچھا
“حضور اُس طرف ہے۔۔۔۔۔چلیں میں لے چلتا ہوں۔” گورکن نے قبرستان کے مشرقی کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہا۔ اس کی پھٹی ہوئی آستین لٹک رہی تھی اور اس کا سانولایا بازو باہر کو جھانک رہا تھا۔ وہ وفد کے آگے آگے چلتا سفید کتبوں والی چھوٹی بڑی قبریں عبور کرتا ہوا اسی سمت چل پڑا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا۔ اس دوران کیمروں کے دو تین فلیش جھمکے اور گورکن سمیت وفد کی تصویریں اخباری نمائندوں کے کیمروں میں محفوظ ہو چکی تھیں۔ پولیس والوں کے بھاری بھرکم بوٹوں کی دھم دھم نے قبرستان کے سکوت کو تہس نہس کر دیا تھا جو وفد کے اعلیٰ نمائندوں کے آگے پیچھے چل رہے تھے۔ گورکن کی معیت میں کچی پکی قبروں کو پھلانگتے ہوئے وہ اس قبر کی طرف بڑھ رہے تھے جو قبر کی بجائے کتابوں میں پڑا ہوا تھا۔ ایک منحنی سا شخص ٹیڑھی چال چلتا ہوا بار بار وفد کے آگے پیچھے ہو رہا تھا جس نے ایک ہاتھ میں گلاب کے پتیوں سے بھری ٹوکری اور دوسرے ہاتھ میں قبر پر چڑھانے کے لئے چادر تھام رکھی تھی۔

کالی عینکیں چڑھائے دمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ جب وہ سب اُس مایہ ناز ادیب کی سنگِ مرمر سے بنی سفید قبر پر پہنچے تو ایک دم سے ان کے قدموں کی گونجتی دھم دھم یوں دم توڑ گئی جیسے ان کے پیروں سے سانپ لپٹ گئے ہوں۔ اکڑے ہوئے جسموں والے وفد کے قدم کچی قبر کی طرح سے بُھرنا شروع ہو گئے اور وہ سب اپنی اپنی جگہ پر ہکا بکا کھڑے تھے۔ جس کالی شلوار کو وہ ناشتے کی میز پر ڈھونڈتے رہے تھے وہ ان کی آنکھوں کے سامنے سب سے بڑے کہانی کار کی قبر پر چڑھی ہوئی تھی جہاں چند کملائے ہوئے پھول بھی پڑے تھے جن کی بکھری پتیاں بتا رہی تھیں کہ انہیں شدت کے ساتھ نوچا گیا تھا۔

Categories
نان فکشن

“غزال اور بھیڑیے” کا تاثراتی جائزہ: ایک تخلیق تین جہتیں

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

ﺍﯾﮏ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺁﺷﮑﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﻟﻔﻆ تب ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﺘﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔
ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﮐﻮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻗﺮﯾﺐ آٹھ، دس ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﻔﻆ ﻭ ﻣﻌﻨﯽ ﺳﮯ ﻋﻠﯽ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﯽ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﻧﺴﺘﮧ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﺩﺍﻧﺴﺘﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ “ﻏﺰﺍﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ” ﺧﯿﺮ ﻭ ﺷﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﺎﻃﯿﺮﯼ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﺋﺘﯽ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮐﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﻭ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

“ﻗﺮﻧﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻮﺳﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﭘﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺍﻭﻧﮕﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺰﺍﻝ ﮐﮯ ﻧﺘﮭﻨﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﺘﺒﺮﮎ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﻧﺎﻓﮯ ﭘﺮ ﻧﮕﺎہ ﮐﯽ”۔

ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺟﻤﻠﮯ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯﺟﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﭼﺎﺷﻨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﻤﻮﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺳﺤﺮ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻨﻮﯾﺖ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧوﺸﺒﻮ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮﻥ ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮏ ﺩﯾﺎ ﮐﯿﻮﮞ؟

ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺳﮯ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﻧﺎﻓﮧ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﯽ ﺟﮩﺘﯿﮟ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﻣﺜﻼً ﺍﺳﮯ ﺗﻤﺪﻥ ﮐﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﻭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻄﺮﺕ ﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺣﺴﻦ ﺳﮯ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮨﮯ؟ ﺩﮐﮭﺎﻭﮮ ﮐﮯ ﺍﻣﻦ ﻭ اﻣﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮮ ﺗﮩﺰﯾﺒﯽ ﻭ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﺭﮐﮫ ﺭﮐﮭﺎﺅ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﻓﻄﺮﺕِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮩﺎﮞ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻏﺰﺍﻝ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻣﺴﺖ۔

ﯾﮩﺎﮞ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻏﺰﺍﻝ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ طﻮر ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﺮﺍﺳﺮ ﺍﻣﻦ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﺣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﻋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﻭ ﺗﮩﺰﯾﺒﯽ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﻮ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﻄﺮﺕ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﭼﯽ ﺑﺴﯽ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﺍﮞ ﮨﮯ‏۔

“ﻣﻐﻨﯽ ﮐﻬﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﻫﺠﺮ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﮔﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﮑﮯ ﭘﮍﮮ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﻫﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺳﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ”

ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﻗﺖ ﻭ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﯿﮟ ﻣﻐﻨﯽ ﮐﺎﺗﺐ ِ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﮨﮯ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺳﺮﺳﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻠﻨﺎ ﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﻭ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ۔

“ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﭨﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﺨﻠﺴﺘﺎﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺳﺎﺭﺑﺎﻥ ﺍﻻﺅ ﻣﯿﮟ ﭼﺒﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺳﯽ ﻗﺼﮯ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺭﻫﮯ ﺗﮭﮯ”
۔
ﯾﮧ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﻧﺎﻣﮧ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﮯ۔

“ﺍﻭﺭ ﻏﺰﺍﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻮﺍﮞ ﺑﺨﺖ ﻣﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﮨﻤﮏ ﺭﻫﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﻏﺰﺍﻝ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻓﺮﺯﺍﺩ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ ﻧﻈﻢ ﺍﻓﺮﯾﻨﺎ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ”۔

ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﻢ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﻢ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﺎﻃﯿﺮﯼ ﺭﻧﮓ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﻟﻄﻒ ﺁﯾﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﻠﯽ ﺳﻄﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺍﺳﻄﻮﺭﮦ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﮔﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﮩﺰﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻏﺰﺍﻝِ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻧﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ ﺣﺴﯿﻦ، ﺳﺮ ﻣﺴﺖ۔

ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﯾﻮﻧﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﻄﻮﺭﻩ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻟﻔﺮﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﺎ “۔
ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﺑﮭﮍﮎ ﺍﭨﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺑﺪﻭﺵ ﮔﯿﻠﯽ ﻟﮑﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﯿﺮ ﻫﻮﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ”۔
ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﺮ ﻧﺌﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﻟﮕﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺷﺎﻧﺘﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﻣﮩﺰﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻟﭙﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔

“ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﮔﯿﺖ ﮔﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﯿﺎ”۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﻇﻠﻢ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﺷﺮ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﻇﺎﻟﻢ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯽ ﻗﻮﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺑﺮﺑﺮﯾﺖ ﮐﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

“ﻏﺰﺍﻝ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﯿﺘﻮﮞ ، ﻧﻈﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻫﻤﮑﺘﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﻗﺼﻮﮞ ﮐﮩﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ”

ﯾﮩﺎﮞ ﻏﺰﺍﻝ ﮐﮯ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﯿﺘﻮﮞ ﻧﻈﻤﻮﮞ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﮑﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺍﺱ ﺣﺴﯿﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻗﺼﮧﺀ ﭘﺎﺭﯾﻨﮧ ﺑﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺼﻮﮞ ﮐﮩﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺭﺍﺝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ۔

ﻣﺼﻨﻒ ﺍﺱ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮐﻮ ﻧﯿﺎ ﺑﺮﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﺎﻗﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﮨﯽ ﻟﻄﻒ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺑﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻓﻦ ﭘﺎﺭﮮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺯﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﻮﯼ ﺍﻣﯿﺪ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ﮐﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﺕ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﺩﺭ ﺍﺻﻞ ﮐﺴﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ ہے ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺲ ﺑﮭﺎﺅ ﺗﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﺎ ﻣﺘﻔﻖ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺣﺘﻤﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺧﻮﺩ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻦ ﭘﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔

“ﯾﮧ ﻣﺎﺋﯿﮑﺮﻭ ﻓﮑﺸﻦ ﮨﺮ ﮔﺰ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ”
ان ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻨﻒ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺧﺪ ﻭ ﺧﺎﻝ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻟﭩﮫ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺑﺲ ﺭﺍﺋﮯ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺻﻮﺍﺑﺪﯾﺪ پر ﮨﮯ۔

ﻣﺎﺋﮑﺮﻭ ﻓﮑﺸﻦ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ؟
اس سوال کا جواب ہے جیسی مغرب میں لکھی جا رہی ہے کیوں کہ یہ صنف بھی باقی بہت سی اصناف کی طرح مغرب سے درامد شدہ ہے اس لیے اسے بھی مغرب سے من و عن اٹھانے برتنے اور اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکے ایسا کرنے سے وقت کی بچت ہو گی اور کسی قسم کے بے کار تجرباتی ادوار سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا بلکہ لکھاری حضرات وہی وقت اس صنف میں اچھی اور معیاری تخلیقات پیش کرنے میں سرف کر سکیں گے۔
ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﮐﯽ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺗﺤﺮﯾﺮ مغربی مائکرو فکشن کے ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻓﭧ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ ﮨﮯ۔

ﯾﮧ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻦ ﺍﻟﺴﻄﻮﺭ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺎ ﺩﻓﺘﺮ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﮯ ﺑﯿﻦ ﺍﻟﻤﺘﻦ ﮐﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﻣﻮﺟﺰﻥ ﮨﯿﮟ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯿﮧ ﺍﺧﺘﺘﺎﻣﯿﮧ ﺍﻓﺴﺎﻧﻮﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻇﮩﺎﺭﯾﮧ ﻋﻼﻣﺘﯽ۔
ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺗﺠﺮﺑﺎﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ مذکورہ مبصر ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺶِ ﻧﻈﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﮕﭩﻮ ﮐﻮ ﭘﺎﺯﯾﭩﻮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ان ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﺏ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﮯ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﭘﯿﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻟﻐﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﻐﺖ ﮐﯽ ﻣﻌﻨﻮﯾﺖ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯽ ﺁﻓﺎﻗﯿﺖ ﮐﻮ ﭨﮭﯿﺲ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺧﯿﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭘﺲِ ﻣﺘﻦ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﺖ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺩﯾﮑﻬﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺍﺧﺬ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ:
1۔ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ۔
ﺍﺱ ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﺎ ﻇﮩﻮﺭ ﮨﻮا
2۔ﻏﺰﺍﻝ
ﺍﺑﻠﯿﺲ
3۔ﻧﺎﻓﮧ
شیطان ﮐﯽ ﺗﻔﻀﯿﻞ
4۔ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ
ﺩﻧﯿﺎ
5۔ﻣﻐﻨﯽ
ﺧﺪﺍ
6۔ﺳﺎﺭﺑﺎﻥ
ﻓﺮﺷﺘﮯ
7۔ﺑﺎﺳﯽ ﻗﺼﮯ
ﺗﮑﺮﺍﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ
8۔ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﭨﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ
ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ
9۔ﺧﺎﻧﮧ ﺑﺪﻭﺵ
ﻭﮦ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﭘﯿﺪ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮈﺍﺋﻨﺎ ﺳﻮﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ
10۔ﺑﻬﯿﮍﯾﺌﮯ
ﺍﻧﺴﺎﻥ

ﺍﻥ ﻣﺎﺧﻮﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﺿﻊ ﮨﻮﺗﯽ ۔ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﭘﻮﺯﯾﭩﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

یعنی جب ابلیس جو اس کہانی میں غزال ہے کو علم ہوا کہ نبی صلعم کی تخلیق عمل میں لائی گئی ہے تو اس نے اپنی عبادات کستوری سے بھرا نافہ جس کی علامت کے طور پر ابھرا ہے کی طرف حقارت سے اپنا منہ پھیرلیا اسی تسلسل میں کہانی آگے بڑھائیں اور ایک اور معنوی جہت سے ملاقات کریں۔
ﻧﻮﭦ: ﯾﮧ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﺣﺘﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے شک یہ بہترین تنقیدی انداز ہے کہ کسی کی بھی رائے کو مدلل انداز میں رد کیا جائے اور دلائل سے بات سمجھی سمجھائی جائے اب زرا آپ کے نکات کی طرف چلتے ہیں ابھی جواب لکھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں اگر اس صوفیانہ نظریے سے (ابلیس نے آسمان پر کلمہ پڑھا تھا جو انسان کی تخلیق سے بھی پہلے آسمانوں میں درج تھا اور اس میں نبی صلعم کا زکر تھا) ہٹ کر اس کہانی کو آدم کی تخلیق سے جوڑ کر دیکھوں تو بات منطقی نظر آئے گی اسی وجہ سے میں اپنے درج بالا تجزیے کے کچھ حصہ سے رجوع کرتا ہوں یہ ایک سوال کی وجہ سے ہوا کہ میں ایک ایک علامت کو کھول کر دیکھوں اور تحریر کا ساختیاتی جائزہ لینے کی سعی کروں اب چلتے ہیں ایک بار پر اس کہانی کی طرف۔

“قرنوں پہلے کوسوں دور ہرے بھرے جنگل
(وہ مقام جہاں آدم کی تخلیق ہوئی، اور اسے دنیا کی علامت کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے)
سے لوبان کی خوشبو
(اس مٹی کا استعارہ جس سے آدم کی تخلیق ہوئی)
پھیل کر ریگستان
(آسمان کا استعارہ)
میں دن بھر
(ابلیس کی گزشتہ عمر یا انسان کے تخلیق سے پہلے کا وقت)
اونگھنے
( عبادات کرنے)
والے غزال
(ابلیس)
کے نتھنوں تک پہنچی تو اس نے حقارت سے سر جھٹکا اور
جنت کے باغوں میں کھلنے والے پھولوں سے کشید کی گئی متبرک کستوری سے بھرے نافے پر نگاه کی
(یہ آخری جملہ ابلیس کی تفضیل کی طرف اشارہ ہے کہ جب اسے پتہ چلا کہ زمین پر انسان کو مبعوث کیا جا رہا ہے تو اس نے تکبر کیا اور سوچا انسان مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے میں افضل ہوں انسان سے )
۔ مغنی
(خدا، خالق)
کہیں دور بیٹھا ہجر کا حال گا رہا تھا
(اس جملے کے کئی معانی ہو سکتے ہیں ہجر کا حال گانا کائنات کا نظام چلانے کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے اور ہجر کے معنی کیوں کے دوری کے بھی ہیں اس لیے اس جملے کے معنی دور کی داستان سنانے دور کا قصہ سنانے پیشن گوائی کرنے کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے جیسے اللہ نے فرشتوں سے کہا تھا تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں وغیرہ)
دن بھر
(یہ وہی زمانہ ہے جس کا زکر مصنف نے غزال کے ساتھ بھی کیا)
ریت میں دبکے پڑے حشرات شام ہوتے ہی باہر نکل آئے تھے
“شام ہوتے ہی” (یہ زمانہ بدلنے کی طرف اشارہ ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دن اب شام میں ڈھل چکا ہے یعنی زمانہ بدل چکا ہے اس جملے کا باقی حصہ میرے خیال میں کہانی میں بس رنگ پیدا کرنے کے لیے ہے)
اور کی اور میں سرسراہٹ پھیل رہی تھی
(ہر طرف تبدیلی آ رہی تھی )
ریت کے بڑے ٹیلوں
( باقی آسمانوں ،دوسرے آسمانوں) کے اس پار جہاں سے نخلستان
(فرشتوں کا مقام ِ انہماک)
شروع ہوتا تھا ، ساربان (فرشتے)
الاؤ میں چبائے ہوئے باسی قصے
(تکرار عبادات، ابلیس کی کل عبادات ) پھینک رهے تھے ۔ اور غزال
(ابلیس)
اپنی جواں بخت مستی کے سبب ہمک رہا تھا
(ساربان سے بعد کا جملہ ظاہر کر رہا ہے کہ ایک طرف فرشتے ابلیس کی عبادات کو اس کے تکبر کے سبب آگ میں جھونک رہے تھے اور دوسری جانب ابلیس اپنے گھمنڈ غرور میں اوقات سے باہر ہوا جا رہا تھا)
یہ وہی غزال تھا جس پر فرزاد نے اپنی شاہکار نظم افرینا لکھی تھی۔ اور جس کا قصہ یونانیوں کے اسطوره کے کرداروں سے بھی دلفریب اور مشہور تھا
(درج بالا جملے میرے خیال سے کہانی میںصرف رنگ بھرنے کے لیے شامل کیئے گئے ہیں دوسری صورت میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قاری کو جھُل دینے اور بھٹکانے کے لیے یہ جملے یہاں شامل کیے گئے ہیں)
جنگل
(دنیا)
میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور خانہ بدوش
(انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے کی مخلوقات جیسے ڈائناسور وغیرہ)
گیلی لکڑیوں کی تلاش
(خوراک کی تلاش)
میں ڈھیر هوچکے تھے
(مر چکے تھے)
اس رات
(زمانہ بدلنے کا اشارہ بعثت کے وقت کا اشارہ)
بھیڑیوں
(انسانوں نے)
نے ریگستان کی طرف منہ کر کے
(آسمان کی طرف منہ)
اپنی بقا کا آخری گیت گایا
(یعنی انسانی زندگی کی ابتدا ہوئی)
اور سارے میں دھواں پھیل گیا
(دھواں پھیلنا زندگی چل پڑنے کی علامت کے طور پر لیا جا سکتا ہے)۔
غزال آج بھی شاعروں کے گیتوں، نظموں اور غزلوں میں ہمکتا ہے
(ابلیس آج بھی آزاد ہے اور اپنے گل کھلا رہا ہے اور اپنے تکبر کے سبب آج بھی وہ زندہ ہے)
اور بھیڑیے قصوں کہانیوں میں امر ہوگئے۔
(انسان فانی ہے اور قصوں کہانیوں میں رہ جانے والا ہے بس قصوں میں امر ہوتا ہے حقیقت میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے انسان کا وجود)

Categories
نان فکشن

“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

تاثراتی جائزہ

مصنف جتنا کہنہ مشق اور تجربہ کار ہوتا ہے اس کی پکڑ بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے اور اس کی تخلیق کو اتنا ہی سخت شکنجے میں کس کر ناپا تولا اور پرکھا جاتا ہے۔

متن اساس تنقید کو اس سے ویسے تو بالکل بھی سرو کار نہیں ہوتا کہ مصنف کون ہے اس نے کیا کیا تخلیق کر رکھا ہے اور اسکا نام کتنا اونچا ہے اسے متن سے سر و کار ہوتا ہے میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ میں کسی بھی تخلیق کو مصنف سے جدا رکھ کر دیکھوں اور پرکھوں۔

یہاں ویسے تو یہ چلن عام ہے کہ دوستوں کے کمزور افسانوں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور ان کی تعریف میں آسمان کے قلابے ملا دیے جاتے ہیں اور جواب میں دوست بھی پھر خوب دوستیاں نبھاتے دکھائی دیتے ہیں اور احسان اتارتے نظر آتے ہیں خیر یہ ایک ضمنی بات تھی جو بالعموم ادب میں اور باالخصوص فیس بک پر دکھنے والے رویے کے بارے تھی۔

اب زرا چلتے ہیں مذکورہ تخلیق کی جانب

میں اپنی پوری ایمان داری برتتے ہوئے متن اساس تنقید کی ہی کوشش کروں گا اور مصنفہ کی ذات کو تخلیق سے جدا رکھ کر اپنا تجزیہ پیش کروں گا لیکن اس سے پہلے کچھ مصنفہ کے بارے میں محترمہ فارحہ ارشد کم و بیش بیس پچیس یا اس سے کچھ کم یا اوپر سالوں سے پاکستان کے مختلف ڈائجسٹوں میں لکھ رہی ہیں اور ڈائجسٹی لکھاریوں میں ایک بڑا نام اور اہم مقام رکھتی ہیں پچھلے قریب تین سالوں سے وہ فیس بک کے بہت سے فورمز پر بھی لکھ رہی ہیں اور ان کے “زمین زادہ” اور “حویلی مہر داد کی ملکہ” جیسے شاہکار افسانے بھی ہم نے پڑھ رکھے ہیں ان کے ایک اور افسانے کو پڑھتے ہوئے ان کے اس ہی معیار کی توقع رکھنا بے شک ان کے قاری کا حق ہے میں ان کے اس افسانہ پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

آئیں اب متن میں جھانکیں۔

میں ہمیشہ کہتا ہوں جب تک مصنف کا حسی تجربہ تخلیق کا حسی تجربہ بن کر نہیں ابھرتا تخلیق تحریر تو رہتی ہے فن پارہ نہیں بنتی ایسا ہی کچھ مذکورہ تحریر کا معاملہ بھی ہے۔

تھر جیسے پسماندہ علاقے میں بسنے والی چودہ پندرہ سال کی ایک لڑکی کی کہانی جو اول اول اپنے باپ کی زبانی ایک ڈاکٹر کا ذکر سن کر اسے اپنے من کا راجہ بنا بیٹھتی ہے اور پھر ایک مغالطے کی پاداش میں کاری کر دی جاتی ہے۔

میں اگر ایک جملے میں تخلیق کے مرکزی خیال کا احاطہ کروں تو وہ یہ ہو گا
“معاشرہ اتنا پسمادہ نا خواندہ اور شدت پسند ہے کہ کسی کے تصور اور تخیل کو بھی بنیاد بنا کر اس کی جان لے لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا”

بالکل درست ایسا ہی ہے لیکن اس بات کو فنی مہارت کے ساتھ تخلیق کا حصہ بنانا ہی ایک مشاق لکھاری کی مشاقی ہوتا ہے یہ تخلیق اپنی ابتداء سے ہی ایک مصنوعی تاثر لے کر ابھرتی ہے اور آخر تک وہ تاثر تخلیق کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

“جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔
پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو
من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔
کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے اس کنویں سے بھی کہیں گہرا لگنے لگتا۔

دانتوں پہ دانت جمائے سانس تک روک لیتی کہ من کی آواز سنے۔ جبڑے دُکھنے لگتے، سانس بند ہونے لگتی مگر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔
سکھیاں سہیلیاں کیا کہہ رہی ہیں کس بات پہ دبے دبے قہقہے تھر کی کُھلی فضا میں گونجتے ہیں وہ بس گُم صم سی ان کی شکلیں دیکھنے لگتی۔
چُنری کا گھونگھٹ اور گہرا کرتی۔ مٹکا بھر کے سر پہ رکھتی اور ریت میں قدم دھنسا کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی۔”

اس ابتدائی پیرا گراف کا مطالعہ کریں تو ہمیں لگتا ہے یہ کسی وڈیرے کی پچیس سال کی خوبرو الہڑ بیٹی کا ذکر ہے جس کے ناز و انداز سے دوشیزگی اور دلبری ٹپک ٹپک پڑتی ہے لیکن کہانی کے درمیان میں جا کر کھلتا ہے کہ یہ کوئی پچیس سال کی بانکی ناری نہیں چودہ سال کی کم سن بچی کا ذکر ہے جس کا تعلق تھر جیسے پسماندہ علاقے کے ایک غریب گھرانے سے ہے۔

تھر جس کی زندگی پر میری نگاہ ایک تو اس لیے بہت گہری رہی کہ مجھے صحرا سے عشق ہے اور میں نے کچھ وقت وہاں گزارا ہے دوسرا تھر کے ایک بزرگ سے تعلق داری ہے جن کے توسط سے بھی تھر کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھر میں شاید ہی ایسا کوئی غریب گھرانہ ہو جہاں تین وقت کی روٹی میسر ہو تھر کی عورتیں سخت جان اور کرخت مزاج ہوتی ہیں انہیں مردوں کے ساتھ برابر بلکہ شاید ان سے بھی زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس لیے جس نازک ناری کا ذکر کہانی کی ابتداء میں کیا گیا ہے وہ کردار کسی تصوراتی تھر میں تو شاید بستا ہو حقیقت میں اس کے وجود کا تصور بھی محال ہے مرکزی کردار کا بنا گیا شخصی خاکہ کہانی کے پلاٹ سے میل نہیں کھاتا۔

“یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا۔
کچھ روز پہلے ابا نے ساتھ کے گاؤں کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں بچوں کی اموات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ سارے تھر میں پھیل رہا ہے۔ ایک تنظیم کسی بڑے شہر سے آئی ہے اور انہوں نے ساتھ والے گاؤں کے قریب ایک کیمپ لگایا ہے۔ وہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر سانول مراد بھی ہے جو بہت تسلی سے بچوں کو دیکھتا اور انہیں دوا دیتا ہے۔ آرام نہ آنے کی صورت میں بچوں کو علاج کے لئے وہ ڈاکٹر اور اس کی تنظیم بڑے شہر کے ہسپتال لے جاتی ہے۔

بھائی کا بیٹا بیمار ہوا تو اسے بھی ڈاکٹر سانول کے کیمپ میں لے جایا گیا۔ کچھ روز کے بعد جب وہ صحتیاب ہو کر گھر آیا تو اٹھتے بیٹھتے سب کی زبان پہ ایک ہی نام تھا ڈاکٹر سانول مراد۔

داکٹر سانول مراد ایسا خوبرو جوان ہے۔ ڈاکٹر سانول مراد ایسے محبت سے بچوں کو دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر سانول مراد ایسے پہنتا ایسے باتیں کرتا ہے۔”
درج بالا پیرا پڑھتے ہوئے شدت سے احساس ابھرتا ہے کہ ڈاکٹر سانول کا ذکر شامل کرنے کے لیے کس مصنوعی انداز میں یہ حصہ لکھا گیا ہے جو حقیقت میں اس پوری تخلیق کی بنیاد ہے لیکن اس حصے کی شدید مصنوعی فضا نے پوری تخلیق کو گہن لگا دیا اور تحریر ایک ڈائجسٹی کہانی بن کر رہ گئی
اس کے بعد چودہ پندرہ سال کی تھر کی باسی اس کمسن لڑکی کے خوابوں خیالوں اور تصورات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اس کردار کی بنت کو مزید کمزور بنا دیتا ہے جس سے تحریر بے جا طوالت کا بھی شکار ہو گئی ہے اور روائتی سطحی بھی ایسے خوابوں خیالوں اور تصورات کی داستانوں سے ڈائجسٹوں کے پیٹ بھرے پڑے ہیں دکھانا مقصود ہے کہ اس نے خیالوں میں ایک سانول کا کردار گھڑا ہے لیکن اس کا بیان اتنا روائیتی ہے کہ قاری سوچے بنا نہیں رہ پاتا کہ ادب کس رخ بڑھ رہا ہے اسے ادب کی تنزلی پر منتج نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے آخر؟؟

رہی سہی کسر اس ٹکڑے نے پوری کر دی
زرا دیکھیں کس غیر حقیقی اور مصنوعی انداز میں یہ حصہ تحریر کیا گیا ہے جس کے منطقی جواز کی کوئی صورت مجھے تحریر میں نہیں ملی
“چارہ سر پہ اٹھائے باہر سے آئی تو بھائی کو مرغ کو مکھن کھلاتے دیکھ کر اس پہ پل پڑی۔
یہ تُو کیا ہر وقت بے کار کی چیزوں میں پڑا رہتا ہے تیری بیوی، ماں اور بہن سارا دن کام میں جُتی رہتی ہیں اور تُو یہاں بیٹھ کر مرغ کو مکھن کھلا رہا ہے۔ بیوی تیری چوتھا بچہ جننے والی ہے اسے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے ملتی ہے اور تُو یہاں میلے ملاکھڑے کے لیے مرغ کو مکھن کے نوالے کھلا کر تیار کر رہا ہے۔
وہ بھائی کے ساتھ بیٹھے جمن اور شناور کو بھی ماتھے پہ سو بل ڈال کر غصے سے دیکھنے لگی۔”

کیا ایک چودہ پندرہ سال کی کم سن لڑکی خود سے پانچ آٹھ سال بڑے بھائی پر یوں پل پڑنے کی جرات کر سکتی ہے وہ بھی جہاں ایک طرف یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہو کہ عورت کتنی جکڑی ہوئی اور مجبور و لاچار ہے اور اپنی تکلیف پر بھی اف نہیں کر سکتی تھر جیسے علاقے میں تو چچا زاد تایا زاد کےلڑکی کی تنہائی میں گھر میں آ جانے پر بھی لڑکی کو کاری کر دیا جاتا ہے وہاں جمن کا بھائی کے سامنے اسے دبوچ لینا کتنا حقیقی یا مصنوعی ہے اس کا فیصلہ قاری خود کر سکتا ہے

“چل ری۔۔۔ دو ہتڑ لگاؤں گا۔ میرے سامنے ایک لفظ نہ بولنا۔
اورہم مردوں کی یہ شان نہیں کہ گھر کے کام کریں تم عورتیں کس لیے ہو۔ اور بھرجائی تیری کو چوتھا بچہ جنوا رہا ہوں تو یہ بھی تو میری مردانگی ہے ”
“۔ وہ آخری جملہ آہستہ سے کہہ کر جُمن اور شناور کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا تو سُکھاں کے تو مانو تلووں میں لگی اور سر پہ جا بجھی۔ ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا لے کر اس کی طرف لپکی”
کون سا بے غیرت بھائی ہے جو چودہ سال کی بہن کو غیر مردوں کے سامنے اپنی مردانگی کا پاٹ پڑھا رہا ہے اور اس پر اوباش لفنگوں کی طرح کزن کے ہاتھ پر ہاتھ مار رہا ہے
” آ تیری مردانگی بتاؤں۔۔۔ ”
اور کون سی چودہ سال کی بہن ہے جو جواب میں ڈنڈا لے کر بھائی کو مردانگی بتانے دوڑ کھڑی ہوئی ہے یہ کردار کسی الٹرا موڈ شہری سوسائٹی کے کسی مغرب زدہ گھرانے کے تو ہو سکتے ہیں تھر کے کسی غریب گھر کے نہیں کم سے کم مجھے یہ ماننے میں عار ہے۔
“جمن نے اسے بھائی کی طرف بھاگتے دیکھ کر اسے پیچھے سے جا لیا۔ نرم نرم گداز بدن میں انگلیاں دھنس کر رہ گئیں
” تُو تو چھوڑ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ناکارہ۔ ” وہ اس سے اپنا آپ پوری طاقت سے چھڑانے لگی مگر جمن کی بانہوں کا گھیرا بہت مضبوط تھا۔
” تم سب ایک سے ناکارہ۔ اور ایک وہ سانول ہے۔۔۔۔ ”
” اے ری کون سانول ؟۔۔۔۔ ” وہ اسے چھوڑ کر سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوگیا
کیا کوئی کسی غیر حقیقی تصوراتی کردار کا موازنہ کسی حقیقی شخص کے ساتھ یوں کر سکتا ہے کردار کی تحلیل ِ نفسی کریں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایک پسماندہ علاقے کی چودہ پندرہ سال کی کمسن لڑکی نارمل حالات میں ایسا نہیں کر سکتی کہ وہ کسی حقیقی شخص کے ساتھ یوں برملا کسی تصوراتی کردار کا موازنہ کرے اور اس کردار کا یوں بر ملا اظہار کرے وہ بھی ایک ایسے ماحول میں جہاں کاری کیے جانے کے واقعات عام ہوں اور کمسنی سے ہی لڑکیاں اپنی حدود و قیود جانتی ہوں۔

” جا جا تیرا کوئی کام نہیں۔ اور میرے منہ نہ لگنا اسی ڈنڈے سے تیرا پنجرچُورا بنا کے پھانک جاؤنگی ”
درج بالا جملہ دیکھیں کیا تو تڑاخ ہے کیا اعتماد ہے واہ وہ بھی سندھ کے ایک دیہی علاقے کی ایک کم سن لڑکی کا
مجھے ایسی نڈر لڑکی سے تو ملنے کا اشتیاق ہو چلا اب ساری لڑکیاں اتنی نڈر اور بے باک ہو جائیں یہ میری دعا ہے

لیکن یہ کیا آگے چل کر بکری کی طرح سب مان گئی یہ لڑکی اور اف تک نہیں کی یہ کیا تضاد ہے ایسی اعتماد والی لڑکی کو تو شادی سے ہی انکار کر دینا چاہیے تھا اور خوابوں کے سانول کے ساتھ بیاہی جانے کی ضد کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا تو کچھ نہیں ہوا وہ باغی نڈر لڑکی شوہر کے ہاتھوں دھنکی جاتی رہی لیکن اس کے آگے بغاوت نہ کی۔ کاری ہو گئی لیکن جرگے کے سامنے آواز نہ اٹھائی اور دوسری طرف وہ ڈنڈا اٹھا کر بڑے بھائی پر پل پڑی اور ڈنڈے سے جمن کا پنجر چورا بنا کر پھانک جانے کی باتیں؟؟؟

اپنا تجزیہ آگے بڑھانے سے پہلے زرا عنوان کی طرف چلتے ہیں
جیسا کہ تحریر کے آخر میں عنوان جو کے سندھی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ بھی درج ہے
اگر اس ترجمہ کو درست مان لیا جائے تو پھر اصل عنوان کے الفاظ یہ ہونے چاہیں
امان ھو مون کی کاری کری ماری چھڈیندا
یا
امان اُنھن مون کی کاری کری ماری چھڈیندو
اور اگر عنوان کے الفاظ کو درست لیا جائے تو ترجمہ بنے گا
اماں وہ مجھے کاری کر کے مارتا ہے
میرے خیال میں اتنے تردد میں پڑنے کے بجائے اگر تحریر کا عنوان ترجمہ کو ہی کر لیا جاتا
یعنی
“اماں وہ مجھے کاری کر کے مار دیں گے”
تو بہترین ہوتا
اور زبان کا بگاڑ بھی نہ در آتا

ہر مبصر اور ناقد کا مشاہدہ بھی رائے دیتے ہوئے اتنا ہی گہرا ہونا چاہیے جتنا کہ تخلیق کار کا تخلیق کرتے ہوئے۔

یہ کہانی صرف پسماندہ علاقے کی نہیں۔ تھر کی ہے جسی کی اپنی ثقافت ہے جس کی اپنی اقدار ہیں جس کی اپنی حدود ہیں تھر جہاں بیویاں شادی کے بعد تیس سال گزار دیتی ہیں لیکن اپنے خاوند کی موجودگی میں آنکھ اونچی نہیں کرتیں بیٹیاں جوان ہو جائیں تو چچا تایا تو کجا باپ کے سامنے آنے سے بھی گریز برتنے لگتی ہیں اور بہنیں چھوٹے بھائیوں کے سامنے بھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتیں بڑا بھائی تو دور کی بات۔

تھر میں کیوں کہ بے حد خشک سالی رہتی ہے اور تھر واسی خانہ بدوشوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں اس لیے ان کے رہن سہن اور بودو باش عام دیہی زندگی سے بہت مختلف ہوتی ہے۔

ایسے میں بھائی کا جوان بہن کو مردانگی کا پاٹ پڑھانا اور بہن کا ڈنڈا لے کر اس پر پل پڑنا کسی صورت ایڈجسٹ ایبل نہیں وہ بھی غیر مردوں کی موجودگی میں
ایسا تو شہری غریب یا مڈل کلاس گھرانوں میں بھی ہونا بعید از قیاس ہے۔
اور اس کا کوئی منطقی جواز نہیں
ریئر کیسز میں شاید ایسا ہو لیکن افسانہ اجتماعی معاشرتی رویوں کا عکاس ہوتا ہے۔

قصے کی ابتدا میں ڈاکٹر سانول کا ذکر جس طرح کیا گیا ہے اور اس کا نام زبان زدِ عام و عوام دکھایا گیا ہے تو اتنے مشہور ڈاکٹر کے تصور سے لڑکی عشق کر بیٹھتی ہے لیکن جب وہ بھائی کے اور جمن کے سامنے سانول کا ذکر کرتی ہے تو حیرانگی کی بات ہے کہ ان کا دھیان گاؤں کی مہان اور مشہور ہستی ڈاکٹر سانول کی طرف نہیں جاتا جب کہ اتنی مشہور اور ایسی ہستی کا نام تو استعارہ بن کر گردش کرنے لگتا ہے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں یہ بات بھی بڑی غیر منطقی لگی۔

اس کے بعد کا باقی سارا پلاٹ بھی مصنوعی اور فطری بہاؤ سے خالی سوچ سوچ کر لکھا ہوا ہے
میری رائے میں یہ تحریر بارِ دگر لکھی جانے کی متقاضی ہے
ہم نے مصنفہ کے اچھے افسانے بھی پڑھ رکھے ہیں اور امید ہے کہ وہ اس افسانے کو بھی وقت کے ساتھ پکا کر کچھ بہتر بنا لیں گی
اس دعا کے ساتھ کہ مصنفہ کا قلم جاری و ساری رہے رد و قبول تسلیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا

جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔
پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو
من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔
کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے اس کنویں سے بھی کہیں گہرا لگنے لگتا۔
دانتوں پہ دانت جمائے سانس تک روک لیتی کہ من کی آواز سنے۔ جبڑے دُکھنے لگتے، سانس بند ہونے لگتی مگر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔
سکھیاں سہیلیاں کیا کہہ رہی ہیں کس بات پہ دبے دبے قہقہے تھر کی کُھلی فضا میں گونجتے ہیں وہ بس گُم صم سی ان کی شکلیں دیکھنے لگتی۔
چُنری کا گھونگھٹ اور گہرا کرتی۔ مٹکا بھر کے سر پہ رکھتی اور ریت میں قدم دھنسا کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی۔
یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا۔
کچھ روز پہلے ابا نے ساتھ کے گاؤں کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں بچوں کی اموات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ سارے تھر میں پھیل رہا ہے۔ ایک تنظیم کسی بڑے شہر سے آئی ہے اور انہوں نے ساتھ والے گاؤں کے قریب ایک کیمپ لگایا ہے۔ وہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر سانول مراد بھی ہے جو بہت تسلی سے بچوں کو دیکھتا اور انہیں دوا دیتا ہے۔ آرام نہ آنے کی صورت میں بچوں کو علاج کے لئے وہ ڈاکٹر اور اس کی تنظیم بڑے شہر کے ہسپتال لے جاتی ہے۔
بھائی کا بیٹا بیمار ہوا تو اسے بھی ڈاکٹر سانول کے کیمپ میں لے جایا گیا۔ کچھ روز کے بعد جب وہ صحتیاب ہو کر گھر آیا تو اٹھتے بیٹھتے سب کی زبان پہ ایک ہی نام تھا ڈاکٹر سانول مراد۔
داکٹر سانول مراد ایسا خوبرو جوان ہے۔ ڈاکٹر سانول مراد ایسے محبت سے بچوں کو دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر سانول مراد ایسے پہنتا ایسے باتیں کرتا ہے۔۔۔۔
سُکھاں چپ چاپ سر نہوڑائے ڈاکٹر سانول مراد کا سراپا من ہی من میں مجسم کرتی رہتی۔
کنویں پہ لڑکیاں ایک دوسرے کو ڈاکٹر سانول مراد کا نام لے لے کر چھیڑنے لگیں تو جانے اسے کیوں حسد سا محسوس ہونے لگا۔
اسے لگتا ڈاکٹر سانول مراد صرف اسی کے خوابوں کا جوان ہے۔
ڈاکٹر سانول مراد سے اس کے خوابوں کے جوان، سانول تک پہنچانے میں جہاں اس کے اردگردکی عورتوں اور لڑکیوں کا قصور تھا اس سے کہیں زیادہ اس کی اپنی چڑھتی ندی جیسی عمر بھی خطاکار تھی۔
کب چال میں ٹھمریاں جاگیں اور کلائیوں میں مرداروں کی ہڈیوں سے بنی سفید چوڑیاں بجنے لگیں وہ سمجھ نہ پاتی اورخود بھی سب کے ساتھ حیران اور بولائی پھرتی۔
اماں کے ساتھ مویشیوں کو ہانکتے، لکڑیاں چُنتے، گج میں شیشے ٹانکتے جانے کب وہ ان ہاتھ سے بنائے گج کے شیشوں میں اپنا عکس دیکھ کر مسکرانے لگی۔
ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی کہ وہ سمجھ پاتی۔
اب تو وہ اسے سنائی بھی دینے لگا تھا اور دکھائی بھی۔
جانے کس شہر کا باسی تھااور کہاں سے آیا تھا وہ مارے حیا کے، کسی سے پوچھ تک نہ پاتی۔
آٹا گوندھتے روٹیاں پکاتے وہ مسلسل مسکراتی رہتی اور گھونگھٹ کو اور لمبا کھینچ لیتی۔
وہ ادھر ہی اس کے پاس پیڑھی کھینچ کے بیٹھ جاتا اور اس سے میٹھی میٹھی سرگوشیاں کرتا۔
پانی بھرتے ہوئے وہ اس کے قریب آتا اور سرگوشیوں میں ایسا کچھ کہہ دیتا کہ وہ سارا وقت لجاتی اور سمٹتی رہتی۔
جڑی بوٹیاں توڑنے جاتی تو وہ وہاں بھی پہنچ جاتا۔ اس کی خوشبو ان جنگلی بوٹیوں کی مہک کے باوجود پہچان لیتی۔
میٹھی اورمن اندر مدھ جگانے والی ایسی خوشبو جس نے اسے چودہ سال کی کم سنی میں ایک دم جوان عورت کا روپ دے دیا تھا۔
قحط بھرے وقت میں جب سب کا روپ اور حُسن کُملا گیا تھا اور لڑکیوں کے منحنی وجود سُکڑنا شروع ہوگئے تھے ایسے میں وہ بھر پور انگڑائی لے کر پُر زور شباب کو چولی کے اندر قابو نہ کر پا رہی تھی۔
چولی کیا تنگ ہوئی کہ چُنری کا گھونگھٹ بھی اسے چھپانے میں ناکام نظر آنے لگا۔
ماں نے اسے مسکراتے، لجاتے اور خود سے باتیں کرتے دیکھا تو جھٹ دو چار صلواتیں سنا ڈالیں اور گھر کے مردوں کے سامنے بیر بہوٹی بننے کے سارے ازبر گُر اسے چوٹی سے پکڑ
کے سکھانے لگی۔
بھابھی تو جیسے بے ہوش ہوتے ہوتے بچی کہ وہ اتنی دیر سے گج میں شیشے ٹانکتے ہوئے کس سے باتیں کر رہی ہے اور کس کی باتوں پہ زور زور سے کھلکھلا کے ہنس رہی ہے۔ اردگرد دور تک گہری مشکوک نگاہ سے تاڑنے کے بوجود جب کوئی نظر نہ آیا تو گھبرا کر ساتھ والے گھر اپنی سہیلی کے پاس جا کر داستان کو مرچ مصالحہ لگا کر سنانے لگی۔
وہ تو خود کسی اور جہان میں تھی ماں کے غیض وغضب بھرے چہرے پہ اسے بس لب ہلتے نظر آتے
بھابھی کی مشکوک نگاہوں پہ تو اسے ہنسی آنے لگتی۔
سب گونگے بہرے لگنے لگے کیونکہ ایک منٹھار سی سرگوشی اس کے من اور تن کا احاطہ کئے رکھتی۔ وہ کسی وقت ذرا سا دور ہوتا تو بھٹائی کی وائی اور سچل سر مست کے اشعار سنائی دینے لگتے۔
صبح طلوع فجر سے پہلے اٹھ کر چکی پیسنے اور جانوروں کو چارہ ڈال کر ان کا دودھ دوہنے تک وہ اس کے آگے پیچھے ہنستا، باتیں کرتا رہتا۔
ویرو کی شادی پہ اس نے یوں لہک لہک کر گیت گائے کہ سب حیرت زدہ سے اسے دیکھتے رہ گئے۔
اور جھک کر گول گول دائرے میں رقص کرتے وہ اس کی بلائیں لیتا رہا اور وہ یوں گھومی جیسے سارے تھر کو انگلیوں کی پوروں پہ گھما نے کا عزم کئے بیٹھی ہو۔
سہیلیاں اسے ٹہوکے دے کر چھیڑتیں تو وہ گلنار سی ہنس ہنس کر دوہری ہونے لگتی۔
ماں اور بھابھی کی طرح گھر میں مردوں کے حصے کے بھی کام کرتی اور بھائی کو مُرغ اور بکرے لڑانے کے لیے تیاریاں کرتے دیکھتی تو آگ بگولہ ہو جاتی۔
” میرا سانول تو ایسا نہیں ہے۔ میرے ہر کام میں میرے ساتھ ہاتھ بٹاتا ہے۔ وہ جُمن، سارنگ، رامن سب سے زیادہ مختلف ہے اور سوہنا جوان بھی۔”
وہ اتراتی ہوئی انہیں گھور کر یوں دیکھنے لگتی جیسے وہ سب کیڑے مکوڑے ہوں۔
چارہ سر پہ اٹھائے باہر سے آئی تو بھائی کو مرغ کو مکھن کھلاتے دیکھ کر اس پہ پل پڑی۔
” یہ تُو کیا ہر وقت بے کار کی چیزوں میں پڑا رہتا ہے تیری بیوی، ماں اور بہن سارا دن کام میں جُتی رہتی ہیں اور تُو یہاں بیٹھ کر مرغ کو مکھن کھلا رہا ہے۔ بیوی تیری چوتھا بچہ جننے والی ہے اسے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے ملتی ہے اور تُو یہاں میلے ملاکھڑے کے لیے مرغ کو مکھن کے نوالے کھلا کر تیار کر رہا ہے۔ ”
وہ بھائی کے ساتھ بیٹھے جمن اور شناور کو بھی ماتھے پہ سو بل ڈال کر غصے سے دیکھنے لگی۔
” چل ری۔۔۔ دو ہتڑ لگاؤں گا۔ میرے سامنے ایک لفظ نہ بولنا۔
اورہم مردوں کی یہ شان نہیں کہ گھر کے کام کریں تم عورتیں کس لیے ہو۔ اور بھرجائی تیری کو چوتھا بچہ جنوا رہا ہوں تو یہ بھی تو میری مردانگی ہے
“۔ وہ آخری جملہ آہستہ سے کہہ کر جُمن اور شناور کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا تو سُکھاں کے تو مانو تلووں میں لگی اور سر پہ جا بجھی۔ ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا لے کر اس کی طرف لپکی
” آ تیری مردانگی بتاؤں۔۔۔ ”
جمن نے اسے بھائی کی طرف بھاگتے دیکھ کر اسے پیچھے سے جا لیا۔ نرم نرم گداز بدن میں انگلیاں دھنس کر رہ گئیں
” تُو تو چھوڑ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ناکارہ۔ ” وہ اس سے اپنا آپ پوری طاقت سے چھڑانے لگی مگر جمن کی بانہوں کا گھیرا بہت مضبوط تھا۔
” تم سب ایک سے ناکارہ۔ اور ایک وہ سانول ہے۔۔۔۔ ”
” اے ری کون سانول ؟۔۔۔۔ ” وہ اسے چھوڑ کر سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوگیا
” جا جا تیرا کوئی کام نہیں۔ اور میرے منہ نہ لگنا اسی ڈنڈے سے تیرا پنجرچُورا بنا کے پھانک جاؤنگی ”
وہ اس وحشی عورت کی طاقت سے ایسا دم بخود ہوا کہ اسے گرا کر اپنی طاقت آزمانے کے خواب دیکھنے لگا۔
” بڑا آیا پوچھنے کہ سانول کون ہے۔ ”
وہ گدرے جسم پہ چبھے اس کے ناخنوں سے خون بھری خراشیں دیکھ کر نتھنے پھلائے سو سو بل کھاتی رہی۔
” تُو ہے سہی اس کا مقابلہ کرنے والا۔ اور تُو کیا پورے تھر کی زمین پہ
اس جیسا چھورا کوئی نہیں۔ ”
۔۔۔۔ وہ خود سے جانے کتنی دیر ہمکلام رہی۔ سانول اس کی خون بھری خراشوں کو بوسے دیتا رہا اور بند دروازے سے کھلکھلانے کی آواز باہر آتی رہی۔ بچے کو کھانا کھلاتی بھابھی کے ہاتھ خوف سے کانپتے رہے اور ماں ایک سوچ بھری نگاہ سے دروازے کو گھورتی رہی۔
اکیلی جھومتی، گاتی اور اکیلی ہی باتیں کرنے لگی تو تھر کی عورتیں انگلیاں دانتوں تلے چبانے لگیں۔
ماں نے ابا سے مشورہ کر کے اپنے بھائی کے بیٹے جمن سے اس کی پدھری (بات پکی) کر دی۔
ماموں نے بیٹے کے لئے سنگ ہی نہیں مانگا بیاہ کی تاریخ بھی رکھ دی۔
وہ جمن کی ساری چالیں سمجھتی تھی۔ مگر کیا کرسکتی تھی۔
اس روز اسے لگا جیسے سانول روٹھ گیا ہو وصال کی وائیں لبوں کے اندر دم توڑنے لگیں۔ اور ہجر کے آنسوؤں سے بھری آواز ریت کے ٹیلوں میں یوں سرسرانے لگتی جیسے اس کی آواز نہیں ریت میں سرسراتی بلائیں ہوں۔
جُمن کی دولہن کے روپ میں سانول کی طلب نے اور بھی بیقرار کر ڈالا۔
عشق کی اڑان تو تلور طیور سے بھی تیز نکلی۔
جسم نے عشق کا بوجھ اٹھانے سے بے بسی ظاہر کی تو روح تھر کے ریگستانوں میں، صحراؤں میں ببول کے درختوں کی ٹہنیوں پہ ننگے پاؤں بھاگتی لہولہان ہونے لگی۔
کلائی میں بندھے دھاگے کو کلائی کے چوگرد پھیرتی صرف ایک ہی جملہ دہراتی رہی۔ ‘ تمہاری ہوں سانول’
عشق کی طلب، بھٹکتے ہوئے پنکھوؤں کی طرح اس کے من منڈیر پہ منڈلانے لگی۔
ایک خوشبو کا جھونکا آیا اور وصل کی سرگوشیاں کرتا اس کی بلائیں لینے لگا۔
وہ سہاگ کی پہلی رات تھی اور وہ بندِ قبا کھولے اسانول کے سامنے تھی۔ وہ اس کی قبا کے اندر وجود میں اتر کرپنکھ بن کر اڑنے لگا۔ وصل کی بارش نے پر بھگوئے تو وہ بھاری بھیگے پروں سمیت وہیں کہیں اس کے اندرہی بیٹھ گیا اور اڑنا بھول گیا۔
سرگوشیوں میں جمن نے اپنے نام کی بجائے سانول کا نام سنا تو ایک دم الگ ہو کر دور جا کھڑا ہوا۔
“کون ہے ری یہ سانول۔۔۔۔” وہ غصے سے پوچھتا رہا اور وہ انجان بنی آنکھوں پہ بازو دھرے نیم خوابیدہ سی خاموش لیٹی رہی۔
رات کے کسی پہر اس کے بدن کی حدت جمن کوایسی تپش دینے لگی کہ اس نے خود کو بہتیرا روکا مگر اسے لگتا اس کا غصہ اس کے سوا نکل نہیں سکتا۔
ہر رات ہی وہ پہلے سے بڑھ کر اس کا جسم روئی کی طرح دھنکنے لگا۔
کاہل مرد تھا۔ چھپڑ ہوٹلوں پہ فحش فلمیں دیکھتا اور ہر بار نت نئے طریقوں سے اس کا جسم جھنجھوڑ کے رکھ دیتا۔ اسے اذیت دیتا۔
ہمرچو اور ملہار گاتے طالب و مطلوب کے درمیان ہجر آن کھڑا ہوا۔ تھر باسیوں نے دیکھا کہ کارونجھر کے پہاڑاسے پکارتے تھے اور وہ عشق کی آتش سے راکھ ہوتی اُدھر دوڑنے لگتی۔
نہ سمجھ تھی نہ خبر۔۔۔۔۔۔۔ راز رکھنا یا راز ہونا کیا ہوتا ہے وہ بے خبر ان باریکیوں کو جانتی ہوتی تو یوں من موہنی رانی بنی، سات سنگھار کر کے کہیں دور چھوٹے ٹیلے کے پار جاتی بھلا؟۔۔۔۔۔
سونے جیسی ریت پہ بھاری اور تھکے قدموں سے واپس آتی تو چونرے (ہٹ نما گھر) کی دیوار سے کان لگائے تھر کی عورتیں غضبناک نگاہوں سے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتیں۔
مگر اسے کب کسی کی پرواہ تھی۔ انجانی راہیں اور اس پہ عمر کا پندرہواں سال۔ اس پہ عشق کی آتش ایسی کہ بڑوں بڑوں کو منہ کے بل گرا کر جلا دے، راکھ کر ڈالے اور پھر راکھ کو بھی ہواؤں میں اڑا دے، فنا کر ڈالے۔
جمن کمرے میں آتا تو اس کی دبی دبی سرگوشیاں سن کر مونچھیں مروڑتا۔ اس کو ساری رات روئی جیسا دھنکتا، وہ جتنی طاقت خود کو چھڑانے میں لگاتی اس سےزیادہ اس کی مردانگی کو ہاتھ پڑتا اور اسے تھر کی ریت جیسا پیس ڈالنے کے سارے ہنر آزما ڈالتا۔
وہ سارا دن اس کے گھر والوں اور مویشیوں کی چُپ چاپ دیکھ بھال میں لگی رہتی۔
اور وہ مرغ بغل میں دبائے میلوں ملاکھڑوں میں اپنا مرغ لڑانے کے لئے گاؤں کے دوسرے جوانوں کی طرح سارا سارا دن مارا مارا پھرتا۔
من مٹی کے تھیلے میں قید بلکتا، کراہتا۔ وہ ٹیلے کی طرف لپکتی۔ ریت پاؤں کے تلوے چاٹتی اور جُمن ٹیلے کے سارے رستے بند کئے اس پہ کسی کتے کی طرح غرانے لگتا۔
ماں بننے کی خبر سن کر اماں اس کے لیے بھوگاڑو بنا لائی۔ بسری پکائی تل کے لڈو بانٹے اور دبا دبا غصہ نکالتی بار بار ایک ہی جملہ دوہراتی رہی
‘ لوئی لج کی پرواہ کر۔۔۔۔۔ ری’۔۔۔۔
لوئی لج کی پرواہ کسے یاد تھی وہ تو صحراؤں کی ریت کا بگولہ بنی کبھی یہاں ہوتی تو کبھی وہاں۔
جمن کی جب تک جسم تک رسائی رہی خاموش رہا اور جی بھر کے اس کے جسم کو روئی کی مانند دُھنکا مگر کب تک ؟۔۔۔۔
جب وہ تن کر کھڑی ہوئی کہ اب اسے تکلیف ہوتی ہےتو بالوں سے پکڑ گھسیٹتا ہوا اس کے باپ اور بھائی کے قدموں میں جا پھینکا
” بہت برداشت کر لیا۔ اس سے زیادہ بے غیرت نہیں ہو سکتا۔ تیری بیٹی کسی کے ساتھ
چھوٹے ٹیلے پہ منہ کالا کرتی ہے”۔۔۔۔
اماں سر پکڑ کے بیٹھ گئی، باپ اور بھائی کی نگاہیں برچھیاں بن کراس کے وجود کے آر پار ہوئیں، بھرجائی نے طعنوں کی زد میں آ لیا۔
جسم اپنے اندر پلتے نئے وجود کے بوجھ سے گریزاں۔ ناتوانی اور آٹھ ماہ کا تشدد الگ۔
اور اس پہ ہجر کا طوفان۔
مصیبتوں اور آزمائشوں کا سورج سوانیزے پہ آکے دہکنے لگا۔
پہرے سخت ہوئے اورٹیلے پہ جا کر دن رات سب کسی کو ڈھونڈتے رہے۔ مگر نہ ملنے والا کسی کو نہ ملا۔
جُمن اور اس کے سسرال والے بات جرگے تک لے گئے۔
جمن کسی اور نئی نویلی کلی کو مسلنے کا شوق پورا کرنا چاہتا تھا اور سسرال والے اس کے کردار پہ گاؤں والوں کی اٹھی انگلیوں کے نیچے دب گئے۔
جب اسے مجرموں کی طرح جرگے کے میدان میں لے جایا جا رہا تھا توپھولے ہوئے پیٹ کے ساتھ اس کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔
اس کا دل تو محبت کا استعارہ تھا اور وہاں بھٹائی کی وائی اور سچل سر مست کے نغمے پھوٹتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کب جانتی تھی کہ اس راہ میں کڑی آزمائشیں ہیں۔ اور جو جانتی بھی تو کیا خود کو روک پاتی؟۔۔۔۔
عورتیں اس کا تماشا دیکھنے میدان کی طرف بھاگیں۔ بھاگ بھری، بھیلنی اور ویرو سب کی گواہیاں ہوئیں کہ کب کب انہوں نے اسے سانول سے ملنے جاتے دیکھا
وہ خاموش رہی۔
اسے تو خود یہ سفر روز اول سے اب تک حیران کرنے والا لگا تھا۔
جانے سانول کون تھا کہاں سے آیا تھا۔۔۔
تھا بھی کہ نہیں۔۔۔ تو کیا من مندر کی مورت ہی تھا سانول۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زور زور سے رونے لگی
سانول۔۔۔ سانول
وہ پوری قوت سے بند لبوں سے سانول کو پکار رہی تھی اس یقین کے ساتھ کہ ابھی ٹیلے کے پیچھے سے سانول آجائے گا۔ مگر سب کے ساتھ اس کی نگاہیں بھی مایوس لوٹ آئیں
وہ تو بس ایک ہیولہ تھا۔۔۔۔ محض ایک خوابیدہ تصور۔۔۔۔۔۔
وہ نڈھال ہو کر درد سے تڑپنے لگی
جانے دل کا درد تھا یا جسم کا۔ وہ سراپا درد بنی کراہ رہی تھی۔
حقیقت جان لیوا تھی۔ اسے یوں لگنے لگا جیسے سب نے مل کر اس کا سانول مار ڈالا ہو۔
باگڑی، بھیل، کولہی مردوں سے میدان بھرا تھا چہ میگوئیاں عروج پہ تھیں۔
سب یوں اکٹھے تھے جیسے میلے ملاکھڑے میں مرغ لڑتے دیکھنے آئے ہوں۔
وہ تو ابھی پوری طرح سانول کو بھی رو نہ پائی تھی جب اس نے سنا۔
جرگے کا سردار دوسرے پنچائتیوں کا اور اپنا متفقہ فیصلہ سنا رہا تھا
“ایسی بد چلن لڑکی کو کاری کرنے کا حکم دیا جاتا ہے “۔۔۔۔۔۔ !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭اماں ھُو مونکھے کاری کرے ماریندا
(اماں وہ مجھے کاری کر کے مار دیں گے)