Categories
نان فکشن

جون ایلیا: مشہور مگر غیر مقبول شاعر

میں نے چند روز قبل اپنی ٹائم لائن پر ایک پوسٹ لکھی، پوسٹ ہندی میں تھی اور اس تعلق سے تھی کہ لوگوں کو پڑھنا چاہیے اور ادب کو سمجھنے کے لیے تھوڑے بہت جتن کرنے چاہیے۔ایسا نہیں ہے کہ یا میر ، یاغالب اور یا جون ایلیا چلاتے ہوئے اس آنگن میں دھم سے کود پڑیں اور بس ہوجائیں شاعر۔ویسے بھی شاعر ہونا کمال بات نہیں ہے، شاعری ہماری ایک دوست کے مطابق الفاظ کے ناپ تول سے تعلق رکھنے والا ایک ہنر ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے انسان کو بس ایک خاص قسم کی موزونیت اپنے اندر پیدا کرنی ہوتی ہے۔عرف عام میں شاعر ایسے لوگوں کو سمجھا جاتا ہے جو رومانی زندگی گزارتے ہیں، لاپروا ہوتے ہیں، بکھرے بکھرے سے رہتے ہیں اور بہت سارے عشق کرتے ہیں۔ہم نے جس مذہبی ماحول کو بچپن سے دیکھا، اس میں بھی شاعر کی اسی تعریف کی وجہ سے تہذیب یافتہ سماج اس سے بدظن رہا کرتا تھا۔اب چونکہ نئی دنیا میں شاعر ہونا صرف شاعر ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ بہت سی خاموش، تفکر آمیز اور خود کشی کی خواہشوں والی ایک فینٹسی جڑی ہوئی ہے، اس لیے ہر دوسرا آدمی سمجھتا ہے کہ اس میں ایسی کیا برائی ہے، بال بکھرالیے، واہی تباہی پھرنے لگے، دنیا کو گالیاں دیں ، محبوب کو یاد کیا اور بن گئے شاعر۔اب اس پکی پکائی کھیر میں بس الفاظ کے چند مرجھائے ہی سہی، مگر گلابی پتے ہی تو ڈالنے کی دیر ہے، اپنے حلیے کے کیوڑے کی مدد سے اسے مزید دیدہ زیب بناکر فیس بک کے تھال پر سجادیا جائے اور ٹیگنگ کے ذریعے اس دعوت میں پچاس سے سو افراد تک کو شریک کرلیا جائے۔یہ ہے سوشل میڈیا کا شاعر، جی ہاں اسی سوشل میڈیا کا، جس پر جون ایلیا کے قصائد پڑھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔مگر جون ایلیا کو سمجھنے اور جاننے سے انکار کرنے والی دنیا، ان کے مشہور اشعار کو(جو دنیائے عشق کی ایک گھسی پٹی مات کا استعارہ ہیں)گنگناتی ہوئی رقص کررہی ہے۔جدھر جائیے، جسے دیکھیے، واہ جون، آہ جون کے نعرے بلند ہورہے ہیں۔مگر کسی سے یہ پوچھیے کہ جون ایلیا ہی کیوں؟ اور جون ایلیا کیسے؟ تو ان کے اچھے اچھے مرید بھی قل ہواللہ احد کہہ کر منہ کے بل گرجانے میں ہی عافیت محسوس کریں گے۔

اس کی دو تین وجوہات ہیں۔جون کی شاعری سے زیادہ ان کی شخصیت اور اس سے جڑے سنسیشنل قصوں کی دریافت نے انہیں مشہور کیا ہے۔پھٹی ہوئی جینز پہننے والے نوجوان، سینہ تانے، گردن اکڑائے، جون کی بے پروا لٹوں میں اپنے عشق کی موٹی موٹی گرہیں ڈھونڈتے نظر آئیں گے۔یہاں وہ جون کے الفاظ کے سہارے اپنی اس محبوبہ کے ہجر میں محو مرثیہ نظر آئیں گے، جسے شاعری کی الف ب تک سے چڑ ہے۔میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میراجی نے بھی اگر کچھ ایسی ہی عام رنگ کی غزلیں کہہ رکھی ہوتیں اور ان کے پاس اپنی محبوبہ کے سینے اور ناف کا چٹخارے دار بیان اسی صورت میں ہوتا، جیسا کہ جون کے پاس ہے تو وہ اس وقت جون سے زیادہ مشہور شاعر ہوتے، مگر شکر ہے کہ انہوں نے اپنی محبت کو جون کی طرح بات بات پر طعنے دے کر یاد نہیں کیا اور نہ ہی ان کو کسی مشاعرے میں اپنی اکلوتی بنگالی محبوبہ سے آنکھیں اور انگلیاں نچا نچا کر اپنی ڈھلتی ہوئی جوانی میں بھی مردانہ غرور کا اعلان کرنے یا خود سپردگی سے انکار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔میراجی تو محبوبہ کے کپڑے کی دھجیوں کے ساتھ خوش تھے، انہوں نے خوشبوؤں سے اگنے والی استعاروں کی بھید بھری کائنات میں قدم رکھا، نظم کہی اور اسی آنکھ سے دنیا کو دیکھنے کی سعی کی، جس میں عشق اور ہوس کے بیچ کا فرق مٹ کر رہ گیا۔ان کی نظمیں آکاش میں ٹکے تاروں کی جھلمل اور جھاگ اگلتے، لہریں اچھالتے سمندر کو بھی محبوب کے دھندلے عکس میں تبدیل کرسکیں۔میراجی کا جنون، جون ایلیا کی طرح مشاعروں میں یا مائک پر جوش میں نہ آتا تھا، وہ ایک بند کمرے میں اپنی ہی ننگی دنیا کے تنہا باشندے تھے، انہوں نے میرا کو سانسوں کی ڈار میں شامل کرنے کی کوشش کی۔اس کے برعکس جون نے بھیڑ میں اپنی محبوبہ کو کوسا بھی، اس کے سامنے گھگھیائے بھی۔اس پر طعنہ زن بھی ہوئے اور اسے خون تھوکنے کی تکلیف کا احساس بھی دلانے کی کوشش کی۔ یہاں جون اور میراجی کا کوئی مقابلہ مقصود نہیں۔کہنا یہ ہے کہ جس حوالے سے جون ایلیا مشہور ہوئے، وہ ان کی زندگی کا صرف ایک رخ ہے، اور وہ رخ نہایت ڈرامائی ہے، اس میں جون کی سچی تخلیقی دنیاؤں کی جھلک کم ہے اور ماتھے کو دونوں ہاتھوں سے چھوچھوکر داد کا جواب دینے کی خواہش زیادہ ہے۔

جون ایلیا کی شعری کتب کا مطالعہ کرتے وقت بظاہر دو زاویوں سے ان پر روشنی ڈالی ہی جانی چاہیے۔اول تو یہ کہ ان کی ذات میں حقیقت پسندی بہت زیادہ تھی۔حقیقت پسند انسان شاعری کرسکتا ہے، عشق نہیں کرسکتا۔عشق ایک آئیڈیل سچویشن کا نام ہے۔اسی لیے جون نے فاقہ کش لڑکی کو ننگی نگاہوں سے دیکھ کر اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ خوبصورتی کے لیے دیدہ زیب ہونا ضروری ہے۔وہ خوب سے خوب تر جسم کو دیکھ کر بھی اس کے اندر موجود معدے میں بھری غلاظت کا خیال دل سے نہ نکال سکے۔ان کی جمالیاتی حس نے انہیں ناف اور سینے کا گرویدہ بنائے رکھا، وہ حسن کی تعریف کرسکتے ہیں، مگر حسن کی تعریف کے ساتھ ساتھ وہ اس کے پس منظر اورمختلف حالات میں اس کے بگڑ جانے کا خیال دل سے نہیں نکال پاتے۔عشق ان باتوں سے ماورا ہوتا ہے،میراجی جیسے لوگ جنہیں نہایت ہوس پرست سمجھا جاتا ہے، عشق تو انہی کے بس کا روگ ہے۔کیونکہ وہ تو ایک چھچھلتی نظر کے عشق کو بھی عشق ہی سمجھتے ہیں، وہ اس جذبے کو لمحوں میں قید کرکے، اس کا نام نہیں بدلتے۔جون کے یہاں تہذیب کا رونا زیادہ ہے، وہ تہذیب کو، نفاست کو اور خوبصورتی کے ساتھ موجود متانت کے تصور کو الگ نہیں کرپاتے، جبکہ عشق تہذیب ، نفاست اور سنجیدگی تینوں سے بغاوت کانام ہے۔عشق میں کوئی آداب ، کوئی ٹکی ٹکائی پاکیزگی کا تصور یا پھر ٹھٹہ ٹھٹھول کا انکار موجود ہی نہیں ہوتا۔وہاں تو شوخی بھی ہے، جنون بھی، خود سپردگی بھی ہے اور تسلیم ورضا بھی۔اس زاویے سے روشنی ڈالتے ہی جون ایلیا کا وہ تمام کلام دراصل ایک جلد باز عاشق کی روداد معلوم ہوتا ہے جو محبوب سے بس اپنی ضد پوری کروانے کے لیے اس سے ایسی باتیں کررہا ہے، جس سے اسے رام کیا جاسکے۔جون کے وہ بیشتر اشعار جو مشہور ہیں اور جن کو پڑھ کر ہند و پاک کی نوجوان نسل بے ساختہ واہ کہتی ہے، وہ اسی قسم کے شعر ہیں، جن میں بے چینی کے نعرے، عشق کے بڑے بڑے دعوے، طنز و تشنیع، خون تھوکنے کے واقعات اور بات بات پر اپنی برتری کا احساس دلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔یہ جون کی شاعری کا وہ حصہ ہے جو ذرا دیر کو مزہ تو دیتا ہے مگر اس میں شعور کو کوئی بڑا دخل نہیں ہے، کوئی ایسی بات نہیں ہے، جس سے پڑھنے والا ان کی گہری تخلیقی صلاحیت سے بہت دیر تک متاثر رہ سکے۔جہاں انسان میں ذرا علمی سنجیدگی پیدا ہوئی، اس نے جون ایلیا کے اس پینترے کو سمجھا، وہاں یہ شاعری بودی معلوم ہونے لگے گی۔

جون کا ایک دوسرا رخ ہے، اس پر ہمارے نوجوان روشنی تو کیا ڈالیں گے، بس اسے عقیدت سے بیٹھ کر سن لیتے ہیں کہ جس شاعر کی اتنی واہ واہ کی ہے، اس نے ضرور اس زبان میں بھی اعلیٰ باتیں ہی کہی ہونگیں، جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔جون نے انسانی ارتقا، تہذیب کے بننے بگڑنے، سیاست کے مختلف چہروں اور انسان کے وجودی و سماجی مسائل پر اپنی نظموں اور غزلوں میں جس طرح بات کی ہے،وہ انہیں ان کے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے۔لفظ و معنی کی ایک علمی بحث کو جون نے اپنی نظم ‘سوفسطا ‘ میں یوں رقم کیا

ہاں لفظ ایجاد ہیں/یہ ہزاروں’ہزاروں برس کے/سراسیمہ گر اجتہاد تکلم کا انعام ہیں/ان کے انساب ہیں/جن کی اسناد ہیں/اور پھر ان کی تاریخ ہے/اور معنی کی تاریخ کوئی نہیں۔

جون کی اس نظم کا مآخذ یونان کا فلسفی پروٹاگورس ہے۔جون نے کس حد تک یونانی فلسفہ اور اس کے معاملات پر غور و فکر کیا ہوگا اور کس طرح اس کے خیالات کو نظم کرنے میں جون نے ایسا کامیاب راستہ تلاش کیا ہوگا، اس جانب ہماری نظر نہیں جاتی۔یہ تو ایک بہت چھوٹی سی مثال ہے۔فلسفہ، منطق، تاریخ، سیاست، سماجیات اور اس طرح کے دوسرے علوم سے جون کی دلچسپی ، اسے اپنے دوسرے ہم عصروں سے الگ کردیتی ہے، اس کے یہاں علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا ہے۔جون کی نظمیں رمز ہمیشہ، اعلان رنگ، ، درخت زرد، دو آوازیں وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

نوجوان دراصل ان باتوں کو جانے بغیر کہ جون کی شعری تربیت اور سیاسیات میں ان کی دلچسپی، سرمایہ دارانہ نظام سے ان کی چڑ کن عقلی و علمی دلیلوں پر استوار ہوئی تھی، ان سے اتنا عشق کیسے فرمارہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جون ایلیا ہمارے دور میں جس قدر مشہور ہوئے ہیں، ان کی شہرت ترقی پسندوں کے اس دور کی یاد دلاتی ہے، جہاں کمیونزم اور سوشلزم جیسے الفاظ کو سمجھے بغیر شاعر مزدوروں کے حق میں نظمیں غزلیں کہہ کر خود کو کمیونسٹ اور سوشلسٹ ادیب کہلوانا پسندکرتے تھے۔بھیڑ چال کا ایک دور ہوتا ہے اور اس دور کی ایک مدت ہوتی ہے۔جون ایلیا کی عام فہم شاعری سے زیادہ اگر ان کا دیباچہ شاید نئی نسل میں مشہور ہوتا تو جون کی شہرت سے زیادہ ان کی مقبولیت کے دروازے کھل سکتے تھے۔وہ لوگ جو مذہبی، نسلی اور فکری معاملات میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں، مہنگے مہنگے موبائل میں فیس بک چیک کرتے وقت شعروں پر لائکس کے ٹک لگاتے ہوں، جون کو کیسے پڑھتے اور پسند کرتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ جس سرمایہ دارانہ نظام کی جون نے مخالفت کی، اسی نظام کے پروردہ اذہان میں جون کو شہرت حاصل ہوئی، اس لیے ان کی تعبیر ہی سرے سے غلط ہوگئی، وہ ایک گھسے پٹے شاعرانہ عاشق کی صورت میں مشہور ہوئے، جبکہ انہیں علم اور کہنہ روایات سے بغاوت کا استعارہ بن کر نمودار ہونا چاہیے تھا۔ حتیٰ کہ عشق میں بھی ان کے یہاں روایت شکنی کا جذبہ حاوی رہا ہے۔وہ خود عشق میں مرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ اس کے برعکس کسی کو اپنی محبت میں جان گنواتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔

جون نے سب سے پہلے اس مذہبی نظام کی نفی کی تھی، جس نے آج ہندوستان اور پاکستان کو جہنم بننے کے دوراہے پر لاکھڑاکیا ہے۔پھر بھی اگر ہم جون سے صرف اس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ انہیں خودکشی سے ایک خاص نسبت تھی، محبوبہ کی ناف اور سینے سے لگاؤ تھا تو ہماری محبت قابل رحم حد تک غلط بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔جون نے انسانی ارتقا کے حوالے سے ایک شعر کہا تھا

مہذب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا
کہ ارتقا ہے عبارت بٹن لگانے سے

دیکھا جائے تو بٹن لگانا بے حد چھوٹا سا کام ہے، مگر اس سے موجودہ انسانی تہذیب کے خدوخال کا تعین ہوتا ہے۔ہم جس طرح پتلون کے بٹن لگائے بغیر مہذب یا ترقی پسند نہیں ہوسکتے۔اسی طرح شاعری سے تعلق رکھنے والے مضامین سے شدبدرکھے بغیر خود کو شاعر یا شعر فہم نہیں کہلوا سکتے۔خواہ ہم جون کے شعروں پر مچل مچل ہی کیوں نہ جائیں۔

Categories
شاعری

مکاشفہ – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
مکاشفہ
پناہ مانگو، پناہ مانگو!
فاصلے بدرنگ فتنوں سے نام زد کر دیئے گئے
زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے گئے
تمام صدیوں کے جرم اپنی سزا کو پہنچیں گے
داد خواہوں کے داعیے انتہا کو پہنچیں گے
سفید روحوں نے اور میں نے
تمہاری راتوں کے فیصلوں پر نگاہ ڈالی
ہراس، تاریکیوں کے گنبد میں قہقہوں کے مہیب کوندے اُگل رہا تھا
ہمارے رخسار تربتر تھے
سفید روحوں نے اور میں نے
وقت کی خوں گرفتہ رُوحوں کا غم منایا
ہماری پرچھائیاں بغل گیر ہو کے فریاد کر رہی تھیں
“ایاہ حزناہ و احز یناہ”
ہماری پرچھائیوں کے مابین ایک آواز اپنے قامت کے اُسطوانے
پہ شعلہ زن تھی
“میری نفرت کا رنگ نامہرباں ہے
اور اس کے حاشیے سرخ اور گہری سیاہ سمتوں میں پھیلتے ہیں
میں اُن کی آبادیوں پہ جھپٹوں گی
اُن کے محلوں کو چاب جاؤں گی
اُن کی راہوں کو ساری سمتوں سے کاٹ دوں گی
مرے عقب میں دریدہ ملبوس داد خواہوں کا سِیلِ سیال آ رہا ہے”

Art Work: Danish Raza

Categories
شاعری

اَلایَلَلّی

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اَلایَلَلّی
مرے اِدھر ہی نہیں اُدھر بھی، مرے وَرے ہی نہیں پرے بھی
جو دیکھنے اور دکھائی دینے میں ہے (وہ جو بھی ہے) میرا قاتل ہے
اور میں ہوں جو ہر طرف قتل ہو رہا ہے
میں اپنے چاروں طرف سے کتنی ہی اپنی لاشوں کا انبوہ سَہ رہا ہوں
میں اپنے بیروں کے اندروں میں نڈھال ہوں اور ڈھے رہا ہوں
مرے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، مرے کاندھوں پہ لائے جاتے ہیں
کہاں کہاں دفن ہو رہا ہوں
ہزار لاشوں کا اک جنازہ، کہاں کہاں دفن ہو رہا ہے
یہ مرنے والے عجب ہی کچھ تھے (یہ مرنے والے)
اَلایَلَلّی، اَلایَلَلّی
میں اپنے ہر دفن سے، کفن سے، وجود کا اِک نیا بہانہ اُچک رہا ہوں
(یہ مرنے والا عجب ہی کچھ ہے)
مجھے مری ریزہ ریزہ لاشوں نَو بہ نَو کالُبد ملے ہیں
یہ سب کے سب جا چُکیں تو میں اپنی قبر کھودوں
کہ قبر میری بجز مرے اور کون کھودے گا؟
چلے گئے سب، یہ مرنے والے چلے گئے سب؟
تو، لے میں اب اپنی قبر کھودوں
اور اپنی لاش اپنے آپ میں۔۔۔۔۔ اپنے زندہ سینے میں دفن کر دوں
میں مر چکا ہوں، میں جی اُٹھا ہوں
اَلایَلَلّی، اَلایَلَلّی

Art Work: Danish Raza

Categories
شاعری

لوحِ وجود

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ وجود
میں سو رہا تھا
میں جوں ہی جاگا اور آنکھ کھولی تو دیکھتا ہوں
کہ میرے سینے پہ شہر تعمیر ہو چکا ہے
مرے بدن میں اِدھر اُدھر آہنیں سلاخیں گڑی ہوئی ہیں
کہ مجھ میں شہتیر نصب ہیں جو بلند ہوتے چلے گئے ہیں
میرے ہاتھوں، ہتھیلیوں اور سارے ڈھانچے پہ اینٹ پتھر پڑا ہوا ہے
اور اس پہ روڑا کُٹا ہوا ہے
اور اس پہ قیر و کزف کہ تہ ہے
پھر اس پہ سنگیں پَرَت جما ہے کہ جس میں قیر و کزف کے ٹانکے
لگے ہوئے ہیں
یہ کوی و برزن کے سلسلے ہیں جو پھیلتے ہی چلے گئے ہیں
بہم فشار آوری کا از ہم گستہ غوغا مری سماعت پہ یاں سے پیہم
شدید پتھراؤ کر رہا ہے
شکستہ ڈھانچوں کے خُن خُنے سائے اپنے کاندھوں پہ نیلے دھبّوں کا بوجھ اٹھائے
سیاہ جھونجل میں خُن خُناتے، خبیث مخروط پوش خُنگروں کے آگے پیچھے
گِھسٹ رہے ہیں
یہ زندہ بنیاد شہر ہے اور میں اس کے نیچے دبا پڑا ہوں
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے

Art Work: Danish Raza

Categories
شاعری

لوحِ طمع – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ طمع

[/vc_column_text][vc_column_text]

ملامتوں اور نفرتوں کے سوا مرے پاس اور کیا ہے
اور اِن دیاروں میں جو بھی رمز آگہی کے ایما پہ اپنا سینہ جلا رہے ہیں
جو اپنے غصوں کو آپ سہتے ہیں اُن کا سرمایہ اور کیا ہے
یہ وہ تبرک ہے جس کو لینے کے واسطے کوئی کیوں بڑھے گا
جو خون کے گھونٹ پی رہا ہے وہ جانتا ہے کہ نسلِ آدم کی سزا کیا ہے
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں
لبوں کی جنبش کا پردہءِ گوش سے جو رشتہ ہے اس میں کیا ہے
جو بولتا ہے وہ کرتبی ہے’ جو سن رہا ہے وہ مطلبی ہے

Art Work: Danish Raza
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

لوحِ آمد – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ آمد

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں آگیا ہوں
خدا کا بھیدی، تمہاری بستی میں آ گیا ہے
میں آدمی اور خدا کے بیچ اک بچولیا ہوں
کہا گیا ہے
نہ ہونے والے کو ہونے والوں کے دُکھ نہ سونپو
نہ ہونے والوں کو ہونے والوں سے شرم آتی ہے
کہا گیا ہے کہ میں جو اب تک کہیں نہیں ہوں اگر ہُوا بھی
تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا

Art Work: Danish Raza
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]