Categories
نان فکشن

وراداتِ کلبی بسلسہ ہائے فروغ کلبی: قسط اول (اسد رضا)

[divider]حالتِ دل، کہ تھی خراب،اور خراب کی گئی[/divider]

ہمارا ایک یار جانی جو کہ دانشور بھی ہے۔ جب ہم نے پایا کہ اُس کے کتے کی شہرت اُس کتے سے زیادہ ہو چکی ہے تو ہم نے فوراً ارداہ باندھا کہ دنیا کو اس کت شناس سے مزید روشناس کروایا جائے۔ ویسے بھی بکر کا کہنا ہے ‘جانی! کسی حسین عورت کو کسی کتے کے ساتھ دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے میری ذاتی حق تلفی ہوئی ہے’۔‘’ بکر کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے مجھے تامل ہوتا ہے کہ دنیا حاسدان بد سے خالی نہیں اگر کسی نے کہہ دیا کہ ہم نے تو اس شخص کو کبھی بکر کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے نہیں دیکھا تو کون ان کا اُنگوٹھا پکڑ سکتا ہے۔ پھر بعض باتیں ایسی ہیں کہ لکھتے ہوئے خیال ہوتا ہے کہ آیا یہ لکھنے کی ہیں بھی یا نہیں’’ اس پارچے کو لکھنے کا بنیادی سبب تو بکر کی کلبی حالت سے متعلق معاشرے کو متنبہ کرنا ہے مگر ہو سکتا ہے تحریر کے دوران کچھ مزید شقی الکلب شخصیات کی تشفی ہو جائے۔

بدھا سا بے چین دل لئے ٹکے کے صبر سے محروم وہ دوزخی روح کب میری روح سے متصل ہوئی سن و سال لکھنے کا یارا نہیں۔ ویسے بھی جہنم میں ابدیت فیصلہ کن سزاہے یا کیفئت اس پر ہم آج تک متفق نہیں ہو سکے۔ یہ لگ بھگ ایک دہائی پہلے کی بات ہے کہ “اقبال اور ختم نبوت” جیسے عبث موضوع پر منعقد ایک سیمنار میں میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس پر ان دنوں سرخ رنگ غالب تھا اور میری سرخی ماند پڑ چکی تھی اور کالک میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ یہ وہ شاید پہلا اور آخری موقع تھا جب ہم نے نہایت پرجوش انداز میں سرخ انقلاب کی بابت گفتگو کی تھی۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے ملاقاتوں کا ایک دور شروع ہوا۔ یہی وہ دور تھا جب بکر پر جنسی اور فلسفیانہ ہشیاری وقفے وقفے سے طاری رہتی تھی کہ پہچان مشکل تھی کہ وہ لمحہ موجود میں کس جذبے کے زیر اثر ہے۔ اس کا حل یار لوگوں نے یہ نکالا کہ دیکھا جائے کہ وہ کس لمحے کون سے بال کُھجا رہا ہے۔ اس زمانے کو شوذب تلاش النسا کا دورقرار دیتا ہے۔ بکر اس زمانے میں عموماً کہا کرتا تھا یار جانی کوئی ایسی بات کر کے کانوں سے لیس دار مادہ نکلنے لگے جس پر ہم انہیں سمجھاتے کہ اس کی خواہش بیجا نہیں۔ رطوبت کا انتخاب بھی عمر کے مطابق ہی ہے مگر خدارا جائے اخراج کی بابت تھوڑی درستی کر لے۔ بہرحال ان دنوں ہم نے اپنی ہر جاننے والی دوست سے التجا کی کے وہ التفات کا رخ بکر کی سمت موڑ لے مگر یہاں بھی بکر نے حرمزدگی سے کام لیا کہ کسی بھی عورت سے بات کرتے ہی کچھ ایسی حرکتیں شروع کر دیتا جو کسی شہدے عاشق ہونے کی خبر دیتی سو تمام خواتین کنی کترا کے نکل جاتیں اور بکر ہمیں عورت کی عظمت سے متعلق نطشے کے اقوال سُنا کر اپنا غم غلط کرتا شوذب اس دوران مختلف مقامات پر حضرت علی کے اقوال ٹانکتا رہتا۔ شوذب کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بہر طور بولنا ہے جب اس کے پاس بولنے کے لئے کچھ بھی نہ ہو تو عربی گردانیں دُہرائے گا یا درجہ دوئم کی اردو کی کتاب کی نظمیں سنانے لگے گا۔

قصہ مختصر یہ کہ آخرکار فون پر بکر کا ایک خاتون سے معاشقے کا آغاز ہو گیا جو سرگودھا یونیورسٹی میں شعبہ کیمسٹری کی طالبہ تھی۔ اگرچہ ایسے ناہنجار مضمون کی طالبہ سے کسی بھی قسم کی پینگیں بڑھانے پر ہم تو سخت معترض تھے مگر بکر تھا کہ مان کے ہی نہیں دے رہا تھا۔ ایک صبح ملاقات کا وقت طے کیا جانے لگا۔ اس دوران وہ خاتون مخلف زاویوں سے بکر سے سوال کرنے لگی اور بکر اپنی فہم کے مطابق اس کے جواب دے کر اس کو مطمئن کرتا رہا۔ یکایک اس نے پوچھا ‘’ ابوبکر آپ دیکھنے میں کیسے لگتے ہو’’ اب بکر نے میری سمت دیکھا، میں نے اس کی سمت دیکھا پھر ہم دونوں دیوار کی سمت دیکھنے لگے۔ میں نے اور بکر نے اپنے اپنے طور پر بکر کی ہیت سے متعلق غور کرنا شروع کر دیا۔ میں اس بات کا نہایت شرمندگی سے اقرارکرتا ہوں کہ پہلے پہل تو میرے دماغ کچھ حشرات کا تصور گردش کرتا رہا پھرمیں نے بددقت اس خیال قبیح سے پیچھا چھڑایا اور اس ذہنی کمینگی پر دو حرف بھیجے۔ خیر جب ہم انفرادی طور پر کوئی حل سوچ نہ پائے تو ہم نے اجتماعی طور پر اس مسئلے سے عہدہ برا ہونے فیصلہ کیا۔ کافی غوروخوص اور طرفین کے دلائل کی روشنی میں اس نتیجے پر متفق ہوئے کہ بکر کم ازکم ایک دو پایہ حیوان ہے۔ ہم نے دیگر تفصیلات میں جانا غیر ضروری خیال کیا اور موصوفہ تک اپنا نتیجہ پہنچایا۔ بات یہیں تک رہتی تو خیر تھی لیکن وہ ظالم تو دخل در دیگر معاملات بھی کرنے لگیں۔ سب سے پہلے تو اس نے ملاقات کے حوالے سے چند ضروری ہدایات بکر کے گوش گزار کیں کہ ملاقات کے لئے بکر کو کم سے کم منہ دھو کر آنا ہو گیا۔ ڈریس پینٹ پہننی ہو گی اور شرٹ کے بازو کے بٹن بند ہو ں گے نیر شرٹ اور دیگر اشیا پینٹ کے اندر رہیں گی۔ اس کے علاوہ دوران ملاقات شرٹ کا اوپر والا بٹن، بکر کا منہ اور پینٹ کی زپ بند رہنی چاہیے۔مزید براں یہ کہ ملاقات کے خاتمے تک بکر کے سر کے بال بھی کھڑے نہیں ہونے چاہیں۔ ہمارا ماننا تھا کہ ایسی رذیل شرائط رکھنے والی لڑکی سے ملنا ہی شرف مردانگی کے خلاف ہے مگر بکر کے سر ان دنوں مادہ حیات سوار تھا اور وہ اس کا اخراج باوسیلہ مادہ ہی کرنے پر بضد۔ ہم نے ہر چند بکر کی توجہ ایک اور معقول مادہ حیوان کی طرف کروانا چاہی مگر اپنے سوشلسٹ خیالات کی بنا پر وہ کسی محنت کش کلاس کے نمائندہ جانور کا استحصال کرنے پر کسی طور آمادہ نہیں تھا۔ بہرطور یہ ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ خدا جانے اس ملاقات میں کیا بیتی ہم نے تو بکر کی شکل دیکھ کر کچھ بھی اندازہ لگانے سے قصداً خود کو روک دیا مگر بس سٹاپ پر موجود دعوت اسلامی کے کسی بھائی نے مسکراتے ہوئے “جلق لگانے کے نقصانات ” کے عنوان سے ایک کتابچہ بکر کو زبردستی تھما دیا بکر کچھ چوں چراں کرنا ہی چاہتا تھا کہ میں نے اس کی توجہ صاحب کتاب کے ہاتھوں میں موجود دوسری کتا ب “اغلام بازی سے بچاو کے مدنی طریقے” کی طرف کروائی تو اس کا جوش کچھ ٹھنڈا پڑا۔ میرا خیال ہے کہ یہ عشق جلد ہی اپنی موت آپ مر گیا اور دعوت اسلامی کی کتاب بھی بکر کے ہاتھ باندھنے میں ناکام قرار پائی۔ بہرحال بفضل خدا اسی عرصے کے دوران بکر کو جنسی تجربے کا موقع ملا جس سے پہلے وہ میرے پاس آیا اور کہا جانی نیلی گولی درکار ہے میں اپنے پہلے تجربے کا کو یادگار بنانا چاہتا ہوں۔ ہم ہرگز اس کو گولی دینے کے طرفدار نہ تھے مگر کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک اور معتبر دوست کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ گزرا تھا کہ وہ جب رن سے نامراد لوٹے تھے اور ہمارے استفسار پر فرمایا تھا “نادان گر گیا سجدے میں جب وقت قیام آیا”۔ ایسے ہی خطرے کے پیش نظر ہم نے بکر کو گولی دلوا دی۔

ہماری ملاقاتیں چلتی رہیں۔ میری اور بکر کی ان ملاقاتوں میں کبھی کبھار شوذب، راجہ سمرہ، اسد کاظمی اور ملک عبدالعزیز شامل تھے۔ یہ تمام احباب حق رکھتے ہیں کہ ان پر الگ سے باب لکھے جاویں۔ ان ملاقاتوں میں مذہب، فلسفہ، سائنس، ادب، نفسیات وغیرہ کے مضامین پر گپ شپ لگتی۔ کبھی کبھار ہم ادریس آزاد کے بیکراں علم سے کماحقہ فیض حاصل کرنے کے لئے ڈیڑھ رات خوشاب میں بھی بسر کرتے۔ بکر اور میں اعلانیہ لادین تھے سو کاظمی کا جابرانہ، ادریس کا منافقانہ، سمرہ کا مدافعانہ اور شوذب کا ڈھکوانہ اسلام ہم پر چاروں طرف سے یلغار کر دیتا اور بکر اس سے بچنے کے لئے علم کا چراغ بجھا دیتا اور چرس کا دیا روشن ہو جاتا پھر نہ کوئی بندہ رہتا نہ بندہ نواز۔ ان میں سے ہرصاحب کی ضد تھی کہ اسے اسلام پر اتھارٹی سمجھا جائے۔ ادریس آزاد کہیں سے فلسفیانہ دلیل لاتا تو کاظمی اس کا نطفائی توڑ پیش کرتا۔ شوذب کا ماننا تھا کہ دین کے معاملات میں اُسے حجت تسلیم کیا جائے چونکہ وہ ڈھکو صاحب کی گود میں بالغ ہوا ہے (یا مظہر العجائب)۔ کاظمی کی موجودگی بکر کو سخت جز بز کرتی کہ کاظمی جنسی اعضا کا نام بھی عربی میں سننے کا عادی تھا۔ اس کی موجودگی میں لطائف میں موجود جنسی اعضا بھی پردوں کے اندر چھپ کر کلبلانے لگتے اور ایسی مقدس عریانی کا دور دوراں ہوتا جس کا تصور صرف جنت میں کیا جا سکتا ہے۔ اوائل کے سلسلہ ہائے گفتگو میں ایک بار بکر پوری شدت سے گویا ہوا “یار یہ کچھ غیر منطقی نہیں لگتا کہ کچھ پل میں کئے گئے گناہوں کی سزا ابدی جہنم ہو” کاظمی بولا فکر نہ کر منطقیوں کے لئے دوزخ میں مخصوص سزا وں کا بندوبست کیا جاوئے گا۔ ہم مادہ اور شعور اور ان کے باہمی تعلق پر فلسفہ بگھار رہے ہوتے کہ شوذب کی آواز گونجتی” ٹوٹ بٹوٹ کے دو مرغے تھے دونوں تھے ہوشیار”۔ اس کے بعد بغیر کوئی پہلو بدلے تھوگ اگلتے شوذب لگ بھگ پچیس نظمیں سُنا کر بس کرتا۔ اس گفتگو کا خاتمہ باہمی طور پر کسی نا کسی بڑی کائناتی حقیقت کو مان کر ہوتا مثلاً” یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی ” یا پھر “نہیں کوئی شے نکمی قدرت کے کارخانے میں”۔ اکثر یوں بھی ہوا کہ رات بھر ہم “پیپل کے پتے گرتے رہیں گے ” جیسے آفاقی طرح مصرعہ پر قافیہ پیمائی کرتے رہے۔

جیسے جیسے رات گزرتی جاتی تھی ہمارے موضوعات پیچیدہ سے پیچدہ تر ہوتے چلے جاتے۔ تاریخ کے کسی نکتے سے شروع ہونے والی بحث الہیات سے ہوتی ہوئی زمان و مکاں کی گتھیاں کھولتے کھولتے متوازی دنیاوں اور مصنوعی ذہانت کے خدوخال تک جا پہنچتی۔ بات ہیگل کے بینگ اور نتھنگنس سےبڑھتے ہوئے سارتر کے بینگ اور ایگزسٹنس تک جا پہنچی۔ نطشے کا سپر مین کیرکیگارڈ کا تباہ حال شخص بن چکا ہے۔ اس دوران کتنے ہی کپ چائے اور سگریٹ پی جاتی۔ اب ہماری گفتگو کسی قدیم مصحف کی طرح بوسیدہ، بوجھل اور محض قابل احترام رہ جاتی سو ہم اسے عقیدت سے طاق پر جون ایلیاء کی کتب کے بغل میں رکھ دیتے۔ اب رات کے سائے گہرے ہو چلے ہیں۔ یکایک گفتگو میں خاموشی کا پل آ گیا ہے۔ وجودی کرب گہرا ہو چلا ہے۔ شوذب سو چکا ہے۔ میں اور بکر خاموش ہیں۔ شاید واقف ہیں کہ اب مزید گفتگو نہیں ہو سکتی۔ رحم طلب نظروں سے ایک دوجے کو دیکھتے۔ آہ کہ کوئی چارہ نہیں۔ وائے افسوس کہ کوئی چارہ گر نہیں۔ سب گفتگو لا یعنی ٹھہری ہے۔ رات بلکنے لگتی۔ شعوری دھوکا ہاتھ چھڑانے لگتا۔ ہم اپنے اپنے سایوں میں تحلیل ہونے لگتے۔ میں چور نظروں سے اس کی سمت دیکھنے لگتا۔ اگر یہ رو دیا تو کیا ہو گا۔ رات کی تاریکی میں مسیحائی کا بھیانک فریب دینا نہیں چاہتا تھا۔

صبح ایسے آنکھ کھلتی کہ جیسے رات کو رو کر سونے والا بچہ سب بھول چکا ہوتا ہے۔ شب بھر تلاش خدا کے تھکے مارے جسم تلاش مسجد کو نکل پڑتے۔ بے شک مسجد ہی رافع حاجات ہے۔ میں آج تک یہی سوچتا ہوں کہ بیت الخلاء کے دروازے کے باہر باری کے انتظار میں کھڑا دوست کیا سوچتا رہتا ہو گا۔جب کہ اندر والے کی تمام سوچ اس جمع تفریق پر خرچ ہوتی ہے کہ لوٹے میں پانی کی دستیابی کس سطح پر ہے اور اس سے کس عضو کو کس حد تک دھویا جا سکتا ہے اور کون سے اعضاء ایسے ہیں جنہیں دھوئے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔ ابوبکر کا اس سلسلے میں ماننا ہے کہ اگر اس ہاتھ کو نہ دھویا جائے جس سے کل ہم نے اپنا نامہ اعمال تھامنا ہے تو یہ مالک یوم الدین کے خلاف ایک قسم کا شریفانہ احتجاج ہو گا۔ صبح سویرے میں اور بکر اس کے گھر کے قریب واقع جنگل میں جا بیٹھتے جہاں میں بکر کے مستقبل کے حوالے سے نہایت رقت انگیز پیشنگوئیاں کرتا جس پر وہ آنکھوں اور منہ میں آئی ہوئی نمی کو نہایت عقیدت سے سگریٹ پر لگاتے ہوئے کپکپاتے لہجے میں کہتا ” یار تیرے جانے میں تین گھنٹے رہ گئے ہیں اور سگریٹ صرف دو باقی ہیں”۔

اسی دور کی بات ہے کہ بشیر حیدر میرے اور بکر کے پاس ایک شاعر کو لایا کے زرا اس کی ٹیونگ تو کر دو۔ خیر ہم اس کو لئے کر خوشاب دریا کے کنارے بیٹھ گئے اور مختلف موضوعات پر بات شروع ہو گئی۔ یہی کوئی رات بارہ سوا بارہ کا وقت ہو گا ک ایک پولیس وین پاس آ کے رکی۔ دو مشٹنڈے ہماری پاس آئے اور بولے رات کے اس وقت کس تخریب کاری کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ہم نے پُرامن شہری ہونے کی لاکھ یقین دہانی کرانی چاہی مگر بے سود۔ وہ بولے چلو اٹھو بھاگو یہاں سے۔ اس پر بشیر حیدر آگے بڑھا اور بولا ” قبلہ جانے دیں بچے ہیں۔ میں خود ایک استاد ہوں”ایک پولیس والا آگے بڑھ کر پہلے تو بشیر حیدر کو اوپر نیچے سے گھورنے لگا مگر جب اس نے پشیر کے وجود میں کوئی قابل گرفت چیز نہ پائی تو کہنے لگا ابے استاد دو منٹ سے پہلے پہلے یہاں سے نکل ورنہ ساری استادی گا۔۔۔ کے راستے نکال دوں گا” بشیر حیدر اس واقعے کے بعد اکثر کہتا ہے اگر ان کی چشم تخیل مستقبل میں جھانک سکتی اور انہیں پتہ چلتا کہ مستقبل میں بکر نے بھی استاد بننا ہے تو وہ میرے ساتھ اس قدر تحقیر آمیز رویہ اختیار نہ کرتے۔ وہاں سے جب اس طور اٹھائے گئے تو نجانے کیوں مجھے پطرس بخاری کا مضمون کتے پوری شدت سے یاد آنے لگا۔ ماحول کی مطابقت کے علاوہ بکر کی موجودگی بھی اس احساس کو تیز کرنے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ خیر ہم دریا کے کنارے سے اٹھ کر ایک نامعقول سے ہوٹل کے بیت الخلاء کے سامنے کرسیاں ڈال کر بیٹھ گئے اور گفتگو کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا جہاں سے وہ ٹوٹا تھا۔ میں بولا “یار تجھے نہیں لگتا کہ خدا کا علم اور قدرت باہم متضاد ہیں” اس پر بشیر نے ٹھنڈی سانس اور بکر نے سگریٹ بھرتے ہوئے مری سمت دیکھ کر کہا۔ “یار خدا کا تو پتہ نہیں پر ہمارا علم اور قدرت تو باہم دست و گریباں ہیں”۔ ہماری اکثر محفلیں اسی طرز اختتام کو پہنچتیں۔

جیسے جیسے بکر کی عمر بڑھ رہی تھی اس کی ذہنی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا تھا جس کا بڑا سبب فلسفہ اور جون ایلیا کی شاعری تھی۔ اس وجودی کرب نے بکر کو ادھ موا کر دیا تھا اس کی ذہنی حالت قابل رحم ہوتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے سائکاٹریسٹ کے سیشن شروع ہو گئے۔ ایک وقت تو اسے باقاعدہ اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس دور میں ہم نے حق دوستی ادا کرتے ہوئے اسے استپال کے بستر پر کافکا کی کہانیاں پیش کیں تا کہ اس کا بیڑہ غرق ہونے میں کوئی کسر نہ رہ جائے مگر بدبخت سخت جان تھا اسے بھی سہار گیا۔ بکر گھنٹوں اپنی نشست پر بیٹھا خلاوں کو گھورتا رہتا ایسے میں اکثر سگریٹ اس کی انگلیوں میں دبی دم توڑ جاتی۔ اس کا بولنا چلنا بہت کم ہو گیا تھا۔ ایسے ہی ایک دن اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ بکر نے عالم محویت میں میری ران کھجانی شروع کر دی جب اس کا ہاتھ نامعقولت کی سطح سے کچھ آگے بڑا تو ہم نے ٹہوکا دیا مگر قبلہ شاید جسمانیات سے مبرا ہو چکے تھے سو اُسی طرح مشغول رہے۔ بلا آخر ہم پکارے “حضور یہ میری ران ہے” تس پر چند لمحوں نیم وا آنکھوں سے ہماری سمت دیکھا پھر عالم بالا میں دیکھتے ہوئے فرمانے لگے “میاں کیا فرق پڑتا ہے” ہم نے کہا حضور بادشاہ ہیں مگر خادم کو فرق پڑتا ہے’’ اب اس نے قدرے ناگواری سے اپنا ہاتھ میری ران سے اٹھا کر ساتھ بیٹھے شوذب کی ران کھجانی شروع کر دی۔ جس پر میں نے اپنی آنکھیں چرا لیں اور شوذب نے بند کر لیں۔ بکر کے ابا نہایت مذہبی قسم کے شب زندہ دار آدمی ہیں وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی اس حالت پر سخت مشوشش تھے میں انہیں کیسے سمجھاتا کہ جب جوان بیٹے کی کلائیاں سگریٹوں سے دغدار ہوں تو پیشانی سجدوں کے داغوں سے آلودہ کرنے سے غم کم نہیں ہوتے۔ ایک دن جب وہ بستر پر سویا ہوا تھا اور اس کی رالوں نے تکیے کو بھگو رکھا تھا اس کے ابا کمرے میں آئے بکر کے چہرے سے رخ پھیرتے ہوئے بمشکل آنسووں چھپاتے ہوئے ان کی نظر طاق پر پڑی جون ایلیا کی کتابوں پر پڑی تو کہنے لگے “اس بہن چود نے میرے بیٹے کو تباہ کر دیا ہے”۔ جون کے لئے ایسا خراج عقیدت خاکسار نے کم سے کم پہلے کبھی نہیں سُنا تھا جو جون کی اثر پذیری پر ایسی مہر ثبت کرتا ہو۔

ایک دفعہ میں شاہپور سے بکر کی امی کے ساتھ سرگودھا آیا تھا ڈائیو بس سٹاپ سے بکر کا کچھ سامان لینا تھا۔ اب میں اور آنٹی شاہ پور سے سرگودھا ولی ویگن پر بیٹھ گئے۔ تیس منٹ کے اس سفر میں آنٹی نے کم سے کم چالیس مرتبہ مجھ سے پوچھا “:پتر بوتل پینی اے” اور میں ہر دفعہ شکریہ کہہ کر انکار میں سر ہلا دیتا۔ بعد میں بکر سے جب بات ہوئی تو وہ ناسٹلیجا کی کیفئت کا شکار ہو گیا کہنے لگا” یاراتنے سالوں بعد یاد آیا کہ کبھی بوتل سے مراد محض سوڈا کی بوتل ہوا کرتی تھی۔ افسوس کے ہم بڑے ہو گئے مگر ہمارے والدین بڑے نہ ہو سکے” اس پر میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں بڑے ہونے کے ناطے ہمیں ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا چاہیے۔ ان واقعات کا تذکرہ اس لئے بھی کیا کہ یہ بتایا جا سکے کہ اگر بکر میں معصومیت کی ایک رمق باقی ہے وہ محض جنیاتی ہے۔

اب بکر بڑا ہو رہا تھا اور اس سے ملاقاتیں کم پر ہمیں کیا خبر تھی کہ اس کی نحوست اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں پہنچنے والی ہے۔
(جاری ہے)

Categories
نان فکشن

دی جون ایلیا

جون ایلیا پر ایک تعزیتی نظم ” ایلیا کو کون جانتا ہے ” میں انور سن رائے نے کہا تھا کہ خودانہدامی پر یقین رکھنے والے زود و بسیار نویس انارکسٹ جون ایلیا کے لیے اب تعزیتی جلسے ہوں گے۔ کیا عجب ہے کہ جون ایلیا صرف اتنا نہیں تھا۔ اس کی مثال تو اس وبا سی ہے جو اپنے گردوپیش کو بھی مرض و موت سےدوچار کرتی ہے۔ وہ ایسی میت ہے جو اپنے نوحہ گروں کو بددعائیں دیتی ہے۔ جون ایلیا بطورشخص ایک استشنائی صورتحال ہے جسے صرف شاعرانہ کمال کے اتفاق کی صورت برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر تیسرا شخص جون ایلیا بن جائے تو چوتھے دن ہی قیامت آجائے۔نظام دنیا پامال ہوجائے ۔

ایلیا نے زندگی کو ابتدائی صورت میں ہندوستان کے ثقافتی مرکز لکھنو اور امروہہ میں دیکھا ۔ان کا خاندان عالمانہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے ایک مخصوص تہذیبی شعور اور ذوق کا حامل تھا۔تاہم ایلیا کی پیدائش کے دنوں میں یہ ثقافتی مراکز تیزی سے اپنے انجام کو پہنچ رہے تھے۔اس سماجی ادھیڑ نے جون کو ایک مریضانہ ناسٹیلجیا میں مبتلا کیا جس سے وہ عمر بھر آزاد نہ ہو سکے۔ ان کے بڑے بھائی تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔ایک اور بھائی کمیونسٹ پارٹی سےتعلق رکھتے تھے۔ آزادی کے بعد یہ سب لوگ پاکستان ہجرت کر گئے لیکن جون اپنے والد ین کےپاس امروہہ ہی مقیم رہے۔ ان کی طبیعت اپنے بھائیوں کی طرح تعمیری نہیں تھی۔ وہ بغاوت اور انکار کی بھٹی میں جلتے ہوئے شاعر تھے جو ماضی کے ملبے پرحساب سود و زیاں کرتا ہے۔ والدین کی وفات کے بعد ایلیا نے کراچی ہجرت کی تو ایک اور مرض میں مبتلا ہو گئے۔ دیار بدری کا یہی مرض لاہور میں منٹو اور ناصر کاظمی کو بھی لاحق تھا۔ امروہہ کے ماحول نے جون کو جنم دیا تھا لہذا اس کو برداشت بھی کرتا تھا۔ پاکستان آکر جون کو اپنا پس منظر تخلیق بھی کرنا تھا جو بوجوہ ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ جون یہ ماحول نہ بنا سکے اور ایک تاریخی مذاق بن کر رہ گئے۔

جون پرشور تضادات کا ایسا مجموعہ تھے جس کا کیفتی اظہار صرف شاعری میں ممکن ہے۔ انہوں نے چن چن کر اپنے آپ میں وہ سب جمع کر لیا تھا جس کا بار شعر تو اٹھا سکتا ہے لیکن زندگی نہیں اٹھا سکتی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جون نے اپنی زندگی کا سودا کر کے شاعری خریدی۔ اس المیے کا انہیں خود بھی شعور تھا چنانچہ انہوں نے جتنے سانس لیے پردہ سخن میں لیے۔ وہ جانتے تھے کہ شاعری کی پناہ سے نکل کر زندگی سے سامنا کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ بطور شاعر ان کے کلام میں زندگی کی ان گنت کیفیات اپنی پوری شدت سے موجود ہیں لیکن بطور فرد ان کی زندگی میں کوئی آہنگ موجود نہ تھا۔ وہ نسباً شیعہ تھے لیکن دیوبند سے منسلک ایک مدرسے میں پڑھے اور عمر بھر علمائے دیوبند کی وطن پرست سیاست کے گن گاتے رہے۔ مرتے دم تک ایک ایسی محبوبہ کی تلاش میں رہے جو ان کے عشق میں خودکشی کرے۔جون اپنے معیارات میں بیمار شخص تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ انہوں نے بیماری کو ایک معیار کی صورت پیش کیا۔ اس معیار کو شعر میں پوری شدت سے بیان کرنے کا فن انہوں نے خدائے سخن میر تقی میر سے سیکھا تھا جو اردو ادب میں اس مریضانہ خود پسندی کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اپنے عہد کے ترقی پسندوں کے عمومی چلن کے برعکس جون نے ادب میں روایت پسندی اختیار کی اور غزل کو اپنے ذاتی معیار کی حسیت پر ازسرنو ایجاد کیا۔ پرانے موضوعات کی صورت بدلی اور نئی کیفیات کا راستہ نکالا۔ تاہم یہاں بھی ان کی نفی پسندی غالب رہی۔ انہوں نے اپنی شاعری میں جا بجا اعتراف کیا کہ وہ بڑے نہیں ہو سکے اور رائیگاں گزر گئے۔ وہ ایک بچہ تھے جو اپنی روایت میں منجمد ہو گیا تھا۔ ان کی رائیگانی بھی اس روایت کے شکست کا شخصی اظہار تھی۔ جون وہ بچہ تھا جو پرنیت انہماک سے اپنے شکستہ گھر کی بنیادوں میں بارود بھرتا رہا۔ وہ اس گھر کو توانا دیکھنا چاہتا تھا چاہے سب کچھ ملیا میٹ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔

وہ اعلانیہ ملحد اور نہلسٹ ہونے کے باوجود مذہب کے ساتھ ایک تہذیبی رشتہ رکھتے تھے۔ ان کا الحاد بھی محض الحاد نہیں بلکہ جون ایلیا کا الحاد تھا۔ طبعاً پیکار طلب تھے لہذا ایک مخصوص کائناتی منظر کے اندر ہی زندہ رہنا چاہتے تھے تاکہ ہر لمحہ کسی سے گتھم گتھا رہیں۔ وہ خدا کے قائل نہ تھے لیکن اسے چھوڑ بھی نا سکتے تھے۔ وہ سینے میں بغض پالنے، رنج رکھنے اور شکوہ کرنے کے خوگر تھے۔ وہ خدا کو اتنی آسانی سے منہا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ایسا ہو جاتا تو ان کے کوسنے کے لیے صرف انسان باقی رہتے۔ ایلیا انسان پسند بھی نہ تھے۔ وہ انسان سے نطشے کی طرح مغائرت رکھتے تھے۔ شاید اسی وجہ سے وہ تہذیب کے قائل بھی نہ تھے۔ لکھنوی فضا میں سانس لیتے جون ایلیا کو تہذیب اور تاریخ سے نفرت تھی۔ وہ اسے بیکار کا کھیل سمجھتے تھے لیکن اس کھیل میں بھی بطور کھلاڑی ایک منفرد مقام چاہتے تھے۔ وہ سرتاپا مجموعہ اضداد تھے لیکن اس جہت سے انسان کے فطری روپ کا وہ اظہار تھے جو اپنی حقیقت کے خام ہونے کا شعور رکھتا ہے۔ انہوں نے اس فطری خامی پر مذہب ، تمدن ، روحانیت اور جاہ طلبی کا میک اپ نہ کیا بلکہ ” جیسا ہے جہاں ہے ” کی بنیاد پر پیش کیا۔ وہ نہایت معیار پسند تھے لیکن اس بات کو جان گئے تھے کہ معیار وجود نہیں رکھتے۔ وہ تصور کو بے مایہ اور حقیقت کو لاچار تسلیم کرتے تھے۔ شاعری کے اس شخصی تناظر میں انہوں نے حسی تجربیت سے کام لیا اور نفس انسانی کی عمیق کیفیات کو متصادم صورتحال میں ہی پیش کیا۔

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا

بطور فرد جون کی زندگی ایک پیچدار ترین موضوع ہے جس پر مفصل گفتگو ایک تحریر میں ممکن نہیں۔ یہی معاملہ جون ایلیا بطور شاعر کے ساتھ بھی ہے۔ اس پر مسلسل گفتگو کی ضرورت ہے۔تاہم کچھ اشارے لازمی محسوس ہوتے ہیں۔

جون ایلیا کا شعری قد ان کی پہلی کتاب ” شاید” کے مناسبت سے طے کیا جائے۔ اگر غالب اور اقبال سمیت دیگر ان گنت شعرا یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کلام کی ترتیب اور انتخاب خود کریں تو یہ حق جون ایلیا کو بھی ہونا چائیے۔ غالب نے اپنی شاعری کا ایک پورا دفتر ضائع کردیا کیونکہ وہ اسے پیش نہیں کرنا چاہتے تھے۔ یہ حق تمام تخلیق کارو ں کو حاصل ہے۔ میں نے یوسفی صاحب کے بارے میں ایک مصدقہ ذریعے سے سنا ہے کہ وہ طباعت سے پہلے اپنی تحریر کی کانٹ چھانٹ پر انتہائی توجہ دیتے ہیں اور جب تک مطمئن نہ ہوں ایک سطر تک شائع نہیں ہونے دیتے۔ جون ایلیا ایک زود گو شاعر تھے جو طبعاً قادر الکلام تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کئی کئی گھنٹے منظوم گفتگو کرتے تھے۔ اس بات کی تصدیق جناب احمد جاوید سمیت کئی صاحبان فرما چکے ہیں۔ شعر کہنا جون کے ہر سانس کی مشق تھی۔ ایسے میں ان گنت کلام انہوں نے محض ریاضت ، وقت گزاری ، فرمائش اور خواہ مخواہ بھی کہا ہوگا۔ لیکن اپنی کتابوں کی طباعت کے حوالے سے اس قدر حساس تھے کہ ”شاید” کے بعد دوسری کتاب کے لیے پریشان رہتے کہ کیا یہ بھی اتنی ہی مقبول ہوگی یا نہیں۔ تاہم افسوس یہ ہے کہ ان کے چل بسنے کے بعد ان کی شاعری مرتب کرنے والے حضرات اس تخلیقی حساسیت اور لطافت انتخاب سے کماحقہ آگاہ نہیں تھے۔چنانچہ محض قارئین کو خوش کرنے کرلیے جون کا کوئی بھی شعر کہیں سے بھی ملا اسے چھاپ دیا گیا۔ کتاب کا ایڈیشن نکل گیا تو اگلے ایڈیشن میں ”جمع” کے نشان کے ساتھ نودریافت اشعار بھی چھاپے جاتے رہے۔ اس سنگین ترین غلطی نے جون کی ادبی حیثیت کو نہایت نقصان پہنچایا۔ جون کا مقام اگر خلوص نیت سے طے کرنا ہو تو ”شاید” پڑھیے۔

یہی معاملہ ایک بڑی حد تک جون کی نثر کے ساتھ بھی ہے۔ ”فرنود” نامی ان کی کتاب میں وہ تمام اداریے چھاپے گئے ہیں جو بقول شکیل عادل زادہ ضرورتاً لکھے گئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے فرنود کے چھپنے کا سنا تو نہایت خوش ہوا تھا لیکن جب مطالعہ کیا تو ”شاید” کے دیباچے کا تاثر بھی کمزور پڑنے لگا۔ گزارش یہ ہے کہ ہزاروں سال سے ادیب قارئین کا پیٹ نہیں بھر سکے۔ محض جون کے لکھے کو قارئین تک پہنچانے کے لیے خود جون کے ادبی مقام کو نقصان مت پہنچایا جائے۔

آخر میں عظیم روسی شاعر پشکن کا ایک ترجمہ شدہ اقتباس جو جون ایلیا نے اپنے یار عزیز عبید اللہ علیمؔ کی نذر کیا تھا یہاں نذرِ جون کیا جاتا ہے۔

” کوئی اجر طلب نا کر اس لیے کہ تیرا اجر تیرے سوا کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ تو خود ہی اپنے بارے میں داوری اور فیصلہ دہی کرنے والا ہے کہ تیرے بارے میں کوئی بھی تجھ سے زیادہ سخت گیر نہیں ہے۔ اے مشکل طلب شاعر ! کیا تو اپنے کام سے راضی ہے ؟ کیا تو اپنے دل کو خرسند پاتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو بھلا اس کی کیا پرواہ ہے کہ لوگ تجھ سے دشمنی رکھتے ہیں ، تجھے برا بھلا کہتے ہیں۔ احمقوں کو اس عبادت گاہ کی دہلیز پر تھوکنے بھی نہ دے جس کی محراب میں تیرے کمالِ فن کی آگ شعلہ زن ہے۔”

پاس رہ کر جدائی کی تجھ سے
دور ہو کر تجھے تلاش کیا
میں نے تیرا نشان گم کر کے
اپنے اندر تجھے تلاش کیا

Categories
نان فکشن

جون ایلیا: مشہور مگر غیر مقبول شاعر

میں نے چند روز قبل اپنی ٹائم لائن پر ایک پوسٹ لکھی، پوسٹ ہندی میں تھی اور اس تعلق سے تھی کہ لوگوں کو پڑھنا چاہیے اور ادب کو سمجھنے کے لیے تھوڑے بہت جتن کرنے چاہیے۔ایسا نہیں ہے کہ یا میر ، یاغالب اور یا جون ایلیا چلاتے ہوئے اس آنگن میں دھم سے کود پڑیں اور بس ہوجائیں شاعر۔ویسے بھی شاعر ہونا کمال بات نہیں ہے، شاعری ہماری ایک دوست کے مطابق الفاظ کے ناپ تول سے تعلق رکھنے والا ایک ہنر ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے انسان کو بس ایک خاص قسم کی موزونیت اپنے اندر پیدا کرنی ہوتی ہے۔عرف عام میں شاعر ایسے لوگوں کو سمجھا جاتا ہے جو رومانی زندگی گزارتے ہیں، لاپروا ہوتے ہیں، بکھرے بکھرے سے رہتے ہیں اور بہت سارے عشق کرتے ہیں۔ہم نے جس مذہبی ماحول کو بچپن سے دیکھا، اس میں بھی شاعر کی اسی تعریف کی وجہ سے تہذیب یافتہ سماج اس سے بدظن رہا کرتا تھا۔اب چونکہ نئی دنیا میں شاعر ہونا صرف شاعر ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ بہت سی خاموش، تفکر آمیز اور خود کشی کی خواہشوں والی ایک فینٹسی جڑی ہوئی ہے، اس لیے ہر دوسرا آدمی سمجھتا ہے کہ اس میں ایسی کیا برائی ہے، بال بکھرالیے، واہی تباہی پھرنے لگے، دنیا کو گالیاں دیں ، محبوب کو یاد کیا اور بن گئے شاعر۔اب اس پکی پکائی کھیر میں بس الفاظ کے چند مرجھائے ہی سہی، مگر گلابی پتے ہی تو ڈالنے کی دیر ہے، اپنے حلیے کے کیوڑے کی مدد سے اسے مزید دیدہ زیب بناکر فیس بک کے تھال پر سجادیا جائے اور ٹیگنگ کے ذریعے اس دعوت میں پچاس سے سو افراد تک کو شریک کرلیا جائے۔یہ ہے سوشل میڈیا کا شاعر، جی ہاں اسی سوشل میڈیا کا، جس پر جون ایلیا کے قصائد پڑھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔مگر جون ایلیا کو سمجھنے اور جاننے سے انکار کرنے والی دنیا، ان کے مشہور اشعار کو(جو دنیائے عشق کی ایک گھسی پٹی مات کا استعارہ ہیں)گنگناتی ہوئی رقص کررہی ہے۔جدھر جائیے، جسے دیکھیے، واہ جون، آہ جون کے نعرے بلند ہورہے ہیں۔مگر کسی سے یہ پوچھیے کہ جون ایلیا ہی کیوں؟ اور جون ایلیا کیسے؟ تو ان کے اچھے اچھے مرید بھی قل ہواللہ احد کہہ کر منہ کے بل گرجانے میں ہی عافیت محسوس کریں گے۔

اس کی دو تین وجوہات ہیں۔جون کی شاعری سے زیادہ ان کی شخصیت اور اس سے جڑے سنسیشنل قصوں کی دریافت نے انہیں مشہور کیا ہے۔پھٹی ہوئی جینز پہننے والے نوجوان، سینہ تانے، گردن اکڑائے، جون کی بے پروا لٹوں میں اپنے عشق کی موٹی موٹی گرہیں ڈھونڈتے نظر آئیں گے۔یہاں وہ جون کے الفاظ کے سہارے اپنی اس محبوبہ کے ہجر میں محو مرثیہ نظر آئیں گے، جسے شاعری کی الف ب تک سے چڑ ہے۔میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میراجی نے بھی اگر کچھ ایسی ہی عام رنگ کی غزلیں کہہ رکھی ہوتیں اور ان کے پاس اپنی محبوبہ کے سینے اور ناف کا چٹخارے دار بیان اسی صورت میں ہوتا، جیسا کہ جون کے پاس ہے تو وہ اس وقت جون سے زیادہ مشہور شاعر ہوتے، مگر شکر ہے کہ انہوں نے اپنی محبت کو جون کی طرح بات بات پر طعنے دے کر یاد نہیں کیا اور نہ ہی ان کو کسی مشاعرے میں اپنی اکلوتی بنگالی محبوبہ سے آنکھیں اور انگلیاں نچا نچا کر اپنی ڈھلتی ہوئی جوانی میں بھی مردانہ غرور کا اعلان کرنے یا خود سپردگی سے انکار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔میراجی تو محبوبہ کے کپڑے کی دھجیوں کے ساتھ خوش تھے، انہوں نے خوشبوؤں سے اگنے والی استعاروں کی بھید بھری کائنات میں قدم رکھا، نظم کہی اور اسی آنکھ سے دنیا کو دیکھنے کی سعی کی، جس میں عشق اور ہوس کے بیچ کا فرق مٹ کر رہ گیا۔ان کی نظمیں آکاش میں ٹکے تاروں کی جھلمل اور جھاگ اگلتے، لہریں اچھالتے سمندر کو بھی محبوب کے دھندلے عکس میں تبدیل کرسکیں۔میراجی کا جنون، جون ایلیا کی طرح مشاعروں میں یا مائک پر جوش میں نہ آتا تھا، وہ ایک بند کمرے میں اپنی ہی ننگی دنیا کے تنہا باشندے تھے، انہوں نے میرا کو سانسوں کی ڈار میں شامل کرنے کی کوشش کی۔اس کے برعکس جون نے بھیڑ میں اپنی محبوبہ کو کوسا بھی، اس کے سامنے گھگھیائے بھی۔اس پر طعنہ زن بھی ہوئے اور اسے خون تھوکنے کی تکلیف کا احساس بھی دلانے کی کوشش کی۔ یہاں جون اور میراجی کا کوئی مقابلہ مقصود نہیں۔کہنا یہ ہے کہ جس حوالے سے جون ایلیا مشہور ہوئے، وہ ان کی زندگی کا صرف ایک رخ ہے، اور وہ رخ نہایت ڈرامائی ہے، اس میں جون کی سچی تخلیقی دنیاؤں کی جھلک کم ہے اور ماتھے کو دونوں ہاتھوں سے چھوچھوکر داد کا جواب دینے کی خواہش زیادہ ہے۔

جون ایلیا کی شعری کتب کا مطالعہ کرتے وقت بظاہر دو زاویوں سے ان پر روشنی ڈالی ہی جانی چاہیے۔اول تو یہ کہ ان کی ذات میں حقیقت پسندی بہت زیادہ تھی۔حقیقت پسند انسان شاعری کرسکتا ہے، عشق نہیں کرسکتا۔عشق ایک آئیڈیل سچویشن کا نام ہے۔اسی لیے جون نے فاقہ کش لڑکی کو ننگی نگاہوں سے دیکھ کر اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ خوبصورتی کے لیے دیدہ زیب ہونا ضروری ہے۔وہ خوب سے خوب تر جسم کو دیکھ کر بھی اس کے اندر موجود معدے میں بھری غلاظت کا خیال دل سے نہ نکال سکے۔ان کی جمالیاتی حس نے انہیں ناف اور سینے کا گرویدہ بنائے رکھا، وہ حسن کی تعریف کرسکتے ہیں، مگر حسن کی تعریف کے ساتھ ساتھ وہ اس کے پس منظر اورمختلف حالات میں اس کے بگڑ جانے کا خیال دل سے نہیں نکال پاتے۔عشق ان باتوں سے ماورا ہوتا ہے،میراجی جیسے لوگ جنہیں نہایت ہوس پرست سمجھا جاتا ہے، عشق تو انہی کے بس کا روگ ہے۔کیونکہ وہ تو ایک چھچھلتی نظر کے عشق کو بھی عشق ہی سمجھتے ہیں، وہ اس جذبے کو لمحوں میں قید کرکے، اس کا نام نہیں بدلتے۔جون کے یہاں تہذیب کا رونا زیادہ ہے، وہ تہذیب کو، نفاست کو اور خوبصورتی کے ساتھ موجود متانت کے تصور کو الگ نہیں کرپاتے، جبکہ عشق تہذیب ، نفاست اور سنجیدگی تینوں سے بغاوت کانام ہے۔عشق میں کوئی آداب ، کوئی ٹکی ٹکائی پاکیزگی کا تصور یا پھر ٹھٹہ ٹھٹھول کا انکار موجود ہی نہیں ہوتا۔وہاں تو شوخی بھی ہے، جنون بھی، خود سپردگی بھی ہے اور تسلیم ورضا بھی۔اس زاویے سے روشنی ڈالتے ہی جون ایلیا کا وہ تمام کلام دراصل ایک جلد باز عاشق کی روداد معلوم ہوتا ہے جو محبوب سے بس اپنی ضد پوری کروانے کے لیے اس سے ایسی باتیں کررہا ہے، جس سے اسے رام کیا جاسکے۔جون کے وہ بیشتر اشعار جو مشہور ہیں اور جن کو پڑھ کر ہند و پاک کی نوجوان نسل بے ساختہ واہ کہتی ہے، وہ اسی قسم کے شعر ہیں، جن میں بے چینی کے نعرے، عشق کے بڑے بڑے دعوے، طنز و تشنیع، خون تھوکنے کے واقعات اور بات بات پر اپنی برتری کا احساس دلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔یہ جون کی شاعری کا وہ حصہ ہے جو ذرا دیر کو مزہ تو دیتا ہے مگر اس میں شعور کو کوئی بڑا دخل نہیں ہے، کوئی ایسی بات نہیں ہے، جس سے پڑھنے والا ان کی گہری تخلیقی صلاحیت سے بہت دیر تک متاثر رہ سکے۔جہاں انسان میں ذرا علمی سنجیدگی پیدا ہوئی، اس نے جون ایلیا کے اس پینترے کو سمجھا، وہاں یہ شاعری بودی معلوم ہونے لگے گی۔

جون کا ایک دوسرا رخ ہے، اس پر ہمارے نوجوان روشنی تو کیا ڈالیں گے، بس اسے عقیدت سے بیٹھ کر سن لیتے ہیں کہ جس شاعر کی اتنی واہ واہ کی ہے، اس نے ضرور اس زبان میں بھی اعلیٰ باتیں ہی کہی ہونگیں، جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔جون نے انسانی ارتقا، تہذیب کے بننے بگڑنے، سیاست کے مختلف چہروں اور انسان کے وجودی و سماجی مسائل پر اپنی نظموں اور غزلوں میں جس طرح بات کی ہے،وہ انہیں ان کے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے۔لفظ و معنی کی ایک علمی بحث کو جون نے اپنی نظم ‘سوفسطا ‘ میں یوں رقم کیا

ہاں لفظ ایجاد ہیں/یہ ہزاروں’ہزاروں برس کے/سراسیمہ گر اجتہاد تکلم کا انعام ہیں/ان کے انساب ہیں/جن کی اسناد ہیں/اور پھر ان کی تاریخ ہے/اور معنی کی تاریخ کوئی نہیں۔

جون کی اس نظم کا مآخذ یونان کا فلسفی پروٹاگورس ہے۔جون نے کس حد تک یونانی فلسفہ اور اس کے معاملات پر غور و فکر کیا ہوگا اور کس طرح اس کے خیالات کو نظم کرنے میں جون نے ایسا کامیاب راستہ تلاش کیا ہوگا، اس جانب ہماری نظر نہیں جاتی۔یہ تو ایک بہت چھوٹی سی مثال ہے۔فلسفہ، منطق، تاریخ، سیاست، سماجیات اور اس طرح کے دوسرے علوم سے جون کی دلچسپی ، اسے اپنے دوسرے ہم عصروں سے الگ کردیتی ہے، اس کے یہاں علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا ہے۔جون کی نظمیں رمز ہمیشہ، اعلان رنگ، ، درخت زرد، دو آوازیں وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

نوجوان دراصل ان باتوں کو جانے بغیر کہ جون کی شعری تربیت اور سیاسیات میں ان کی دلچسپی، سرمایہ دارانہ نظام سے ان کی چڑ کن عقلی و علمی دلیلوں پر استوار ہوئی تھی، ان سے اتنا عشق کیسے فرمارہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جون ایلیا ہمارے دور میں جس قدر مشہور ہوئے ہیں، ان کی شہرت ترقی پسندوں کے اس دور کی یاد دلاتی ہے، جہاں کمیونزم اور سوشلزم جیسے الفاظ کو سمجھے بغیر شاعر مزدوروں کے حق میں نظمیں غزلیں کہہ کر خود کو کمیونسٹ اور سوشلسٹ ادیب کہلوانا پسندکرتے تھے۔بھیڑ چال کا ایک دور ہوتا ہے اور اس دور کی ایک مدت ہوتی ہے۔جون ایلیا کی عام فہم شاعری سے زیادہ اگر ان کا دیباچہ شاید نئی نسل میں مشہور ہوتا تو جون کی شہرت سے زیادہ ان کی مقبولیت کے دروازے کھل سکتے تھے۔وہ لوگ جو مذہبی، نسلی اور فکری معاملات میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں، مہنگے مہنگے موبائل میں فیس بک چیک کرتے وقت شعروں پر لائکس کے ٹک لگاتے ہوں، جون کو کیسے پڑھتے اور پسند کرتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ جس سرمایہ دارانہ نظام کی جون نے مخالفت کی، اسی نظام کے پروردہ اذہان میں جون کو شہرت حاصل ہوئی، اس لیے ان کی تعبیر ہی سرے سے غلط ہوگئی، وہ ایک گھسے پٹے شاعرانہ عاشق کی صورت میں مشہور ہوئے، جبکہ انہیں علم اور کہنہ روایات سے بغاوت کا استعارہ بن کر نمودار ہونا چاہیے تھا۔ حتیٰ کہ عشق میں بھی ان کے یہاں روایت شکنی کا جذبہ حاوی رہا ہے۔وہ خود عشق میں مرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ اس کے برعکس کسی کو اپنی محبت میں جان گنواتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔

جون نے سب سے پہلے اس مذہبی نظام کی نفی کی تھی، جس نے آج ہندوستان اور پاکستان کو جہنم بننے کے دوراہے پر لاکھڑاکیا ہے۔پھر بھی اگر ہم جون سے صرف اس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ انہیں خودکشی سے ایک خاص نسبت تھی، محبوبہ کی ناف اور سینے سے لگاؤ تھا تو ہماری محبت قابل رحم حد تک غلط بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔جون نے انسانی ارتقا کے حوالے سے ایک شعر کہا تھا

مہذب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا
کہ ارتقا ہے عبارت بٹن لگانے سے

دیکھا جائے تو بٹن لگانا بے حد چھوٹا سا کام ہے، مگر اس سے موجودہ انسانی تہذیب کے خدوخال کا تعین ہوتا ہے۔ہم جس طرح پتلون کے بٹن لگائے بغیر مہذب یا ترقی پسند نہیں ہوسکتے۔اسی طرح شاعری سے تعلق رکھنے والے مضامین سے شدبدرکھے بغیر خود کو شاعر یا شعر فہم نہیں کہلوا سکتے۔خواہ ہم جون کے شعروں پر مچل مچل ہی کیوں نہ جائیں۔

Categories
شاعری

مکاشفہ – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
مکاشفہ
پناہ مانگو، پناہ مانگو!
فاصلے بدرنگ فتنوں سے نام زد کر دیئے گئے
زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے گئے
تمام صدیوں کے جرم اپنی سزا کو پہنچیں گے
داد خواہوں کے داعیے انتہا کو پہنچیں گے
سفید روحوں نے اور میں نے
تمہاری راتوں کے فیصلوں پر نگاہ ڈالی
ہراس، تاریکیوں کے گنبد میں قہقہوں کے مہیب کوندے اُگل رہا تھا
ہمارے رخسار تربتر تھے
سفید روحوں نے اور میں نے
وقت کی خوں گرفتہ رُوحوں کا غم منایا
ہماری پرچھائیاں بغل گیر ہو کے فریاد کر رہی تھیں
“ایاہ حزناہ و احز یناہ”
ہماری پرچھائیوں کے مابین ایک آواز اپنے قامت کے اُسطوانے
پہ شعلہ زن تھی
“میری نفرت کا رنگ نامہرباں ہے
اور اس کے حاشیے سرخ اور گہری سیاہ سمتوں میں پھیلتے ہیں
میں اُن کی آبادیوں پہ جھپٹوں گی
اُن کے محلوں کو چاب جاؤں گی
اُن کی راہوں کو ساری سمتوں سے کاٹ دوں گی
مرے عقب میں دریدہ ملبوس داد خواہوں کا سِیلِ سیال آ رہا ہے”

Art Work: Danish Raza

Categories
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا اور جون ایلیا کا زوال

جون ایلیا کا زوال ان کی زندگی میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ زوال کی وجہ معاشرے کا زوال بھی تھا اور اس کا اثر جون کی زندگی پر پڑنا شروع ہو گیا تھا۔ انیس سو نوے کی دہائی کے آخری چند سالوں میں جون گوشہ نشین ہو گئے تھے۔ کس سے مکالمہ کرتے، کس سے حسن بن صباح یا عرفی پر بات کرتے۔ پڑھے لکھے دوست ساتھ چھوڑ چکے تھے یا ملازمتیں کر رہے تھے یا ادبی دنیا میں مقام بنانے کے اپنے اپنے گروہ بنائے بیٹھے تھے۔ ایک غیر معروف، منہ پھٹ اور باغی شاعر سے ان کو کیا سروکار ہو سکتا تھا؟

 

جس کو جون سے جو حاصل کرنا تھا کر چکا تھا۔ سب جون کو چبا چکے تھے، اب ہڈیوں کا ایک ڈھانچا ایف بی ایریا کے ایک مکان میں اپنے رشتے دار کے ہاں کمرے کا کرایہ ادا کر کے رہ رہا تھا۔ اب یہاں جون سے ملنے وہ لوگ آتے جن کے پاس وقت ہی وقت تھا۔ ادب سے اکثر کا کچھ لینا دینا نہ تھا۔ جون کی غیر معمولی شخصیت، اس کے بوہیمیئن طرزِ زندگی سے متاثر ہو جاتے تو جون کے حجرے میں ڈیرا ڈال لیتے۔ وقت تو جون کے پاس بھی خوب تھا۔ لیکن جون ان نوجوانوں سے کیا بات کرتے؟ جون تو عہد نامہ قدیم میں سانس لینے والا اور یونان کے فلسفیوں کے ساتھ چہل قدمی کرنے والے ایک عالم تھا۔ لیکن اب جو حضرات علامہ جون ایلیا کے رو بہ رو تھے وہ پانچ سو سے زیادہ الفاظ نہیں جانتے تھے۔ جو نوجوان شاعر جون سے ملنے آتے وہ جون کی شاعری کے ایک حصے، یعنی اس کی مکالمہ آرائی سے متاثر ہو کر اسی انداز میں شعر کہنے لگتے۔ جون کو تو محفل سجانا ہوتی تھی سو وہ سجا ہی لیتے تھے۔ لیکن اپنا اور اپنے اطراف کا زوال انہیں اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔ اب نہ محمد علی صدیقی تھے نہ راحت سعید، نہ حسن عابد اور نہ ممتاز سعید اور نہ ہی ان کے وہ بھائی جو ادب اور فلسفے پر جون سے گفت گو کر سکتے۔ کچھ مر چکے تھے، کچھ کو جون خود جیتے جی مار چکے تھے۔

 

اب سن دو ہزار سترہ ہے۔ جون ایلیا بے حد مشہور ہو چکے ہیں۔ جو کم علم نوجوان ایف بی ایریا کے حجرے میں جون سے ملنے آتے تھے ان کی تعداد اب کئی لاکھ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ جون سے سب متاثر ہیں لیکن جون کو جانتا کوئی نہیں۔ ’عشرتیان رزق غم نوش چکاں گزر گئے‘ کس کی سمجھ میں آئے، کون محسوس کرے؟ جون کے وہ اشعار جن کا ڈکشن سہل ہے سب کی زبان پر ہیں۔ اکثر کلام تو جون نے شایع ہی نہیں کیا تھا۔ وہ تو خالد احمد انصاری کی سخاوت کو داد دیجیے کہ ہر پرچے اور ہر پرچی پر لکھا وہ شعر بھی جو جون نے بس یوں ہی کسی دوست کے دوست کے بیٹے کو لکھ کر دے دیا تھا، ان کے مجموعوں کی زینت بن چکا ہے۔ اب تو ایک اور کام بھی ہو رہا ہے۔ جون کے انداز میں کہے گئے اشعار جون کے نام سے سوشل میڈیا پر چلا دیے گئے ہیں۔

 

جون ایک مثال بن تو چکے ہیں لیکن ایک زوال پذیر معاشرے میں۔ فیس بک زدہ شاعر دھڑا دھڑ قافیہ بندی کر رہے ہیں، بے تکی نثری نظمیں کہہ رہے ہیں اور ہر کوئی راشد، فیض اور ناصر بنا ہوا ہے۔ نہ راشد اور فیض جتنا مطالعہ ہے نہ ان کی طرح زبان پر دسترس ہے، نہ ان کی طرح کی سچائی ہے۔ بس ایک ترکیب کے ذریعے شعر پہ شعر گھڑے جا رہے ہیں۔ شعر میں ایک انوکھا لفظ ڈال دیجیے، لیجیے آپ منفرد شاعر ہو گئے۔ ’آکٹوپس ہو گیا ہوں جیتے جی‘، واہ کیا نیا مصرعہ ہے! کس نے کہا تھا کہ تماشا دکھا کے مداری گیا؟

 

دو باتیں جون کے نوجوان عاشقوں کے لیے کہتا چلوں۔ شعر مت کہیے، صرف اردو شاعری مت پڑھیے۔ فلم دیکھیے، فلسفہ پڑھیے، عشق کیجیے۔ شاعری مت کیجیے۔ جون کا مسئلہ شاعری نہیں تھا نہ خود کو ایک بڑا شاعر منوانا تھا۔ جون کا مسئلہ علم تھا، سچائی تھا، درد تھا اور کرب تھا۔ آپ بھی جون کو بڑا شاعر منوانے کی کوشش مت کیجیے۔ جون کو اس کی ضرورت نہیں۔ ادبی ریکیٹیئرنگ سے بچیے اور ان پر تنقید کیجیے جو ریکیٹیئرنگ کر رہے ہیں۔ جس سے ملیے اسے خفا کیجیے۔ تنہائی اختیار کیجے۔ جون کی تقلید کرنا ہے تو خود کلامی کیجیے اور کتابیں پڑھیے۔ اردو کے علاوہ بھی چند زبانوں پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ جون کے مشکل اشعار پڑھ کر ان کے ماخذ کھوجیے۔ ایزرا پاؤنڈ سے عشق کیجیے اور اسے بھی جون سمجھیے۔ کم از کم دس برس تک شاعری مت کیجیے۔ کم از کم محمد علی صدیقی بنیے۔ جون کو اب بھی اپنے ان دوستوں کی تلاش ہے جن سے وہ گفت گو کر سکیں۔ آپ کو جون ایلیا کیوں منہ لگائے؟
Categories
شاعری

اَلایَلَلّی

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اَلایَلَلّی
مرے اِدھر ہی نہیں اُدھر بھی، مرے وَرے ہی نہیں پرے بھی
جو دیکھنے اور دکھائی دینے میں ہے (وہ جو بھی ہے) میرا قاتل ہے
اور میں ہوں جو ہر طرف قتل ہو رہا ہے
میں اپنے چاروں طرف سے کتنی ہی اپنی لاشوں کا انبوہ سَہ رہا ہوں
میں اپنے بیروں کے اندروں میں نڈھال ہوں اور ڈھے رہا ہوں
مرے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، مرے کاندھوں پہ لائے جاتے ہیں
کہاں کہاں دفن ہو رہا ہوں
ہزار لاشوں کا اک جنازہ، کہاں کہاں دفن ہو رہا ہے
یہ مرنے والے عجب ہی کچھ تھے (یہ مرنے والے)
اَلایَلَلّی، اَلایَلَلّی
میں اپنے ہر دفن سے، کفن سے، وجود کا اِک نیا بہانہ اُچک رہا ہوں
(یہ مرنے والا عجب ہی کچھ ہے)
مجھے مری ریزہ ریزہ لاشوں نَو بہ نَو کالُبد ملے ہیں
یہ سب کے سب جا چُکیں تو میں اپنی قبر کھودوں
کہ قبر میری بجز مرے اور کون کھودے گا؟
چلے گئے سب، یہ مرنے والے چلے گئے سب؟
تو، لے میں اب اپنی قبر کھودوں
اور اپنی لاش اپنے آپ میں۔۔۔۔۔ اپنے زندہ سینے میں دفن کر دوں
میں مر چکا ہوں، میں جی اُٹھا ہوں
اَلایَلَلّی، اَلایَلَلّی

Art Work: Danish Raza

Categories
شاعری

لوحِ وجود

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ وجود
میں سو رہا تھا
میں جوں ہی جاگا اور آنکھ کھولی تو دیکھتا ہوں
کہ میرے سینے پہ شہر تعمیر ہو چکا ہے
مرے بدن میں اِدھر اُدھر آہنیں سلاخیں گڑی ہوئی ہیں
کہ مجھ میں شہتیر نصب ہیں جو بلند ہوتے چلے گئے ہیں
میرے ہاتھوں، ہتھیلیوں اور سارے ڈھانچے پہ اینٹ پتھر پڑا ہوا ہے
اور اس پہ روڑا کُٹا ہوا ہے
اور اس پہ قیر و کزف کہ تہ ہے
پھر اس پہ سنگیں پَرَت جما ہے کہ جس میں قیر و کزف کے ٹانکے
لگے ہوئے ہیں
یہ کوی و برزن کے سلسلے ہیں جو پھیلتے ہی چلے گئے ہیں
بہم فشار آوری کا از ہم گستہ غوغا مری سماعت پہ یاں سے پیہم
شدید پتھراؤ کر رہا ہے
شکستہ ڈھانچوں کے خُن خُنے سائے اپنے کاندھوں پہ نیلے دھبّوں کا بوجھ اٹھائے
سیاہ جھونجل میں خُن خُناتے، خبیث مخروط پوش خُنگروں کے آگے پیچھے
گِھسٹ رہے ہیں
یہ زندہ بنیاد شہر ہے اور میں اس کے نیچے دبا پڑا ہوں
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے

Art Work: Danish Raza

Categories
شاعری

لوحِ طمع – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ طمع

[/vc_column_text][vc_column_text]

ملامتوں اور نفرتوں کے سوا مرے پاس اور کیا ہے
اور اِن دیاروں میں جو بھی رمز آگہی کے ایما پہ اپنا سینہ جلا رہے ہیں
جو اپنے غصوں کو آپ سہتے ہیں اُن کا سرمایہ اور کیا ہے
یہ وہ تبرک ہے جس کو لینے کے واسطے کوئی کیوں بڑھے گا
جو خون کے گھونٹ پی رہا ہے وہ جانتا ہے کہ نسلِ آدم کی سزا کیا ہے
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں
لبوں کی جنبش کا پردہءِ گوش سے جو رشتہ ہے اس میں کیا ہے
جو بولتا ہے وہ کرتبی ہے’ جو سن رہا ہے وہ مطلبی ہے

Art Work: Danish Raza
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

لوحِ آمد – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ آمد

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں آگیا ہوں
خدا کا بھیدی، تمہاری بستی میں آ گیا ہے
میں آدمی اور خدا کے بیچ اک بچولیا ہوں
کہا گیا ہے
نہ ہونے والے کو ہونے والوں کے دُکھ نہ سونپو
نہ ہونے والوں کو ہونے والوں سے شرم آتی ہے
کہا گیا ہے کہ میں جو اب تک کہیں نہیں ہوں اگر ہُوا بھی
تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا

Art Work: Danish Raza
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]