“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ

شین زاد: یہ کہانی صرف پسماندہ علاقے کی نہیں۔ تھر کی ہے جسی کی اپنی ثقافت ہے جس کی اپنی اقدار ہیں جس کی اپنی حدود ہیں تھر جہاں بیویاں شادی کے بعد تیس سال گزار دیتی ہیں لیکن اپنے خاوند کی موجودگی میں آنکھ اونچی نہیں کرتیں
ادبی تھیوری:ایک مغالطہ (پہلا حصہ)

عامر سہیل: تخلیقی فن پارہ صرف اپنی لسانی ساخت کی وجہ سے اہم نہیں ہوتا بلکہ اپنے فکری عناصر کی وجہ سے بھی فن پارہ بنتا ہے۔ادبی تھیوری نے فن پارے کے فکری اور معنوی پہلو کو جس احمقانہ شدت سے رد کیا وہ بجائے خود ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔
