Categories
شاعری

یہ کوئی نظم نہیں ہے اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

یہ کوئی نظم نہیں ہے

رات کہتی ہے
—–عورتیں محبت مانگتی ہیں
کنواں کہتا ہے
—–انسان مینڈک ہے
درخت کہتا ہے
—–کلہاڑی شیطان کی ایجاد ہے
نظم کہتی ہے
—–آدمی استعاروں میں زندہ ہے
صحرا نورد کہتا ہے
—–زندگی طویل سفر مانگتی ہے
سمندر کہتا ہے
—–آدمی عرشے پر کھڑا بھلا لگتا ہے
کرسی کہتی ہے
—–تھکن کا کوئی نعم البدل نہیں
سرخ نوٹ کہتا ہے
—–عورت کے سینے سے نرم کوئی جگہ نہیں
خواب کہتا ہے
—–آدمی کی شلوار سیلن زدہ رہتی ہے
اندھیرا کہتا ہے
—–خوف انسان کا دیوتا ہے
زمین کہتی ہے
—–چلنے سے تم رندے کی طرح گھستے رہتے ہو
اور بستر کہتا ہے
—–آدمی مباشرت کے لئے زندہ ہے

میں تمہاری سمت غروب ہونا چاہتا ہوں

جب انگلیاں دو زانو ہو کر
تمہارے جسم کا طواف کرتی ہیں
ہمسایوں کی کھڑکیاں ہمارے خلاف
ایک دوسرے کے کانوں میں
نفرت کی سرگوشیاں کررہی ہوتی ہیں

جب تمہارے جسم کی سرحد کو چومتے ہوئے
محبت کی موسیقی ترتیب دے رہا ہوتا ہوں
شہر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے
معنویت سے خالی باتیں اگل رہا ہوتا ہے

رد کئے ہوئے لمحوں میں
جب میں خود کو جمع کر رہا ہوتا ہوں
چوک میں کھڑے میلے کچیلے ہاتھ
خوابوں کی بھیگ مانگ رہے ہوتے ہیں

جب کاربن سے اٹے مزدور اپنے چہرے کو
بچوں کی چیخوں سے صاف کر رہے ہوتے ہیں
میں تمہارے ہونٹوں پر تیرتی ہنسی کو
چھونے کی ریاضت کر رہا ہوتا ہوں

حب ریستوران سایوں کے شور سے بھر جاتے ہیں
اور سڑکوں پر بے چہرہ لوگ
آپس میں ٹکرا ریے ہوتے ہیں
تم میری بانہوں میں مرجھا چکی ہوتی ہو
اور میں قطرہ قطرہ
تمہارے جسم کے کسی خانے میں
محفوظ ہوجانا چاہتا ہوں

بارش ہر کسی کو مصروف کر دیتی ہے

چاند بارش میں بھیگ رہا ہے
گراموفون موت کا گیت گا رہا ہے
آدمی عرشے سے
ریت میں دھنسی عورت کی تصویر کشی کر رہا ہے
مالی امرود کے درخت کے پہلو میں سو رہا ہے
اسے پھولوں میں سوئی لڑکی کے خواب آ رہے ہیں
اداسی کیکٹس کے پھولوں سے
پول میں مشت زنی کرتے لڑکے کو جھانک رہی ہے

آدمی بے موسمی پھل اگانے کی کوشش میں
کئی موسم ضائع کر رہا ہے
چوک میں کھڑے ریڑھی بان
قہقہے ہانک رہے ہیں

بچے نیند کے فیڈر پیتے ہوئے
دو سمتوں میں سفر کررہے ہیں
کلاک کا پینڈولم تھکتا ہی نہیں ہے

شہر کے حاکم کو آٹھ راتوں سے
امرد پرستی کے خواب آ رہے ہیں

شام بادلوں کے پیچھے تیر رہی ہے
میں اسے بھیگتے ہوئے دیکھ رہا ہوں

آنسوؤں میں بٹی زندگی

ہماری آنکھیں
صرف تھوکے ہوئے منظر
یا بس کے پیچھے
لٹکتے ہوئے آدمی کو دیکھ سکتی ہیں
مگر میں نے اپنی آنکھیں
ہم دونوں کے درمیان حائل فاصلہ
ماپتے ہوۓ ضائع کیں

ہمارے کان
گیت اور دعا سے پہلے
آنسوؤں کا ترانہ سننے کے عادی ہیں
اور انگلیاں
مٹی کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے
لکڑی کی شکل میں تبدیل ہو چکی ہیں
یہ تو صرف ایک ماں ہی بتا سکتی ہے
کہ مٹی میں آنسو جلدی جذب ہوتے ہیں
یا پھر پسینہ؟

میں ہر رات
کشتی بنانے کے منصوبے ترتیب دیتا ہوں
تاکہ چپوؤں سے
سمندر کی گہرائی معلوم کرتے وقت
مچھلی سے پوچھا جاسکے
کہ سمندر کا پانی زیادہ میٹھا ہوتا ہے
یا پھر آدمی کے آنسوؤں کا؟

شاید میں اب
ایک چپو بھی نہیں بنا سکتا
کیو نکہ جوۓ کی بازی میں
رات کی بچائی ہوئی
آدھی روٹی بھی ہار چکا ہوں

میرے پاس اب صرف دل بچا ہے
جس کے ذریعے
میں ایک چھینی ہوئی محبت کرسکتا ہوں

تم کھڑکی کھول کر نہیں دیکھتی

تمہارے کمرے کی کھڑکی
سمندر کی طرف کھلتی ہے
تم آسانی سے
بادلوں کو چھو سکتی ہو
مگر میرے پیغام کا جواب دینے کی بجائے
طویل انتظار
میسج میں رکھ کر بھیج دیتی ہو

تم نیند کے ساحل پر
خوابوں کا بادبان اوڑھے سوئی رہتی ہو
تمہیں اس وقت کی خبر نہیں ہوتی
جب کوئی سیاح
تمہاری خوشبو سونگھ کر مچل جاتا ہے
اور سانسوں کے رستے سے
تم میں داخل ہوجانا چاہتا ہے

بارش کی شاموں میں
تم برہنہ بستر کا لباس بنی رہتی ہو
تمہارے کمرے کے آتشدان سے نکلتا دھواں
آسمان میں شگاف کردیتا ہے

خود لذتی کے دوران
آوازیں نکالتے ہوئے
جب تم دیواروں کے کان
بند کر رہی ہوتی ہو
کوئی شہوت کا مارا
تمہارے کمرے کی دیواروں میں
کسی درز کو تلاش کررہا ہوتا ہے

مگر تم کھڑکی کھول کر نہیں دیکھتی

شناخت

جب وہ پیدا ہوا
گھر والوں نے اس کا نام جمال الدین رکھا
سکول کے رجسٹر میں اس کا نام
محمد جمال الدین درج ہوا

جب بچپن کو بیچ کر
اس نے بلوغت کمائی
اور داڑھی رکھنا شروع کردی
تو محلے والے اسے مولوی پکارنے لگے

عمر کے درمیانی حصے میں
جب وہ شہر میں چپڑاسی بھرتی ہوا
بڑے صاحب نے اس کا نام
بگاڑ کر “جالو “رکھ  دیا

مگر وہ خوش تھا
کہ پہچان تو چہروں سے ہوتی ہے

جن دنوں سرکاری معلومات
کمپیوٹر میں محفوظ کی جارہی تھی
ایک چیک پوسٹ پر
تلاشی لینے کے بہانے
اس کے اعضاء کو بکھیر دیا گیا
یوں اپنے اصل نام کے ساتھ
وہ کہیں بھی درج نہ ہو سکا

جب ٹی وی اسکرین پر
اس کی موت کی خبر نشر ہوئی
تو گھر والے خوش تھے
کہ اس کے نام کی بجائے
مسخ شدہ چہرے کے ساتھ
صرف شہید لکھا ہوا تھا

Categories
شاعری

قید اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

[divider]قید[/divider]

میری روح کا جھنڈا
ایک اداس پرندے کے ہاتھ میں ہے
جو زندگی کی سمتوں میں قید
آزادی یا موت کا منتظر ہے

[divider]ایک بھلائی جانے والی لڑکی[/divider]

وہ اپنے چہرے پر
گزرے دنوں کا میک اپ کرتی ہے
اس کی زرد سرخی میں
ہجر کے ذرات دیکھے جا سکتے ہیں
مستقبل کی چکی میں
وعدوں کو پیس کر
آنکھوں پر کاجل کی طرح سجانا
اسے ہمشہ پسند رہا ہے

فارغ اوقات میں
اپنے سینے پر محفوظ
مختلف ذائقوں کو محسوس کرنا
اس کے نزدیک
وقت گزارنے کا بہترین مشغلہ ہے

ضدی شوہر جب بھی
گردن پہ ابھری
نیلی رگوں پر بوسہ دیتا ہے
بیتے دنوں کی شفاف یادیں
ناف کے گرد
زبان پھیرنے لگتی ہیں
وہ خود کو
کھڑکی میں ٹھٹھرتی بلی کی طرح
سرد محسوس کرتی ہے

وہ اپنا غصہ
اس کے داہنے گال پر تھوکتا ہے
اور
نیند کے سینے میں دفن ہو جاتا ہے

[divider]تمہارے بدن سے چرائی ہوئی نظم[/divider]

دھوپ سے خالی
ایک دوپہر میں
جب تم اپنے بوسوں سے
میرے سینے کو نرم کر کے جا چکی تھیں
تمہارے ہاتھ کی لکیروں جیسی
اپنے بستر کی سلوٹ میں
مجھے برہنہ نظم ملی تھی
جس پر نیلے پھول کڑھے ہوئے تھے

اور اس میں سے
تمہارے بوسوں جیسی خوشبو آ رہی تھی!

[divider]خواب کے ہاتھ پر لکھی نظم[/divider]

تمہاری باتوں سے
بارود کی بو آتی ہے
تم سے خوفزدہ لوگ
اندھیرے میں
زندہ رہنے کی اداکاری کرتے ہیں
تم جنگ سے لوٹےگھڑ سوار کی
بے خوابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
اس کے خوابوں کو قتل کرنا جانتے ہو
تم محبت کے نام پر جسم جیت سکتے ہو
مگر اس لڑکی کو کبھی نہیں سمجھ سکے
جس کے آنسوؤں سے
تمہارے جسم پر دستخط ہو چکے ہیں
اور وہ تمھیں جوان کرنے کی کوشش میں
خود بوڑھی ہوتی جارہی ہے

بے خواب راتوں میں
شہر کی اکلوتی ویشیا
اپنی ساری سانسیں جمع کر کے
جب تمہارے جسم کو چومتی ہے
اس کی آنکھوں سے بہتی نیند
تمہارے جسم کے خفیہ خانوں میں گر جاتی ہے

اور جب چیونٹیاں
زمین کے کانوں میں اذان دے رہی ہوتی ہیں
تم روشنی سے آنکھیں چرائے
زمین کی کوکھ میں پناہ لینا چاہتے ہو
مگر ویشیا خود کو مکمل کرنے کے لیے
جب تمہارا پیچھا کرتی ہے
تم اپنا خون آلود ہاتھ
خدا کے قدموں میں پھینک چکے ہوتے ہو !

[divider]تم کبھی محبت کا لباس نہ پہن سکے[/divider]

جب تم پیدا ہوئے
تم سے پوچھے بغیر
کسی ان دیکھے رشتے سے باندھ دیا گیا
یوں تم سے
ایک محبت کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا
اور لڑکی کا جسم
تمہارے لئے ممنوع قرار پایا!

بارش کے موسم میں
جب زمین کی تنہائی نے کروٹ لی
تم کئی بدن جھانکنے نکلے
مگر اپنے ساتھ
باتوں کی مہک سے خالی آنگن جیسی
خاموشی لے کر لوٹے

تم نے اپنے خالی کمرے میں
جب جسم کی فصل کاٹنے
اور محبت حاصل کرنے کی مہم شروع کی
تو تمہارے خراٹے
جنسی آوازوں جیسے ہو گئے

گھر والوں نے
تمہیں قتل کرنے کے منصوبے بنائے
اور جس رات تم خوابوں کے سفر پر نکلے
بے عکس آئینے کے سامنے کھڑی لڑکی
اپنے جسم پر زہر ملے
تمہیں محبت کا لباس پہنانے کی منتظر تھی

Categories
شاعری

ہم ملتے ہیں تاکہ بچھڑ سکیں (اویس سجاد)

ہم پہلی ملاقات کرتے ہیں
کسی مہنگے چاۓ خانے میں
اس احساس کے ساتھ
کہ کبھی جدا نہیں ہوں گے
وہاں بیٹھے بیٹھے
ہم ماپنے کی بے کار کوشش کرتے ہیں
اپنے درمیان حائل
بھورے میز جتنا فاصلہ

ہم چلتے رہنا چاہتے ہیں
کیمپس کے من پسند رستے پر
اس خواہش کے ساتھ
کہ تازہ کریں گے
اپنے ان قدموں کو
جو خاکروب نے دھندلے کر دیے ہوتے ہیں
اس رستے پر چلتے چلتے
بے خیالی میں جب کئی وعدے کر لیتے ہیں
تو واپسی پر ایک دوسرے کو چومنے کی کوشش کرتے ہیں
اس دھیان کے ساتھ
کہ سیکورٹی گارڈ ہمیں نہیں دیکھ رہا

کسی انجان نمبر پر
ہم کوئی پیغام بھجتے ہیں
اس یقین کے ساتھ
کہ وہ رضامند ہو جائے گا
ہمیشہ ساتھ رہنے کے لیے
اور کسی روز
ہم اسے دیکھ سکیں گے
برہنہ حالت میں

مگر افسوس ہم ایک دوسرے کو
بھول جاتے ہیں
اس قہقہے کی طرح
جو کسی روز بٹوے سے برآمد ہوتا
چائے خانے کے بل میں لپٹا ہوا

ایک دوسرے کی خواہشوں کو مار دیتے ہیں
اس وعدے کی طرح
جس کو کچل دیا ہوتا ہے
ہم نے اپنے قدموں سے
من پسند رستے پر

خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں
اس سرد بوسے کی طرح
جو کہیں چھپ کر
ہمیں ہماری یاد دلا رہا ہوتا ہے

اور ہم اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں
اس آخری میسج کی طرح
جس میں دعوی کیا ہوتا ہے
ہمیشہ یاد رکھنے کا

Categories
شاعری

تنہا رہنے کا موسم اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

تنہا رہنے کا موسم

میرے پاس ممنوعہ راتوں میں دیکھے گئے چند خواب ہیں
مگر تعبیر بتانے والا بوڑھا خودکشی کرچکا ہے
میرے اچھے اور برے دنوں کا خدا
پچھلے کئی دنوں سے لاپتہ ہے
اب میں اپنے باپ کو
اپنا خدا مانتا ہوں
میرے پاس گزرے موسم کے آنسو ہیں
جو مزید کچھ دن ٹھہرنا چاہتا تھا
مگر اسے ایک خطرناک وبا نگل گئی
میرے پاس سُروں سے خالی گیت ہیں
جن کو کوئی بھی فنکار
اپنے البم کا حصہ نہیں بنائے گا
میرے پاس گول باغ* کے مرکزی گیٹ پر بیٹھے
ایک خطرناک چوکیدار جیسا غصہ ہے
جو کبھی بھی ایکسپائر نہیں ہو گا
میرے پاس گاؤں کے لوہار جیسا دکھ ہے
جس نے کسانوں کے لیے
بیساکھی پر نئی درانتیاں بنائیں
مگر ایک رات فصلوں کو اجاڑ دیا گیا
میرے پاس کئی ٹوٹی پھوٹی نظمیں ہیں
جن میں کچھ عورتوں کے ساتھ
اندھیرے میں کی گئی محبت کے لمحے محفوظ ہیں
میرے پاس خوش کن اداسی ہے
جو قرنطینہ کے دنوں میں
ایک فرشتہ میرے سرہانے رکھ کر بھول گیا تھا

میرے پاس سب کچھ ہے
سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے
جو میں چرا لوں گا
کسی تابوت بنانے والے سے
یا اس بوڑھے سے جو ہمیشہ مہنگی سگریٹ پیتا ہے
ہو سکتا ہے میں مکمل ہو جاؤں

خواب میں جاگتی آنکھیں

میں ایک ایسے شہر میں زندہ ہوں
جہاں روز سانحے ہوتے ہیں
کیونکہ کچھ لوگوں کو دہشت زدہ فضا پسند ہے
جہاں گونگی سڑک پر
اندھی گاڑیاں خوفناک آوازیں نکالتی ہیں
ان سے خوفزدہ ہو کر
ہیجڑوں کا ایک گروہ خودکشی کر لیتا ہے
میں کھڑکی سے دیکھتا ہوں
اس پیشہ ور طوائف کو
جس کے پستانوں کا سائز بڑھ چکا ہے
اب وہ اپنی بیٹی کو
نئے گاہک سے ملوانے آئی ہے
میں دیکھ سکتا ہوں
سڑک کے دوسری طرف واقع اس قبرستان کو
جہاں بوڑھا گورگن
ایک بوسیدہ قبر کے سرہانے
کدال پر سر جھکائے
آنسو بہا رہا ہے
اچانک پرکھوں کا ہجوم گزرتا ہے
جو اپنے حصے کے خدا کے خلاف
دوسرے جنم میں مذاکرات کے لیے نعرے لگاتا ہے
اچانک میں خواب سے باہر آتا ہوں
مجھے رات کے دوسرے پہر کا وعدہ یاد آتا ہے
کوئی میرا انتظار کررہا ہوگا
میں اوورکوٹ پہنے گھر سے نکل آیا ہوں
مگر مجھے معلوم ہے
آخری لوکل بس بھی جا چکی ہو گی

میں سب کچھ دیکھ رہا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب ایک بوڑھا فقیر
اپنے گناہوں کا ٹوکرا اٹھائے
جہنم کا ٹکٹ لے رہا تھا
تو لوگ چپکے سے
اس کے کاسے میں
اپنے غم ڈال رہے تھے

میں دیکھ رہا تھا
جب تم اپنی زندگی کی معیاد بڑھانے
خدا کے پاس گئے تھے
تو فرشتوں نے تمہیں بھگا دیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب تمھارا سابقہ بوائے فرینڈ
گردن سے نیچے
تمھارے بوسے لے رہا تھا
تو تم نے کچھ دیر اپنی شرم کو
بیگ میں چھپا لیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب بوڑھا فنکار
مجھے تخلیق کر رہا تھا
وہ اپنے حصے کا کام چھوڑ کر
میرے حصے کے ادھورے خواب
جو شہر کی اندھی سڑکوں پر بکھرے تھے
انہیں سمیٹنے نکل گیا

میں مسلسل دیکھ رہا ہوں
بوڑھا فنکار ایک مدت سے لوٹ کر نہیں آیا