ایک لمحہ کافی ہے (حسین عابد)

کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی ہنسی پر ٹھٹھکتے محبوب آنکھوں میں جھانکتے پکی خوشبو اور معصوم آوازوں کے شور میں بدن سے دن کی مشقت دھوتے یا کھلے، وسیع میدان میں بہتی ندی کے ساتھ چلتے جس کے کناروں کی گھاس پانی میں ڈوب رہی ہو وقت کی دھڑکتی تھیلی میں پڑا ابدی […]
سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے یہ پرندے کون ہیں ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں ہوا کو موت یہ پتے ہمارے آنسو ہیں ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا رنگ تمہارے لہجے کی طرح نیلا کیوں ہے؟ ہم نے سیڑھیوں کے ہجے نہیں سیکھے […]
میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں کبھی پانیوں کی خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان کے اندر دم سادھے چپ چاپ موسموں کو گزرتے دیکھتا ہوں میں کھلے اور پھیلے ہوئے برفیلے میدانوں کا ذکر ہرگز نہیں کروں گا معذرت کے ساتھ مجھے برفباری اور برف کے ساتھ کھیلنے سے […]
جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں ایک دوسرے کو دکھ میں اور خوشی میں اور مِل سکتے ہیں شام کی چائے یا ڈنر کے امکان پر میں اُس وقت کا سوچتا ہوں جب ہمارے درمیان ایک رات بھی نہیں رہے گی تب ہم کیا کریں گے؟ کہاں طلوع ہوں گے؟ Iamge: Eugenia […]
ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی اعداد ہیں تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو […]
ورثہ (ثروت زہرا)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=“”][vc_column width=“1/2”][vc_column_text css_animation=”” css=”.vc_custom_1475943083005{background-color: #e0e0e0 !important;}”] Heritage Life was bequeathed a love of mirrors And mirrors hold her love’s reflections. Life will ever gaze at reflections, Will ever kiss Love’s frozen shapes. Smash the mirrors to touch Love’s warmth! But Life was bequeathed a love of mirrors. Translation: Dr. Rizwan Ali […]
ابدی کھیل (نصیر احمد ناصر)

وقت کے نورانیے میں تہذیبیں زوال کی سیاہی اوڑھ لیتی ہیں لیکن اکاس گنگا کے اَن گنت اَن بُجھ ستارے لُک چُھپ لُک چُھپ کھیلتے رہتے ہیں!! Image: Suzanne Wright Crain
دو بدن (مصطفیٰ ارباب)

مجھ میں ادھوری لذت سو رہی ہے میں اِس کی نیند کو طُول دینا چاہتا ہوں لیکن ایسا مُمکن نہیں اپنے طے شُدہ اوقات میں یہ بیدار ہو جاتی ہے اپنی تکمیل کی جُست جُو میں اُس بدن کے حُصول میں لگ جاتی ہے جس میں ادھوری لذت کا بقیہ حصہ سویا ہوا ہے دو […]
ادنیٰ (افتخاری بخاری)

کیا تم جاننا چاہو گے ادنیٰ ہونے کا مطلب؟ تو سنو! یہ ایسے ہے جیسے گھنٹوں قطار میں انتظار کے بعد تم کھڑکی کے قریب پہنچو اور ایک پُر رعونت بوڑھا چھڑی کے اشارے سے تمہیں ایک جانب ہٹا دے جیسے پولیس والا تمہیں بھیڑ میں سونگھ کر الگ کرے اور جامہ تلاشی پر دس […]
طبیب بھنبھنا گیا (ستیہ پال آنند)

فَتَکلّمُواَ تُعرَفُوا کلام کرو تا کہ پہچانے جاؤ۔۔۔۔۔۔ حٖضرت علی کرم اللہ وجہہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طبیب بھنبھنا گیا میں سب علاج کر کے تھک گیا ہوں، پر یہ بچہ بولتا نہیں زبان اس کی ٹھیک ٹھاک، تندرست ہے کہیں بھی کوئی رخنہ، کوئی نقص ہو یہ میں نہیں سمجھ سکا بدن بھی تندرست ہے مگر یہ […]
بلبلے

سلمیٰ جیلانی: بوڑھے ہوتے ہوئے بچپن کو
اب بلبلے بنانے نہیں آتے
کٹی کلائی اور اندھیرا کمرا

رضی حیدر: اندھیرے کمروں کے ککون میں فون کی گھنٹی بجتی رہے گی
تیرے لہو کی آشوبی بارش کو شیشے توڑنا ہوں گے
دھند

رضوان علی: اک کرن دھوپ سے ذرا پہلے
آکے کہرے میں ٹوٹ جاتی ہے
فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

سرمد بٹ: یہ دوری کے دھوکے
زمانے کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں
نظم کے لیے غسل واجب نہیں

زاہد امروز: عمر علی!
لندن ہو یا لائل پور
دنیا ایک سی ہے