Laaltain

اک کسی دن

سوئپنل تیواری: سپاٹ چہروں اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
کبھی جو ہنستا نہ بولتا ہے

خواب کا ڈمرو

رضی حیدر: ڈارون کی لاش پہ تانڈو ناچ رچانے والا بندر
پوچھ رہا تھا
نیٹشے کے یبھ کو سن کر زرتشت نے آخر بولا کیا تھا

میرا سایہ

عذرا عباس: لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے

مجھے نہیں معلوم

مصطفیٰ ارباب: ہمارے حق میں
زندگی کوئی کوشش نہیں کرتی
زندگی کا صدر مقام
نظم سے باہر ہوتا ہے

شاعر

حسین عابد: دروازوں، رستوں اور پرندوں نے
مجھ سے ایسی باتیں کیں
جو مسحور آپس میں کرتے ہیں

میں نے ایک گھر بنایا ہے

ابرار احمد: پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا

کون بتائے گا

ثاقب ندیم: آنسو پینے والی کو
بستر کی سلوٹیں گنتے گنتے
روزانہ شام ہو جاتی ہے

صدف فاطمہ کی دو نظمیں

صدف فاطمہ: تمہارے شکستہ بدن اور اگلی ہوئی روح سے
کنوارے خنجر سے لگنے والے یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتے

جنگل کے پاس ایک عورت

افضال احمد سید: نیند کے پاس ایک رات ہے
میرے پاس ایک کہانی ہے
جنگل کے پاس ایک عورت تھی

زہر کی پھانک

صفیہ حیات: ہم سب جھوٹے ہیں
ایک ہی رشتہ سے بندھے عمر بتاتے ہیں
بھلا رشتہ اور پھول بھی کبھی
سدا بہار ہوئے۔۔۔؟

موت مجھے بلاتی ہے

ابرار احمد: میں ایک خواب سے دوسرے خواب میں
اس شام سے گزر کر جانا چاہتا ہوں
تم کہاں ہو
موت مجھے بلاتی ہے

شہ رگ کی بالکونی سے

ثاقب ندیم: خدا جو شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے
اس کو اپنا دکھ سنانے کے لئے
مُردوں کو جنجھوڑنے والا بہت خوش ہے

البتراء

افتخار بخاری: میں تجھے تیرے جیسا
اپنا دل ہدیّـہ کروں گا،
پتّھر کا گلاب