وہ مجھ سے ہمیشہ تیس روپے زیادہ لیتا ہے اور دیگر نظمیں

شام ڈھلنے تک میرا دروازہ گلی کا سب گندہ پانی اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے
میں خوف زدہ رہتا ہوں اور دیگر نظمیں

ہم جن شہروں میں رہتے ہیں
ان کے طول و عرض میں ایک ان دیکھا جغرافیہ سانس لیتا ہے
ٹریفک کی بتی والے سبھی خانے اور مصنوعی ذہانت کا دبستان

مصنوعی ذہانت کے اکثر ادبی اظہارات میں لسانی نشانات کے مابین تضاد و تفریق کے ساختی رشتے ابھی ایک کمزور ارتقائی سطح پر ہیں
ٹہنیوں کے ہاتھ (کلام: ثروت حسین، انتخاب: عدنان بشیر)

زمین بیٹھتی جاتی ہے اور اک حصہ
جہاں پہ پاؤں ہیں میرے وہاں سے اونچا ہے
اکیس صبحوں کا سفر اور دیگر نظمیں (قاضی علی ابوالحسن)
فرض کرو
تم نہ بچھڑتی تو
میں تمہیں بوڑھا ہوتے دیکھنے کے صدمے سے دو چار ہوتا
خدا گلی سے گزر رہا ہے اور دوسری نظمیں (توقیر رضا)
کوئی لڑکی ہے
یا پھر کوئی چیونٹی
یا پھر کوئی سوال ہے
جو میری آنکھوں میں رینگ رہا ہے اور سر کی طرف چڑھ رہا ہے !
کافور کی مہک اور دیگر نظمیں (حسین عابد)

میں اس پگڈنڈی سے نہیں گزرتا
جہاں میں نے
تمہارے نام کی سرگوشی کی
تم بہت خوبصورت ہو (صدیق شاہد)
تم بہت خوبصورت ہو
جیسے میں تمہیں شیر کے پنجوں سے چھین لیتا ہوں
نثری نظم کا فن (اویس سجاد)

نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔
دائرہ اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

کسی خواب میں اتر جاؤ
اسے مزید گہرا کرو
اور گہرے اترتے چلے جاؤ
فنکار اور دوسری نظمیں (ورشا گورچھیا)
میں اس وقت کہاں ہوں
کون بتا سکتا ہے
ہماری گلوبلائزڈ زندگی (تنویر انجم)

روزروز جاتے ہوتم
گھر سے دور، دوروں پر
مگر زیادہ دنوں کے لیے مت جانا
قید اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

اور جب چیونٹیاں
زمین کے کانوں میں اذان دے رہی ہوتی ہیں
تم روشنی سے آنکھیں چرائے
زمین کی کوکھ میں پناہ لینا چاہتے ہو
بارش کی خواہش بھی اک موت ہے (حفیظ تبسم)

بارش برسی
تالاب یکدم سخی ہو گئے
اور پھر وحشی۔۔۔
مرگِ شب و روز اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

تم پر ایک رات طویل کی جاتی ہے
ایک مختصر