یہ نا مناسب ہے (تنویر انجم)

وہ گول مٹول ہے سانولا سا ہے نقوش پیارے ہیں تین سال کا ہے بڑی بڑی آنکھوں سے بغیر خوف کھائے مجھے دیکھتا ہے ندیدہ بھی نہیں میری دی ہوئی کھانے کی چیزیں آدھی کھاتا ہے اس کے کپڑے بھی صاف ستھرے ہیں جوتے بھی ٹھیک ہیں پر اعتماد ہے جیسے کہ اسے بہت پیار […]
اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں موت کو رشوت دیتے ہیں اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں اور امید رکھتے ہیں ہم خود کو ہلاک کر لیں گے وہ چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں اور جب ہم وہاں سیر […]
دودھ والے وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں (ساحر شفیق)

اگر مجھے بیس منٹ میں کچھ لکھنے کو کہا جائے تو میں کاغذ پر ۷ تک پہاڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں لکھ سکوں گا ___یا شاید___ متعدد بار اپنا نام اور پتہ اس رسم الخط میں/ جو میں نے خود ہی ایجاد کیا تھا میں ان بیس منٹوں میں اپنے دن بھر کے معمولات […]
اجنبیت سے بھرا دن (ثاقب ندیم)

اجنبیت سے بھرا دن اہم شخص کو غیر اہم بنا سکتا ہے میں ایک اجنبی دن کے اندر سے گُزرا جہاں خاموشی کمرے کی درزوں سے بہہ رہی تھی جہاں تمہاری آنکھوں میں ایک اجنبی اداسی تھی یہ میرا پہلا تعارف تھا اُس لہجے سے جِس میں اجنبی دن بولا کرتے ہیں اور پاس سے […]
اور جب تم دیکھو ۔۔۔۔۔۔ (نصیر احمد ناصر)

اور جب تم دیکھو کہ رات معمول سےطویل ہو گئی ہے اور سورج طلوع ہونے کا نام نہیں لے رہا تو تم صبح کی واک ملتوی کر دینا اور پورچ کی گُل کی ہوئی بتیاں پھر سے روشن کر دینا اور جب تم دیکھو کہ ہوا ہموار راستوں پر چلنے سے گھبرانے لگی ہے اور […]
غلام گردشوں کے نگہبان ستارے (صدیق شاہد)

ہم !! غلام گردشوں کے نگہبان ستارے فرق نہیں کرتے کھلکھلاتے یا اداس گالوں میں اتر آتے ہیں بے ستون محرابوں تلے آسمان ڈھونڈتی آنکھ میں ریشمی جھالروں کی سلوٹوں سے یا کسی بھی روزن سے کوئی آئینہ شاہی نظام یا مسلح دربان حتیٰ کہ عظیم الشان لشکر بھی ہمیں روک نہیں پاتے تمہارے گال […]
پہلے کئی بار کہا گیا سوچا گیا خیال (عظمیٰ طور)

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب وقت کا پہیہ اچھی طرح سے گھوم کر ایک نئے چکر کے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے پھر سے گھمایا جاتا ہے کہ دنیا رک جانے کے لیے تو نہیں ہے ناں یہاں کوئی رک جائے اگر اسے کھڑے پانی کی مثالوں سے تم تشبیہ دیتے ہو میرا […]
پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں (صدیق شاہد)

پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں اپنے اپنے موسموں میں اپنے اپنے ملکوں میں سرحدوں پہ تعینات فوجیوں پر امام کی تقریریں بے اثر جاتی ہیں وطن سے محبت اور شہید کا رتبہ تمہارے خطوں سے افضل نہیں ہو سکتا تمہارے خط کچی مہندی اور کنواری رانوں کے مدھ بھرے سندیسے امیدوں بھری صبحوں کی […]
مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے ایک راستہ چاہیے جو پاؤں سے نہیں دل سے نکلتا ہو مجھ تک آنے کے لیے ایک دروازہ چاہیے جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے کھل سکتا ہو اور ایک کھڑکی جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو مجھ تک آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت […]
دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی دروازے کیا ہوتے ہیں؟ کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟ یا صرف اندر آنے کے لیے؟ دروازوں کا درست مصرف سمجھنے سے فلسفی قاصر رہے ہم تمام عمر ان کی حقیقت سے ناآشنا رہے ہمیں معلوم نہ ہو سکا اور دروازے ہمارے اندر سے خارج ہو گئے یا شاید اپنے […]
ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا ہمیں بھول جانا چاہیئے اس بوسے کو جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا اور نہیں نکلتا اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا […]
نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے میں نے کئی بار کھڑکی سے باہر جھانکا اداسی بہت دبیز تھی مگر میں جانتا ہوں کہ راستے ترتیب دیتے ہوئے آنکھیں ہمیشہ مصلحت کے غبار میں گم ہو جاتی […]
جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے مگر جھک نہیں سکتی ماں کی نظروں سے مجبور اٹھا کر نہیں کھائے گی آپ کے ہاتھوں سے گرے چپس کے ٹکڑے پیار کرتی ہے مگر جھک نہیں سکتی عزت سے مجبور آپ کے تقاضوں پر چھوڑ دے گی آپ کو ہمیشہ کے لیے اچھی بیوی ہے مگر جھک نہیں سکتی بچوں […]
اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

نہیں نہیں ابھی تو جنگ جاری ہے ساری فوج تمہاری ہے پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے میرے تالو کو زبان لگ جاتی ہے میرا حلق لنگڑاتا ہوا لفظ نکال لاتا ہے تم پر خدا کی عنایت ہے میں رجیم کا شہنشاہ ہوں تم ستم شاہ گناہ سے […]
ہنسی کی جھوٹن اور دیگر نظمیں (سدرہ سحر عمران)

ہنسی کی جھوٹن لوگ ہمارے دکھوں پر کپاس کے پھول رکھتے رکھتے قہقہے ڈال جاتے ہیں ہم ان قہقہوں کو اپنے جوتوں کی نوکیلی دیوار کے نیچے رکھ کر دبائیں تو نفرت کی نیلی نہر پھوٹ پڑے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کی گم شدہ پازیبیں ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں ایک دوسرے کو ہجر […]