Laaltain

تازہ ترین

تصنیف حیدر: آنکھ کھلی تو کال کوٹھری کے باہر ایک سپاہی سلاخوں پر ڈنڈا بجا کر اسے جگا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے مگر
19 فروری، 2017
عذرا عباس: ظلم کے منہ کو خون لگا ہے وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے یا باہر کیا گیا ہے
17 فروری، 2017
جمیل الرحمان: کمرے میں موجود خالی کرسی اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں جو دروازے
17 فروری، 2017
نصیر احمد ناصر: تجھے کن جہانوں میں جانے کی جلدی تھی جن کے لیے تُو نے خود کو مٹانے کی ٹھانی
17 فروری، 2017
علی زریون: آیتیں سچ ہیں مگر تُو نہیں سچّا مُلّا تیری تشریح غلط ہے، مِرا قُرآن نہیں دین کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے
17 فروری، 2017
ابرار احمد: اور اگر تم کہتے ہو ہمارے دکھوں کا علاج کہیں نہیں ہے تو ہم چپ رہ سکتے ہیں قبروں سے بھی زیادہ
17 فروری، 2017
ثروت زہرا: میں نے شاعری کو زِپ لگا کر الماری میں تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر
16 فروری، 2017
سدرہ سحر عمران: تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
16 فروری، 2017
حسین عابد: جتنی دعائیں اور کراہیں اس دھرتی سے اٹھتی ہیں اگر انہیں کاغذوں پر لکھ کر آسمان پر چپکا دیا جائے تو آسمان
16 فروری، 2017
ڈاکٹر عرفان شہزاد: یہ کون سی عقل مندی ہے کہ تبلیغی حضرات کو ایسے علاقوں اور ملکوں میں تبلیغ کرنے بھیج دیا جاتا ہے
عذرا عباس: ہمارے ہاتھ ایک بار پھر گھاس کاٹنے پر لگا دئیے گئے ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں ہمیں پھر جوتا جائے گا
15 فروری، 2017
نصیر احمد ناصر: اک عمر کا سارا قصہ ہے دکھ درد خوشی کا حصہ ہے
15 فروری، 2017