Laaltain

تازہ ترین

اردو ناول میں پہلی بار سکرپٹ رائٹنگ،سکرپٹ، سکرین پلے اور فلم كے دیگر لوازمات كو بطور تكنیك استعمال كیا گیا ہے
16 جون، 2020
ایک بوڑھی عورت پر کوئی یہ شک کرسکتا تھا کہ اس نے اس عمر میں اپنے پتی کا قتل کیا ہو گا؟
15 جون، 2020

لالٹین پر یہ تحریر یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کی جا رہی ہے۔ یاسر حبیب “عالمی ادب کے اردو تراجم” نامی معروف فیس بک

13 جون، 2020

اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیا جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے عشق نے

13 جون، 2020

رفاقت حیات کا یہ مضمون اس سے قبل “ہم سب” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ بعض رخصت ہونے والے، ہمارے وجود کا کچھ حصہ

13 جون، 2020
جس وقت میں میدان میں پہنچا، سینہ زنی ختم ہو چکی تھی۔ سب لوگ دائرہ بنائے خاموش بیٹھے تھے۔
13 جون، 2020
شاید میرے خیال کا قد، میرے وجود سے بڑھ گیا ہے ، اور میرا بالشتیا ہونا بہت ڈراؤنی بات ہے !
ہم سب نے مکمل باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا کہ کولھاپور سے کمپنی کا بوریا بستر اٹھا کر بمبئی کےپاس پُونا شہر میں پربھات فلم
8 جون، 2020
کہانی میں ترسیل کا نظام مختلف اکائیوں میں بٹا ہوتا ہے۔ جس کو صرف نظر کرنے سے کہانی کی غیر مادی فضا متاثر ہوتی ہے۔
8 جون، 2020

اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو تم عام سی لڑکی نہیں رہو گی میری سطریں سمندروں میں کود کر تمہارے ناف پیالے کے

8 جون، 2020
تمہیں کیسے بتاؤں کہ میں ایک بھولی ہوئی وادی کے گمنام شہر کا بچہ تھا
4 جون، 2020
آج جب وہ نہیں ہیں تو ان کا وجود مجھ میں سانس لینے کو تڑپ رہا ہے۔
4 جون، 2020