Laaltain

شاعری

گیت بنتا رہتا ہے

سوئپنل تیواری: انتظار سُر ہے اک مدّتوں جو اک لے میں خامشی سے بجتا ہے

شاعری

پھاگن چیتر کے آتے ہی

نصیر احمد ناصر: پھاگن چیتر کے آتے ہی بیلیں رنگ برنگے پھولوں سے بھر جاتی ہیں!!

شاعری

لاشوں کا احتجاج

صفیہ حیات: جنم لینے سے انکار سمے بچے نے ڈائری لکھی جس میں بم دھماکوں سے بہرے اور اندھے ھونے…

شاعری

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

عذرا عباس: وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے…

شاعری

میں نے ایک گھر بنایا ہے

ابرار احمد: پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے اس گھر میں رہتا تھا جسے میرے باپ نے تعمیر…

شاعری

سُنو، بلیک ہول جیسے آدمی!

نصیر احمد ناصر: سُنو، بلیک ہول جیسے آدمی! مجھے تم دُور لگتے ہو

شاعری

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا

علی زریون: اے بزرگ ستارے تم ہمیشہ روشن رہو گے کھوج کرنے والی پیشانیوں کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر…

شاعری

عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

ادریس بابر: وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں

شاعری

پلکوں پر افلاک

ثروت زہرا: پلکوں پر افلاک کا بھاری بوجھ اُٹھایا خوابوں کی سر سبز یری کو ہندسوں کا سُرتال سکھایا