نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)
کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو…
کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو…
ندیدی بچی ہے مگر جھک نہیں سکتی ماں کی نظروں سے مجبور اٹھا کر نہیں کھائے گی آپ کے ہاتھوں…
ہم زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ مر جاتے ہیں ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا باغیوں کے کسی گروہ…
مجھ سے ملئیے مجھے زندگی کی مزدوری پر لگا دیا گیا ہے میرا تعارف یہ ہے کہ اغواہ شدہ خوابوں…
وہ جب کتاب ہاتھ میں لیے “حسن کوزہ گر” پڑھتا تو اس کے لہجے میں اِک عجیب درد اتر آتا…
ہمارے دل ایک نہیں ہوتے مگر کمرے ایک ہوتے ہیں الماری میں الگ الگ طرز کے کپڑے ایک دوسرے سے…
نہیں نہیں ابھی تو جنگ جاری ہے ساری فوج تمہاری ہے پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے باقی ایک ٹانگ…
ہنسی کی جھوٹن لوگ ہمارے دکھوں پر کپاس کے پھول رکھتے رکھتے قہقہے ڈال جاتے ہیں ہم ان قہقہوں کو…
میں اس سے جب ملی تھی وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ بڑے سبھاؤ سے گزار…