Categories
فکشن

نعمت خانہ – انتیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پھر آسمان میں سفیدی کی ایک لکیر نظر آئی۔ سپیدہ سحرنمودار ہوا۔ روز کی طرح آم کے درخت پر چڑیاں آکر بیٹھ گئیں اورچہچہانے لگیں۔ مگر سنبل اپنے پنجرے میں خاموش، اپنی چونچ پروںمیں دبائے بیٹھا تھا۔

نہیں یاد آتا۔ زیادہ یاد نہیں آتا۔ میرے دماغ کے بائیں حصّے میں پھر درد ہونے لگا۔ اب اس عمر میں یادداشت پر اتنا زور ڈالنا اور یادوں کی جڑوں کو اُکھاڑ کر اُن کے ریشے ریشے گننا میرے لیے مشکل ہورہا ہے۔یہ اذیت ناک ہے، میرا وجود، میرا جسم، میرا ذہن، میری آنت اورمیری یادداشت میں کوئی فرق نہیں رہا۔
دھوپ چھت کی منڈیروں پر سے اُتر کر آنگن میں چلی آئی۔ مرُدے نہلانے والا ایک تختہ نل کی حوضیہ کے قریب زمین پر رکھ دیا گیا۔ میّت کو غسل دینے کی تیاریاں ہونے لگیں۔

مگر کیا مجھے یہ سب لکھنا چاہئیے؟ میں یوں کاغذ پر کاغذ کیوں سیاہ کرتا جارہا ہوں۔

اگر میں کوئی ناول لکھنے کے واقعی لائق ہوتا تو شاید اس کی کوئی اہمیت بھی ہوتی مگر آدمی کو کسی بھی جگہ کہیں بھی وہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئیے، جہاں وہ اپنی ذات کا اظہار کرسکتا ہے، چاہے وہ اسکول میں چھٹی کے لیے دی جانے والی درخواست ہو، مقدمے کی اپیل ہو یا سودا سلف لانے کی فہرست اور میری تو خیر ایک ذاتی تاریخ کٹ کر الگ ہوگئی۔ فاضل آنت کی طرح جس کے بغیر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے اور اُس آنت کو کبھی کبھی یاد بھی کر سکتا ہے جو اُس کے جسم سے نکال کر کوڑے دان میں پھینک دی گئی تھی۔

بچپن میں بڑے ماموں اکثر مجھے سرکس یا فلم یا نمائش دکھانے جاتے تھے۔
مگر اُس دن کی دوپہر میں کوئی سرکس یا فلم نہیں دیکھ رہا تھا۔ میں جو دیکھ رہا تھا اُس میں چلتے پھرتے لوگوں کے سائے تھے۔ میں باہری دالان کے مشرقی حصّے کے برآمدے میں ایک کھٹولے پر بیٹھاتھا۔
دوپہر ہو رہی تھی۔ ظہر کی اذان سے پہلے، وہاں نل کے پاس باورچی خانے کے بالکل سامنے اُنہیں غسل دیا جارہا تھا۔
ایک طویل غسل۔
اتنا طویل اور رسومیات سے بھرا ہوا غسل انھوں نے زندگی میں کبھی نہیں کیا ہو گا۔

میں دائیں طرف کی دیوار پر، اُس غسل کی پرچھائیاں ڈولتی اور کانپتی ہوئی دیکھا رہا تھا۔
یہ طہارت کی انتہا پر پہنچا ایک غسل کا سایہ تھا اور دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی ہوا اسے گھر کے گوشے گوشے میں بھٹکا رہی تھی۔
یہ غسل میری بھیگی ہوئی آنکھوں کے درمیان ٹھہرنہ پاتا تھا۔
دھوپ اپنا زاویہ، اپنی رنگت بدلنے لگی۔ آوازیں بلند ہونے لگیں، اگرچہ وہ کسی گہری کھائی میں سے آ رہی تھیں۔
اب سفید کفن تھا جس میں لپٹے ہوئے بڑے ماموں سو رہے تھے۔ لوگ آآکر میّت کے سرہانے کھڑے ہوکر اُن کا چہرہ دیکھنے لگے اور اپنی خطائیں معاف کرانے لگے۔

پھر جنازے کا پلنگ اُٹھایا گیا۔ کچھ عورتوں کے رونے کی آوازیں اُبھریں۔ دروازے تک ساتھ آئیں اُس کے بعد جنازہ اِن روتی ہوئی آوازوں سے بے رُخی کے ساتھ الگ ہوگیا۔

یہ بڑی سی پاگل خانے کی دیوار، سیاہ اور مہیب دیوار جس کی موریوں میں نیچے سرڈال کر پاگل باہر جھانکتے تھے اور اُس دیوارکے سامنے وہ لمبا چوڑا قبرستان۔
قبرستان کے اندر ایک مسجد، جہاں اُن کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور پھر خودرو گھاس پودوںکے درمیان، میں نے اپنے آپ کو اُن کی میّت کی پائینتی کھڑے پایا۔
اُن کو منوں مٹّی میں دفن کرکے، سب قبرستان سے باہر آئے۔
میں جیسے ہی گھر پہنچا وہاں کھانا لگا دیاگیا۔

کھانا ہمارے ایک دور کے رشتہ دار کے یہاں سے آیا تھا، میں اس کھانے کو تمام عمر نہیں بھول سکتا۔
ہلدی والا آلو گوشت اور موٹی موٹی، بڑی بڑی تندوری روٹیاں۔ سب نیچے فرش پر جہاں چاندنی بچھی ہوئی تھی، بیٹھ کر، تام چینی کے پیالوں میںسالن نکال نکال کر اور اُس میں تندوری روٹیوں کے نوالے خوب بھگو بھگو کر کھانا کھانے لگے۔

کھانا بہت لذیذ تھا، اور میں نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ اگرچہ اُس کھانے کو اتنا پیٹ بھر بھر کر کھانے پر مجھے آج بھی حیرت ہے اور شرمندگی بھی۔ مجھے تو یہ بھی یاد آتا ہے کہ قبرستان سے واپس آکر شاید میں نے ٹھیک سے ہاتھ بھی نہیں دھوئے تھے، اور میرے ہاتھوں میں، بڑے ماموں کی قبر کی مٹّی لگی تھی۔ جب میں نے آلو گوشت کے ہلدی والے شوربے سے سنی ہوئی اپنی اُنگلیوں کو زبان سے چاٹا تو قبرستان کی مٹّی کی کرکراہٹ میرے منھ میں اُتر گئی۔

مگر المیہ یہ ہے کہ جن باتوں سے انسان کو شرمندگی ہوتی ہے، وہی باتیں اصل ہوتی ہیں۔ باقی سب مصنوعی اور بناوٹی۔
رات میں، ٹھیک اُس مقام پر جہاں آنگن میں اُنہیں غسل دیا گیا تھا، ایک چراغ جلاکر رکھ دیاگیا۔
یہ چراغ بڑے ماموں کے چالیسویں تک روز، رات کو روشن رکھنا تھا۔ شاید اس لیے کہ چالیس دن تک اُن کی روح گھر میں، خاص طور پر اس مقام پر جہاں اُن کے جسم کو غسل دیا گیا تھا۔ آتی رہے گی۔ لحد پر جلتا ہوا یہ چراغ۔ ہوا سے کہیں بجھ نہ جائے!

اب بس ایک آخری منظر رہ گیا ہے۔ حافظے کی جھلّی پر بالکل چپٹا ہوا، اُسے بھی ناخن سے نوچتا ہوں اور یہاں سامنے لاکر ڈال دیتا ہوں۔
سوئم کے روز باورچی خانہ انواع و اقسام کے کھانوں کی خوشبوؤں سے مہک اُٹھا۔ باورچی خانے میں ایسی چہل پہل تھی کہ میں نے انجم باجی کی شادی میں بھی نہ دیکھی تھی۔ تمام دن صبح سے ہی شور مچا رہا۔ برتن کھڑکھڑاتے رہے اور عورتیں آپس میں خوب باتیں کرتی رہیں۔ ایک آدھ عورت درمیان میں چپکے سے ہنس بھی دیتی تھی۔

اب وہاں، کسی کی آنکھ میںکوئی آنسو نہ تھا۔ کھانا پکاتے وقت سارے غم، سارے صدمے بھاپ کی طرح اُڑ کر غائب ہوجاتے ہیں۔
عصر اور مغرب کے درمیان فاتحہ کی تیاری شروع ہوگئی۔ باہر والے دالان کے فرش پر چاندنی بچھا کر، اُس پر طرح طرح کے کھانے لگا دیے گئے۔ ایک اگربتّی بھی سلگا دی گئی۔

لوگ اکٹھا ہوئے، ایک مولانا صاحب سب سے آگے، کھانے کے بالکل سامنے آکر دوزانو بیٹھ گئے اور کچھ سورتیں پڑھنا شروع کر دیں۔
میں ٹوپی اوڑھے، داسے سے لگا کھڑا تھا اور کھانوں کو دیکھ رہا تھا۔

بڑی بڑی تام چینی کی رکابیاں، ڈونگے، سینیاں اور تسلے۔ جن میں پلاؤ، قورمہ، شامی کباب، قیمہ، دہی بڑے اور پھلکیاں قطار سے رکھے تھے۔ اس کے علاوہ تندوری روٹیاں، چپاتیاں، پراٹھے اور پوریاں بھی تھیں۔ میٹھے میں حلوہ، کھیر اور شاہی ٹکڑے۔ میری نظر میٹھے پر جم کررہ گئی، مجھے لگا بڑے ماموں نے میرے کان میں کہا تھا۔

’’رات کو جب واپس آنا تو چار آنے کی کوئی میٹھی چیز بدوّاں حلوائی کے یہاں سے لیتے آنا۔‘‘
میری نظر میٹھے سے پھسلی تو دیکھا کہ ایک تھالی میں پان بھی بنا رکھا ہے۔ اور ایک پیالی میں چائے بھی رکھی ہے۔ طرح طرح کے پھل، کیلے، سیب اور امرود وغیرہ کاٹ کر رکھے گئے تھے۔ ان کھانوں کے برابر میں ایک نیا کرتہ پاجامہ مع بنیان کے سلیقے سے رکھا تھا۔

مولانا صاحب نے فاتحہ پڑھ کر پوچھا۔
’’کے کلام پاک ختم ہوئے؟‘‘
چھوٹے ماموں نے اِدھر اُدھر دیکھا پھر جواب دیا۔
’’دو۔‘‘
مولانا صاحب نے دو کلام پاک پڑھنے کے ثواب اور بخشے جانے کی دُعا کی۔ پھر اُس سارے کھانے کے ثواب کے لیے بھی دُعا کی۔ وہ دیر تک دُعا کے لیے اپنے ہاتھ اوپر اُٹھائے رہے۔

کھانوں، میٹھی چیزوں اور پھلوں پر مکھّیاں آرہی تھیں۔ چھوٹے ماموں باربار ایک پنکھا ہلاکر مکھّیاں اُڑاتے۔
اب جلدی جلدی خوراکیں نکالنے کا مرحلہ انجام دیاگیا۔ شاید سات یا گیارہ خوراکیں تھیں جو مسکینوں اور فقیروں میں تقسیم کرنی تھیں۔
مغرب کا وقت قریب آرہاتھا۔ اندھیرا سا ہونے لگا۔

’’بڑے ماموں بھی آج اپنی قبر میں، اپنی پہلی فاتحہ کے کھانے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ میں نے تاسّف کے ساتھ سوچا۔
اُس رات تمام رشتے داروں اور محلے والوںنے مل کر فاتحہ کے لیے پکایا گیا کھانا کھایا، گھر میں رونق رہی، اور اتنی باتیں ہوئیں کہ میرا دل گھبرا گیا۔ پتہ نہیں کیوں لوگ اُس دن اتنا بول رہے تھے؟
مگر دیر رات، جب سب مہمان رخصت ہوگئے تو پورے گھر میں ایک دل ہلا دینے والا سنّاٹا پھیل گیا۔ لحد پر جلتے ہوئے چراغ کی روشنی میں، میں نے تو اس سنّاٹے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا!
فاتحہ کا یہ سلسلہ سات جمعراتوں تک چلتا تھا اور پھر چالیسواں بھی تھا۔
اگرچہ میں نے صرف تین جمعراتیں دیکھیں۔
مگر میں نے اب موت دیکھ لی تھی، اور اُس کا مکمّل حلیہ بھی۔

میں پورے ایمان و ایقان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ قتل اور موت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دونوں کے حلیے الگ، دونوں کے چہرے الگ اور دونوں کے لباس الگ۔

میں آج بھی اپنے اِس خیال پر قائم ہوں۔
میرا، بارہویں کلاس کا نتیجہ آگیا تھا اور میں نے پورے شمالی صوبے میں اوّل پوزیشن حاصل کی تھی۔ اخبار میں میرا فوٹو بھی شائع ہوا تھا۔
چھوٹے ماموں تعلیم کے سلسلے میں بہت سنجیدہ تھے۔ اس چھوٹے سے قصبہ نما شہر میں کوئی ڈھنگ کا ڈگری کالج نہ تھا۔ اُنہوں نے کسی سے کوئی مشورہ کیا نہ میری مرضی جاننے کی کوشش کی۔ بس ایک دن ایک فارم بھر کر مجھ سے دستخط کرائے اور پھر کہا، ’’گڈّو میاں! تمھیں تین دن بعد بڑے شہر جانا ہے، تمھارا داخلہ وہاں کے سب سے بڑے کالج میں ہوگیا ہے۔ بس اپنا سامان باندھنا شروع کر دو۔‘‘
’’ارے بچّہ چالیسویں تک تو رُک جاتا۔‘‘ ممانی نے اعتراض کیا۔

’’نہیں، مجبوری ہے۔ داخلے کی تاریخ نکل جائے گی۔‘‘ چھوٹے ماموں نے فیصلہ کن لہجے میں جواب دیا۔

بڑے شہر کے لیے رات کے دو بجے ٹرین روزانہ ہوتی تھی۔
اُس رات، ایک بجے کے قریب مقصود خاں اپنا تانگہ لے کر آگئے۔ تقریباً پورا محلہ مجھے رخصت کرنے آیا۔
جب تانگے پر سامان رکھ دیا گیا تو گھر کے ہر فرد نے مجھے گلے سے لگایا، سب کی آنکھیں آبدیدہ تھیں۔

میرا کن کٹا خرگوش، میرے پاؤں پر اپنے پنجے رگڑ رہا تھا، اس کی لال لال آنکھیں مجھے اندھیرے میں بھی چمکتی ہوئی نظر آئیں۔ شاید وہ رو رہا تھا۔ اچانک مجھے کچھ یاد آگیا۔ میں گھر کے اندر تیزی سے دوڑا اور طوطے کے پنجرے کے قریب جاکر کھڑا ہوگیا۔ طوطے نے مجھے ناراض آنکھوں سے دیکھا اور اپنی چونچ پروں میں دبالی۔

میں جب خاموشی سے واپس پلٹنے لگا۔ تو میں نے دیکھا کہ لحد پر جلتا چراغ اچانک بجھ گیا ہے اور آنگن بے حدتاریک اور ویران ہو گیا ہے۔
میں نے چیخ کر کہا۔
’’چراغ بجھ گیا ہے۔‘‘
ممانی اور ریحانہ پھوپھی بھاگی بھاگی آئیں اور ماچس کی تیلی رگڑ کر دوبارہ چراغ روشن کر دیا۔
لحد پر جلتے اس چراغ کی روشنی میں، باورچی خانہ کا بند، بوسیدہ دروازہ ایک نامعلوم سائے کی طرح نظر آیا، جس کے آگے نل کا ہتھّا جھکا کھڑا تھا۔ میں جب ماموں کے ساتھ، تانگے پر بیٹھ گیا تو مجھے دھوکہ ہوا جیسے گھر کے اندر، پنجرے میں سے سنبل نے کہا تھا۔
’’گڈّو میاں گئے، گڈّو میاں گئے۔‘‘

اسٹیشن پہنچ کر چھوٹے ماموں نے مجھے ریل میںبٹھا دیا۔ اور خود کھڑکی کے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔ اسٹیشن پر ہوا بہت تیز تھی، اُن کی شیروانی، اس ہوا میں باربار پھڑپھڑاتی تھی۔ جب ٹرین نے چلنے کی سیٹی دی تو وہ اچانک رو پڑے، ’’خوب محنت سے پڑھنا، ایسے ہی خاندان کا نام روشن کرنا۔‘‘ وہ رینگتی ہوئی ٹرین کے ساتھ پلیٹ فارم پر بھاگنے لگے۔ ’’گڈّو میاں!محنت سے پڑھنا، خط لکھنا۔ تم ہی اب خاندان کے چشم و چراغ ہو۔‘‘ اُن کی آواز اور اُن کا جسم دونوں تھوڑی دیر تک ٹرین کے ساتھ ساتھ دوڑے پھر، ٹرین کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ اور اندھیرے میں گم ہو گئے۔ برابر والی لائن پر کسی مال گاڑی کا ڈبّہ لڑھکا پڑا تھا جو مُجھے مردہ ہاتھی کی مانند نظر آیا۔ تو میں ہی اب خاندان کا چراغ تھا! چالیسویں تک لحد پر چراغ جلے گا۔اور دسمبر کی ہواؤں سے اپنا رشتہ بنائے رکھے گا۔ یہ ہوائیں بڑے شہر میں بھی ہوں گی۔ میں نے سوچا اور یہ بھی کہ اچانک میرے گھرسے رخصت ہوتے وقت چراغ گل کیوں ہوا تھا؟ کیا بڑے ماموں کی روح، مجھے رخصت کرنے آئی تھی؟ ٹرین اب اندھیرے جنگلوں میں کہیں دوڑ رہی تھی۔ کھڑکی سے تیز سرد ہوا اندر آرہی تھی۔ میں نے کھڑکی کا شیشہ چڑھا لیا۔ اب اندر باہر ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اندھیرے میں ریل کے دھچکے لوری سناسناکر مجھے جھولا جھلانے لگے۔ پتہ نہیں کب، میں یونہی بیٹھے بیٹھے گہری نیند سو گیا۔

Categories
فکشن

ایک اور مکان (رفاقت حیات)

نیند کی چڑیا کا چپ چاپ اڑ جانا اس کے لیے کم اذیت ناک نہ تھا۔ لیکن یہ روز نہیں ہو تا تھا۔ کیونکہ وہ چڑیا کو تو کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پکڑ سکتا تھا۔ مثلاً بس میں سفر کر تے ہو ئے یا گھر میں اخبار پڑھتے ہو ئے۔ بس ذرا آنکھ میچنے کی دیر تھی۔ لیکن اب جسم کے اعضاء کی خستگی کے سبب وہ اس کی پکڑ سے نکلنے لگی تھی۔ وہ خود کو سمجھا تا رہتا تھا کہ اس کی وجہ شام کے سائے کی طرح ڈھلتی ہوئی عمر نہیں ہے۔ جیسا کہ اس کی بیوی اور بچوں کا خیال تھا۔ بلکہ وہ منتشر الخیالی ہے، کسی بھی فرد سے، جس کا اظہارنا ممکن تھا۔ ہلکی پھلکی ٹرنکو لائزر کا ستعمال بھی کارگر نہ ہو سکا تھا۔ ہائی پوٹینسی کی گولیاں لینے سے وہ کترا تا تھا کہ کہیں عادی نہ ہو جائے۔

آج پھر ایسا ہو اتھا۔ لیکن آج ٹوٹتی ہوئی نیند کے ساتھ ٹوٹے پھوٹے خوابوں کا سلسلہ بھی تھا، وہ جسے ایک ہی خواب کا تسلسل سمجھنے لگتا تھا۔ اس گورکھ دھندے میں اسے بہت کچھ دکھائی دیا تھا۔ مسخ شدہ چہرے، جو آشنا لگتے تھے۔ مبہم اور نامانو س لہجے، جن میں اپنا ئیت محسوس ہو تی تھی، بے نام گلیاں، ویران بازار، شکستہ عمارتیں اور گم صم لوگ، سارے خواب ریت پر لکیروں کی طرح تھے، جو ہوش مندی کی ایک لہر کو بھی سہار نہیں سکے تھے۔

وہ رشک بھری نظروں سے برابر والی کھاٹ کو دیکھنے لگتا تھا۔ جس پر دھیمی سانسوں کی تان میں کھوئی، اس کی بیوی سورہی تھی پہلے ایسے موقعوں پروہ معمولی حسد کے زیرِ اثر کھاٹ سے اتر جاتا تھا اور اندھیرے میں سلیپر ڈھونٹتے ہو ئے پاؤں کسی چیز سے ٹکرا دیتا تھا، خفیف سے شور سے بھی اس کی بیوی جاگ اٹھتی تھی اور جاگتے ہی صبح سے شام تک کے کاموں کی فہرست سنانا شروع کر دیتی تھی۔ یا کسی خواب کے ٹوٹنے پر افسوس کر نے لگتی تھی اور صبح کو اپنی نیند کی غارت گری کی داستان کئی مرتبہ دوہراتی تھی۔ نادانستہ ہو نے والی غلطی کو وہ کئی بار دُہرا چکا تھا۔

اس طرح تنہائی بھی مٹ جاتی تھی اور ایک لمحاتی تسکین بھی ملتی تھی۔ وہ ایسی غلطیوں کو دوہرا نے سے باز نہ رہتا مگر تکرار سے اکتا گیا تھا۔
غسل خانے کے فرش پر پانی گر نے کی آواز سن کر وہ چونکا تو، مگر آنکھ نہیں کھولی۔ اس کی بوجھل سماعت نے اس آواز کو برسات کی ٹپ ٹپ سے ملا دیا۔ اس کی ہڈیوں میں ٹھنڈکی لہر دوڑ گئی۔ اس نے کھیس کو سر پر تان لیا اور خوامخواہ مسکرانے لگا۔ شاید تخیل کے بوسیدہ اڑن کھٹو لے پر وہ سر مئی بادلوں کے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ہلکی ہلکی بونداباندی لطف دے رہی تھی۔

دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سے وہ بڑبڑا گیا۔اس نے کھیس اتار کر دیکھا تو اس کی بیوی کپڑے درست کر تی غسل خانے سے نکل رہی تھی۔ وہ غلط فہمی پر مسکرا یا لیکن بولا کچھ نہیں۔ کھڑکی کی طرف منہ کیے لیٹا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ اب اس کی بیوی نماز پڑھے گی۔شاید وہ یہ بھی سوچ رہی ہو کہ میں اٹھ کر اس کے لیے چائے بنا لاؤں گا۔وہ خود کو ملامت کر نے لگا کہ میں نے اس کی عادتیں خراب کر دی ہیں ورنہ برسوں تک یہ خیال اسے خواب میں بھی نہ سوجھا ہو گا۔کچھ بھی ہوجائے چائے وہی بنائے گی۔ اس نے آخر ی فیصلہ سنایا۔ لیکن وہ خائف بھی تھا کہ نماز پڑھنے کے بعد اگر وہ کمر سیدھی کر نے کے لیے جاء نماز پر لیٹ گئی اور چائے بنانے کی فرمائش کر ڈالی تو کیا ہو گا۔ اس نے خود کو سمجھا یا کہ اسے میرے جاگنے کا پتہ نہیں چلا اسی لیے مجھ پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی۔

جاء نماز سمیٹنے کی آواز سن کر اس نے سکون کا سانس بھرا،باورچی خانے میں برتنوں کا شور سن کر وہ سمجھ گیا کہ اس کی بیوی کو اس کے جاگنے کی خبر ہو گئی ہے۔ وہ کروٹ لے کر سیدھالیٹ گیا۔بستر چھوڑنے سے پہلے وہ چند لمبے سانس لینا چاہتا تھا۔ اس نے جسم کو سانسوں کے فطری بہاؤ پر چھوڑ دیا۔

وہ جانتا تھا کہ آج کا دن گھر پرگزارنا ہے۔ وہ چاہے تو دیر تک آرام کر سکتا ہے۔ لیکن وہ کل رات والی بات نہیں بھولا تھا۔ جب آرام کے دن کا اعلان کر تے ہی منجھلا بیٹا عارف اسے گھورنے لگا تھا۔ اس کی ضعیف سماعت نے چھوٹے بیٹے کی بڑبڑاہٹ بھی سن لی تھی۔

جبکہ بڑے والے کی لاتعلقی پر وہ مسرور ہوا تھا۔ مگر اب وہ سوچ رہا تھا کہ ناصر کو اس کی حمایت میں کچھ تو کہنا چاہئے تھا،ہفتے میں دو دن کی چھٹی اس کی عمر کا تقاضہ ہے، یوں بھی کاروبار چل نکلا ہے، وہ بچے تو نہیں ہیں۔ اگلے ہی لمحے وہ ایک شدید احساس کے زیر اثر سوچنے لگا کہ میں ان بدبختو ں کا باپ ہوں، اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتا ہوں، آئندہ جب جی میں آئے گا چھٹی کر لوں گا۔

وہ اپنے خون میں اس فیصلے کی حرارت کو محسوس کر رہا تھا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ جب اس کے بیٹے نیند سے اٹھیں تو وہ بستر پر لیٹا ہو ا نظر آئے۔
وہ غسل خانے سے نکل کر برآمدے میں گھر کے اکلوتے واش بیسن تک گیا۔ اپنی بیوی کی طرح وہ غسل خانے کے نل سے ہاتھ منہ نہیں دھوتا تھا جب وہ اچھی طرح منہ دھو چکا تو اس نے دیکھا کہ واش بیسن جھاگ آلود پانی سے بھرگیا ہے۔ وہ گھر کے افراد کو کوسنے لگا۔ اسی لمحے باورچی خانے سے بھی ایک بڑ بڑاہٹ سنائی دی اس نے جھاڑو کے تنکوں کی مدد سے سوراخوں کو صاف کیا پھر ہاتھ دھوتے ہو ئے شیشے میں چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔ جو تھوڑی سی جھر یو ں کے علاوہ بڑھاپے کی ظاہری کی علامتوں سے پاک تھا۔ وہ نیم سفید بالوں کو دیکھتے ہو ئے سوچنے لگا کہ کالا کولا استعمال کیے تین دن گزر گئے۔

وہ کھاٹ پر تکیوں سے ٹیک لگائے دیوار پر بنے نقوش کو گھوررہا تھا کہ اس کی بیوی ایک ہاتھ میں کپ اور دوسرے میں چائے سے بھرا مٹی کا کٹورا تھامے داخل ہو ئی۔ کپ لیتے ہی وہ حریصانہ چسکیاں بھر نے لگا۔ جبکہ اس کی بیوی پائیتی بیٹھ کر سکون سے چائے پینے لگی۔ کمرے کی خاموشی پر چائے پینے کی آوازیں جر ح کر نے لگیں۔

وہ پہلی بار اپنی بیوی پر نگاہ ڈالتے ہو ئے بولا’’تم مٹی کے کٹورے میں کیوں چائے پیتی ہو، گھر میں پیالیاں کس لیے ہیں‘‘۔
وہ ایک سڑکی لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’چائے جلدی ٹھنڈی ہو جاتی ہے پھر باپ دادا کے علاقے سے تعلق بھی جڑ ارہتا ہے‘‘۔
ان کے خاموش ہو تے ہی سڑکی بھر نے کی آوازیں مکالمہ کر نے لگیں۔
’’آج نیند نہیں آئی، جسم میں درد ہے، اور آنکھیں بھی جل رہی ہیں‘‘۔
’’اچھا ہوا تم نے میری نیند خراب نہیں کی‘‘وہ معصومیت سے بولی۔
اس نے کپ کو فرش پر رکھ دیا، پھر تکیے کے نیچے سگریٹ کے پیکٹ کو ٹٹولتے ہو ئے کہنے لگا ’’ایک ہی بار پیشاب کے لیے کھاٹ سے اتر اتھا پھر کروٹیں ہی بدلتا رہا‘‘۔
’’رات پیشاب نے مجھے نہیں جگایا ورنہ روز دو ایک بار نیند خراب ہوتی ہے ‘‘۔ وہ مسکراتے ہو ئے بولی۔
اس نے دن کا پہلا سگریٹ سلگایا۔ کش لگا تے ہی کھانسنے لگا۔ بلغم کا لچھا فرش پر اچھا لتے ہو ئے اس نے شور کو سنبھالا پھر کھنکار کر گلہ صاف کیا تاکہ با آسانی گفتگو کر سکے۔
اس کی بیوی نے ناک پر دوپٹہ رکھتے ہو ئے برا سامنہ بنایا ’’روز فنائل کے پانی سے رگڑ کر پوچا لگا تی ہوں۔ پھر بھی کمرے سے کبھی بو نہیں جاتی فرش سے داغ بھی نہیں اترتے‘‘۔
وہ سگریٹ پینے میں اتنا منہمک تھا کہ جیسے یہ باتیں کسی اور سے کی جا رہی ہوں۔

وہ دھوتی سے منہ صاف کر تے ہو ئے بولا۔ ’’رات بہت خواب دیکھے۔ نامکمل، ٹوٹوں کی شکل میں، ابھی تک آنکھوں میں چھبن ہو رہی ہے۔ ایک یاد ہے، باقی بھول گیا۔بہت ڈرا ؤ نا خواب تھا، میں سمجھا کہ سچ مچ ایسا ہو گیا ‘‘وہ خواب کی جزئیا ت کو ذہن میں لانے کے لیے خاموش ہو گیا۔
’’تم تو کہتے تھے کہ خوابوں کی حقیقت نہیں ہو تی۔‘‘وہ اس کی بات دوہراتے ہو ئے بولی۔

وہ اسے سمجھا نے لگا کہ ضروری نہیں۔ اس خواب کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق ہو۔ یہ لاشعور کی کارفرمائی بھی ہو سکتی ہے۔ جو دن بھر کے واقعات کو جادوئی شکل دے کر شعور میں بھیج دیتا ہے۔ خواب کی ماہیت سمجھاتے ہو ئے اس نے محسوس کیا کہ وہ یہ باتیں نہیں سمجھ سکتی اور وہ اپنا خواب سنانے لگا۔ ’’ایک تنگ سی گلی تھی۔ مکان پرانے اور آگے کو جھکے ہو ئے تھے۔ شاید رات کا وقت تھا، نہیں شام تھی۔ ہا ں، آسمان بادلوں سے ڈھکا ہو اتھا اور بارش ہو رہی تھی، ایک قدیم طرز کے مکان کے آگے سامان بکھرا تھا۔ بڑے بڑے صندوق، پیٹیاں، الماریاں اور کر سیاں وغیرہ۔اس کے نزدیک ہی کچھ آدمی کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ ان کی زبان سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ان کے لہجوں اور شکلوں سے نحوست ٹپکتی تھی۔ جیسے شیطان کے بیٹے ہوں‘‘۔

ایک لحظے کے لیے وہ سوچ میں پڑ گیا، بڑبڑانے لگا۔’’میں بھی تو تھا۔ میں کہا ں تھا، ہاں، گلی میں ایک گدھا گاڑی کھڑی تھی،میں اس پر سامان لاد رہا تھا۔ اسی لیے میری کمر میں درد ہو رہا ہے۔ شاید بر سات کا پانی، نہیں، پسینا پو رے جسم سے ٹپک رہا تھا۔ اچانک ایک عورت کے بین فضا میں گونجنے لگے۔ بہت غمناک آواز تھی وہ، میں نے شک بھری نظروں سے آدمیوں کی طرف دیکھا، وہ غائب ہو چکے تھے۔ میں خوف زدہ ہو کر گلی کے آخرتک دوڑ تا چلا گیا۔ پھر لوٹ کر آیا اور مکان میں گھس گیا۔ وہ مکان کسی اور کا تھا، اندر گھپ اندھیرا تھا اور چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں باہر نکل آیا۔مجھے سامان کسی جگہ پہچانے کی جلدی تھی اور سامان بہت زیادہ تھا۔ میں نے ایک صندوق اٹھایا بہ مشکل گدھا گاڑی پر رکھا کہ عورت کی سسکیاں دو بارہ سنائی دیں۔ وہ تمہاری آواز تھی، میں سہم کر مکان کی طرف دیکھنے لگا۔ اس وقت مجھے محسوس ہو اکہ گلی انسانی آوازوں سے بھر گئی ہے۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مکانوں کی چھتیں اور بالکونیاں مردوزن سے بھری ہو ئی تھیں۔ میں دوڑ کر مکان میں گھسا۔ ایک عورت سیڑھیوں پر بیٹھی رورہی تھی، میں نے اس کی طرف قدم بڑھا یا کہ مکان کی چھت اور دیواریں گر گئیں، مجھے لگا کہ میں۔۔۔۔۔‘‘

اس کی بیوی عدم دل چسپی سے خواب سنتی رہی تھی، وہ جمائی لیتے ہو ئے بولی۔ ’’یہ کیسا خواب تھا، اس کا تو سر پیر ہی نہیں۔ میرے خواب تو ایسے نہیں ہوتے ‘‘۔ وہ اپنے پرانے خواب سنا نے لگی۔جن میں اس کی روح اپنے پرکھوں سے ملاقاتیں کر چکی تھی، وہ اکثر شوہر کو اس کے مرحوم فوجی باپ کے پیغام سناتی رہتی تھی۔ جب وہ اٹھ کر جانے لگی تو وہ بولا۔’’آج کوئی کام نہیں کروں گا مجھے آرام کی ضرورت ہے‘‘۔
اس نے بے ساختہ ہنستے ہو ئے کہا۔ ’’تم نے کبھی میرا کوئی کام نہیں کیا۔ ہاں مسز خورشید سے ملنے تو جانا ہی پڑے گا‘‘۔
مسلسل تیسر ا سگریٹ سلگاتے ہوئے اسے اخبار کی طلب محسوس ہو ئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب وہ اخبار خرید کر لوٹا تو کھلی ہوئی کھڑکیوں سے کمروں میں جھانکنے لگا، جہاں اس کے بیٹے سو رہے تھے۔ اخبار پڑھتے ہوئے وہ گھرکے دوسرے حصے میں گونجنے والی آوازوں کی ٹوہ میں لگا ہوا تھا۔ کسی کمرے کا دروازہ کھلنے اور پھر واش بیسن پر پانی بہنے کی آواز یں سن کر وہ پہلو بدلنے لگا۔ اب تک پیٹ کی گیسوں کا اخراج فطری طریقے سے ہو رہا تھا۔ لیکن اب اخبار پڑھتے ہوئے جھک کر کچھ زور لگا نے کے بعد مشکل آسان ہو پائی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ جان گیا تھا کہ دوبیٹے نہادھو کر تیار ہو چکے ہیں۔ جب کہ بڑا لڑکا ابھی چائے پی رہا ہو گا۔باہر نکلنے سے پہلے وہ کمرے میں ٹہلتا رہا۔ تین چار بیٹھکیں بھی نکالیں۔ جس سے ہڈیاں چٹخنے لگیں۔ پھر وہ پیالی تھامے باورچی خانے کی طرف گیا۔ بیٹوں نے صبح کا سلام کیا۔ باورچی خانے میں اس کی بیوی بگڑنے لگی’’جب تک چائے کا دیگڑاختم نہ ہو جائے تمہیں چین نہیں آتا‘‘۔

وہ خوشامد کرتے ہوئے مسکرایا۔’’پرانی عادت جو ہے‘‘۔وہ جانتا تھا کہ بیٹوں کی موجودگی میں وہ اس کا مذاق اڑانے سے نہیں چوکتی۔ چائے کی تیسری پیالی کا آخری گھونٹ بھر نے کے بعد وہ اخبار کو بیٹوں کے پاس لے گیا۔ اخبار کے صفحات آپس میں تقسیم کر کے وہ مطالعہ کر نے لگے۔ وہ گفتگو کے لیے کوئی موضوع ڈھونڈرہا تھا۔

اتنے میں عار ف بڑبڑایا۔ ’’نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ‘‘۔
’’ہاں دیکھو، کس جماعت کی حکومت بنتی ہے۔‘‘اس نے موقع کا درست استعمال کیا۔
چھوٹے بیٹے نے رائے زنی کی۔’’حکومت جس کی بھی ہو، نظام نہیں بدلے گا‘‘۔
’’تھوڑی بہت تبدیلی تو آئے گی۔‘‘

عارف نے قہقہہ لگا تے ہو ئے کہا۔’’ہاں لوٹ مار کے طریقے ضرور بدل جائیں گے‘‘۔
بڑا بیٹا ناصر پہلی بار گو یا ہوا۔’’آپ ہر مرتبہ امید یں باندھ لیتے ہیں۔ جب کہ آپ کے پاس ساٹھ سال کا تجر بہ ہے‘‘۔
’’اس لیے کہ مایوسی کفر ہے‘‘۔
جاتے ہو ئے تینوں نے اسے تاکید کی کہ مسز خورشید کے پاس ضرور جائے اور ان سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرے۔کچھ دیر کمرے کی تنہائی میں آہیں بھر نے کے بعد وہ سو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید سونے کی خواہش میں کروٹیں لے کر وہ جاگ اٹھا۔ کمرے کی تاریکی سے اس نے وقت کا اندازہ لگا نے کی کوشش کی۔ جب اس نے بتی جلا کر وقت کو چپ چاپ دھکیلتے گھڑیال پر نگا ہ ڈالی تو بڑبڑایا ’’ اوہ چار بج گئے‘‘۔

آئینے کے سامنے سر کے بچے کچھے بال سنوار تے ہو ئے اسے دو بار ہ کالا کو لا یاد آگیا۔ اب وقت گزر چکا تھا۔ رنگائی کا یہ کام اسے اگلی فرصت تک ملتوی کرنا پڑا۔ لیکن یہ بھی اس کے ذہن میں تھا کہ بالوں کی حقیقی رنگت کی رونمائی مسز خورشید والے معاملے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
لیکن افسوس کر نے کی گھڑیاں بیت گئی تھیں اور ملاقات کو ٹالنا بھی ممکن نہ تھا۔

چند روز پہلے وہ ناٹے قد کی بد طینت خاتون اپنے دو ٹوک فیصلے سے آگاہ کر گئی تھی، وہ کچھ مہینوں سے اس کے بارے میں کئی اشارے دے چکی تھی۔ انہوں نے پرانی عادت جان کر جنہیں کوئی اہمیت نہ دی تھی۔ وہ اپنے بیٹوں سے بہت خفا تھا کہ چھوٹی موٹی گتھیوں کو خود کیوں نہیں سلجھا تے۔
کپڑے بدل کر وہ بر آمدے میں آیا تو اس کی بیوی جاء نماز سمیٹ رہی تھی۔ ’’آپ کا آرام کا دن ختم ہو گیا یا نہیں۔ دودھ ختم ہو گیا ہے اور مسز خورشید کے ہاں بھی جانا ہے۔‘‘اس کی بیوی نے دل کی بھڑاس دو تین جملوں میں ہی نکال لی تھی۔

گر چہ وہ گھر کے سونے پن کی عادی ہو گئی تھی۔ لیکن آج اس کی موجودگی میں بھی اسے یہ صعوبت سہنا پڑی تھی۔ وہ اپنی مصروفیت کے دوران بار بار کمرے میں جھانکتی رہی تھی۔ ہر مرتبہ وہ گہری نیند میں ڈوبا نظر آیا تھا۔ وہ باتیں کر نے کی تمنا ئی تھی۔ گھر کی صفائی کے بعد اس کا غصہ بے قابو ہو نے لگا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ جھاڑو کے ساتھ اس نکمے پر پل پڑے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس خیال کی بیہودگی پر خود کو کو سنے لگی تھی۔ اس نے جن کاموں کی فہرست بنائی تھی، کچھ ادھورے رہ گئے تھے۔ آج گھر کی خاموش چیزوں کے درمیان اپنے جبڑوں کی آوازیں سنتے ہو ئے اس نے دو پہر کا کھانا کھا یا تھا۔

دودھ کے لیے پیسے مانگتے ہو ئے اس نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا تھا، رو پے گنتے ہو ئے اس نے سگریٹ کے لیے بھی رقم کا تقاضہ کیا تھا، جو معمولی سی حجت کے بعد دے دی گئی تھی۔
شام کی چائے کی لذت کے ساتھ دو پر لطف سگریٹ کھینچنے کے بعد وہ خود کو مسز خورشید کے پاس جانے پر آمادہ کر سکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسز خورشید نے ٹیڑھی بھینگی آنکھیں مچکاتے ہوئے کینہ توز مسکراہٹ سے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے ڈرائنگ روم کی اشیاء پر نگاہ دوڑائی تو کسی تبدیلی کو محسوس کرنے لگا۔

صوفے پر بیٹھے ہو ئے خوش دلی سے بولا۔’’کمرے میں کوئی چیز بدلی ہو ئی ہے‘‘۔مسز خورشیداٹھلا تے ہو ئے بولی۔’’ہاں پرانا صوفہ بیچ دیا ہے۔ ‘‘
’’میں جب بھی آتا ہوں، کوئی نہ کوئی شے بدل جا تی ہے۔مصروفیت کا بہا نہ تو چاہیے نا‘‘۔ اس کی چہکار میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔
’’کرنے کے لیے میرے پاس اور بھی بہت کچھ ہے؟‘‘

اس نے مسز خورشید کے لہجے کی تیز ابیت کو نظر انداز کر دیا تھا، وہ اس کی وجہ بھی جانتا تھا۔ اس نے ہمیشہ پیش رفت سے گریز کیا تھا، اسی لیے وہ ان کے پیچھے پڑگئی تھی، اس کی جمالیاتی حس کے لیے مسز خورشید کو قبول کر نا ممکن نہیں تھا، اسی لیے وہ نظریں جھکا کر باتیں کر رہا تھا جب کہ وہ ٹھنک کر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی تھی۔ اس نے سرخ پھولوں والے کپڑے پہنے ہو ئے تھے، وہ اپنی کلائیوں میں سونے کو چوڑیوں کی بجاتی، انگلیوں میں لعل و زمرد کی انگوٹھیوں کو گھماتی، اسے گھوررہی تھی۔ وہ چاہتا تو معاملہ سلجھ سکتا تھا، لیکن اس کے تخیل میں عورت کے بڑھاپے کی ایک مثالی تصویر موجود تھی۔ مسز خورشید جس سے کوئی لگا نہیں کھاتی تھی۔

اس نے بچوں کا حال احوال دریافت کیا۔ خلیج میں مقیم ا س کے شوہر کے متعلق پو چھا۔

اب ان کے بیچ خاموشی کے وقفے حائل ہونے لگے تھے۔ ذہنی مشقت کے باوجود اسے کوئی موضوع نہیں مل رہا تھا۔ وہ اصل بات کرنا چاہتا تھا، مگر اس کی خواہش تھی کہ مہمان نوازی کے تقاضے پو رے ہو جائیں۔ کچھ دیر بعد اسے احساس ہو اکہ مہمان نوازی بھی تبدیلی کی زد میں آگئی ہے۔ اس نے سگریٹ نکال کر سلگا لیا۔

کھنکارتے ہو ئے اس نے بات شروع کی۔ ’’کسی مہینے ناغہ نہیں کیا۔ کر ایہ برابر پہنچاتے رہے۔ ’’ جہاں پانچ سال گزر گئے۔ کچھ سال اور گزر نے دیں‘‘۔
مسز خورشید مصنوعی آہ بھر تے ہو ئے بولی ’’مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ یوں بھی وہ مکان ہمارے کسی کام کا نہیں رہا‘‘۔

’’ہمارے لیے تو ہے۔آپ کچھ عرصہ ٹھہر جاتیں، ہم ہی خریدار بن جاتے‘‘۔
’’تین سال سے آپ یہی کہہ رہے ہیں‘‘۔
جب اس کی بیوی کا مشورہ کارآمد نہیں ہو اتو اسے ناصر کی بات یاد آ گئی۔ ’’ہم کرایہ بڑھا دیتے ہیں‘‘۔
’’کرائے کی معمولی رقم سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ‘‘۔ مسز خورشید قطعیت سے بولی۔
وہ اپنے پژ مردہ چاند پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ملول نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشانی سے پسینا پونچھتا ہو اجب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی بیٹوں کی تواضع میں مصروف تھی۔ نعیم خفگی سے لائٹ ریفر یشمنٹ کا تقاضہ کر رہا تھا۔ ’’دن بھر کے تھکے ہارے لوٹتے ہیں، چائے کے ساتھ کچھ اور بھی ہو ناچاہیے‘‘۔

اس سے پہلے کہ اس کی بیوی کام کاج کی فہرست کا راگ الاپنا شروع کر تی، وہ ان کے درمیان جا بیٹھا۔ بیٹے سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگے۔ اس نے کسی بھی سوال سے پہلے ہی بتا دیا کہ مکان خالی کرنا ہو گا۔

ایک چھوڑی ہوئی عادت کو دوہراتے ہو ئے اس نے نہار منہ سگریٹ سلگا لیا۔ کش لیتے ہی اسے بے فکری کے دن یاد آ گئے۔ جب وہ آنکھ کھلتے ہی سگریٹ کا پیکٹ ڈھونڈنے لگتا تھا۔ ابلتے ہو ئے پانی کی سر سراہٹ نے اسے ماضی کے دھویں سے نکالا۔ گر چہ وہ جانتا تھا کہ کون سی شے کہاں رکھی ہے۔ لیکن ہڑبڑاہٹ میں وہ مصالحوں کے ڈبے ٹٹولنے لگا۔

اس نے جاء نماز پر لیٹی اپنی بیوی کو چائے کی پیالی پیش کی، کمرے کی مدھم تاریکی میں ہر شے سائے جیسی لگتی تھی۔ وہ کسی جلد بازی میں چائے کی لمبی سڑکیاں بھرنے لگا۔جب اس نے اپنی بیوی کو سر جھکائے خاموشی سے چائے پیتے دیکھا تو نہ جانے کیوں دل مسوس کے رہ گیا۔ وہ کرتا پہن کر گھر سے نکل آیا۔ وہ اخبار خریدنا چاہتا تھا۔ گلی میں کندھے ہلا کر چلتے ہوئے اخبار کا تصور اس کے دل میں گرم جوشی پیدا کر رہا تھا۔ آج اس نے نیوز اسٹال کی بھیڑ میں شامل ہو کر سرخیاں پڑھیں۔ اخبار خریدتے ہی اندرونی صفحوں کو کھول کر ایک فہرست کو دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور جسم میں حرارت دوڑ گئی۔ اخبار بغل میں دبائے وہ ایک ہوٹل میں جا بیٹھا۔

طمطراق سے چائے کا آرڈر دے کر اس نے وہی فہرست نکال لی۔ جیبیں ٹٹولتے ہوئے اسے کسی شے کی گم شدگی کا احساس ہوا۔ پہلے والی مسرت مٹ گئی۔ اس غارت گری سے نجات پانے کے لیے اس نے خبروں میں پناہ ڈھونڈی مگر توجہ منتشر تھی۔

جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی باورچی خانے میں مصروف تھی۔ اس نے کمرے کی بتی جلائی۔ پھر کچھ سوچنے لگا۔ وہ بھول گیا تھا کہ لکی نمبر والی پرچی کہاں رکھی تھی۔ اسے ہر مہینے پرچی چھپانے کے لیے نئی جگہ کی تلاش کرنی پڑتی تھی۔ اس نے بریف کیس کھولا۔ اس کے خانوں میں کاغذات ٹٹولتے ہو ئے پرچی مل گئی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے نمبروں کو غور سے پڑھا، اس کے ساتھ یہی ہوتا تھا۔ نمبروں کو فہرست سے ملاتے ہوئے اس کی سانسیں پھول جاتی تھیں۔ ہند سے ناچنے لگتے تھے۔ سگریٹ پینے سے بھی صورت حال بہتر نہ ہوتی تھی۔

پہلے کی طرح آج بھی اس نے اخبار کو کھاٹ پر پٹخ دیا اور تکلیف دہ سانس بھرنے لگا۔

وہ ناشتہ کرتے ہوئے بیٹوں سے کاروباری گفتگو کر رہا تھا کہ اس کی بیوی نمبر والی پرچی کو فضا میں لہراتی اس طرح کمرے میں داخل ہوئی، جیسے گم شدہ قیمتی چیز مل گئی ہو۔ اسے اپنی بیوی پر غصہ آیا مگر خاموش رہا۔ اس نے بیٹوں کی سنجیدگی سے موڈ کا پتا چلا لیا تھا۔

لکی نمبروں کی خریداری اس کا قدیم مشغلہ تھا، وہ اچھے وقتوں میں کسی جواری کی طرح ان کا عادی ہو گیا تھا۔ اس کے گھر والے بھی اس مشغلے میں شریک ہو تے تھے۔ اس کے بیٹے تو نوٹ بک میں نمبر نوٹ کر لیتے تھے اور اسکول میں دوستوں کو فخر سے نمبروں کے بارے میں بتاتے تھے۔ جب کہ اس کی بیوی بھی نمبروں کو یاد کر تی رہتی تھی۔وہ سب لوگ پرائز بانڈ کی فہرست کی اشاعت کا انتظار کر تے تھے۔ شاید یہ ان کی اجتماعی بد نصیبی تھی کہ کبھی کوئی بڑا انعام نہیں نکلا تھا۔ ہاں ایک مرتبہ وال کلاک ضرور نکلا تھا۔

کچھ سالوں سے اس کی بیوی اور بچوں نے یہ کہتے ہوئے کہ نمبروں کی خریداری رقم کا زیاں ہے، اسے سختی اور نرمی سے منع کر دیا تھا۔ انہیں پرائز بانڈ کی خریداری پرکوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ ایک مدت تک بڑے انعام کی اصل رقم کے پانچ گنا ہو نے کا خواب دیکھتے رہے تھے۔ جو لاکھوں میں بنتی تھی۔
خوابوں کی عدم تکمیل سے پھیلنے والے زہر نے انہیں اکسایا کہ وہ اس خطرناک عمل سے باز رکھیں، کئی بار کی روک ٹوک سے اس نے خوابوں کی خریداری کو پوشیدہ رکھنا شروع کر دیا تھا۔

بیوی کے ہاتھ میں لہراتی پرچی نے اس کے خوابوں کی دنیا کو پامال کر دیا تھا۔نہ چاہتے ہو ئے بھی اس نے اپنے عہد کو دوہرایا اور حقیقت سے تعلق جوڑنے کی قسم کھائی۔ وہ جانتا تھا کہ پرچی کی طرح اس کے خواب بھی کوڑے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

شام کو اس نے اپنے دوست شفیع محمد سے ملنے کی خواہش کو محسوس کیا۔ وہ ٹوٹی پھوٹی گردوغبار سے اٹی سڑک کے کنارے ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک تھا۔ جہاں صبح سے شام تک پرانی کرسی پر زنگ آلود اسٹیل کی عینک لگائے اخبار پڑھتا رہتا تھا۔

شفیع محمد نے کاؤنٹر ٹیبل پر اخبار پھیلا تے ہوئے اپنے دوست کو افسردہ دیکھا۔ پھر ہوٹل کے چولہے پر جھکے آدمی کو چائے کا آرڈر دیا۔

’’سیٹھوں کا ستیا ناس ہو۔ ملک برباد کر دیا ‘‘۔

وہ اس کا اشارہ سمجھ گیا۔ اکتاہٹ سے بولا۔ ’’کیوں پریشان ہوتے ہو، تم نے برسوں سے نمبر نہیں خریدے‘‘۔
وہ پیٹ کے زور پر ہنسا۔ ’’میں عقل مند ہوں۔ اس لیے ادھار اینٹھ لیتا ہوں۔ جب نمبر نہیں لگتا تو ڈانٹ کے بھگا دیتا ہوں‘‘۔
وہ گندی پیالی میں سیاہ چائے دیکھ کربولا ’’تمہارے ہوٹل پر کبھی اچھی چائے نہیں ملتی۔ـ‘‘

وہ نو بجے تک وہاں بیٹھا رہا۔ جب شفیع محمد نے اپنے خوابوں کا ذکر چھیڑا تو اس نے بھی دل چسپی ظاہر کی۔ وہ ایک دوسرے کو یقین دلانے لگے کہ ان کی قسمت بڑ بڑاکر اٹھنے والی ہے۔ وہ دن قریب ہے۔ جب دونوں دوست ٹوپیاں پہنے، کندھوں پر تھیلے لٹکائے، ڈھیلی ڈھالی چڈیاں پہنے، دنیا کی سیر کو جائیں گے۔ملکوں ملکوں آوارہ گردی کریں گے۔ شفیع محمد بہت کڑھتا تھا کہ یہاں بڑھاپے کی زندگی میں کوئی دل چسپی نہیں۔ خدا حافظ کہنے سے قبل ا س نے شفیع محمد سے کرائے کا مکان ڈھونڈنے کے لیے کہا۔

وہ جانتا تھا کہ رات نیند کو پانادشوار ہو گا۔اس نے میڈیکل اسٹور سے گولی خریدلی۔ جس کے استعمال کے باوجود دیر تک کروٹیں لیتا رہا۔ ا س کا جسم شل تھا اور سر دکھ رہا تھا۔ دروازے کی درزوں سے جھانکتی روشنی کو دیر تک گھورنے کے بعد وہ کھاٹ سے اترا۔
وہ دبے پاؤں چلتا بیٹے کے کمرے میں داخل ہوا۔ ناصر نے چونک کر کتاب بند کر دی۔
’’آج پھر نیند نہیں آ رہی ؟‘‘اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر ناصر نے سوال کیا۔
’’گولی بھی کھائی ہے۔‘‘وہ سگریٹ سلگاتے ہو ئے بولا۔
’’سگریٹ زیادہ پینے لگے ہیں۔‘‘اس نے شکایت کی۔
’’سگریٹ کا نیند سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘وہ ہنستے ہو ئے بولا۔ ’’ناصر، یہ تم کون سی کتابیں پڑھتے رہتے ہو کچھ فائدہ بھی ہے۔ ‘‘
’’ٹھیک ہے، تم ملازمت کرتے ہو۔ لیکن حالات بھی تمہارے سامنے ہیں۔ ادب کو چھوڑو، معاشیات پڑھو۔ کوئی فارمولا ڈھونڈو۔ کسی کتاب میں تو امیر بننے کا گرلکھا ہو گا۔ جابر بن حیان نے کیمیاگری کتابوں سے ہی سیکھی تھی‘‘۔
ناصر زیرلب مسکراتے ہو ئے بولا ’’شاید ایسا ممکن ہو ابو‘‘۔
وہ مضحکہ اڑاتے ہوئے ہنسا ’’شاید۔ ہو نہہ ہمیشہ منفی سوچتے ہو، خواہش تھی کہ تم سی ایس ایس کرو۔ ‘‘
’’لیکن تم معمولی نوکری سے مطمئن ہو گئے‘‘۔
’’آپ سو جائیں، صبح کو بھی اٹھنا ہے‘‘۔
وہ اٹھا، کچھ سوچتے ہو ئے پھر بیٹھ گیا ’’اپنی امی کو سمجھاتے کیوں نہیں‘‘۔
’’انہیں کیا ہوا؟‘‘
’’کرایہ دار کو مکان چھوڑنا پڑتا ہے‘‘۔
’’ہم یہاں کے عادی ہو گئے ہیں‘‘۔
’’مجھے یہ مکان پسند نہیں۔ نہ روشنی آتی ہے نہ ہوا۔ بہت منحوس ہے۔ اکثر کوئی نہ کوئی بیمار رہتا ہے۔ اسی مکان میں ہمارے حالات بھی خراب ہو ئے۔ ‘‘وہ ٹرنکولائزر کے زیر اثر بولتاچلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گم شدہ نیند پچھلی رات اسے مل گئی۔ اسی وصال کے سبب وہ تازہ دم محسوس کر رہا تھا۔ سگریٹ پیتے ہوئے کھنکارنے کی آواز سے فرحت ٹپکتی تھی۔ اخبار پڑھتے ہوئے وہ مزے سے بلغم کے لچھے فرش پر اچھالتا رہا تھا۔

اس کی قوت شامہ نے کچھ محسوس کیا، وہ سمجھا کہ گلی میں کوڑا جلنے کی بو ہے۔ لیکن یہ مختلف بو تھی۔ اور نزدیک سے آرہی تھی۔ وہ پہنچاننے سے قاصر تھا، ایک وسوسے کے زیر اثر وہ باورچی خانے تک گیا۔

اس کی بیوی کا نپتے ہاتھوں سے چولہے میں تصویر یں جلا رہی تھی۔ سلیپر کی آواز سن کر اس نے آنسو پو نچھ ڈالے تھے۔ اس نے مڑکر نہیں دیکھا۔
جلتی ہو ئی تصویر کی جھلک دیکھ کر وہ فوراً بولا۔ ’’یہ تصویریں کہاں چھپار کھی تھیں؟‘‘

وہ غم سے دو ہری ہوتی ہوئی بولی۔ ’’اتفاق سے مل گئیں‘‘۔
’’ایسی چیزیں اتفاقاً نہیں مل جاتیں۔ ‘‘وہ راکھ کو مٹھی میں بھرنے کی کوشش کرنے لگا۔
وہ غم زدہ نفرت سے اسے دیکھتے ہو ئے بولی۔ ’’میں تمہارے جھوٹ کو سچ سمجھتی رہی‘‘۔
وہ راکھ سے ہاتھ کالے کرتا رہا۔ ’’تم جانتی ہو، سب کچھ دھواں ہو چکا ہے‘‘۔
’’تو راکھ کیوں سمیٹ رہے ہو؟ـ‘‘وہ تلخی سے بولی۔
’’دیکھو کوئی تعلق پو ری طرح ختم نہیں ہوتا۔‘‘
’’لیکن اس کی زد میں آنے والی ہر شے ختم ہو جاتی ہے‘‘۔

وہ کچھ بھی نہیں بول سکا۔ بے چارگی سے کندھے جھکائے کمرے کی طرف لوٹ گیا۔ پہلی بار اس نے بڑھاپے کے ز ہر کو ہڈیوں میں رینگتے محسوس کیا۔

لگا تار سگریٹ پیتے ہو ئے وہ کچھ بھولنا چاہتا تھا۔ اخبار پڑھتے ہو ئے اس کا ذہن سوچ رہا تھا۔ ’’سب کچھ تج کر دوسرے کنارے چلا گیا ہوتا۔ کاش، ایک زندگی اور مل جاتی۔ یہ زندگی تو دھند میں ٹامک ٹوئیاں مارتے گزر گئی، جن چیزوں پر فخر کر تا رہا وہ بے وقعت تھیں‘‘۔

آوارہ بھٹکنے کی خواہش کے باوجود وہ کمرے سے باہر نہیں نکلا۔ اس کے بیٹے بھی جاگ اٹھے تھے۔ گھر کی خاموشی آوازوں سے بھر گئی تھی، بیٹوں نے ٹیپ ریکارڈر بجا نا شروع کر دیا تھا۔ مسکرانے لگا۔ ایک طربیہ گیت گنگنا تے ہو ئے وہ متفکر تھا کہ اس کی بیوی تصویروں کے متعلق بیٹوں کو نہ بتا دے۔
کچھ دیر بعد اس کی بیوی چائے کی پیالی تھامے وارد ہوئی۔

وہ سفید جھنڈی لہرا تے ہو ئے بولا، ’’دوپہر تک چائے پلاتی رہو گی۔ ناشتہ نہیں بنا یا کیا؟‘‘
’’زبر دستی نوالے تو ٹھونسنے سے رہی۔ ‘‘وہ خفگی سے بولی اور کمرے سے نکل گئی۔

وہ چائے پیتے ہوئے دیواروں کی سفیدی سے جھانکتے سیمنٹ کو دیکھنے لگا۔ وہاں زائچے کھنچے ہوئے تھے۔ بہت سی ٹیڑھی میڑھی لکیریں۔ شاید ایک آدھ لکیر مستقبل کی خستہ حالی کی نمائندہ بھی تھی۔ وہ جسے خوش حالی کی لکیر سمجھے برسوں سے ڈھونڈرہا تھا، لیکن وہ بد نصیب لکیروں کے جنگل میں گم ہو گئی تھی۔ اس نے دیوار پر اس جگہ نگاہ دوڑائی، جہاں پہاڑیو ں کی اوٹ سے نکلتے سورج کی تصویر لگی ہو ئی تھی۔ مگر اب وہ جگہ خالی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب گلی میں سوزو کی رکنے کی گھڑ گھڑا ہٹ سنائی دی تو اس کی بیوی نے حقارت سے اس کی طرف دیکھا لیکن وہ نشست چھوڑ کر دروازے کی طرف جاچکا تھا۔ اس کی بیوی نے اس لمحے اپنی برباد ی اور رسوائی کو شدت سے محسوس کیا۔

سب سے پہلے خالی پیٹی کو باہر نکالا گیا، انہوں نے فرش سے گھسٹتی ہوئی پیٹی کی دل دوز چیخیں سنیں، اس کی بیوی تلملا کر رہ گئی۔
’’وہ اسے اٹھا کیو ں نہیں لیتے ؟‘‘وہ غم زدہ لہجے میں بڑبڑائی۔

’’اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لو۔‘‘وہ بے رخی سے بولا۔
اس کی بیوی پرانی باتیں دوہرانے لگی۔ ’’یہ پیٹی شادی کے دوسرے سال خرید ی تھی۔ تمہاری تنخواہ ان دنوں اسی روپے ہو تی تھی۔ یہ بھی ہمارے ساتھ دربدر گھومتی رہی ہے۔ اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ بہت پرانی ہو گئی ہے۔ کنڈیاں ٹوٹ گئیں، قبضے ڈھیلے پڑ گئے۔ تھوڑی سی مرمت کی ضرورت ہے۔ لیکن میرے بیٹے اس سے بیچنا چاہتے ہیں‘‘۔

’’شاید چارپھیرے اور لگ جائیں۔ ‘‘ وہ سگریٹ کا کش لگا تے ہو ئے بولا۔
’’ہاں۔‘‘وہ اسے اکیلا چھوڑ کر اٹھ گئی۔
وہ دیر تک گم صم بیٹھا رہا۔
بیوی کی چہکتی ہوئی آواز سن کر وہ کسی نیند سے جاگا۔
’’دیکھو تو، کاغذوں میں سے کتنی پرانی تصویر ملی ہے۔ بلیک اینڈ وائٹ ہے۔ مجھے یاد ہے۔ وہ عید کا دن تھا۔ تم کسی دوست سے کیمر ہ مانگ لائے تھے۔ اس وقت ناصر چار سال کا تھا اور نعیم تو اسی سال پیدا ہوا تھا۔ ‘‘وہ خوشی سے کانپتی آواز میں بولتی چلی گئی۔

تصویر دیکھ کر وہ بھی ہنسنے لگا۔ اس کے بیٹے سہمے ہو ئے تھے، جب کہ وہ اپنی مردانگی پر نازاں، بیوی کے پہلو میں مسکرارہا تھا۔ وہ گزرے ہو ئے سالوں کی باتیں کر نے لگے۔

پرانی تصویر کی بازیافت نے اس کے لیے مصروفیت کا جواز پیدا کر دیا تھا۔ وہ کمرو ں کے فرش پر بکھرے کاغذ ٹٹولنے لگا۔ بے کار تلاش کے اس عمل میں بہت سے پرانے اخبارات، رسائل، دوستوں کے خطوط، عید کارڈ، پرانے شناساؤں کے وزیٹنگ کارڈ، فلمی اداکاراؤں کی نیم عریاں تصاویر اور بھی بہت کچھ اس کی نظروں سے گزر ا، وہ پسینے میں بھیگ جا نے کے باوجود کاغذ کے ہر ٹکڑے کی طرف عجیب ہوس کے ساتھ متوجہ ہوتا۔ اس نے بہت سی چیزوں کو جیبو ں میں ٹھونس لیا تھا۔

جب وہ تھکن سے چور ہو گیا تواسے بیوی کا خیال آیا۔ اسے بھی ایک پٹاری مل گئی تھی۔ وہ جس میں بہت سی چیزوں کو سینت سینت کے رکھتی جاتی تھی۔

شام سے ذرا پہلے سامان منتقل کیا جا چکا تھا۔
اس نے ناصر کو تنہاپاکر اس کے کان میں سرگو شی کی اور اسے خالی کمرے میں لے گیا۔ جیبیں ٹٹولنے کے بعد اس نے بٹوہ نکالا، اس کے ایک خانے میں مڑ ا تڑاایک روپے کا پرانا نوٹ رکھا تھا۔
اس نے وہ نوٹ ناصر کو دیتے ہو ئے کہا۔ ’’تم بھائیوں میں سب سے بڑے ہو، جو مجھے ملنا تھا مل چکا، اب تمہاری باری ہے۔ مجھے یہ نوٹ ایک اللہ والے نے دیا تھا۔ میں نے بیس سال سنبھال کے رکھا۔ اب تم رکھو۔یہ تم پر دولت کے دروازے کھول دے گا۔ اسے کبھی خرچ نہ کرنا‘‘۔

ناصر اپنے والد کی پر اسرار آواز اور دل دوز لہجے کوسنتا رہا۔
بیٹے جا چکے تھے، میاں بیوی تنہائی میں درودیوار کو گھوررہے تھے۔
وہ گرد آلود فرش پر بلغم، پھینکتے ہو ئے بولا۔ ’’ہم نئے مکان میں جارہے ہیں۔ یہ مکان منحوس تھا۔ نیا برکتوں والا ہو گا ‘‘۔
’’وہ بھی کرائے والا۔ ‘‘اس کی بیوی آنسوؤں سے بھیگی آواز میں بولی۔
وہ شام کے سر مئی اندھیر ے میں بہت سی چیزوں کا پلند ہ اٹھا ئے پرانی گلی سے رخصت ہوئے۔
Image: Dorothy Ganek

Categories
فکشن

ہاتھ (عظمیٰ طور)

آدھ گھنٹے میں اس کی آنکھوں کے سامنے پھیلے اس کے ہاتھوں پہ بکھری الجھی لکیروں پر کتنے ہی ان دیکھے رستے ابھر کر آئے اور معدوم ہو گئے ۔ کتنے چہرے مسکراتے ،اسے رلاتے چھیڑتے لجاتے کئی روزنوں سے اپنی اپنی شکلیں دکھا کر چھوٹی چھوٹی لکیروں میں غائب ہو گئے۔
وہ کتنی ہی دیر اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی.
پوروں پر برسوں پرانا لمس اب بھی موجود تھا ۔ ہاتھ دھونے سے لمس ختم تھوڑا ہی یو جاتا ہے۔
اس نے پوروں کو مسلا ، ان میں نمی محسوس ہوئی۔
پوریں رونے لگیں تھیں۔
اس نے اپنی نم پوروں کو اپنے لبوں سے لگایا۔
لکیریں اپنے رستے چھوڑ کر دائرے بنانے لگیں۔
چند سال قبل چند روپوں سے حاصل کی گئی ایک کتاب پر لکھا قسمت کا حال اسے مزا دیتا تھا۔
وہ اپنے ستارے کے نشان کے ساتھ درج تحریر کو پڑھ کر محظوظ ہوتی۔ اور پورا دن اس سے اپنی قسمت ملاتی رہتی۔
اس کی ہتھیلیاں پہلے ایسے نہیں تھیں۔
جا بجا لکیریں نہیں تھیں ۔ یہ بے انت پھیلا یوا بے ترتیب جال ابھی کچھ برس قبل ہی بنا گیا تھا اپنے آپ ۔
پوروں کو اپنی ہی ہوروں سے مسل کر اس نے نرمی کو محسوس کیا ۔ پانی کے بھرے ہوئے برتن کو دیکھ کر مسکرائی اور چاک پر جھک گئی ۔
موٹر والا چاک آپو آپ گھومنے لگا ۔ اور چکنی مٹی اس کے چکنے ہاتھوں سے اپنی شکل بدلنے لگی ۔
اسے یاد تھا جب پہلی بار اس نے کسی فیسٹول میں موجود اپنے اس شوق کے ہاتھوں موٹر کے چاک پر چکنی مٹی کے ڈھیلے کو ننھے برتن کی شکل دی تھی ۔ تو چاک کے مالک نے باقی سب کی طرح اس کے ہاتھ پانی میں نہیں ڈلوائے تھے ۔
مٹی کا تودا اب شکل اختیار کرنے لگا تھا ۔
رب اپنی صفت اپنے بندے کے ہاتھ میں دے کر شاید اپنی تعریف کروانا چاہتا ہوں ۔
کیسے کیسے نقش گھڑے رب نے ۔
اس نے گلدان کے اندر اپنا آدھا بازو ڈال کر اس کے پیندے کو چھوا ۔
کہنیوں تک مٹی سے اٹے بازو عجیب لطف میں تھے ۔
مٹی کو مٹی بھا رہی تھی ۔
گلدان تقریباً تیار تھا ۔ اس نے گھومتے پہیے سے گلدان کو اتارا اور زمین پر رکھ دیا ۔
مٹی کا ایک اور تودا پہیے پر ڈالتے ہوئے اسے گزری رات کا اس کا ایک ٹی وی چینل کو دیا انٹرویو یاد آ گیا ۔
یا شاید وہ کل رات سے اس پہر تک اسی کیفیت میں تھی ۔
تنہائی بھی کیسی غنیمت چیز ہے ۔ بندے کو سوائے اس کے اپنے ہی خیال کے کوئی ٹہوکا نہیں دیتا ۔
خیالوں کے پنچھی قید کرنا آتے ہوں تو پھر کسی ایک یا ایک کے خیال کو باندھنا سہل رہتا ہے ۔
کیفیت کو ٹکانا اور اس پہ ٹکے رہنا بھی اس کائنات میں ایک چیلنج ہے ۔
دنیا کیفیات کو توڑنے کا اِک مسلسل بہانہ ہے __
اس نے مٹی کو ایک مختلف شکل میں ڈھالا ۔
گھومتا پہیہ مسلسل اپنے کام کر رہا تھا اور وہ اپنا۔

میرے بنانے والے نے مجھے
پہلے توڑا ہے پھر بنایا ہے

آپ کو اکثر ہاتھوں کے بارے بہت کہتے سنا ہے ۔
اس نے اس مختلف سوال پر شکر کا کلمہ پڑھا ۔ مٹی کے برتن جیسے لفظوں والے کئی انٹرویو اس کی اکتاہٹ کے لیے کافی تھے ۔
ہاتھ فریاد ہیں ۔ اٹھ جائیں تو عرش ہلا دیں ۔ گر جائیں تو فرش پر لے آئیں ۔ چھٹ جائیں تو رول دیتے ہیں ۔جڑ جائیں تو بے مول دیتے ہیں ۔ مل جائیں تو کیا نہیں کر سکتے ۔
ہاتھوں میں بڑی طاقت ہے.
وہ مسکرائی تو ہاتھ بھی مسکرانے لگے۔
مٹی سے لت پت ہاتھ اپنے سامنے پھیلا کر وہ مسکرائی
تالی ،تھپکی بڑی اہمیت ہے ہاتھوں کی۔
اس نے پانی کے پیالے سے چاک پر گھومتے مٹی کے تودے پر پانی ڈالا۔
مٹی کا تودا شکل بدلنے لگا تھا۔
ان کے کرب نہ کوئی جان پایا ہے نہ جان پائے گا۔
انھیں لمس کی جو حاجت ہے ۔ اس کی اہمیت صرف یہی جانتے ہیں۔
ان کی بنت میں جو کھدی لکیریں ہیں وہ انھیں بس گھلتے رہنے کا سبق پڑھاتی ہے اور یہ مسلسل رٹتے رہتے ہیں۔
ایک ہی رٹ ۔۔۔۔۔۔
کیسے انتشار چھپے ہیں ان میں ۔ کیسے بھید ہیں ان کی بناوٹ میں۔
چاک پر گھومتا مٹی کا گلدان اس کے سہارے کے بغیر ڈگمگانے لگا۔
اس نے بڑھ کر تھام لیا۔
مٹی کا تودا اس کی پسند کی شکل میں آ چکا تھا۔
پہروں سے ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنے سے اس کی کمر دکھنے لگی تھی۔
اس نے برتن کو اتار کر ایک طرف رکھا اور موٹر کا پلگ نکال دیا۔
اور وہیں زمین پر چت لیٹ گئی۔
سفید ٹائلز کے ٹھنڈے فرش پر اس کے بال بکھرے تھے۔ اور وہ چپ چاپ مسلسل پنکھے کو گھور رہی تھی۔
تیرے سہارے کے بغیر میں ڈگمگانے لگتی ہوں۔ تو تھام لے
اس نے چھت سے پرے سیاہ آسمان پہ پھیلے سیکنڑوں ستاروں سے بھی پرے رب کو پکارا۔
تیرے بت ٹوٹنے لگے ہیں ۔ مٹی آنکھوں میں چبھنے لگی ہے۔
دھول سے سانس اکھڑتی ہے۔
اس نے ناک کے نتھنوں سے نادیدہ مٹی ہٹائی
مٹی کے کئی تودے اس کے ارد گرد منڈلانے لگے،
یہ تودے نہ کبھی کسی بختہ شکل میں آئے نہ کسی کو ان سے کچھ فائدہ حاصل ہوا۔
میں پتھر میں سوراخ کرنے کی قائل نہیں۔
اسے اپنی ہی بازگشت سنائی دی۔
پتھر کا حسن جاتا رہتا ہے۔
اس کے ارد گرد کوئی دائرے بنانے لگا۔
ڈھول کی تھاپ کہیں زمین میں دھمک پیدا کرنے لگی۔
اس کے پیر دھیرے دھیرے کچی زمین پر اٹھنے لگے۔
کچی دھول اڑاتی مٹی اس کے پیروں سے لپٹی تھی۔
مٹی کے کھیل میں سب مٹی ہو جاتا ہے۔
مٹی بن کر پیش ہو جاؤ تب مٹی کے بنے کچے پتلوں کو مجمسوں میں بدل دو تب بھی۔
مٹی جتنی بے ضرر ہے اتنی ہی خطرناک۔ یہ خاکی بڑے ظالم ہیں۔ یہ آگ اور پانی کو قابو میں لانے والے پھر خاکی کہاں رہتے ہیں۔

ہاتھوں کی لکیریں گھنگرو بن کر اس کے پیروں سے لپٹی تھیں۔ زمین میں دھمک بڑھنے لگی اور اس کے رقص میں بھی۔
خاکی خاکی
سب طرف ایک ہی لفظ گھومنے لگا۔
تیز اور تیز
ڈھول پیٹنے والا تھکتا نہ تھا کہ اس کے پاؤں تھک گئے ۔ لکیریں پیروں میں چبھنے لگیں۔
سب طرف خاموشی چھا گئی۔
وہ سفید ٹائلز کے فرش پر جوں کی توں پڑی تھی۔
ویسے ہی بال بکھرے تھے۔
پورا جسم ٹھنڈ کے باوجود پسینے میں تر بتر تھا۔

تم اپنے ناچ دکھا کر مجھے لبھانے کو آتے ہو
مگر میں بہت پہلے کئی گزرے ہوئے
پہلے کبھی بیتے زمانوں سے
رب کی مسلسل چاہ کی مانند
اس کی کسی خصلت سے پُر
مکمل اک دائرہ کرتا ہوں
میں نیکی کا استعارا ہوں
میں انساں ہوں

زمین پر لیٹے لیٹے اونچی آواز میں اس نے کئی بار یہ سطریں دہرائیں۔
اس کی گردن کی رگیں ابھر آئی تھیں ۔ آنکھیں شدت کے باعث پٹھنے کو تھیں۔
سرخ چہرے پر پسینے کے قطرے فرش پر پھیلے اس کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔
میں انساں ہوں
میں انساں ہوں
میں انساں ہوں

Categories
فکشن

ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث نیند بہت دیر تک نہیں آئی، شاید جس وقت میری آنکھ لگی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہونگے، صبح جب آنکھ کھلی تو آنکھیں نارنگی ہورہی تھیں۔دھوپ میری پلکوں پر رقص کررہی تھی، شاید رات کے کسی وقت پردہ کھلا ہونے کی وجہ سے چمکتے ہوئے پتلے کانچ میں سے سویرے،سورج کی نیزہ باز کرنیں آسانی سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہونگی۔جس وقت میں باتھ روم میں داخل ہوا اور مچی اور مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادھ ننگی حالت میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تو فراغت کے لمحوں میں ادھر سے ادھر آنکھیں گھمانے لگا، پھر میری نظر واش بیسن کے نیچے نکل آنے والے ایک جنگلی پودے پر پڑی، ایک پتلی اور ہلکی سی ڈنٹھل کہیں دیوار میں سے برآمد ہورہی تھی اور اس پر باریک کاہی پتیاں کھلی ہوئی تھیں، ککر متےکی شکل کا ایک گہرا اودا پھول یا پھر اودے سے کچھ ملتا جلتا سر جھکائے ڈول رہا تھا، اس کی حالت اردو کی ہائے لٹکن کی طرح تھی اور وہ بار بار واش بیسن کے پائپ سے ٹکرارہا تھا۔میں کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا، ایک دفعہ بھی ایسا محسوس نہ ہوا کہ اس نے میری نگاہوں سے نگاہیں ملائی ہوں، میں سوچنے لگا کہ اگر ابھی یہ پھول کچھ بولنے لگے، تو کیا کہے گا۔کیا وہ کچھ کہتا بھی ہوگا یا پھر خاموشی ہی اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد ہے۔ کوئی اس قدر خاموش کیسے رہ سکتا ہے، یا ایسا تو نہیں کہ اس کی گویائی کو سننے والے پردے ہماری ساخت میں موجود ہی نہ ہوں۔بہرحال کچھ دیر بعد جب میں فارغ ہوا تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا۔منہ ہاتھ دھوتے وقت اس پر کچھ بوندیں گررہی تھیں، پھول تو نہیں مگر ڈنٹھل پر، جسے ایک لاغر تنا بھی کہا جاسکتا ہے، بار بار میری نظر جارہی تھی۔کچھ دیر بعد میں گھر سے نکلا اور کوشل کے یہاں پہنچ گیا۔کوشل گھر پر نہیں تھا، اس کی بیوی، جس سے میری پرانی شناسائی تھی اور جو کبھی میرے ہی کالج کی رفیق ہوا کرتی تھی، بے تکلفی سے مجھ سے ملی۔میں اسے گلے لگانے سے پہلے جھجھکا، مگر اس نے تو کوئی خیال نہ کیا اور مجھے کاندھوں سے پکڑ کر گلے بھی لگایا اور کانوں میں ہلکے سے کہا ‘ دن بدن ہینڈسم ہوتے جارہے ہو!’ پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔میں نیلم کی عادتوں سے واقف تھا، اس کے مزاج میں ایک ترنگ تھی، وہ جھرنوں کی طرح پھوٹتی اور ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔کوشل سے اس کی ملاقات ایک کوی سمیلن میں ہوئی تھی۔کوشل ہندی کا اچھا شاعر تھا، اور نیلم کو شاعری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔میں بھی کالج میں شاعری پڑھا کرتا تھا، مگر اس کے پیچھے ایسا اتائولا نہ تھا۔

اس نے پوچھا: جب بھی آتے ہو، ہمیشہ باہر رکتے ہو، ہم لوگ کیا تمہیں کھاجائیں گے۔
میں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، تم تو جانتی ہو مجھے تنہائی کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔

‘شوق نہیں ہوکا’۔۔۔وہ کھلکھلا پڑی، نیلم کو میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا،مگر آج جیسے لگتا تھا کہ میں اسے بالکل فارغ ہوکر، اطمینان سے دیکھ رہا ہوں، جس طرح میں نے اس وقت اپنی ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس خود روپھول کا مشاہدہ کیا تھا۔اس کے گالوں میں ہنستے وقت ایک عجیب سی دھنک پھیل جاتی تھی، آنکھیں بند ہوجاتیں اور نتھنے اس تیزی سے پھڑکتے، گویا کبھی رکیں گے ہی نہیں۔اس کی تھوڑی کے بیچوبیچ ایک لکیر تھی، جیسے کسی سیب یا سرین کے عین درمیان ہوتی ہے۔میں ابھی اسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا، مگر یہ وقفہ تیزی سے گزرا اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔’ کبھی کوشل کی ماں سے ملے ہو؟’میں نے نفی میں سر ہلادیا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے گئی، ایک پرانی سی تصویر دکھاتے ہوئے کہنے لگی کہ یہ جو گہرا سرمہ آنکھوں میں لگائے پتلی سی عورت بیٹھی ہے، یہی کوشل کی ماں ہے۔میں نے تصویر ہاتھ میں لی، تصویر میں دو تین افراد اور تھے، دو چھوٹے بچے ایک بیٹھی ہوئی نیم مردہ سی عورت پر شرارت کے سے انداز میں سوار تھے، عورت کی آنکھوں میں اداسی تھی یا شاید سرمے کی زیادتی نے اس کے کاہی چہرے کو اسی پھول کی ڈنٹھل جیسا ادھ موا بنادیا تھا، جس پر واش بیسن سے آج میرے چہرے کو دھوتا ہوا باسی پانی گرتا رہا تھا۔ میں نے تصویر نیلم کو واپس دیتے ہوئےپوچھا۔’تم نے یہ سوال کیوں پوچھاکہ میں نے کوشل کی ماں کو دیکھا ہے یا نہیں؟’ اس نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا، کوشل اپنے دوستوں کو کبھی گھر نہیں لاتا تھا، اور جب میری طرف جھکتے ہوئے اس نے بتایا کہ کوشل اپنی بدصورت اور اداس ماں سے بہت شرمندہ تھا، اس لیے وہ دوستوں کو گھر نہ لاتا تھا، تب اس کے گلے کی جھری میں سے جھانکتے ہوئے اس کے سینے کی گوری چٹانوں کے درمیان سے ایک اندھیر گلی جھانک رہی تھی،میں سوچنے لگا کہ کیا یہاں بھی ویسا ہی کوئی پھول اگ سکتا ہے، جیسا میرے باتھ روم کی دیوار پر اگا تھا، اگر یہاں وہ پھول اگے تو اس کی ماہیت کیسی ہوگی؟پھر یہ پھول کیا اچانک راتوں رات اگ آئے گا یا پھر اس کے اگنے، پھلنے اور پھولنے میں دن لگیں گے؟ اس کا رنگ کیسا ہوگا؟ اس کی جڑیں بدن کی اس دیوار میں کہاں تک پھیل سکیں گی؟ نظریں اوپر اٹھیں تو ابھی بھی نیلم کے ہلکے دبیز گہرے لال ہونٹ کچھ کہہ رہے تھے، اس کے ہونٹوں پر کھال کی پتلی پرتوں نے بہت سے شکنیں پیدا کردی تھیں، بالکل ان کاہی پتیوں پر اگنے والی لکیروں کی طرح جنہیں میں آج ٹھنڈی ٹوائلٹ سیٹ پر اپنی رانوں کو چپکائے بہت دیر تک مندی اور مچی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا رہا تھا۔

ہنستی ہوئی عورتیں، جنسی خواہش کی تردید کا استعارہ ہوتی ہیں۔اس لیے ہمیشہ میں نے نیلم کو ہنستے بستے دیکھ کر یہی سمجھا تھا کہ اس کے ذہن و بدن میں جنسی جبلت نامی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔وہ میرے تصور میں بھی اس طرح کارفرما نہیں ہوئی کہ میں اسے ایک خود رو جنگلی پھول سے زیادہ بھی اہمیت دینے کا قائل ہوتا، مگر آج وہ میرے کانوں کی دراڑوں میں سرگوشیوں کے عطر مل رہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا، جیسے اس کے الفاظ میری سماعت کی تھکی اور بوجھل دیوار کو چیر کر وہاں خواہش کا ایک پھول کھلانا چاہتے ہیں۔ورنہ اکیلے میں، اس وقت، کوشل کی ماں کے تعلق سے بات کرنے کے لیے اسے میرے اتنے قریب آنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کی سانسوں کی پھبن کو میں محسوس کررہا تھا، میرے گال اس ننھی مگر بے حد لطیف ہوا سے اپنی کھال پر پھیلی ہوئی روئوں کی تھالیوں کو اٹھا اٹھا کر خوشی سے بجارہے تھے۔بدن لہروں کےنت نئے تاروں میں ڈول رہا تھا، زبان حالانکہ خشک ہورہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ اگر میں ابھی کچھ کہوں تو ایسا بد ہیت بھبھکا میرے منہ سے پھوٹے گا کہ اس کی حس شامہ اس کی تاب نہ لاسکے گی، مگر پھر بھی حیرت و خوف کے ان ملے جلے لذت آمیز لمحوں میں، میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر چوم لیا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھٹھکی، پھر ہڑبڑا کر اٹھی اور دور جاکر کھڑی ہوگئی، پھر پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کچھ کہنے لگی، میں ایک عجیب ہول کے عالم میں بس اتنا سمجھ پارہا تھا کہ وہ مجھے اسی وقت وہاں سے جانے کا حکم سنارہی تھی۔اچانک میری طبیعت کا ہرا بھرا پھول، واش بیسن کے نیچے اگنے والے پھول کی طرح اداس ہوکر ایک طرف جھولنے لگا، جس کا اداس سر، خواہشوں کی نکاسی کے جائز پائپ سے ٹکرارہا تھا اور جس پر ضمیر کے منہ سے ٹکرانے والی پانی کی چھینٹیں پڑے جارہی تھیں۔

میں باہر نکلا، کچھ دور ہی پہنچا ہوئوں گا کہ کوشل آتا دکھائی دیا۔میں نے دیدے دوسری طرف گھمادیے،اور اس کی نظروں سے بچتا بچاتا بھاگ کر کمرے پر پہنچا۔سامان سمیٹا، کمرے کو تالا لگایا اور پھر آگے ہی بڑھ رہا تھا کہ دفعتا پھر کسی خیال نے مجھے تالا کھولنے پر اکسایا۔میں کمرے میں داخل ہوا، سوچا کہ اس کمبخت خود رو پھول کو، جس نے مجھے آج ایسی ذلیل حرکت پر آمادہ کردیا، نوچ کر پھینکتا جائوں، باتھ روم میں گھسا تو دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی پھول ہی موجود نہ تھا۔بہت ٹٹولا، ادھر ادھر دیکھا۔ واش بیسن کے پائپ کو بھی الگ کردیا، اس میں جھانکا۔دیوار پر جس جگہ پھول کھلا تھا، وہاں ہاتھ پھیرتا رہا، مگر کچھ بھی تو نہ تھا۔آخر لعنت بھیج کر دوبارہ تالا لگانے آیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ کوشل بستر پر دراز ہے۔

میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔’تم کب آئے؟’

کہنے لگا۔۔۔’گھر گیا تھا، نیلم نے بتایا تم آئے تھے، پھر وہ تمہیں ماں کی تصویر دکھارہی تھی کہ اچانک تم اٹھے اور دروازہ کھول کر بھاگ نکلے، وہ پیچھے سے آوازیں دیتی رہی، مگر تم نے ایک نہ سنی۔الٹے پاوں مجھے دوڑادیا اس نے۔چلو،وہ آج تمہاری پسند کا بینگن کا بھرتا اور پوریاں پکارہی ہے۔’
میں نے کوشل کی آنکھوں میں جھانکا۔وہاں ایک دوست کی چمکدار اور سپاٹ خوشی کے سوا اور دوسرا کوئی جذبہ نہ تھا، بالکل واش بیسن کے نیچے پھیلی ہوئی چکنی دیوار کی مانند۔
Image: Salvador Dali

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 11

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا جا رہا تھا، پر نہیں گزر رہا تھا تو سیاسی اُتھل پُتھل اور افرا تفری کا وہ دور جس کا آغاز بٹوارے کے اعلان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ہندو آبادی کے پلائن کی وجہ سے وہاں کا سارا نظام چِھن بِھن ہونے لگا تھا۔ روزمرہ کی ضرورت کی کئی چیزوں تک کی قلت ہونے لگی تھی۔ دکانوں پر تالے لگے تھے جن کی چابیاں اور اپنی جان بچا کر ہندو بیوپاری بھاگ نکلے تھے۔ دھیرے دھیرے ان دکانوں کے تالے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے چلے گئے۔ کچھ دکانوں کا مال لُٹ گیا تو کچھ پر وہاں پہنچے مہاجروں نے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن چار دن بعد مشکل اسی شکل میں سامنے آ کھڑی ہو جاتی که خالی ہوتی دکانوں میں بھرنے کے لیے نئی سپلائی کا بندوبست نہ تھا۔

اُدھر سڑکوں پر جھاڑو لگانے اور گھروں کے پاخانے صاف کرنے والے صفائی کرمچاری بھی ندارد تھے۔ نتیجے میں گھروں اور سڑکوں پر گندگی اور بدبو کا عالم پھیلنے لگا تھا۔ ایک پاک اور جنّت نشاں ملک کی آس میں اپنا شہر، اپنا گھربار چھوڑ کر پہنچے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وہاں پھیلی بدحالی کا یہ عالم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اور جو اتنا کافی نہ تھا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے رویے نے ان کا دل توڑ دیا۔

حالات ہندوستان میں بھی بہت بہتر نہ تھے۔ ایک صاف ستھری آبادکاری کی پالیسی کے برعکس تمام سرکاری کوششیں لچر ثابت ہو رہی تھیں۔ خاص کر دہلی میں سارا بندوبست چرمرانے لگا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے نیتاؤں کی تمام کوششوں کے باوجود مار کاٹ، خون خرابے جیسی باتیں روز کا معمول سی بننے لگی تھیں۔ اور جو کوئی کسر باقی تھی تو جب تب پھیلتی بھڑکاؤ افواہوں سے پوری ہوتی جاتی تھی۔ ان افواہوں کو پختگی دینے میں دونوں ملکوں کے اخبار پوری طرح آمادہ نظر آتے تھے۔ اس کے بعد کا کام دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں نے مانو اپنے ذمے لے لیا تھا۔ ان مشکل سے مشکل تر ہوتے حالات کے لیے دونوں ملک، ہندوستان اور پاکستان، ایک دوسرے کو ذمےدار بتاتے ہوے، کھلم کھلا ایک دوسرے پر فوجی حملے کی باتیں کرنے لگے تھے۔

ہندو مہاسبھا کے سربراہ این بی کھرے جیسے نیتاؤں کے لیے تو پَوبارہ والے حالات بن گئے تھے۔ پاکستان پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنا کر ’’اکھنڈ بھارت‘‘ قائم کرنے جیسی تقریریں آئے دن کی بات ہو گئی۔ ’’ایک دھکا اور دو/ پاکستان کو توڑ دو‘‘ جیسے نعروں کی گونج دھیرے دھیرے پورے دیش میں سنائی دینے لگی تھی۔ اُدھر پاکستان میں بھی مسلم لیگ اسی طرح کا ماحول بنائے ہوے تھی۔ آئے دن انگریزی اخباروں میں چھپنے والے فوٹوؤں اور خبروں سے معلوم ہو رہا تھا که وہاں مسلم لیگ کے رہبران بھی جنگ کا ماحول بنانے میں جٹے ہوے ہیں۔ جلسوں میں گونجنے والا نعرہ ’’ہنس کے لیا ہے پاکستان / لڑ کر لیں گے ہندوستان‘‘ ملک بھر کی دیواروں پر اتر آیا تھا۔ اسی ماحول کا فائدہ اٹھاکر این بی کھرے نے تو باقاعدہ یو این او میں پٹیشن بھی لگا دی تھی، جس میں انھوں نے پاکستان کو غیرقانونی طور پر قائم ہوا دیش بتاتے ہوے اس کی منظوری منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت میں پردھان منتری جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کچھ اور لوگوں کو وادی بنا کر تقسیم پر ریفرنڈم کی مانگ کی اپیل بھی کر دی تھی۔ ان کا الزام تھا که ”کچھ لوگوں نے کسی قانونی اختیار کے بغیر سازش کر کے دیش کے شہریوں کی رضامندی کے بنا بٹوارے کا فیصلہ لیا ہے، جس کا احتیار انھیں تھا ہی نہیں۔

کراچی اور دہلی کے بیچ چھڑی اس سیاسی جنگ کی آنچ سے بھوپال بھی پوری طرح بَری نہ تھا۔ حالانکہ یہاں بقایا ملک کے مقابلے میں حالات کافی بہتر تھے، پھر بھی غم اور غصے کی آنچ پوری طرح بجھی نہ تھی۔

اسی ماحول میں دادا نے ایک طرف رفیوجی پنچائت کی ذمےداری اور دوسری طرف ہندو مہاسبھا کی راج نیتی میں شامل ہوکر اپنی مصروفیت کو بےطرح بڑھا لیا تھا۔ نئی نئی شروع ہوئی وکالت کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ نتیجے میں گھر کی مالی حالت بری طرح ڈانواڈول ہو رہی تھی۔ اسی بات کو لے کر گھر میں روز قلح مچتی۔ حالات کو قابو میں رکھنے کو دن رات کھٹتی ماں دادا کے زبانی حملوں اور تہمت طرازی کے نشانے پر رہتی۔

دادا اپنی گھریلو ذمےداریوں سے بھلے ہی بھاگ رہے ہوں لیکن سماجی ذمےداریوں کو نبھانے کے لیے انھوں نے خود کو پوری طرح کھپا رکھا تھا۔ اسی وجہ سے ان سے ملنے اور اپنے دکھ درد اور داد فریاد سنا کر مدد مانگنے والوں کی تعداد بھی لگاتار بڑھنے لگی تھی۔ صبح سویرے ہی حویلی کے بند دروازے پر سانکل کی چوٹ سے اٹھنے والی آواز باربار حویلی میں رہنے والوں کے معمول کے جیون میں خلل پیدا کرنے لگی تھی۔ اس دروازے سے ہی سٹا ہوا سب سے پہلا گھر داداجی کا تھا۔ اکثر وہی یا پھر چاچا، جو داداجی کے ساتھ ہی اوپر بنی برساتی میں رہتے تھے، جا کر دروازہ کھول دیتے تھے۔ بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا که حویلی کا کوئی دوسرا باشندہ جا کر دروازہ کھولتا اور آنے والے کے منھ سے دادا کا نام سن کر نراشا بھری آواز میں اس کی خبر ہمیں دے جاتا۔ دھیرے دھیرے ان سارے لوگوں نے یہ مان کر که دروازہ بجانے والا دادا کے لیے ہی آیا ہو گا، دروازہ کھولنا چھوڑ دیا۔ سواے داداجی کے کوئی بھی دروازہ کھولنے نہ جاتا۔ اس بدلاؤ کے نتیجے میں کئی بار دروازے کا سانکل دیر تک پِٹتا رہتا اور ہر بار اس کی آواز آروہی سے اوروہی کی اور چڑھتی چلی جاتی۔ جب دروازہ کھلتا تو یوں بھی ہو جاتا که آیا ہوا انسان حویلی کے کسی اور گھر کا مہمان نکلتا۔ ایسے میں ان کی بات چیت اس اُلاہنے کے ساتھ شروع ہوتی: ”کلاک کھوں در پیا کھڑکایوں! گھر میں سب سمھیا پیا ہیو چھا؟’’ (ایک گھنٹے سے دروازہ پیٹ رہا ہوں۔ گھر میں سب سو رہے تھے کیا؟)

آئے دن بنتی اس حالت سے تنگ آ کر سب نے ایک اجتماعی فیصلہ لے لیا که دن کے وقت دروازہ کھلا رکھا جائے۔ یہ فیصلہ سہولت کے ساتھ ہی ساتھ حویلی کے سندھی اور گلی کے مسلم پریواروں کے بیچ ایک دوسرے کے لیے دھیرے دھیرے بڑھتی آپسی سمجھ اور بھروسے کی علامت بھی تھا۔ دھیرے دھیرے بدلتے اس رشتے پر گھر میں جب بھی بات نکلتی تو ماں کہتی، ’’امیری میں ہوڑ اور غریبی میں جوڑ۔۔۔ لالہ یاد رکھنا، غریبی کا رشتہ آستے آستے بنتا ہے۔ مگر بن جائے تو سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔‘‘

گلی کے دو چار گھروں کو چھوڑ کر باقی ہر گھر سے ایک دم صبح سویرے لگ بھگ ایک ہی وقت ادھ کھلی آنکھیں اور بند مٹھی میں اکنی یا دونّی کے سکے لیے گھروں سے لوگ باہر نکلتے تو ایک دوسرے کا سامنا ہو ہی جاتا۔ ان سب کی راہ ایک ہی ہوتی: برجیسیہ مسجد کے نزدیک مشّو میاں اور پوکرداس کی پرچون کی دکانیں اور توس والی بیکری۔ روز روز ایک راہ چلتے، ایک دوسرے کو دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی تو دھیرے دھیرے مسکراہٹ کی ادلابدلی کرنا بھی سیکھ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ دکان کی طرف چلتے ہوے جب دکان پر پہنچ کر ان سب کی مٹھیاں کھلتیں تو سکّے بھی اکثر ایک ہی وزن کے نکلتے۔ اسی طرح آوازیں بھی ملتی جلتی سی ہی ہوتیں: ”چھوٹی پُڑیا، طوطا چھاپ اور ایک چھٹانک شکر۔‘‘ کسی کسی آواز میں یہ مانگ ایک آدھا پاؤ شکر اور دو پڑیاں بھی ہوتی، لیکن بروک بانڈ کی طوطا چھاپ چائے پتی کی مانگ لگ بھگ یکساں ہوتی تھی۔ لپٹن کی روبی ڈسٹ کی مانگ بھی سنائی دیتی، مگر ذرا کم۔

بدّو میاں اس چائے کے چسکے میں ڈوب رہے لوگوں سے بےحد خفا رہتے تھے۔ وہ بتاتے تھے که یہاں پہلے دودھ مکھن کا ہی چلن تھا۔ اسی وجہ سے سارا شہر اکھاڑوں اور پہلوانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بعد کو انگریزوں نے اپنی کمپنیوں کے منافعے کے لیے یہ ’’گندی‘‘ عادت ڈالی۔ ’’’شہر کے سارے ہاٹ بازاروں میں یہ لوگ ٹیبلیں لگا لگا کر مفت میں چا پلاتے تھے۔ آوازیں لگا لگا کے بلاتے، منتیں کر کر کے کیتے، چا پی لو میاں، چا پی لو۔ حرام کے جنے بُری تراں جھوم جاتے اور تب تلک پیچھا نی چھوڑتے جب تلک آپ چا پی نہ لو۔ سالے نہ جانے کاں کاں سے سات سات فٹے لوگ پکڑ لاتے که لوگ ان کو دیکھنے کھڑے ہو جائیں۔ آپ کھڑے ہوے نئیں که وِن نے فوراً آپ کو چا پلائی نئیں۔ ایسے ہی ایک بڑا لمب تڑنگ جوان آیا تھا جو جتّا لمبا تھا وِتنا ای چوڑا۔ اس کے پیچھے بچوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ وہ بھی باقی سب کی تراں غائب ہو گیا۔ اور بعد کو دیکھو تو سالا فلموں میں دِکھنے لگا۔ تبھی پتا چلا که اس کا نام شیخ مختار تھا۔ قسم خدا کی، اس کی فلم دیکھنے سارا شیر پونچ جاتا تھا ٹاکیز میں۔ وہ پردے پہ آتا تو آوازیں لگتیں: چائے گریم، چائے! اور پھر ٹھہاکے لگتے۔ پردے پہ تو وہ دس دس کو اکیلا پچھیٹ پچھیٹ کے مارتا ہے۔ اب تو اتّی ہل گداگد نئیں ہوتی جتّی پیلے ہوتی تھی۔ پیلے اس سالے نے چا کی عادت ڈالی، بعد کو فلم کی۔‘‘

بدّو میاں کی بات میں دم تھا۔ سچ مچ شہر بھر میں چائے کے اشتہار ہی سب سے زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ مشو میاں کی دکان پرانی اور ذرا چھوٹی تھی جبکہ پوکرداس کی دکان اس سے کچھ بڑی۔ چھوٹی دکان پر بروک بانڈ چائے کا اینامل پینٹ والا ٹین کا چھوٹا سا بورڈ لگا تھا تو اس نئی دکان نے بروک بانڈ، لپٹن اور اصفہانی چائے کی تختیاں ٹانگ رکھی تھیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوتا: ’’اچھی چائے جب / دل خوش میرا تب‘‘۔ بروک بانڈ والے ٹین کے پترے پر ماں بچہ چھاپ چائے، جسے کچھ لوگ عورت چھاپ چائے بھی کہتے تھے، کا اشتہار ہوتا جس پر چائے کا ایک بڑا سا پُڑا ہاتھوں میں تھامے ایک ناچتے گاتے پریوار کی تصویر ہوتی۔ اس کے نیچے انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھا ہوتا: ’’بروک بانڈ چائے – کورا ڈسٹ۔ سب کی دلچسپی کا مرکز۔‘‘

دوسرا اشتہار زیادہ صاف ستھرا اور سیدھی بات کرتا تھا: ’’کڑک اور بڑھیا چائے کی زیادہ پیالیاں – بروک بانڈ اے ون ڈسٹ ٹی۔‘‘ اس پر طوطے کی پیٹھ پر لدا ایک طوطا چھاپ چائے کے پیکیٹ کا چتر ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے که ان دونوں بڑے پیکٹوں کے خریدار اس دکان پر کبھی کبھار ہی دِکھتے تھے۔

لپٹن کی جاکوجا اور روبی ڈسٹ چائے کا اشتہار اسے ’’ہندستان کی عمدہ اور تیز خوشبو، خوش رنگ اور کم قیمت چائے‘‘ بتاتا تھا۔ لیکن صبح کے اس وقت دکان پر آنے والوں میں سے کسی کے بھی پاس ان اشتہاروں کو پڑھ کر چائے خریدنے کا سمے نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تو اکثر افراتفری کا ماحول بنا رہتا که سب کو جلدی گھر پہنچنا ہے۔ سب کے گھروں میں پانی کا پتیلا لگ بھگ چولھے پر چڑھنے کو تیار ہوتا یا پھر چڑھ ہی چکا ہوتا تھا۔ ایسے میں جلدی ہونا لازم تھا۔ اس پر بیچ میں شمیم بیکری والے، جسے سب شمّو بھائی بلاتے تھے، کے یہاں سے توس بھی لینے ہوتے تھے۔ خاص کر ٹائی لیور توس۔ واپسی کے وقت جواں مرد تیز چال سے اور بچے لگ بھگ دوڑتے ہوے جلدی سے گھر پہنچنے کو آتُر دکھائی دیتے۔ ہم لوگ تو باقاعدہ آپس میں ریس کرتے، کھلکھلاتے اپنے اپنے گھروں تک پہنچتے۔ کچھ دوستوں کے گھر بیچ میں ہی پڑتے اور کچھ کے آگے، ہماری حویلی گلی کے بیچوں بیچ تھی۔ ہر روز یہاں پہنچ کر مجھے داداجی کو، جنھیں میں بابا کہتا تھا، دروازہ کھولنے کو آواز دینی پڑتی تھی۔ لیکن اُس دن دروازہ پہلے ہی سے کھلا تھا۔ سو بس، سب اسی دوڑ والی رفتار میں سیدھے اندر گھس گئے۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

جگہ خالی ہے (تصنیف حیدر)

میں اس خوبصورت سی لکڑی کی بینچ پر بیٹھ کر قریب پچیس ہزار بار خود کو سمجھا چکا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر سمجھانے اور یقین دلانے میں جو باریک سا فرق تھا، وہ مجھ پر صاف روشن تھا۔پارک میں صبح صبح لوگ جوگنگ کرنے آئے تھے، بھاگتے دوڑتے لوگوں کے ساتھ یہ سر سبز پارک بھی گویا چکر پر چکر لگا رہاتھا،آس پاس کے جھولے سنسنان پڑے تھے، جیسے ان پر کبھی کوئی بیٹھتا ہی نہ ہو۔چڑیوں کی چہچہاہٹ لگاتار جاری تھی۔اگر یہ کوئی عام سا دن ہوتا تو شاید میں اس وقت ماحول کی خوبصورتی اور موسم کی رومانیت کا مزا لے رہا ہوتا۔مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔میں نے بے خیالی کے عالم میں آس پاس گھومتی ہوئی گلہریوں کو دیکھا، ان کے سنہرے بدن پر کھنچی ہوئی بھوری لکیریں، اٹھی ہوئی ایک گول محراب نما دم اور ہاتھوں کے پنجے، مونچھوں کی تراش، سب پر ایک نگاہ ڈالی، لمبے موٹے اور گھنے پیڑوں سے چھن کر آنے والی دھوپ نے ان کے حسن کو اور نمایاں کردیا تھا۔سفیداور پتلی سڑکوں پر دوڑتے ہوئے قدموں کی آہٹ پاکر یہ گلہریاں کبھی سبز گھانس پر پھرتی سے رینگ جاتیں، کبھی پیڑوں کے تنوں پر چڑھ دوڑتیں اور کچھ میرے پیر کے پاس سے ہوتی ہوئی پارک کی پچھلی دیوار کی طرف جانکلتیں۔ایک چھوٹی لڑکی نے جب دوڑتے دوڑتے میری ہی بینچ کے قریب بیر کی چار پانچ گٹھلیاں ایک پیڑ کے پاس اچھال دیں تو کچھ ہی دیر میں وہاں دو گلہریاں تیزی سے دوڑتی ہوئی آئیں اوران گٹھلیوں کو اپنے ننھے پنجوں میں اٹھاکر ان پر چسپاں بیر کو ہلکے ہلکے کترنے لگیں۔گلہریاں ایسے عالم میں بہت معصوم لگ رہی تھیں، ان کے ننھے ننھے پنجوں میں پھنسے ہوئے بیر پر ان کا منہ مارنا دیکھ کر محسوس ہوتا تھا، جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ آم کی گٹھلی پر لگی ہوئی زرد ملائی کو کشید کررہا ہو۔ان کے سینے پھولتے پچکتے تھے اور ایسے میں وہ بالکل ایک ایسی جواں سال آٹا گوندھنے والی لڑکی کی مٹھیاں لگانے کی جھلکیاں پیش کررہے تھے، جس نے ایک بڑے گلے والا لباس پہن رکھا ہو اور دور سے دیکھنے والوں کو اس روزن سے دو ہانپتی ہوئی رکابیاں صاف طور پر نظر آرہی ہوں۔پتہ نہیں ایسے میں کہاں سے ایک کوا بھی وہاں چلا آیا، جو تھوڑی ہمت دکھا کر ان سے وہ گٹھلیاں چھین لینا چاہتا تھا، اس کے زمین پر پائوں ٹکاتے ہی گلہریاں اتنی پھرتی سے گٹھلیاں چھوڑ کر بھاگیں، جیسے بھیڑ میں کسی کے اچانک فائر کردینے سے بھگدڑ سی مچ جاتی ہے۔میں نےپتھر پھینکنے کا اشارہ کرتے ہوئے کوے کو ڈرایا تو وہ تیزی سے اڑ گیا۔اسی لمحے مجھ پر پھر میرا خوف حملہ آور ہوگیا۔یہ خوف ہی تو تھا، جو میں آدھی رات سے اسی بینچ پر بیٹھا تھا، اب آٹھ بجنے آرہے تھے، لوگ پارک سے واپس ہورہے تھے، اور میں ابھی بھی کسی پتھر کی مورت کی طرح وہاں جما بیٹھا تھا۔

میں پچھلے کئی روز سے نوکری تلاش کررہا تھا۔جہاں جاتا مایوسی ہی ہاتھ لگتی۔میں نے سمپل گریجویشن کی ہے اور وہ بھی قریب قریب رعایتی مارکس حاصل کرکے پاس ہوا ہوں۔انگریزی ٹوٹی پھوٹی بول لیتا ہوں، مگر گرامر نہ جاننے کی وجہ سے اس میں بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں۔اپنی بات سمجھانے بھر کی انگریزی مجھے آتی ہے، مگر لگتا ہے کہ شاید میری زبان میں ہی کچھ ایسا نقص ہے کہ کسی کو میری بات سمجھ نہیں آتی۔پڑھائی میں کبھی میرا دل نہیں لگا، ٹھیک اسی طرح، جس طرح کام میں جی نہیں لگتا ہے۔کیا کام کروں، پہلے تو یہی سوچ پانا میرے لیے ناممکن تھا، مگر جب یہ کام بھی مجھ سے نہ ہوسکا تو دوسروں نے اس کی ذمہ داری لی۔میرے دو کزن، ایک ہی کمپنی میں اچھے عہدوں پر ملازم ہیں، انہوں نے بہتیری کوششیں کیں کہ مجھے اپنے ساتھ کام پر رکھوالیں مگر اول تو میں خود ٹالتا رہا اور جب ہامی بھری تو وہ جگہ کسی اور کو مل چکی تھی۔میں نے بھی جی ہی جی میں خدا کا شکر ادا کیا اور اوپر سے افسوس ظاہر کرتا رہ گیا۔اصل میں میرے کام نہ کرنے سے کسی کو کوئی پریشانی نہ تھی، خاندان بھر کا ہر آدمی مجھے نکما، کام چور اور نالائق کہہ کر اپنا کام چلا سکتا تھامگر مسئلہ تھا میرے بیوی بچوں کا۔چار سال پہلے میری شادی، ماں باپ کے حکم سے کرادی گئی تھی۔میرے ماں باپ کا خیال تھا کہ شادی کے بعد میری ذہنی حالت درست ہوجائے گی۔میں ایسا کاہل اور تساہل پسند انسان نہیں رہوں گا۔میرا گلیوں میں واہی تباہی پھرنا، دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر رات گئے تک گپ شپ کرنا، اوندھی سیدھی فلمیں دیکھنا اور محلے کی لڑکیوں میں ادھر ادھر منہ مارنا، سب کچھ بند ہوجائے گا۔مگر ایسا نہیں ہوا، یا شاید ایسا ہی ہوا، مگر جو کچھ ہوا وہ میرے ماں باپ کی توقع کے بالکل برخلاف تھا۔میں نے مذکورہ بالا سارے فالتو دھندے واقعی چھوڑ دیے تھے، مگر شادی کے بعد اب میرا ٹھکانہ میری بیوی کا پہلو تھا، میں دن رات اس کے ساتھ چپکا رہتا، وہ کچن میں ہوتی تو بہانے بہانے سے اس کے پاس جاکر پکارتا، کپڑے مشین میں دھونے لگاتی تو اس کی مدد کرنے کے نام پر پاس کھڑا واش بیسن کے نل سے اس پر پانی کے چھینٹے اڑاتا رہتا، چھت پر انہیں سکھانے جاتی تو خود بھی غیر ضروری ہواخوری کے نام پر اس کا پیچھا نہ چھوڑتا۔الغرض میں اس کے حق میں ایسا لستگا ہوگیا تھا کہ مجھ سے جان چھڑانا بے چاری غریب عورت کے بس کا نہ تھا۔وہ مجھے شرم دلاتی، بھرے پرے خاندان میں دوسروں کے کام کاج کا حوالہ دیتی، اور بھابیوں اور بھاوجوں کی دبی دبی مسکراہٹوں پر نظر ڈلواتی مگر کوئی بھی ٹوٹکا میرے لیے کارآمد نہ ہوتا۔

گاوں سے ناج آتا تو سب میں برابر تقسیم ہوتا، پھل، پکوان، شربت، شیرا کسی بھی چیز کی کمی محسوس نہ ہوتی تھی، ماں باپ کبھی کبھار احساس دلاتے کہ یہ ساری رنگ رلیاں ان کی زندگی تک ہی ہیں، جہاں ان کی آنکھیں بند ہوئی، سب دال دلیے کا بھاوپتہ چل جائے گا۔کوئی کام کا طعنہ دیتا تو میں کبھی تو چپ ہوجاتا اور کبھی غضبناک آنکھیں نکال کر کہتا کہ میں تو نوکری ڈھونڈتے ڈھونڈتے پریشان ہوگیا ہوں، اب کوئی نوکری میرے حساب کی ہے ہی نہیں تو کیا کیا جائے؟ کبھی منہ بسور لیتا، تر آنکھوں سے ایک ایک کو تکتا اور سوال کرتا کہ اگر گریجویشن اتنے کم نمبروں سے پاس کرپایا ہوں تو اس میں میری کیا غلطی ہے،مجھے پڑھائی سمجھ میں نہیں آتی، میں دوسروں کی طرح ہوشیار نہیں ہوں تو کیا اس میں میرا قصور ہے، ایسے میں سب مجھے لپٹاچمٹا کر اتنا پیار کرتے کہ مجھے خود اپنی حالت پر دیا آ جاتی۔

دراصل میرے کاہل ہوجانے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ میرے والد کی اردو سے محبت تھی۔انہوں نے اپنی شادی سے پہلے ہی یہ سوچ رکھا تھا کہ وہ اپنے بچے کو اردو زبان پڑھائیں گے۔ان کا خیال تھا کہ اردو زبان،اسلامی اقدار اور تہذیبی اخلاقیات کے باقی رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔انہیں میرے چاچا اور ماموں سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے کہ زمانہ انگریزی کا ہے، آپ اردو سے بے شک محبت کیجیے، اور زیادہ سے زیادہ گھر پر کسی استاد کو لگوا کر بچے کو یہ زبان سکھوادیجیے، مگر میرے والد اس سمے اصول کے پکے ہوا کرتے تھے، ان کا اصرار تھا کہ اگر سبھی بچے انگریزی میڈیم میں پڑھیں گے تو اردو میڈیم سکول کیا رفتہ رفتہ بند نہیں ہوجائیں گے۔وہ کہتے تھے کہ انسان کی قابلیت کا زبان سے کوئی سروکار نہیں ہے، جو شخص پڑھنا لکھنا جانتا ہے، وہ کسی بھی زبان میں پڑھائی کرے،اس کی قابلیت کو سماج میں رشک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور ایک ایسے معاشرے میں جہاں سبھی لوگ انگریزی میں گٹر پٹر کرلیتے ہیں، ان کا بیٹا ‘آہن’ سید خاندان کی آبرو بلند کرے گا اور زبان کی حفاظت کا سہرا بھی اس کے سر بندھے گا اور پھر انہیں کیا فکر ہے، جس طرح اردو گھر میں پڑھائی جاسکتی ہے، اس طرح انگریزی بھی گھر میں پڑھی جاسکتی ہے۔اور پھر اردو سکولوں میں کیا انگریزی کی تعلیم نہیں دی جاتی ؟ اب وہ زمانہ تو نہیں کہ جہاں اردو میڈیم میں پڑھنے کی وجہ سے انگریزی کی تعلیم پانچویں یا آٹھویں جماعت سے شروع کی جاتی ہو۔ان کے ایسے مباحث سے جیتنا سبھی کے لیے غیر ممکن تھا۔چنانچہ مجھے اردو سکول میں ڈال دیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ ابتدا میں میں بہت ہوشیار تھا، اس کی گواہی تیسری چوتھی جماعت تک کے میرے سکول کے نتائج سے بھی ملتی ہے، مگر پانچویں جماعت سے میری صلاحیت کی لکڑی میں دیمک لگنی شروع ہوئی۔چھٹی ساتویں تک پہنچتے پہنچتے میری حالت یہ ہوگئی تھی کہ میں نے ایک دفعہ اپنی موج مستی کے لیے چاچا کے جیب سے راتوں رات پیسے چرانے کی بھی کوشش کی۔حالانکہ اس چوری میں میرا چچا زاد بھائی ‘امین’ بھی برابر کا شریک تھا، مگر جب ہم پکڑے گئے تو سارا الزام مجھ پر دھر دیا گیا، امین تو کونے میں ایک طرف سرجھکائے کھڑا تھا اور میری چاچی منہ بنا بنا کر میرے ابا کو طعنے دے رہی تھیں۔’اور ڈالیے اردو میڈیم میں! خوب خاندان کا نام روشن کررہا ہے یہ لڑکا، خود بگڑے سو بگڑے، اب تو میری اولاد کو بھی بگاڑنے لگا ہے، یہی سب تو سکھایا جاتا ہے ان سکولوں میں۔’میرے والد بت بنے سن رہے تھے۔ان کے خواب اسی ایک پل میں چکنا چور ہوچکے تھے، وہ رات گئے میرے پاس آئے، میں ڈرا سہما بیٹھا تھا کہ آج تو خوب ٹھکائی ہوگی مگر اس کے برعکس انہوں نے مجھے ایک کمرے میں لے جاکر بند کردیا، رات بھر میں اس مدھم روشنی والے کمرے میں پڑا خوف اور ہیبت کے عالم میں چونکتا رہا، دری کا کونا بھی پاوں سے ٹکراتا تو محسوس ہوتا جیسے ابا پٹائی کرنے آگئے ہیں، صبح کے قریب دروازہ کھلا، وہ شاید فجر کی نماز پڑھ کر آئے تھے، ان کے ہاتھ میں رس ملائی تھی، خود پیار سے بیٹھ کر مجھے کھلائی اور ہر نوالے پر سمجھاتے رہے کہ چوری بہت بڑا عیب ہے، اس سے خدا ناخوش ہوتا ہے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ آئندہ اگر میں نے چوری کی تو انہیں بمجبوری خاندان سے الگ، اپنی اس چھوٹی سی فیملی کے ساتھ کہیں اور شفٹ ہونا ہوگا۔میں نے رو رو کر ان سے معافی مانگی اور یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہوگا۔اور پھر اس کے بعد میں نے کبھی چوری نہیں کی، نہ گھر پر نہ باہر۔بقول ابا کے، مجھے جس چیز کی ضرورت ہو، میں ان سے بلاجھجھک مانگ سکتا تھا۔اس لیے فلمیں دیکھنے جانا ہو یا تماشے، میلے ٹھیلے گھومنا ہو یا چٹورا پن کرنا ہو۔میں ہر بات بلادھڑک ان سے کہہ دیتا اور وہ مجھے پیسے دے دیتے۔

آٹھویں جماعت کے بعد انہوں نے ایک ماہانہ رقم میرے نام طے کردی تھی۔یہ رقم اتنی تھی کہ اگر میں قناعت سے کام لیتا تو اس میں سے کافی پیسے بچا سکتا تھا، مگر اب محلے میں میرے معاشقے شروع ہوچکے تھے۔لڑکیوں میں یہ بات مشہور تھی کہ ‘آہن’ جس کسی لڑکی پر عاشق ہوتا ہے، اس پر دھڑلے سے رقم خرچ کرتا ہے، چنانچہ لڑکیاں میرے آس پاس بھنبھیریوں کی طرح منڈراتیں۔میں بھی کبھی کسی کو ہار دلارہا ہوں، کبھی کسی کو سوٹ، کسی کو نئی شال لاکر دے رہا ہوں، کسی کو بندے۔اس کے علاوہ انہیں فلم دکھانا، میلے گھمانا اور بتاشوں سے لے کر مٹھائیوں تک سارے اخراجات کا نتیجہ تھا کہ دسویں تک پہنچتے پہنچتے رقم ملنے کے دس بارہ دن تک میرے ہاتھ میں ایک پائی بھی نہ بچتی تھی، اور پھر اسی زمانے میں مجھے سگریٹ بیڑی کا شوق بھی اپنی ایک محبت کو رجھانے کے چکر میں لگ گیا۔ایک لڑکی تھی ہمارے محلے میں، نام اس کا تھا شمائلہ، اس کی خاصیت یہ تھی کہ کبھی دوپٹہ نہ اوڑھتی تھی، ٹائٹ جینز پہنتی۔محلے میں آتے جاتے کئی لڑکے روزانہ اس کے مرض عشق میں مبتلا ہوتے، میں نے بھی بڑے حیلوں بہانوں سے اس تک رسائی حاصل کی تھی، ایسوں ویسوں کو تو وہ منہ ہی نہیں لگاتی تھی۔ پھر جب میری اس سے قربت بڑھ گئی تو اس نے ایک بار رات کا کھانا میرے ساتھ شہر کے ایک چھور پر دریا کنارے آباد سنسان جگہ پر قائم ہوٹل میں کھایا اور کھانے کے بعد ٹہلتے ہوئے اپنے بیگ سے ایک سگریٹ نکال کر جلایا۔میں اسے حیرت سے تک رہا تھا، اس نے جب سگریٹ کا دھواں میری طرف چھوڑتے ہوئے پوچھا کہ کیا میں نے کبھی سگریٹ پی ہے تو میں نے نفی میں سرہلادیا۔جواب میں اس نے میری طرف سگریٹ بڑھائی، میں انکار کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا، چنانچہ سگریٹ ہونٹوں میں لگا کر ناک اور منہ دونوں سے ایک ساتھ جو سانس بھری تو ایسا دھانسہ لگا کہ جان ضیق میں آگئی۔مگر اس نے تسلی دلائی اور بتایا کہ سگریٹ کس طرح پی جاتی ہے، میں ڈرا ہوا تو تھا، مگر شمائلہ کو انکار کرپانا میرے بس کی بات نہ تھی، چنانچہ میں نے دوبارہ دم بھرا، اب کہ بات کچھ بن گئی اور پھر یہ بات ایسی بنی کہ مہینے میں ملنے والے خرچ کا سارا تانا بانا بگڑ گیا، میں نے ابا سے رقم بڑھوانے کا مطالبہ کیا، جو کہ انہوں نے بڑھا بھی دی، پھر بھی حالت یہ ہوگئی کہ دس دن بعد مجھے دوستوں سے قرض لے کر کام چلانا پڑتا تھا۔

یہ بات تو طے ہے کہ شکل و صورت سے میں بالکل ہیرو نما لڑکا رہا ہوں۔ میرے اعصاب میرے نام کی ہی طرح فولادی ہیں۔چہرہ بھرا ہوا اور گورا چٹا، بازو اور رانوں کی مچھلیاں بھری ہوئی۔چونکہ میری زندگی کا زیادہ تر عرصہ فراغت میں بسر ہوا ہے اس لیے میرے بالوں میں ڈھونڈے سے بھی کوئی سفید بال کبھی نظر نہیں آیا اور باوجود اس کے کہ میں نے پابندی سے کبھی کسرت وغیرہ نہیں کی، میرا بدن کسرتی اور ڈیل ڈول جاذب نظر معلوم ہوتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ میرے زیادہ تر معاشقے کامیاب رہا کرتے تھے۔اکا دکا لڑکیاں ایسی بھی ہوتی تھیں، جن کو مجھ سے ایسا عشق ہوجاتا کہ جان چھڑانا مشکل ہوتا۔ایک لڑکی نے تو زہر کھانے کی دھمکی بھی دی تھی، وہ تو اچھا ہوا کہ جلد اس کی شادی ہوئی۔خدا کے فضل سے کوئی ایسا گھرانہ محلے بھر میں نہ ہوگا جہاں میری رسوائی ٹھیک طور پر نہ ہوئی ہو۔سب جانتے تھے کہ میں ادھر ادھر منہ مارتا ہوں، اور یہ سب میرے والد کی شہہ پر نہ سہی مگر ان کے جانتے بوجھتے ہوا تھا، مگر وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ جو بھی ہو، میرا بیٹا کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا اور چوری تو اس نے سکول کے ایک واقعے کے علاوہ زندگی میں دوبارہ کبھی کی ہی نہیں ہے۔جن دوستوں سے میں قرض لیا کرتا تھا، ان سے معاملات ہمیشہ رازدارانہ رہا کرتے تھے، قرض پر سود تو کوئی دوست نہ لیتا، البتہ جب میرے پاس پیسے آجاتے تو وہ بھی موقع دیکھ کر اضافی رقم ادھار لے لیا کرتے اور کئی دفعہ واپس ہی نہ کرتے، میں بھی یہ سوچ کر معاملہ رفع دفع کردیتا کہ وہ میرے ہم راز ہیں، ہر بات میں میرا خیال کرتے ہیں سو اگر چار پیسے ان کی طرف زیادہ بھی اٹھ جاتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ظاہر ہے کہ وہ رقم میری کمائی ہوئی نہ تھی، والد خاندانی امیر تھے، میرے چچا سے عمر میں بڑے تھے اور نماز روزے کے پابند، حاجی، سو ان کی محلے بھر میں ایک الگ ہی عزت تھی۔رفتہ رفتہ گھسٹتے ہوئے ہی سہی، میں نے گریجویشن میں داخلہ حاصل کرلیا۔اب تک میں اپنے معاشقوں سے پورے محلے کا ناطقہ بند کرچکا تھا، اب گھر پر شکایتیں آنے لگی تھیں، لوگ دبی دبی مسکراہٹوں اور کبھی کبھار ضبط و تحمل کے دامن پر غصے کا پیوند لگا کر گھر بھی آن چکے تھے۔والد اور والدہ سے منتیں سماجتیں بھی کی جاچکی تھیں اور ان پر اخلاقی دبائو بھی ڈالا جارہا تھا، چنانچہ میری شادی کی تجویز پیش کی گئی۔چچا جان نے اپنے ایک دوست عمیر بھائی کی بیٹی آمنہ سے میرے رشتے کی بات ٹھہرادی اور زیادہ دن نہ گزر پائے کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ کی تعبیر عمل میں آگئی۔شادی کے پہلے سال ہی میری بیوی نے ایک لڑکی کو جنم دیا، ابا نے اس کا نام رقیہ رکھا، دوسرے سال پھر ایک اور لڑکی، جس کو زینب کا نام دیا گیا اور تیسرے سال دو لڑکیوں کے بعد ایک چاند جیسے لڑکے نے اپنی ماں کی بغل میں انگڑائی لی تو گھر کا گھر جھوم اٹھا، ابا نے اس بچے کا نام ‘ارمان ‘ رکھ دیا۔تلے اوپر کے ہونے کی وجہ سے ان تینوں بچوں نے میری بیوی کو بے حد مصروف کردیا۔میں اس کی توجہ جتنی بھی اپنی جانب کرنا چاہتا،ممکن نہ ہوپاتی، پہلے ہی گھر بھر میں لوگ بھرے پڑے تھے، میرے چچا زادبھائیوں کی شادی تو مجھ سے بھی چھوٹی عمر میں کردی گئی تھی، میں چونکہ بارہویں میں دو دفعہ فیل ہوچکا تھا، اس لیے وہ مجھ سے پہلے گریجویشن کرچکے تھے۔چنانچہ جب میری شادی ہوئی تو اس میں میری بھابھیاں بھی شریک تھیں۔میرے دونوں کزن بھائیوں کی کوئی بھی اولاد نہ تھی، ان پر کوئی ایسا دباو بھی نہ تھا اور وہ خود بھی اپنی اولاد کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتے تھے۔گریجویشن پاس کرنے کے بعد مجھ پر اس چیز کا دبائو زیادہ ہوگیا، جس کو ابھی تک میں ٹالتا آیا تھا، یعنی صاحب روزگار ہونے کا پریشر۔والد صاحب، اب بات بات پر اٹھتے بیٹھتے کسی نہ کسی بہانے یہ اشارہ کرنے لگے تھے کہ مجھے اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کا بار اٹھانے کی تیاری شروع کردینی چاہیے۔

چچا زاد بھائی کوشش کرکے دیکھ چکے، ابا طعنے دے کر ہار چکے، چچا اور ماموں دونوں نے ایک دو جگہ اپنے تعلقات کو استعمال کرکے مجھے چھوٹی موٹی دوکانوں پر بٹھانے کی کوشش کی، مگر میں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ جب تک میرے حساب کی نوکری نہ ملے گی، میں نہیں کروں گا۔اب یہ میرا حساب کیا تھا، اس پر ایک دن پورا گھر مجھ سے الجھ گیا، مگر میں انہیں سمجھا نہیں پایا۔میری درخواست کوئی بہت زیادہ بڑی نہ تھی، میں چاہتا تھا کہ تین بچوں کے باپ کو ایسی کوئی نوکری ملنی چاہیے، جس سے کم از کم سماج میں اس کی بے عزتی نہ ہو، جبکہ اس کے دونوں چچا زاد بھائی اچھی کمپنی میں بڑے عہدوں پر ملازم ہیں۔جب وہ لوگ مجھے ان کی اور میری تعلیم کے درمیان موجود فرق پر دھیان دینے کو مجبور کرتے تو میں کہہ دیتا کہ اس میں میرا قصور نہیں۔ابا نے مجھے کیوں انگریزی میڈیم سکول میں نہیں ڈالا۔اگر ڈالا ہوتا تو آج اس تفریق کی وجہ سےمیرے لیے دوکانوں پر بیٹھنے والے کام نہ ڈھونڈنے پڑتے، آمنہ بھی اس معاملے میں میری رفیق فکر تھی، مگر پھر بھی وہ چاہتی تھی کہ میں کوئی کام کروں، اس طرح گھر میں پڑے رہنا اسے اس کی بھابھیوں کی نظر میں مجرم بنا رہا تھا، حالانکہ چچا زاد بھائی کچھ نہ کہتے تھے، کیونکہ ان پر کسی قسم کا معاشی دبائو نہیں پڑرہا تھا، مگر پھر بھی ایک ناہمواری کا بوجھ میری بیوی کی پلکوں پر صاف دیکھا جاسکتا تھا۔

ایک شام کا واقعہ ہے کہ میں بیٹھا کھانا کھارہا تھا، دو بچے پلنگ پر سورہے تھے اور سب سے بڑی رقیہ اپنے ننھے پیروں سے، لڑکھڑاتی، چلتی پورے گھر میں یہاں سے وہاں تک دوڑ لگارہی تھی۔میرے چچا نے مجھے آواز دی، انہیں پتہ لگا کہ میں کھانے میں مصروف ہوں تو وہ خود ہی میرے پاس چلے آئے۔ان کے ہاتھ میں ایک مڑا تڑا اخبار تھا، ایک اشتہار دکھاتے ہوئے مجھے کہنے لگے کہ اس جگہ کام کے لیے کچھ لڑکوں کی ضرورت ہے، کام کی تفصیل تو زیادہ نہیں لکھی، البتہ انہیں صرف دسویں اور بارہویں پڑھے ہوئے لڑکوں کی ضرورت ہے اور تنخواہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ ہے۔جگہ گھر سے زیادہ دور نہیں ہے، میں چاہوں تو پیدل بھی جاسکتا ہوں اور چاہوں تو سائیکل رکشہ کرسکتا ہوں، جس کے ایک طرف کا کرایہ مشکل سے دس روپے ہوگا۔میں نے ان کے ہاتھ سے اشتہار لے کر دیکھا۔کسی ‘قافلہ کمپنی ‘کا اشتہار تھا، نام سے وہ کوئی سیرو سیاحت کرانے والی کمپنی معلوم ہوتی تھی، میں نے سوچا، ایک دفعہ جانے میں کوئی حرج نہیں، کیا پتہ اس طرح ملک اور بیرون ملک مفت میں گھومنے کا کوئی راستہ نکل آئے۔میں نے دلچسپی دکھائی تو چچا جان نے خوشی خوشی ایک پرچے پر اس جگہ کا پورا پتہ اور فون نمبر درج کردیا۔رات بھر میرے حواس پر وہ اشتہار چھایا رہا، میں نے محسوس کیا کہ میں ایک ٹورزم کمپنی کا ملازم بن چکا ہوں، اور میرے ابا آتے جاتے لوگوں کو یہ بات فخر سے بتارہے ہیں۔یہ بات اس سے پہلے تو میرے دھیان میں ہی نہیں آئی تھی کہ میں سیر و سیاحت کرانے والی کمپنیوں سے ملازمت طلب کرسکتا ہوں، یہی ایک ایسا شعبہ ہے جہاں زیادہ پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں، البتہ مختلف شہروں، جگہوں، علاقوں کی جانکاری ضروری ہے، میرے سکول میں پڑھنے والے دو لڑکوں نے تو باقاعدہ ٹورزم کا کورس کیا تھا اور ان میں سے ایک تو نہ جانے کہاں تھا مگر دوسرے کے بارے میں سننے میں آیا تھا کہ جاپان میں ہے۔اورجہاں تک میری معلومات ہے اسے بالکل جاپانی نہیں آتی تھی۔سو جاپانی جانے بغیر اگر اس شعبے کی مدد سے جاپان تک جایا جاسکتا ہے تو انگریزی جانے بغیر کیا اپنے ہی ملک کی سیر نہیں کی جاسکتی، جہاں لوگ اردو لکھ پڑھ نہ پاتے ہوں، مگر سمجھ تو سکتے ہی ہیں۔رات گئے میں نے آمنہ کو بھی اس بارے میں خوشی خوشی بتایا۔کسی کام کے بارے میں اتنی دلچسپی سے مجھے بات کرتے دیکھنا اس کے لیے حیران کن بھی تھا اور خوش آئند بھی۔میں نے تصور کیا کہ اب چند دن بعد میں بھی دفتر سے تھکا ہارا آیا کروں گا اور میری بیوی مجھے گرم گرم روٹیاں سینک کر دے گی، بھابھیوں کی نظر میں میری عزت ہوگی، والدین بات بات پر بلائیں لیں گے، گھر کے ہر مشورے میں بڑی عزت سے مجھے شریک کیا جائے گا،مشترکہ اخراجات کی مجھے بھی فہرست دکھائی جائے گی۔نکما، کام چور اور ایسی ہی الا بلا سے پکارے جانے کا اب کوئی نام بھی نہ لے گا۔یہی سوچتے سوچتے نہ جانے کب آنکھ لگ گئی اور جب آنکھ کھلی تو بیوی جھنجھوڑ کر مجھے جگارہی تھی۔گیارہ بج رہے تھے، میں جلدی سے اٹھا، نہایا، دھویا، تیار ہوا۔الم غلم جو ملا، کھایا اور گھر سے نکل گیا۔

آدھے راستے پہنچ کر مجھے یاد آیا کہ جس کاغذ پر میں نے اس کمپنی کا نام اور پتہ لکھا تھا، وہ تو میں گھر پر ہی بھول گیا ہوں، سوچا رکشہ پلٹوالوں، مگر پھر اپنی یادداشت پر بھروسہ کرکے مطمئن ہوگیا۔رکشہ کو جو منزل بتائی تھی، وہاں پہونچ کر قریب آدھے گھنٹے کی محنت کے بعد مجھے ایک گلی کی جانب مڑتا ہوا بورڈ دکھائی دیا۔اس پر محض ‘قافلہ ‘ لکھا تھا۔میں گلی میں مڑ گیا۔آخری مکان تک پہنچا تو ایک پرانے لکڑی کے دروازے پر زنجیر لٹکی ہوئی نظر آئی۔دروازہ کھٹکھٹایا۔کچھ دیر بعد ایک ادھیڑ عمر کا آدمی نیلی رنگ کی نیکر اور ہاف سلیو شرٹ پہنے برآمد ہوا۔میں نے اس سے قافلہ کمپنی میں ملازمت کے اشتہار کے تعلق سے کچھ دریافت کرنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی اس نے انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کیا، معلوم ہوتا تھا اس کا منہ کسی چیز سے بھرا ہوا ہے، جسے وہ لطف لے لے کر چبا رہا ہے اور اگلنا یا نگلنا نہیں چاہتا۔میں تیزی سے پہلی منزل پر پہنچ گیا۔کمرے کے باہر ہی ایک پرانی تختی پر ‘تشریف لائیے’ لکھا ہوا دیکھ کر میں اندر داخل ہوا۔سامنے ٹائی سوٹ میں ملبوس ایک آدمی بیٹھا تھا، اس کے سامنے طرح طرح کے کاغذ بکھرے ہوئے تھے، دور دور تک کوئی نظر نہ آتا تھا مگر کمرا صاف و شفاف تھا،آدھی دیوار پر کائلے ٹائلز لگے تھے اور آدھی دیواریں ہلکے پیلے رنگ سے پتی ہوئی تھیں۔انہیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ پتائی حال ہی میں ہوئی ہے۔برابر ہی ایک سٹینڈ پر ایک گھڑونچی رکھی تھی، جس پر ایک گلاس بھی اوندھا رکھا گیا تھا۔ٹائی سوٹ میں ملبوس شخص نے سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔میں نے گلا کھنکھارتے ہوئے اپنے آنے کا مقصد بتایا۔

‘جی وہ اخبار میں آپ کی کمپنی کا اشتہار دیکھا تھا، آپ کو شاید لوگوں کی ضرورت ہے۔میں گریجویشن پاس کرچکا ہوں۔’
اس نے مجھے غور سے دیکھا، بیٹھنے کا اشارہ کیا اور مجھ سے کوئی دستاویز طلب کرنے کے بجائے،ایک کاغذ پر پہلے میرا نام اور پتہ لکھوایا، انہیں پڑھا، دوہرایا، ایک ہنکار بھری اور پھر یکبارگی مجھ سے پوچھا؟
‘ٹکٹ تقسیم کرسکتے ہو؟’
‘ٹکٹ؟ کیسے ٹکٹ؟’

اس نے وضاحت کی۔’دیکھو، ہماری کمپنی نئی ہے، فی الحال ہم ایسے نوجوانوں کی تلاش میں ہیں، جو مختلف مقامات کی سیر پر جانے والے ٹکٹ لوگوں کو تقسیم کرسکیں، ابھی تک ہمارے پاس پانچ لڑکے ہیں، تم چھٹے ہوگے، ہر دن ہر مقام پر ایک الگ لڑکا کھڑا ہوکر لوگوں کو ہماری کمپنی کے ساتھ سیر پر جانے کے لیے آمادہ کرتا ہے اور اس کے لیے ہم نے جگہ جگہ کے ٹکٹ تیار کروائے ہیں، مثال کے طور پر مسوری، شملہ، منالی وغیرہ وغیرہ۔تمہیں ایک دن پاکیزہ سینما کے سامنے، ایک دن ریلوے سٹیشن کے پاس، ایک دن رائل پارک میں یہ ٹکٹ فروخت کرنے ہونگے۔ایسی ہی اور بھی جگہیں ہیں جو وقت وقت پر تبدیل ہوتی رہیں گی۔’

‘اور تنخواہ؟’ میں نے سوال داغ دیا۔

‘تنخواہ، تمہاری محنت کے حساب سے طے ہوگی، یعنی ہر ٹکٹ پر تمہارا کمیشن دس فیصد ہے۔کسی ٹکٹ کی قیمت تین ہزار ہے، کسی کی پانچ اور کسی کی دس ہزار۔اب اس حساب سے تم خود ہی سوچ لو، اگر تم روزانہ تین ہزار روپے والا ایک ٹکٹ بھی فروخت کرلیتے ہو تو مہینے میں چھ ہزار ویسے ہی بن جائیں گے۔’

وہ بہت سنجیدگی کے ساتھ مجھے یہ ساری پالیسی سمجھا رہا تھا اور میرے جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔میں سید عاشق علی کی اولاد نرینہ۔اب پورے شہر میں سڑکوں پر کھڑے ہوکر لوگوں سے ٹکٹ خریدنے کی درخواست کرتا پھروں گا۔ایسی واہیات نوکری اور کوئی تنخواہ بھی نہیں۔پتہ نہیں وہ کون بد نصیب ہوں گے جو اس کمبخت کے حلیے اور ٹائی سوٹ پر بھروسہ کرکے اس نوکری کے لیے ہامی بھرچکے ہوں گے۔میں اس کی بات سنتے سنتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔مگر وہ بدستور بولتا رہا۔اب مجھے اس پر بہت غصہ آرہا تھا۔میں نے کہا کہ یہ سب کام میرے بس کے نہیں، دفتر کے اندر کچھ لکھنے پڑھنے کا کام ہو تو میں کرسکتا ہوں۔وہ خاموش ہو گیا، کچھ دیر تک سوچتا رہا اور پھر اپنے پاس مجھے بلایا، خود اپنی کرسی سے اٹھا اور مجھے اس پر بٹھا کر کہنے لگا، میں واش روم جارہا ہوں، اتنی دیر میں اگر تم ان مختلف جگہوں کے بارے میں پڑھ کر ایسے کچھ نکات نکال سکو، جنہیں ہم اپنے سونیر (Souvenir)میں شامل کرسکیں، تو میں تمہاری درخواست پر غور کرسکتا ہوں۔لیکن یاد رہے کہ باتیں اتنی دلچسپ ہوں کہ سننے والا مبہوت ہوجائے اور ٹکٹ خریدنے پر مجبور ہوجائے۔اتنا کہہ کر وہ کمرے سے ملحقہ واش روم میں چلا گیا اور اس نے اندر سے کنڈی لگالی۔

میں نے کاغذات کھنگالے، خوبصورت جگہوں کی تصویریں بہت بہترین انداز میں کھینچی گئی تھیں۔ان کے ساتھ مختلف قسم کے نقشے اور ان سے ہی منسلک کاغذات پران جگہوں کے بارے میں معلومات دی گئی تھیں۔مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ ساری معلومات انگریزی میں تھیں اور وہ انگریزی،ویسی انگریزی بالکل نہ تھی، جس میں رعایتی نمبر حاصل کرکے میں نے گریجویشن کی سند حاصل کی تھی۔پھر وجہ یہ بھی تھی کہ سکول اور کالج میں انگریزی میرے لیے وبال جان ہی رہی تھی، میں بس کسی طرح اتنا پڑھ لیتا کہ پاس ہوجائوں، مجھے لگا تھا کہ ان کاغذات کے تعلق سے وہ معلومات کام آجائیں گی، میں نے بہت کوشش کی مگر آنکھوں کے سامنے چیل بلیاں سی ناچتی نظر آئیں۔کچھ الفاظ سمجھ میں تو آرہے تھے مگر مجموعی پیراگراف کا تاثر کیا ہے، بلکہ کسی سطر کا سیدھا سیدھا مطلب کیا نکلتا ہے، یہ بات پلے نہیں پڑرہی تھی۔اس امید پر پانی پھرتے دیکھ کر مجھے خود پر شرم سی آئی، مگر میں نے اس کام پر لعنت بھیج کر یہاں سے اٹھ جانا چاہا، کرسی کھسکا کر میں اٹھ ہی رہا تھا کہ ٹیبل کی دراز ذرا سی کھل گئی، غالبا اس کی چابی، جو کہ اس سے منسلک قفل سے لگی جھول رہی تھی، میرے جھٹکا دینے سے آگے کو کھسک آئی تھی۔دراز میں پانچ سو روپے کا نوٹ ایک پیپر ویٹ کے نیچے دبا ہوا رکھا تھا۔پتہ نہیں اچانک کیا ہوا کہ آن کی آن میں میں نے اپنی دو انگلیاں دراز میں ڈالیں، پیپر ویٹ کو کھسکایا اور وہ نوٹ جلدی سے اٹھا کر جیب میں اڑس لیا، اتنے میں واش روم میں فلش چلانے کی آواز آئی، میں تیزی سے اٹھا، سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے اترا اور تھوڑی دیر میں یہ جا وہ جا۔گلی سے گزرتا ہوا سڑک پر آیا اور ایک رکشے میں بیٹھ کر اسے فورا گھر کی طرف چلنے کا حکم سنا دیا۔

آدھے راستے پہنچا تھا کہ ایک خیال سے میرا پورا دماغ شل ہوگیا۔ایسا محسوس ہوا کہ پیروں تلے زمین نکل گئی ہو، مجھے یاد آیا کہ جس جگہ سے میں شاطرانہ طور پرچوری کرکے نکل بھاگا ہوں۔اسی ٹیبل پر میرا نام اور پتہ صاف صاف لکھا ہوا رکھا ہے۔ گھر کے نزدیک پہنچ کر میں نے رکشہ رکوالیا، اور ڈر کے مارے گھر نہ جاکر گلیوں گلیوں چکر کاٹتا رہا،بھوکا پیاسا، جب شام کو چھ، سوا چھ بجے کے قریب گھر کی طرف آیا تو دور سے ہی دروازے پر ایک کانسٹیبل کھڑا ہوا نظر آیا۔میرے ابا اس سے کچھ بات کررہے تھے، برابر میں ہی دونوں چچا زاد بھائی بھی موجود تھے۔میرا سر چکرا گیا، جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔اس شخص نے ضرور پولیس کو اطلاع کردی تھی، جی میں آئی کہ واپس جاکر اسے پیسے لوٹا دوں، مگر اتنی ہمت ہی نہ ہوئی۔ایک شخص مجھے نوکری دینا چاہ رہا تھا اور میں اس کے یہاں سے چوری کرکے نکل بھاگا اور وہ بھی تب، جب اس نے مجھے پورے بھروسے کے ساتھ، میری پسند کا کام دینے کا ارادہ کیا تھا۔مگر مجھ سے جو کچھ ہوا تھا وہ حادثاتی طور پر ہوا تھا، میں پیسے چرانا نہیں چاہتا تھا، اگر وہ دراز نہ کھلتی اور پانچ سو کا نوٹ مجھے نظر نہ آتا تو شاید میں ابھی اطمینان سے اپنے گھر پر لیٹا ہوا ہوتا، اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہوتا یا اپنی بیوی کو اس کمپنی کی کمیشن والی روداد سنارہا ہوتا کہ کیسے یہ لوگ بے چارے غریب اور بے روزگار لوگوں کو ٹھگ رہے ہیں۔چچا کو اس ٹائی سوٹ والے کی کرتوت بتاتا، مگر اب تو میرا گھر پر جانا ہی محال ہورہا تھا۔میں ادھر ادھر بھٹکتا رہا، عشا کی اذان کے بعد جب اندھیرا گھر آیا تو سوچا گھر چلاجائوں مگر ابا کی نظروں کا خیال کرکے عجیب سا خوف دل میں اتر آیا اور میں نے ایک ٹھیلے پر سے چھولے بٹورے خرید کرکھائے اور نماز پڑھنے چلا گیا۔رو دھو کر خدا کے حضور دعا کی، اپنی غلطی کی معافی مانگی اور اسے یقین دلایا کہ اگر سب کچھ ٹھیک ہوگیا تو اگلے دن یہ پانچ سو روپے واپس اس شخص کو لوٹا آئوں گا چاہے وہاں کتنی ہی خفت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔لوگ نماز پڑھ پڑھ کر واپس جارہے تھے، مگر میں بیٹھا رہا، قریب ایک سوا ایک پر وہاں سے اٹھا اور قریب ہی کے پارک میں پہنچ گیا، جہاں رات سے لے کرگیارہ بجے تک خود کو سمجھاتا رہا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

اب حالت خراب ہو چکی تھی، چنانچہ گھر جانا مجبوری تھا، میں نے دل پر پتھر رکھا اور گھر کی طرف قدم بڑھادیے۔گھر پہنچا تو دونوں بھائی نوکری پر جاچکے تھے، ابا اور چاچا جان بھی نہیں تھے۔دونوں بھابھیاں اپنے اپنے کمروں میں تھیں۔آمنہ مجھے دیکھتے ہی مجھ سے لپٹ گئی، روتے روتے اس نے پوچھا کہ کل سے میں کہاں غائب ہوں، سب لوگ کتنے پریشان ہیں۔ابا اور چاچا کے ساتھ ساتھ دونوں بھائی بھی میری تلاش میں جہاں تہاں بھٹک رہے ہیں، بلکہ آج وہ اسی وجہ سے نوکری پر بھی نہیں جاپائے ہیں۔ابھی کچھ دیر میں مسجد سے اعلان کرائے جانے کی تجویز پر بھی عمل ہونے والا تھا۔میں اس سے پوچھنے ہی والا تھا کہ کل جس کانسٹیبل سے ابا بات کررہے تھے وہ کیوں آیا تھا کہ اسی وقت دروازے پر کسی کے ڈنڈا بجانے کی آواز سنائی دی، پردہ سرکا تو میں نے دیکھا کہ خاکی پینٹ اور شرٹ میں ملبوس وہی کل والا کانسٹیبل دروازے پر کھڑا ہے، میری ہتھیلیوں میں پسینہ اتر آیا، میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں آمنہ کے پیچھے کسی بچے کی طرح چھپ جائوں۔مگر اسی وقت اس نے اپنے پلو میں بندھے پندرہ روپے نکال کر کانسٹیبل کو دیے اور کہا۔

”آج یہ باہر کی نالی ٹھیک سے صاف کردینا بھیا۔۔۔پھر کل کی طرح اباجی کی ڈانٹ نہ کھانی پڑے تمہیں۔”
اور جواب میں وہ مسکراکر سلام کرتا ہوا رخصت ہوگیا۔
٭٭٭

Categories
فکشن

انار گلے (حمزہ حسن شیخ)

اپنے نام کی طرح ، وہ واقعی انار کی کلی تھی، بہت ہی نازک، خوبصورت اور دل موہ لینے والی۔ یہ اس کا اصل نام تھا یا اسے اس نام سے پکارا جاتا تھا۔ کوئی بھی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ بچپن سے ہی ، وہ اناروں سے کھیل رہی تھی، اس لیے سب نے سوچا کہ قندھاری اناروں کا سرخ رنگ، چمک دمک اور تازگی اس میں سرایت کر گئی تھی اور اس کی شخصیت بھی اس رنگ میں رنگ گئی تھی۔ شاید، اس میں کچھ حقیقت بھی تھی۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ قندھار سے ہی تعلق رکھتی ہے اور واقعی اس کے والدین نے اس کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے وہاں سے ہجرت کی تھی ۔ اس کا باپ پھلوں کا بیوپاری تھا اور قندھار سے وزیرستان انار درآمد کرتا تھا۔ اگرچہ اس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ یا اس کاروبار کا اجازت نامہ تو نہ تھا مگر ان دنوں کسی کی اجازت کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ اناروں کی بند پیٹیاں قندھار سے خوست لائی جاتیں اور وہاں سے مختلف پہاڑی راستوں سے ان کو وزیرستان سمگل کیا جاتا جہاں راستے میں کوئی سیکیورٹی روکاوٹ نہ تھی۔ یہی ان کا روزگار تھا اور اس کا باپ اس کا کاروبار کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ ان کے دن بہت خوشحال اور خوش کن تھے۔ زندگی اتنی ہی تروتازہ تھی جتنی ان پیٹیوں میں بند انار۔ کاروبار پھیلنے کے ساتھ ساتھ ، اس کے باپ نے بھی وزیرستان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور ان کو ہجرت کر کے یہاں بسنے میں کوئی روکاوٹ پیش نہ آئی۔ علاقہ سارا ایک جیسا تھا، سر سبز و شاداب پہاڑوں سے بھرپور ، اونچے اونچے درخت اور موسم سرما میں جب وہاں پر برف باری ہوتی تو سارے پہاڑ برف سے اٹ جاتے۔ وہ انہی اونچے پہاڑوں پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ گھر کی کوئی دیوار نہ تھی لیکن دو کمروں پر مشتمل گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا جس کے ایک طرف لکڑی کے خالی ڈبے پڑے تھے جن میں انار پیک کر کے ان کو بھیجے جاتے تھے۔

انار گلے کے چہرے پر قندھار کی خوبصورتی چھلکتی تھی۔ وہ کپاس کی طرح نازک تھی۔ اگر اس کی جلد کو چھوا جاتا تو نشان پڑ جاتے ۔ وہ ہمیشہ لمبے لمبے گھاگھرے پہنتی جو مختلف قسم کے سکوں سے سجے ہوتے اور ہر وقت ماحول ان کی جھنکار سے گونجتا رہتا۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی، اس نے اپنے اردگرد انار ہی انار پائے۔ وہ ان سے کھیلتی اور رسیلے انار کھاتے کھاتے بڑی ہونے لگی۔ جب وہ سمجھدار ہوئی تو ماں نے اس کو بھی اپنے ساتھ کام میں لگا لیا اور اب وہ والدین کی مدد کے لیے ان کا ہاتھ بٹانے لگی۔ زیادہ تر وہ ہی پیٹیاں کھولتی، پھلوں کو پرکھتی ، ان کو معیار کے مطابق تقسیم کرتی اور دوبارہ ان کو پیک کر کے مختلف شہروں کو بھیجا جاتا۔ انار کی جلد اتنی سخت ہوتی کہ یہ لمبے عرصے تک باسی نہ ہو پاتا لیکن کبھی کبھار ذریعہ آمدورفت کی نقل و حرکت اور لمبے فاصلے کے سفر کی وجہ سے یہ خراب یا ضائع ہو جاتے تاہم ان کٹے پھٹے اناروں کا یہ لوگ رسیلا رس نکال کر پینے کے لیے استعمال کرتے۔ انار گلے کے برف کی طرح سفید ہاتھ اب ان اناروں سے رنگ چکے تھے کیونکہ جب بھی وہ ان کو کاٹتی، صاف کرتی تو یہ اس کے ہاتھوں پر نشان چھوڑ جاتے۔

زندگی اپنی موج میں رواں تھی کہ اچانک روس اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ساتھ ہی اناروں کی نقل و حرکت بھی بند ہو گئی۔ اس کے باپ نے ہاتھوں میں بندوق پکڑی اور ایک دن ان کو اکیلا چھوڑ کر روس کے خلاف لڑنے نکل گیا۔ ان کو اسے روکنے کا موقعہ تک نہ ملا اور وہ جہاد کرنے کے لیے پہاڑوں کے پیچھے گم ہو گیا۔ زندگی مشکل ہو گئی اور اس کی ماں نے پیٹ بھرنے کے لیے کوئی اور کام شروع کرنے کا سوچ لیا اور وہ سلائی کڑھائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر چلانے کے لیے کچھ پیسوں کا بندوبست ہو سکے جبکہ وہ اسی مقصد کے لیے دھاگے رنگنے کا کام کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ دوبارہ کئی رنگوں سے رنگ گئے تھے لیکن ان سے اناروں کی خوش کن بو نہیں آتی تھی اور انار گلے باسی انار کی طرح مرجھا گئی تھی۔ وہ اناروں سے ا تنی مانوس ہو چکی تھی کہ کبھی بھی یہ کاروبار نہ چھوڑتی لیکن اب اور کوئی راستہ بھی نہ تھا۔

ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا مگر اس کا باپ واپس نہ آیا اور وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ اس کی کوئی خیر خبر نہ تھی اور نہ ہی دوسری طرف کے تاجر نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ جنگ زوروں پر تھی اور ان کو توپوں کی گھن گرج اپنے گھر میں صاف سنائی دیتی تھی۔ کبھی کبھار تو ان کو سرحد پار سے، پہاڑوں کے پیچھے سے دھواں بھی اٹھتا دکھائی دیتا۔ وہ سرحد کے ساتھ ہی زندگی گزار رہے تھے اس لیے یہ آوازیں ان کو بآسانی سنائی دیتیں۔ کبھی کبھار تو ان کو اپنے قدموں تلے زمین بھی لرزتی محسوس ہوتی اور زوردار دھماکوں کی وجہ سے کھڑکیاں اور دروازے بھی بجنے اور لرزنے لگتے۔ یہ بہت خوفناک صورت حال تھی اور اکثر رات کو، ایسا دکھائی دیتا جیسے آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہو۔ شدید فائرنگ اور بمباری سے ان کی رات کی نیند جاتی رہتی اور وہ کئی کئی راتوں سو نہ پاتے۔ کوئی ایسا گھنٹہ نہ تھا جب دوسری جانب کوئی میزائل نہ گرتا۔ کئی بار وہ پہاڑوں پر چڑھتی تو دوسری طرف کا دھندلا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا۔ اگرچہ وہاں سے کئی میلوں کا فاصلہ تھا لیکن شور شرابہ، آگ اور دھواں اس کے منظر کو واضح کر دیتے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بابا کو نہ پا کر مایوس ہو کر نیچے اترتی ۔ ان کے کوئی ہمسائے نہ تھے لیکن کچھ فاصلے پر، مختلف چوٹیوں پر کچھ گھر ضرور تھے اور اکثر گھروں کے سامنے لمبے لمبے صحن یا پھلوں کے باغات تھے۔

ابھی جنگ جاری تھی کہ سرحد پار سے لوگ ان کے گائوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے جن میں سے خاصی تعداد مجاہدین کی بھی تھی کیونکہ ان کے اجسام ہتھیاروں سے سجے تھے اور ان کے لمبے لمبے بال اور لمبی لمبی دڑاھیاں تھیں۔ سرحد کے اس پار لوگوں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کو گاوں کے مہمانوں کے طور پر عزت بخشی گئی اور انہیں خوراک ، رہائش اور تمام سہولیات مہیا کی گئیں۔ اس کا باپ واپس نہ آیا تھا اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ آگ اور جنگ کی تاریک راہوں میں کھو گیا تھا۔ زندگی اپنی سمت تبدیل کرنے لگی اور جیسے جیسے دن گزرتے چلے گئے۔ کوئی کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دن غربت میں بدلنے لگے اور ماضی کے سارے حسین سپنے محو ہو گئے ۔ بوڑھی اور غریب حال ماں نے موت سے پہلے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے سہارا چاہتی تھی جس نے ان سنگلاخ چٹانوں میں بغیر کسی کمائی کے ساری زندگی گزارنی تھی۔ اس نے اپنے کچھ رشتہ داروں اور گائوں کے بڑوں سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مہاجرین میں سے کسی نوجوان سے اس کی شادی کر دی جائے۔ چونکہ وہ اکیلی تھی اس لیے اسے ایک سہارا چاہیے تھا جبکہ سرحد پار سے آنے والا شخص بھی بے گھر اور اکیلا تھا اور اس اجنبی کو بھی یہاں ایک ٹھکانہ چاہیے تھا اس لیے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب سمجھا گیا اور انار گلے کی شادی ایک ازبک لڑکے سے کر دی گئی جو بہت خوبصورت اور نفیس تھا لیکن اس کے لمبے بال اور بے ترتیب دڑاھی اس کو خوفناک بناتی تھی۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے اور وہ دونوں زبانوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے لگے تھے۔ اس کا حسن بے مثال تھا اور وہ ابھی بھی تازہ اور سرخ انار کی طرح تر و تازہ نظر آتی تھی۔ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ نہ کرتا۔ پورے خاندان کے اخراجات ماں بیٹی کی کمائی پر تھے۔ وہ دونوں کام کر کے گھر کے مرد کو بھی پال رہی تھیں۔ دن گزر رہے تھے اور جنگ کے شعلے آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔ ایک دہائی تک لڑنے کے بعد، روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور جنگ میں شکست کھانے کے بعد واپس اپنے ملک لوٹ گیا۔ ان دنوں مختلف ممالک کے مجاہدین یہاں رہتے تھے اور ان کو دوسرے مجاہدین سرحد پار روس کے خلاف جہاد کے لیے تربیت دیتے تھے۔ انار گلے کا خاوند بھی تربیت دینے والوں میں شامل تھا جو دوبارہ جہاد کرنے نہیں گیا تھا اور یہاں ٹھہر گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے جہاد کے لیے واپس افغانستان چلے گئے جبکہ جنہوں نے یہاں شادیاں کر لی تھیں، وہ ہمیشہ کے لیے یہاں بس گئے ۔ جیسے ہی جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور ماحول میں بارود کی بو کم ہونا شروع ہوئی اور مہاجرین کو اپنی جان و مال کا تحفظ محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا۔

انار گلے زیادہ تر اپنے کام میں مصروف رہتی ۔ اس کا خاوند ان دنوں بالکل فارغ تھا کیونکہ اکثر مجاہدین یہیں بس گئے تھے۔ پورے علاقے میں امن تھا اور اب بمباری کا شور شرابہ ان کی سماعتوں میں خلل نہ ڈالتا۔ انہی دنوں، انار گلے جڑوں بیٹوں کی ماں بن گئی جو اس کی طرح خوبصورت بالکل سرخ سرخ اناروں کی طرح تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ مصروف ہو گئی جبکہ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گھومتا پھرتا ۔ وقت برقی ٹرین کی سی تیزرفتاری سے رواں تھا کہ ایک دن ایک آدمی ان کے گھر پرانے تاجر کا پیغام لیکر آیا جس کے ساتھ وہ اناروں کا کاروبار کر رہے تھے۔ آنے والے نے اس کے باپ کے بارے میں دریافت کیا لیکن اس کی تو کوئی خبر نہ تھی اس لیے اس کی ماں اس شخص کو ملی۔ انار گلے اس شخص کا پیغام سن کر انار کی طرح کھل اٹھی اور سرخ و تر و تازہ انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکنے لگے۔ وہ دوبارہ یہ کام شروع کرنے پہ رضا مند ہو گئی جبکہ اس کی ماں پریشان و حیران دکھائی دیتی تھی کیونکہ وہ نئے کام میں مصروف ہو چکی تھی لیکن انار گلے یہ کام دوبارہ شروع کرنے پر پرجوش تھی۔ شاید اس کا نام اسے یہ کام کرنے پر اکسا رہا تھا۔ اس نے اپنے خاوند کو راضی کیا اور اس نے بھی وعدہ کیا کہ وہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اس نے اپنے خاوند کو اس کاروبار کے ماضی کی ساری کہانی سنائی ۔ انہوں نے اس آدمی کو اس یقین دہانی کے ساتھ بھیج دیا کہ وہ ان کے ساتھ کام کریں گے۔ اب سارے راستے اب کھل چکے تھے اور جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ جلد ہی کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند بھی باقاعدگی سے اس میں شامل ہو گیا۔ انار گلے دوبارہ سرخ اناروں میں گھیر گئی جنہوں نے اسے خوبصورت اور تر وتازہ بنا دیا جیسی وہ بچپن میں تھی۔ اگرچہ جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن ابھی بھی اس کے خاوند کے کندھے پر بندوق جھولتی رہتی جس پر وہ فخر محسوس کرتا اور یہ عمل اسے سکون دیتا جیسے وہ جنگ کا فاتح ہو۔ زندگی پر سکون راہ پر گامزن ہو گئی اور حکومت ان مہاجرین کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئی لیکن دنیا کے اس کونے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور لوگ یہاں کے شہری بن کر خوش وخرم ہو گئے۔

کاروبار پھلنے پھولنے لگا اور اس کا خاوند اس کا بازو تھا۔ اکثر لوگوں کے ساتھ بات چیت وہ کرتا جو پھلوں سے بھرے بکس لے کر سرحد پار سے آتے۔ ہمیشہ انارگلے ہی ان کی جانچ پڑتال کرتی اور پھر معیار کے مطابق یہ فروخت کے لیے مختلف تاجروں کے پاس بھیجے جاتے۔ سال گزرے اور اب ان کے بچے بھی بڑے ہو گئے تھے جو کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے ۔ زندگی اپنی دھن میں رواں دواں تھی کہ سرحد پار ملک پر ایک بار پھر سے حملہ ہو گیا لیکن اس بار حملہ آور مختلف تھا۔ سرحد پار سے ایک بار پھر مہاجرین کی تعداد بڑھنے لگی اور کاروبار دوبارہ ٹھپ ہو گیا۔ اس کا خاوند بھی بندوق لے کر غائب ہو گیا جس طرح برسوں پہلے اس کا باپ ہوا تھا۔ زندگی مفلسی کا شکار ہو گئی اور اسے یقین تھا کہ وہ بھی اس کے باپ کی طرح کبھی واپس نہیں آئے گا جو ان کوہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ لیکن اس کا یہ وہم حقیقت میں نہ بدلا اور اس کی توقعات کے برعکس وہ واپس آ گیا۔ آتے ہی اس نے انار گلے کو بتایا کہ اب وہ کاروبار کی دیکھ بھال کرے گااور اس کے بیٹے اس کی مدد کریں گے۔ اگرچہ اس کا دل کبھی بھی اس کاروبار سے دور رہنے پر تیار نہ تھا لیکن خاوند کی خواہش پر، اس نے خود کو کاروبار سے علیحدہ کر لیا اور گھر کے معاملات میں مصروف ہو گئی۔ جنگ ابھی جاری تھی کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند اس میں مصروف ہو گیا۔ خاوند کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق اس نے کبھی بھی کاروبار میں کوئی مداخلت نہ کی لیکن اب تاجروں کے بجائے زیادہ تر مجاہدین ان کے گھر آتے جاتے اور ماحول میں ان کے قہقہے گونجتے ۔ جنگ کے شعلے کئی زندگیاں نگل رہے تھے اور اس کا خادند نئے مجاہدین کی تربیت میں مصروف رہتا اور ساتھ ساتھ اس نے کاروبار پر بھی اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ گھر میں مہمانوں کی اتنی آمد رہتی کہ اسے کچن سے ہی فرصت نہ ملتی۔ زیادہ تر وقت وہ کھانا پکانے اور دوسرے گھریلو معاملات میں مصروف رہتی کہ اسے اناروں کی خوشبو تک بھول گئی۔ کبھی کبھار تاجر ان کی طرف چکر لگاتا لیکن یہ پہلے والا نہیں تھا جس کے ساتھ وہ کاروبار کر رہی تھی۔ ایک دفعہ اس نے اپنے خاوند سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پرانا تاجر اب کاروبار جاری نہیں رکھنا چاہتا تھا اس لیے سرحد پار تاجر کو تبدیل کرنا پڑا۔یہ سادہ سا جواب اس کی تسلی کے لیے کافی تھا۔ جنگ کے دوران، کئی لوگوں نے سرحد پار کی اور مختلف پہاڑوں پر بس گئے جبکہ مجاہدین کے گرووں نے بھی سرحد پار جنگ لڑنے کے لیے سرحد عبور کی۔ کئی دفعہ گشتی جیٹ طیارے گائوں کے اوپر چکر لگاتے رہتے۔ اس صورت حال نے انار گلے کا ذہن بالکل تبدیل کر دیا اور وہ زیادہ تر وقت لوگوں کی دیکھ بھال میں لگی رہتی جو ان کے گھر ٹھہرتے یا ان غریبوں کی مدد کرتی جن کو اس کی ضرورت ہوتی ۔ اس کا صاف اور مہربان دل بھی سرخ انار کی طرح ، ہر کسی کی پیاس بجھانا چاہتا تھا۔ لوگوں کی خدمت کرتے کرتے کئی سال بیت گئے اور اس کے بیٹے جوان ہو گئے۔ اب تو وہ اس سے بھی سر نکالنے لگے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور وہ ہمیشہ فخر محسوس کرتی جب وہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے۔ چونکہ گائوں میں کوئی اسکول نہ تھا اس لیے وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور انہوں نے بھی باپ کی طرح مجاہد بننے کے لیے مجاہدین کے ٹرئینگ کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ یہ بات ہمیشہ انار گلے کو کھٹکتی اور اس کے باپ کی یاد یں ہمیشہ اسے ستاتیں جو کبھی نہ لوٹا تھا اور اس کی ماں اس کا انتظار کرتے کرتے مر گئی تھی۔ وہ جب بھی اپنے بیٹوں کے کندھوں پر بندوق دیکھتی تو ان کو ڈانٹ دیتی لیکن وہ سب اس بات پر فخر محسوس کرتے جبکہ باپ بھی ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتا۔ اس نے خبر سنی تھی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن ابھی بھی مجاہدین کی تربیت جاری تھی۔ مہاجرین نے سرحد کی دوسری جانب پہاڑوں سے اترنا شروع کر دیا تھا لیکن سارے کیمپ ویسے کے ویسے ہی قائم و دائم رہے۔

وہ مجاہدین کی تربیت پر حیران تھی، اسے کبھی سمجھ نہ آئی کہ آج کل وہ کہاں جہاد کر رہے ہیں۔ اس نے خاوند سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ کی طرح جھڑک دی گئی۔ کاروبار ابھی بھی جاری تھا۔ انار گلے مخمصے میں تھی اور کچھ بھی جاننے سے قاصر کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ گھریلو معاملات نے اس کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور اب وہ پہلے والی انار گلے نہ رہی تھی جو کاروباری معاملات میں ماہر تھی۔ اب وہ کچن تک ہی محدود ہو چکی تھی، جیٹ طیارے ایک بار پھر پہاڑوں پر منڈلانے لگے تھے اور اس نے سنا تھا کہ مجاہدین سے لڑنے کے لیے فوج کی پلاٹونوں کا رخ ان پہاڑوں کی طرف ہے۔ اس نے یہ بھی سناکہ یہ مجاہدین سرحد کے اس پار بھی لڑ رہے تھے اور کئی بار انہوں نےعوامی جگہوں پر خود کو اڑایا تھا۔ اس نے ان کہانیوں پر یقین نہ کیا لیکن ایک دن کچھ خواتین اس کو ملنے آئیں اور بتایا کہ ان پہاڑوں سے بہت دور ، بہت سے شہر ہیں اور وہاں پر بسنے والے لوگ اس لڑائی کی وجہ سے زخمی اور مر رہے ہیں اور وہاں لڑنے والوں کو یہی کیمپ ٹرئینگ دے رہے تھے۔ اسے اس صورت حال پر سبکی محسوس ہوئی کہ سب دہشت گردوں کو اس کا خاوند تربیت دے رہا تھا۔ وہ سارا دن اداس رہی اور رات کو اس نے ساری کہانیاں اپنے خاوند کو سنائیں۔ وہ اس کے الفاظ پر متوجہ رہا لیکن اس نے کسی بھی بات کا اقرار نہ کیا۔ جب اس نے حقیقت جاننے کے لیے شور مچایاتو حسب معمول جھڑکیاں ہی اس کا مقدر بنیں۔
ایک دن دوسرے گاوں سے کچھ رشتہ دار اس کو ملنے آئے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ اس کا خاوند مختلف شہروں میں کئی دھماکوں کا ماسٹر مائند ہے اور حکومت کو مطلوب ہے۔ حکومت نے اسے گرفتار کرنے یا مارنے کے لیے آپریشن شروع کیا ہے۔ اس خبر نے اس کو لرزا کر رکھ دیا۔ رشتہ دار اس کو بچانا چاہتے تھے، انہوں نے اصرار کیا کہ وہ یہ جگہ چھوڑ دے اور ان کے ساتھ چلے لیکن وہ چیخ پڑی۔ ’’میں یہ جگہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ یہ گھر ہے میرا۔ میں اسے کیسے چھوڑ وں؟ میں نے زندگی اس کے ساتھ گزاری ہے، چاہے وہ غیر ملکی ہے لیکن پھر بھی میرا خاوند ہی ہے۔ میں اپنے بچے کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ وہ میرے بیٹے ہیں اور میں ان کی ماں۔ سب کچھ چھوڑ دینا کیسے ممکن ہے؟ــ‘‘ رشتہ داروں نے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سرحد پار پھٹنے والے بم اب اس کے گھر میں گر رہے ہوں۔ وہ شرمندہ سی تھی کہ اس کا خاوند ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہے۔ رات بھر ، وہ سو نہ سکی۔ ہیلی کاپٹر فضا میں گردش کر رہے تھے جبکہ اندھیری رات میں گولیاں برسنے کی آواز گونج رہی تھی لیکن اب ان گولیوں کی آواز کی سمت تبدیل ہو گئی تھی۔ پہلے یہ سرحد کے اس پار مغرب کی سمت سے آتی تھی لیکن اب ملک کے اندر سے مشرق کی جانب سے آ رہی تھی۔ وہ پشمان تھی کہ اپنے خاوند کو بھی نہ پہچان سکی۔ وہ گھر میں تنہا تھی اور اس کا خاوند اور بیٹے ابھی تک کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔ تازہ دستے پہاڑوں سے اتر رہے تھے جو مختلف قسم کی گاڑیوں پر سوار تھے۔ وہ نعرے سن رہی تھی اور اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ خاوند کی آمد کے لیے بے چین تھی کیونکہ اسے اپنے سوالوں کا جواب چاہیے تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جس جنگ کے شعلے وہ بچپن میں سرحد پار دیکھا کرتی تھی، وہی شعلے اس کے گھر کی دہلیز پار کر جائیں گے۔ اس کی آنکھیں آنسووں سے تر تھیں، ’’میں نے ایک اجنبی سے شادی کی جو نہ میرے گائوں کا تھا اور نہ ہی میرے قبیلے کا۔ میں نے اپنی زندگی اس کے نام کر دی اور اپنا سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔ اس پر اندھا بھروسہ کیا اور اس نے مجھے اس طرح سے دھوکہ دیا۔ وہ ہزاروں افراد کا قاتل ہے اور اب لوگ میری جانب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ میں نے تو کبھی بھی کسی کے لیے کچھ برا نہیں سوچا اور ہمیشہ اپنے گھر میں مقید رہی، صرف اس کے لیے اور اس نے سب کچھ مجھ سے چھین لیا، یہاں تک کہ میرا کاروبار اور بیٹے بھی۔ اس نے میرے کاروبار کو بھی اپنے وحشی کرتوتوں سے خونی دھندے میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘ اس کے اندر ایک جنگ جاری تھی جس کے شعلوں میں وہ جل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نیند سے عاری تھیں۔ نعرے ابھی بھی گونج رہے تھے لیکن وہ ان سے بے پرواہ تھی۔ وہ خاصی دیر سے چارپائی پر ساکن بیٹھی تھی۔ صبح ہونے والی تھی کہ اس کا خاوند بیٹوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا۔

’’ابھی تک جاگ رہی ہو۔تم سوئی نہیں۔‘‘ اسے جاگتا دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اپنے گھر میں گھسے ایک مجرم کی تفتیش کے لیے۔۔۔۔‘‘
’’کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔؟‘‘ وہ غصے سے بپھر کر بولا۔
’’ہاں، تم ہی میرے گھر میں ایک مجرم ہو۔ مجھے سچ بتائو۔ تم ان دنوں کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ چیخی۔
’’تم پاگل ہو گئی ہو۔‘‘ اس نے سختی سے جواب دیا اور اس کو ایک طرف دھکیل دیا لیکن آج وہ ایک جرات مند انار گلے تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ساکن رہی اور اس کی ٹھوکر اسے نہ گرا سکی۔
’’میرے سوال کا جواب دو۔ تم آج کل کون سا کاروبار کر رہے ہو؟‘‘
’’وہی جو تم نے شروع کیا تھا۔۔۔‘‘ اس نے اعتماد سے جواب دیا۔
’’نہیں تم جھوٹے ہو۔۔۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر اناروں کی خوشبو کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔
’’کیونکہ تم پاگل ہو چکی ہو۔۔۔‘‘ اس نے اسے نفرت سے دیکھا۔
’’تم ایک قاتل اور مجرم ہو۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔‘‘ وہ دوبارہ چیخی لیکن اس کے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔

’’چپ شہ او بکواس ماکوہ۔ (چپ کرو اور بکواس بند کرو)۔‘‘ وہ غصے سے دھاڑا، اس کو ایک طرف دھکیلا اور اپنے کمرے میں آرام کرنے چلا گیا۔ بچے سب کچھ دیکھتے رہے لیکن کوئی بھی ماں کا سہارا نہ بنا اور ماں بیچاری وہیں پڑی، خاصی دیر روتی رہی۔ بچے اپنے کندھوں پر بندوقوں کی وجہ سے فخر محسوس کرتے تھے اور باپ ان کے لیے مثالی اور پسندیدہ شخصیت تھا۔ ان کا زیادہ تر وقت باپ کے ساتھ گزرتا جبکہ ماں کو انہوں نے زیادہ تر گھریلو کاموں میں ہی مصروف پایا تھا۔ وہ کبھی بھی یہ زندگی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے جو اس علاقے کے لوگوں کے لیے مثالی تھی اور لوگ ان کو مجاہد جان کر ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔

انار گلے نے زندگی میں پہلی بار خود کو اکیلا محسوس کیا تھا۔ پہلے وہ اس وقت مرجھا گئی تھی جب اس نے اپنا باپ کھویا تھا اور اب وہ اپنا سب کچھ، اپنے ہی گھر میں کھو چکی تھی، جب وہ اپنے خاندان کی زندگیاں بنانے میں مصروف تھی۔ اس نے اپنے دل میں عہد کر لیا، ’’میں بھی پٹھانی ہوں اور اس راز سے ضرور پردہ اٹھائوں گی۔‘‘ دوسرے دن سورج کی کرنوں سے پہلے ہی آپریشن کی خبر گاوں میں پھیلی اور جب انار گلے کی آنکھ کھلی تو گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اپنے خاوند اور بیٹوں کے کمرے چیک کرنے لگی لیکن وہاں پر کچھ بھی نہ تھا۔ وہ اسٹور روم گئی تو وہاں اسٹور کے باہر لکڑی کے خالی ڈبے اور کچھ گلے سڑے انار بھی پڑے تھے جبکہ اسٹور کو تالا پڑا تھا۔ زندگی میں پہلی بار، اس کو اسٹور روم بند ملا۔ یہ اس کو چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو باہر ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ اس نے وہ پتھر اٹھایا، باربار قفل پر ضربیں لگائیں اور آخرکار قفل ٹوٹ گیا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو اسٹور روم میں گہرا اندھیرا تھا۔ وہ واپس گھر کی جانب آئی، ایک لالٹین اٹھائی اور دوبارہ اسٹور روم میں جھانکا۔ اسٹور روم لکڑی کے ڈبوں سے پر تھا جو اوپر نیچے ایک ترتیب میں رکھے تھے۔ زمین پر کچھ گلے سڑے انار بکھرے پڑے تھے جبکہ ایک کونے میں ، اناروں کا ڈھیر لگا تھا۔ اس نے ان کو اٹھایا تو اسے محسوس ہوا کہ یہ پلاسٹک کے تھے اور کھلونے انار تھے۔ اس نے لالٹین کی لو ُ اونچی کی اور زمین پر پڑے ایک ڈبے کو اپنی جانب گھسیٹا۔ آدھی سے زیادہ زندگی، اس نے ایسے ڈبوں کو گھسیٹا تھا لیکن یہ اتنا بھاری تھا کہ وہ اس کو ہلا بھی نہ سکی۔ اس نے ہاتھ ڈبے میں ڈالا تو ایک انار سے ٹکرایا اور پہلی بار خوشی کی ایک لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی اور اسے خاوند کو برا بھلا کہنے پہ خود پر غصہ آیا۔ اس نے اسے لالٹین کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس کا حلیہ واضح نہ تھا۔ وہ اسے باہر روشنی میں لے گئی اور جیسے ہی وہ دروازے میں پہنچی ۔ وہ کانپ اٹھی اور انار اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ یہ تھا تو بالکل انار کی طرح لیکن حقیقت میں، یہ انار نہ تھا۔ یہ لوہے کا انار تھا جس کے سر پر ایک پن لگی تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رہ گئی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے سارے انار، جو اس نے اپنی زندگی میں چھوئے تھے، اس کے سر پر گرنا شروع ہو گئے ہوں۔ اس نے پورے کمرے میں روشنی پھیر کر دیکھی تو سارے ڈبے ان سے بھرے تھے جبکہ کچھ ڈبوں میں کچھ اور ہتھیار بھی تھے۔ دیوار پر جیکٹیں بھی لٹکی ہوئی تھیں جو انہی اناروں سے بنی ہوئی تھیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور بچپن کے سارے رسیلے انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکے۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس صحن میں آئی تو اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔ کس طرح اس کی معصومیت سے کھیلا گیا تھا، اسے اس پر یقین نہ آرہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اس بڑے سے کمرے میں چھپ کے بیٹھی تھی جو گھنے درختوں کے پیچھے تھا۔ آج ہیلی کاپٹر بہت نیچی پرواز کے ساتھ گائوں پر چکر کاٹ رہے تھے اور توپوں اور مارٹر گولوں کی آواز بہت قریب سے آ رہی تھی۔ جنگ ان کی دہلیز پر دستک دی چکی تھی۔ لیکن وہ بالکل ساکن تھی۔ باہر انتہا کا شور تھا، چونکہ گھر کا کوئی دروازہ یا دیواریں نہ تھیں۔ اس لیے آنے والے لوگوں نے اونچی آواز میں پردہ کرنے کو بولا۔ اس نے اپنا چہرہ گھونگھٹ کی اوٹ میں کر لیا اور لوگ ایک چارپائی کے ساتھ اس کے صحن میں آن کھڑے ہوئے۔ یہ اس کے بڑے بیٹے کی لاش تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ گائوں کے باہر جنگ جاری ہے اور اس کا خاوند اور بیٹے ادھر ہی لڑ رہے ہیں۔ وہ اس منظر پر چیخ اٹھی لیکن کوئی بھی اس کے غم میں شریک ہونے والا نہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور ایک بار پھر اپنے دل میں پشیمانی محسوس کی۔ ابھی وہ بیٹے کی لاش سجا رہی تھی کہ باقی دو بیٹوں کی لاشیں بھی اس کے سامنے رکھ دی گئیں۔ اس نے خون میں لت پت اپنے جگر گوشوں کو دیکھا اور بچپن کی یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں۔جب وہ اونچے پہاڑوں کی دوسری جانب سرحد پار دھواں دیکھتی تھی جو اسے کسی فلم کی طرح محسوس ہوتے۔ اسی جنگ نے اس کے سارے خاندان اور زندگی کو نگل لیا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے لیکن وہ بالکل ساکن اور خاموش تھی، نہ کوئی سسکی نہ بین، نہ کوئی چیخ اور نہ کوئی ماتم۔ اس نے ساری لاشوں کو صحن میں چھوڑا اور دوبارہ اسٹور روم میں گئی ۔ زندگی میں پہلی بار، اس نے اپنے گھر کی دہلیز کے باہر قد م رکھا۔ اس کے قدم گائوں سے باہر کی جانب اٹھ رہے تھے جہاں پر جنگ لڑی جا رہی تھی۔ اس نے اپنا جسم اور چہرہ پردے میں چھپایا ہوا تھا۔ وہ برستی آگ اور دھوائیں کے قریب پہنچی تو ایک شخص سے اپنے خاوند کے بارے میں پوچھا۔ اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اس کو گھر جانے کی ہدایت کی کیونکہ پورے علاقے میں کسی عورت کو یوں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ ہر سو گرد اور دھواں تھا اور وہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ تھی۔ اس نے اس شخص کی بات کو سنی ان سنی کر دیا اور آگے کی سمت بڑھی۔ اس نے ایک بڑے درخت کے پیچھے پناہ لی اور گہرے دھوئیں اور گرد میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ بچپن کا وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا لیکن اب یہ منظر بہت قریب آگیا تھا۔ ابھی وہ کوئی مناسب پناہ ڈھونڈ رہی تھی کہ اس نے اپنے زخمی خاوند کو میدان جنگ سے بھاگتے دیکھا جس کا رخ اب گھر کی جانب تھا۔ اس نے اس کا تعاقب کیا اور گائوں میں داخل ہونے سے پہلے اس کو جا لیا۔ وہ اناروں کی بنی جیکٹ پہنے ہوئے تھی جبکہ ایک اناراس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کا خاوند اسے اس حلیے میں دیکھ کر کانپ گیا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے انار اپنے دانتوں سے کاٹا جیسا کہ وہ بچپن میں، رسیلے دانوں کا رس چوسنے کے لیے انار کا چھلکا اتارتی تھی۔ انار ایک دھماکے سے پھٹا اور ساتھ میں جیکٹ میں پروئے ہوئے انار بھی پھٹنے لگے اور وہ بھی انار کے رسیلے دانوں کی طرح تقسیم ہو کر بکھر گئی۔

Categories
فکشن

ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)

ہندسوں میں بٹی زندگی

’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘
’’ جی میں ہوں”
’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘

اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔

سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ نمبر لینے کی دوڑ میں لگا رہا، نوکری حاصل کی تو بے تحاشا کامیاب رہا اور قریبی لوگ اُسے اُس کی تنخواہ کی رقم ، موبائل نمبر، گاڑیوں اور بنگلوں کی تعداد سے جانتے تھے، وہ رقم کی گنتی کو بڑھانے کے لیے دن رات دوڑتا رہا حتٰی کے بوڑھا ہوکرہسپتال میں داخل ہوگیا۔۔۔

’’ وارڈ نمبر ۵ کے بیڈ نمبر چھ کے مریض کے ساتھ کون ہے؟‘‘
’’ جی فرمائیے‘‘
’’ سوری ہم نے بہت کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔‘‘

گورکن نے پلاٹ نمبر چھ میں قبر نمبر پانچ سو بارہ تیار کرلی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصل چہرہ

گزشتہ دس سال سے اُس نے اتنے چہرے تبدیل کئے تھے کہ وہ خود بھی تقریباً بھول گئی تھی کہ اُس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔ ہر کچھ عرصہ بعد وہ اپنے چہرے سے اُکتا جاتی یا پھر اُس کے اِردگرد موجود لوگ ایسی صورت حال پیدا کردیتے کہ اُسے نئے ماحول میں ڈھلنے کے لیے اپنا چہرہ بدلنا پڑتا۔
گھر کے ایک کونے میں جہاں وہ اپنے بچوں کو نہیں جانے دیتی تھی، مختلف طرح کے چہروں کا ڈھیر پڑا رہتا تھا، وہ گھر سے نکلنے سے پہلے جگہ اور لوگوں کی مناسبت سے چہرہ پہن لیتی۔
لیکن اب پچھلے دو ماہ سے وہ جس نئی کمپنی میں کام کررہی تھی وہاں اُسے مسلسل ایک ہی مسکراہٹ بھرا چہرہ سجائے کاونٹر پر بیٹھنا پڑتا تھا۔۔۔
اُس کی تنخواہ کم تھی اور مسائل زیادہ تھے وہ وہاں بیٹھے اپنے مسائل کے بارے سوچتی رہتی لیکن اُسے ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر خوش آمدید کہنا پڑتا تھا۔
ایک روز جب وہ بے حد پریشان تھی ، اُس نے چہروں کے ڈھیر سے اپنا اصل چہرہ نکالا اور پہن کر دفتر آگئی۔۔۔

اُس دفتر میں یہ اُس کا آخری دن تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو منظر

پہلا منظر:

یہ ایک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے اور چند بچے اِس میں سے اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ بچوں کے بال گردآلود ہیں اور مَیل کی وجہ سے موٹی رسیوں کی مانند ہوگئے ہیں۔
تلاش کے دوران ایک بچے کو جوس کا پیکٹ مل جاتا ہے ، جس کے استعمال کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن وہ بچہ یہ بات نہ جانتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے سو فوراً جوس پینے لگ جاتا ہے۔۔۔باقی بچے اُس کی اچھی قسمت پر رَشک کرتے ہیں اور سوچتے ہیں ، کاش اُن کی نظر پہلے اِس ڈبے پر پڑجاتی۔۔۔۔

دوسرا منظر :

یہ شہر کی سب سے اونچی بلڈنگ ہے جس کا افتتاح آج وزیر اعظم صاحب نے کیا ہے ، اُنہیں بلڈنگ کے مختلف حصے دکھائے گئے ۔ جدید طرز کے ہوٹلز ، ہسپتال ، سینما۔۔۔غرض کیا تھا جو اُس بلڈنگ کے اندر نہیں تھا۔۔۔
اب وزیر اعظم صاحب بلڈنگ کی چھت پر موجود ہیں اور شہر کا جائزہ لے رہےہیں۔۔۔ دور دور تک بڑی عمارتوں نے شہر کو گھیر لیا ہے اور کچی آبادیوں کے ڈھیر آنکھ سے اوجھل ہوگئے ہیں۔۔۔۔
” سب کس قدر خوش گوار ہے ” وزیر اعظم صاحب نے کہا
اور ارد گرد سارے لوگ تالیاں بجانے لگ گئے۔۔۔۔

مجھے دوسرے منظر سے فوراً پہلے منظر کی طرف لوٹنا ہوگا دراصل وہ بچہ کہ جس نے جوس پیا تھا وہ پیٹ پکڑے درد سے کراہ رہا ہے لیکن اُس بستی میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔۔

دوسرے منظر میں پرتکلف کھانے کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گونگا وائلن نواز

اُس شخص سے اُس کی زبان چھین لی گئی تھی سووہ بول نہیں سکتا تھا، اُس نے ایک وائلن خریدا اور شہر کی گلی گلی میں بجاتا پھرتا،ایسا اُس نے روزی روٹی کمانے اور اپنا دل بہلانے کی خاطر کیاتھا تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے لیکن اُس کے وائلن سے ہمیشہ دُکھی ساز نکلتے تھے۔ جب وہ گلیوں میں سازبجاتا ہواچلتا تو لوگ غمگین ہوجاتے۔شہر کے لوگ اُسے ’’غمگین نغمہ ساز‘‘ کہہ کر بلاتے تھے اور کہتے کہ اِس کے وائلن میں کوئی خاص پرزہ ہے جس کی وجہ سے اِس سے نکلنے والے ساز اِس قدر دُکھی ہوتے ہیں۔

بہت دفعہ لوگوں نے اُس سے وائلن لے کر خود بجانے کی کوشش کی لیکن عجیب بے ڈھنگی آوازیں ہی برآمدہواکرتی تھیں۔
’’اِس قدر دکھی نغمے ہم نہیں سُن سکتے ، یہ آوازیں ہمارے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں ‘‘ لوگوں نے اُس کے خلاف شکایت درج کرادی اور پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی۔

عدالت میں معزز جج نے اُس کا پرانا ریکارڈ پڑھا اور کہا’’اِس سے پہلے بھی تمہیں زیادہ بولنے کے جرم میں اپنی زبان سے محروم ہونا پڑاتھا لیکن پھر بھی تم باز نہیں آئے اور اب دکھی نغمے چھیڑنے لگ گئے ہو، تمہیں نقصِ امنِ عامہ کے جرم میں مذید سزا ملے گی‘‘

چونکہ اُس کی زبان نہیں تھی سووہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہہ سکا حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا کہ قید میں لگائے گئے قہقہوں سے آزادی میں بہتے آنسوزیادہ معتبر ہیں لیکن وہ نہ کہہ سکا اور اگر وہ کہہ بھی دیتا تووہاں سننے والے کان نہیں تھے۔
عدالت نے اُس سے وائلن چھین لینے کا حکم دیا اور ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی۔
جب وہ جیل سے رہا ہوا تو گلی گلی گھومتا اور لوگ اُس سے خوف کھاتے کہ اب کی باراُس کے ہاتھ میں وائلن نہیں تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوجھ

وہ ایک کلرک تھا جو فائلوں میں گُم ہوگیا تھا۔۔۔ردی کاغذ کی فائلیں جن کے اندر ایک پورا آدمی گُم ہوگیا تھا اور یہ بات کلرک کی بجائے فائلوں کو معلوم تھی ۔وہ سارا دن دفتر میں فائلیں اُٹھائے پھرتا اور اُن میں سے چندایک گھر بھی اُٹھا کر لے آتا۔دن رات فائلیں اُٹھانے کی وجہ سے اُس کے کندھے جُھک گئے تھے ۔دراصل اُس پرفائلوں کے علاوہ اور بھی بہت سے بوجھ تھے جن کو اُتارنے کے لیے وہ دن رات فائلوں میں گُم رہتا۔

کلرک کی چاربیٹیاں تھیں اوراُس پر معاشرے کے رسم ورواج کابوجھ تھا۔۔۔ وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے سوچتا تھا کہ وہ کتنی دیر روز اوورٹائم کام کرے تو چار دفعہ جہیز کا انتظام کرسکتا ہے۔۔۔جواب میں اُسے اگلے کئی سال دن رات فائلوں کے بوجھ تلے دبے رہنا تھا۔

ایک شام کلرک اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی صحن میں بیٹھی رو رہی تھی، ایسا رونا کہ جس میں آواز شامل نہیں تھی لیکن آنسوندی کی مانند بہہ رہے تھے۔
کلرک کے پوچھنے پر بیوی نے ایک کاغذ اُس کے ہاتھ تھمادیا،یہ اُس کی بڑی بیٹی کا الوداعی خط تھااوراُس نے لکھا تھا کہ
’’میں اِس دن رات کی غربت سے تنگ آگئی ہوں ، اوراپنی مرضی سے شادی کرکے جارہی ہوں ۔برائے مہربانی مجھے مت ڈھونڈیں‘‘

کلرک جو دن رات دس پندرہ فائلیں بغل میں لیے گھومتا تھا ، ایک کاغذ کے بوجھ تلے دبتا چلاگیا۔۔
حتٰی کہ اُس کی بیوی نے دیکھا کہ وہ زمین سے صرف ایک فٹ اوپر رہ گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوتل میں قید آدمی

محبت میں ناکامی کے بعد اُس نے سوچا کہ وہ ایک بوتل بنائے گا۔
سو وہ ایک عرصے تک بوتل بناتا رہا، لوگ پاس سے گُزرتے تو اُسے سمجھاتے کہ یہ پاگل پن ہے سو اُسے یہ کام ترک کر دینا چاہیے لیکن وہ لگاتار بوتل بناتا رہا۔۔۔۔۔
کئی سال گزرگئے ، اب اُس کے سینے میں سانس چلتی تھی تو کھر ، کھر کی آواز آتی تھی ، بال بڑھ گئے تھے اور لوگوں نے اُس پر افسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔
جب بوتل مکمل بن گئی تو اُس نے خود کو اُس میں قید کرلیا، اب وہ بوتل میں سما گیا تھا۔
کتنے موسم گُزرے ، کئی بارشیں آئیں اور بہت سی مئی ، جون کی تپتی دوپہریں گزریں ، وہ بوتل نالی کے پاس بنے ایک دکان کے تھڑے کے ساتھ پڑی رہتی اور آہستہ آہستہ ہلتی رہتی۔
پھر ایک دن بوتل نے ہلنا چھوڑ دیا اور لوگوں نے بوتل اُٹھا کر سمندر میں پھینک دی اور ناک پر رومال رکھے واپس آ گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شعبدہ گر

وہ ایک شعبدہ باز تھا , سرکس میں منہ سے آگ نکال کر دکھاتا تھا۔۔۔ لوگ خصوصاً بچے اُس کا کرتب دیکھ کر خوب تالیاں بجاتے۔۔۔ شہر شہر ، قریہ قریہ سرکس کا تماشا چلتا رہتا۔ وہ سٹیج پر ہاتھ میں جلتی ہوئی لکڑی اور پٹرول کی بوتل تھامے نمودار ہوتا ، وہ جتنی دور تک آگ نکالتا اُتنی ہی تالیوں کی گونج میں اضافہ ہوجاتا ، پہلے پہل جب وہ ایک لڑکا تھا ، تالیوں کا شور اُس کے اندر بہت ہوا بھردیتا تھا اور وہ اور زور لگا کر آگ نکالتا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اُس کی عمر بڑھتی گئی اور اُسے تالیوں کی آواز سنائی نہ دیتی تھی حتٰی کہ اُسے سامنے بیٹھے لوگ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے ، اُسے صرف اور صرف داد میں آنے والے پیسوں سے غرض تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرسکے۔۔۔

وہ جب گھر لوٹتا تو اُس کے بچے اور بیوی اُس کے منتظر ہوتے ،اُس کا خواب تھا کہ اُس کے بچے پڑھ لکھ جائیں تاکہ انہیں منہ سے آگ نہ نکالنی پڑے ، اُس نے بچوں کو اپنے آگ نکالنے کے سامان کو ہاتھ لگانے سے منع کر رکھا تھا۔۔

اِسی شعبدہ گر کا بیٹا جس سکول میں جاتا تھا ، ہر سال اول پوزیشن حاصل کرتا تھا لیکن کوئی اُسے داد نہ دیتا ، وہاں سب لوگ اُسے منہ سے آگ نکالنے کا کہتے کہ اُس کے والد سے وہ یہ کرتب دیکھ چکے تھے۔۔۔
آخر ایک روز جب شعبدہ باز گھر سو رہا تھا ، اُس کا بیٹا لکڑی اور پٹرول کی بوتل لے کر دوستوں کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ وہ آج اُنہیں منہ سے آگ نکال کر دکھانا چاہتا تھا۔۔
لیکن آگ نکالتے ہوئے اُس کا بازو جل جاتا ہے ، شعبدہ گر پریشانی میں اپنے بچے کو ہسپتال لےکر جاتا ہے۔۔۔مرہم پٹی کے بعد ڈاکٹر ، شعبدہ گر سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔
” جی میں سرکس میں کرتب دکھاتا ہوں ” شعبدہ گر نے جواب دیا
” کون سا کرتب ؟” ڈاکٹر نے پوچھا
” جی وہ ، وہ منہ سے آگ نکالتا ہوں ” وہ کچھ شرمندہ ہوکر بولا
” اوہ اچھا ! تو آپ کے بچے نے آپ ہی سے یہ ہنر سیکھا ہے”

ڈاکٹر نے کہا اور ایسے میں وہ شعبدہ گر کی آنکھوں کے خواب نہ دیکھ سکا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقسیم

یہ ایک بڑا ہال ہے جہاں ایک مشہور فلاحی ادارے کا سیمینار ہورہا ہے۔ سٹیج پر بیٹھے دانشوروں نے معاشرے میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم پر بہت عمدہ گفتگو کی۔ اُن میں سے کئی افراد بیرونِ ملک سے آئے تھے سو وہاں کی مثالیں بھی پیش کیں۔
سلیم ہال میں موجود ایک ویٹر ہے ، اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قید میں آگیا ہے ۔ وقت جو اُس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ، درمیان میں وہ قید بامُشقت کاٹ رہا تھا۔
معزز دانشور نے تقریر کے دوران سٹیج پر بیٹھے چاروں مقررین سے سوال کیا
’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کتنے دن آپ کام کریں تو ایک اچھی گاڑی خرید سکتے ہیں ؟‘‘
’’چار ماہ‘‘ پہلے دانشور نے جواب دیا۔
’’چھ ماہ‘‘ دوسرا دانشور بولا
’’مجھے شاید ایک سال لگ جائے‘‘ تیسرا دانشور بولا
’’میرا خیال ہے کہ مجھے ڈیڑھ سے دو سال لگیں گے کہ میں ایک اچھی گاڑی خرید سکوں ‘‘چوتھا دانشور تھوڑا شرمندہ ہوکربولا
’’ تو سامعین دیکھا آپ نے کہ یہاں چاروں مقررین کے جواب کس قدر مختلف ہیں ، ہم نے اِسی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے آج کا اجلاس بلایا ہے‘‘ مقرر نے کہا.
’’ کتنے دن تم بطور ویٹر کام کرو تو ایک گاڑی خرید لو گے؟‘‘ سلیم نے خود سے سوال کیا۔
’’ دو زندگیاں اور کچھ مذید دن——” اندر سے ایک آواز آئی جواُس کے علاوہ ہال میں کسی نے نہ سُنی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الزام

یہ کمرہِ عدالت ہے جہاں ایک چوری کا مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ بشیر پر گاڑی چوری کا الزام ہے۔
مُعزز جج نے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پیشتر بشیر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔
’’اِس سے پہلے کہ میں تمہیں اِس چوری کی سزا سُناؤں ، تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ چوری ایک بُرا فعل ہے, اب نہ صرف تم سزا پاؤ گے بلکہ تمہارے گھر والے بھی اِس سزا کی وجہ سے مشکل دن گزاریں گے، تمہیں ضرور وہ کام کرنا چاہیے تھا جو تم چور بننے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم چوربننے سے پہلے کیا کام کرتے تھے ؟‘‘
’’جی میں چور بننے سے پہلے بھی چور تھا‘‘ بشیر نے گھبرا کر کہا۔
اُس کا جواب سُن کر معززجج سمیت کمرہِ عدالت میں موجود بیشترافراد ہنس پڑتے ہیں۔
’’چوربننے سے پہلے چور بھلا کیسے بنا جاسکتا ہے؟‘‘ جج نے سوال کیا۔
’’ جی دیکھیں یہ آج مجھے دوسری دفعہ سزا ہونے والی ہے، کئی سال پہلے میں ایک اسٹورمیں مُلازم تھا جہاں پر ایک رات چوری ہوگئی تو اسٹور کے مالک نے شک کی بنیاد پر مجھے پولیس کے حوالے کردیا، پانچ سال بغیرجرم کے جیل کاٹنے کے بعد جب میں واپس آیا تومجھے معلوم ہوا کہ ساری دنیا مجھے چور ہی سمجھتی ہے حالانکہ میں چور نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ میں چور بننے سے پہلے بھی چورہی تھا… کیا میں چور نہیں تھا جج صاحب؟”
’’ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے ہم فیصلے کی جانب آتے ہیں، دفعہ تین سو اکاسی (اے) کے مطابق عدالت مُلزم بشیر کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سُناتی ہے ‘‘ معزز جج نے فیصلہ سنایا اور پولیس والے چورکو دھکا مارکر کمرہ عدالت سے باہر لے جاتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نابینا محبت کی سرگزشت

میں نورالعین ہوں لیکن میری آنکھوں کا نور ختم ہو چکا ہے، مجھے خود کو اندھا کہتے ہوئے جھرجھری سی آ جاتی ہے سو خود کو نابینا نہیں کہتی ۔مجھے ہر وقت سوچتے رہنے کا مرض لاحق ہے۔ اگر کسی انسان کا دماغ سوچ کے مرض میں مبتلا ہو تو کیا وہ پھر بھی اندھا کہلائے گا ؟ میرا نہیں خیال لیکن دنیا والوں کو میں نے خود کو اندھا کہنے سے کبھی روکا نہیں۔۔۔

میں نورالعین ہوں اور پارک میں ایک بنچ پر بیٹھی ہوں ، میں نے تین سال قبل دنیا کو اِسی پارک میں ایک بنچ پر ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔
یہ بتاتے ہوئے میں کچھ شرما رہی ہوں لیکن اب اِس بات کو چھپانے کا کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب باتوں کا بتانا اور چھپانا ایک برابر ہوجاتا ہے اور اس کہانی کے اختتام پر یقیناً آپ خود کو میرا ہم خیال پائیں گے۔۔۔

میں نورالعین جو اب اِس بنچ پر بیٹھی ہوں اور تین سال قبل دنیا کو ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ وہ مجھے کہتا تھا دنیا کس قدر حسین ہے ، تتلیوں کے رنگ نیلے ، سبز اور سرخ ہیں اور بنچ کے ساتھ درخت کے اوپر چڑیا جو گارہی ہے ،اس کا رنگ سنہرا یاقوتی ہے۔
پارک کے سبھی راستوں کے گرد گیندے کے بڑے بڑے پیلے پھول کھلے ہیں اور جب خزاں آتی ہے تو درخت سوکھ جاتے ہیں ، پھولوں کی پتیاں بکھر جاتی ہیں لیکن ان کی خوشبو محبت کرنے والوں کے دلوں کو معطر کیے رکھتی ہے اور سنہری چڑیا اپنا گیت گانے کسی اور دیس کو اڑ جاتی ہے۔۔۔
میں نے یہ سب کچھ اُس شخص کی آنکھوں سے دیکھا اور یقین کر لیا۔۔۔

میں نورالعین نابینا کہ جس نے دنیا کو ایک ایسے شخص کی آنکھوں سے دیکھا تھا جو ابھی ابھی یہاں بنچ سے اٹھ کر گیا ہے اور میرے ہاتھوں میں موجود سنہری بالوں والی لڑکی کی تصویر اُسی کی دی ہوئی ہے ، اس تصویر کو میں نے اُسی کی آنکھوں سے دیکھا ہے ، یہ وہ لڑکی ہے جس سے اُسے محبت ہے اور آپ سب کی آنکھیں ہیں سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے بال سنہری نہیں ہیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رُکا ہوا آدمی

رُکا ہوا آدمی

’’آنکھیں اور کان بند کرو اور چھتری تان لو، بارش سے بچ جاؤ گے اور بجلی کی چمک تمہاری آنکھوں میں نہ پڑے گی، کانوں میں روئی ڈال لو کوئی آواز نہ سنائی دے گی‘‘
’’تو پھر میں آگے کیسے بڑھوں گا؟‘‘
’’ چھتری بارش سے بچاتی ہے‘‘
’’ لیکن وہ آگے کا سفر؟‘‘
’’بجلی کی چمک سے آنکھیں چندھیا سکتی ہیں سو بند ہی رکھو‘‘
’’ لیکن وہ میں کہہ رہا تھا کہ سفر؟‘‘
’’ کان بند رکھو اور کسی بات پر دھیان نہ دو‘‘
’’لیکن پھر؟‘‘
’’بس تم چھتری تانے ، آنکھیں اور کان بند کیے یہیں کھڑے رہو‘‘
’’ اخبار لے لو ، اخبار‘‘
” آج کی تازہ خبر پڑھنے کے لیے
اخبار لے لو ، اخبار”
’’اخبار والے رکو، کیا نئی خبر ہے ؟‘‘

’’ تمہیں کیا، تم تو رُکے ہوئے آدمی ہو‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Imzge: Banksy

Categories
فکشن

بچھڑی کونج (رفاقت حیات)

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا یا نہیں۔پھر اسے ایک نیا کام یاد آ گیا۔

اس نے الماری سے بیٹے کے کپڑے نکالے اور استری کا سوئچ آن کر دیا۔اسے معلوم تھا کہ دھلا ہو ا پرانا جوڑا دیکھ کر وہ خفا ہو جائے گا۔ استری گرم ہوئی تو زردبتی بجھ گئی۔ وہ اسے قمیض پر پھیر رہی تھی کہ کسی نے گھنٹی بجائی۔ایک مردکی آواز بھی سنائی دی۔ وہ پریشانی میں سوچنے لگی۔ پڑو سیوں کا بچہ تو نہیں ہو سکتا کہ پتنگ چھت پر اٹک گئی ہو یا گیند آگری ہو۔ یہ تو مرد کی بھاری آواز تھی۔ اجنبی مرد کا خیال آتے ہی وہ سہم گئی۔

دوبارہ وہی آواز گھنٹی کے بغیر سنائی دی۔ ’’پوسٹ مین، رجسٹری آئی ہے۔‘‘

شہر میں گزا ری آدھی عمر کے بعد اب وہ پوسٹ مین کا مطلب سمجھنے لگی تھی۔ کچھ چیزیں۔کچھ الفاظ اب بھی ایسے تھے جو اس کی سمجھ سے بالا تر تھے۔مثلاً میٹر ریڈر، ٹی وی لائسنس انسپکٹر وغیرہ۔ اس نے دوہرا یا ’’ڈاکیہ۔‘‘ لیکن دوسرے لفظ ٹھیک طرح سن نہیں سکی۔

سیڑھیاں اتر تے ہوئے اسے اپنی اور گھر کی تنہائی کے علاوہ مرد کی اجنبیت کا مکمل احساس تھا۔

اس نے دروازہ کھولا تو چہرے کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا اور اس کی آنکھیں خود بخود جھک گئیں۔

پوسٹ مین بڑبڑایا۔ ’’اور جگہ بھی ڈاک بانٹنی ہوتی ہے، رجسٹری ہے۔ یہاں دستخط کر دو۔‘‘ وہ آخری دو لفظ سمجھ سکی۔اس کا چہرہ لال بھبھو کا ہو گیا اور جسم انجانے احساس سے لرزنے لگا۔

کچھ سال پہلے اس کے بیٹے نے لکھائی پڑھائی شروع کروائی تھی۔ اس نے بھی حروف تہجی سے دو چارکاپیاں بھردی تھیں۔ پھر بیٹے کی سستی اور اپنی کاہلی کے سبب یہ سلسلہ ٹھپ ہو گیا۔

اس نے نام لکھنا تو سیکھ لیا مگر یہ نہیں سوچا تھاکہ غیر مرد کے سامنے دستخط کر نے پڑجائیں گے۔ وہ جانتی تھی کہ جب نام لکھے گی تو وہ آڑی ترچھی لکیروں جیسا نظر آئے گا۔

اس نے احتیاط کے ساتھ پوسٹ مین سے قلم لیا اور رعشہ زدہ ہاتھوں سے دستخط کیے۔

رجسٹری اس کے شوہر کے نام تھی۔ اس نے لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔اس کا رنگ اور سائز عام لفافوں سے مختلف تھا۔ دروازہ بند کر تے ہی اس نے لفافہ کھولا تو ایک کارڈبرآمد ہوا۔ وہ کارڈ نہیں پڑھ سکتی تھی، اس نے اندازہ لگایا، کسی شادی کا دعوت نامہ ہے۔ وہ بیٹے کی قمیض استری کرنے لگی۔ اس کا ذہن شادی کے متعلق قیافے لگا رہا تھا کہ کسی رشتہ دار کی ہے یا اس کے شوہر کے دوست کی۔ اس نے خود کو ملامت کیا کہ ڈاکیے سے پوچھ لیتی۔ یہ رجسٹری کہاں سے آئی ہے۔ اس تشویش سے اس نے پودینے کی چٹنی بنائی۔ انڈا تلا اور روٹی پکائی۔ بیٹے نے کالج سے آنے میں دیر کر دی۔ اس نے گلی میں بھی جھانک لیا۔

بیٹے نے سلام کر تے ہوئے کتابیں میز پر پھینک دیں اور بوٹ اتار نے لگا۔ وہ بوٹ کا تسمہ کھول رہا تھا کہ اس نے کارڈاس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔

’’ذرا دیکھنا یہ کیا ہے۔‘‘ اپنے تجسس کو چھپاتے ہوئے اس کا چہرا سرخ ہو گیا۔

’’آپ کے بھائی کی بیٹی کی شادی ہو رہی ہے امی جان۔‘‘ وہ مسکراتے ہو ئے بولا۔

وہ ہنسنے لگی۔ ’’میں کہوں مجھے لگ رہا تھا کہ ضرور کسی رشتہ دار کی شادی ہے۔ گاؤں والوں نے بھی تر قی کر لی۔پہلے تو آدمی بھیجتے تھے بتانے کے لیے۔‘‘

’’میں کبھی گاؤں نہیں گیا۔امی میں جاؤں گا۔‘‘

’’تم کیوں، ہم ساتھ جائیں گے۔‘‘بیٹے نے خوشی کا نعرہ لگایا۔ انہو ں نے سفر کی منصوبہ بندی کر تے ہوئے دوپہر کا کھانا کھایا۔ وہ ذرا لیٹی تو سو نہیں سکی۔گرچہ فجر سے پہلے کی جاگی ہوئی تھی۔اس نے گاؤں والے مکان میں لاٹھی کے سہارے چلتی ماں کی تنہائی کو محسوس کیا۔ جس سے ملے بہت سال گزر گئے تھے۔ کیا ہوا، جو اسے چھوٹی بہن زیادہ عزیز ہے۔ کیا ہوا، جو مجھ سے محبت نہیں کر تی۔ اس نے خود کو نافرمانی پر کوسا۔ اس نے اپنے والد کو یاد کیا۔سفید داڑھی،سفید کرتا اور دھوتی۔

اس نے دیکھا کہ ان کے گرد فرشتے منڈلارہے تھے اور ان سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان کے ماتھے پر نماز کا نشان چمک رہا تھا۔ اس نے ان کے شکوؤں اور افسردگی کے متعلق سوچا جو انہیں اپنی قبر کی ویرانی کے متعلق تھی۔وہ جس کا خوابوں میں کئی مرتبہ اظہار کر چکے تھے۔ وہ کروٹیں لیتی رہی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا شوہر کام سے آجائے تو حتمی پروگرام کی تشکیل کی جاسکے۔ بیٹا شام کی چائے پی کر ٹیوشن پڑھانے چلا گیا۔

وہ گھر کے خالی کمروں میں ٹہلتی رہی سیڑھیوں میں شوہر کے قدموں کی آواز سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے فوراً اس کے ہاتھ میں کارڈ تھما نا مناسب نہیں سمجھا۔وہ اسے چائے پیتے ہوئے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد بولی۔ ’’بھائی محمد خان کی بیٹی کی شادی کادعوت نامہ آیا ہے۔‘‘ اس نے کارڈ اپنے شوہر کو دے دیا۔اس نے پڑھتے ہوئے تیوری چڑھائی، پھر کھنکار کر ایک نظر اسے دیکھا۔ اسے اپنے شوہر کی آنکھیوں میں اندیشوں کی جھلک دکھائی دی۔ وہ صفائی پیش کر نے لگی۔ ’’تمہیں تو وطن کی یاد نہیں آتی،مردوں کا دل تو پتھر ہو تا ہے۔ کتنے سال گزر گئے۔ میرے دل سے تو ہوکیں اٹھتی ہیں۔ ماں کے لیے،بہنوں کے لیے اور موقع ایسا ہے کہ مجھے جانا ہی پڑے گا۔‘‘ اس کا شوہر چپ رہا۔ اس کے سوکھے ہونٹ مضبوطی سے جڑگئے۔ اس کا دایاں گال ایک دو بار تھر کا اور ساکن ہو گیا۔

وہ پہلو بدلتے ہوئے بولا۔ ’’محمد خان میر ی ماں کی فوتگی پر نہیں آیا تھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ اور ہماری بیٹی کی شادی پر بھی کچھ گھنٹے ٹھہر کر چلا گیا تھا۔ تمہیں کتنا افسوس ہوا تھا کہ اس نے جو کپڑے دیے تھے، کتنے گھٹیا سے تھے۔‘‘

اس نے بادل نخواستہ ہاں میں ہاں ملائی اور بھائی کے مزاج کی سخت گیری کو یاد کیا۔

اس کے شوہر نے کھنکار کر بات جاری رکھی۔ ’’دیکھو، کوٹ قاضی نزدیک تو نہیں ہے۔ صبح جائیں شام کو لوٹ آئیں۔ ایک دن اور ایک رات کا سفر ہے، پھر سردیوں کا موسم ہے۔تمہیں یہاں کے موسم کی عادت پڑگئی ہے۔ تمہاری بوڑھی ہڈیاں پالابرداشت نہیں کر سکیں گی۔ تمہاری صحت بگڑ گئی تو کوٹ قاضی میں ڈاکٹر بھی نہیں ہو گا جو تمہارا علاج کر سکے۔‘‘ وہ ڈاکٹر والی بات سن کر ہنسی اور اپنے شوہر سے مکمل اتفاق کیا۔

’’تم برادری والوں کے مزاج کو سمجھتی ہو۔ باتوں میں تیر پھینکتے ہیں۔ تم حساس ہو ان کی باتوں کا جواب نہیں بن پڑے گا۔ تم کڑھتی رہو گی، اسی وجہ سے تمہیں ٹی بی ہو نے لگی تھی۔ اچھا ہوا وقت پر پتہ چل گیا اور دوا شروع کر دی۔مجھے ڈر ہے کہ تمہاری بیمار ی نہ بڑھ جائے۔‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’تم جانتی ہو، ہمارے حالات اچھے نہیں کہ دو آدمیوں کے سفر کے اخراجات برداشت کر سکیں۔پھر بہنوں میں تم سب سے بڑی ہوا اور مد ت کے بعد جاؤگی تو کچھ دینا پڑے گا۔ نہیں دوگی تو وہ باتیں بنائیں گی اور دیکھو، دور رہتے ہو ئے حالات پر جو پردہ ہے اسے پڑا رہنے دو۔ہم ساجد کو بھیج دیں گے وہ بڑا ہو گیا ہے۔ کیوں، کیا خیال ہے۔‘‘

وہ اختلاف کر نا چاہتی تھی۔شوہر کی بیان کر دہ حقیقتوں کو مسترد کر نا چاہتی تھی لیکن اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھے بغیر کہہ دیا ’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ پھر وہ ان چیزوں کی بات کر نے کرنے لگی جو شادی کے لیے بھجوانی تھیں۔ اس نے ان چیزوں کا بھی ذکر کیا جو بھائی نے ان کی بیٹی کی شادی پر دی تھیں۔

وہ ان کی مالیت کا اندازہ لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’وہ جوڑے چھ سو روپے سے زیا دہ کے نہیں۔ہاں دونوں کو ملا کر اور پانچ سو نقد بھی دیے تھے۔‘‘
وہ سوچ میں پڑگئی،وہ چاہتی تھی کہ زیادہ مہنگے کپڑے بھجوا ئے۔

اس نے اپنے شوہر کو بتایا تو اس نے اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ پانچ سو والے دو جوڑے خرید ے جائیں۔ ایک لڑکی اور دوسرا اس کے والد کے لیے اور ہزارروپیہ نقد بھجوایا جائے۔

اس نے تصور میں دیکھا کہ اس کی بھابھی کپڑوں کی خوبصورتی پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے اور قیمت کا تعین کر تے ہو ئے اپنی نند کی امیری کا ذکر کر رہی ہے۔

اس کے شوہر نے اس کے تصور میں جھانک لیا۔
وہ بولا ’’ہمارے کپڑے عمدہ اور قیمتی ہوں گے اور ہماری کمی کی تلافی کر دیں گے۔‘‘
اس نے مسکراتے ہو ئے اپنے شوہر کو دیکھا۔

انہوں نے ساجد کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ایک لمبے عرصے کے متعلق سوچتے ہو ئے ساجد کو جو خیال سب سے پہلے سو جھا وہ سفری بیگ کے بارے میں تھا۔

وہ بولا ’’گھر میں کوئی بیگ نہیں ہے، میں سامان کیسے لے کر جاؤں گا۔‘‘ اس نے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ہم اپنے وقتوں میں گٹھڑی استعمال کرتے تھے۔‘‘ پھر بیٹے کو بتا نے لگی کہ جہیز کے تین کپڑے لے کر جب وہ سسرال پہنچی تو اس کی گٹھڑی بہت میلی ہو گئی تھی۔

’’لیکن میں تو گٹھڑی لے کر نہیں جا سکتا۔‘‘
وہ متفکر لہجے میں بولی ’’ایک بیگ تھا تو سہی۔‘‘

’’وہ ابو کا پرانا بیگ ہے۔ میں جسے موچی سے سلوایا کرتا تھا۔ میں وہ لے کر جاؤں گا۔‘‘
’’تم نیا بیگ لے کر جاؤ گے۔‘‘ اس کے والد نے کہا۔

اگلے دن اس کا شوہر کام سے لوٹا تو ایک بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ ساجد کے ٹھاٹھ کے متعلق گاؤں والوں کے ردعمل کی باتیں کر تے رہے۔
دو روز بعد وہ مارکیٹ گئی تو خفیہ طور پرپس انداز کی ہوئی رقم لیتی گئی۔

ساجد نے اپنے لیے کپڑے پسند کیے جبکہ شادی والے کپڑے خریدتے ہوئے اس نے بیٹے کا کوئی مشورہ نہیں مانا۔اس نے بیٹے کے لیے دوسری چیزیں بھی خریدیں۔ مثلاً جرا بیں، رومال اور بنیانیں اور اسے سمجھا دیا کہ اپنے والد کو ان کی بھنک نہ پڑنے دے۔

شام کو اس کے شوہر نے چیزیں دیکھیں تو خوب تعریفیں کر تا رہا۔ساجد کی روانگی سے دو روز پہلے انہوں نے رات گئے تک باتیں کیں۔
اس کا شوہر بیٹے کو بتاتا رہا کہ اس نے کتنی مشکلوں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول گاؤں سے دس میل دور قصبے میں واقع تھا۔

جہاں سواری نہیں جاتی تھی۔وہ جمعے کی چھٹی گزار کر آدھی رات کو سفر کا آغاز کر تا۔ ہاسٹل میں پانی بھی نہیں تھا اس کے پاس یونیفارم کے علاوہ ایک اور جوڑا تھا۔وہ جسے گاؤں آتے ہو ئے پہنتا تھا۔

وہ بھی گزری ہوئی زندگی کے تار چھیڑتی رہی۔اس کا والد اسے فجر سے پہلے جگا دیتا تھا۔ نماز پڑھ کے وہ مویشیوں کو چارہ ڈالتی تھی۔ وہ ناشتے کے بعد کھیتوں پر چلی جاتی تھی۔ اسے فخر تھا کہ وہ بیٹوں کی طرح باپ کے ساتھ کام کر تی تھی۔ساجد جماہیاں لیتے ہوئے ان کی گفتگو سنتا رہا۔
اس نے جاڑے سے کڑکتی رات کا پرانا قصہ دوہرا یا۔ وہ لوٹا اٹھائے رفع حاجت کے لیے کھیت میں گئی تھی۔ اسے نزدیک ہی، دھیمی سی شو نکار سنائی دی تھی۔ اس نے پیتل کے لوٹے سے ایک سانپ کا سر کچل دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پالے کے باوجود اسے پسینہ آگیا تھا۔

وہ الماری سے نیلی شال اٹھا لائی۔اسے اپنے گرد لپیٹ کر چومتے ہوئے بولی یہ میرے جنتی باپ کی نشانی ہے۔وہ اسے اوڑھ کر عبادت کر تا تھا۔ شام کو چوپال میں بیٹھتا تھا۔ میں اس شرط پہ دوں گی کہ تم ہر حال میں اسے واپس لاؤ گے۔ بیٹے نے ہنستے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ کسی کو شال ہتھیانے نہیں دے گا۔اس کا شوہر اپنی واسکٹ پہن کر سامنے آ یا تو اسے دیکھ کر وہ ہنسی میں لوٹنے لگی۔ وہ کسی ماڈل کی طرح پوز مارتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’آٹھ سال پہلے خریدی تھی، مگر دیکھو نئی لگتی ہے۔ تم اسے پہن کر دیکھو، کسی وزیر کے بیٹے لگو گے۔‘‘

نہ چاہتے ہوئے بھی ساجد نے واسکٹ پہن لی۔سپر ایکپریس میں ریزرویشن کرائی گئی، ساجد کو اگلے دن روانہ ہونا تھا۔

وہ جانتی تھی، ریل پچیس گھنٹے میں آخری اسٹیشن تک پہنچے گی۔ پھر تین گھنٹے بس کا سفر تھا۔ اسے بس وہیں اتار ے گی جہاں سے پچیس سال پہلے اس کی رخصتی ہوئی تھی۔ سڑک پر دو ویران ہوٹل، کریانے کی دوکان اور شیشم کے دو ٹنڈمنڈ درختوں کے نیچے سائیکل والے اور موچی کا بکھرا ہو ا سامان۔وہ جگہ اسے اچھی طرح یادتھی۔ وہاں پہنچتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔

ذہن میں یادیں اور سانسوں میں خوشبو امڈآتی تھی۔ بل کھاتی سڑک کے آخری کونے پر ٹیلے کے پیچھے گاؤں کی ہر گلی اور مکان آنکھوں میں گھس آتے تھے۔اسے معلوم تھا وہاں کوئی چیز نہیں بدلی ہو گی۔صرف کچھ بوڑھے مر گئے ہوں گے اور نئے بچے پیدا ہو ئے ہوں گے۔
بیگ میں سامان رکھتے ہوئے اسے کچھ نہ کچھ بھول جاتا۔ٹوتھ برش، کنگھی، تو کبھی پالش۔
اس نے بیگ کو گنجائش سے زیادہ بھر دیا۔وہ مشکل سے بند ہو سکا۔
ساجد چیخ اٹھا۔ میں ہفتے کے لیے جا رہا ہوں، عمر بھر کے لیے نہیں۔
سفر میں بیٹے کے کھانے کے لیے اس نے مزید اور چیزیں بنائیں۔آلو کے پراٹھے اور میٹھے آٹے کی ٹکیاں۔

رات کو وہ اسے نصیحتیں کر تی رہی کہ نانی کے ہاں قیام کرے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی پھوپھی کے گھر سامان رکھ دے۔ جو کوئی بھی ان کے حالات کے متعلق پوچھے وہ بتادے کہ بہت اچھے ہیں۔ اگر کوئی اس کی دعوت کر نا چاہے تو رواج کے مطابق کہہ دے۔ پہلے نانی سے اجازت لے لیں۔اس نے سمجھایا کہ وہ ساری خالاؤں کے گھر جائے۔اگر کوئی پیسے دینا چاہے تو مت لے۔ البتہ دوسری شے ہو تو قبول کر لے۔

اس نے اپنے شوہر سے چھپ کر سرگوشی میں اسے بتایا کہ اس نے اس کی نانی کے لیے سفید چادر بیگ میں ڈال دی تھی اور اگر بتیوں کا پیکٹ بھی۔ جس کے لیے اس نے تاکید کی کہ وہ قبرستان جائے اور نانا کی قبر پر انہیں لگائے۔ اور تین درود شریف اور تین قل ھو اللہ پڑھ کر ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرے۔

اس نے دھیمے لہجے میں ایک بات کہی جسے سن کر اس کا بیٹا ہنسی میں لوٹنے لگا۔ اس کا شوہر بھی مسکرادیا۔ اس نے نصیحت کی تھی کہ ان کے کھیت میں ایک بے کار کنویں کے پاس مٹی کی ایک ڈھیری تھی۔ وہاں اس کے والد کی گدھی دفن تھی۔ جس نے بار برداری کے لیے ان کی خدمت کی تھی۔ وہ اس کے لیے بھی دعا کرے۔

گمشدہ نیند کی وجہ سے وہ دیر تک اپنے شوہر سے باتیں کر تی رہی۔بیٹا تو کب کا سو چکا تھا۔وہ شکایت کر تی رہی کہ اس نے گاؤں والی زمین بیچ دی۔ مکان اپنی بہن کو دے دیا اب ہم اجنبیوں کی طرح وہاں جائیں گے جیسے اس مٹی سے عارضی تعلق ہو۔ اپنا گھر ہو تا تو مہمان بننے کی نوبت نہ آتی۔
وہ شوہر کی نیند سے بے خبر بولتی رہی۔

وہ کھاٹ سے اتری تو شوہر کا سویا ہوا چہرہ دیکھ کر بڑبڑا ئی۔

غسل خانے سے نکل کر بیٹے کے کمرے میں گئی۔اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر وہاں ٹھہر کر سوچنے لگی۔ کل رات سفر میں گزرے گی۔پرسوں وہ گاؤں پہنچ جائے گا۔
اس نے آہ بھر تے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھا اور دو بارہ کھاٹ پر جا لیٹی۔

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 10 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]
ایک دو بار تو کسی نے ان سے کوئی سوال نہ کیا لیکن تیسری بار ڈیلارام کے بڑے بیٹے ارجن داس نے سوال کر ہی لیا، ’’چھا تھیو بابا؟‘‘ (کیا ہوا بابا؟) ڈیلارام نے کوئی جواب دینے کے بجاے ایک بار پھر سے ہلکی سی ہنسی کا سہارا لیتے ہوے دو دِشاؤں میں منڈی ہلا دی۔

سوال خاموش ہو گیا۔ اب صرف ایک ہی آواز فضاؤں میں گونج رہی تھی، ریل کی پٹریوں اور ٹرین کے پہیوں کی سنگت سے پیدا ہوے والی رِدم سے بھرپور آواز – ٹھک ٹھک، ٹھکر ٹھک، ٹھک ٹھک، ٹھکر ٹھک۔ اچانک ہی اس میں ایک آواز اور شامل ہو گئی۔ یہ آواز تھی ڈیلارام کی۔ وہ سندھ کے مشہور گایک ماسٹر چندر کا ایک گیت چھیڑ بیٹھے تھے :
تہنجے ملک میں آیس قسمت ساں
پر سہنا کین رہایو تو
(مجھے میری قسمت تیرے دیس لائی / مگر پیارے تو نے ذرا نہ نبھائی)

ڈیلارام کے گیت نے اس ماتمی ماحول میں ڈوبے تمام لوگوں پر جادو اثر کر دکھایا۔ ٹرین کی روانگی کے بعد آہستہ آہستہ خاموش ہو، اگلے پڑاؤ کے ڈراؤنے سہاؤنے سپنوں کی پہیلی میں کھوئے لوگوں کو اچانک ہی اپنے اصل درد کی یاد آ گئی۔ آس پاس کے لوگ اپنی اپنی جگہ سے آگے بڑھ کر ڈیلارام کی دردبھری آواز کے پاس آنے کی کوشش میں اچانک ہی زندہ ہو گئے۔ ان زندہ لوگوں کے لیے اس وقت ڈیلارام ان کے درد کی صدا بن کر ابھرے تھے۔

بیچ بیچ میں آتی گرم تیز ہواوٴں اور ریل کی کوک سے کٹتی ڈیلارام کی یہ صدا بھلے ہی اپنے پورے لفظوں کے ساتھ سب کو سنائی نہیں دے رہی تھی لیکن اس آواز میں موجود ٹیس کا اثر سب پر برابر تھا۔ عورتیں باربار اپنے آنچل سے اپنے ہی آنسو پونچھ رہی تھیں تو مرد اپنی پوری مردانگی سے آنسوؤں کو پونچھ کر ان کے نشان مٹانے کے بجاے برابر بہنے دے رہے تھے۔ پچھلی پہیلی سے جُوجھتے معصوم بچوں کے لیے یہ ایک اور پہیلی سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔

ڈیلارام کی آواز کچھ دیر بعد تھمی تو دوسرے کونے سے سنت کنور رام کا ایک پرارتھنا گیت گاتے گاتے عورتوں کے ایک گروہ کی آواز ابھرنے لگی :
نالے الکھ جے بیڑو تار مہنجو
نالے دھنیء جے بیڑو تار مہنجو
ندھنی آہیاں ماں نمانی
آہے آدھار تہنجو
(اس الکھ کے نام پر، لگا کنارے ناؤ میری
اس مالک کے نام پر، لگا کنارے ناؤ میری
ہوں بے سہارا میں بیچاری، ادم سادہ دل
ہے جو مجھے تو بس ہے تیرا آسرا، بس مدد تیری)

اس کے بعد تو یہ ایک اٹوٹ سلسلہ سا بن گیا۔ کبھی اِس طرف تو کبھی اُس طرف سے ایشور سے مدد مانگتے، اس کا رحم مانگتے گیتوں کا سلسلہ چل پڑا۔ بیچ بیچ میں کچھ رونے کی صدائیں اٹھتیں تو وہ بھی سنبھل کر آخر کو انھی سروں میں شامل ہو جاتیں۔

جگہ جگہ اٹکتی بھٹکتی یہ ٹرین آخر دو دن کے بعد بیراگڑھ آ پہنچی۔ اس جگہ تک پہنچتے پہنچتے نصیرآباد سے روانہ ہوے یاتریوں میں سے تین یاتری کم ہو چکے تھے۔ ان تینوں نے ایک کے بعد ایک دم تب توڑا جب ان کی منزل بس چند گھنٹے بھر ہی دور تھی۔

بیچ راہ ہی سفر چھوڑنے والے ان تین میں سے ایک ڈھائی سال کا بچہ اور دو بزرگ تھے۔ بچہ اور دونوں بوڑھے پہلے سے بیمار چل رہے تھے اور گھریلو علاج کے بھروسے جی رہے تھے۔ ٹھساٹھس بھری ٹرین کے گھٹن بھرے ماحول میں بنا علاج ان کی سانسیں ٹوٹ گئیں۔

گاڑی کے رکتے ہی لگ بھگ ویران سے پڑے اس چھوٹے سے سٹیشن کا منظر یکایک محرم کے ماتمی جلوس میں بدل گیا۔ اپنے مُردوں کے ساتھ اپنی آہوں اور کراہوں کو ڈھوتے چلے آ رہے اس ہجوم کے صبر کا باندھ پلیٹ فارم پر اترتے ہی ٹوٹ گیا۔ اب تک اس حادثے سے بےخبر لوگ ان جنازوں کو دیکھ کر صدمے کی حالت میں اِدھر اُدھر زمین پر لوٹنے لگے۔

سٹیشن پر موجود سرکاری عملہ بھی کچھ دیر لاچاری کی حالت میں ایک دوسرے کی شکل دیکھتا رہا۔ اسی بیچ اس ٹرین کا کنڈکٹر ڈینس بنجامن بدحواسی میں دوڑتا آیا اور اس نے اپنی ٹوپی اتار کر ان تینوں جنازوں کے آگے رکھ دی۔ اس کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے اور وہ کچھ بدبدا رہا تھا، جس سے پرارتھنا کا سا تاثر ہوتا تھا۔

ایک دم مضبوط گٹھے ہوے جسم کے ساتھ اتنے ہی مضبوط کالے رنگ والے ڈینس کی حالت دیکھ کر اجڑے ہوے ہجوم کی آنکھوں میں تھمے آنسو اور دل میں دبے نالے پھوٹ کر پھوٹ کر باہر نکلنے لگے۔ کچھ لوگ ڈینس سے لپٹ گئے اور اس کے کالے کوٹ کو گیلا کر گئے۔

بزرگ سے سٹیشن ماسٹر نے اس جگہ ساری صورتحال کو سنبھالا۔ اس نے وہاں موجود سرکاری عملے سے کچھ بات کی، جو اس کے بعد فوراً سرگرم ہو گیا۔ ان میں سے ایک افسر فوراً گاڑی کی طرف بھاگا اور کچھ دیر کے لیے گم ہو گیا اور ایک ڈگ ڈگ سی چلتی ایمبولینس کے ساتھ لوٹا۔

سٹیشن ماسٹر نے آگے بڑھ کر ڈینس کے جذبات کو بڑے پیار سے سہلا کر قابو کرنے کی کوشش کی۔ یہی کام اس نے باقی ہجوم کے ساتھ بھی کرنے کی کوشش کی۔ انھیں اس جگہ ایک بہتر جیون کے سپنے دینا شروع کر دیا۔ رونے دھونے کی آوازیں مدھم پڑنے لگیں تھیں۔ لگ بھگ سارے لوگ مُردوں کو چھوڑ سٹیشن ماسٹر والی بہتر زندگی کی باتیں سننے میں لگ گئے تھے۔

تبھی اچانک تھوڑا سنبھل چکے ڈینس نے پلیٹ فارم پر موجود تمام لوگوں کے بیچ ایک اعلان کر کے سب کو چونکا دیا۔ بڑی جذبات سےبھری مُدرا میں اس نے کہا، ’’میری گاڑی میں میرے رہتے تین لوگ مر گئے۔ میں کچھ بھی نہیں کر پایا۔ اس لیے میں آج ہی اس نوکری سے استعفیٰ دے دوں گا اور ایک والنٹیئر کی طرح، آپ کے ایک بھائی کی طرح، آپ لوگوں کے بیچ کام کروں گا۔‘‘

جذبات کا ایک اور طوفان آیا۔ اس بار ڈینس کا کوٹ اور زیادہ گیلا ہوا۔ اس بار خود ڈینس اور زیادہ رویا۔ سٹیشن ماسٹر ڈینس کو دلاسا دینے کے لیے اس کے کاندھے تک اپنا ہاتھ پہنچانے کی کوشش کرتا رہا لیکن چاروں اور سے گھرے ڈینس کے کاندھے پر پہلے سے ہی بہت ہاتھ تھے۔ کچھ چھوٹے قد کی عورتیں اسے آسیس دینے کی غرض سے اس کے ماتھے تک ہاتھ پہنچانے کی کوشش میں اِدھر اُدھر گر رہی تھیں۔

اسی بیچ ایمبولینس کی گاڑی کے آنے کی اطلاع لے کر ایک افسر پلیٹ فارم پر آ پہنچا۔ ایمبولینس کے آنے کی بات سن کر پہلے تو سب نے ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور پھر سٹیشن ماسٹر سے مخاطب ہوتے ہوے ڈیلارام نے، جو ٹرین میں دکھ کے گیت گا رہے تھے، کہا، ’’ماسٹر صاحب، ناچاق لوگوں کا علاج تو بعد میں، پہلے ہمیں ان تین جنازوں کا انتِم سنسکار کرنا ہو گا۔‘‘

سٹیشن ماسٹر نے ڈینس کی طرف نظریں گھمائیں اور نہایت نرم انداز میں جواب دیا، ’’بھائی صاحب، یہاں کوئی شمشان گھاٹ نہیں ہے۔‘‘

ڈیلارام کے ساتھ ہی ساتھ وہ سارے لوگ ایک ساتھ چونک پڑے جن جن نے یہ جواب سنا تھا۔ ان چونکے ہوے چہروں کو دیکھ کر ان لوگوں نے سوال پوچھنا شروع کر دیے جن کے کان تک یہ آواز نہیں پہنچی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر کانوں کان سارے ہجوم تک پہنچ گئی۔

غصے سے بھرے ایک نوجوان نے سٹیشن ماسٹر سے جواب طلب کرتے ہوے پوچھا، ’’کیا یہاں پر کبھی کوئی نہیں مرتا؟ سب کے سب اَمر ہیں کیا، جو یہاں شمشان گھاٹ نہیں ہے؟‘‘

اس بار ڈینس نے آگے بڑھ کر سٹیشن ماسٹر سے کیے گئے سوال کا جواب اس نوجوان کے پاس جا کر دیا۔ سمجھائش دینے والے انداز میں اس نے بتایا که یہ بیرکس دوسری بڑی جنگ میں انگریز حکومت نے اٹلی کی فوج کے پکڑے گئے قیدیوں کو، جنھیں پرِزنرز آف وار کہا جاتا ہے، قید میں رکھنے کے لیے قائم کی تھیں۔ وہ سب کے سب عیسائی تھے، اس لیے یہاں اٹلی کے جن سپاہیوں کی موت ہوئی، ان کے لیے ایک قبرستان ضرور ہے، لیکن شمشان گھاٹ نہیں ہے۔ ہندوؤں کا شمشان گھاٹ یہاں سے دور شہر بھوپال کے چھولا روڈ پر ہے، اور یہ کام صرف وہیں ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایمبولینس بلائی گئی ہے که کچھ لوگ وہاں جا کر اس سنسکار کو پورا کر سکیں۔

ابھی یہ بات پوری بھی نہیں ہو پائی تھی که کچھ دور کھڑے ڈیلارام نے دہاڑیں مارکر رونا شروع کر دیا۔ ’’ہائے ڑے اللہ مہنجا! پہریوں جین مشکل کیئ، ہانے ہِتے تَ مرن بی مشکل آ۔‘‘ (ہائے میرے اللہ ! پہلے تُو نے جینا مشکل کیا، اب یہاں تو مرنا بھی مشکل ہو گیا۔)

کچھ سسکیاں اور چلیں۔ کچھ سمجھائش اور چلی۔ آخر سب کے مشترکہ فیصلے سے یہ تینوں جنازے چھولا روڈ والے ہندو شمشان گھاٹ بھیج دیے گئے۔ باقی سارے لوگوں کو ان کے چُھٹ پُٹ سامان کے ساتھ ڈاج اور سٹڈی بیکر کمپنی کی گول مٹول لاریوں میں ٹرین کی ہی طرح ٹھونس کر ان ٹوٹے پھوٹے بیرکس کی طرف لے جایا گیا جہاں ان لوگوں کو نئے سرے سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنا تھا۔

یہاں سے روانہ ہوئی لاریوں میں سے ایک لاری، جس میں ڈیلارام اور اس کا پریوار سوار تھا، وَن ٹری ہِل کی طرف جا رہی تھی۔ اس جگہ نہ جانے کب سے، شاید صدیوں سے، ایک اکیلا تنہا، آم کا ایک وِشال پیڑ کھڑا تھا، جس پر بہار بھی آتی تھی، پھل بھی لگتے تھے، لیکن زیادہ تر پھل اسے توڑ کر کھانے والے کسی ہاتھ کا انتظار کرتے کرتے، تھک کر گر پڑتے تھے۔ اس لاری میں سوار لوگوں کو آتا دیکھ، اداس سے کھڑے پیڑ کے جسم میں ایک ہلکی سی حرکت آئی۔ شاید اسے اندازہ ہو چکا تھا که اب اس کے پھلوں تک پہنچنے والے ہاتھ آ پہنچے ہیں۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

چالیس برس کے بھیا (تالیف حیدر)

کل رات کی بات ہے کہ میں اپنے بہنوئی دانش بھائی کے نئے مکان میں بیٹھا بھائی جان اور آپا کی باتوں پر ہنس رہا تھا کہ اچانک بھابی نے خبر سنائی کہ کیک آ رہا ہے، زرناب اور عارج خوشی سے ادھر ادھر کودتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے،میں جو نیم دراز تھا اٹھ بیٹھا اور بھابی ایک تھالی میں کیک سجا کر لے آئیں۔یہ کیک بھیا کی چالیسویں سالگرہ کا کیک تھا، میں جو کہ کیک کا ذرا زیادہ ہی عاشق ہوں اس کے پلاسٹک کے اسٹول پر لگتے ہی اس پر جھک گیا۔ دیکھا تو اوپر ہی دانش بھائی کا نام، جنم دن کی مبارکباد اور40 کا عددلکھا ہوا تھا۔ چالیس کے ہندسے پر نظر پڑتے ہی میں سب کچھ بھول بھال کر ایک دم اس سوچ میں ڈوب گیا کہ بھیا !جن سے میری تقریباً پندہ برس پرانی شناسائی ہے وہ آج چالیس برس کے ہو گئے۔ بظاہر تو اس میں کوئی حیرت کا نکتہ نظر نہیں آتا، مگر میں اس لمحے کافی دیر تک ا س خیال میں ڈوبا رہا کہ ایک انسان جس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ عجیب و غریب مسائلِ زندگی سے نبرد آزما ہوتے ہوئے گزار دیا آج اس کی عمر کے چالیس برس مکمل ہو گئے ہیں۔

میں نے فوراً بھیا کو آواز دی ان کے سامنے اپنے تحیر زدہ لہجے میں تقریباً تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا :
بھیا آج تم چالیس برس کے ہو گئے؟

اس جملے کا انداز سوالیہ تھا کیوں کہ مجھے ایک لمحے میں قطعی یہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ و ہی دانش بھائی ہیں جنہیں میں نے 25 برس کی عمر میں پہلی بار دیکھا تھا۔ وقت کے دبے پاوں گزر جانے کا خیال اتنا حیران کن تھا کہ میں اسی سوچ میں ڈوبتا چلا گیا۔

دانش بھائی اور میرا تعلق کیا ہے؟ یہ میں کبھی خود بھی نہیں سمجھ پایا۔ یوں تو رشتے میں وہ میری سگی بڑی بہن کے شوہر ہیں اور دوسری طرف میری ایک دوسری پھوپھی زاد بہن جن سے ہماری رشتہ داری اگر بہت نزدیک کی نہیں تو بہت دور کی بھی نہیں ہے ان کے بڑےبیٹے بھی ہیں۔ میں ان دونوں رشتوں کی وجہ سے ہمیشہ کنفیوز رہا کہ انہیں اپنا جیجا کہوں یا بھانجا۔ دوسری طرف یہ شخص میرا دوست، میرا دشمن، میرا حریف، میرا دردمند، میرا ہم خیال اور میرا متضاد سبھی کچھ ہے۔ لہذا میں نے کبھی دانش بھائی کو صرف اپنی بہن کے شوہر کی شکل میں نہیں دیکھا اور شائد میرے تینوں بھائیوں نے بھی انہیں کبھی صرف اپنا جیجا نہیں سمجھا۔ جیجا یا بہنوئی کا جو عام تصور ہندوستانی گھرانوں میں پایا جاتا ہے بھیا اس طور کے کبھی خود بھی نہیں رہے۔ اب اسے ان کی شخصیت کا خاصہ کہو یا کمزوری کہ انہوں نے ہم سے کبھی سالوں جیسا سلوک نہیں کیا۔ نہ کبھی کسی چیز کے خواہش مند رہے، نہ مصنوعی عزت کے طلب گار، نہ ساس سسر کے چہیتے بننے کی کوشش کی، نہ دکھاوے کی محبت۔بھیا کی شخصیت ہم لوگوں کے لیے کچھ اس قسم کی رہی ہے کہ انہوں نے ہماری زندگی میں صرف ایک دوست کا کردار ادا کیا ہے یا اس سے کچھ مزید آگے بڑھے ہیں تو بھائی بن گئے ہیں۔ اُسی طرح ہم سے لڑے ہیں جس طرح ایک سگا بھائی لڑتا ہے، اُسی طرح ہماری پروا کی ہے جس طرح ایک دوست کرتا ہے، ویسے ہی ہمارے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں جیسا کہ ایک رفیق کا فرض ہوتا ہے اور اُسی طرح ہمیں ہمیشہ سے اپنی طرح تصور کیا ہے جس طرح ایک ماں کے پیٹ میں پیر پھیلانے والی تمام اولادیں ایک دوسرے کو کرتی ہیں۔

یہ بات غالباً خود بھیا نے بھی اپنے متعلق کبھی نہ تصور کی ہو لیکن میں نے اسے بار ہا محسوس کیا ہے کہ بھیا نے ہم تمام بھائیوں کے درمیان غیر شعوری طور پراپنے لیے ایک ایسی جگہ تراشی ہے جس سے وہ خلا پر ہوا ہے جس خلا کے پر کرنے کے ہم تمام بھائی بہن ہمیشہ سے خواہش مند تھے۔ میں اکثر اپنی بہن سے بھی یہ بات کہتا ہوں کہ بھیا اس گھرانے کے لیے واحد وہ شخص تھے جس کا گزارہ ہم لوگوں کے ساتھ بہت بہتر انداز میں ہو رہا ہے۔ کیوں کہ جن حالات میں میری بہن کے ساتھ انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اسے کسی عقل پرست شخص کا فیصلہ ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔ ہم پانچوں بھائی، بہن جن کے مزاج کی ایک سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم کبھی رشتوں اور جذباتوں کے معاملات میں عقل کو درمیان میں نہ لا سکے ان کے بیچ ایک ایسا ہی شخص کھپ سکتا تھا جو خود ہمارے دل و دماغ جیسا ہو۔

بھیا نے میری بڑی بہن سے محبت کر کے شادی کی اور ان کی محبت کے خلوص کا معیار اسی روز طے ہو گیا تھا جس روز انہوں نے ایک دس بائے دس کے کمرے میں پلنے والی ایک غریب گھرانے کی خوبصورت لڑکی کو اپنی جیون ساتھی چن لیا تھا۔ ہم تمام گھر والے جانتے ہیں کہ وہ حالات جن میں ان دودلوں کا سنگم ہوا و ہ ہم لوگوں کے لیے کتنے نازک تھے۔شادی بیاہ تودور کی بات وہ زمانہ ایسا تھا کہ ہم نے کبھی خود کوکسی اعتبار سے مکمل کرنے کے متعلق تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ایسے میں آپا کی زندگی میں ایک فعال، سرگرم عمل، کماو، خوب رو چھوٹے قد اور مضبوط جسم والاایک شخص داخل ہوا اور اس نے آپا کی نشیلی آنکھوں اور گوری بانہوں کے سائے تلے اپنی جنت بنانے کا عزم کر لیا۔

بھیا اور آپا کی شادی جس زمانے میں طے ہوئی تھی اس زمانے سے میرے دوسرے بھائیوں کے مقابلے میں میرا اور بھیا کا ایک گہرا رشتہ بننا شروع ہو گیا تھا۔ بھیا اپنی دو بہنوں سمیت دہلی کی مصور زدہ گلیوں کا دیدار کر رہے تھے، میری بہن سے عشق کر رہے تھے اور مجھے اپنے خرچ پر پورا دلی گھما رہے تھے۔ میں کسی انجانی خوشی میں مبتلا یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بھیا ہم تمام لوگوں پہ کتنا وقت اور روپیہ اڑا رہے ہیں مستی میں ان کے ساتھ گھومتا پھرا، کبھی اس بات کا نہ مجھے خیال آیا کہ یہ کوئی اوچھی یا بری بات ہے اور نہ کبھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس ٹیم میں تمہارا کیا کام۔ ان دنوں کے کئی ایک رنگین نقش میری یادوں میں آج بھی محفوظ ہیں کہ کس طرح بھیا نے اپنی سخاوت کا جلوہ دکھا دکھا کر مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔میں نے بھیا کے ان اچھے دنوں کو دیکھ کر ان کے بارے میں جو تصور قائم کیا تھا حیرت ہے کہ وہی تصور ان کے ایسے سخت دنوں میں بھی میرے ذہن میں تازہ رہا جس کا کوئی منطقی جواز میرے پاس نہ تھا۔

دانش مسعود عرف بھیا میری زندگی میں وہ پہلے شخص ہیں جن کے متعلق میں نے اپنے ذہن میں یہ بات اولین دنوں میں بٹھا لی تھی کہ یہ جو چاہیں وہ کسی نہ کسی طرح کر ہی لیں گے۔ اس کا عملی نمونہ میں نے اس روز دیکھا جس دن ان کی شادی ہوئے چند برس گزر چکے تھے، میری بہن کے ساتھ ان کے تعلقات میں ایک نوع کی تلخی پیدا ہونے لگی تھی، وہ روز انہ اپنے ماں، باپ کی خوشنودی اور بیوی کی خواہشوں کی نذر ہو رہے تھے اور ایسے میں انہیں ایک اہم فیصلہ لینا تھا۔ ایک سخت نقل مکانی جس کی جرات عام طور پر لوگ خواب و خیال میں بھی نہیں کرتے۔ بھیا نے دلدلی زمین پر قدم جمانے کا فیصلہ کیا اس پر مضبوطی سے قائم رہے اور اپنی جواں مردی کا ثبوت پیش کر کے میرے خیال کو مزید تقویت عطا کر دی۔

بھیا کو قریب سے جاننے والے ان کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہیں کہ انہیں کسی بھی بات پر کبھی بھی غصہ آ سکتا ہے، ان کا جلال جب اپنے نقطہ عروج کو پہنچتا ہے تو وہ اپنے آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، ساری اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر کسی ضدی بچے کی طرح اپنے موقف پر اڑ جاتے ہیں، غصے میں اپنے جملوں کو تیزی سے دہراتے ہوئے ادھر ادھر ٹہلنے لگتے ہیں۔ اپنے چھوٹے قد کے باوجود مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود بزرگوں کا احترام ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ میں نے اپنی گذشتہ تیس برس کی زندگی میں ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جس نے اپنے والدین کا ایسا احترام کیا ہو جیسا دانش بھائی کرتے ہیں۔ ان کے والد جو ایک سرکاری ملازمت میں اپنی تمام عمر گزار کر ایک پختہ مکان کے مالک بنےہیں، جن کے پاس نہ بے انتہا دولت ہے، نہ شہرت، نہ کوئی ایسی وجہ پا بہ زنجیر جس کے لیے دانش بھائی ان کی بے انتہا جھڑپوں کو برداشت کریں، ان کے غصے کو سہتے رہیں، ان کے طعنوں کا جواب نہ دیں اور ان کے آگے سر تسلیم خم کئے رہیں، لیکن اس کے باوجود دانش بھائی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے والدین کے ہر اشارے پر دوڑ پڑتے ہیں ان کا ایک ایک حکم بجا لاتے ہیں اور اپنی خواہشات کو قربان کر کے، اپنے لہو کو جلا کر ان کے ہونٹوں کو مسکراہٹ بخشتے ہیں۔
دانش بھائی مزاجاً ایک محنتی شخص ہیں،لہذا ان کی سرشت میں یہ بات شامل ہے کہ کسی بھی مشکل سے مشکل کام کو صحیح تکنیک کے ذریعے پائے تکمیل تک بآسانی پہنچایا جا سکتا ہے۔ اپنی زندگی کے گزشتہ چالیس برسوں میں وہ ایسی ہی بے شمار انوکھی تکنیکوں کا استعمال کر کے نا سر کردہ مہموں کو جیتے چلے آئے ہیں۔ یوں تو وہ دہلی میں گزشتہ کئی برس سے روز گار کما رہے ہیں،لیکن ان کا ایک پاوں ہمیشہ ہردوئی میں رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں خدا اور وصال صنم دونوں کے اکثر ہاتھ سے جانے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔

کچھ لوگ جو زندگی کے نامساعد حالات کا سامنا کرنے کے لیے ہی پیدا کیے جاتے ہیں میں نے دانش بھائی کو انہیں میں سے ایک پایا ہے۔ میں اکثر دیکھتا ہوں کہ ادھر ان کا ایک گاگر بھرتا ہے تو ادھر دوسرا ٹوٹ جاتا ہے، ادھر وہ ایک طرف کی چادر برابر کرتے ہیں تو ادھر دوسرا سرا کھسک جاتا ہے، کسی ایک مسئلے میں سکون کی سانس لیتے ہیں تو دوسرا مسئلہ آنکھیں کھول دیتا ہے۔ ان سب کے باوجود وہ ہاتھوں میں تلوار تھامے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرے، زندگی کی ظالم حقیقتوں سے مسلسل لڑتے چلےجا رہے ہیں۔ ان کی زندہ دلی کا یہ ثبوت ہے کہ گزشتہ پندہ برس میں نہ ان کے قہقہے کی کھنکھناہٹ میں میں نے کوئی کمی محسوس کی ہے نہ پر مزاح انداز میں کوئی کھوٹ۔وہ اپنے مسائل پر مجمعے میں ہنس دیتے ہیں، خواہ ہنستے وقت ان کی آنکھوں کے کنارے کتنے ہی بھیگے ہوئے ہوں۔ جتنا زندگی ان سے امتحان لیتی ہے اتنا ہی مضبوط ارادہ باندھ کر وہ دوبارہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کی اس مردانہ عملی سے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی کی حقیقتوں سے کھیلنے کا راز جان لیا ہے۔دانش بھائی جو میری نظر میں عوام و خواص کی کامیابی اور ناکامی کی پری بھاشاوں سے کوسوں دور اپنی بستی آباد کیے ہوئے ہیں وہ کبھی کسی مسئلے میں خود کو کمزور نہیں سمجھتے۔ باتوں کی لاعلمی کا اظہار تو کرتے ہیں اورچیزوں کی لا حاصلی کا شکوہ بھی، لیکن اس طور سے کہ سننے والا ان کے تمام منفی جملوں کے اختتام پر ایک مثبت تاثر لے کر ان کی بزم سے رخصت ہو۔

اب جبکہ میں ان کی زندگی کی چالیسویں سالگراہ کا کیک کھا چکا ہوں تو مجھے محسوس ہو تا ہے کہ زندگی کی چالیس رعنائیوں نے دانش بھائی کو ایک مضبوط ارادے والا منظم انسان بنایا ہے،جس کے اندر ایک فن کار بھی سانس لیتا ہے اور ایک مزدور بھی۔ ایک باپ بھی رہتا ہے اور ایک شوہر بھی۔ ایک بیٹا بھی پل رہا ہے اور ایک دوست بھی۔ ایک خوابوں کی دنیا کا مسافر بھی زندہ ہے اور ایک حقیقت پسند انسان بھی۔ان کے چالیس برس کو کوئی پر تصنع انسان خواہ کسی طرح دیکھے پرمیرے نزدیک یہ ہی ان کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہےکہ انہوں نے اپنے چالیس برس اسی آبلہ پائی میں گزار دیئے بنا کسی امید کے کہ خوش حالی کا کوئی جھوٹا تصور کسی درخت کی چھاوں میں بیٹھا ان کی راہ تک رہا ہے۔

Categories
فکشن

خواب (عبدالسلام العجیلی)

[blockquote style=”3″]
عبدالسلام العجیلی 1918ء میں شام کے مقام رقّہ میں پیدا ہوے اور وہیں طبیب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ انھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا ہے اور کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں وزیر ثقافت کا عہدہ بھی شامل ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: عبدالسلام العُجیلی (Abdel Salam al-Ujaili)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ویس نے خواب میں خود کو نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں تھی، کہ وہ تو بیداری کی حالت میں بھی باقاعدگی سے عبادت کرتا تھا اور کوئی فرض نماز اس نے قضا نہیں کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ پہلی رکعت میں وہ سورۂ نصر بالجہر پڑھ رہا ہے، جس کے ختم ہوتے ہی دہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی۔

’’صدق اللہ العلی العظیم،‘‘ اس کے منھ سے نکلا۔ وہ بستر پر اٹھ بیٹھا اور اپنی آنکھیں ملنے لگا۔ محمد ویس کو یاد نہیں تھا کہ پورے خواب میں سے صرف یہی بات کیوں اس کے ذہن میں اٹک گئی۔ صبح ہوتے ہی وہ موضعے کے بزرگ شیخ محمد سعید کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ دوپہر ہوتے ہوتے اس نے شیخ کو ڈھونڈ نکالا اور اس کو اپنا خواب سنایا۔ شیخ نے پہلے سر جھکا لیا، اس کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں اور بہت دیر غوروفکر میں ڈوبے رہنے کے بعد اس نے سوال کیا:

’’تمھیں یقین ہے کہ تم سورۂ نصر پڑھ رہے تھے؟‘‘
’’بالکل،‘‘ محمد ویس نے کہا۔ ’’پوری کی پوری پڑھی تھی۔‘‘

’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوے اس کی تحمید کرو اور اس سے بخشش طلب کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ صدق اللہ العلی العظیم۔‘‘ شیخ محمد سعید نے کہا: ’’محمد ویس، اپنے رب کی حمد و ثنا کرو اور اس سے استغفار کی درخواست کرو۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

’’یا شیخ، میرا دل کہتا ہے یہ میرے لیے نیک شگون ہوگا۔ آپ اس خواب کی تعبیر میں کیا کہتے ہیں ؟‘‘

شیخ محمد سعید نے اپنی چوڑی اور گھنی داڑھی کو مٹھی میں تھام لیا اور انگلیوں سے بالوں میں خلال کرنے لگا۔ وہ اپنے تبحّر کو خواب کی تعبیر جیسی معمولی بات کے لیے استعمال کرنے سے ہچکچا رہا تھا۔ آخرِکار وہ بولا:
’’محمد ویس، اللہ سے توبہ استغفار کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ خواب میں خود کو یہ سورت پڑھتے ہوے دیکھنے کا مطلب ہے کہ بس، اب انجام قریب ہے۔‘‘

محمد ویس جو ویسے ہی بَولایا بَولایا سا رہتا تھا، یہ سنتے ہی سر سے پیر تک لرز گیا۔
’’کیا کہہ رہے ہیں شیخ؟‘‘

’’تمھارے روبرو یہ بات کہتے ہوے کلیجہ منھ کو آتا ہے، ‘‘شیخ بولا، ’’مگر حوصلہ رکھو، اللہ کی رحمت جلد ہی تمھارے شامل حال ہو گی۔ اور موت تو سب ہی کو آنی ہے۔ محمد ویس، کوئی شخص یہ خواب دیکھنے کے بعد چالیس دن سے زیادہ نہیں جیا۔‘‘

یہ فیصلہ سنا کر شیخ تو ظہر کی نماز کے لیے وضو کرنے چل دیا اور محمد ویس مارے دہشت کے گم سم بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔ اس کے پیروں میں کھڑے ہونے کی سکت بھی نہ رہی۔

خشک گلے سے وہ منمنایا، ’’چالیس دن! اللہ ہمت دے۔‘‘

جس بستی میں محمد ویس اور شیخ محمد سعید رہتے تھے، بہت مختصر سی تھی، اس لیے شام ہوتے ہوتے ہر فرد کو محمد ویس کے خواب اور شیخ محمد سعید کی تعبیر کا علم ہو گیا۔ وہ موضع ایسا تھا جہاں خوابوں کی تعبیر پر اعتبار کیا جاتا تھا، اور اگلی شام تک ہر فردوبشر کو یقین ہو چکا تھا کہ محمد ویس چالیس دن میں ختم ہو جائے گا۔ پہلے فرداً فرداً اور پھر ٹولیوں میں لوگ باگ محمد ویس کے پاس آنے لگے، جس کے باعث ان لوگوں کی خاطر جو اس کی عیادت یا پیش از مرگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے، اس کو اپنے گھر ہی پر رہنا پڑا۔ محمد ویس کے خاندان کی عورتیں ٹوہ لینے کے لیے آتیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کا جائزہ لیتیں۔ اس کو تندرست اور توانا مگر خیالوں میں گم دیکھ کر وہ بین کرنے لگتیں اور اللہ سے فریاد کرتیں کہ موت کے فرشتے کو روک لے جو اس کو لے جانے پر تلا ہوا تھا حالانکہ وہ ابھی ہٹّاکٹّا تھا۔ گو محمد ویس کو کوئی غم یا تردّد نہیں تھا، لیکن حفظِ ما تقدم کے طور پر جو تدبیریں ہو رہی تھیں اور اس سلسلے میں جو نازک سوالات اس سے کیے جا رہے تھے انھوں نے اس کو اندوہ اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ دس دن تو اس نے جیسے تیسے معمول کے مطابق گزار لیے، گھر سے ہاٹ تک روزانہ آتا جاتا رہا، تاہم جلد ہی اس کے اعصاب بول گئے اور قوتِ برداشت جواب دے گئی۔ اب لوگوں نے دن میں بھی اس کے پاس آنا شروع کر دیا تھا، جبکہ پہلے وہ صرف شام ہی کو گھر پر ملتا تھا۔ خواب دِکھنے کے بیس دن بعد محمد ویس کے گھر کی عورتوں نے اس کا بستر جھاڑنا چھوڑ دیا کیونکہ اب وہ صبح شام اسی پر پڑا رہتا تھا۔ جب میعاد کے تیس دن نکل گئے تو تمام کھانے جو اس کو مرغوب تھے اور جو اس کے گھر والے بنا بنا کر پیش کیا کرتے تھے، اب بے چھوئے اس کی چاروں طرف رکھے رہتے۔ اس نے داڑھی چھوڑدی اور ایک سفید سا لبادہ پہنے پہنے ہر وقت عبادات میں مشغول رہنے لگا۔ اس پر ہمہ وقت رقت طاری رہتی، نہ موت کے خوف سے اور نہ زندگی کے ختم ہونے کے غم میں، بلکہ اُن سزاؤں کی ہیبت سے جو قبر سے آگے اس کے انتظار میں تھیں۔ اسے خوف اس بات کا تھا کہ اس نے کاروبار کے دوران اللہ کی بڑی جھوٹی قسمیں کھائی تھیں اور ہاٹ میں آس پاس کے دیہاتیوں کو بڑے دھوکے دیے تھے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ان خطاؤں کو معاف نہ کرے۔ جوں جوں دن گزرتے گئے اور چالیسواں دن قریب آتا گیا، اس کے خالی پیٹ پر جمی ہوئی چربی ان پچھلے گناہوں کی توبہ استغفار میں گھلتی چلی گئی۔ اس کی بستی اور آس پاس کے بستیوں کے لوگ اب اس کے چہرے کے گرد ایک نورانی ہالے کا ذکر کرنے لگے اور ایسے پُراسرار کلمات کا چرچا ہونے لگا جو نماز پڑھتے ہوے اس کی زبان سے ادا ہوتے تھے۔ چالیس میں سے جب اڑتیس دن گزرچکے تو انتالیسویں دن مَیں وہاں پہنچا۔

آپ پوچھیں گے کہ مَیں کون؟

جس موضعے میں محمد ویس مویشیوں کا دلّال تھا اور شیخ محمد سعید ولی اللہ سمجھا جاتا تھا، میں وہاں کے اسکول میں مدرّس تھا۔ میں گرمیوں کی تعطیلات دمشق میں گزارتا تھا جہاں سے میری واپسی محمد ویس کے لیے شیخ محمد سعید کے مقرر کیے ہوے چالیس دنوں میں سے انتالیسویں دن ہوئی۔ میں محمد ویس سے بھی اسی طرح واقف ہوں جیسے بستی کے دوسرے لوگوں سے؛ تو جب اسکول کے بوڑھے چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے اس کا قصہ سنایا تو میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس کی حالت پر اپنا سر پیٹ لوں یا قہقہے لگاؤں۔ اس لیے میں عطاء اللہ کو ساتھ لے کر اس کی عیادت کرنے— یا آنے والی موت پر تعزیت کرنے— گیا۔ وہ احاطہ جو محمد ویس کے خریدے ہوے مویشیوں سے بھرا ہوتا تھا، اس وقت ان تمام لوگوں سے بھرا ہوا تھا جو اس کے قریب آتی ہوئی متوقع موت کے انتظار میں جمع ہو گئے تھے۔ ایک کونے میں مرد جمع تھے تو دوسرے گوشے میں عورتیں، اور تیسری طرف وہ بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی تھیں جو محمد ویس کے دوست احباب اس کی زندگی ہی میں اس لیے لے آئے تھے کہ اس کی الوداعی رات کو ذبح کی جائیں۔ جس کمرے میں محمد ویس ملک الموت کا انتظار کر رہا تھا، وہاں داخل ہونے پر میں نے اسے دیکھا— ملک الموت کو نہیں، محمد ویس کو۔ وہ اپنے بستر کے ایک کونے پر ٹکا عبادت میں مشغول تھا، جبکہ دوسرے کونے میں شیخ محمد سعید بیٹھا قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا۔ جس محمد ویس کو میں جانتا تھا اس کی بالکل مختلف صورت دیکھ کر مجھے دھکا لگا۔ اس کا گول، گلگوں چہرہ اب ستواں اور پیلا ہو گیا تھا اور داڑھی نے اسے اور بھی لمبوترا بنا دیا تھا۔ اس کے ڈھیلے ڈھالے سفید لباس نے اس کے چہرے کی زردی کو اَور نمایاں کر دیا تھا۔ نماز پڑھتے ہوے وہ اپنے سجدوں کو اس امید میں طویل کر دیتا کہ موت آئے تو سجدے میں آئے۔ اِس ولی اللہ میں اور اُس محمد ویس میں زمین آسمان کا فرق تھا جس کو میں اپنی کھڑکی میں سے قسمیں کھا کھا کر یہ کہتے سنا کرتا تھا کہ اگر اس نے ابھی ابھی خریدے ہوے جانور پر تین لیرے کا گھاٹا نہ اٹھایا ہو تو سمجھو اپنی بیوی کو طلاق دی۔ میں محمد ویس سے ملنے تو اپنے شوق اور تجسس میں گیا تھا لیکن اس کی حالت میں یہ فرق دیکھ کر بھونچکا رہ گیا اور اس بات کا قائل ہو گیا کہ وہ یقیناً وقت معین پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اور جب میں نے شیخ محمد سعید کو کنکھیوں سے اپنی طرف دیکھتے ہوے پایا تو میرے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔

میری اس شیخ سے، جس کی فطرت سادگی، حماقت اور مکاری کا مجموعہ تھی، کافی عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی۔ میں اس کی عطائیت اور دغا سے، جن کے زور پر اس نے جاہل دیہاتیوں کے ذہنوں کو اپنے قابو میں کر رکھا تھا، ہمیشہ لڑا کرتا تھا اور وہ بھی ان کو میرے خلاف ورغلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ مجھ پر الزام لگاتا کہ میں بچوں کے ذہنوں کو ملحدانہ خیالات سے مسموم کرتا ہوں اور انھیں اللہ رسول کا باغی بناتا ہوں۔ میری مخالفت میں اس کا جوش یہ جاننے کے باوجود کم نہیں ہوتا تھا کہ میں رسول کے پرنواسے حضرت زین العابدین کی اولاد میں سے ہوں، بلکہ وہ اسی کو میری مذمت کا جواز بنا لیتا تھا۔ ’’اس شخص کو دیکھو، حضرت زین العابدین کی اولاد ہو کر کہتا پھرتا ہے کہ زمین گھومتی ہے۔‘‘ پھر وہ لوگوں سے کہتا، ’’بھلا بتاؤ، تم میں سے کسی نے کبھی اپنے گھر کے مشرقی رخ کے دروازے کو اچانک مغرب کی طرف گھومتے دیکھا؟‘‘

جیسا کہ میں نے بتایا، شیخ محمد سعید کو دیکھ کر مجھے غصہ آ گیا تھا اور میں چیخ پڑنے کو تھا کہ وہ قاتل ہے، وہ محمد ویس کے ذہن میں وہ زہر بھررہا ہے جو اس کو چالیس دن میں مار ڈالے گا۔ تاہم میں نے ضبط سے کام لیا۔ اس طرح بگڑ کر میں شیخ کے خلاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی زمین کی گردش والی دلیل سے ثابت کر دیتا کہ کس دیہاتی نے اپنا مشرقی رخ والا دروازہ مغرب کی جانب گھومتے دیکھا ہے؛ پس ثابت ہوا کہ زمین نہیں گھومتی۔ میرے خلاف کینہ رکھنے پر اللہ اس پر رحم کرے، اور محمد ویس اگر کل صبح تک شیخ محمد سعید کے زیرِ اثر رہے تو اللہ اس پر بھی رحم کرے۔ غم اور غصے کے مارے دل پر ایک بوجھ لیے میں اسکول لوٹ آیا۔

میرے کہنے کے مطابق چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے منھ اندھیرے اٹھا دیا۔ میں اپنے ساتھ دمشق سے تین چتی دار ناشپاتیاں لایا تھا جو میں نے رات کو ہوا کے رخ پر رکھے مٹکے کے نیچے رکھ دی تھیں۔ ان میں سے ایک ناشپاتی اٹھا کر میں لپکتا ہوا محمد ویس کے گھر پہنچا۔ سواے ان بھیڑ بکریوں کے جو اپنے مالک کی موت کے نتیجے میں خود اپنی موت کی منتظر کھڑی تھیں، احاطے میں کوئی نہیں تھا۔ زنان خانہ روشن تھا اور رونے کی دھیمی دھیمی آواز آ رہی تھی۔ محمد ویس کا کمرہ بند تھا۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ وہ موت کے انتظار میں عبادت کرتے کرتے تھک کر سویا پڑا ہے۔ کئی بار میں نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، پھر دھکا دے کر دروازہ کھولتے ہوے چلّا کر کہا:

’’محمد ویس، اللہ کی حمدوثنا کرو!‘‘
وہ نیند سے چونک پڑا اور چیخا، ’’کیا ہوا؟‘‘
’’میں ہوں، استاد نا جی۔ ڈرو نہیں، محمد ویس، اور میری بات سنو۔‘‘

میں نے دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے اور بہہ بہہ کر اس کے رخساروں سے ٹپک رہے تھے اور وہ سہما ہوا گم سم بیٹھا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری بات سننے سے پہلے ہی اس کا دم نہ نکل جائے، میں نے کہا:

’’میں تمھارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ میرے جدامجد حضرت زین العابدین نے مجھے بیدار کر کے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ نے مجھے حکم دیا: محمد ویس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ نے اس کو آزمائش میں ڈالا تھا اور جان لیا کہ وہ توبہ کرنے والا بندہ ہے۔ اس کو یہ پھل دینا، یہ بہشت کے میووں میں سے ہے، اور حکم دینا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے دو رکعت نماز تمھارے ساتھ ادا کرے اور پہلی رکعت میں سورۂ نصر پڑھے۔ اللہ اس کی عمر اتنی دراز کرے گا کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی، بلکہ بچوں کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھے گا۔‘‘

محمد ویس نے تھوک نگلا۔ یوں دکھائی دیا جیسے میری بات پوری طرح اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ بس میرے ہاتھ میں دبی ہوئی ناشپاتی کو گھورتا رہا۔ (مجھے یقین تھا کہ بستی میں کسی نے بھی چتی دار ناشپاتی نہیں دیکھی تھی۔) میں نے ناشپاتی چھیل کر اس کو کھلائی اور بیج سمیت نگل جانے کو کہا۔ پھر میں اسے کھینچ کر کمرے کے کونے میں لے گیا۔

’’محمد ویس، سورج نکلنے سے پہلے نماز کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’مگر استاد ناجی، میں وضو سے نہیں ہوں۔‘‘
مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی وضو نہیں کیا تھا، مگر اس خوف سے کہ کہیں میرے مشورے کا اثر زائل نہ ہو جائے، میں نے سمجھایا:
’’تیمم کرلو محمد ویس، اس کی اجازت ہے۔ مارو ہاتھ زمین پر۔‘‘

محمد ویس کے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے بھی نماز پڑھی۔ ہم نے دو رکعت نماز ادا کی اور پہلی رکعت میں اس نے سورۂ نصر پڑھی۔ پھر میں لوٹ کر اسکول آ گیا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔

ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری بستی کو محمد ویس کی نئی بشارت کا علم ہو گیا۔ وہ تمام لوگ جو کل محمد ویس کے احاطے میں جمع تھے، آج اسکول کے احاطے میں جمع ہو گئے۔ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ آیا واقعی میرے جدامجد حضرت زین العابدین خود میرے پاس محمد ویس کی بریّت لے کر آئے تھے، وہ سب ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے تھے۔ اس وقت مجھے لگا کہ آج میں نے شیخ محمد سعید پر واضح فتح حاصل کر لی، کیونکہ نہ تو محمد ویس مرا اور نہ اس کی بھیڑ بکریاں ذبح ہوئیں، بلکہ وہ سب حضرت زین العابدین کی اولاد، ولی اللہ استاد ناجی کی، یعنی میری نذر کر دی گئیں۔

مگر کیا یہ واقعی میری فتح تھی؟ سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس کا یقین نہیں۔ اس فتح کی حقیقت پر شک کا سبب یہ ہے کہ میں شیخ محمد سعید کے مقتدیوں میں سے ایک بھی کم نہ کر سکا، بلکہ الٹا میں نے ان میں ایک کا اضافہ ہی کر دیا، مدرّس کا، یعنی خود اپنا۔ اپنے جداِمجد کے ناموس کو قائم رکھنے کی خاطر، جن کے نام سے میں نے اپنا خواب گھڑا تھا، اب میں بھی شیخ محمد سعید کے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور ہوں، تیمم کر کے نہیں، باقاعدہ وضو کر کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والے گلی – قسط 9 (راجکمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

جس وقت غیاث الدین یہاں پہنچا تو اس وقت گھر کا داخل دروازہ اندر سے بند تھا۔ پٹھان کے ہاتھ کنڈی کھٹکھٹانے کی غرض سے یکایک اٹھے اور ویسے ہی یکایک پیچھے کی طرف بھی کھنچ گئے۔ اس نے حویلی کے بند دروازے کو نِہارنا شروع کر دیا۔ تقریباً بارہ فٹ اونچے، بےجان سلیٹی رنگ سے پُتے، بھرپور چوڑے محراب دار دروازے کے جسم پر اسے جگہ جگہ باریک لکیریں اُبھری ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ غیاث الدین کو حیرت ہو رہی تھی که آخر یہ لکیریں اسے تب کیوں نہیں دکھائی دی تھیں جب وہ یہاں رہتا تھا؟ یا پھر ایسا ہوا ہے که یہ لکیریں اس کے گھر چھوڑ جانے کے بعد ابھری ہیں؟ اپنے جواب کی تلاش میں اس نے دروازے پر ہاتھ پھیرکر دیکھا۔ پھر وہ دروازے کی لکیروں پر نظر گڑا کر انھیں اس طرح گھورنے لگا مانو وہ کسی ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

اچانک اسے اپنی ہی اس کوشش پر ہنسی آئی اور اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہنستے ہوے ہی کنڈی کھٹکھٹا دی۔ لوہے کی مضبوط اور موٹی چولوں پر گھومتا بھاری بھرکم دروازہ، اپنی دیونما گونج کے ساتھ اتنی تیزی کے ساتھ کھلا مانو دروازے کے اُس طرف کوئی کھڑا کھڑا اس حویلی کے مالک کی اس عجیب حالت کو شیشے میں نہار رہا ہو۔

’’کہیے؟‘‘ دروازہ کھولنے والے نے پوچھا۔
’’جی آداب۔‘‘
’’آداب۔‘‘
’’معاف کیجیے، آپ شاید ہمیں نہیں جانتے۔ ہمارا نام غیاث الدین ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک اس حویلی میں ہم ہی رہتے تھے۔‘‘ اتنا کہہ کر غیاث الدین نے آخر میں دروازہ کھولنے والے سے اس کا تعارف پوچھ لیا۔ ’’معاف کیجیے، آپ کا اسم شریف جان سکتا ہوں؟‘‘

دروازہ کھولنے والے منجھلے سے قد کے، سانولے سے آدمی کے چہرے پر دروازے پر کھڑے چھ فٹ سے اوپر نکلتے قد والے اس لحیم شحیم پٹھان کا نام سنتے ہی مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ اسے سب کچھ پتا تھا اور اسے اس گھڑی وہ سب کچھ یاد آ بھی گیا تھا۔ اس نے بےحد گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے سے سوائے قد والے انسان کا ہاتھ تھام لیا اور ’’ارے آئیے آئیے، پہلوان صاحب‘‘ کہتے ہوئے خوشی سے بھرے کسی بچے کی طرح لگ بھگ کھینچتے ہوے اندر کی طرف لے چلے۔

خوشی سے لبریز یہ ’بچہ‘ کوئی اور نہیں میرے پتا تھے۔ پچھلے تین چار سال میں اس گھر کے مالک کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے کرتے وہ غیاث الدین پٹھان اور اس حویلی کا پورا شجرہ اکٹھا کر چکے تھے۔ عادت کے مطابق وہ ایسی تمام جانکاریوں اور اپنے جذبات کو ایک کاپی میں لکھ لیتے تھے۔ یہ ان کا لگ بھگ روز کا کام تھا۔

لہٰذا ان کی اسی کاپی کے مطابق یہ حویلی غیاث الدین کے پتا میجر انجام الدین نے بنوائی تھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے کے ناتے میجر صاحب کے بعد یہ غیاث الدین کو وراثت میں ملی۔ غیاث الدین شہر کے معروف انسان تھے۔ ان کی پہچان ایک دلاور اور دلآویز شخص کے طور پر تھی۔ شہر سے کچھ فاصلے پر آباد ایک گاؤں لسانیہ خورد میں کئی ایکڑ زمین تھی۔ لگ بھگ آدھے رقبے میں خاص بھوپالی دئیڑ آم کا باغ تھا۔ باقی حصے میں گیہوں کی پیداوار تھی، جس کے لیے اسی حویلی میں انھوں نے ایک بڑا سا ہال رکھ چھوڑا تھا۔

لیکن غیاث الدین کا دل کھیتی باڑی سے زیادہ پہلوانی میں رَمتا تھا۔ سو گھر سے کچھ دور ہی کوتوالی کے پاس گپّو استاد کے اکھاڑے میں خوب ڈنڈ پیلتے تھے اور کشتیاں لڑتے تھے۔

دادا کو یہ پہلوانی والی بات خوب بھا گئی تھی۔ انھوں نے اپنے ذہن میں اس پہلوان کی ایک بڑی رومانی سی تصویر بنا لی تھی۔ اسی وجہ سے وہ شہر میں جب بھی اپنا پریچے دیتے تو یہ بتانا نہ بھولتے که وہ ’غیاث الدین پہلوان‘ کی حویلی میں رہتے ہیں۔

غیاث الدین کو لے کر دادا گھر اور آنگن کے بیچ برابری سے پھیلے فرشی والے اوٹلے پر بچھی کھٹیا پر بیٹھ گئے۔ دادا اس حویلی کے بارے میں لگاتار باتیں کیے جا رہے تھے لیکن پٹھان کی نظریں لگاتار چاروں اور گھوم گھوم کر حویلی کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس وقت نہ جانے اس کے ذہن میں کیا کیا باتیں چل رہی ہوں گی، لیکن اتنا طے تھا که وہ اس وقت اپنی حویلی کی کسی بھی چیز کو ان دیکھا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

دادا اس بات کو تاڑ گئے۔ انھوں نے پٹھان سے سوال کیا، ’’حویلی کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘
جواب میں پٹھان مسکرا کر رہ گیا۔
دادا نے پھر سوال کیا، ’’یہاں کی یاد آتی ہوگی۔ نہیں؟‘‘
اس بار پٹھان کے چہرے کا رنگ بدلا۔ مسکراہٹ کی جگہ درد کی ایک عجب سی لکیر آنکھوں کی کوروں کے آس پاس دکھائی دینے لگی۔

’’گھر کی یاد کسے نہیں آتی؟ ۔۔۔ اس بات کو تو آپ بھی خوب سمجھتے ہوں گے۔‘‘ اتنا کہہ کر پٹھان نے اپنا چہرہ حویلی کے کویلو کی چھت والے حصے کی طرف گھما لیا، جہاں کہیں سے کٹ کر آئی ہوئی پتنگ پڑی ہوئی تھی۔ پٹھان کھڑا ہو گیا اور اس کٹی پتنگ کو غور سے دیکھتے ہوے کہنے لگا، ’’بڑی لمبی ڈوروں کے ساتھ ہے۔ کہیں دور سے کٹ کر آئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

اب تک دادا بھی اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے اور اسی طرف دیکھ رہے تھے جدھر پٹھان دیکھ رہا تھا۔ پٹھان کی بات سنی تو دادا کے منھ سے ہنسی ہنسی میں ازخود ایک ایسی بات نکل گئی جس نے پورے ماحول کو بدل ڈالا۔
’’شاید یہ بھی کہیں سندھ سے کٹ کر آئی ہے اور اسے بھی پہلوان صاحب کی حویلی ہی پسند آئی۔‘‘

پٹھان پر اس بات کا جادو سا اثر ہوا۔ اس نے دادا کو بانہوں میں بھر لیا اور واپس کھٹیا پر بیٹھتے ہوے کہا، ’’ہم بھی تو یہاں سے کٹ کر ہی وہاں پہنچے ہیں۔‘‘
اب اس بات چیت میں ایک فلسفیانہ گمبھیرتا آ گئی تھی۔ دادا نے بھی اسی طرح کا جواب دیتے ہوے کہا، ’’پہلوان صاحب، ہمارے لیڈروں کو پینچ لڑانے کا بہت شوق ہے نا۔ اب ان کے پینچ لڑیں گے تو کٹیں گے تو ہم آپ ہی نا۔‘‘

پٹھان نے اس بھاری سے ہوتے ماحول کو بدلنے کی غرض سے ایک سوال کر لیا، ’’آپ کے علاوہ اور کون کون ہے یہاں پر؟ کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟‘‘
اس سوال کے ساتھ ہی دادا کے بھیتر بیٹھا نیتا فوراً متحرک ہو گیا۔ فوراً جواب دیا، ’’ارے پہلوان صاحب بالکل۔ آپ یہیں بیٹھیے اور ناشتہ کیجیے، میں سب کو یہیں بلا لیتا ہوں۔’’

لیکن غیاث الدین تو پوری حویلی میں چاروں طرف گھوم کر سب کچھ اپنی نظروں سے دیکھنا چاہتے تھے۔ سو انھوں نے سجھاؤ والے انداز میں کہا، ’’ارے نہیں۔ کیوں سب کو زحمت دینا۔ ہم لوگ چل کر ہی سب سے مل لیتے ہیں نا۔‘‘

اگلے ایک گھنٹے تک غیاث الدین چہرے پر ایک مستقل مسکراہٹ لیے حویلی کے کونے کونے میں گھومتا، لوگوں سے ملتا اور درودیوار کو چھو کر دیکھتا، کچھ کہتا اور کچھ نہ کہتا، چلتا رہا۔ ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کُٹھریا خالی پڑی تھی اور اس سے لگی دیوار کا ایک حصہ گر چکا تھا، جس کی وجہ سے اس پار کوتوالی والی گلی پر بنے مکان کا پچھواڑا دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ پر آ کر غیاث الدین کے چہرے کی وہ مستقل مسکان والے ہونٹ کچھ اور کھلے۔ بولے، ’’گر گئی آخر۔‘‘

دادا نے اس پہیلی کو سمجھنے کی غرض سے سوال کیا، ’’کیا پہلے سے ہی گرنے والی تھی؟‘‘
’’ہاں، گرنی تو چاہیے تھی۔ مگر ہمارے رہتے نہیں گری۔‘‘
اس سے پہلے که دادا کوئی اور سوال پوچھتے، غیاث الدین نے ہی ایک سوال پوچھ لیا، ’’آپ کو معلوم ہے وہ اُس طرف کس کا گھر ہے؟‘‘
دادا نے انکار میں سر ہلا دیا۔
’’وہ افتخار میاں کی حویلی کا پچھواڑا ہے۔‘‘
پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد انھوں نے جوڑا، ’’کبھی ہمارے دوست ہوتے تھے۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ بڑی تیزی سے مڑا اور باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیے۔ دادا نے بہت اصرار کیا که وہ چائے ناشتے کے بنا نہیں جا سکتے، لیکن اسے جانے کی بہت جلدی سی ہو چلی تھی۔ سو بس ایک پاپڑ کھا کر اور ایک گلاس پانی پی کر باہر کی طرف مڑ گیا۔

دادا اس تیزقدم چال کے ساتھ برابری سے چلنے کی کوشش کرتے ہوے دروازے تک پہنچ گئے۔ غیاث الدین نے دادا کو گلے لگا کر ’’خدا حافظ‘‘ کہا اور پھر پوری رفتار سے آگے بڑھ گیا۔

٭٭٭

دادا جب اندر واپس پہنچے تو حویلی کے گھروں سے لوگ نکل کر آنگن میں کھڑے کھسرپسر میں لگے تھے۔ سب کے چہروں کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ حویلی میں رہنے والے سب سے آسودہ اور سب سے بزرگ ماسٹر امبومل نے اپنے گھر کے باہر نکلے ہوے کونے میں لگی کرسی پر بیٹھے بیٹھے اور ہاتھ میں اخبار تھامے تھامے دادا سے سوال کیا، ’’کیا کہتا ہے یہ میاں؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ وہ تو بس دیکھنے آیا تھا اپنی حویلی،‘‘ دادا نے جواب دیا۔

”ارے بھائی ہمت رام، تم تو نیتا آدمی ہو، اخبارنویس ہو۔ تم کو معلوم نہیں ہے که یہ مسلمان واپس لوٹ رہے ہیں اور اپنے گھر واپس لینے کے لیے تلواروں سے ہندوؤں کو کاٹ رہے ہیں۔‘‘

غیاث الدین سے ملنے کی خوشی میں ڈوبے دادا کے ذہن میں اس لمحے تک یہ خیال آیا ہی نہیں تھا۔ ماسٹرجی نے چیتایا تو ان کی چیتنا لوٹی۔ پھر بھی ان کا جواب تھا، ’’ماسٹر صاحب، وہ بڑا شریف آدمی ہے۔ وہ کوئی تلوار لے کر آیا تھا کیا؟ اور سارے مسلمان ایک جیسے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ تم تو سب سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف تقریریں کرتے ہو!‘‘ ماسٹرجی نے ایک طنزیہ ہنسی ہنستے ہوے کہا۔

دادا کو یہ بات بڑی ناگوار گزری۔ انھوں نے پلٹ کر جواب دیا، ’’جو کہتا ہوں، سچ کہتا ہوں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں۔ کوئی تلوار لے کر آئے گا تو ہم بھی اس سے تلوار سے بات کریں گے۔ لیکن کوئی شریف آدمی گھر آئے تو کیا اسے پتھر مارنا شروع کر دیں؟‘‘

کرودھ سے بھرے اس جواب سے ایک سنّاکا سا کھنچ گیا۔ ماسٹرجی اپنی اعلیٰ حیثیت اور اپنی عمر کی بڑی پروا کرتے تھے۔ سو انھوں نے اپنے سے بہت چھوٹے ’لڑکے‘ سے الجھنے کے بجاے ہاتھ میں تھامے اخبار کو پڑھنے کی غرض سے اپنے منھ کی طرف اٹھانے کی کوشش کی ہی تھی که دادا نے ایک آخری جملہ جڑ دیا:
’’آخر وہ اس حویلی کا پرانا مالک ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔ اتنی شرافت تو ہم میں بھی ہونی چاہیے ۔۔۔‘‘
یہ کہتے کہتے دادا اپنے گھر کی طرف جانے کو مڑ گئے۔ ٹھیک اسی وقت ماسٹرجی کے گھر سے حویلی کے اکلوتے گھڑیال کے گجر کی آواز گونجنا شروع ہو گئی۔

ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔ پانچ۔۔۔ چھ۔۔۔ سات۔۔۔ آٹھ۔۔۔ نو۔۔۔ دس۔۔۔

٭٭٭

شہر میں سندھی شرنارتھیوں کی موجودگی کو ابھی مقامی لوگ ٹھیک سے سویکار بھی نہیں کر پائے تھے که ایک گھٹنا اور گھٹ گئی، جس کے نتیجے میں تناؤ بڑھنا طے تھا۔ بھارت سرکار کے پُنرواس وبھاگ نے اچانک ہی یہ فیصلہ لے لیا که راجستھان میں اجمیر کے پاس دیولی کیمپ میں رہنے والے بےگھر سندھی پریواروں کا تبادلہ شہر بھوپال سے کوئی 4-5 میل کے فاصلے پر آباد بیراگڑھ کیمپ میں کر دیا جائے۔

ایک بار پھر اُکھڑنے سے ناخوش لوگوں کی ناخوشی کی آواز کسی کان تک نہ پہنچی اور چند برس پہلے سندھ سے بےدخل ہوے ان پریواروں کو دوبارہ بےگھر ہو کر باہر نکلنا پڑا۔ اجمیر سے روانہ ہونے والی اس پہلی ’ریفیوجی سپیشل‘ گاڑی میں تقریباً 2300 پریواروں کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا۔ بیراگڑھ کیمپ تک چلنے والی اس میٹر گیج والی ٹرین کو بول چال میں ’چھوٹی لائن‘ والی گاڑی کہا جاتا تھا۔

اجمیر کی نصیرآباد چھاؤنی والے سٹیشن پر اس دن کچھ زیادہ ہی بھیڑ تھی۔ اجمیر میں بس چکے دیولی کیمپ کے رہواسیوں کے رشتےدار ناتےدار ان بچھڑ کر دور جانے والے اپنوں کو وِداع کرنے آ پہنچے تھے۔ ایک نئے انجانے شہر اور غیریقینی مستقبل کے سفر پر نکلنے کو مجبور لوگ اپنوں سے گلے مل اس طرح روتے تھے که مانو اب تو شاید ہی کبھی ملنا ہو۔ آہ و زاری کی گونج سے بھرے، سسکتے سے ماحول کے بیچ ٹرین کا ڈرائیور اور کنڈکٹر ایک دوسرے کو بےبس نگاہوں سے دیکھتے خاموش کھڑے تھے۔ ٹرین کا مقررہ وقت گزر چکا تھا لیکن ٹرین آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی، که پسنجر تو ابھی تک پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ آخر کنڈکٹر ڈینِس بنجامن نے آ کر بڑے نرم لہجے میں آخری چیتاونی دینے کے بعد سیٹی بجا کر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا دی۔
اس بار مجبور ہو کر سب لوگ اپنے اپنے آنسوؤں کو ساتھ لے کر ٹرین کے ان چھوٹے چھوٹے، سکڑے سے ڈبوں میں سوار ہو گئے۔ ٹرین دھیرے دھیرے، لگ بھگ قدم تال والی سپیڈ سے کھسکتی، چل پڑی۔ کوئی 400 میل دور بسے بیراگڑھ کیمپ کی طرف۔

ٹرین کی روانگی کے ساتھ ہی پلیٹ فارم والا منظر ان ٹھساٹھس بھرے ڈبوں میں سوار ہو گیا تھا۔ اپریل مہینے کی گرمی سے تپے ہوے ٹرین کے کمپارٹمنٹ میں چھت کے پنکھے کم اور ہاتھ کے پںکھوں سے زیادہ راحت پانے کی ناکام کوشش ہو رہی تھی۔ اس پر چھوٹے چھوٹے بچوں کا رونا ماحول کو اور بھی رنجیدہ بنا رہا تھا۔

چھک چھک کرتی اور اسی گتی سے چلتی ٹرین کے انجن سے نکلتا دھواں اور ہوا میں اڑتی کوئلے کی ٹکڑیاں لگاتار سارے ڈبوں کے یاتریوں کے ماتم زدہ چہروں کو اور بھی ماتم زدہ بنا رہی تھیں۔ اس ٹرین میں سوار ڈیلارام ممتانی کا پریوار بھی سوار تھا۔ 70 برس کے ڈیلارام کے پریوار میں اس کے دو بیٹے، دو بہویں، ایک وِدھوا بیٹی، چار پوتے اور دو ناتنیں بھی شامل تھے۔ اداس چہروں کی اس بھیڑ کے بیچ جہاں لگ بھگ سارے چہرے ایک جیسے دکھائی دے رہے تھے، اسی جمگھٹے میں کھڑکی سے لگے بیٹھے ڈیلارام باہر کی طرف جھانکتے، آسمان کو نہارتے نہارتے بیچ بیچ میں بےوجہ ہی ہنسنے لگتے تھے۔ اس ہنسی کی وجہ سے اداس چہروں کے بیچ ایک عجب سی ہلچل مچ جاتی تھی۔ بچے حیرت سے ایک بار ڈیلارام کی طرف اور دوسری بار اداس چہروں کی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہوے سے معلوم ہوتے تھے که ماجرا کیا ہے؟

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

جنت میں زرگون ولا (تالیف حیدر)

میں طیفور سے ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ تیرے اعمال رائی برابر بھی ایسے نہیں کہ تو جنت کا منہ بھی دیکھ سکے،اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کاتذکر یہاں ضروری نہیں، مذاق میں ہی صحیح مگر وہ اس بات پر مثبت انداز میں سر ہلا دیتا ہے۔ ابھی کل جب زرگون میرے دونوں ہاتھوں پہ لیٹی خوابیدہ حالت میں جنت کے دروازے کی طرف جا رہی تھی، تب دل نے کہا کہ اس ظالم شخص کے لیے میری اس معصوم سی بچی نے کیسی مردانہ قربانی دی ہے۔ اب مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ یہ صحیح حدیث ہے یا کسی قرآنی آیت کی ترجمانی کہ جو بچے، بچپن میں اپنے ماں باپ کو مفارقت دائمی دے جاتے ہیں وہ جنت میں اپنے ماں، باپ کا گھر تعمیر کروا دیتے ہیں،لیکن یقیناً میری زرگون بھی اس وقت اسی کام میں لگی ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس وقت اپنے دادا کی گود میں بیٹھی کلکاریاں مارتے ہوئےفرشتوں کو حکم دیتی ہوگی کہ فلاں دروازہ یوں نصب کرو، فلاں کھڑکی اُس طرف لگاو، یہ والا کمرہ اتنا کشادہ رکھو اور وہ بیرونی احاطہ اتنا وسیع کرو۔

میں نے زرگون کو اس کے عرصہ حیات میں صرف دو مرتبہ دیکھا تھا۔ اس کی عمر دو ماہ اورکچھ دن تھی۔ اتنے عرصے میں اسے گود میں کھلانے کا موقع ہاتھ نہ آیا، کچھ تو اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے اور کچھ اپنی بچی ہونے کے کارن کہ گھر ہی میں ہے جس روز پوری طرح صحت یاب ہو گی چچا کے ساتھ خوب کھیلے گی۔ غالباً میں وہ پہلا شخص ہوں یا ان اولین لوگوں میں سے جسے طیفور نے زرگون کی پیدائش کے فوراً بعد کی تصاویر ارسال کی تھیں۔ یقیناً جب میں نے اس کی تصویر پہلی مرتبہ دیکھی تو میری آنکھیں بھر آئیں کہ وہ دوست جس کے ساتھ میری بے شمار الجھی ہوئی حبس زدہ شامیں گزری ہیں، جس کی زندگی کےلا تعداد لمحوں میں میں نے اپنی تسکین کی راہیں تلاشیں ہیں۔جو میرے ساتھ ہنس کھیل کر لڑک پن سے جوانی کی منزلوں میں داخل ہوا ہے،جس نے مجھے دنیا بھر کی خرافات سیکھانے میں استاد کا کردار ادا کیا ہے،آج ایک عدد بیٹی کا باپ بن چکا ہے، وہ بیٹی جس کا چہرہ اپنی خاندانی خوبصورتی کے استعاروں سے سنوار کر تخلیق کیا گیا ہے،جس کی آنکھوں میں سمنانی نور ہے، ماتھے پر ہاشمی جلال، گالوں پر ہندوستانی گلال کی رنگینی اور ہونٹوں پر میر کا تصور شعر ۔اس بچی کو دیکھتے ہی مجھے طیفور کی قسمت پہ رشک آیا کہ کیسی حسین وجمیل بچی خدانے اس کے وجود کے سائے سے باندھ رکھی تھی۔ زرگون میری زندگی میں ایسی دوسری بچی کی صورت میں داخل ہوئی تھی جس کے ساتھ میں نے اپنے مستقبل کے خوابوں کو پلک جھکتے ہی وابستہ کر لیا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ زرگون جو ایک روادار گھرانے میں ایک خوش مزاج شخص کے نطفے سے پیدا ہوئی ہے اس پر میرا اتنا ہی حق ہو گا جتنا اس کے ماں باپ کا ہے، اس کی پر ورش، تعلیم و تربیت، شادی بیاہ،دکھ اور سکھ میں میں ہمیشہ اس کے باپ کی طرح اس کا شریک رہوں گا اور عین ممکن ہے کہ میں اس سے ایک ایسا رشتہ قائم کروں کہ وہ اپنے باپ سے پہلے مجھے اپنی مشکلوں اور پریشانوں کا شریک بنائے،اپنی خواہشات کی تکمیل کا وسیلہ سمجھے، اپنی سکھوں کی آماج گاہ تصور کرے۔ یقیناً زرگون کی تصویر دیکھ کریہ باپ میرے ذہن میں یک بارگی دوڑ گئی کہ جب کبھی طیفور کسی بات پر زرگون کو چلائے گا تو اسے میری سخت لعن طعن سے گزرنا پڑے گا، جب بھی زرگون کے آگے دنیا کسی نوعیت کی قید کا پہرابٹھانے کی کوشش کرے گی میں اس کی آزادی کے لیے دنیا سے اختلاف کروں گا۔ جب وہ اپنی ماں سے کسی بات پر روٹھے کی تو میں اسے محبت سے سمجھا بھجا کر اس کے غمگین چہرے پر دوبارہ ہنسی بکھیر دو گا۔ وہ جب چاہے گی، جہاں چاہے گی جائے گی، جس راہ سے اپنی زندگی کو ترتیب دینے کی خواہش مند ہوگی میں اس کے حوصلوں کو مہمیز کر کے اس راہ کے خار زار تنکوں کو چن کر اسے ہموار بناوں گا۔

میں زرگون کے ساتھ کھیلنے کودنے کا خواہش مند تھا۔ وہ دن جس روز وہ پہلی بار میرا نام لے کر مجھے پکارتی اس روز میں اپنے اندر ایک نئی شادمانی محسوس کرتا،وہ دن جب وہ مجھے گھوڑا بنا کر مجھ پر سواری کرتی تو میں ان لمحوں میں خود کو خوش نصیب تصور کرتا۔وقت کی ہر اس گزرتی ساعت میں جب جب زرگون میرے قریب ہوتی تو میں اس پر اپنی شفقت لٹاتا اور اس کے ہونٹوں پر اپنی طرح طرح کی باتوں سے مسکراہٹ بکھیرنے کی کوششوں میں لگا رہتا۔ طیفور سے زرگون کا رشتہ قدرت نے طے کیا تھا، مگر میں اس کے حق میں رشتے کا ایک ایسا تصور بن کے ابھرتا جس سے اسے میرےوجود سے ایک تحفے کا احساس نصیب ہوتا۔ یہ میری شعوری کوششوں کا حاصل ہوتا، کیوں کہ بچیوں کی پرورش میں ایسی چھوٹی چھوٹی شعوری کوششیں زندگی کے نازک ترین مواقع پر ان کے حق میں کار آمد ثابت ہوتی ہیں۔

وقت گزر چکا ہے، زرگون اپنے قلعے کا رخ کرچکی ہے، اس نے جانے سے پہلے اپنے چچا کے خوابوں کا ایک پورہ شہد بھی نہیں چکھا۔وہ اپنی موج میں آئی،مسرت کا جھروکا ہمیں عطا کیا اور اپنی ابدی جائے پناہ کی طرف کوچ کر گئی۔ زرگون چلی گئی مگر میرے وجود میں خوابوں کی دنیا آباد کر گئی۔ میرے وہ تمام احباب جو طیفور کو بھی اتنا ہی دوست رکھتے ہیں جتنا مجھے ان سب کے ساتھ زرگون کا کیا رشتہ تھا اور وقت کے ساتھ وہ رشتہ کیا شکل اختیار کرتا میں ان خیالات کو لیے بیٹھا زرگون کی تصویر دیکھ رہا ہوں۔ زرگون ہنس رہی اپنے دادا کے کان میں سرگوشیاں کر رہی اور مجھے منہ چڑا چڑا کر اس بات کا یقین دلا رہی ہے کہ ہر وہ بات جو میرے ارادے کا حصہ بنی تھی اس کی عدم تکمیل ہی زرگون کے وصال کی مشیت ہے۔ اب میں اپنے خوابوں کی شکستگی پہ دکھی نہیں،بلکہ اس یقین کے احساس میں ڈوبا ہوا ہوں کہ زرگون اپنے ولے کی کھڑکی سی لگی بیٹھی ہماری دنیا کی رنگینیوں کو دیکھ رہی ہے، ہنس رہی ہے، مسکرا رہی ہے اور قدرت کے الجھے ہوئے رازوں سے آشنا ہو چکی ہے۔

Categories
فکشن

قسطوں میں حیات (محمد برّادا)

[blockquote style=”3″]
محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ 1979ء میں بیروت سے شائع ہوا تھا۔ آج کل وہ رباط یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ہیں اور مراکشی ادیبوں کی انجمن کے صدر بھی ہیں۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: محمد برّادا (Mohammed Barrada)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم دیر سے جاگے اور بستر میں پڑے پڑے جماہیاں لیتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہڈیوں کا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا۔ یہ نظر آ رہا تھا کہ آج کا دن بھی پچھلے گزرے ہوے دنوں ہی کی طرح گزرے گا۔ ہم نے اپنا سر چوبی سرھانے پر ٹکا دیا۔ ہماری نظر دھندلی دھندلی ہورہی تھی اور بلاشبہ ہمارا چہرہ بھی پیلا پڑا ہوا تھا۔ ہم ڈاکٹر سے اس سلسلے میں رجوع کر چکے تھے۔ اس سے اپنی شکایت کہی تھی جس پر اس نے سیانوں کی طرح سر ہلا کر کہا تھا:
’’تم اکیلے نہیں ہو۔ تمھاری طرح کے وہ تمام افراد جو غوروفکر میں مبتلا رہتے ہیں اور خواب دیکھتے رہتے ہیں اور حال سے مطمئن نہیں ہوتے، اسی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘

ہمیں یاد آیا، ایسا ہی جواب کسی ڈاکٹر نے— غالباً ہمارے ہی ڈاکٹر نے— ہمارے ایک دوست کو بھی دیا تھا جو اس کے پاس بدہضمی اور سینے کی جلن کی شکایت لے کر گیا تھا۔

’’کوئی علاج بھی ہے ڈاکٹر؟‘‘

’’میں تم کو چند گولیاں دے دیتا ہوں جن سے تمھیں افاقہ ہو گا۔ لیکن زیادہ خوش فہمی میں مت پڑنا۔ ہر صبح جیسے ہی آنکھ کھلے، ذہن پر زور دے کر کوئی ایسا دلچسپ قصہ یاد کرنا جس سے تم باچھیں پھاڑ کر مسکرا سکو، اور پھر بستر سے کودنا اور بلند آواز سے گانا۔ ایسے موقعے پر بےسُری آواز بھی چلے گی۔‘‘

ہم نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنے کے ارادے سے اپنی یادداشت کے کونے کھدروں میں کسی ایسے قصے کو تلاش کیا جو ہمیں ایک دم لوٹ پوٹ ہو جانے پر مجبور کردے۔ ہماری ایک ولایتی پڑوسن اکثروبیشتر خوش وقتی کے لیے ٹیکسی پکڑ لیتی تھی، حالانکہ خود اس کے پاس کار تھی۔ سیر سپاٹے کے بعد جب ٹیکسی بلڈنگ کے دروازے پر رکتی تو وہ یہ ظاہر کرتی کہ پیسے تو گھر ہی پر رہ گئے۔ پھر وہ اتر کر پیسے لینے بلڈنگ میں چلی جاتی اور اوپر جا کر غائب ہو جاتی، اور وہ بےچارہ ٹیکسی والا ہارن بجاتا رہتا۔ بلڈنگ والے جھانک جھانک کر دیکھتے کہ اسے کیا ہو گیا۔ عورت کا گھر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹاپتا رہ جاتا اور بک جھک کر چل دیتا۔ اور وہ عورت اپنے کمرے میں ہنس ہنس کر دوہری ہو جاتی۔ ہی ہی ہی ہی! ہا ہا ہا ہا! اس قصے کا یاد آنا تھا کہ ہم خوب ہی ہنسے اور دل ہی دل میں اپنی اس ہوشیار پڑوسن کے ممنون ہوے۔ پھر ہم اپنے بستر سے کودے اور گاتے ہوے اپنی طویل تعطیل کا ایک نیا دن شروع کیا۔

اپنے بھرے پُرے کتب خانے میں ہم دیر تک بےمقصد ٹہلتے رہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں بیشتر کتابیں وہ ہیں جنھیں ہم نے بعد کے لیے اٹھا رکھا تھا کہ جب فرصت ملے گی تو ان کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ہمارا ہاتھ ایک سرخ جلد کی طرف بڑھ گیا جس کا مصنف چالیس برس قبل مراکش کے مدینۃ الاحمر میں رہتا تھا۔ وہ کتاب محمد ابن عبداللہ المعقط کی ’’سفرنامۂ مراکش عرف افعالِ شنیعہ کا عصری عکس، المعروف بہ تارکِ سنت کے خلاف تیغِ بے نیام‘‘ تھی۔
— پھر شیخ عبدالہادی نے ارشاد کیا، ’’جس نے سوال کیا اور جس سے سوال کیا گیا، ہر دو فرد دسویں صدی کے لوگوں میں سے تھے۔ اب ذرا ہمارے اس زمانے کو قیاس کرو، جو مثل ایک طویل شبِ مظلمہ کے ہے، کہ بات کتنی نہ بڑھ چکی ہو گی! سردارانِ قوم کو لو تو انھوں نے رعیت کو ظلم کے سوا کیا دیا؟ گوشت انھوں نے نوچ لیا اور خون پی گئے۔ ہڈیوں کا گودا تک وہ چوس گئے اور دماغ چٹ کر گئے اور رعیت کے لیے نہ دنیا چھوڑی نہ دین۔ متاعِ دنیا کو لو تو انھوں نے سب کچھ سمیٹ لیا، کچھ نہ چھوڑا، اور دین کی پوچھو تو ان کا منھ اس سے موڑا۔ یہ سب ہمارے مشاہدے کی باتیں ہیں، فقط باتیں ہی باتیں نہیں۔۔۔۔‘‘

ابوزید نے سوال کیا، ’’اللہ آپ کو توفیق دے، کیا ایسے دیار میں قیام کرنا جائز ہے جہاں کوئی منکرات کی نہی کرنے پر قادر نہ ہو؟‘‘

ذہن کو مطالعے سے کوئی سکون نہیں ملتا۔ قدیم جدید نظر آتا ہے اور جدید قدیم، مگر دماغ اس کے ناممکن ہونے پر احتجاج کرتا ہے؛ وہ یہ مان کر ہی نہیں دیتا کہ ’’سورج نور سے عاری ہے۔‘‘ ہم نے خود سے کہا کہ شاید اس کا سبب بےزاری، تعلقات کی طوالت، گہرے رموز کا افشا، التباسات کی اصلیت کا کھل جانا، خوابوں کا بکھر جانا، آئندہ سے لگاؤ اور حال سے بےنیازی ہو۔ ہم کو چاہیے کہ نفس کو صبر کا خوگر بنائیں اور بار بار دُہرائے جانے والے معمولات کے ساتھ لمحۂ موجود کو بالتفصیل گزاریں۔

کھانے پر ہمارے مہمان ہمارے ایک عزیز تھے جو ساٹھ کے پیٹے میں تھے۔ انھوں نے اوائلِ عمر ہی میں قرآن حفظ کر لیا تھا، اس کے ایک ایک لفظ سے واقف تھے اور آخر کو موذن ہو گئے تھے۔ ایک برس قبل جب ان کی اہلیہ نے وفات پائی تو انھوں نے اپنی ایک اَور عزیزہ کو عقد کے لیے منتخب کر لیا، کہ موذن کو مجرّد رہنے کی اجازت نہیں، مگر انھوں نے یہ بہتر سمجھا کہ یہ فریضہ وہ حج سے واپسی کے بعد ادا کریں۔ ان کی غیرموجودگی میں خدائی فوجداروں نے مداخلت کی اور اس خاتون کا نکاح کسی اور سے کروا دیا۔ چنانچہ وہ اب بھی رشتے کی تلاش میں تھے۔

’’الحمداللہ کہ تم خیر سے ہو۔ بندے کو ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور کیا حال ہیں؟ کاروبار کیسا چل رہا ہے؟ ٹھیک ٹھاک۔ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ اور صاحبزادے کس حال میں ہیں ؟ کام میں دل لگاتے ہیں؟‘‘
’’انھی سے پوچھیے، خود بتائیں گے۔ ہمیں تو کام چور دکھائی پڑتے ہیں۔‘‘
’’بڑے شرم کی بات ہے بیٹا! کاش تم اپنے چچا عبدالرحمٰن کے نقش قدم پر چلتے۔‘‘
ان کے الفاظ نے گویا ہمارے ذہن میں کسی بھولی بسری یاد کو بیدار کردیا۔ ہم نے پوچھا:
’’وہی جو غرق ہوکر مرے تھے؟‘‘
’’ہاں، اور شہید بھی کہلائے تھے۔ جان لو کہ حدیث شریف کی رو سے تین قسم کے مُردے شہید کا درجہ رکھتے ہیں : وہ جو آگ میں جل کر مرے، وہ جو پانی میں غرق ہوے، اور وہ جو کسی دیوار کے نیچے دب گئے۔‘‘

اب ان کا روے سخن صاحبزادے کی طرف ہوگیا۔ وہ ہر نوع اور ہر قسم کی ہدایتیں اور نصیحتیں سننے کا عادی تھا، اس لیے اس نے ذرا بھی ناگواری ظاہر نہیں کی۔

’’تمھارا چچا عبدالرحمٰن ابھی اٹھارہ برس کا تھا کہ جملہ علوم میں طاق ہوچکا تھا۔۔۔۔‘‘
مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:
’’میں تو ابھی سترہ برس کا بھی نہیں ہوا۔‘‘
ہم نے مناسب طور پر اسے سرزنش کی:
’’تمھارا کھوپڑا گدھے کے سر سے بھی زیادہ خالی ہے۔ جو ہم کہیں اسے گرہ میں باندھ رکھو۔ مستقبل تمھارا ہے۔ ہماری نصیحتوں پر عمل نہیں کرو گے تو آپ بھگتو گے۔ تمھارا کیا خیال ہے، روزی کمانا کچھ آسان کام ہے؟ کچھ کے سروں پر ٹیکا ہوتا ہے تو دوسروں کے سروں پر کام کا سربند۔‘‘

حاجی صاحب نے اپنی بات جاری رکھی:
’’عبدالرحمٰن— اللہ اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے— جملہ علوم میں طاق تھا۔ اس کی خطاطی ازحد دیدہ زیب تھی۔ محکمۂ مالیات میں ملازم تھا اور کم عمری ہی سے جبہ اور عمامہ پہنتا تھا۔ مشاق پیراک اور ماہر شہسوار تھا۔ ایک مرتبہ ایک فقیہ، جو سُوس سے ہماری ملاقات کو آئے تھے، اس سے مل کر اس کی علمیت اور ذہانت سے بہت متاثر ہوے۔ انھوں نے اس خوف سے کہ کہیں اس کو جن وانس کی نظرِ بد نہ لگ جائے، ایک تعویذ، جو حرزالبحر اور دافعِ بلیات کہلاتا ہے، لکھ کر دیا کہ اپنے جبے پر پہنے رہے تاکہ بلیات سے محفوظ رہے۔‘‘

گفتگو میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنے کے لیے، گو اوپری ہی سہی، ہم نے کہا:
’’اور اس تعویذ کے ہوتے ہوے وہ غرق ہو گئے؟‘‘

’’مشیت الہٰی! وہ رباط سے سالے آ رہا تھا۔ وادیِ ابو رقرق اس نے کشتی سے عبور کی تھی۔ پھر اس نے عمامہ اتار کر وضو کیا، ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر وہاں سے روانہ ہو کر ابھی بیس قدم گیا ہو گا کہ اس کا پیرنے کو جی چاہا۔ بس وہ اسی مقام کو لوٹا، اپنا لباس اتارا اور پیرنے لگا…‘‘
حسب معمول مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:
’’کیا اس زمانے میں لوگ ننگے ہی پیرتے تھے؟‘‘

گو ہم کو یہ سوال معقول معلوم ہوا مگر یہ محل کسی اَور ردعمل کا متقاضی تھا۔ چنانچہ ہم نے صاحبزادے کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور بے بسی کے اظہار میں کف افسوس ملا اور پورا زور لگا دیا کہ کہیں ہماری ہنسی نہ چھوٹ جائے۔

’’نہیں، وہ لنگر باندھتے تھے۔ اُس دن اتفاق سے تعویذ دوسرے جبے میں رہ گیا تھا اور پانی میں اس کی مشاقی ذرا کام نہ آئی اور سمندر اب تک اس کو دبائے بیٹھا ہے۔‘‘

یوں عبدالرحمٰن تو اپنی جان سے گیا، رہ گئے دونوں جہان کے علم، تو اس میں سراسر نقصان میں ہم رہے۔

ابھی کھانا ختم نہیں ہوا تھا مگر باتیں ختم ہوگئی تھیں۔ ہم اپنے مہمان کو آرام سے نوالہ چباتے دیکھتے رہے۔ سوچتے رہے کہ اب کس موضوع گفتگو میں ان کو لگائیں۔ ہم کو چند واقعات اور اِدھر اُدھر کی باتیں یاد آئیں جو وہ اس سے پہلے ہمیں کئی مواقع پر سنا چکے تھے۔ بس یاد دلانے کی دیر تھی کہ وہ شروع ہو جاتے۔ مثلاً ہم کہہ سکتے تھے کہ: اگلے وقتوں کے لوگ جب یہ نعرہ لگاتے تھے کہ ’’عزت اور دولت سب مولاے عبدالعزیز کی‘‘ تو واللہ دل سے لگاتے تھے۔ ان کے لیے اتنا اشارہ کافی تھا؛ وہ سلطان مولاے عبدالعزیز اور آس پاس کے قبائل کی جنگ وجدال کے واقعات سلسلہ وار سنانا شروع کر دیتے یہاں تک کہ فرانسیسیوں کے ورود تک پہنچ جاتے۔ تاہم یہ سوچتے ہوے کہ یہ گفتگو اکتا دے گی، ہم نے مناسب سمجھا کہ خود انھی کے بارے میں بات چھیڑی جائے۔ اذان دینے اور نماز پڑھنے کے علاوہ باقی وقت کیونکر گزرتا ہے؟ حرمینِ شریفین سے واپسی کے بعد حشیش انھوں نے ترک کر دی تھی اور نئی اہلیہ کا بھی دور دور پتا نہیں تھا۔ آخر پھر وقت کس طرح کٹتا ہے؟ کیا وہ خود کو چلتی پھرتی لاش تصور کرتے ہیں؟ بظاہر اپنے اردگرد کی دنیا سے ان کا تعلق بہت محدود تھا۔ وہ بس ادھر ادھر کی باتیں سن سنا کر اپنی حاشیہ آرائی کے ساتھ سنا دیا کرتے تھے، اور بات ختم یوں کرتے تھے کہ اللہ نے اختیار یوں تو سب کو دے رکھا ہے مگر اصل اختیار اُسی کا ہے۔

صاحبزادہ کھانے پر ندیدوں کی طرح گرتا ہے۔ ممکن ہے اس وقت خالی الذہن ہو، مگر وہ آس پاس ہونے والی باتوں پر توجہ دیتا ہے، میکانیکی انداز ہی میں سہی۔ وہ سگریٹ کا مزہ، پڑوس کی لڑکیوں کا تعاقب اور فٹ بال کا چسکا بھی دریافت کر چکا ہے۔ تھوڑے سے استغراق کے بعد وہ گرما کی تعطیلات میں یوروپ کے سفر کی خواہش کا اظہار بھی کرتا ہے، چاہے اس کو وہاں پاپیادہ ہی کیوں نہ جانا پڑے، (جس سے اس کے سفر کے اخراجات میں اضافہ ہی ہو گا)۔

اور ہم؟ ہم بزرگوار اور صاحبزادے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم ان کے دل میں آنے والے خیالات کا اندازہ لگا رہے ہیں، ارد گرد کی دنیا سے ان کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد؟ قیلولہ۔ اور پھر؟ گھومیں پھریں گے، تازہ ہوا کھائیں گے۔ اور پھر؟ ہم اپنی رفیقہ کو ٹیلیفون کریں گے۔ کہیں ملیں گے، گپ لگائیں گے۔ ہماری حرارت بڑھے گی، جبلتیں کھل کھیلیں گی۔ پھر وہی بےزاری کا دور دورہ ہو گا۔ دونوں اپنی اپنی راہ لیں گے۔ پھر ہم اپنے دوستوں کے پاس جائیں گے۔ دنیا جہان کی باتیں کریں گے۔ کبھی مدح کریں گے کبھی ذم، اور یوں اپنے دل کا غبار نکالیں گے۔ مگر جب اپنی بےبسی کی انتہا کا اندازہ ہو گا تو سارا جوش بیٹھ جائے گا۔ ہم پھر سڑکوں پر نکل جائیں گے۔ عورتوں کے مدوّر اور بھرے بھرے جسموں کی جنبشیں دیکھ کر ہوس پھر سر اٹھائے گی۔ ہم اکثر اپنے متاہل احباب سے پوچھا کرتے ہیں، ’’تو گویا تمھاری اہلیہ اپنی صنف کی قائم مقام ہوتی ہے؟‘‘ ہم کو جواب یہ ملتا ہے، ’’ہرگز نہیں، بیوی سے محبت رکھنے کے باوجود بیوی والوں سے زیادہ کوئی دوسری عورت کا خواہاں نہیں ہوتا۔‘‘ ہم اس عقدے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عقل کے مطابق توجیہہ کرتے ہیں۔ سبب اس کا سراسر اختلاطِ مردوزن، پُرکشش اشتہارات، میک اپ، اونچی ایڑی کی جوتی اور۔۔۔۔۔۔ اَور کیا ہے؟
ہم نے اس کو یہ بتایا تو اس نے سختی سے ٹوکا:
’’سب بکواس۔ محبت کی مدد سے ہم ہوس کو زیر کرسکتے ہیں۔‘‘
’’اور محبت ہے کہاں ؟‘‘
’’اچھا، تو تم بھی از قسمِ قنوطی ہو۔ مجھی کو لو۔‘‘ اس کی کہانی بھی عام قسم کی نکلی۔ وہ اسے کسی بوڑھے سے بیاہنا چاہتے تھے تو اس نے خودکشی کی دھمکی دی، اور ان دونوں نے تامرگ ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے وعدے وعید کیے وغیرہ وغیرہ۔

وہ ہماری بات سمجھا ہی نہیں؛ اس کے سامنے فرائڈ کا قول دہرانے کا کیا فائدہ: ’’میں خود کو اس خیال کا خوگر بنانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہر وصل میں چار افراد شریک ہوتے ہیں۔‘‘

ہم غلو سے کام لیتے ہیں اور وہ لمحہ ہم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ صرف بوالہوسی نہیں جو دہلاتی اور اکساتی ہے۔ ترغیب تو جرم میں، خودکشی میں، شراب میں اور انقلاب میں بھی ہوتی ہے، مگر یہ دوسری قسمیں ہمیں اتنا نہیں اکساتیں، کیونکہ ان سے مانوسیت کو کوئی ٹھیس نہیں لگتی۔ اور لکھنا؟

میں چپ تھا اور وہ جواب دینے پر مائل نہ تھے؛ بس تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ عبدالباسط نے عرض کیا: ’’میں ہمیشہ سے جانتا آیا ہوں کہ جناب کے مقال میں وہ تاثیر ہے کہ آپ کے روبرو بڑے بڑے لسان گنگ رہ جاتے ہیں اور ان کے دماغ لاجواب۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے دلآویز ارشادات سے صبح شام ہمارے حوصلے کچھ یوں بلند کرتے ہیں کہ ان ارشادات کے خوش آئند نقوش ہمارے نفوس پر ثبت ہوجاتے ہیں۔ ہم نے تو جناب کو مُدام اسی حالت میں پایا۔ پھر اب کیا ہوا؟‘‘
شام کو ہمیں پھر وہی احساس ہوا کہ ہڈیاں بکھری جا رہی ہیں، اور ایک دلگیر اداسی بھی طاری ہو گئی۔ اس سے جان چھڑانے کے لیے ہم نے سوچا کہ ڈاکٹر کا وہی معروف نسخہ آزمایا جائے، مگر ہم کو تذبذب ہوا کہ ڈاکٹر نے وقت کا تعین کر دیا تھا: شام نہیں، صبح۔ تو کوچہ کوچہ آوارہ گردی کریں گے اور عوام الناس کے چہروں کو تاڑیں گے، شاید کوئی علاج سوجھ جائے۔ ہم کافی دیر گردش میں رہے۔ کیفے کھچاکھچ بھرے ہوے ہیں۔ بیئر کی بوتلیں چشم زدن میں خالی ہو رہی ہیں۔ قہقہے گونج رہے ہیں۔ ہر دم چلتی ہوئی رس نکالنے کی مشینیں کھڑکھڑا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ہماری اداسی ہے کہ اَڑی کھڑی ہے، جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔ کاریں تیزرفتاری سے گزرتی ہیں۔ بسیں سست اور ٹھساٹھس بھری ہوئی ہیں۔ سنیماؤں پر قدآور ہیرو اشتہار بنے کھڑے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہمارے چاروں طرف ہر شخص بھاگا چلا جا رہا ہے۔ جی چاہا ان کو روکنے کے لیے چلّائیں، ’’تم بھاگے جا رہے ہو!‘‘ مگر یہ خیال احمقانہ اور بےجواز سا لگا۔ ہم نے دل سے پوچھا، ’’کسی شے کو ثبات بھی ہے؟‘‘ پھر ہم اس حیات کی کہانی قلمبند کرنے کے لیے جو ہم قسطوں میں جیتے ہیں، گھر لوٹ آئے۔

Image: Tyrone Hart
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔