Categories
فکشن

میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)

پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔
ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔
آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں جی زندگی میں بعض دفعہ ہوش کی دنیا سے ناطہ توڑ کر بے ہوش رہنا بڑا ضروری ہوتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

میں نے غربت میں آنکھ کھولی، محکمہ ریلوے میں ملازم بھرتی ہواتو نجمہ سے شادی ہوگئی، نجمہ سے مجھے شدید محبت تھی زندگی غربت میں سہی لیکن خوشی خوشی بسر ہورہی تھی، شادی کی دس سال تک ہمارے ہاں اولاد تو نہ ہوئی لیکن نجمہ کو ٹی بی ہوگئی۔ گھر کو رہن رکھوا کر چودھری صاحب سے قرض لیا اور نجمہ کے علاج کے لیے ڈاکٹر، پیر، فقیر کہاں کہاں نہیں گیا لیکن نجمہ کی زندگی نے وفا نہ کی۔۔۔۔

نجمہ کے جانے کے بعد میں بالکل تنہا تھا، دوست، رشتہ دار پہلے کون سا جان چھڑکتے تھے لیکن اب تو رسمی خیر، خیریت پوچھنے سے بھی گئے اور جب بندہ غریب ہو تو رشتہ دار بھی جلدی بھول جاتے ہیں، اتنی جلدی کہ گویا آپ تھے ہی نہیں، گویا کہ ایک قصہ پارینہ۔۔
اِس دور میں دولت انسان کو یاد رکھنے اور یاد رکھوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔

اُن دنوں میں شدید تنہائی کا شکار تھا، کام میں جی نہ لگتا، دفتر سے غیر حاضر رہتا اور یونہی گلیوں میں بے مقصد پھرا کرتا۔۔۔۔
بامقصد آدمی کا، بے مقصد پھرنا بڑا تکلیف دہ ہوتاہے۔۔۔

آفیسرز کو مجھ سے شکایت تھی سومجبورا ًجلد ریٹائرمنٹ لے لی، مبلغ دو لاکھ روپے پرویڈینٹ فنڈ کے ملے، گاؤں کے چودھر ی صاحب نے کریانہ کی دکان کھولنے کا مشورہ دیا، ان دنوں میری زندگی ایک جگہ آ کر رک گئی تھی ۔۔۔کوئی مقصد مل ہی نہیں رہا تھا۔ ایسے میں جب آپ کے دوست احباب آپ کو بھول چکے ہوں وہاں گاؤں کے چودھری صاحب کی حوصلہ افزائی بڑی بات تھی، سو میں نے ہمت باندھی کہ اور نہیں توکاروبار کر کے چودھری صاحب کا قرض تو لوٹا دوں اور یہ جو گھر رہن رکھوایا تھا وہ واپس مل جائے۔۔۔ ویسے اس گھر کو میں نے کرنابھی کیا تھا لیکن پھر بھی وہ میرا آبائی گھر تھا سو میں نے بینک سے اپنے پرویڈینٹ فنڈ کے پیسے نکلووانے کا فیصلہ کر لیا۔

اور پھر قصہ اس شام کا جو آئی اور میری زندگی بدل کر، تاریک رات میں ڈھل گئی۔۔

اُس شام جب میں شہر سے اپنی عمر بھر کی کمائی لے کر لوٹ رہا تھا تو مجھے بہت دیر ہوگئی تھی، گاڑی سے اُتر کر میں تیز تیز چلتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوا۔

مجھے اُس دن احساس ہوا کہ عمر بھر کی دولت سنبھالنا کیسا مشکل کام ہوتا ہے، جانے یہ لوگ کروڑوں، اربوں کیسے سنبھال لیتے ہیں، میرا تو ایک ایک قدم من من وزنی ہو گیا تھا۔

میں جتنا تیز چلتا راستہ اتنا ہی طویل ہوتا جارہا تھایا شاید مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا اور یوں بھی راستے کبھی طویل نہیں ہوتے انسان کی سوچ طویل ہوجاتی ہے۔۔جب میں بڑے گراونڈ سے گزر رہا تھا تو وہاں چودھری صاحب کا بیٹا انور اور اس کے دوست کھڑے تھے۔۔۔ گاؤں میں عموما اتنی شام کو اس گراونڈ پر کوئی نہیں ہوتا تھا۔

’’کریم دین آگئے شہر سے پیسے لے کر؟؟؟ ‘‘انور نے پوچھا
’’نہیں۔۔۔
وہ۔۔۔۔ہاں۔۔۔‘‘
’’تو تم ہمیں قرض کب واپس کررہے ہو؟‘‘
’’جی میں اس سے کاروبار کروں گااور جلد ہی آپ کو قرض لوٹا دوں گا‘‘
’’پر ہم تو ابھی قرض واپس لیں گے کریم دین۔۔۔ ‘‘ انور نے کہا
’’ابھی نہیں دیکھیں، یہ میرا عمر بھر کااثاثہ ہے، میرا یقین کریں میں جلد قرض لوٹا دوں گا‘‘میں نے کہا
’’تو ہماری رقم کیا یونہی بیکار پڑی تھی؟‘‘
’’لیکن دیکھیں اس کے بدلے میں نے اپنا گھر بھی تو رہن رکھوایا ہے‘‘۔
’’اچھا تو اب تم باتیں بھی سناو ٔگے اب تمہارے منہ میں زبان بھی آگئی ہے۔۔۔‘‘

یہ کہہ کر انور نے پستول نکالا اور میری کنپٹی پر رکھ دیا اور اس کے دوستوں نے مجھ سے رقم کا تھیلا چھینا اور موٹرسائیکلوں پر بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔
میری عمر بھر کی کمائی جس کا ایک روپیہ بھی میں استعمال نہ کرسکا مجھ سے چھین لی گئی تھی، اگر آپ نے کبھی کسی کی عمر بھرکی کمائی لٹتے دیکھی ہو توآپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بڑے ہی کرب کی بات ہے۔

میں بھاگتے بھاگتے تھانے پہنچا، تھانیدار صاحب نے چودھری صاحب کے خلاف رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا ایسے معزز آدمی بھلا ایسی چھوٹی حرکت کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔

چودھری صاحب نے الگ برا بھلا کہااور تھانیدار کو کہا کہ میں اس الزام کے باوجوداس سے اس کا گھر خالی کرنے کو نہیں کہوں گا۔

سارے گاؤں میں چودھری صاحب کی اس دریا دلی کی باتیں ہونے لگیں، میری بات کا کسے یقین تھا، غریب کی بات بھی بھلا کوئی بات ہوتی ہے۔میرے پاس گزر اوقات کو فقط گھر کا سامان تھا جو ایک ایک کر کے بکنے لگا تھا، ایک ہلکی سی آرزو جو کام کرنے کی دل میں جاگی تھی اب وہ بھی نہیں تھی۔۔میں بھلا کیوں کام کرتا، کس کے لیے کام کرتا۔۔۔

سارا سارادن گھر میں پڑا رہتا لوگ پہلے بھی کم ملتے تھے اب تو بالکل ملنا جلنا ترک کردیا تھا۔

دیکھیں غم اتنا شدید نہیں ہوتا لیکن جب کوئی غم بانٹنے والا نہ ہو، جب کوئی آپ کی بات نہ سنے تو غم میں ایسی شدت آجاتی ہے کہ غم کے جھکڑانسان کو تنکوں کی طرح اڑا کر لے جاتے ہیں۔

میں بھی تنکا تنکا بکھر رہا تھا۔۔۔ذرہ ذرہ ہوکر۔۔۔۔مجھے باتیں بھولنے لگیں تھیں۔ حافظے کا یہ عالم تھا کہ بعض دفعہ دوکاندار سے چیز خریدنے جاتا تو بھول جاتا کہ کیا خریدنا ہے یا کبھی پیسے دینا بھول جاتا، ایک عرصہ تک حجامت نہ کرانے کی وجہ سے بال بڑھ گئے تھے، لوگ آہستہ آہستہ مجھے پاگل سمجھنے لگے تھے اور بچے ڈرتے تھے۔۔۔ پہلے دبے دبے لفظوں میں پاگل ہے کا لفظ سنتا تھاپھر لوگوں کے ہاتھ شغل لگا وہ پاگل پاگل کہہ کر چھیڑتے تھے۔۔۔ میں یونہی ساراسارا دن گھر کے دروازے میں بیٹھا رہتا، شروع شروع میں، میں نے کوئی توجہ نہ دی کہ لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں لیکن پھر ایک دن میں ان کے پیچھے بھاگنے لگا کہ میرے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔ میں اور کر ہی کیا سکتا تھا، ایک نہ ایک دن پتھر اٹھا کہ بھاگنا تھا سو ایک دن میں نے پتھر اٹھا لیا۔۔۔۔

میں پاگل نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن تھا۔۔۔۔۔۔

پھر میں لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے تھک گیااور میرے پاس کھانے کو بھی پیسے ختم ہوگئے کہ گھر میں اب ایک بھی ایسی چیز نہیں تھی کہ جسے بیچ کر پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاسکتا۔۔۔۔یہاں صرف میں تھا اور گھر کے درودیوار تھے وہ درودیوار جو پہلے ہی رہن رکھے جاچکے تھے اس قرض کے بدلے جو کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔

گاؤں والوں نے چودھری صاحب سے گزارش کی کہ ایک پاگل کو گاؤں میں نہیں رہنا چاہیے سو ایک روز چودھری صاحب نے اپنا مکان خالی کرنے کا حکم صادر کردیا۔۔۔۔ یہ مکان یہ میرے آباؤاجدادکا مکان، جہاں میں پیدا ہوا، جو میرا تھا لیکن میرا نہیں تھا۔۔۔۔

پاگل کا ایک ہی ٹھکانہ ہے جی ہاں پاگل خانہ سو ایک دن پاگل خانے آن پہنچا، انتظامیہ نے داخل کرنے سے انکار کردیا کہ کوئی گواہ لاؤ جو تمہارے پاگل ہونے کی گواہی دے، میں نے بہت کہا کہ میں پاگل ہوں میرا یقین کریں لیکن وہ نہ مانے یہ دنیا بڑی ظالم ہے پہلے خود پاگل بناتی ہے پھر پاگل پن کا سرٹیفکیٹ بھی مانگتی ہے۔۔۔

سو چودھری صاحب کہ ہاں حاضر ہوا، مکان کی چابی انہیں تھمائی اور پاگل خانے تک چلنے اور داخل کرانے کی درخواست کی۔۔۔
چودھری صاحب جیسے نیک دل آدمی بھلا اِس نیک کام میں کیوں کر ساتھ نہ دیتے۔۔۔۔۔۔
Image: Marylise Vigneau

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے لگتے ہیں۔ ایک دھارا ہوتا ہے خوف کا، جو باہری ماحول میں پھیلے ہوے خطرے سے پیدا ہوتا ہے، اور دوسرا دھارا ہوتا ہے باہری ردعمل والے دھارے کے ردعمل میں جنما جوابی دھارا۔ یہی دھارا ہوتا ہے جس سے اثر لے کر انسان کی تمام اندرونی قوتیں اپنے وجود کے بچاؤ میں ایک جُٹ ہو کر اسے اس کی تمام جسمانی قوتوں سے زیادہ طاقتور ہونے کا بھروسا دلاتی ہیں۔ وہ اپنی اسی اندرونی طاقت کے بھروسے ان باہری خطروں سے ٹکراتا ہے جن سے اسے ڈر لگتا ہے۔

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی اس اندرونی طاقت کو نہ ٹھیک سے پہچان پاتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک جٹ کر پاتے ہیں۔ ایسے لوگ، اپنی حفاظت کے لیے دوسرے انسانوں میں اپنا تحفظ ڈھونڈے ہیں۔

ایسی ہی دوِدھا سے جوجھتے، ایک دوراہے پر کھڑے بے یارومددگار سندھی طبقے میں بھی ایک اور بٹوارا ہوا۔ دھیرے دھیرے اکھڑے ہوے لوگوں میں سے گنتی کے چند ایسے لوگ منچ پر ابھرنے لگے جو ہر روز کی لعنت ملامت سے عاجز آ چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی زندگی سے بھی عاجز آ چکے تھے۔ ان لوگوں کی بولی ہی ان کے اپمان کا ہتھیار بن گئی تھی۔ یہ زبان سے چلنے والی کسی پچکاری کی طرح کا ہتھیار تھا، جس سے ’’اے سندھی!‘‘، ’’بھینڑاں کھپو‘‘، ’’لکھ جی لعنت‘‘، ’’وڑی سائیں‘‘ جیسے سندھی کے کچھ چنندہ لفظ ہلاک ہو کر مسخ روپ میں باہر نکلتے اور برچھی کی طرح راہ چلتے بچے بوڑھوں کو نشانہ بناتے۔

ایسے ہی مخالف ماحول میں جینے کے راستے ڈھونڈتے ان رفیوجیوں میں سے کچھ لوگ ’’کم لاگت، کم منافع، لیکن ٹرن اوور زیادہ‘‘ والا فارمولا لے کر بازار میں اترے۔ بیوپاری مفادات کا ٹکراو ہوا تو شہر کے پرانے بیوپاریوں نے ان نئے نئے بیوپاریوں کو ملاوٹ خور اور ڈنڈی مار والے تمغے دے کر بازار میں ہرانے کی حکمت عملی اپنا لی۔ دو بیوپاریوں کی اس جنگ کی زد میں آ کر وہ لوگ بھی زخمی ہونے لگے جو نہ تو سڑک پر خالی شکر کے بورے کے منافعے پر شکر بیچ رہے تھے اور نہ جنھوں نے دال چانول کی کوئی دکان لگائی تھی۔ اس کے باوجود وہ ہر صبح، ہر شام طرح طرح کے جھوٹے الزام جھیل رہے تھے۔

یہ بیکار سے گھومتے بیروزگار لوگوں کا گروہ تھا جس کے لیے زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ سو جینے مرنے کی پروا کو پیچھے چھوڑ، اس نہایت چھوٹے سے حصے نے اینٹ کا جواب پتھر والا راستہ چن لیا اور ڈرانے والے نتیجوں کو الگنی پر ٹانگ کر بےخوف سینہ تان کر نکلنا شروع کر دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اونچی آواز میں اپنے گھر چھوڑ بےگھر ہونے کو وطن کے لیے دی گئی قربانی مانتے تھے اور نئے بندوبست میں اپنے لئے عزت کی جگہ چاہتے تھے۔ اور جو یہ حق حق کی طرح نہ ملے تو آگے بڑھ کر چھین لینے والے فلسفے کے ساتھ سامنے آ گئے۔

لیکن دوسرے راستے پر چلنے والوں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ یہ لوگ مل جل کر صلح کل والے انداز میں جینے کی تمنا رکھتے تھے۔ اتنی بڑی اتھل پتھل کے بعد کسی طرح تھوڑے بہت سمجھوتے کی راہ لے کر سکون سے جینا چاہتے تھے۔ اس طبقے نے شہر کی سِکھ سمودائے [برادری] اور ان کی بہادری کو اپنی طاقت مان لیا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ صدیوں سے سندھی سماج سِکھی پرمپرا [روایت] سے جڑا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو که جس گھر میں گرو نانک دیو یا دوسرے سِکھ گروؤں کی تصویریں نہ لگتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر رہا ہو گا جس میں گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہ ہوتا ہو۔ اور تو اور، سندھی کہاوتوں میں بھی گرو نانک دیو کا ستھان اتنا اونچا رہا ہے که وہ اپنے گھر کو بھی گرو کی چھاؤں کی طرح مانتے تھے۔ باربار یہی ایک جملہ سنائی دیتا تھا: ’’گھر گُرو جو در۔‘‘ ہر تیسرے چوتھے سندھی گھر میں ایک بیٹے کا سِکھ ہونا ایک عام بات تھی۔ اس ناتے وہ ہمیشہ سے سِکھوں کو اپنا بھائی، اپنا ہمزاد مانتے ہی آئے تھے۔ اور سکھ سمودائے نے بھی ہمیشہ اس رشتے کو وہی سمّان دیا ہے۔

ایک دن کی گھٹنا نے اس پوری بات کو ایک نئی اڑان دے دی۔ ایک دن دو سکھ عورتیں گھر سے کچھ دوری پر آباد اِبّا چوڑی والے کی باخل سے ماں کے پاس کپڑے سلوا نے آئیں۔ انھوں نے اپنی کسی جاننے والی کا حوالہ دیا جس کے لیے ماں نے کپڑے سیے تھے۔ ماں کے چہرے پر اپنی تعریف سن کر ایک مسکراہٹ سی آئی۔ اس نے اٹھ کر دونوں کو پانی پلایا اور بڑے پیار سے کپڑوں کی سلائی کے بارے میں بات کی۔ باتوں باتوں میں ہی ماں نے ان سے دریافت کیا که شہر میں گورودوارہ کہاں ہے۔ گورودوارے کی بات سن کر دونوں کے چہرے پر ایک مسکان سی پھیل گئی۔ انھوں نے بتایا که شہر میں کل جمع ایک ہی گورودوارہ ہے جو شہر سے کافی دور رجمنٹ روڈ پر ہے۔

ان دو میں سے ایک عورت خاصی بزرگ تھیں۔ ماں نے جب اس بات پر حیرانی اور نراشا ظاہر کی تو اس بزرگ مہیلا نے اپنے پنجابی لہجے میں جواب دیا، ’’او نا جی، جیہڑا نواب سی نہ بھوپال دا، اُناں دی فوج وچ پٹیالے دے جیالے سکھ سپاہی تھے۔ کوڑاں والی فوج (گھڑسوار فوجی دستہ) بنانے کے لیے اُناں نے خاص طور سے پٹیالہ مہاراج نوں دوستی دا واسطہ دے کے، پنج سو سپاہیاں نوں بلایا سی۔ سو بس اُناں دے واسطے ای وہ گورودوارہ بھی بنایا سی۔‘‘
رجمنٹ روڈ شہر خاص سے واقعی دور دراز کا علاقہ تھا۔ یہ بھوپال ریاست کی فوج سلطانیہ انفنٹری والی بیرکس کی طرف آنے جانے کا راستہ تھا۔ اس دوری کے باوجود گورودوارے پہنچنے والوں کی کمی نہ تھی۔ ساجھے کا تانگہ اس کے لیے بڑی مفید چیز تھا۔

ماں نے حویلی کے سارے گھروں سے ان دو مہیلاؤں کا تعارف ایسے کروایا جیسے کوئی رشتےدار ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ که سارے لوگوں نے اسی طرح کی خوشی ظاہر کی۔ ماں نے آخر میں گھر کے اندر ایک آلے میں بنے مندر، اس میں کانچ والے فریم میں جڑی گرو نانک دیو کی تصویر اور گرو گرنتھ صاحب کے درشن بھی کروا دیے۔ کپڑے سلنے سے پہلے ہی ایک نیا اور مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ اس کے بعد شروع ہوا تیج تیوہار پر گورودوارے جانے کا سلسلہ۔

دادا پو پھٹے ہی حویلی کے اکلوتے غسلخانے میں پانی کی بالٹی لے کر گھس جاتے۔ جنیؤ ہاتھ میں لے کر کچھ بُدبُداتے اور پھر نہا دھو کر نکل پڑتے گھر سے کچھ دور خزانچی گلی میں بنے مندر کی طرف۔ ماں کا پوجا پاٹھ گھر پر ہی ہو جاتا۔ امرت ویلے کی اس کی پوجا میں سُکھمنی صاحب کا پاٹھ ضروری ہوتا تھا۔ جب بھی موقع ملتا، ماں مجھے بھی ساتھ بٹھا کر گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ سناتی۔ اس کا مطلب سمجھاتی۔ میں منترمُگدھ سا ماں کو پاٹھ کرتے سننے سے بھی زیادہ اسے دیکھتا رہتا تھا۔ گیت والے انداز میں پاٹھ کرتی ماں کی اس دھیمی اور کبھی مدھم سی آواز میں کسی کسی شبد پر ایک سیٹی سی سنائی دے جاتی تھی اور میں چمتکرِت سا اس کے ہونٹوں کو دیکھتا رہتا که کس طرح اوپر نیچے ہوتے ہوتے اچانک کیسے ایک حالت ایسی آتی ہے که کسی کسی شبد پر وہ ذرا گول ہو جاتے ہیں اور سیٹی کی سی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ جس گھڑی ایسا ہوتا تو مارے رومانچ کے میرے پورے بدن میں ایک پھرپھری سی اٹھتی اور چہرے پر خوشی کا انوکھا بھاوٴ آ جاتا۔

ایک دن ماں نے، پڑوسن پتلی بائی سے کہہ کر میرے لیے ایک چھوٹی سی پُستک بازار سے منگوائی: ’’بال بودھ‘‘۔ اسی کتاب کے ذریعے وہ مجھے گرمکھی پڑھنا سکھانا چاہتی تھی که میں خود بھی گرو گرنتھ صاحب اور دسمیس درشن جیسی پوتر کتابیں پڑھ سکوں۔

ماں کی پہلی کوشش کچھ کامیاب نہ ہو سکی۔ میرا رجحان ذرا دوسری طرف ہی بنا رہا۔ لیکن ماں کی لگاتار کوششوں اور پاٹھ کے دوران بجنے والی سیٹی نے مجھے گرمکھی سیکھنے پر آمادہ کر ہی لیا۔ میں گرمکھی سیکھا تو گرو گرنتھ صاحب کو پڑھنے کا چسکا سا لگ گیا۔ اب مجھے اس سیٹی وِیٹی کی یاد بھی نہ آتی تھی۔ میری زندگی میں اس گرنتھ نے ایک ایسا بیج بویا جو میرے بھیتر پوری طرح بلوان ہو کر مجھے باغیانہ فطرت کی راہ پر لے جانے والے رجحان کے ساتھ ٹکرانے لگا تھا۔ اندر ہی اندر کشمکش کی ایک ایسی کیفیت بننے لگی تھی جو مجھے باربار بےچینی اور خفتگی کے ساتھ خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

صحبت اور حالات سے پیدا ہوا باغیانہ تیور سماج میں غنڈئی والے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ لہٰذا عمربھر میرے بھیتر یہ باغی اور یہ امرت بیج ساتھ ساتھ پلتے رہے۔ میں جب جب کرودھ میں کوئی ایسا کارنامہ کر گزرتا جو مہذب سماج کے بچوں کے لیے ممنوع مانا جاتا تھا، تب تب کسی اور کی انگلی اٹھنے سے پہلے ہی یہ امرت بیج میرے بھیتر کوئی ایسا مادّہ پیدا کر دیتا که میں خود اپنے کو قصوروار مان کر لہولہان کر، سزا دینے کی کوشش کرنے لگتا۔

اس کوشش کی شروعات ہوتی تھی دادا کے پورٹیبل ریمنگٹن ٹائپ رائٹر کے ساتھ رکھے کاربن پیپر اور کاغذوں کے ساتھ رکھی آل پن کی ڈبی سے۔ ایک پن نکال کر میں خود کو باربار سوئی چبھوتا اور چبھن کے درد کے ساتھ نکلتی خون کی ننھی سی بوند کو دیکھتا، ماں کی طرح ہی خاموش آنسو بہاتا اور چپ چپ رُلائی کرتا رہتا۔ جس دن سوئی سے نکلی خون کی بوندوں سے بھی جی ہلکا نہ ہوتا، اس دن اٹھ کر اتوارے کے ٹرانسپورٹ علاقے میں آباد ایک ننھے سے باغیچے میں پھولوں کے اردگرد لگی کانٹےدار باڑھ کے اُبھرے کانٹوں سے اپنی انگلیاں زخمی کر لیتا۔ جب خون بہتا تو دبی دبی چیخ بھی نکلتی لیکن اس خون کے ساتھ ہی دل میں اٹھا درد بھی ضرور کچھ بہہ جاتا۔ جی ہلکا ہو جاتا۔

اس ساری کسرت میں بہتے آنسو چہرے پر طرح طرح کے نقشے بھی بنا جاتے، جو سوکھ کر بخوبی ابھر کر صاف دکھائی دینے لگتے تھے۔ چہرے پر پھیلا عجب سا چپچپاپن محسوس ہوتا۔ جب ہاتھ لگا کر دیکھتا تو ہاتھ کو ذرا سے خراش نما کھردرےپن کا احساس ہوتا۔ اپنے چہرے کی حالت اور ہاتھ کی انگلیوں پر آنسوؤں کی طرح سوکھ چکا خون دیکھ کر اپنی جہالتوں پر خود ہی ہنسی آنے لگتی تھی، جو چہرے تک آتے آتے محض ایک مسکان بھر ہی رہ جاتی تھی۔

میں بغیا کی بنچ سے اٹھ کر سامنے نندا چائے والے کی دکان تک پہنچ جاتا۔ باہر ٹرے میں رکھے پانی کے گلاسوں میں سے ایک گلاس اٹھا کر منھ دھوتا۔ اُدھر سے گدی پر بیٹھے نندا سیٹھ کی آواز آتی: ’’ابے او ڈھور! یہ گاہکوں کے پینے کا پانی ہے۔ منھ دھونا ہو تو نل پہ جاؤ۔‘‘
میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا۔ سنی ان سنی کر، واپس گھر کی طرف چل پڑتا۔

٭٭٭

بٹوارا – کہنا آسان اور نبھانا بہت مشکل ہے۔ ایک پریوار کے بیچ کے بٹوارے میں اکثر گھر کے آنگن میں دیوار کھڑی کر کے اس کام کو تمام مان لیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر زندگی کی تلاش میں بٹے ہوے دیوار کے دونوں طرف کے انسانوں کا بیشتر وقت زندگی سے یکایک گم ہوئی چیزوں کو ڈھونڈنے میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ان گمشدہ چیزوں میں برتن بھانڈوں سے لے کر ہاتھ سے پھسلتے رشتوں کی کمی کا اثر جتنا دل کو دکھاتا ہے اتنا ہی ذہن کو مشتعل بھی کرتا ہے۔ یہی اشتعال اور یہی جوش انسان کو اپنی کھوئی ہوئی چیز حاصل کرنے کے لیے پرتشدد بھی بنا دیتا ہے۔

ملک کا بٹوارا ہوا تو یہاں بٹنے والوں کے بیچ محض ایک چھوٹی سی دیوار نہیں تھی که جس کے آرپار رہنے والوں کو ایک دوسرے کے سکھ دکھ کی آوازیں سنائی دے جاتی ہیں۔ یہ سیاسی حصہ بانٹ تھی۔ اس طرح کے بٹوارے میں چیزوں کو ایک دوسرے کی نظر سے دور رکھنے کے لیے دیوار کی جگہ انسانیت کے کل قد سے اونچا ایک پہاڑ کھڑا کیا جاتا ہے جسے عام زبان میں سرحد کہا جاتا ہے۔

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی دونوں طرف کے لوگوں کے من میں برسوں برس ایک ہی سنگھرش جاری رہا – ’’میں اِدھر جاؤں، یا اُدھر جاؤں؟‘‘ اِدھر آ چکے لوگ ایک دن پھر واپس جانے کے سپنے دیکھتے تھے، تو اُدھر جا بسے لوگوں کو بھی گھر کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ نتیجہ یہ که اُدھر رہ کر بھی اِدھر ہی رہ گئے اور اِدھر آ کر بھی اُدھر لوٹنے کی آس لیے رہے۔

شروعات میں دونوں طرف آنا جانا آسان تھا۔ بنا روک ٹوک آنے جانے کی سہولت تھی۔ اس آسانی کا نتیجہ یہ ہوا که ہندوستان میں بسے بسائے گھربار چھوڑ کر پاکستان جا پہنچے لوگ بڑی تعداد میں واپس لوٹنے لگے۔ اس کی خاص وجہ تھی مقامی لوگوں کا رویہ۔ اپنوں کے بیچ اچانک ہزاروں ہزار انجانے لوگوں کی بڑھتی تعداد نے انسانی ذہن میں وہی خوف پیدا کر دیا تھا جو ہندوستان میں آئے ہوے بےگھروں کو دیکھ کر مقامی لوگوں میں پیدا ہو رہا تھا۔ نتیجے میں اپنے گھروں کی قربانی دے کر آئے ان لوگوں کے ماتھے پر مہاجر کا ٹھپہ لگا دیا۔ اسی غیردوستانہ رویے اور افراتفری کے ماحول میں اپنے لیے جگہ بنانے میں ناکام ہو کر پاکستان سے واپس لوٹنے والوں کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں ہونے لگی۔ ان لوٹنے والوں میں سب سے بڑی تعداد تھی دہلی سے گئے ہوے لوگوں کی۔ اس کے بعد نمبر تھا اتر پردیش کا، اور پھر دوسرے علاقوں کا۔ ان لوٹنے والوں میں زیادہ تر لوگ وہ تھے جو جاتے وقت پیچھے اچھی خاصی جائیداد چھوڑ کر گئے تھے۔

دہلی میں ان ہزاروں لوگوں کی واپسی سے ایک بڑی گمبھیر سمسیا کھڑی ہو گئی تھی۔ ان مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں پر پاکستان سے بےگھر ہو کر آئے سِکھوں اور پنجابیوں نے قانونی اور غیرقانونی، دونوں طریقوں سے قبضہ کر لیا تھا۔ اب پاکستان سے لوٹ کر اپنی زمین جائیداد واپس حاصل کرنے کی کوشش میں آئے دن مار کاٹ کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔

انھی حالات میں آنے جانے کے لیے ایک پرمٹ سسٹم لاگو کر دیا گیا۔ نوکرشاہوں کے ہاتھ میں یہ پرمٹ سسٹم ان کے لیے سونے کی ٹکسال بن گیا۔ مصیبت کے مارے لوگوں کے خون سے بننے والا سونا۔ ایسے سسٹم کو ناکام ہونا تو تھا، سو ہوا۔

اس پرمٹ کی جگہ اب دونوں ملکوں کی سہمتی سے دنیا کے باقی تمام ملکوں کی طرح ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ والا انتظام لاگو کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 1952 سے لاگو ہونے والا یہ پاسپورٹ انتظام دنیا بھر کے ملکوں کے لیے جاری ہونے والے انٹرنیشنل پاسپورٹ سے الگ، صرف دو دیشوں – ہندستان پاکستان – کے بیچ سفر کا پاسپورٹ تھا۔

اس پاسپورٹ بندوسبت کی بنیاد یہ تھی که 19 جولائی 1948 تک پاکستان چھوڑ کر ہندوستان میں آنے والے فطری طور سے ہندوستانی شہری مانے جائیں گے۔ اس تاریخ کے بعد آنے والا ہر شخص ’’باہری‘‘ ہو گا اور اسے ہندوستانی شہریت کے لیے باقاعدہ درخواست دے کر تمام سارے مرحلوں سے گزرنا ہو گا۔ اسی طرح کا بندوبست پاکستان میں بھی لاگو ہو گیا۔

ان پیچیدہ قانونوں اور اس کے پروسیجر کی زد میں آ کر دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ ’’پاکستانی جاسوس‘‘ یا ’’ہندستانی جاسوس‘‘ قرار دے دیے گئے۔ ہزاروں لوگ برسوں برس لگ بھگ پوری طرح بےوطن بنے رہے که دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی بنا دستاویزی ثبوت انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہ تھا۔
اسی غیریقینی سے بھرے ماحول والے دنوں میں ہی ایک گھٹنا ہوئی۔ ایک صبح اچانک ہی حویلی کے دروازے پر حویلی کا پرانا مالک غیاث الدین پٹھان حویلی کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

سلام (تحریر: شیریں نظام مافی، ترجمہ: مبشر میر)

[blockquote style=”3″]

1999 میں جب بیسویں صدی رخصت ہو رہی تھی اور کرہ ارض کے باسی نئی صدی کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے، زرتشت کے سرزمین سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ شیرین نظام مافی بھی بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں لیے ابھرتے سورج کی سرزمین پہنچ گئی۔ کوبے یونی ورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ میں داخلہ لیا، یونی ورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ جاپانی زبان میں اتنی استعداد حاصل کر لی کہ اس کی ادب تخلیق کرنا شروع کر دیا۔ 2006 میں جاپان میں مقیم غیر ملکی طالب علموں کا ادبی انعام حاصل کیا۔ 2009 میں بنگاکیکائی ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی وہ دوسری غیر جاپانی اور مشرق بعید سے تعلق نہ رکھنے والی پہلی مصنفہ ہیں۔

[/blockquote]

مسٹر تناکا نے ‘درخواست برائے ملاقات’ کے دو فارم پر کیے اور استقبالیہ کھڑکی میں جمع کرائے۔ چند منٹ بعد ہمارے سامنے لوہے کا ایک دروازہ کھلا اور پولیس کا ایک لمبا تڑنگا، ہٹا کٹا سپاہی نمودار ہوا، اس کا جسم اتنا گٹھیلا تھا جیسا کسی جاپانی کا ہونا چاہیے۔ اس کی مچھلیاں اس کی وردی میں پھنسی ہوئی تھیں۔

وہ بولا، “اس طرف آئیے۔”اس نے دروازے کی دوسری جانب ہماری راہ نمائی کی، پھر خود بھی اس جانب آیا اور دروازے کو تالا لگا دیا۔ ہم نے خود کو ایک طویل تاریک راہ داری میں پایا۔ دونوں جانب آہنی دروازوں کا سلسلہ تھا، جس میں کہیں کہیں چھوٹی کھڑکیاں تھیں، اگرچہ دن کا پہلا پہر تھا، لیکن بہت کم روشنی یہاں تک پہنچ پاتی تھی، جس کے نتیجے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ تاہم کہیں کہیں لگے ہوئے چھوٹے بلب صرف اتنی روشنی مہیا کرتے تھے کہ ہم صرف راستہ دیکھ سکتے تھے۔ یہ راہ داری رات کے وقت کسی ڈراؤنی فلم کی طرح اچھی خاصی خوفناک ہوتی ہو گی۔

جسیم سپاہی ہمیں راہ داری سے ملحق ایک کمرے میں لے گیا۔ کمرے کی دیواروں پر بہت سے لاکرز نصب تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ اپنا سامان یہیں چھوڑ دیں۔ جس وقت ہم عمارت میں داخل ہوئے اس وقت بھی میرے بیگ کی تلاشی لی گئی تھی، ہم اپنے موبائل اور چابیاں وہاں جمع کروا آئے تھے، چناں چہ میں سمجھتی تھی کہ ہم تلاشی کے کسی اور مرحلے سے گزرے بغیر ملاقات والے کمرے یک پہنچ جائیں گے۔ مسٹر تناکا بدمزگی سے بڑبڑا رہے تھے۔ انھیں بغیر بیگ کے کئی فائلیں لے جانی تھیں، جو کافی مشکل کام تھا۔ ناگواری سے تلملاتے ہوئے انھوں نے اپنا بیگ خالی کیا۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ میرے بیگ کی تلاشی لی جائے گی تو اس میں کاسمیٹکس کا چمک دار گلابی پاؤچ یا نائلون کی اضافی جرابیں نہ لاتی۔ صرف یہی نہیں، نزلے سے میری ناک بَہ رہی تھی اور میرا بیگ استعمال شدہ ٹشوؤں سے بھرا ہوا تھا۔ جس وقت سپاہی کی نظر ان پر پڑی، میں شرم سے پانی پانی ہو گئی۔

میں نے اپنا ضرورت کی اشیا، لغت اور قلم، اٹھائیں اور کمرے سے باہر آ گئی۔ مسٹر تناکا نے اپنا بیگ ساتھ لے جانے پر بہت اصرار کیا لیکن آخر میں انھوں نے اپنا بیگ لاکر میں رکھا، اپنا قلم اور چند موٹی فائلیں اٹھا لیں۔ ہم جسیم سپاہی کی معیت میں راہ داری میں مزید آگے بڑھے، جہاں پولیس کا ایک اور سپاہی نمودار ہوا، اس نے مسٹر تناکا کا استقبال کیا، ہمارے سامنے والا دروازہ کھولا اور ہٹ کر ایک جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ ہم اندر داخل ہو سکیں۔ مسٹر تناکا کے پیچھے میں بھی کمرے میں داخل ہوئی۔ ہمارے بعد جسیم سپاہی اندر آیا، دروازہ بند کیا اور نگرانی پر کھڑا ہو گیا۔

یہ کمرا نسبتاً اور چھوٹا اور باقی عمارت کی مانند تاریک تھا۔ شیشے کی ایک دیوار سے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ کچھ زیادہ ہی چھوٹا لگتا تھا۔ شیشے کی دیوار کے ساتھ تین کرسیاں دھری تھیں۔ مسٹر تناکا نے ایک جانب کی کرسی منتخب کی، درمیانی کرسی خالی چھوڑتے ہوئے میں دوسری جانب بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد شیشے کی دیوار کے دوسری جانب والا دروازہ کھلا اور ایک سپاہی کمرے میں داخل ہوا، اس نے سر خم کر کے ہمیں تعظیم دی، پھر واپس مڑا اور کسی کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔ اس کے پیچھے درمیانے قد کی ایک دبلی پتلی لڑکی، جس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں، کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ پرانے انداز کا ڈھیلا ڈھالا رنگین لباس پہنےہوئے تھی۔ مٹیالے رنگ کے ایک لمبے دوپٹے سے، جس پر چمک دار بیل کڑھی ہوئی تھی، اس نے اپنے بال سمیٹے ہوئے تھے۔ اسے دیکھ کر مجھےکہیں دور پار کی خانہ بدوش عورت یاد آگئی، جو آپ کو صرف فلموں میں دکھائی دیتی ہے۔ سپاہی نے دیوار کی دوسری جانب موجود اکلوتی کرسی کی جانب اشارہ کیا اور دروازے کے پاس اپنی مخصوص جگہ لوٹ گیا۔ اب وہ ایک لفظ ادا کیے بغیر، گود میں ہاتھ دھرے، بت بنی، بیٹھی تھی، وہ ہمیں نہیں بلکہ نیچے دیکھ رہی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ بھی ہم سے آنکھیں نہیں ملائیں، حالاں کہ ہماری نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔

مسٹر تناکا نے کھنکھار کر اپنا گلا صاف کیا اور بات شروع کی۔

“سلام!” وہ دری زبان میں بولے تاکہ اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ میری نظر ان کے قدموں میں فائلوں کے ایک شفاف فولڈر پر پڑی۔ جس میں بچوں کا ایک رنگین تعلیمی ورق نظر آ رہا تھا، جس پر “ملکوں ملکوں خیر سگالی کے الفاظ” چھپے ہوئے تھے۔
لڑکی نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا، نگاہیں اٹھائے بنا نیچے دیکھتے رہی۔

مسٹر تناکا نے میری جانب دیکھا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ترجمے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

“میں تناکا ہوں۔” کچھ تذبذب کے ساتھ وہ بولے، “یقیناً! تمھیں بتا دیا گیا ہو گا کہ یہاں میں تمھارا دفاع کرنے کے لیے آیا ہوں۔ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، چناں چہ ہمیں چاہیے کے ایک دوسرے سے مل کر کام کریں۔” خیر سگالی کا یہ خالص جاپانی انداز تھا۔ یہ الفاظ، جو وہ کہنا چاہتے تھے، کہنے کے بعد وہ مطمٔن نظر آنے لگے۔ وہ اپنی نشست پر مڑے اور مجھے دیکھا، لیکن جوں ہی میں نے ترجمہ شروع کیا، اچانک وہ، شاید خود سے مخاطب ہو کر “ارے، معاف کرنا” کہتے ہوئے، اپنی نشست سے اٹھے، اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے تعارفی کارڈ نکالا اور شیشے کی دیوار کے سوراخ سے دوسری جانب کھسکا دیا۔ ان کی اچانک حرکت پر وہ اپنی حیرت چھپا نہ سکی اور آنکھیں اٹھا کر اچٹتی ہوئی نظر ہم پر ڈالی۔

یہ صرف ایک لمحے کے لیے تھی، لیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے میں لرز گئی۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں دھندلی اور ہر نوع کے تاثر سے محروم تھیں، جیسے ان کی چمک ختم ہو گئی ہو۔ وہ کسی پہلو سے زندہ انسان کی آنکھیں نہیں لگتی تھیں، کچھ ایسے، جیسے پلاسٹک سے بنی ہوں، ان میں کوئی تاثر نہیں تھا، کوئی حرکت نہیں تھی، اور میں سوچے بنا نہ رہ سکی کی کیا وہ ان آنکھوں سے دیکھ بھی سکتی ہے۔

“پلیز!”

مسٹر تناکا کی آواز سے میں اپنے آپ میں لوٹ آئی۔ جب انھوں نے میری جانب دیکھا، میں نے آہستہ آہستہ ان کے الفاظ کا ترجمہ شروع کیا، تاکہ اسے میرا تلفظ سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔

اس نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا۔ میرا خیال تھا، ایک لمبے عرصے کے بعد دری سُن کر وہ خوش ہو گی لیکن اس نے کوئی دل چسپی ظاہر نہ کی۔ مسٹر تناکا نے مشکوک نظروں نے مجھے دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔

“مل کر کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم میرے سب سوالوں کا جواب دو۔ مجھے تم سے بہت سی باتیں پوچھنی ہیں، ممکن ہے یہ سب تمھارے لیے مشکل ہو، لیکن یہ تمھارے فائدے کے لیے ہے۔ اس لیے کوشش کر کے جواب دو۔”

اب بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مسٹر تناکا نے ٹیڑھی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے دھیمی آواز میں احتجاج کیا، “جو آپ نے کہا، میں نے وہی ترجمہ کیا۔”

اس نے ایک ہاتھ میں مٹیالے دوپٹے کا پلو پکڑا اور اسے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے گرد لپیٹنے لگی۔ دھوپ سے جھلسائے ہوئے، جھریوں والے کھردرے ہاتھوں کی انگلیوں کی جلد پھٹی ہوئی تھی۔ اس کے چھوٹے ناخنوں کے سرے مٹی بھرنے سے سیاہ ہو چکے تھے۔ یہ ہاتھ کسی ایسے فرد کے تھے، جس نے کبھی ہینڈ کریم کا نام نہیں سنا تھا۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ مجھے یا مسٹر تناکا کو نہیں سُن رہی، ان کا تعارفی کارڈ اس کی توجہ سے محروم وہیں پڑا ہوا تھا۔ مسٹر تناکا نے اپنے شفاف فولڈر سے کاغذات کا ایک پلندہ نکالا اور سوالات کی فہرست پر نگاہ ڈالی۔
“تمھارا نام کیا ہےَ؟”

میں نے اس کے لیے ان الفاظ کا ترجمہ کیا۔ مختصر خاموشی کے بعد اس نے جواب دیا، “لیلیٰ۔” اس کی مشکل سے سنائی دینے والی آواز حیرت انگیز حد تک خشک اور بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یونی ورسٹی کے طالب عملوں کے لیے یہ کتنی دل فریب اور ہیجان خیز ہو گی۔ جوں ہی انھوں نے اس کا جواب سنا، مسٹر تناکا اس کی طرف جھکے، خوشی سے اسے دیکھا، پھر اپنے کاغذات کی جانب متوجہ ہوئے۔ انھوں نے دوسرا سوال کیا تو ان کے پرجوش لہجے سے ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے ان کی بیٹری چارج ہو گئی ہو۔

“تمھارا خاندانی نام کیا ہے؟”
“غلام علی۔”
“تمھاری پیدائش کب ہوئی؟”
“گرمیوں میں۔”
“میرا مطلب ہے۔ تاریخ یا سال۔۔۔” انھوں نے میری جانب دیکھا۔ سیدھے سادے الفاظ “تاریخ پیدائش” کا دری متبادل میرے ذہن سے نکل گیا۔ میں نے جلدی جلدی لغت میں، جو میں بیگ سے نکال کر لائی تھی، اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیا۔ جب مجھے وہ لفظ مل گیا، میں نے مسٹر تناکا کا سوال دہرایا۔ میں نے لغت بند کر کے اپنی آنکھیں اٹھائیں تو اسے حیرت سے اپنی جانب تکتے پایا۔ شاید میرا الفاظ تلاش کرنے کا عمل اس کی دل چسپی کا باعث تھا۔ ہماری نظریں ٹکرائیں تو خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

“مجھے معلوم نہیں۔ میری ماں نے صرف اتنا بتایا ہے کہ میں گرمیوں میں پیدا ہوئی تھی۔”

لیلیٰ نے دوبارہ نظریں جھکا لیں۔ میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔اس کے خوب صورت نقوش والے چہرے جلد دھوپ سے جھلسائی ہوئی تھی۔ وہ بولی تو اس کی آنکھوں اور دہانے کے گرد جھریاں نمایاں ہو گئیں۔ وہ جوانی کی حدود میں داخل ہو رہی تھی لیکن اس کی جلد تیس سال کی نظر آتی تھی۔ اس کی عمر زیادہ نہیں تھی مگر اس کی خشک جلد کسی ادھیڑ عمر محنت کش عورت سے زیادہ کھردری تھی۔

مسٹر تناکا متذبذب نظر آئے۔ “کیا تم جانتی ہو، تمھاری عمر کیا ہےَ؟”
اس نے اپنی بھویں اچکائیں۔ “سترہ یا شاید اٹھارہ سال۔”
“کون سی؟”
مسٹر تناکا اس بات پر مایوس دکھائی دیئے کہ ایسی لڑکی کا دفاع کیسے کریں، جو اتنا بھی نہیں جانتی کہ اس کی عمر کیا ہے۔
مجھے پَتا نہیں۔ میرے بھائی کا کہنا ہے، میں سترہ سال کی ہوں لیکن ماں نے ہمیشہ ایک سال زیادہ بتایا۔

پریشان ہو کر مسٹر تناکا نے دروازے کے سامنے کھڑے سپاہی کی طرف دیکھا، جیسے اس سے مدد مانگ رہے ہوں۔ سپاہی یقینی لہجے میں بولا۔ “بہت سے لوگوں کو اپنی عمر کا علم نہیں ہوتا۔ ان کے پاس کوئی مصدقہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نہیں ہوتا۔”
“اچھا! میں کیا کر سکتا ہوں؟”

مسٹر تناکا نے ایک ہاتھ سے اپنا سر پکڑ لیا، پھر تھوڑا سا جھکے، دوسرےہاتھ سے اپنے ٹراؤزر کی جیب سے دستی تولیہ نکالا اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔

“اس قدر محتاط ہونے کی ضرورت نہیں، سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔” سپاہی جو اس نوع کے جوابات کا عادی تھا، کہنے لگا۔
“اچھا! تو سترہ لکھوں یا اس کی ماں کی مانوں اور اٹھارہ لکھوں؟”
انھوں نے اپنے سامنے رکھے کاغذ پر کچھ لکھاَ۔
“تمھاری پیدائش کہاں ہوئی؟”
“مزار شریف۔” اس نے مشکل سے سنائی دینے والی آہستہ آواز میں جواب دیا۔
“مزار۔۔۔” یقیناً، تم کٹھن حالات سے گزری ہو گی؟”
مسٹر تناکا نے اپنے کاغذات پر نظر ڈالی۔
“تم ہزارہ ہو۔ کیا ایسا نہیں؟”
وہ سمٹی، تھوڑی دیر ایک لفظ بولے بغیر اقرار میں سر ہلایا۔
“ٹھیک۔۔۔” مسٹر تناکا بڑبڑائے۔
“تمھارے والدین کہاں ہیں؟”
اس نے فرش کی جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ “ماں مر چکی ہےَ۔”
“اوہ! بڑا افسوس ہوا۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے۔”
اپنی یادداشتیں لکھتے ہوئے وہ ہم دردی کے دو لفظ ادا کرنا نہ بھولے۔ پھر وہ کچھ بڑبڑائے، جس کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
“اور تمھارے والد؟”

میں سوال کا ترجمہ کیا تو لیلیٰ نے اچانک نظریں اٹھائیں اور اپنی پراسرار خالی آنکھوں سے مجھے دیکھا۔ میں نے اس رنگ کی آنکھیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ انھیں نہ تو بھورا کہا جا سکتا تھا اور نہ ہی کالا، البتہ اس کے بالوں کے گرد لپٹے مٹیالے دوپٹے کا عکس کہا جا سکتا ہے۔

مسٹر تناکا نے اس کی تشویش کو بھانپ لیا اور تیزی سے کہنے لگے، “تم تو جانتی ہو، ہم دوست ہیں۔ ہم یہاں تمھاری مدد کے لیے ہیں۔ اس لیے مجھے کچھ بتاتے ہوئے نہ گھبراؤ۔”

ترجمہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں بھی دوستوں کے اس حلقے میں شامل ہوں، جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ایک بے کار طالب علم اور ایک ٹھس وکیل، جو ہاتھوں کو ملائم کرنے والی کریم سے ناآشنا اس لڑکی کے دوست ہیں۔

” پاکستان میں ہیں۔”
اس نے اپنی انگلیوں کے درمیان مٹیالا کپڑا لپیٹنا چھوڑ دیا لیکن چمک سے محروم، بے حرکت، خالی آنکھوں سے وہ اب بھی کہیں دور دیکھ رہی تھی۔
“کس لیے؟”
“مجھے معلوم نہیں۔”
“وہ کیا کرتے ہیں؟”

لیلیٰ نے سر جھکا لیا۔ چند منٹ تک کوئی نہ بولا۔ظاہر ہے، وہ اپنے باپ کے بارے میں کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ مسٹر تناکا نے گہری سانس لی۔

“جب تک تم وہ سب نہیں بتاتیں، جو تم جانتی ہو، میں کچھ نہیں کر سکتا۔”
اس نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہ کیا۔ یقینی طور پر اس نے طے کر لیا تھا کہ اپنے باپ کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی۔
“تمھارے کوئی بھائی بہنیں ہیں؟”
باپ کو چھوڑ کر مسٹر تناکا موضوع بدل چکے تھے۔
“مجھ سے بڑے دو بھائی ہیں۔”
“اب وہ کہاں ہیں؟”
“ایک مر چکا ہے۔ دوسرا والد کے ساتھ ہے۔”
“اوہ! بہت افسوس ہوا۔ کیا تم بتا سکتی ہو، اس کی موت کیسی ہوئی؟”
“جنگ میں، بم کا ایک ٹکڑا اس کے سر پر لگا تھا۔ میں نے اس کی لاش نہیں دیکھی۔”
جس وقت میں اس کی بلا تاثر آواز میں سنائے گئےتلخ حقائق کا ترجمہ کر رہی تھی، میں نے اپنی ریڑھ کی ہڈی پر ٹھنڈا پسینہ بہتا محسوس کیا۔
“تمھارا بھائی، والد کے ساتھ کیا کرتا ہے؟”
“وہ میرے والد کی مدد کرتا ہے۔”
“کیا کام کی تفصیل بتا سکتی ہو؟”
ایک مرتبہ پھر لیلیٰ کے کوئی لفظ ادا کیے بغیر کئی منٹ گزر گئے۔
مسٹر تناکا نے اپنی گھڑی پر نگاہ ڈالی۔
“وقت ہو گیا ہے۔”

میں نے ان کی نگاہ کے تعاقب میں ان کی گھڑی دیکھی۔ اتنا وقت ہو گیا! دو گھنٹے گزر چکے تھے لیکن وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا تھا۔ ملاقات کے بارے میں جو ہمارا خیال تھا، اس طرح نہیں ہوا۔ مسٹر تناکا نے مجھے متنبہ کیا تھا کہ پہلی ملاقات ہمیشہ تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ اس کا مقصد بہت سی معلومات حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اعتماد قائم کرنا ہوتا ہے۔

عموماً لوگ پسند نہیں کرتے کہ وکیل ان سے سوالات کریں۔ آپ کو کسی ایسے شخص کے تابڑ توڑ سوالات کا سامنا ہوتا ہے، جسے حقیقت میں آپ نہیں جانتے۔ ان سوالات کا معین جواب درکار ہوتا ہے، جس کے لیے زبردست یاداشت ضروری ہوتی ہے۔ وکیل، جوتوں سمیت آپ کی نجی زندگی میں گھس جاتے ہیں، تاکہ ان معلومات کو حاصل کر لیں، جو عدالت کا متاثر کر سکیں۔ تاہم، آپ نے دیکھا، سوالات اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں کوئی معاملہ نجی نہیں رہتا۔ وکیل نے موکل کا دفاع کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ سوالات کا جواب دیتا ہے، مگر وہ کبھی دل کی بات نہیں بتاتا۔ یقیناً مسٹر تناکا اپنے کام کو سمجھتے اور یہ جانتے ہوں گے کہ انھیں اپنا کام شائستگی سے کرنا ہو گا، تاکہ ان کی موکل اپنے ہاتھ باندھ کر سر ہلاتے ہوئے، منہ بند نہ کر لے۔ انھوں نے مجھے کہا تھا:

“ہم انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں رہ رہے ہیں، اس میں کچھ نوجوان اتنے غیر محتاط ہیں کہ اپنے موکل کی ذاتی معلومات اس کے سامنے کمپیوٹر پر ٹائپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ کتنے کٹھور اور سنگ دل دکھائی دیتے ہیں۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ کم از کم موکل کے سامنے معلومات کا اندراج نہیں کرتا۔ اگرچہ بعد میں یاداشتوں کو کمپیوٹر میں منتقل کرنے میں وقت ضائع ہوتا ہے، البتہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ میں قیمتی وقت موکل کے ساتھ، دوستوں کی مانند، باتیں کرنے میں گزارتا ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ موکل کے ساتھ تعلقات قائم کیے جائیں۔ باتیں کرتے ہوئے موکل سے آنکھوں کے ذریعے رابطہ بہت ضروری ہے۔ جب آپ ایسا کریں گے تو اس قابل ہوں گے کہ مخاطب کےچہرے کے تاثرات اور ردِعمل کو سمجھ سکیں۔ اس کے بعد ہی آپ ہر موضوع پر گفتگو کر سکیں گے۔”

حیرت انگیز طور پر مسٹر تناکا نےاس ملاقات سے قبل پرجوش آواز میں موکلوں کے ساتھ کام کرنے کے اپنے طریقِ کار کے بارے میں بتایا تھا۔ مگر کیا یہ نسخہ شیشے کی دیوار کے اس پار اپنی نگاہیں جھکائے، انگلیوں کے گرد دوپٹے کا پلو لپیٹتی اس لڑکی پر بھی کار گر ہو گا؟
“آج میرے ساتھ بات کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ میرا ارادہ ہے اگلے منگل کے روز پھر چکر لگاؤں۔”
لیلیٰ سے بات کرتے ہوئے مسٹر تناکا نے اس کے عقب میں کھڑے سپاہی کی جانب دیکھا، جیسے تصدیق چاہ رہے ہوں، کیا یہ ٹھیک ہے۔
“بالکل! باہر ڈیوٹی پر موجود گارڈ کے پاس دراز میں اپنا نام اور وقت چھوڑ جائیں۔”
“شکریہ!” مسٹر تناکا اٹھ کھڑے ہوئے اور کچھ بڑبڑائے۔
سپاہی نے لیلیٰ کو اشارہ کیا اور کمرے کا عقبی دروازہ کھولا۔ وہ ایک لفظ بولے بغیر کھڑی ہوئی اور ہمارے طرف دیکھے بغیر دروازے کے پیچھے غائب ہو گئی۔

ہمارے پیچھے کھڑے سپاہی نے ہمارے دروازے کا تالا کھولا، تھوڑی دیر بعد ہم اس امانت خانے میں تھے، جہاں ہم پہلے آئے تھے۔ ہمارے موبائل اور چابیاں میز پر موجود تھیں۔ ہم نے اپنا سامان وصول کیا اور رجسٹر پر رسید دی۔ مسٹر تناکا نے مجھے اسٹیشن تک پہنچانے کی پیشکش کی۔ ہم دونوں عمارت سے اکٹھے نکلے اور ان کی کار میں بیٹھ گئے۔باہر نکلنے سے قبل صدر دروازے پر آخری مرتبہ تلاشی کے مرحلے سے گزرے۔ جہاں عقبی آئینے میں ہمارے پیچھے دیوار پر چمک دار روشن حروف میں کندہ “بارڈر ایجنسی” کا عکس دکھائی دے رہا تھا۔

مسٹر تناکا نے مجھے اسٹیشن چھوڑا لیکن میں اسی وقت گاڑی میں سوار نہیں ہوئی۔ دن کے باقی حصے میں میری کوئی مصروفیت نہیں تھی۔ اس کا مطلب نہیں کہ میں جو چاہے کر سکتی تھی، لیکن میں واپس یونی ورسٹی نہیں جانا چاہتی تھی۔ مجھے تو بس بارڈر ایجنسی سنٹر کے کے باہر تازہ ہوا میں سانس لینے کی طلب تھی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا چناں چہ سٹیشن کے وسیع شاپنگ مال میں لوگوں کا ہجوم تھا، طالب علم جو اپنی کلاسز سے جلد فارغ ہو گئے تھے، دیہاڑی دار جن کے پاس جن کے پاس کرنے کچھ زیادہ نہیں تھا اور نوکری پیشہ افراد کھانے کے ٹھکانے دیکھ رہے تھے، خانہ دار خواتین سپر مارکیٹ میں سودا سلف خرید رہی تھیں۔

صرف چند میل دور واقع تاریک، خوف ناک بارڈر ایجنسی سنٹر کی دنیا یہاں سے بالکل مختلف تھی۔ مصروف سٹیشن، روشن اور فراخ مصروف تھا، جس میں ایک چھوٹا باغیچہ اور پلے ایریا بھی تھا۔ ہر جانب مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرانے والے اسکولوں اور انگریزی سکھانے والےکالجوں کے اشتہارات لگے ہوئے تھے۔ مختلف اقسام کے اتنے اسکول کہ یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ یہاں سے تھوڑے فاصلے پر کوئی ایسی لڑکی ہےجو اپنی مادری زبان بھی پڑھ اور لکھ نہیں سکتی۔ وہاں ایزاکائس ، کراووک بار اور وڈیو گیمز سنٹر کے بورڈ آویزاں تھے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں لیلیٰ نے سنا تک نہیں تھا۔ اس نے تو کبھی ہینڈ کریم بھی استعمال نہیں تھی۔

میں ایک چھوٹی کافی شاپ میں گھس گئی، کافی کا آرڈر دیا اور کھڑکی سے قریبی نشست پر بیٹھ گئی۔ بھنی ہوئی کافی کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ کافی اتنی گرم تھی کہ اس وقت گھونٹ بھرنا مشکل تھا، اس کے تھوڑا ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرتے ہوئے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔ وہاں پرسکون ماحول میں بیٹھے ہوئے میں حقیقت کی دنیا میں واپس پہنچ گئی۔ حقیقت کی وہ دنیا، جہاں میں ایک خوش حال ملک میں رہ رہی تھی۔ میں نے کافی کا مگ اٹھایا اور اسے اپنے ہونٹوں کے قریب لائی۔ اس کی مہک لاجواب تھی۔

Categories
فکشن

ایک نا مختتم یکایک کے آغاز کا معمہ (جیم عباسی)

موتی نے سرخ پھولدار اور ریشمی کپڑے سے بنی،روئی سے بھری،پتلی اورچوکورگدیلی دیوار پر جھاڑ کر پہیےدار کرسی کے تختے پر پٹخی مگرگدیلی پر پڑےمیل کچیل کے کالے چکٹ جھاڑنے سے لا پرواہ، کپڑے سےناسور کی طرح چمٹے رہے۔موتی نے آگے کھسکتے ہوئے کرسی گاڑی کو پچھلی ٹانگ سے پکڑ ا اور گاڑی کو دھکیل کر دو قدمچے نیچے سڑک تک پہنچانے کی کوشش کی۔گاڑی عدم توازن کا شکار ہو تی،قدمچوں سےدھڑدھڑاتی سڑک پر آگے کھسکتی گئی۔قدمچوں اور کرسی گاڑی کا درمیانی فاصلہ جانچ کر موتی نے دروازے کے بیچ لگی کنڈی کو بند کر کے تالا لگایا۔خودکودونوں ہاتھوں کے بل گھسیٹ کر بازو کرسی کے ہتھوں پر جمائے اور جسم کواونچا اٹھاتے پہیے دار کرسی پر پڑی میل کچیل کے چکٹوں والی گدیلی پر رکھ دیا۔روز کا معمول ہونے کے باوجود اس مشقت نےموتی کوتھکا دیا۔ اب وہ وقت تھا کہ کپڑے بدلتے ہوئے بھی تھکن ہوجاتی اور نڈھال کر دیتی۔ سانس کے ٹھیرجانے کے بعد اس نے دھڑ کے نچلے حصہ کو ادھر ادھر کرکے گدیلی کا نرم حصہ جانچا اور جسم کو آرامدہ جگہ محسوس کرنے کے بعد پہیے دار کرسی کو دھکیلنے والی چرخی کے ہینڈل کوسیدھے ہاتھ سے گھماتا سینما والی گلی سے چمن بزار کی طرف بڑھنےلگا۔ابھی بہت سویرپن تھی۔نیم اندھیرا۔مگر پھر بھی جانے کیوں ملا کی آذان سے پہلے موتی کی نیند ٹوٹ جاتی تھی۔پہلے پہل تو وہ دیر تک پڑا اینڈتا تھا۔آذان کی آوازتک اس کے کان میں مچھر کی طرح بھنبھنا پاتی تھی۔اب یوں کہ آخری پہر کےآتےسحر خیز مرغے کی مانند اٹھ بیٹھ جاتا۔ چمن بزار کے قریب ہوتے سوچ آنے لگی وہ اس سویر جائے گا کدھر؟ہوٹل پر۔پر چائے والے نے ہوٹل کھولا ہوگا کہ نہیں؟ابھی تو سورج بھی خوفزدہ چوہے کی طرح دبکا پڑا ہے۔لیکن بھلا وہ پڑے پڑے کتنی کروٹیں بدلے؟ نذو لنگڑے کے چلے جانے کےبعد اس سےاکیلے گھر بیٹھا نہ جاتا تھا۔ ہینڈل گھماتاموتی کا ہاتھ بلا ارادہ آہستہ ہوتا گیا۔ گاڑی کی رفتار سست ہوتی گئی۔گاڑی کا ایک پہیہ لہرائے جا رہا تھا۔اسی لہرانے سے موتی کو نذو لنگڑے کی یاد آنےلگی۔نذو لنگڑے کی دونوں ٹانگیں کمزور تھیں۔جیسے ان میں ہڈیاں ہی نہ ہوں۔ خالی گوشت سے بنی۔ان لچکتی ٹانگوں کے بل چلتے نذو لنگڑے کا جسم عجیب فحش انداز میں مٹکتا تھا۔موتی کو ایک بات یاد آگئی۔ایک دن موج میں موتی نے نذولنگڑے سے پوچھ لیا تھا

“ابے لنگڑےیہ تو جھٹکے لے لے کر سارا دن کس کو چو۔۔۔رہتا ہے؟”۔
“اپنی قسمت کو اور کس کو ب۔۔۔۔” نذو لنگڑے نے سانپ کی طرح بل کھا کر گالی دی تھی۔

” شکر نہیں کرتا کنجر چ۔۔تو رہا ہے” جواب دیتے موتی کے حلق سے بے اختیار قہقہہ ابل پڑا تھا۔ تب نذو لنگڑا لچکتا اس کے منہ پر لعنت رکھنے آیا تھا اور موتی نے کرسی گاڑی بھگا کر اپنی جان بچائی تھی۔اس یاد کے آتے ہنس پڑنے سے موتی کے کھلے منہ کے اوپری ہونٹ کے دونوں کناروں اور گالوں کے درمیاں لکیرمزید گہری ہوگئی۔نذو لنگڑے سے موتی کی لگتی بھی بڑی تھی اور رہتے تو وہ کٹھے تھے۔اسی ایک کمرے میں جس سے آج کل موتی اپنے نکالے جانے کی فکرمیں پستا رہتا۔ان دنوں موتی کو یوں گھسٹ گھسٹ کر کرسی گاڑی قدمچوں سے کھسکانی نہیں پڑتی تھی۔نذو لنگڑا گاڑی کو گھر سے سڑک،سڑک سے گھر میں رکھتا۔ موتی کو اس پر جم جانے میں مدد کرتا۔پتا نہیں حرام زادہ بنا بتائے کہاں چلا گیا؟اب موتی ڈھونڈے تو کہاں؟چند ایک دن تو اس نے واپسی کی آس سجائے رکھی۔ جب وہ ٹوٹی تب موتی نےکرسی گاڑی کے پیچھے شہزاد پنٹر سے لکھوادیا “کوئی کسی کا نہیں”۔

چمن بزارپہنچ کر موتی نے دکھن کا رخ کیا۔بزار کے اوپر میلی ترپالوں اور پرانےشامیانوں کے سائبان نے اندھیر اکر رکھا تھا۔اس اندھیر پن میں ساری بزارسرنگ بنی ہوئی تھی۔کہیں کہیں جلتے زرد بلبوں کی پیلاہٹ میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور مڑے تڑے کاغذ ہوا کے زور پر اپنی جگہیں بدل رہے تھے۔بزار پہنچ کر سڑک اوبڑ کھابڑ ہوگئی۔دکاندار لوگ صفائی کرکے کچرا سڑک پر پھینک دیتےتھے۔پھر اس کا کچھ حصہ جمعداروں کے جھاڑو سمیٹتے اور کچھ سڑک سے لپٹا رہ جاتا۔ وہی گند،مٹی اور پانی کا سہارا لے کر چھوٹے موٹے انسان کی طرح اپنی جگہ بنالیتا۔تب جمعداراور جھاڑو بھی ان کا بال بیکا کرنے سے قاصر ہو جاتے۔ان اوبڑ کھابڑوں کے ساتھ گندکچرے کی دھیڑیاں بھی تھیں۔ ابھری ہوئی۔جیسے اونٹ کے کوہان ہوتے ہیں۔یا ان سے تھوڑا مختلف۔ ایک ڈھیر میں سے سڑتے ٹماٹروں کی بو موتی کے نتھنوں میں گھسی۔ہتھ گاڑی چلاتا موتی کا ہاتھ تیز ہو گیا۔رجب قصائی کے تھڑے کے پاس خون کی بساند تھی۔اسی جگہ آوارہ کتےمرغی کے پروں اور انتڑیوں میں تھوتھنیاں گھمارہے تھے۔موتی کا ہاتھ تھکنے لگا۔اس نےتھوڑا آگے گاڑی لدھا رام جنرل مرچنٹ کے دکان پر روک دی۔پر اب لدھا رام کہاں؟اب تویہ مجاہد جنرل اسٹور ہے۔یہ سب یکایک کیسے ہو گیا؟ اس خیال کے آتے موتی کی زبان پر لفظ”یکایک” پھنس گیا۔زبان تانگے میں جتے گھوڑے کی ٹاپوں کی طرح” یکا،یک” کو دو حصوں میں دھرانے لگی۔یادیں عبد الحق ساند کے گایوں کے ریوڑ کی طرح اچھلتی ٹاپتیں موتی کے اندر آگھسیں۔آگے پیچھے،بے ترتیب و بے مہار۔اسے لدھارام کےدکان کے آگے بنا چھپر یاد آنے لگا۔تب اس بزار کا راستہ سیدھااور یکساں تھا۔روز پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تو سڑک پر درخت کھڑے جھومتے رہتے۔ دواطراف قائم دکانیں ایک دوسرے سے دوردور تھیں۔اب کی مانند قبر کے کناروں کی طرح پسلیاں نہیں توڑتی تھیں۔ بزار کےاوپر نیلا آسماں دمکتا تھا۔موتی کو چاچا محمد پناہ کے ہاتھ سے بنی گلقند والی چائے کی یاد آئی۔وہ کبھی کبھی چائے پینے لدھا رام والےچھپر کے نیچے آٹھیرتا۔یہ چھپر جیسےدکان کا صحن تھا۔ اس میں پڑی بینچ پر کوئی نا کوئی بیٹھنے والا دکان کےاندرموجود لدھا رام سے حال احوال کر رہا ہوتا۔سردیوں کی اس شام جب وہ یہاں پہنچا لدھارام ایک تغاری میں آگ جلوائے اپنے ہاتھ تاپ رہا تھا۔ ابھی موتی سے حال احوال ہو رہا تھا کہ آخوند صاحب آپہنچے۔یہاں پہنچ کر موتی کی یادیں گڑبڑا گئیں۔آخوند صاحب کا اصل نام اس نے یاد کرنا چاہامگر اس وقت اسے اپنا اصل نام بھی یاد نہیں آرہا تھا۔ہاں یہ یقین تھا جیسے سارے اسے موتی بلاتے تھے، شہر بھر انہیں آخوند صاحب کہتا تھا۔سن پینتالیس پچاس کے لگ بھگ۔دبلے پتلے۔لمباسا قد۔شانوں پر بکھری زلفیں اور بڑھائی ہوئی قلمیں۔داڑھی مونچھ صفا چٹ۔بوسکی کی قمیص اور سفیدلٹھے کی شلوار۔یہ تھے آخوند صاحب۔ان کا کپڑا لتا،کھانا پینا سب شہروالے کرتے تھے۔رہائش ڈاکٹر سبحان علی شاہ کے بنگلےمیں۔موتی کو یاد نہ آیا کہ آخوند صاحب کس کے بیٹے تھے۔ بس اسی بنگلے کی نچلی منزل میں آخوند صاحب کے ساتھ والے کمرے میں ڈاکٹر صاحب کی اسپتال تھی۔ڈاکٹر صاحب اوپر ی منزل پر رہتے تھے۔ موتی کو یاد آیا شاید ڈاکٹر سبحان شاہ کے بڑے یا چھوٹے بھائی ہوں۔لیکن اس خیال پر موتی کو یقین نہ تھا۔اور ہاں ڈاکٹر سبحان شاہ تھے تو ڈاکٹر مگر ان کی اسپتال میں ہمیشہ کمپوڈر بیٹھا ہوتا۔ ان کو اپنی اسپتال میں موتی نے کبھی بیٹھا نہ دیکھا۔ وہ اوپر اپنے گھر پر ہی ہوتے۔ جب کوئی مریض آیا،کمپاؤنڈرنے گھنٹی دبا ئی،ڈاکٹر صاحب اسی لمحے سیڑھیاں اتر آپہنچتے۔مریض دیکھ کر اس کی دوا درمل کرتے۔اور پھر جھٹ سے اوپر چڑھ جاتے۔مریض سے پیسےتک کمپاؤنڈر لیتا رہتا۔ انہیں اپنی بیوی سے عشق تھا۔اس کے بغیر رہ نہ پاتے۔ان کو شہر بھر “زال مرید” کہتا۔خود بولتے “کچھ سمجھ نہیں آتا قبر میں اس کے بغیر کیسے رہ پاؤں گا۔”اپنے بڑے بیٹے کو وصیت کی ہوئی تھی”خبردار جو ان ملا مولویوں کی بات پرمیری قبر کچی بنوائی۔یاد رکھناباہر نکل آؤں گا۔”

آخوند صاحب پر نظر پڑتے ہی سیٹھ لدھارام اٹھ کھڑا ہواتھا۔

“شائیں بھلی کرے آیا،بھلی کرے آیا”۔لدھا رام نے اپنی کرسی خالی کر کے آخوند صاحب کو بٹھایا اورخود سامنے پڑی لکڑی کی بینچ پر جا بیٹھا۔
“اباپٹ نور محمد۔ جا۔جا بابا ایک اور گلقند والی چائے بول آ۔چاچا پناہ کو بتانا خاص آخوند صاحب کے لئے ہے۔ایسا کر تو موتی اور میرے لئے بھی لے آ۔دل کرے تو اپنے لئے بھی بول دینا۔آج آخوند صاحب کے ساتھ ہم بھی عیش کرتے ہیں۔”لدھا رام نے دکان پر کام کرنے والے لڑکے کو روانہ کیا۔
“سائیں لدھارام آج ارادہ کیا تمہارے پاس آکر تمہیں عزت دیں اور دو باتیں بھی کرلیں گے “۔آخوند صاحب لدھا رام سے بولے۔

“شائیں آج توقرب کر دیا آپ نے۔ میرے بھاگ شائیں”۔موتی کی یادداشت کی تختی پر وہ منظر صاف ابھر آیا۔لدھارام کی باتیں سنتے آخوند صاحب ہلکی مسکان میں سر ہلاتے جا رہے تھے۔ لدھا رام جھک کر آخوند صاحب کے قریب ہوا۔

“شائیں دو دن پہلے ایک جوڑا خرید کر پریل درزی کو دے آیا تھا”۔
“ہاؤلدھا رام خمیسو دھوبی کپڑے لایا تھا تو اس نے بتایا تھابابا۔”
“شائیں وہی بوسکی۔میں نے کہا آپ کو اور کپڑا پسند نہیں،شائیں میں خود لینے گیا تھا۔”لدھا رام نے بات کی اخیر کرتے دونوں ہاتھ آخوند صاحب کے سامنے جوڑے۔

“اچھا کیا میاں لدھارام۔اور سنا پٹ۔تکلیف تو نہیں کوئی؟”۔آخوند صاحب بیچ جملے میں موتی سے مخاطب ہوئے۔
“نہ ابا نہ۔آپ کے ہوتےہمیں کوئی دکھ تکلیف پہنچی گی؟خیر ہی خیر”۔موتی کے دونوں ہاتھ جڑے تھے۔
“ہاں شائیں موتی بیچارے کی بات برابر ہے۔آپ کے ہوتے ہمیں کیا فکر”۔
“ادا لدھارام وہ شمشاد مٹھائی والے نے تمہاری ادھار چکادی بابا؟”۔

“آخوند شائیں ادا شمشاد کے وعدے کو مہینہ اوپر ہوگیا ہے۔پر شائیں مجھے حیا آتی ہے کہ اس سے پوچھنے جاؤں۔ہوگا بیچارہ کسی مشلے میں “۔
“میاں لدھا رام تم نے عزت داروں والی بات کی ہے۔شمشاد کل میرے پاس آیا تھا۔ اس سے دیر سویر ہوگئی ہے۔کہہ رہا تھا اب تو مجھے تو ادا لدھارام کے دکان کے سامنے گذرتے شرم آتی ہے۔ایک ہفتے میں چکادے گا بابا”۔

“نہ شائیں نہ۔ہماری اپنی بات ہے۔کیا میں کیا ادا شمشاد؟چھ بیسوں(بیس روپے) کی تو بات ہے۔اورشائیں کچھ دن پہلے وڈیرابھورل آیا تھا۔بتا رہا تھا کہ آپ اس کے بیٹے کی نوکری “۔لدھارام نے آدھی بات پر جملہ ختم کردیا۔موتی کو دکھ لگ گیا۔وڈیرا بھورل آیا اور مجھ سے ملے بغیر چلا گیا۔وڈیرے بھورل سے میل ملاپ کا چھوٹا بڑا منتظر رہتا تھا۔جب وہ اپنے گاؤں سے شہر آتا تو گھوڑا مختیار کار آفیس میں باندھ کر پہلے ساری بزارکا چکر لگاتا۔ اور ہر ایک سے مل ملا کر، خیر خیریت دریافت کرکے پھر اپنے کام دھندھے کی فکر کرتا۔اس کے حالی احوالی ہونے کا انداز اتنا نرم اور میٹھا تھا کہ موتی کو کبھی شمشاد مٹھائی والے کی جلیبیاں اتنی میٹھی نہیں لگیں۔ویسے وڈیرے بھورل کا سارا گاؤں اپنی مثال آپ تھا۔سب کے سب اشراف اور مہربان ہونے میں ایک دوجے سے بڑھ کر تھے۔ مگر وڈیرے بھورل سا بیٹا کوئی ماں کیسے جنے؟وڈیرےبھورل کی شرافت اور مٹھاس پن کا واقعہ موتی کی گدلی آنکھوں میں پانی لانے لگا۔ایک مرتبہ وڈیرے کے گھر ایک چور نے نقب لگالی۔مٹی کی موٹی دیوارکو رنبے سے کھودتے کھودتے چور کوفجر ہو گئی۔ تب وڈیرابھورل جو یہ سارا ماجرا دیکھ رہاتھا،چور کو رسان سے بولا” ابا اب تم جاؤ۔اب تو سورج بھی نکلنے والا ہوگا۔”بس چور روتادھاڑیں مارتا بھاگ نکلا۔اسی شام کو وہ سارے خاندان سمیت معافی کے لئے آپہنچا۔وڈیرا بھورل بھلا کیسے معاف نہ کرتا۔اوپر سے کھانا وانا کھلا کر ان کے غریبی حال پر اپنی بھوری بھینس بھی ان کے ساتھ کردی تھی۔

“سائیں وڈیرا بھورل تو ہم سے ملا ہی نہیں”۔موتی اپنے الفاظ کونکلنے سے روک نہ سکا۔
“ابا موتی وڈیرے کے مہمان آئے ہوئے تھے۔وہ مہمانداری کا سامان لینے آیا تھا۔بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ وڈیرا آئے اور کسی سے نہ ملے؟تو بھی صفا چریا ہے”۔
“ہاؤ سائیں بات تو حق کی ہے”۔موتی ہلکا پھلکا ہوگیا۔پھر اسے خود پر غصہ آنے لگا یہ وڈیرے بھورل کے بارے میں اس نے ایسے منہ پھاڑ کر کیسے بول دیا؟۔
“میاں لدھا رام اپنے بھورل کا بیٹا شہر پڑہ آیا ہے۔اب ہم نے سوچا اپنا بچہ ہے۔اپنے اسکول میں اچھی پڑھائی کروائے گا۔ ہے کہ نہیں؟”
“شائیں بلکل بلکل۔اس کی نوکری کب کروا رہے ہیں ؟”۔

لدھارام اس کی نوکری ہوگئی ہے بابا۔تمہیں سب پتا ہے ڈی سی صاحب سے ہمارے کتنے واسطے ہیں۔پر صرف ڈی سی کیا۔اوپر تک ہماری پہنچ ہے۔اب ڈی سی صاحب ہمیں کوئی جواب دیتا؟پر نہ۔ڈی سی صاحب اپنے ماسٹر منظور کا پرانہ واسطے دار ہے۔ہم نے سوچا خود ڈی سی کے پاس چلے جائیں تو ماسٹر منظور سوچے گا ہم نے اسے پھلانگ کر راہ بنالی۔سو اس کو لے کر گئے تھے اور ماسٹری لے کر آگئے”۔

“وہوا شائیں وہوا۔شائیں آفرین ہو۔ بڑا خیال رکھتے ہیں آپ اپنے شہر کا۔”۔
“لدھا رام بابا اپنا شہر ہے۔ہمیں ہی کرنا ہے”۔
شائیں برابر۔غریب شاہوکار سب آپ کو دعائیں کرتے ہیں”۔
“کرنی بھی چاہییں بابا۔یہ کام وام ایسے ہی آساں تھوڑی ہیں”۔
“صدقے صدقے۔سائیں میرا مالک مکان بھی بڑا نیک مرد ہے۔سائیں اس پر بھی شفقت کی نظر”۔موتی کے الفاظ دل سے نکل پڑے۔
“بابا موتی ہم نے بھلا کبھی کوتاہی کی ہے”۔
“نہ بابا نہ۔توبہ توبہ۔ایسےنہیں سائیں۔وہ ہمارا بڑا لیحاظ رکھتا ہے”۔
“بابا لدھا رام اپنے موتی کو ہماری طرف سے آٹھ آنے دیدو”۔
“بابا ویسے بھی آپ کا کھاتے ہیں۔ “۔موتی آٹھ آنے لیتے ہوئے بولا۔اتنے میں گلقند والی چائے بھی آگئی اور ساتھ ہوٹل کا مالک چاچا محمد پناہ بھی۔
“سائیں لڑکا چائے لینے آیا تو بتایا کہ آخوند صاحب بیٹھے ہیں۔میں نے کہا میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔”
“نہ محمد پناہ بابا نہ۔آؤ بیٹھو۔کوئی خیر خبر؟”
“سائیں آخوند صاحب حال احوال سب خیر۔وہ میونسپل والوں کو آپ نے کہہ دیا تو پھر وہ نہیں آئے۔اور سائیں حق انصاف کی بات تھی ان لوگوں کی۔ گلی میں بھینسیں باندھنے والا اپنا کام مجھے بھی ٹھیک نہیں لگا۔بس گھر کے ساتھ باڑا بنوا رہا ہوں۔بھینسوں کو وہاں رکھوں گا”۔
“کام تم نے اچھا سوچا ہے محمد پناہ پر میونسپل والوں کی بھی زورا زوری ہے۔ایسے تھوڑی ہوتا ہے کہ عزت دار کے داروازے پر جا پہنچے۔اگر ایسی بات ہے تو ہمیں کہیں۔ہم کس لئے ہیں؟۔ہم محمد پناہ کو سمجھا دیں گے۔اپنا آدمی ہے بھلا ہم سے باہر جائے گا؟کیوں میاں لدھا رام؟”۔
“ہاں شائیں ہوتا تو ایسے ہے۔ ہمارے شہر کی ریت رواج بھی یہ ہے کہ کوئی مسئلہ معاملہ ہو،خانگی سرکاری۔سب آپ کے پاس آتا ہے”۔
“بس بابا وہ بھی انسان ذات ہیں۔کبھی ایسے کبھی ویسے۔خیرمحمد پناہ تم دل میں نہ کرنا بابا”۔

“نہ سائیں نہ۔محمد پناہ دل میں برائی نہیں رکھتا آخوند صاحب”۔موتی کا تصور اسے کڑھے ہوئے دودھ کی گاڑھی چائے میں گلقند کے تیرتے ذرات کی جانب لے گیا۔اس کے منہ میں مٹھاس آگئی۔تا وقتیکہ اس نےٹھنڈی آہ بھر کر کرسی کی پشت سے لگے سر کو اٹھایا۔آنکھیں کھول کر ادھر ادھر جانچا۔یہاں وہاں کچھ نہ تھا۔لدھا رام اپنا دکان گھر سمیٹ کر کب کا کہیں چلا گیا تھا۔ موتی کے پاس نذو لنگڑے کی طرح لدھا رام کی بھی کوئی خیر خبر نہ تھی۔ بس وہ دونوں اسے یاد بہت آتے تھے۔ موتی نے کرسی گاڑی کے ہینڈل پر دباؤ ڈالا۔ گاڑی لہراتے چلنے لگی۔یہ لہراہٹ بھی کچھ دن پہلے کی تھی۔مالک مکان مولا بخش مرحوم کا بیٹا فضل تیسری بار کرایہ لینے آیا تب بھی موتی کے پاس کرایہ کی رقم پوری نہ تھی۔اب لوگ کہاں ہاتھ ڈھیلا کرتے ہیں۔پورا دن مانگ مانگ،جھولی پھیلاتے پھیلا تےموتی نیم جان ہوجاتا تب بھی شام تک اتنا مل نہ پاتا کہ اگلا سورج سکھ سے ابھرے۔وہ دن گم ہوگئے جب شہر کےلوگ بزار سے گذرتے موتی کو روک کردو آنے چار آنے دے جاتے تھے۔کبھی موتی کو جلدی ہوتی تودکان والے سے اگلے دن کا کہہ کرگاڑی آگے بڑھا جاتا۔بس دن راتوں میں بدل گئے۔اب تو فضل نے کرایہ نہ ملنے پر موتی کی کرسی گاڑی اٹھا کر سڑک پر پھینک ماری۔پھر موتی نے اپنے کفن دفن کے لئے رکھی رقم سے پیسے نکالنا ضروری سمجھا۔کرایہ تو پورا ہوگیا مگر گاڑی میں لہراہٹ آگئی۔بزار کے اوپر ٹنگے ترپالوں اور شامیانوں کے پھٹے سوراخوں سے روشنی کے لہریے بزار میں اترنے لگے۔جمعدار اور جمعدارنیاں لمبے لمبے جھاڑو سنبھالے سڑک بہارنے شروع ہوگئےتھے۔جھاڑؤں کی زرد تیلیاں جمعداروں کے چہروں کی طرح سسست سست بے جان انداز میں ادھرادھر رینگ رہی تھیں۔سمیٹی جانے والی گندگی کے درمیاں گذرتے موتی نے گرد و غبار کے ذرات کے دھندلکے میں بخشل کلاتھ اسٹور کا بورڈ دیکھا۔ٹین کی چادر کے بورڈ پر سرخ الفاظ میں بڑے بڑے الفاظ۔ اس دکان سے ایک ہفتہ پہلے موتی کو دھکے اور گالیاں پڑی تھیں۔ صبح کا وقت تھا اور ہمیشہ کی طرح اس نے دکان کے سامنے آواز لگائی تھی۔ “سائیں کا خیر،بادشاہ کا خیر۔ بابا اللہ کے نام پر موتی مجبور کو روپیہ دو۔”بس دکان کا مالک عبد الجبار دکان کی سیڑھیاں اترتا گالیاں دیتا آیا۔”ابھی کوئی گراہک نہیں آیا اور یہ حرامی آمرا۔نکل یہاں سے بے غیرت۔ ہم نے تمہارا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔”۔ اپنےقصور کی وجہ موتی کی سمجھ میں نہ آئی اور عبدالجبار کی غصہ میں بند ہوتی آنکھوں اور منہ پر پڑتی جھریوں کی وجہ بھی وہ سمجھ نہ پایا۔یہ عبد الجبار چاچا حسن کا بیٹا تھا۔ جب چاچا حسن اس دکان پر ہوتا تھا تب یہ چھوٹی سی دکان تھی۔موجودہ دکان کا ایک تہائی۔سفید داڑھی والا چاچاحسن اس پر بیٹھا ہنستا رہتا۔بچوں کو وہ ہمیشہ “او تمہاری نانی مر جائے کیا چاہیے تمہیں ” کہا کرتا تھا۔ اس کی دکان پر ناس نسوار سے بیڑی اور تمباکو تک،پراندوں سےلے کر ٹوپی میں کاڑہے جانے والے شیشوں اور موتیوں تک،آٹے دال سے تیل صابن تک ہر چیز مل جاتی تھی۔ شہر کا قریب ہر فرد ماما حسن کا کاہگ تھا۔اورصرف کاہگ نہیں بلکہ قرضی بھی۔ کیا مرد کیا عورت۔ عورتیں بزار نہ آسکنے کی صورت میں بچے کے ہاتھ مکھیاری “دیکھنے اور پسند کرنے کے لئے ” چیزیں منگوالیتی تھیں۔ جو پسند نہ آئی۔ واپس پہنچ جاتی۔ پیسے کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہ رکھتا تھا۔ بس ضرورت ہونی کافی تھی۔ بھلا کوئی آج تک پیسے ساتھ لے گیا؟۔ اگلے چاند یا اگلے فصل پر چاچا حسن کو پیسے پہنچ جاتے۔ موتی اور نذو لنگڑے تو روز کسی نہ کسی وقت اس کے ہاں پہنچ جاتے۔ پھر ان کا مذاق ہوتا۔ بڑا پد مارنے کا مقابلہ ہوتا جس میں چاچا حسن ان سے ہمیشہ جیت جاتا۔ موتی اور نذو لنگڑا چاند کے چاند ایک ایک بیسا چاچا حسن کے پاس رکھوا دیتے پھر ان پیسوں سے کبھی صابن تیل،کبھی نسوار بیڑی،کبھی موم بتی تو کبھی چاول یا چینی لیتے رہتے۔موتی کو لگتا تھاچاچا حسن سے ایک دو روپے کی چیزیں زیادہ ہی لے لی ہیں مگر چاچا ان سے حساب کہاں کرتا؟۔کبھی تو یوں بھی ہوا کسی مجبوری میں چاچا حسن سے پیسے مانگنے جا پہنچے اور اس نے دو چار روپے نکال کر رکھ دیے “بھئی سب پیسے اما نت ہیں۔ چاہو تو سارے لے جاؤ۔”چاچاحسن کی یاد پر موتی کی آنکھوں سےدو آنسولڑھک کر خالی جھولی میں آٹپکے۔اسے پھر خیال ستانےلگا یہ سب کچھ یکایک بدل کیسے گیا؟ کاش “یکایک”اس شہر میں بدروح کی طرح نہ اترتا۔ اس کی سوچوں میں غمزدگی ہربند کو توڑنےلگی۔ انگنت دائرے طواف کی ابتداکرنے لگے۔اختتام ہنوز منتظر۔

موتی کی کہانی ابھی جاری ہے مگر نذو لنگڑے کی کہانی اختتام تک پہنچ چکی ہے۔یہ تب ہوا جب بہت پہلے ایک شام، جس وقت سورج اپنا وجود خاتمہ کی نذر کرنے لگا تھا،اس وقت نذو لنگڑا تانگہ اسٹینڈ کے پاس گذر رہا تھا۔اسی چال میں۔ مٹکتا،جھٹکے لیتا۔ اس نے چار دیواری سے عاری تھانے کی پیلی عمارت کے آگے منظر دیکھا تھا اور اس منظر نے اسے وہیں گاڑ دیا۔چھڑکاؤ کی ہوئی مٹی پر ٹاہلی کے نیچے،تھانے کے سامنے باہر سے آنے والانیا تھانیدار ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے کرسی پر بیٹھا تھا۔آخوند صاحب اس تھانیدار سے ملنے ملانےگئے تھے۔ معمول کی طرح یہی کہنے اور سمجھانے۔ شہر میں کوئی فساد،جھگڑا یا جرم ہو آپ کو کسی کاروائی کی ضرورت نہیں۔بس آخوند صاحب کو آگاہ کردیں۔آخوند صاحب خود سنبھال لیں گے۔اور وہ سنبھالتے رہے ہیں۔یہ سنتے ہی باہرسے آنے والاتھانیدار غضبناک ہو کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔اور وہ آخوند صاحب کی زلفوں کو پکڑےایک دو تھپڑیں جڑ نے کے بعدسیفٹی ریزر سے آخوند صاحب کی زلفیں مونڈ وا رہا تھا۔تب نذو لنگڑے نے اپنے آپ کو وہاں سے آزاد کیا اور موتی کوخبر کئے بغیر چل نکلا۔ہو سکتا ہے اس نامختمم “یکایک” کایہی آغازہو۔ہوسکتاہے نہ ہو۔بھلا نذو لنگڑے جیسے بے وفا شخص کا کیا اعتبار۔

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 7 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

لال فیتہ شاہی کے چلتے ’’ایک پریوار، ایک کمرہ‘‘ کی سرکاری پالیسی نے کئی سارے ریفیوجی پریواروں کو پہلے کاغذ پر، پھر حقیقت میں توڑ ڈالا۔ ہمارا پریوار بھی اس کا شکار ہوا۔ یہاں آنے تک ایک گھر، ایک پریوار، زیادہ کشادہ جگہ حاصل کرنے کے چکر میں ٹوٹ کر تین گھروں میں بٹ گیا۔ اس بکھرتے پریوار کی مالی حالت بھی کنگالی کے کگار تک جا پہنچی تھی۔ یہاں تک آتے آتے کچھ دن سرکاری راشن کا آسرا رہا تو کچھ گھر کے برتن بھانڈے بیچ کر گزر ہوتا رہا۔ ہاتھ کی نقدی، زیور زٹا کچھ بھی باقی نہ بچا تھا۔ گھر کی غریبی کی اس حقیقت کو پریوار کا ہر فرد دل ہی دل میں محسوس کرتا تھا لیکن زبانی طور پر سویکار نہیں کرتا تھا۔ ہمیشہ خود کو دوسروں کی مثالیں دے کر بہتر بتاتے۔ اپنے سے زیادہ بدحال لوگوں کی باتیں کرتے ہوے اپنی غریبی کو ڈھارس بندھاتے رہتے۔ دادا پوری جان لگا کر گھر کی مالی حالت سدھارنے کی کوشش میں صبح سے کرائے کی سائیکل لے کر نکل جاتے تھے۔ اخباروں کے لیے رپورٹنگ کے بدلے ملنے والا پیسہ بہت کم تھا۔ پڑھے لکھے انسان ہو کر سڑک پر بھجیے [پکوڑے] یا شکر بیچنے میں جھجک تھی۔ سو اپنی بی اے کی ڈگری کی مدد سے ایک وکیل کے ساتھ کچھ دن کام کر کے، بنا ایل ایل بی والے وکیل ہو گئے۔ مگر سندھی وکیل کے پاس کیس کہاں سے آتے۔ اور آتے تو غریب سندھیوں کے، جو فیس کے نام پر دام کم اور دعائیں زیادہ دیتے تھے۔

اس ماحول میں بھی وکیل صاحب کے ادھار کے بھروسے کھانے پینے اور صاف ستھرے رہنے کے شوق کے چلتے کبھی کبھی باہر والوں کے ساتھ ساتھ خود گھر والوں کو بھی اپنی خوشحالی کا یقین ہونے لگتا۔ لیکن تقاضے کی بڑھتی آوازوں سے خواب ٹوٹ جاتا۔ گھر کے دوسرے مرد بھی ہر دن کمائی بڑھانے کی نئی نئی تجویزوں پر بات کرتے۔ کچھ پر عمل کرتے۔ کبھی کامیاب، کبھی ناکام ہوتے۔ اِدھر مہیلائیں اپنی اپنی طرح سے اسی دِشا میں کام کرتیں۔ ماں اور اس کی بہنیں کپڑے سیتے وقت تو ہنستے بولتے، قہقہے لگاتے کام کرتیں لیکن اکیلے ہوتے ہی غریبی، بھوت کے سائے کی طرح پیچھے لگی ہی رہتی۔

ماں نے ایک دن تاج محل میں رہنے والی اپنی ایک سہیلی شیلا کے تیزی سے بدلتے حالات کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ معمولی سے ٹھیکیدار کے منشی سے اس کا باپ ٹھیکیدار ہو گیا۔ اپنا گھر بھی بنا لیا۔ ایک ایمبیسیڈر کار بھی خرید لی۔ ڈرائیور بھی رکھ لیا۔ بھوک کو ٹھینگا دکھا کر گھر میں دعوتوں کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ ایک دن شیلا اپنی کار سے ماں کو اپنے گھر بھی لے گئی۔ اس کی خوشحالی دیکھ کر ماں کو رشک ہوا۔ بات چیت میں شیلا نے گھر میں لگا ایک بڑا سا پھلتا پھولتا منی پلانٹ دکھایا۔ مذاق مذاق میں یہ بھی کہہ دیا که یہ پودا ایک بوتل میں تاج محل والے گھر میں لگایا تھا، یہاں آ کر خوب پھل پھول رہا ہے۔ ماں نے اسی دن اس کے گھر سے ایک شاخ توڑ کر، آ کر اپنے گھر میں لگا لی۔ ایک بوتل میں۔ ہر دن صبح اٹھ کر سب سے پہلے پودے پر نظر ڈالتی۔ اکثر ہمیں بلا بلا کر دکھاتی، ’’دیکھو بڑھ رہا ہے نا؟ یہ دیکھو ایک نیا پتّا نکل رہا ہے۔‘‘

خدا جانے کیوں اور کیسے، ماں کا یہ منی پلانٹ کبھی سرسبز نہ ہوا۔ کبھی دھوپ میں، کبھی ایک دم چھاؤں میں۔ کبھی مندر کے پاس۔ پر جو وہ نہ پنپا تو نہ پنپا۔ محلے کی عورتوں میں اس کو لے کر ایک چھیڑ بھی بن گئی۔ طنز بھرے انداز میں ماں سے دریافت کرتیں، ’’کیسا ہے تمھارا منی پلانٹ؟‘‘ پھر خود ہی آگے بڑھ کر اس دم توڑتے چار پتے والے پودے کو دیکھ کر صلاح دیتیں، ’’پانی بدلو اس کا، پانی گندا ہو گیا ہے۔‘‘ کوئی صلاح دیتا، ’’اسے زمین میں لگاؤ۔‘‘ اور سب سے لاجواب صلاح یہ تھی که ’’دیکھو کرشنا، یہ مانگے کا پودا ہے۔ مانگ کر لایا ہوا پودا نہیں پنپے گا۔ اسے تو چپ چاپ چوری سے کسی اچھے پنپے ہوے گھر سے توڑ کر لگاؤ، تبھی پنپتا ہے۔‘‘

اس منی پلانٹ کی وجہ سے گھر کی غریبی پر تو کوئی اثر نہ پڑا البتہ ماں کا مذاق بنانے والی تین چار عورتوں کے گھروں میں منی پلانٹ کی لٹکتی بوتلیں ضرور نظر آنے لگیں۔ کچھ کی بیل بھی بنی، پر اس بیل کے باوجود ان گھروں میں جینے کے لیے ہر روز بیلے جانے والے پاپڑ کبھی بند نہ ہوے۔ سلائی مشینیں کبھی نہ رکیں۔

حویلی کے ان آٹھ پریواروں کے مرد ہر روز صبح صبح گھروں سے نکل پڑتے تو گھر کی عورتیں کام کرتے کرتے کفایت شعاری سے جیون کو بہتر بنانے کے اپنے اپنے تجربے ایک دوسرے سے بانٹتیں۔ نتیجہ یہ که کپڑے تو پہلے ہی گھر پر دھلتے تھے لیکن اب صابن بھی گھر پر ہی بننے لگا۔ شہر بھر میں گھوم گھوم کر پاپڑ بیچنے والی ساوتری مائی ہر دوسرے چوتھے دن کوئی نیا آئیڈیا لے کر آتی اور پوری حویلی کی کشش کا مرکز بن جاتی۔ اس دور کے چلن کے مطابق ساوتری مائی کو اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے بیٹے گھنشیام عرف ’گنو‘ کے نام سے جوڑ کر ’گنو ماؤ‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اس کا مطلب تھا، گنو کی ماں۔

ایک دن یہی ساوتری مائی بڑی زبردست خبر لائی۔ سب سے پہلے اپنے گھر گئی اور ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی لی۔ پھر دھیرے سے ایک ایک کر سب کو بالٹی لے کر چلنے کی دعوت دی۔ یہ دعوت تھی گھر سے کچھ دور منگلوارا میں نئے نئے کھلے صابن کارخانے کا صابن والا پانی لانے کی دعوت، جسے کارخانے والے پائپ کے ذریعے پیچھے بنے نالے میں بہا دیتے تھے۔ اب یہاں آئیڈیا یہ تھا که کپڑے دھونے کے لیے صابن خرچ کرنے کے بجاے صابن کے اس پانی کا استعمال کیا جائے جو مفت میں مل رہا ہے۔

محلے بھر کی عورتوں کے چہرے یکایک کھل اٹھے۔ اس طرح کی مفت یا سستے کی جگاڑ سے یہ چہرے ہمیشہ ہی چمک اٹھتے تھے۔ انھی کوششوں کے نتیجے میں چولھا جلانے کے لیے ضروری ایندھن کو لے کر بھی کئی کامیاب ناکام تجربے ہو چکے تھے۔ سب سے پہلے جلاؤ لکڑی کے بجاے لکڑی کٹائی کے دوران پیٹھے پر اِدھر اُدھر بکھرنے والے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں (چھپٹیوں) کا استعمال۔ کافی سستی پڑنے والی ان چھپٹیوں کو کسی ٹوکری یا تگاڑی میں پورے پیٹھے میں گھوم گھوم کر خریدار کو خود ہی بیننا پڑتا تھا۔ پھر انھیں بڑی لکڑی کے بیچ پھنسا کر چولھے سلگائے جاتے تھے۔ کچھ گھروں میں لکڑی کے بھوسے سے جلنے والی لوہے کی سِگڑیاں بھی آ گئی تھیں۔ اس بھوسے کے لیے انھیں چھاؤنی میں آباد آرا مشینوں کے چکر لگانے پڑتے تھے، جبکہ چھپٹیاں محلے میں ہی تین تین پیٹھوں سے مل جاتی تھیں۔

سٹیشن کے پاس رہنے والی میری بوا کے لڑکے گرمُکھ اور جےپال ریل پٹریوں سے سٹیم انجن سے گرنے والا کوئلہ بین کر لے آتے تھے۔ کوئلہ بیننے کے دوران ہونے والی مشکلوں، لڑائی جھگڑوں اور پولیس کے پنگوں کی کہانیاں سن سن کر کوئلہ بیننے کو من بہت للچاتا تھا، لیکن ماں اسے چوری بتاتی تھی جو پاپ ہو جاتا ہے۔ سو بس ایک بار کے بعد پھر کبھی نہ گیا۔ آج ساوتری مائی ایک نئی رومانچک کھوج لے کر آئی تھی۔ اس دن بس دو اور گھروں سے گنو کی اس امّاں کے ساتھ لوگ بھری دھوپ میں بالٹیاں بھرنے نکلے۔ اب حویلی میں نل ایک ہی تھا۔ سو جس گھر کو کپڑے دھونے ہوتے، وہ شام میں ہی اس ارادے کا اعلان کر دیتا که کوئی اور کپڑے دھونے کی تیاری نہ کر لے، کیونکہ نہانے دھونے اور پینے کا پانی بھرتے بھرتے ہی نل بند ہو جاتے تھے۔ غنیمت یہ تھا که ان دنوں شام کو ایک بار پھر پانی آتا تھا که جس سے کسی ایک گھر کے کپڑے دھل پاتے تھے۔

اب تک حویلی میں کپڑے دھونے کے لیے رات میں ٹین کے بڑے ڈبوں میں پانی کے ساتھ کاسٹک سوڈا اور صابن کے چُورے کو ملا کر کپڑے ڈال دیے جاتے تھے۔ چھوٹے کپڑوں کے لیے آنے دو آنے میں ملنے والے مالتی گھی کے خالی ڈبے اور بڑے کپڑوں کے لیے بال وہار کے لوہاروں کے بنائے گئے ٹین کے بڑے ڈبے استعمال ہوتے تھے۔ دھوبی کی بھٹی کی طرح آنگن کے ایک کونے میں بنی سِگڑی پر خوب اُبال آنے تک گرم کیا جاتا تھا۔ ایک ڈبا ابل گیا تو دوسرا یا تیسرا۔ اس نئی کوشش کا مطلب تھا صابن کے چورے کا خرچ بچانا۔ اگلے دن جب ساوتری مائی موگری سے پیٹ پیٹ کر کپڑے دھو رہی تھی تو اسکی آواز کی طرف حویلی بھر کے سارے گھروں کی عورتوں کے کان لگے ہوے تھے۔ بیچ بیچ میں اپنا کام چھوڑ کر بھی کوئی کوئی دیکھنے چلا جاتا که کپڑے دھل کیسے رہے ہیں۔ آخری نتیجہ تو بہرحال کپڑے سوکھنے کے بعد ہی آنا تھا۔

ساوتری کی یہ کوشش خاصی کامیاب رہی۔ حالانکہ سب مہیلائیں ایک رائے نہیں تھیں که کپڑے ایک دم صاف دھلے ہیں لیکن اس بات پر سب سہمت تھے که بچت اچھی ہو جائے گی۔ اس اکیلی بات نے دھیرے دھیرے سب کو کوئی ڈیڑھ دو فرلانگ کی دوری پر صابن کارخانے کے نالے سے بالٹیاں بھر کر لانا سکھا دیا۔ ایک دن جب میری باری آئی تو میرے ساتھ میرا وہی دوست للّن بھی گیا، جس کی بہن سے پہلے جھگڑا ہوا تھا اور پھر وہ میری بہن بن گئی تھی۔

للّن بہت تیز دماغ تھا۔ وہ بھاگ کر گھر گیا اور خاصا موٹا اور مضبوط بانس لے آیا۔ دونوں بالٹیوں کو بانس کے بیچ ڈال کر ہم دونوں گاتے مسکراتے چل پڑے صابن فیکٹری کی طرف۔ ایک سرا میرے ہاتھ اور دوسرا للن کے ہاتھ میں۔ میں للن کی اس ہوشیاری سے بہت خوش تھا۔ میری یہ خوشی نہایت وقتی ثابت ہوئی۔ کارخانے کے پچھواڑے پہنچے تو دیکھا که نالے کے پاس ڈنڈا لیے ایک آدمی بٹھا دیا گیا تھا۔ پائپ کا پانی جمع کرنے کے لیے ڈرم رکھے ہوے تھے۔ ڈنڈے والے آدمی نے ہماری بالٹیاں دیکھتے ہی للکارا: ’’پیسے لاؤ ہو؟‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا، ’’پیسے؟‘‘
وہ بولا، ’’ہاں، پیسے۔ جاؤ جاؤ پیسے لاؤ۔ نہیں تو چلتے نظر آؤ۔‘‘

للن مجھ سے عمر میں دو ایک سال بڑا تھا۔ بات بات پر تھوک کو پچکاری کی طرح استعمال کرتا اِدھر اُدھر پھینکتا رہتا تھا۔ اور غصہ آ جائے تو اس کی رفتار ایک دم بڑھ جاتی تھی۔ اس گھڑی بھی یہی ہوا۔ ایک پچکاری چھوڑکر بولا، ’’چلو خاں لالو، یاں تو اندھے کے آنکھ نکل آئی ہیں!‘‘

بیوپاری نے کمائی کی گنجائش تاڑ لی تھی، اب اس سے جیتنا مشکل تھا۔ لیکن ہر روز کے حالات سے ٹکراتے ٹکراتے اس کمسنی کے دور میں بھی دل دماغ میں غصہ اور زبان پر زہر جب تب اتر کر آنے لگا تھا۔ اس وقت بھی غصہ اپنے اوج پر چڑھ کر زبان کی نوک پر اتر ہی آیا۔ اسی غصے میں میں نے کہہ دیا، ’’رکھ لو سمھال کے۔ گانڈ دھونے کے کام آئے گا۔‘‘

ڈنڈے والے کا ہاتھ ڈنڈے تک پہنچتا اور ہم پر چل جاتا، اس سے پہلے ہی للن نے بانس میں پھنسی بالٹیاں نکال کر ہاتھ میں تھام لیں اور میں نے نیچے گرا بانس کا ڈنڈا اٹھا کر دوڑ لگا دی۔

گھر پہنچ کر ماں کے سامنے غصے بھرے انداز میں اپنی ناکامی بیان کرتے ہوے اس صابن فیکٹری کے مالک کو ایک ہلکی سی گالی بھی دے ڈالی۔ ماں نے حیرت اور صدمے سے بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ ایسا بالکل نہ تھا که اسے میری بدزبانی اور بداخلاقی کا اندازہ ہی نہ تھا۔ میری گالیوں کی عادت سے وہ واقف تھی، لیکن آج سیدھے اسی کے سامنے ہی منھ سے گالی نکل آئی تو وہ گھبرا گئی۔

گھبرا تو میں بھی گیا، بلکہ بہت بری طرح گھبرا گیا۔ اب تک صرف باپ کے منھ سے سنتا آیا تھا که میں مسلمانوں کی سنگت میں غنڈا بن گیا ہوں۔ لیکن ماں کو اپنے ایشور پر اور اپنی بھکتی پر بڑا بھروسا تھا که میں ابھی بہت چھوٹا ہوں اور دھیرے دھیرے سدھر جاؤں گا۔ آج اس بھروسے کو چوٹ لگی تھی۔ میں نے ماں کی آنکھوں میں جو کچھ اس گھڑی دیکھا وہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں گھر سے بھاگ کر پائیگاہ کی طرف چل پڑا۔ تالا لگے بڑے دروازے کے پاس والی ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے راستے اندر گھس گیا۔

نظروں کی حد سے باہر تک پھیلی پائیگاہ کے بھیتر چاروں اور نوابی خاندان کے جانوروں کے باندھنے کے باڑے بنے ہوے تھے، اور بیچ میں تھا وشال سا خالی میدان۔ باڑے تو برسوں سے یوں ہی خالی پڑے تھے لیکن میدان بارش کے پانی سے اگ آئی گھاس سے پوری طرح ڈھکا ہوا تھا۔ میں گھاس کا ایک تنکا توڑ کر باڑے والے حصے کے بھیتر جا کر بیٹھ گیا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے ایک تنکے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتا کچھ سوچتا جاتا تھا۔ حالانکہ کسی نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا تھا لیکن پھر بھی میں بہت ڈرا ہوا تھا۔ باربار یہی سوچ سوچ کر شرمندہ ہوتا رہا که میں نے ماں کے سامنے گالی بک دی۔ مجھے رونا آ رہا تھا مگر میں رو نہیں رہا تھا۔ پھر خود پر غصہ آنے لگا۔ اسی غصے میں خود کو کس کر چار چھ تماچے مار لیے۔ اب رونا بھی شروع ہو گیا۔ روتے روتے منھ سے باربار ایک ہی لفظ نکلتا تھا: ماں۔۔۔

کچھ دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے ساری پائیگاہ میں یہی لفظ گونج رہا ہے: ماں۔ میں ڈر گیا، رونا بند کر کے اس گونج کو سننے کی کوشش کرنے لگا۔ اب ایسی کوئی گونج نہیں تھی۔ بس ہوا کے جھونکوں میں ضرور کچھ تیزی آ گئی تھی جس نے اب تک میری طرح اداس کھڑے گھاس کے تنکوں پر گدگدی کا سا کام کر دکھایا۔ گھاس کے یہ ہزاروں تنکے ایک ساتھ جھوم جھوم کر ہواوٴں کی سنگت میں ناچتے گاتے سے معلوم ہونے لگے۔ اس سنگت میں سنگیت بھی آ شامل ہوا اور پورب کی طرف سے سیٹی سی بجاتا پچھم کو چھیڑنے لگا۔

میری خوفزدہ آنکھوں کے سامنے ہو رہے اس رومانی بدلاؤ نے چند لمحوں کے لیے میرے بھیتر کے سارے دکھ درد کو ایک مسکان میں بدل دیا۔ میں سب کچھ بھول اس جادوئی بیار [ہوا] کے ساتھ بہنے سا لگا۔ تبھی لیلیٰ بُرج والی دِشا سے ہوا میں تیزی سے اڑتا ایک پتھر آ کر پائیگاہ کے بھیتر کے ایک ٹین کے دروازے سے ٹکرایا اور اس ماحول میں ایک نہایت بےسُرا رنگ بھر دیا۔

میری نظریں قدرت کے اس کھیل سے ہٹ کر اِدھر اُدھر گھومنے لگیں۔ نظروں کو کہیں کچھ بھی بدلاؤ نظر نہیں آیا لیکن پھر اچانک ہی یوں لگنے لگا جیسے کوئی اور بھی یہاں موجود ہے، جس نے مجھے روتے ہوے دیکھ لیا ہے۔ نظروں نے ایک بار پھر چاروں طرف کی تلاشی لی لیکن کوئی نہیں تھا۔
میں نے جلدی جلدی اپنے گالوں پر پھیل چکے آنسوؤں کو جیسے تیسے پونچھ کر پوری ہمت سے ایک بار پھر گھوم گھوم کر اِدھر اُدھر تلاش شروع کر دی۔
کوئی بھی تو نہیں تھا۔

تو پھر کون تھا؟

اب تک میری ساری بہادری چیں بول چکی تھی۔ اس تیزی سے دوڑ لگائی که اگلے ہی پل میں اسی ٹوٹی کھڑکی کے پاس پہنچ گیا جو برسوں سے بند پڑے دروازے کے بدلے یہاں آنے جانے کے راستے کا کام دیتی تھی۔

گلی میں اس وقت کوئی خاص چہل پہل نہیں تھی۔ میں بھی دھیرے دھیرے گھر کی طرف قدم بڑھاتا چل پڑا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 6 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

اں کے مقابلے پتاجی ذرا سخت جان اور جنگجو انسان تھے۔ ان کے قد کاٹھی سے ان کا کردار قطعی میل نہ کھاتا تھا۔ نئے شہر میں آتے ہی پاؤں جمانے کی کوشش میں جی جان سے جٹ گئے۔ شروعات دہلی کے کچھ اخباروں کے لیے فری لانسر بن کر خبریں بھیجنے سے کی۔ اس کمائی سے کیا پیٹ بھرتا، سو کہیں سے سراغ ملا تو سِکّم لاٹری کے ٹکٹ لے کر کمیشن پر بیچنا شروع کر دیا۔ ایک سندھی حکیم نے نگرپالیکا سے پرانے زمانے کے امپیریل تھیٹر کو لیز پر لے کر لکشمی ٹاکیز کے نام سے سنیماگھر شروع کیا تو وہاں منیجر بن گئے۔ چاروں طرف طوائفوں کے کوٹھوں سے گھرے اس ٹاکیز میں علاقے کے دادا لوگوں کی سفارش پر گیٹ کیپر اور بکنگ کلرک رکھے گئے۔ ان میں سب سے دلچسپ کردار تھا دھوکہ بائی۔ اسی لال بتی علاقے کی اس ادھیڑ عورت کو، الگ سے بنے لیڈیز کلاس کا انچارج بنایا گیا تھا، جسکی انٹری کا دروازہ بھی پیچھے کی طرف ہی تھا۔ بکنگ بند ہونے کے بعد جب سارا سٹاف حساب لے کر پہلے کیشیئر ڈِیلارام کے پاس اور بعد کو منیجر صاحب کے پاس جاتا تو منیجر صاحب بکنگ کی رپورٹ لے کر پھر گپ شپ لگانے بیٹھ جاتے۔ انھیں اس ادھیڑ دھوکہ بائی کی کڑک آواز اور کڑک انداز میں کہی گئی باتیں خوب بھاتیں اور بڑے غور سے سنتے رہتے۔ بعد کو جب یہ نوکری چھوڑ کر انھوں نے کلیم اور پاکستانی پاسپورٹ بنوانے کی وکالت شروع کی تو دھوکہ بائی ہم سب سے ملنے گھر تک چلی آتی تھی۔

دادا کا قد بمشکل ساڑھے پانچ فٹ اور رنگ سانولا تھا۔ چہرے میں کوئی خاص بات نہیں که جس پر نظر ٹک جائے۔ ہاں، چھاتی پر خوب گھنے بال تھے، جسے وہ مردانگی اور خوش قسمتی کی نشانی مانتے تھے اور اس پر ناز کرتے تھے۔ سر کے بال ضرور نہایت خوبصورت گھنگھریالے تھے، جن کی چمک ہر دم قائم رکھنے کی غرض سے وہ اسے ’لوما ہیئر آئل‘ کی خوراک برابر دیتے تھے۔

کھانے پینے کے زبردست شوقین۔ بینک میں کھاتا کھولنے کے بجاے شہر کی کئی دکانوں پر کھاتا کھول رکھا تھا۔ ان دکانوں سے باقاعدہ ہر روز سامان آتا تھا۔ جب حساب ہوتا تو ہمیشہ جیب کے پیسے کم اور حساب زیادہ ہی نکلتا تھا۔ لہٰذا بات، بھول چوک، لینی دینی اور کچھ رہ گئے تو باقی لینی کر کے کھاتے کا پنّا آگے بڑھ جاتا تھا۔

کھانے پینے کا باقاعدہ ایک چارٹ بنتا تھا جو دیوار پر ٹنگا رہتا تھا۔ پانچ رنگ کی سیاہی سے لکھے اس ہفتہ وار چارٹ میں ناشتے سے لے کر رات کے ڈنر تک کا تفصیلی ذکر ہوتا تھا۔ ان میں باقی سبزی بھاجی کے ساتھ بلکہ سب سے زیادہ ’ہاؤ مال‘ یعنی گوشت کا ذکر ہوتا تھا۔ یقینی طور پر چار دن الگ الگ ویرائٹی کا گوشت اور ہر شام کھانے کے بعد ڈیزرٹس کے طور پر آم، چیکو، سیب، انار سے لے کر خاص طور پر دھرم چند عرف دھرمُو کے آئس کینڈی پلانٹ سے بنوائی گئی آئسکریم، جسے وہ آج بھی قلفی کہنا پسند کرتے ہیں۔ (ان دھرمو صاحب کے ایک چھوٹے بھائی کرمو عرف کرم چند بھی ہوتے تھے۔ پیدائش سے بھلے ہی جڑواں نہ تھے لیکن شہر میں ان کی شہرت اسی جڑواں نام سے ہے – دھرمو کرمو۔ ان کی کہانی بھی کہانی ہے۔ سو آگے آنی ہے۔)

ابھی تو میرے اس جنگجو باپ، مطلب دادا کی بات۔ میرے پتاجی کو دادا کہنے کے پیچھے میرے چاچا تھے، جو میرے اصل ہیرو تھے۔ ان کی ہر بات، ان کی ہر ادا مجھے خوب بھاتی تھی۔ سو میں بھی وہی کچھ کرنے اور کہنے کی کوشش کرنے لگتا جو چاچا کہتے یا کرتے تھے۔ وہ ہی پتاجی کو دادا کہہ کر بلاتے تھے۔ ان کی دیکھادیکھی میں نے بھی انھیں بابا کی جگہ دادا کہنا شروع کر دیا تھا۔

ایک دن دادا نے شہر بھر میں گھوم گھوم کر پریچت اور اپریچت سندھی شرنارتھیوں کو اکٹھا کر کے گھر پر ہی ایک بڑی بیٹھک کر ڈالی۔ سب جو مل بیٹھے تو درد کے دریا رواں ہو چلے۔ آہوں کراہوں کے ساتھ غم اور غصے سے لبریز شکایتوں کے دفتر کھل گئے۔ آئے دن توہین آمیز حالات سے گزرنے کی کہانیاں، کم منافعے کے دھندے کی کوشش کو ناکام کرنے کی غرض سے مقامی ہندو بیوپاریوں کے سازش کر کے انھیں ملاوٹ خور، ڈنڈی مار، چور کی طرح پیش کرنے کی کوششوں کے قصے، ان کی بھاشا کی کِھلّی اڑانا، سرکار کی بےرُخی، بھوک، پریشانی۔ اپنی اپنی کہانی کہتے سنتے لوگوں کو ایک دوسرے کی کہانی اپنی ہی کہانی لگی۔ عام رائے تھی که اجڑکر آئے پنجابیوں اور بنگالیوں کے لیے تو پہلے ہی سے ان کے صوبے موجود ہیں لیکن سندھی اکیلے بےگھر اور دربدر ہو رہے ہیں۔ اس کا علاج تھا ایک سندھی صوبے کی مانگ۔ کَچھ میں بھائی پرتاپ کی ’’سندھو پردیش‘‘ قائم کرنے کی مہم میں شامل ہونا چاہیے۔

غبار نکلا تو کچھ شانتی ہوئی۔ فیصلہ ہوا که سرکار کو اور سماج کو آگاہ کیا جائے که انھوں نے اپنے گھر اپنی مرضی سے نہیں چھوڑے بلکہ ملک کی بہتری کے لیے قربان کیے ہیں۔ اب باری سرکار کی ہے۔ اسی حق طلبی اور ایکجُٹتا کے ارادے سے اس لڑائی کی رہبری دادا کے حوالے کی گئی۔ ’’رفیوجی جنرل پنچائت‘‘ بنا کر انھیں پریزیڈنٹ چن لیا گیا۔

ذمےداری ملنے کے بعد دادا نے ایک بڑا کرانتی کاری [انقلابی] بھاشن دیا۔ ان کے نشانے پر تھے جواہر لال نہرو اور دہلی کے اخبار۔ ان کا شکوہ تھا که نہرو سرکار کی نظر صرف دہلی اور بمبئی جیسے شہروں پر ہے که وہاں روز انگریزی اخباروں میں وہاں کے رفیوجیز کی بدحالی کے فوٹو چھپتے ہیں، خبریں چھپتی ہیں۔ جبکہ بھوپال جیسے چھوٹے چھوٹے شہروں میں رفیوجیز کی حالت کی طرف بمشکل کسی کا دھیان جاتا ہے۔

اپنی تقریر کے آخر میں انھوں نے سردار بھگت سنگھ کا جملہ استعمال کرتے ہوے ختم کیا: ’’اگر ہم چاہتے ہیں که ہماری بات سنی جائے تو سنی کو ان سنی کرنے والے بہروں کو سنانے کے لیے دھماکے کی ضرورت ہے۔ اور ہم سب مل کر وہ دھماکا کریں گے که اس کی آواز ہند سندھ میں ایک ساتھ سنائی دے گی۔‘‘

ماحول ایک دم جوش سے بھر گیا۔ لوگوں پر ’’انقلاب زندہ باد‘‘ والی کیفیت طاری ہو گئی۔ حالانکہ کسی نے اس طرح کا نعرہ لگایا نہیں۔

٭٭٭٭٭

جس وقت یہ دو گھنٹے لمبی چلی میٹنگ ختم ہوئی، ٹھیک اسی وقت دادا کی نیتاگیری شروع ہو گئی۔ اس میٹنگ کی خبر لوکل سی آئی ڈی کے ذریعے نئے نئے مقرر ہوے چیف کمشنر تک، چیف کمشنر کے ذریعے دہلی تک پہنچ گئی۔

شہر میں ہندو مہاسبھا کے سب سے بڑے نیتا بھائی جی، اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ہار پھول لے کر گھر پر آئے۔ دادا کو پنچائت کا سربراہ بننے کی بدھائی دیتے ہوے انھیں پارٹی میں شامل ہو کر اپنی لڑائی مضبوط کرنے کی دعوت دے ڈالی۔

ادھر کانگریس کے لیڈران شروعاتی پس و پیش کے بعد بھائی جی کے چنگل میں ایک ساتھ کئی ہزار لوگوں کے جانے کی سمبھاؤنا کو دیکھتے ہوے بھائی جی کی ہی طرح دادا کو رِجھانے کی کوشش میں آ لگے۔ لیکن دادا کانگریس سے بہت خفا تھے۔

بھائی جی نے جاتے جاتے دادا کو ان کی پارٹی کی طرف سے چوک میں منعقد عام سبھا [جلسے] میں خطاب کا نیوتا بھی دے دیا تھا۔ چوک مطلب اس شہر کے دل کی دھڑکن۔ 1857 میں تعمیر ہوئی لال پتھر والی گول آکار جامع مسجد کے چوگرد کا علاقہ سونے چاندی کی منڈی صرافہ، کپڑے کی دکانوں اور نمکین اور مٹھائی کی دکانوں کے لیے جانا جاتا تھا۔
چوک کے اس علاقے میں اور بھی چوک آباد تھے۔ مثلاً؛ چِنتامن چوک، سبھاش چوک، جواہر چوک اور صرافہ چوک۔ سونے چاندی کا کاروبار ہو گا تو وہاں پولیس کا انتظام بھی ہو گا۔ سو یہاں پر ایک دم کونے میں دھنسی ہوئی ایک چوکی ہے: چوکی چِنتامن چوک۔

مسجد کے نیچے پوری گولائی میں زیادہ تر کپڑے یا صرافے کی دکانیں اور ان دکانوں کے مالک ایک ادھ استثنیٰ چھوڑ کر سبھی ہندو، جو نہ جانے کب سے مسجد کی انتظامیہ کے کرائےدار ہیں۔

اس شام کی سبھا جامع مسجد کے پیچھے والے حصے سبھاش چوک میں تھی۔ سبھا کے لیے جگہ بنانے اس دن وہاں سڑک پر بیٹھ کر تالوں کی گمشدہ ڈپلیکیٹ چابیاں بنانے والے، چھوٹے سے دستی شوکیس میں سستی سی بِندی، چوڑی، انگوٹھی جیسی چیزیں بیچنے والے اپنا سامان سینے سے سٹا کر اس سبھا کی شروعات اور اس کے نتیجوں کے انتظار میں یہاں وہاں ٹہل رہے تھے۔

اسی ماحول میں اس سبھا کی شروعات ہوئی۔ ایک کے بعد ایک جوش بھرے بھاشن ہوے۔ پھر دادا کی باری آئی۔ انھوں نے سندھی مہاجروں کی درد بھری داستانیں سنائیں۔ نہرو، جناح، گاندھی اور مسلمانوں کے خلاف ایک آگ اگلتا ہوا بھاشن دیا۔ اور خوب واہ واہی لوٹی۔

بھاشن کے آخر میں انھوں نے ایک ایسی بات کہہ دی که جس سے شہر کے امن و امان کو بھی خطرہ سا پیدا ہو گیا۔ انھوں نے جامع مسجد کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوے کہا که مجھے معلوم ہوا ہے که یہ مسجد ایک مندر کو نیست نابود کر کے اس کے اوپر تعمیر کی گئی ہے۔

بڑے جوش اور جذبے بھرے انداز میں انھوں نے ایک شعر سا پڑھ دیا:

یہاں مسجد کی چھایا میں ہمارا رام سوتا ہے
ہماری بے بسی اور بےکسی پر خون روتا ہے

ایک طرف اس ہندو جلسے میں تالیاں بج رہی تھیں تو دوسری طرف سرکاری محکموں کی ایک کے بعد ایک ٹیلیفون کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ چند قدم کی دوری پر ہی آباد پولیس چوکی چوک پر احتیاطاً اور کمک بلا لی گئی۔

اس رات کوئی ان ہونی نہ ہوئی۔ سبھا ’’ہندو ہندو بھائی بھائی / مسلم قوم کہاں سے آئی‘‘ اور ’’ہندو ایکتا زندہ باد‘‘ کے نعروں کے ساتھ ختم ہو گئی۔
جس سمے اس سبھا کا وِسرجن [غروب] ہوا ٹھیک اسی سمے ایک نئے ہندو نیتا کا اُدے [طلوع] بھی ہو گیا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 5 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]

راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال

[/blockquote]

جب ساری پوجا پاٹھ کے بعد ماں اٹھنے لگتی تو میں کہتا، “ارے امّاں! تو نے بھگوان کے بال تو بنائے ہی نہیں۔” ماں گال پر ہلکی سی چپت لگاتی اور مسکراتے ہوے کہتی، “بھگوان تیری طرح گھڑی گھڑی اپنے بال نہیں بگاڑتے۔ چل۔”

یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن ماں کا قدم قدم پر پاپ اور پُن کو لے کر اصرار کبھی کبھی جھنجھلاہٹ سے بھر دیتا تھا۔ دروازے پر روٹی کی صدا دیتا فقیر ہو کہ حویلی میں پاخانے صاف کرنے آنے والی چندا مہترانی، ماں سب کام چھوڑ کر ان کے کھانے کو روٹی یا چانول جو بھی ہو، نکال لاتی اور میرے ہاتھ میں تھما دیتی کہ میں انھیں دے دوں۔

“بیٹا، پیاسے کو پانی اور بھوکے کو روٹی دینا پُن کا کام ہے۔”

یہاں تک تو غنیمت لیکن بات تب بگڑتی جب ماں بات بات پر ٹوکتی کہ یہ پاپ ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ کتے کو پتھر مار دیا – پاپ ہے۔ پتاجی کی جیب سے ایک ادھ آنہ نکال لیا – پاپ لگتا ہے۔ جھوٹ بولا – پاپ لگتا ہے۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کا ہر دوسرا کام پاپ ہے۔

ماں کی اس ٹوکاٹاکی سے چِڑتے ہوے بھی نہ جانے کب میرے بھیتر ایک عجب سا اندرونی تنتر پیدا ہو چلا تھا جو دن میں سو بار ٹوکتا تھا کہ “یہ تو پاپ ہے۔” اس پاپ لگنے کے ڈر نے مجھے کئی بار اَپمان سہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مجھے ماں پر غصہ آنے لگا تھا۔ مجھے محلے کے دوستوں کی بےخوف دلیری نے اس پاپ پُن کے دُش چکر سے نہ جانے کب نکال لیا۔ میں ایک ایسی راہ پر چل نکلا تھا جہاں ہر اینٹ کا جواب رائے سین کا پتھر تھا۔ ایک انگلی کا جواب گھونسا تھا۔ آخر ایک دن میری یہ صورت بھی ماں کے سامنے آ ہی گئی۔

ہوا یوں کہ شروعاتی برسوں کے شک شبہوں اور نفرت کی دیواروں کو لانگھ کر اس محلے میں ہماری موجودگی کو سویکرتی [قبولیت] مل گئی تھی۔ ہم لوگ کبڈی، کھوکھو، چھپم چھپیّا، ساتم تالی جیسا ہر کھیل ساتھ کھیلتے تھے۔ کھیلنے کے دوران کئی بار ہار جیت، آؤٹ ناٹ آؤٹ کو لے کر حجت ہو جاتی، رونٹئی کے الزام لگ جاتے تھے۔ کبھی کبھار جھوماجھٹکی بھی ہو جاتی تھی۔ لیکن یہ سب بھی کھیل کا حصہ ہی ہوتا تھا، اور پھر رات گئی، بات گئی کی طرح اگلے دن کا کھیل شروع ہو جاتا تھا۔

اس کھیل میں ایک لڑکی ایسی بھی ہوتی تھی جسے نہ جانے کیوں اکیلے مجھ سے ہی کُھنّس تھی۔ ناحق ہی مجھے خالص مردانہ گالیاں بکتی۔ اس نہایت خوبصورت لڑکی کا نام تھا رابعہ عرف ربّو، جو میرے دوست للّن کی چھوٹی بہن تھی۔ للّن کی موجودگی میں تو جھگڑا سستے میں نپٹ جاتا تھا لیکن اس کی غیرحاضری ایک دن قہر بن گئی۔

ربّو نے اس دن پھر جھگڑا شروع کیا ایک گندی گالی سے: “کتے کا مُوت، سالا حرامی، سِندی کا بچہ۔” پہلے ہلّے میں مَیں گالی سن کر چپ سا کھڑا رہ گیا۔ اسی گھڑی دوسرے بچوں کی ہنسی کی آوازیں کانوں تک پہنچی تو اپمان اورغصے سے منھ لال ہو گیا۔ اسی غصے میں میں نے پلٹ کر گالی دے دی: “سالی کتیا تُو، تیرا باپ!”

مانو اس سے بھی دل نہ بھرا تو آخر میں اچھل اچھل کر، زور زور سے چلّانا شروع کر دیا: “ربو ڈاکن۔۔۔ ڈاکن۔”

اس غیرمتوقع حملہ آور جواب سے تلملا کر ربو نے ایک منٹ کے سناٹے کے بعد میری ہی طرح اچھل اچھل کر ایک تک بندی اچھالی۔

اوپر سے گری چِندی
سب مر گئے سِندی

ربو ہمیشہ سندھی کو سندی ہی بولتی تھی۔ خدا کی رحمت کہ اسی وقت نہ جانے کس طرح اس دور میں پرچلِت [رائج] ایک مسلمان مخالف ہندو مہاسبھائی نعرہ یاد آ گیا، جسے میں نے تالی بجا بجا کر گانا شروع کر دیا:

مسلمان بڑے بےایمان، بڑ کے نیچے سوتے ہیں
ہندوؤں نے لات ماری تو اللہ اللہ کر کے روتے ہیں

میری اس ایک جہالت نے پورا ماحول بگاڑ دیا۔ کھیل میں شامل باقی سارے مسلمان بچے ایک دم بھڑک گئے اور مجھے کوٹنا شروع کر دیا۔ میری اس حالت کا فائدہ اٹھا کر ربو نے بھی مجھے ایک ہاتھ مار دیا۔ میں نے پوری جان لڑا کر خود کو چھڑاتے ہوے، مجھے پٹتے دیکھ ہنس ہنس تالیاں بجاتی ربو کو ایک زور کا دھکا دے دیا۔ وہ سیدھے جلیل بھائی کے گھر کے باہر لگے پٹیے کے نکیلے کونے سے جا ٹکرائی۔ اس کا سر پھوٹ گیا۔ خون بھل بھل کر کے بہنے لگا۔ افراتفری اور چیخ پکار کے اس ماحول کے بیچ سے میں یہ جا اور وہ جا والے انداز میں چھومنتر ہو کر گھر کے اندر چھپ گیا۔ چوٹ مجھے بھی لگی تھی۔ خون میرے سر سے بھی چُو رہا تھا۔ لیکن اس وقت اس بات کی فکر کسے تھی۔ فکر تھی تو اس بات کی کہ اب کیا ہو گا؟ گھر میں دادا کی مار پڑے گی اور باہر دوستوں کی۔ یا پھر بڑوں میں بھی جھگڑا پھیل جائے گا؟ اتنا طے تھا کہ جو ہو گا وہ بہت خطرناک ہی ہو گا۔

اس حالت میں میرا چھوٹا بھائی جے میرے ساتھ ہمدرد بن کر بیٹھا رہا اور دلاسا دیتا رہا۔ لیکن ہونی تو ہو کر رہی۔ دادا کے ہاتھوں خوب مار پڑی۔ مجھے آنگن میں لگے جامن کے پیڑ کے ساتھ رسیوں سے باندھ دیا۔ بھوک کے مارے برا حال تھا۔ اس پر آتے جاتے ہر کسی کے اُپدیشوں سے بپھر کر میں نے بھی بنا کسی کا نام لیے شہر بھر کی فحش گالیاں بکنا شروع کر دیں۔ گالیوں کی گونج سن کر کرودھ میں اُپھنتے دادا نے بنا گنے پہلے تو تڑاتڑ تماچے جڑ دیے اور پھر منھ میں لال مرچ بھر دی۔ اس کے بعد تو میری چیخیں اور گنجائش بھر گالیاں آسمان تک پہنچنے لگیں۔ ادھر مجھے کسی طرح چھڑانے میں ناکام ہو چکی ماں گھر میں ہمیشہ کی طرح خاموشی سے رونے کا اپنا چلن چھوڑ کر “ہاں۔۔۔” جیسے کسی الاپ کے ساتھ رو رہی تھی۔

پتا نہیں آسمان میری چیخوں سے پگھلا کہ میری ماں کے چِیتکار بھرے الاپ سے، حویلی میں بابا یعنی میرے داداجی کی آمد ہو گئی۔ میری حالت دیکھ کر بابا نے ایک ہُنکار بھرکر اپنے بیٹے پر اس ظلم کے لیے لعنت بھیجی اور مجھے پُچکارتے ہوے رسیوں سے آزاد کرا کر اپنے گھر کی طرف لے گئے۔ سب سے پہلے کُلّے کے لیے ایک گلاس پانی اور پھر مرچ کے کرودھ کو شانت کرنے کے لیے ایک چمچ شکر کھلا دی۔

خداجانے کس طرح بزرگوں نے مل بیٹھ کر سارے معاملے کو شانت کیا۔ اس سمجھوتے کے تحت مجھے گلی کے اسی مقام پر، جہاں جھگڑا ہوا تھا، کھڑا کر کے سب کے سامنے کان پکڑ کر پانچ اٹھک بیٹھک لگانے کی سزا دی گئی۔ معافی مل گئی اور سمجھائش دی گئی کہ سب مل جل کر بھائی بہن کی طرح رہو۔ لڑائی جھگڑا بری بات ہے۔ جلیل بھائی کے ساتویں نمبر کے بھائی منے میاں دن بھر سائیکل پر طرح طرح کے کرتب کی پریکٹس کرتے رہتے تھے اور بنا سکول گئے ہی انگریزی کے جملے بولتے رہتے تھے۔ محلے میں مشہور تھا کہ منے میاں کو انگریزی سے جتنی محبت تھی سکول سے اتنی ہی نفرت۔ سو ایک دن انہوں نے اللہ میاں سے بنا سکول گئے انگریزی سکھانے کے لیے ہاتھ اٹھ کر دعا مانگی اور گانے لگے کہ “اللہ میری جھولی میں چھم سے وہ آ جائے! اللہ میری جھولی میں چھم سے وہ آ جائے۔” اللہ نے ان کی دعا قبول کرتے ہوے ان کی جھولی میں انگریزی ڈال دی تھی۔ صلح کے اس موقعے پر منے بھائی نے آ کر سب سے اونچی صلاح دی: “لالو میاں! رِیڈ اینڈ رائٹ، ڈو ناٹ فائٹ۔” ٹھہاکے گونجے اور ماحول خوشگوار ہو گیا۔

لیکن گھر پر میری کلاس لگنا ابھی باقی تھی۔ سو ماں کی پاپ پُن والی کلاس شروع ہوئی۔ ماں نے سمجھانا شروع کیا کہ ’نیانی‘ (بیٹی) کو مارنا پاپ ہے۔ میں نے ربو کو مار کر پاپ کیا ہے۔ اب اس کا پرائشچت یہ ہے کہ میں اس سے جا کر معافی مانگوں اور راکھی بندھوا کر اسے بہن بنا لوں۔ “ایسا نہیں کروگے تو پاپ لگےگا۔”

اب تک ساری مشکلوں سے گزر کر میں تھوڑا ضدی اور تھوڑا سخت جان بھی ہو چکا تھا۔ میں نے جگہ جگہ سے دُکھتے جسم سے اٹھتے درد کو درکنار کر، ماں سے ایک مسکراہٹ کے ساتھ سوال کیا کہ چلو اب اس کا جواب دے کر بتاؤ۔ “ماں، یہ بتاؤ کہ یہ جو پاپ ہے وہ لگتا کیسے ہے؟”

ماں کو مجھ سے شاید اس سوال کی امید نہیں تھی۔ پھر بھی اس نے اسی طرح کی ننھی سی مسکان کے ساتھ جواب دیا، “بس ویسے ہی جیسے سمجھو چوٹ لگتی ہے تو کتنا درد ہوتا ہے۔ کتنی جلن مچانے والی دوائی لگتی ہے۔ ہے کہ نہیں؟”

آج میں مُنڈی ہلا کر سب کچھ یوں ہی مان جانے والے موڈ میں نہ تھا۔ میں نے سوال کیا، “مطلب جھوٹ بولنے سے چوٹ لگتی ہے۔ پر کھیلنے سے بھی تو چوٹ لگتی ہے، تو کیا کھیلنا بھی پاپ ہے؟”

آج جب ماں کی ڈرا کر مجھے سداچاری بنانے والی تجویز ناکام ہوتی سی دِکھی تو وہ تھوڑی بےچین سی ہو گئی۔ اس کے صبر اور خاموشی بھرے چہرے سے مسکراہٹ گم سی ہوتی ہوئی لگی۔ تھوڑا تھوڑا غصہ چہرے پر نمایاں ہونے لگا تھا۔ پھر چہرے پر پریشانی کا سایہ بھی دکھائی دینے لگا۔ وہ شاید اس بات سے پریشان تھی کہ بچہ اگر ڈر سے بھی ڈرنا چھوڑ دے گا تو نتیجہ کیا ہو گا۔

اسی پریشانی کے عالم میں تھوڑا تیز لہجے میں جواب دیا، “بس ہر بات میں بحث کرنا سیکھ گیا ہے۔ ارے یہ تو ایک مثال ہے۔ اس کا مطلب یہ تھوڑی ہی ہے کہ پاپ لگنے کا مطلب چوٹ لگنا ہی ہوتا ہے۔”

“تو پھر ٹھیک سے بتاؤ کہ یہ سالا پاپ لگتا کیسے ہے؟”

اس بار جواب زبان نے نہیں بلکہ ہاتھ نے دیا۔ ایک تھپڑ پہلے سے ہی لال پیلے ہو چکے گال پر آ پڑا۔ ایسا کر کے ماں نے وہی رونا شروع کر دیا اور آنکھوں سے شار شار آنسو بہنا شروع ہو گئے۔

اب میں ہار گیا۔ مجھے ماں کا رونا کسی حال برداشت نہ تھا۔ میں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ معافی مانگتے ہوے وعدہ کیا کہ اب کبھی بحث نہیں کروں گا۔ ربو سے معافی مانگ لوں گا اور اس سے راکھی بھی بندھوا لوں گا۔

ماں نے زمین پر بیٹھے بیٹھے ہی مجھے اپنی گود کی طرف کھینچ لیا اور پیچھے کی دیوار سے پیٹھ ٹکا کر روتے اور آنسو بہاتے، میرے آنسو پونچھ کر گالوں کو چومنا شروع کر دیا۔ گھگھی بندھی آواز میں وہ بھی سنائی دے گیا جو ماں اب تک میرے جسم کو پیار سے سہلاتے ہاتھوں سے محسوس ہو رہا تھا: “مت کیا کرے میرے راجا ایسی حرکتیں۔ دیکھ کتنی مار پڑی ہے تجھے۔”

ایسا کہہ کر ماں نے دھیرے سے میرے سر میں ہاتھ ڈال کر بالوں کے بیچ انگلیاں پھیرنا شروع کر دیں۔ میرے بکھرے، ریت مٹی سے بھرے بالوں کے بیچ ماں کی دوڑتی انگلیوں کا سپرش سات آسمانوں کی سیر کے برابر تھا۔ میں آنکھ بند کر کے ان ساتوں آسمانوں میں قہقہے لگاتا دوڑنا شروع کر دیتا تھا، جو میں اس وقت بھی کر رہا تھا۔
(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

ایک گھر اپنی اولاد کے لیے (محمود دیاب)

[blockquote style=”3″]
محمود دیاب ۱۹۳۶ء میں اسمعٰیلیہ، مصر، میں پیدا ہوے اور قانون کے مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں بنیادی طور پر ان کے ڈراموں کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، لیکن انھوں نے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: محمود دیاب (Mahmoud Diab)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو خیر ممکن ہی نہیں کہ یہ خیال مجھے وقت کے وقت سوجھ گیا ہو، کہ میں تو سدا سے ایک ذاتی مکان کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ گو خوابوں میں اس کے خدوخال کچھ اتنے زیادہ صاف نظر نہیں آتے تھے، مگر اس کا ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ اس پر حرارت اور راحت کی ایک فضا سی محیط رہتی۔ چنانچہ جیسے ہی مجھے موقع میسر آیا، میں نے اس کو فی الفور ایسے جھپٹ لیا جیسے میرا جینا اسی پرمنحصر ہو۔

خود میرے لیے یہ سودا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا مگر میری بیوی کے لیے یہ کچھ اتنا حیران کن تھا کہ وہ مارے خوشی کے اپنے آنسو ضبط نہ کر سکی۔ دراصل میں نے خالی خولی ہوائی قلعے کے بجاے شہر کے مشرقی علاقے میں قائم کی گئی ایک نئی رہائشی بستی کے ایک خالی پلاٹ کے حقیقی بیع نامے کی شکل میں اپنی بیوی کی حیرت کا سامان کیا تھا، ورنہ پھر اس میں گرم جوشی پیدا نہ ہوتی۔

یہ اس دن کی بات ہے جس دن ہمارے بچوں، ہالہ اور ہشام، کی سالگرہ تھی۔ ہماری بیٹی کی عمر چار سال اور بیٹے کی تین سال تھی۔ دونوں کی پیدائش ایک ہی ماہ کی تھی، گو تاریخیں جدا جدا تھیں، اس لیے ہم دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن منایا کرتے تھے۔

اس دن گھر پہنچنے پر بیوی نے پوچھا، ’’کیا بھول گئے تھے کہ بچوں کی سالگرہ ہے؟‘‘
’’نہیں تو، بھولا تو نہیں،‘‘ میں نے بےچینی کو چھپاتے ہوے آہستہ سے کہا۔
’’اب مجھ سے یہ نہ کہنا کہ تمھارے پلے کچھ بھی نہیں،‘‘ اس نے چھینٹا کسا۔
’’نہیں نہیں، میں قلاش نہیں ہوں۔‘‘

’’ایک وہ ہیں کہ کب سے تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے ان کے واسطے ایک پیاستر کی مٹھائی بھی لانا گوارا نہیں کیا،’’ اس نے میرے خالی ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔

’’ان کو خالی خولی مٹھائیاں اور کھلونے دلانے سے اب میں بیزار آ گیا ہوں،‘‘ حیرت پیدا کرنے کی خاطر اس سے بہتر تمہید باندھنے میں ناکام ہو کر میں نے اپنی بغل میں دبا بڑا سا لفافہ نکالا اور بیوی کے حوالے کر دیا۔

’’میرا تحفہ اس لفافے میں ہے،‘‘ میں نے اسے بتایا۔ اس نے کاغذات نکالے اور ان پر نظر دوڑانے لگی، اور میں اپنی اس توفیق پر اتراتے ہوے اس پر نظریں گاڑے رہا۔ بیک نظر ان دستاویزات کی اصلیت کو پانے میں ناکام ہو کر اس نے سوالیہ انداز میں اپنا حسین چہرہ اٹھایا اور چیخی، ’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’ان کے لیے ایک گھر،‘‘ میں نے مسکراتے ہوے کہا۔

ہشام پیچھے سے آیا اور میری ٹانگوں میں اپنا منھ دے کر دھیمے دھیمے ہنسنے لگا۔ میں نے جھک کر اس کو اٹھا لیا اور اپنی بیوی پر ہونے والے غیرمتوقع ردعمل سے بالکل بےخبر، اپنے بیٹے کو پیار کرنے لگا۔

اس پل کے بعد بیوی کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ حد یہ ہے کہ اس نے میری محبت کا وہ پرانا قصہ چھیڑا ہی نہیں جس سے وہ چند دن پہلے واقف ہوچکی تھی۔ پتا نہیں اس نے اسے بھلا دیا تھا یا جان بوجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔ بلکہ وہ تو نہایت نرم خو اور بشاش ہو گئی اور شاید ہی ہمارا کوئی عزیز یا جاننے والا بچا ہو جس کو اس نے یہ نہ بتایا ہو کہ ہم اپنا مکان بنانے جا رہے ہیں۔ اصل میں اس کو تو اب مکان کے سوا کوئی اَور بات کرنے میں لطف ہی نہیں آتا تھا۔

ایک دن ہم چاروں اپنا پلاٹ دیکھنے گئے، یعنی بقول اس کے ’’موقعے کا معائنہ کرنے۔‘‘ ہم پلاٹ کے ایک کونے میں جا کر کھڑے ہوے۔ وہ میرے پاس کھڑی مارے خوشی کے پھولی نہ سمارہی تھی۔ دونوں بچے قریب ہی خوش خوش دوڑیں لگا رہے تھے، شور مچا رہے تھے اور گردوغبار کے چھوٹے چھوٹے مرغولے اڑا رہے تھے۔

میری بیوی بتائے جا رہی تھی کہ مکان کس طرح کا ہو گا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے باربار دہرا رہی تھی: ’’ایک منزلہ ہو گا، ہے نا؟ جب بچے بڑے ہو جائیں گے تو ہم ایک منزل اور چڑھا لیں گے۔ ہم اس کو بڑے باغ سے گھیر دیں گے۔ اس کی دیکھ بھال میں خود کروں گی۔ میں اس کو پھولوں سے پاٹ دوں گی۔ تمھیں کس طرح کے پھول پسند ہیں جی؟ ہے نا ہنسی کی بات کہ پانچ برسوں میں میں یہ بھی نہ جان پائی کہ تمھیں کون سا پھول پسند ہے۔‘‘
’’مجھے چنبیلی پسند ہے۔‘‘

’’ہم باغ کو چنبیلی سے پاٹ دیں گے،‘‘ وہ چلّائی۔ پھر بولنے لگی، ’’شہر کے شور اور دھویں سے دور، اس قسم کے مکان کی رہائش بچوں کی صحت کے لیے بہت اچھی رہے گی۔ میرے دادا کا منصورہ میں بہت پیارا سا گھر تھا۔ ایک ایکڑ کا تو باغ ہی تھا اس میں۔ ذرا سوچو! اور ہاں، اوپر کپڑے دھونے کے لیے کوئی جگہ ضرور نکالنا، اور ایک کمرہ ملازموں کے لیے بھی۔۔۔‘‘

’’ملازموں کے کمرے سے کیا مطلب ہے تمھارا؟‘‘ میں نے اسے ٹوکا۔ ’’میں نے تو اپنی زندگی کے قیمتی سال اس خواب کو حقیقت بنانے میں لگا دیے، اب میں تم سے درخواست کروں گا کہ اس کو فضولیات میں تو نہ بدلو۔‘‘
’’اچھا اچھا، اور گیراج؟ بنگلے میں گیراج تو ہونا ہی چاہیے۔‘‘
’’مگر میرے پاس کار کہاں؟‘‘

’’کبھی تو کار ہو گی۔ جو گیراج نہ ہو گا تو کہاں رکھو گے بھلا؟‘‘ اس نے پکار کر بیٹی سے کہا کہ اپنے بھائی کو لے کر آ جائے، اور پھر وہ خود تیکھا سا قہقہہ لگاتی بچوں کے پیچھے کسی کمسن لڑکی کی طرح دوڑیں لگانے لگی۔

ان تینوں کو پلاٹ کے بیچوں بیچ اس حالت میں دیکھتے دیکھتے میرا دھیان بھٹک کر بہت دور نکل گیا اور پھر اسی وقت پلٹا جب میری بیوی پلٹ کر میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور دوبارہ اپنی باتیں کلی پھندنے لگا کر دہرانے لگی، اور میں اپنے دھیان میں کھویا ہوا تھا— نہیں، میں اس کی باتوں کا جواب دیتا رہا تھا۔

زمان و مقام سے بہت دور مجھ کو ایک پرانا گھر یاد آ گیا۔ مقام تو تھا اسمٰعیلیہ؛ رہ گیا زمانہ تو اس کا اندازہ میں اپنی عمر سے لگا سکتا ہوں۔ میں اُس وقت آٹھ نو برس کا تھا۔ اس بستی میں ہمارا مکان تھا، معمولی سا ایک منزلہ مکان جس کے چہار اطراف ایک مختصر مگر خوبصورت سا باغیچہ تھا۔ بہرحال، اس میں ملازموں کے لیے کوئی کمرہ نہیں تھا کیونکہ ہمارے پاس ملازم ہی نہیں تھے۔ نہ ہی اس میں کوئی گیراج تھا کیونکہ میرے ابا نے اپنی زندگی میں کبھی کسی ذاتی کار میں قدم ہی نہیں رکھا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ہمارے باغیچے میں انگوروں کی ایک ٹٹی تھی، آم کے دو پیڑ تھے، لیموں کا ایک جھاڑ تھا، اور مرغیوں کے لیے ایک بڑا سا دڑبہ تھا۔ مجھ کو یہ بھی یاد آیا کہ ابا کو گھر میں آئے ایک منٹ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کھرپی اٹھا کر باغیچے میں کام سے لگ جاتے تھے جس کی باڑھ چنبیلی کی جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ مجھ کو یہ یاد نہیں کہ ہم اس مکان کے مالک کب بنے تھے یا کب اس میں بودوباش اختیار کی تھی؛ پر اتنا یاد ہے کہ ابا کو اس پر بےانتہا ناز تھا اور میری امی اس کے ملکیت میں آنے کو ایک عظیم الشان تاریخی واقعہ سمجھتی تھیں، چنانچہ انھوں نے اس کو خود اپنی اور اپنے کنبے کی زندگی کے دیگر واقعات کا صحیح وقت متعین کرنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ کئی بار میں نے ان کو کہتے سنا، ’’جب ہم اس مکان میں اترے اس وقت فلاں پیٹ میں تھا‘‘، یا ’’جب ہم نے یہ مکان خریدا تو میرے میاں کی تنخواہ اتنی تھی‘‘، اور اسی طرح کی اَور باتیں جن کو یاد کر کے میں اب بھی مسکرا اٹھتا ہوں۔

مجھ کو اُس زمانے کے کوئی خاص واقعات تو اب یاد نہیں رہے، سواے اپنے ایک بھائی کی ولادت کے جو ہم سب میں پانچواں اور نرینہ اولاد میں تیسرا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر واقعات اتنے غیراہم تھے کہ انھوں نے میرے دماغ پر کوئی نقش نہیں چھوڑا، لیکن مجھ کو یہ یاد رہا کہ جب شام ہو جاتی تھی تو ہمسایوں کی ٹولی میرے ابا سے ملنے آ جاتی تھی اور وہ سب باغیچے میں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر خوش گپیاں کیا کرتے تھے، جب کہ ہم بچے ان کے آس پاس کھیلتے رہتے اور بادِ بہاری چنبیلی کی مہک سے بوجھل ہو کر نشے میں جھومتی پھرتی۔ ممکن ہے اس وقت ہمارے گھر میں سدا بہار ہی رہا کرتی ہو کیونکہ میں اب اس زمانے کو بغیر باغیچے کے ان کھیلوں اور چنبیلی کی خوشبو کے یاد ہی نہیں کر پاتا۔

پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہونے لگے جنھوں نے گو ہماری زندگی کی یکسانیت کو یک دم درہم برہم نہیں کیا، اس وجہ سے وہ مجھ کو پوری تفصیل کے ساتھ تو مشکل ہی سے یاد آتے ہیں، ہاں ان کی مبہم سی بازیافت ہو جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ لفظ ’’جنگ‘‘ انھی دنوں کان میں پڑنا شروع ہوا تھا جو میرے لیے ایک نیا لفظ تھا اور اس وقت گھر میں لفظ ’’روٹی‘‘ کی بہ نسبت کہیں زیادہ استعمال کیا جانے لگا تھا۔ ہماری گلی کے بڑے بوڑھے بھی اب اس کو مستقل بولنے لگے تھے جب کہ میں اس کے معنی ہی نہیں جانتا تھا۔ اسی طرح کے اَور بھی کئی الفاظ تھے جو اجنبی اور مشکل ہونے کے باوجود، صرف تواتر سے بولے جانے کی بنا پر، مجھے ازبر ہو گئے— اتحادی، محوری، جرمن، ماژی نولائین اور نہ جانے کتنے، جو سب کے سب میرے لیے محض ایسے الفاظ تھے جو میرے کان میں پڑتے رہتے تھے۔

ابا اور ہمارے ہمسائے باغیچے میں بیٹھ کر انھی سب پر باتیں کیا کرتے اور باتوں ہی باتوں میں دو گروہوں میں بٹ جاتے۔ ایک انگریزوں کی فتح کا خواہاں ہوتا تو دوسرا جرمنوں کی کامیابی کا دعاگو۔ میرے ابا کا تعلق آخرالذکر گروہ سے تھا، اس لیے میں بھی جرمنوں کی کامیابی کی دعا مانگا کرتا۔ اکثر میں ابا کو کہتے سنتا: ’’جرمنوں کی فتح کا مطلب ہے انگریزوں کا مصر سے انخلا،‘‘ اگرچہ ہمارے ساتھ والے ہمسائے چچا حسن کو یقین تھا کہ ’’اگر انگریزوں نے مصر خالی کیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ جرمن اس میں گھس پڑیں گے۔‘‘ بزرگ اسی طرح دیر تک اپنی زوردار بحثابحثی جاری رکھتے جو ایک رات کو جہاں ختم ہوتی دوسری رات کو وہیں سے پھر شروع ہو جاتی۔ اِدھر ہم بچے کھیل کھیل میں دو ٹولیوں میں بٹ جایا کرتے، ایک انگریز تو دوسری جرمن۔ ظاہر ہے میں دوسری ٹولی سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر ہم اپنی بچکانہ جنگوں میں جٹ جاتے جس کی وجہ سے آخرکار ہم سب ہانپتے کانپتے تھک تھکا کر چُور ہو جاتے تھے۔

جب سونے کا وقت ہو جاتا تو میں اپنے بستر میں جا گھستا اور کچھ دیر تک باغیچے سے آتی بزرگوں کی آوازیں سنا کرتا جن میں مَیں ابا کی آواز کو الگ سے پہچان لیتا۔ پھر لیٹے لیٹے اپنے ذہن میں جرمنوں کی صورت گری میں لگ جاتا۔ میرے تصور میں جرمن نہ تو انگریزوں کے سے ڈیل ڈول کے ہوتے اور نہ ان کی سی شکل صورت کے، بلکہ وہ مجھ کو ان سے کہیں زیادہ لمبے تڑنگے اور شان دار نظر آتے۔

ایک رات ہوائی حملے کا سائرن بج اٹھا۔ یہ بھی اس زمانے کی ایک نئی اور دلچسپ چیز تھی۔ گلی کوچوں اور گھروں کی بتیاں بجھ گئی تھیں اور ہر سو گہری خاموشی سے بوجھل اندھیرے کی عملداری ہو گئی تھی۔ دروازوں پر آسیبی ہیولے سے جمع ہو گئے تھے اور چنبیلی کی تیز مہک گزری ہوئی راتوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھی۔

’’جرمن ہوائی جہاز!‘‘ ابا چلّائے۔ آسمان پر نظریں جمائے اور پوری توجہ سے کان لگائے میں اس بےہنگم بھنبھناہٹ کا اندازہ لگا سکتا تھا جو افق کے اس پار سے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو چیرتی ہوئی قریب آ رہی تھی۔

’’کیا وہ بستی پر بمباری کریں گے؟‘‘ میں نے دہشت زدہ ہو کر امی سے پوچھا۔

’’نہیں،‘‘ ابا نے ایک ایسے شخص کی طرح مطلع کیا جو اس قسم کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہو۔ ’’ہٹلر ایسا نہیں کرے گا۔ وہ تو بس انگریزوں کی چھاؤنی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘

انگریزوں کی چھاؤنی ہمارے چھوٹے سے شہر کو ہر طرف سے گھیرے ہوے تھی، بلکہ تقریباً آ ملی تھی۔ ہم نے ہیبت ناک دھماکے سنے جنھوں نے مجھے نہیں یاد کہ ختم ہونے کا نام بھی لیا ہو۔ ایک ہوائی جہاز آسمان ہی میں پھٹ کر شعلۂ جوالہ بن گیا۔ پھر آسیبی ہیولے اپنی بھاری بھاری چاپ کے ساتھ ہجوم کرتے لوگوں کو یہ بتاتے ہوے گزرے کہ جہاز بستی کو برباد کیے دے رہے ہیں اور مشورہ دینے لگے کہ لوگ اپنے گھروں سے دور دور رہیں۔

آسیبی ہیولوں کے پرے کے پرے گرتے پڑتے گلی کوچوں میں نکل بھاگے۔ ہمارے والدین بھی اٹھ کھڑے ہوے اور ہم سب کو جلدی جلدی سمیٹ کر خوفزدہ ازدحام کے ساتھ اس صحرا کی جانب نکال لے گئے جو بستی کے شمال مشرق میں پھیلا ہوا تھا۔ آس پاس پناہ کے لیے کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی۔

وہ رات قیامت سے کم نہ لگتی تھی۔ ابا اس کو اسی طرح بیان کرتے تھے اور بعد میں امی بھی ان کے یہی الفاظ دہرایا کرتیں۔ لوگ وحشیوں کی طرح آپس میں دھکاپیل کر رہے تھے اور ننگے پاؤں اپنے گھر کے لباسوں میں اس گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے بھاگے چلے جا رہے تھے۔ ’’محسن، تم کہاں ہو؟‘‘، ’’بچے کہاں ہیں؟‘‘، ’’دروازہ لگا دیا تھا؟‘‘، ’’گھر کو جھونکو جہنم میں، جلدی کرو‘‘، ’’ابا، ذرا رکو تو!‘‘، اور کتے تھے کہ چہار جانب سے بھونکے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنے تین بھائی بہنوں کے ساتھ بھاگتے ہوے روتا بھی جا رہا تھا۔ اس گھنے اندھیرے میں آہ و بکا کرنے والوں میں بچوں کی اکثریت تھی۔

یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ اس ابتری کی رات میں کتنی ساری خلقت نے اس صحرا میں پناہ لے رکھی تھی؛ بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ تاریک راہگزار لوگوں سے اس طرح پَٹا پڑا تھا جیسے ہم سب کسی بزرگ کے عرس میں آئے ہوے ہوں، جیسا کہ چچا حسن نے زہرخند کے ساتھ کہا تھا: ’’شیخ ہٹلر کے عرس میں۔‘‘

’’زمین کھودنے میں میرا ہاتھ بٹاؤ!‘‘ ابا نے امی سے اس قسم کے امور کے کسی ماہر کے لہجے میں کہا تھا۔ ’’چلو بچّو، کھودو۔ حسن آفندی، اپنے بچوں کے لیے ایک خندق بنا لو تاکہ گولوں کے اڑتے ہوے ٹکڑوں کی زد سے محفوظ رہیں۔‘‘

ہم نے مل کر ایک بڑی سی خندق کھودی جس میں ابا نے ہم سب کو ٹھساٹھس بھردیا۔ اس دوران بستی پر پے در پے دھماکوں پر دھماکے ہوتے رہے اور آسمان پر بے ہنگم گھن گرج چھائی رہی۔ اوپر آسمان بجلی کی طرح وقفے وقفے سے روشنی کے جھما کے ہوتے رہے اور پھر ہوائی جہاز ہمارے اوپر منڈلانے لگے۔

’’بالکل ہمارے سروں پر آ گئے ہیں،‘‘ ابا چلّائے۔ امی نے ایک دلدوز چیخ ماری اور ہم سب کو چھپا لینے کے لیے ہمارے اوپر اوندھ گئیں۔ ابا نے بھی یہی کیا۔ پورے صحرا میں لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے آوازیں گونجنے لگیں۔ جواب میں ان کو چپ کرانے کے لیے کچھ دوسری آوازیں بلند ہو گئیں۔

میں نے اپنی گردن اچکا کر سر اوپر کو اٹھایا اور ابا کی بغل میں سے آسمان کی طرف دیکھا کہ شاید کسی ہوائی جہاز میں کوئی جرمن دکھائی دے جائے اور میں اپنے تصور میں بنائی ہوئی جرمنوں کی شکل کی تصدیق کر سکوں۔ مگر ابا نے زور سے دبا کر میرا سر ریت میں دے مارا۔

’’اگر ان کی لڑائی انگریزوں سے ہے تو آخر ہم پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ امی نے سرگوشی کی۔ ابا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’کیا ہم ان کے رفیق نہیں ہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’دونوں پر اللہ کی لعنت!‘‘ ابا زور سے چیخے۔

ہوائی جہاز زمین کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ ان کی تھرتھراہٹوں نے مجھ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پھر یکایک خوفناک روشنی کے جھماکوں نے سیٹیاں سی بجاتے ہوے تاریک صحرا کو بے لباس کر دیا اور پھر تو، جیسا کہ چچا حسن کی بیوی نے، جو اس رات دو برس کے بعد ہم کو ملی تھیں، بیان کیا تھا، ’’لوگوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔‘‘
زمین سے بلند ہوتی ہوئی چیخوں نے آسمان سے آتے ہوے دھماکوں کے ساتھ مل کر شور اور واویلا کا اس قدر ہنگامہ گرم کیا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی وہ اب تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ جب پو پھٹی تو امی نے آس پاس کی دوسری عورتوں کی طرح خود کو جنونی دوروں کے حوالے کر دیا اور ان کو آپے میں لانے کی ابا کی ہر کوشش بیکار گئی۔

آخرکار یہ قتل عام بند ہوا۔ آسمان سے ہوائی جہاز معدوم ہو گئے اور اوپر سے آتی ہوئی تمام آوازوں اور دھماکوں نے بند ہوکر زمین کے وحشیانہ شوروغوغا کے لیے جگہ خالی چھوڑ دی جو اس وقت تک جاری رہا جب تک دن کی روشنی کا اولیں ڈورا نمودار نہ ہو گیا۔

تکان سے چُور چُور ہم سب اپنی خندق سے نکلے تھے اور اپنے والدین کے پیچھے پیچھے چل دیے تھے۔ ان کے حکم پر ہم نے اپنی آنکھیں کس کر میچ رکھی تھیں تاکہ ہماری نظر گردوپیش کے خون خرابے پر نہ پڑ جائے۔ ہم نے سیدھے اپنے گھر کی راہ لی، مگر وہ وہاں موجود نہ تھا۔ ہماری گلی میں نہ چچا حسن کا گھر سلامت تھا نہ تیسرا والا مکان اور نہ چوتھے کا آدھا حصہ؛ سب کے سب ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ ملبے کے اس ڈھیر پر جو ہمارا مکان تھا، ہماری ایک بط چکراتی پھر رہی تھی۔ پیچھے پیچھے اس کا ایک بچہ بھی تھا، جبکہ پہلے وہ پانچ تھے۔ ہوا میں چنبیلی کی مہک کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

ابا کسی سراسیمہ شخص کی طرح پہلے تو کھڑے کھڑے اس ملبے کو تکتے رہے اور پھر امی کو ٹکرٹکر دیکھنے لگے جن کو اس ناگہانی نے دم بخود کر دیا تھا۔
اس دن کا آخری اور اندوہ ناک منظر ابا کو روتے ہوے دیکھنا تھا — ایسا منظر جو میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’زندگی بھر کی محنت پل بھر میں اکارت ہو گئی،‘‘ امی آنسوؤں کی جھڑی میں منمنائیں۔

’’شکر الحمدللہ،‘‘ ابا آنسو پونچھتے ہوے بڑبڑائے۔ ’’شکر ہے کہ ہم اندر نہیں تھے۔‘‘ کچھ دیر کے لیے خاموشی ہم پر مسلّط رہی۔ پھر وہ بولے، ’’ اب تم لوگوں کو اندرونِ ملک ترکِ وطن کر جانا ہو گا،‘‘ اور اس طرح میں نے ایک نئی ترکیب ’’ترکِ وطن‘‘ سیکھی۔

’’چلو، جب تک کوئی اور بندوبست نہ ہو، تمھاری پھوپھی کے گھر چلتے ہیں،‘‘ ابا نے بات جاری رکھی، ’’بشرطےکہ وہ بھی ڈھے نہ گیا ہو۔‘‘

غمزدہ جلوس پھر سے مرتب ہوا اور ہم سب مریل چال سے چلتے ہوے روانہ ہو گئے، ’’جیسے کسی میت کے ساتھ ساتھ‘‘ جیسا کہ میں سیانا ہوجانے پر اپنے احباب کو یہ واقعہ سناتے وقت کہا کرتا تھا۔ اپنے مکان کے ملبے کے پاس سے ہٹتے وقت میں نے دیکھا کہ ابا نے باہر کو نکلے ہوے ایک پتھر کو گھسیٹا اور دوبارہ ملبے کے بڑے سے ڈھیر کی طرف اچھال دیا۔

’’جب جنگ ختم ہو جائے گی،‘‘ میں نے ان کو کہتے سنا، ’’تو ہم اس کو پھر سے بنائیں گے۔‘‘
پھر جنگ ختم ہو گئی۔۔۔

کندھے پر ٹہوکا لگا تو میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میری بیوی کہہ رہی تھی، ’’تم کو کیا ہوگیا ہے؟ سن رہے ہو؟ ہم کب بنانا شروع کریں گے؟‘‘

اس مکان کا آسیب ابھی میرے سر میں موجود تھا۔

’’جن لوگوں نے تباہی کے یہ سب خوفناک ہتھیار ایجاد کیے ہیں،‘‘ میں بولنے لگا، ’’آخر وہ کوئی ایسی چیز بنانے کی کیوں نہیں سوچتے جو مکانات کو ان کی تباہ کاریوں سے بچا سکے؟‘‘

میری بیوی کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی۔ اس نے مجھ کو یوں دیکھا جیسے بڑے دُلار سے سوال کر رہی ہو۔ میں مسکرا دیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح گھمانے لگا جیسے اپنے خیالات کو اڑا رہا ہوں، اور بولا، ’’فکر کی کوئی بات نہیں؛ میرا اس پر یقین ہے کہ اب جنگ کبھی نہیں ہو گی۔‘‘

اس بات نے میری بیوی کے چہرے کی حیرانی کو اور بھی بڑھا دیا۔

Image: Muhammad Hafez

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

امام باڑے والے زیدی صاحب (زکی نقوی)

یہ خاکہ ایک شیعہ سید زادے کی یاد میں لکھا گیا ہے جنہیں میں کبھی نہ سمجھ سکوں گا کہ آپ کی دیوانگی کی فرزانگی کے مقابلے میں کیا قدروقیمت تھی۔

سید پناہ حسین زیدی کا وطن مالوف اُتر پردیش تھا۔ میر اخیال ہے یُو پی میں آگے فیض آباد (لکھنئو) کے تھے۔ تقسیم سے پہلےبرٹش انڈین آرمی میں وائسرائے کمیشنڈافسر تھے، جنگ کے بعد کچھ پلٹنیں ٹُوٹیں تو گھر آرہے۔ غدر کا جانکاہ سال گزر چکا، مہاجرین کی غارتگری کا سلسلہ ختم ہوا تو یہ بھی بالائی پنجاب کی طرف اٹھ آئے اور پہلا ٹھکانہ میانوالی میں کیا۔ پاکستان کی فوج میں تعمیرِ نَو کا عمل چل رہا تھا، سپاہی پیشہ تو تھے ہی، ایک جان پہچان کے اعزازی کرنل کمانڈانٹ کو چٹھی لکھی اور بلوچ رجمنٹ کی ایک پلٹن میں بھرتی ہو گئے۔ یہاں سال بھر تو اچھا گذرا لیکن پھر ایک گَھٹنا ہو گئی۔ پلٹن کے اینگلو انڈین صاحب ایجٹن بہادر سے کسی بات پر تکرار ہو گئی، بات مادر پدر خواہی تک پہنچی تو زیدی صاحب نے طیش کھا کر سنگین کمر سے کھولی اور کپتان ڈیوڈ پریسکاٹؔ کے حلق سے آر پار کر دی۔گہرے سانولے کپتان کے گہرے سرخ خون کا فوارہ چھُوٹا اور زیدی صاحب قبلہ کا چہرہ گرم فوجی خون سے لتھڑ گیا۔ آپ نے اس کے بعد وردی کا باقی عرصہ فوجی ہسپتال میں دماغی معالج کی نگرانی میں گزارا لیکن کبھی ذہنی توازن مکمل بحال نہ ہو سکا۔ میڈیکل بورڈ نے کورٹ مارشل کے ناقابل قرار دے کر میڈیکل پنشن پر انہیں فوج سے نکال دینے کی سفارش کردی جو خداوندانِ جی ایچ کیو نے فوراً قبول کرلی۔ فوج چھوڑی تو میانوالی کو بھی خیرباد کہہ دیا اور پھر یہاں میرے آبائی گاؤں آکر ہمیشہ کیلئے یہیں کے ہو رہے۔

زیدی صاحب یہاں آئے تو ہمراہ بیوی، ایک کمسن لڑکا اور دو جواں سال لڑکیوں پر مشتمل خانوادہ لے آئے۔ لڑکیوں کو تو یہاں آتے ہی، ایک کو شہر کے ایک مہاجر سید، دوسری کو ہمارے ایک چچا سے بیاہ دیا جو سفر مینا کی پلٹن میں سپاہی تھے، لڑکے اور بیوی کے ساتھ یہاں ایک سادہ سی غریبانہ زندگی کا آغاز کیا۔ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے ہیں کہ سید بھی ہاتھی کے موافق زندہ ہو تو لاکھ کا، مَرجائے تو سوا لاکھ کا، لیکن اگر فاطر العقل ہو جائے تو تین چار لاکھ کا ہو جاتا ہے۔چونکہ سید صاحب موصوف کا ذہنی توازن تا حیات متزلزل رہا، سو اہلِ علاقہ اُن سے دعا لیتے رہے اور پھر بدستور دم درود بھی کرواتے رہے۔ارادتمندوں کے اس حلقے کی وجہ سے آپ کی معاش عمر بھر خطِ غربت پر سہی مگر رواں دواں رہی۔ یہاں دو لڑکے اور ہوئے۔ بڑا لڑکا تو چونکہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکا تھا سو جونہی جوان ہوا، اُسے سپاہی کروا دیا۔ منجھلے اور چھوٹے بیٹے کو اسکول بھیجا۔ چاروناچار ان لڑکوں کو پڑھنا تھا کیونکہ پڑھائی میں غفلت کا مطلب تھا کھجور کی گیلی چھڑی سے کھال کا اُدھیڑ دیا جانا۔۔۔ زیدی صاحب کا غصہ کس سے پوشیدہ تھا۔ علاقے کے بلوچ اور سیال سردار، زمیندار بھی اُن کے سامنے سہمے سے رہتے تھے کہ ایک تو جوارِ لکھنئو کی اُردو کی سکہ بند ماں کی گالیاں مع چند مابعدِ ہجرت اضافوں کے، ہمہ وقت آپ کے نوکِ زباں رہتیں۔ سو بھری پنچائیت میں صاحب خاں بلوچ کو غصے میں آکر مادرچود کہہ دیا تو پھر کیا مجال ہے کہ خا ن موصوف بھی اسی ردیف قافیے میں کوئی جواب دے پاتے! دیتے بھی تو بے چارے پھر پنچائیت میں کیا منہ دکھانے کے قابل رہتے کہ ایک سید کو گالی بکی؟ پھر زیدی صاحب کے ہاتھ میں ہر وقت جو گرہ دار لکڑی کی جریب رہتی تھی، اگر اُس کا رُوئے سُخن کسی کی طرف ہو گیا تو بلا تخصیصِ عمر و مرتبہ اُس کا بچنا محال تھا۔ دو گز کی یہ جریب آپ سے ہر شخص کو تین گز کے فاصلے پر ہی رکھتی۔ ایک دفعہ جلال میں بیٹھے تھے، پیارے خاں سیال کی بیوی دعا لینے کو آئی۔ ’’مرشد، شادی کو چھے سال ہونے کو آئے ہیں، اُمید نہیں بر آتی، بیٹے کی دعا کر دیں تو عمر بھر نوکری دوں گی!‘‘۔ زیدی صاحب نے لاٹھی زور سے زمین پر ماری اور غصے میں دھاڑے، ’’چلی جا مادرچود! تیرے لڑکا ہوگا! جا اُوپر سے مانگ، ادھر سے میں نے دعا دے دی ہے، چلی جا مادر۔۔۔‘‘ خُدا کی کرنی، وہ اُمید سے ہوئی تو لڑکا ہوا۔پیارے خاں کا بیٹا عمر حیات خاں عمر بھر ان کا مرید رہا البتہ عمر خاں گالیاں بہت بکتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ زیدی صاحب کی دعا سے جس کے ہاں بھی اولاد ہوئی، دشنام طرازی میں یگانہ روزگار ہوتی تھی۔

آپ کو عمر بھر ایک ہی دھُن سوار رہی۔ میرے پردادا نے گاؤں میں جس امام باڑے کی بنیاد رکھی تھی، زیدی صاحب کی خواہش تھی کہ اس سے بڑا امام باڑہ مہاجرین سادات بھی گاؤں میں قائم ہو۔ اب گاؤں میں مہاجرین سادات کی کل تعداد ہی جب چھے تھی، یعنی شاہ صاحب کے گھر کے کُل نفر، تو امام باڑہ کیا بنتا اور کون بناتا؟ بات یہ تھی کہ ذہنی اختلال کے باوجود اُنہوں نے ساری زندگی کوئی نماز قضا کی نہ ہی عزاداریٔ سید الشہدأ سے غافل ہوئے۔ نبیﷺ اور آلِ نبیﷺ سے مودت کا جذبہ ان کے ذہنی توازن ڈگمگانےمیں بھی محفوظ رہا۔ عاشور کے دنوں میں راہ چلتے بھی گریہ کرتے پائے جاتے اور نعرۂ یا علیؔ سے اُن کا آنگن سارا سال گونجتا رہتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اہلِ دیہہ کی سماعتوں میں وہ گونج ایسی پختہ ہوئی کہ میرے گاؤں کے کئی بزرگوں نے اگر زیدی صاحب کی وفات کے بعد بھی اُن کی قبر سے ’یاعلیؔ‘ کی آوازیں آتی ہوئی سُننے کا بیان قسمیں کھاکر دیا ہے تو وہ جھوٹ بھی نہیں کہتے۔ آپ کے، میرے لیے یہ پیراسائیکولوجی کا گھن چکر ہو گا لیکن وہ بوڑھے اپنی سماعتوں پر پورا ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ بیگوُ ماچھی کا ایمان تو سب سے دلچسپ کرشمہ دکھاتا ہے۔ ہم نے کم سنی میں یہ واقعہ کئی دفعہ بیگوُ سے سُنا۔ بیگوُ ماچھی ایک دفعہ، زیدی صاحب کی وفات کے کئی سال بعد امام باڑے کے قریب سے گزررہا تھا کہ اُسے فطری بشری حاجت نے اس قدر تنگ کیا کہ امام باڑے کے قریب ہی ایک جھاڑی کے پہلو میں پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔ ابھی بیٹھے ہوئے ایک لمحہ بھی کیا ہوا ہو گا کہ کیا دیکھتا ہے، پناہ حُسین زیدی صاحب سامنے سے ہاتھ میں وہی جریب لہراتے ہوئے آرہے ہیں اور پھر اُن کی آواز آئی ہے، ’’ٹھہر بے مادرچود!! مہاجری امام باڑے کے پہلو میں ہاگتا ہے؟؟ تیری تو نسلوں کا گوبر خطا کر دوں گا بھوس۔۔۔کے!!‘‘ پھر جو بیگوُ ماچھی بھاگا وہاں سے آج تک سہما ہوا ہو گا۔

سید پناہ حُسین زیدی صاحب دُبلے پتلے اور متوسط قامت کے تھے۔ رنگت خالص ہندوستانیوں والی، یعنی سیاہ تھی جو شاید جوانی میں فقط سانولی ہوتی ہو گی۔ڈاڑھی موچھ تمام سفید تھی لیکن اس معمولی سی شکل صورت کے باوجود بات کا لب و لہجہ پرانے زمانے کے دبنگ ہڑدنگ سپاہیوں کا سا تھا۔ یہاں آکر بھی اُردو ہی بولتے تھے اور آخر تک وہی لکھنئو والا لب و لہجہ قائم رکھا۔ لباس صاف ستھرا پہنتے جس میں اپنی وضعداری کا جہاں تک ہو سکتا، پورا پاس رکھتے تھے۔ پگڑی بھی طرے دار باندھتے تھے۔ ایک دفعہ مجالسِ عاشورہ کی پہلی محفل میں آئے، سفید کپڑے اور واسکٹ زیبِ تن کر رکھی تھی اور پگڑی بھی حسبِ معمول باندھ رکھی تھی۔ مجلس کی صفوں میں بیٹھے کچھ تو یوں بھی نمایاں تھے، ذیادہ نمایاں اپنی دستار کے طرے کی وجہ سے ہو رہے تھے۔ اُس زمانے میں تمام مرد بلا تخصیصِ عمر، سر پر پگڑی باندھے رکھتے تھے لیکن ضابطہ اور رواج یہ تھا کہ جب عزاداری کی مجلس میں بیٹھا جائے تو سوگ کے اظہار کے طور پر پگڑی اُتار کر گلے میں ڈال لی جائے مگر زیدی صاحب کو خیال نہ رہا یا شاید کوئی اور وجہ۔ اس وقت جو روضہ خواں شہادت پڑھ رہا تھا، ساتھ کے گاؤں کا بلوچ تھا، اُس کی شامت آئی تو متوجہ ہوا؛ ’’شاہ صاحب قبلہ گستاخی معاف، یہ عزا کی محفل ہےاور امامِ مظلوم کا سوگ ہے، آپ سید ہو کر طُرے کی پگڑی باندھے بیٹھے ہیں، چہ بوالعجبی؟‘‘ زیدی صاحب اگرچہ اس بات سے متفق ہوں گے لیکن شاید تہیۂ طوفاں پہلے کر کے آئے تھے یا ایک بلوچ کی گستاخی پر جلال میں آگئے، ’’بکواس مت کر مادرچود! یہ تیرے جدِ امجد کا سوگ ہے یا میرے؟؟ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے!!‘‘ مجلس پر ایک لمحے کے لئے تو گہری خاموشی چھا گئی، پھر چند لوگوں نے اپنی ہنسی کو کھانسی اور چھینکوں میں خارج کر نے کی کوششیں کیں تو روضہ خواں بھی کھسیانا سا ہو کر دوبارہ اپنے موضوع کی طرف آ گیا، زیدی صاحب پلوُ جھاڑ کر مجلس سے اُٹھ آئے۔ شاید اُنہیں پنجابیوں کے امام باڑے میں عزاداری کا کچھ لطف بھی نہ آتا تھا۔کچھ یہ بھی تھا کہ جس روائیت کو میر مستحسن خلیقؔ، انیسؔ اور دبیرؔ نے لکھنئو اور دِلی میں پروان چڑھایا، عزاداری کی اُس روائیت سے پنجابی ذہن ہنوز بہت دور تھا سو اُنہوں نے امام باڑہ مہاجرین سادات بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسی اثنا میں گاؤں میں موجود مہاجرین میں ایک کی کمی ہوئی کہ وہ پردیس سدھار گیا۔ زیدی صاحب نے منجھلے لڑکے کو بھی فوج میں بھیج دیا جو کہ ایک دفعہ گاؤں سے گیا تو ہم نے دوبارہ کبھی نہ دیکھا۔۔۔ شاید فقط زیدی صاحب کی وفات پر ہی گاؤں آیا تھا۔ مہاجرین سادات کے امام باڑے کا خیال آیا تو بیوی سے اظہارِ خیال کیا، وہ بولیں؛

’’پناہ حُسین، یہاں مہاجرین ہیں ہی کتنے۔ پھر ایک امام باڑہ جو ہے جلال شہانوں کا، اُس میں بھی سارا گاؤں عزاداری کر لیتا ہے، سبھی نماز بھی وہیں پڑھ لیتے ہیں، کافی ہے۔ ہاں، نیکی کا کام ہے، عقیدت کی بات ہے تو بنانے میں کیا برائی ہے لیکن جلدی نہ کرو، جب یہ غریبی کے دن کٹ جائیں گے، ضرور بنائیں گے امام باڑہ۔۔۔‘‘

زیدی صاحب کو سمجھ آگئی۔ اس مسکین خاتون کی وفا شعاری، خُدا رسیدگی اور شرافت بھی بے مثال تھی۔ اُنہوں نے ان کے ساتھ خُوب نباہی تھی۔ ان کی تند وتلخ طبیعت کو بھی سہا اور ان کے بچوں کی پرورش بھی ایسی کی کہ زیدی صاحب کے درویشانہ استغنأ کے بس کی بات نہ تھی۔ البتہ ایک دفعہ بہت بدمزگی ہوئی۔ چھوٹے لڑکے نے میٹرک میں علاقے بھر میں نمایاں پوزیشن لی تو بڑے خوش ہوئے۔ اُس وقت فوج میں جے سی اسکیم ہوتی تھی، ٹھان لی کہ بیٹے کو کپتان کی وردی میں دیکھیں گے! بیٹے کو ساتھ لیا اور راولپنڈی جا پہنچے ۔ بھرتی دفتر والے افسر بڑی عزت سے پیش آئے لیکن لڑکے کے قد میں افسری کے معیارات سے انچ بھر کی کمی کی وجہ سے اُنہوں نے معذرت کرلی۔ اب جو زیدی صاحب کا پارہ چڑھا تو واپسی کے تمام راستے میں کھولتے رہے، گھر آتے ہی لٹھ سنبھالی اور اماں بی کو پھٹک ڈالا،
’’نہ مَیں تُجھ ٹھگنی سے بیاہ کرتا نہ میرے بچے کا قد چھوٹا ہوتا، مادر۔۔۔‘‘
ہمسایہ عورتوں نے بیچ میں پڑ کر اماں بی کی جان بخشی کروائی۔ خیر گزری کہ اگلے دو ایک سال میں ہی ان کا وہ لڑکا ائرفورس میں پائلٹ ہو گیا ورنہ اماں بی تو عمر بھر یہ طعنہ سُنتی رہتیں۔۔۔

پناہ حُسین زیدی صاحب نے اپنے برسرِ روزگار، یعنی فوجی بیٹوں سے کبھی کچھ زیادہ طلب نہیں کیا، بس یہی کہا کہ بیٹا ریٹائرمنٹ پر جو رقم ملے، امام باڑہ مہاجرین سادات ضرور بنوانا۔ بڑے دو بیٹوں نے بالعموم اور چھوٹے نے بالخصوص اس نصیحت کو خوب نباہا، لیکن یہ بعد کی بات ہے۔ ایک دفعہ عاشور کی مجالس میں ایک کم سن لڑکے کو دبیرؔ کا مرثیہ پڑھنے پہ مامور کیا گیا۔ فرمائش گاؤں کے ایک بلوچ بزرگ کی تھی جو کہ مہوؔ چھاؤنی سے پڑھ کر آئے تھے اور اردو مرثیے کا خوب ذوق رکھتے تھے۔ لڑکے نے بھی محنت سے کمال تحت اللفظ تیار کیا۔ اگرچہ یہیں کے سیدوں کا لونڈا تھا مگر اُردو کا لہجہ بھی خُوب پیدا کیا۔ مجلس بپا ہوئی تو لڑکے نے مرثیہ شروع کیا، شہزادہ علی اکبر کا سراپا پڑھا۔ سُنی شیعہ، سبھی سُننے والے تھے، باریکیاں سمجھنے والے اگرچہ معدودے چند تھے مگر پھر بھی بہت پسند کیا گیا۔ ایک شعر پہ زیدی صاحب پھڑک اُٹھے! شہزادے کے چہرہ مبارک کا پسینے میں شرابور ہونے کا منظر؛
؎ یہ قدر عرق کی نہ کسی رُو سے بڑھی تھی
شبنم کبھی خُورشید کے رُخ پر نہ پڑی تھی!

زیدی صاحب نے شعر دوبارہ پڑھوایا۔ لڑکے نے پڑھ دیا۔ زیدی صاحب تو وجد میں ہی آگئے، پھر پڑھوایا۔ لڑکے نے پھر پڑھ دیا، زیدی صاحب آنکھیں موندے، جھومنے لگے۔ ’’پھر پڑھو لڑکے میاں!!‘‘ لڑکے نے پڑھ دیا لیکن پنجابیوں نے پہلو بدلنے شروع کر دئیے۔ ’’واہ! واہ! پھر پڑھ لڑکے!‘‘ زیدی صاحب کہے جاتے تھے، لڑکا بیچارہ سہمے ہوئے پڑھے جارہا تھا، آہستہ آہستہ تحت اللفظ رُخصت ہوا، جوشِ خطابت رُخصت ہوا، پھر آواز دھیمی پڑ گئی، آخر نوبت بایں جا رسید کہ زیدی صاحب نے جو فرمایا ’’واہ! پھر پڑھ بیٹے!!‘‘ سید زادہ منمنا ہی سکا، ساتھ ہی اُس نے مجلس میں حاضر دیگر بیزار بُوڑھوں کی طرف امداد خواہ نظروں سے دیکھا تو چچا دلاور خاں بول اُٹھے: ’’شاہ صاحب اتنا پسینہ تو اب تک شہزادے کے رُخ پر نہ ہو گا جتنا آپ نے بچے کا نکال لیا ہے!‘‘

بس پھر کیا تھا، اتنی دیر کی بیزاری قہقہوں میں اُڑی۔ زیدی صاحب کو پنجابیوں کی کور ذوقی اور بدتہذیبی پر سخت غُصہ آیا۔ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ روضہ خواں سے جو گذشتہ سال بھی زیدی صاحب سے ڈانٹ وصول کر چکا تھا، مخاطب ہوئے، ’’ممتاز خاں! کل سے تُم اوپر ٹیلے پر، مہاجرین سادات والے امام باڑے میں مجلس پڑھو گے!‘‘ اور بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے۔ یہ رات اُنہوں نے لکھنئو اور اودھ کی عزاداری کی یادیں تازہ کرتے، آہیں بھرتے اور ہنگامی بنیادوں پر ایک امام باڑہ مہاجرین سادات کھڑا کرنے کی ترکیبیں سوچنے میں گزار دی۔ زیدی صاحب اپنی لکھنوی تربیت کے طفیل ہمیشہ سے قائل تھے کہ عزاداری ہمارے کلچر کے عنصر کے طور پر مذہب سے نکلتے قدقامت کی چیز ہے جسے یہ سطحی پنجابی ذہن نہیں سمجھ سکتا۔ پھر اگلے دن زیدی صاحب نے امام باڑہ مہاجرین سادات قائم کرکے پنجابی ذہن کو حیران کر ہی دیا۔ آپ نے ایک عَلمِ جنابِ عباس لیا اور اپنے گھر کے برابر میں ٹیلے کی چوٹی پر برگد کے پیڑ کی سب سے اونچی پھننگ پر باندھ دیا۔پانی کے دو مٹکے بھر کے چھاؤں میں رکھے، مسجد سے مستعار صفیں لا کر بچھائیں اور نیچے بستی میں آن اُترے جہاں پرانے امام باڑے میں مجلس جاری تھی وہاں جا دھمکے۔ ’’ابے او بلوچ کی اولاد!‘‘ ممتاز خان بلوچ روضہ خواں آپ کی آواز سنتے ہی بوکھلا سا گیا۔ ’’تجھے جو کہا تھا کہ آج کی مجلس وہاں اوپر،ا مام باڑہ مہاجرین سادات میں پڑھو گے!‘‘ روضہ خواں بیچارہ چُپ۔ بستی کے بڑے بوڑھوں نے احتجاج کیا کہ شاہ صاحب وہ کاہے کا امام باڑہ ہے جس کے دیوار ہے نہ در؟؟ زیدی صاحب جلال میں آگئے۔ ’’ابے مادرچودو! ہم نے جو کہہ دیا وہ امام باڑہ ہے، کیا وہ امام باڑہ نہیں ہے؟؟ تو اُسے کیا مویشیوں کا باڑہ سمجھتے ہو؟ ہاں تُم اسے امام باڑہ نہیں سمجھتے، مویشیوں کا باڑہ سمجھتے ہو!‘‘ یہ کہہ کر واپس مُڑے، غُصے میں پگڑی اُتار کر گلے کا پٹکا بنا لی، اوپر جا کر امام باڑے والے برگد کے پیڑ کے نیچے سے صفیں سمیٹیں، مٹکے اُٹھائے اور گھر جاپھینکے، پھر ہمسائے میں جا کر اُن کی بکریوں کو ہانک لائے اور برگد کے پیڑ تلے باندھ دیا۔ بلوچوں کے دو دنبے پکڑے، وہاں لے جا کر باندھ دئیے اور درجوابِ آں غزل یہی نہیں کیا بلکہ مقطع بھی خوب لگایا کہ آخر پہ اپنا گدھا بھی لا کر باندھ دیا، ساتھ ساتھ یہ کہتے جارہے تھے؛ ’’مادرچودو! یہ رہا مویشیوں کا باڑہ! تُم اسے امام باڑہ نہیں سمجھتے ناں!‘‘ اُس وقت تو سبھی چُپ کرکے دیکھا کئے، اگلی صبح کے منظر پہ کوئی چُپ نہ رہ سکا بلکہ آج بھی یاد کرکے بوڑھے لوگ مسوڑھے نکال نکال ہنستے ہیں کہ شاہ صاحب نے جو اُٹھ کر دیکھا تو باقی سب مویشی سلامت ہیں، اپنا گدھا مُردہ پڑا تھا۔ اب گدھے کے پہلو میں لاتیں رسید کئے جارہے ہیں اور تحکمانہ فرمائے جارہے ہیں:

’’اُٹھ مادرچود! اناج کھالے!‘‘

لیکن ایک دُھن تھی کہ شاہ صاحب کو سوار ہوئی تو تادمِ آخر امام باڑہ بنانے کیلئے پائی پائی اور آنہ پیسہ اکٹھا کیا۔ گھر میں مُرغی روزانہ انڈہ دیتی تو ایک دن کا انڈہ اپنے مصرف میں لاتے اور دوسرا فروخت کرکے پیسے ’بنامِ مولا‘ رکھ لئے جاتے۔ اس عرصے میں ہم پنجابیوں کے امام باڑے میں آتے تھے، نماز بھی پڑھتے تھے، عزاداری بھی کرتے تھے لیکن ایک معمول عجیب تھا۔امام حُسینؑ کی ضریح پہ نہ جاتے، جنابِ عباس کی ضریح پہ جا کر سلامی دیتے۔ وجہ پوچھی تو ضریحِ حسینؑ کی طرف اشارہ کرکے کہتے،’’ اُس سید نے اِس سید کو کھُل کر لڑنے کی اجازت نہ دی، مصلحت دکھائی، اس سید کو شجاعت نہ دکھانے دی!یہ سولجر سید تھا، سولجر! ‘‘ پھر ضریحِ عباس کو سلیوٹ کرتے۔ امام حُسینؑ سے ناراض رہے کہ عباس کو کھل کر لڑنے نہ دیا لیکن ہم نے سُنا ہے کہ اما م حُسین اس سید زادے سے ناراض ہرگز نہ تھے۔ یہ قصہ زیدی صاحب کی زندگی کے آخری پہر کا ہے کہ جب ایک اجنبی سا شخص ہمارے گاؤں آیا۔ پوچھا یہاں پناہ حُسین نام کا کوئی سید رہتا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں خان کے ڈیرے پر بیٹھے ہیں، اجنبی نے حُلیہ پوچھا تو بتایا گیا۔ وہ پہنچا تو کئی لوگ وہاں موجود تھے۔ زیدی صاحب ہلکے بُخار کی وجہ سے دھوپ سینک رہے تھے، ان کا چہرہ قبلہ رُخ تھا۔ اجنبی نے پوچھا ’’آپ میں سید پناہ حُسین کون ہیں؟‘‘۔ زیدی صاحب چونکے اور اجنبی شخص سے بڑی گرمجوشی سے مخاطب ہوئے، ’’مَیں ہوں! تُو بس میری امانت مجھے دے، مجھے جلدی جانا ہے!‘‘ وہ شخص گھبرا گیا، اُس نے خاموشی سے ایک انگوٹھی اور مُٹھی بھر خاکِ کربلا سے بھری تھیلی اُن کے حوالے کی۔ اُنہوں نے لے کر آنکھوں سے لگائی، مُڑ کر سبھی سے مخاطب ہوئے اور بولے؛

’’اچھا یارو، ہمیں ہمارے مالکوں کا بُلاوا آگیا ہے! چلتے ہیں، خُدا حافظ!‘‘

یہ کہہ کر زیدی صاحب اپنے گھر چلے گئے اور بی اماں سے کہا کہ اُن کا اُجلا بستر لگا دیں۔ بستر لگا، زیدی صاحب اس پر دراز ہوئے، شام کو شور اُٹھا کہ سید پناہ حُسین زیدی دارِ فانی سے رُخصت ہو گئے ہیں۔ اب لوگوں نے چہ مگوئیاں شروع کیں تو اجنبی کا قصہ پھیلا۔ اُس شخص نے شاہ صاحب کے اُٹھ کر آنے کے بعد بتایا کہ وہ کربلائے معلیٰ کا زائر تھا۔ وہاں روضۂ امام حُسینؑ پر اُسے خُدام میں سے کسی عراقی نے یہ دونوں چیزیں دے کر کہا تھا کہ تمہارے صحرا میں پناہ حُسین نام کا ایک سید رہتا ہے، یہ اُسے دے دو، کہنا سید الشہدأؑ اپنے عزادار کو سلام بھیجتے ہیں۔ دادا جان سے میں نے سُنا تھا کہ اجنبی نے کہا تھا کہ کربلا میں عالمِ خواب میں امام نے خود زیارت کروا کراس زائر کو یہ حُکم دیا تھا، خیر، ایک سال سے وہ اجنبی صحرائے تھل کے گاؤں گاؤں میں پناہ حسین نام کے سید کو ڈھونڈتا پھررہا تھا۔یہ واقعہ آج تک ہمیں حیران کئے ہوئے ہے۔ پناہ حُسین زیدی صاحب کو اسی امام باڑہ مہاجرین سادات کے احاطے میں، برگد کے پیڑ تلے دفن کیا گیا، ہمراہ وہ انگوٹھی اور مٹھی بھر کربلا کی خاک بھی کی گئی۔ اس امام باڑے کی چاردیواری وہ اپنی زندگی میں آنہ پائی جوڑ کر بنوا چکے تھے۔ ریٹائرمنٹ پر ان کے چھوٹے بیٹے اسکواڈرن لیڈر شہسوار حسین زیدی نے اُسے ایک شاندار، وسیع امام باڑے کی شکل دی۔ وہ جو پنجابی لونڈے اس سید زادے کی اُردو پہ ہنستے تھے، اب ان میں سے کچھ بوڑھے ہو کر اور جو گزر گئے ان کی اولادیں اسی امام باڑے میں سید الشہدأ کا گریہ کرتے ہیں، ہر مسلک کی عورتیں اب یہاں آکر نذر نیاز دے جاتی ہیں، زیدی صاحب کی قبر پہ فاتحہ پڑھ جاتی ہیں۔ جنازہ گاہ کے طور پر بھی یہ سبھی کے لئے کھلا ہے۔

اب چونکہ عزاداری صرف زیدی صاحب کے ہم مسلکوں تک ہی مخصوص رہ گئی ہے کہ باقی سبھی لوگوں کو ’’خالص اسلام‘‘ کا راستہ دکھانے والے راہبر مل گئے ہیں، کچھ مجھ ایسے ہیں جنہیں ’سائینٹفک‘ سوچ کے زعم نے دوعالم کے عقیدوں سے آزاد کردیا ہے (لیکن تہذیب و ثقافت کے بندھن سے پھر بھی آزاد نہیں ہیں ) سو کبھی کبھار اس طرف آنکلتے ہیں جہاں زیدی صاحب کی قبر اُن کی یاد دلاتی ہے، تو اب اُنہیں یاد کرنے والے لوگ کم ہی رہ گئے ہیں۔مگر جب جب اُن کا ذکر ہوتا ہے تو سوچتا ہوں کہ شاید ایک وقت آئے گا جب ہم نام نہاد خرد والے مٹی میں مل جائیں گے، خرد والوں کی ایک نئی نسل آئے گی تو جب جب انہیں ان کے تہذیبی و ثقافتی رشتے کی طنابیں اپنی بُنیاد کی طرف کھینچیں گی تو وہ بھی ہمارا نہیں، ایسے ہی دیوانوں کا تذکرہ لکھنے پر مجبور ہو جائیں گے!!

سرگودھا،
۸ فروری بیس سو اُنیس۔

Image: Nad-e-Ali

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 4 (راج کمار کیسوانی)

سرکار کے پُنرواس وبھاگ [بحالی کے محکمے] کے پاس ان لوگوں کو بسانے کے لیے یا تو خالی پڑی نوابی عمارتیں تھیں یا پھر بٹوارے کے بعد گھر چھوڑ کر پاکستان جا چکے مسلمانوں کے گھر تھے۔ یوں تو زیادہ تر مکان روایتی قسم کے رہائشی مکان تھے لیکن ان مکانوں کا واسطہ ایسے لوگوں سے تھا جو اس گلی، اس محلے میں برسوں سے آباد تھے اور وہ گھر اس گلی، محلے اور شہر میں ان کے چہروں کے ساتھ یہاں کے پرانے باشندوں کی یاد میں اب تک تازہ تھے۔ اس پر ایک ستم یہ ہوا کہ کچھ بےگھر سندھی پریواروں نے سڑک اور فٹ پاتھوں پر ٹھوکریں کھاتے کھاتے دن گزارنے سے تنگ آ کر ایک خالی پڑے شاہی محل میں ہی جا ڈیرا جمایا۔

اس شاہی محل کا نام ہے تاج محل۔ اس تاج محل کو 1874 میں بھوپال کی نواب شاہجہاں بیگم نے اپنی رہائش کے لیے بڑے شوق سے بنوایا تھا۔ اس محل میں شان و شوکت کی ہر ممکن چیز موجود تھی۔ محل کے بیچوں بیچ بنے ساون بھادوں کے فواروں سے ہر وقت عطرپھلیل کی دھاریں ہواوٴں میں خوشبو بکھیرتی رہتی تھیں۔ ہر کمرے کا الگ رنگ اور اسی رنگ کا فرنیچر، پردے اور تمام چیزیں ہوتی تھیں۔ محل کا مکھیہ دروازہ اتنا وشال تھا کہ نواب شاہجہاں بیگم کی بارہ گھوڑے کی بگھی بڑی آسانی سے یہاں داخل ہو کر چاروں دِشاؤں میں گھوم بھی جاتی تھی۔

لیکن وقت بدلا تو اسی تاج محل میں پہلے ہی وِدھوا ہو چکی بیگم، اپنی اکلوتی بیٹی اور وارث سلطان جہاں بیگم سے بھی رشتہ کھو بیٹھیں۔ زندگی کے آخری سالوں میں کینسر سے جوجھتے ہوے، اسی تاج محل میں تنہائی، درد اور آنسوؤں کے ساتھ شاہجہاں بیگم اس دنیا سے 1901 میں وداع ہو گئیں۔

ان کے وارث یہاں سے ہر قیمتی سامان اپنے نئے محل، احمدآباد کوٹھی میں لے گئے، سواے بیگم کی کراہوں اور سسکیوں کے۔ جب کچھ سندھی شرنارتھیوں نے اس جگہ آ کر ڈیرا جمایا تو ان آہوں کراہوں کا اکیلاپن دور ہو گیا۔

یہ بات کسی بھوپالی کو برداشت نہیں تھی۔ تاج محل ان کے لیے ادب اور احترام کا مرکز تھا، جہاں اس ریاست کی ایک ایسی بیگم رہتی تھی جسے عوام سے ہمدردی رکھنے والی، مذہب کی پابند اور دیانتدار عورت کی طرح یاد کیا جاتا تھا۔ اس بیگم کی جگہ ایسے لوگ رہنے لگیں جن کے بدحال چہرے، برتن اور کپڑے اس شاندار محل کی دیواروں کی خوبصورتی پر دھبے کی طرح نظر آتے ہوں، یہ کیسے ہو سکتا تھا؟

لیکن ایسا ہوا۔ تقریباً 100 سندھی پریواروں نے دیکھتے ہی دیکھتے الگ الگ رنگ کے ان کمروں میں ایک ہی وجہ سے اپنا گھر بسا لیا کہ ان کے پاس رہنے کو سوا اس ایک محل کے کوئی خالی جگہ دکھائی نہیں دی۔ لیکن اس کی ایک قیمت بھی تھی۔ مقامی لوگوں کے غم اور غصے کا اظہار سڑکوں پر چبھنے والے جملوں، چھینٹاکشی اور کبھی کبھار مارپیٹ کی شکل میں بھی پھوٹ پڑتا۔

لیکن وقت بڑا بادشاہ ہے۔ وہ انسان کو دھیرے دھیرے نئے سے نئے اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی جینا سکھا دیتا ہے۔ سو اب یہ لوگ ’رفیوجی‘ یا ’سالے سندھی‘ کے عادی ہو چلے تھے۔ ہر روز جینے کے لیے زندگی کے ہر گوشے میں اکیلے اکیلے سنگھرش کرتے ان لوگوں کے کردار نے نہ جانے کب نفرت کرنے والوں کے دل میں ذرا سی گنجائش نکال ہی لی۔

٭٭٭٭٭

میرا پریوار تو یہاں 1948 میں ہی پہنچ چکا تھا۔ آنے پر پہلے سٹیشن کے پاس ایک کیمپ میں کچھ دن گز رے۔ پُنرواس وبھاگ کے ادھیکاریوں نے کئی چکر لگوانے کے بعد بتایا کہ باجے والی گلی میں محمد غیاث الدین کی حویلی خالی ہے۔ حویلی کے نام سے پریوار کے سارے چہرے کھل گئے۔ ایسا لگا مانو انھیں اپنا کھویا ہوا سب کچھ واپس مل رہا ہو۔ مگر یہ خوشی اگلے ہی پل کافور ہونے والی تھی۔

’’سوچ لو۔ مسلمانوں کا علاقہ ہے۔ ایک بھی ہندو گھر نہیں ہے۔ اسی وجہ سے خالی پڑا ہے۔ وہاں جانے کو کوئی تیار نہیں ہے،‘‘ افسر نے چیتاونی بھرے انداز میں بتایا۔

’’تو کیا کر لیں گے؟‘‘ پتاجی اور داداجی نے ایک ساتھ کہا۔ ’’جو وہ کر چکے اس سے زیادہ اور کیا کر لیں گے؟ آپ تو ہمیں مکان الاٹ کیجیے اور چابی دیجیے۔ باقی ہم دیکھ لیں گے۔‘‘
سو بس دسمبر 1948 میں یہ پریوار آ کر یہاں اس حویلی میں بس گیا جس میں بٹوارے سے پہلے تک غیاث الدین پٹھان کا پریوار رہتا تھا۔ غیاث الدین پشاور کے اپنے پشتینی شہر جا چکے تھے۔ اب اس بڑی سی لیکن خستہ حال حویلی کے دو حصوں میں میرا پریوار رہنے لگا۔ میرے نانا کو جگہ ملی کچھ دور اتوارا کے ایک مکان میں، جس کی دیوار شہر کے ایک نامی گرامی دادا ککّو میاں کے گھر کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔

غیاث الدین کی حویلی کا سڑک کی طرف والا حصہ تو پکی چھت والا تھا لیکن اندر کے لمبے چوڑے کھلے آنگن کے دونوں طرف کے ہال نما کمروں پر دیسی کویلُو والی چھت تھی۔ میرے حصے یہی چھت آئی تھی۔ اس چھت کی خوبی یہ تھی کہ عمردراز ہو چکا بانس کی کھپچیوں والا چھپر کئی جگہ سے شہید ہو چکا تھا۔ نتیجے میں دوپہر کے وقت ان دراڑوں سے گھر کے اندر کم سے کم پانچ چھ جگہ بےحد لُبھاونی سی روشنی کی لکیریں بن کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔ روشنی کے ان درّوں سے راستہ بنا کر گھر میں آتی ان دلکش لکیروں سے کھیلنے میں مجھے بہت مزہ آتا تھا۔ سکول سے لوٹ کر بستہ ایک طرف پھینک دیتا اور ایک لکیر سے دوسری لکیر کی طرف دوڑتا پھرتا۔ اپنے جسم کے ایک حصے بھر پر پڑتی روشنی کے مقابلے بنا روشنی والے شریر کو دیکھتا اور پھر منھ اوپر کر کے روشنی کے ان سوراخوں سے جانے کیا کہہ کر خوشی بھری کلکاری مارنے لگتا۔

مگر روشنی تو اتنی ہی آتی تھی جتنی آتی تھی۔ سو میں اس اتنی روشن لکیر میں پہلے ایک ہاتھ، پھر دوسرا ہاتھ، پھر شریر کے دوسرے حصوں کو نہ لانے کی کوشش کرتا۔ پتاجی اس وقت تو گھر پر نہیں ہوتے تھے، وہ تو صبح سے ہی کرائے کی سائیکل لے کر کام پر نکل جاتے تھے، لیکن ماں کی آواز ضرور آتی رہتی تھی: ’’لالہ! روٹی کھا لو۔‘‘

میں ہر بار کھیل میں خلل ڈالنے والی اس آواز سے خفا ہوکر کہتا، ’’رکو نا۔ آتا ہوں۔ دو منٹ۔‘‘

سردی گرمی تک تو ٹھیک، لیکن بارش کے دنوں میں یہی روشنی کے درّے قہر کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ حالانکہ پتاجی، جنھیں میں دادا کہہ کر بلاتا تھا، کباڑخانے سے ٹین کے پرانے ڈبے لا کر، انھیں کوٹ کر ان درّوں کے اوپر چادر کی طرح بچھا دیتے تھے اور کویلو کے چھپر چھوانے والوں سے اس کے اوپر کویلو بھی بچھوا لیتے تھے، لیکن پانی اپنی ترلتا کا پورا فائدہ اٹھا کر گھر میں گھس ہی آتا تھا۔

پہلی کچھ بوندوں کو ہاتھوں میں، منھ پر یا سر پر لینے میں تو بہت مزہ آتا تھا۔ ایک ہلکی سی گدگدی کا سا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کچھ دیر بعد یہ مزہ مصیبت میں بدل جاتا تھا، خاص کر رات میں، جب پورا گھر بےطرح جگہ جگہ سے ٹپکنے لگتا تھا۔ نہ کوئی بستر اس سے بچ پاتا اور نہ ز مین پر بنا مٹی کا چولھا۔ اس مصیبت سے بچنے کے لیے پورا گھر جنگ کے میدان میں تبدیل ہو جاتا۔ اب یہاں اور اب وہاں ہوتے ٹپکوں کے نیچے بالٹیوں سے شروع ہو کر گھر کی چھوٹی چھوٹی کٹوریاں تک ان ٹپکوں کے نیچے بچھ جاتیں اور ایسے ہی جاگتے سوتے ساری رات گزر جاتی۔ جس دن آسمان کی ٹونٹی پوری کھل جاتی، اس دن چھت کا ایک ادھ کونا گھبرا کر دم توڑ ہی دیتا اور اس کھلے حصے سے جھرنا سا بہنے لگتا۔

حویلی کے کسی گھر میں تب تک لائٹ کا کنکشن بھی نہیں تھا۔ ہر شام سب سے پہلے گھر کے مندر کا دِیا، پھر داخل دروازے پر دو دیے، آنگن کی تلسی پر ایک دیا روشن ہوتا۔ پھر ٹین کی چھوٹی چھوٹی ڈِھبریاں اور دو ایک لالٹین جلائے جاتے تھے۔ بارش کے اس طوفان میں سب سے بڑی اور ناممکن سی چنوتی ہوتی تھی روشنی کے ان ذریعوں کو پانی سے بچانا۔ ٹمٹماتی روشنی والی ڈھبریاں باربار جلانے سے تھک کر آخر ایک لالٹین کی روشنی سے ہی کام چلانا پڑتا تھا۔

ماں کی طبیعت تو یوں بھی نرم ہی رہتی تھی، اوپر سے اس رت جگے سے ماں اگلے روز نڈھال ہو کر کھٹیا پکڑ لیتی۔ لیکن پھر بھی اگلے دن اس کی کپڑے سینے کی مشین کا پہیہ رکتا نہیں تھا۔ مجھے اس بات کی تب شاید اتنی سمجھ نہیں تھی کہ اس گھر کے پہیے اصل میں ایک سائیکل اور ایک سلائی مشین کے کل جمع دو پہیوں کے چلنے سے ہی چل رہے ہیں۔ لیکن عمر بڑھتے بڑھتے اسے سمجھنے لگا تھا۔

اس حویلی میں بعد کو آ کر بسنے والے باقی سندھی پریواروں کی بھی کم وبیش یہی کہانی تھی۔ شہر کی چھوٹی موٹی ریڈی میڈ کی دکانوں سے، محلے کی مسلم عورتوں اور آس پاس کے علاقوں کی مہیلاؤں کے کپڑے سینے کو مل ہی جاتے تھے۔ اس کی وجہ تھی ایک آنے اور دو آنے جیسے سستے ریٹ، نئے طرح کے ڈزائن اور کام کی صفائی۔ سو لگ بھگ ہر گھر سے سلائی مشینوں کے چلنے سے نکلنے والا سنگیت یہاں کی فضاؤں میں لگاتار گونجتا ہی رہتا تھا۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک پُتلی بائی کو چھوڑ کر محلے کی باقی عورتیں بھی اپنی اپنی سلائی مشینیں لے کر آ جاتیں اور ماں کے ساتھ سلائی کا کام بھی کرتی جاتیں اور باتیں بھی کرتی جاتیں۔ اس سے شاید کام کا بوجھ اور تھکن کم محسوس ہوتی تھی۔ مجھے ایسا اس لیے لگتا تھا کیونکہ ایسے موقعوں پر گھر کا اونگھتا سا ماحول ہنسی ٹھٹھے کی آوازوں سے بھر جاتا تھا۔ اور اس پر ایک جگہ، ایک ساتھ، لگ بھگ ایک ہی رِدم میں چلتی مشینوں کی آواز سے ایک عجیب سی لے پیدا ہونے لگتی۔ اب یاد کرتا ہوں تو لگتا ہے، سنسار کی ساری سمفنیز کا جنم ان سلائی مشینوں کی ہلکی، مدھم اور تیز رفتار سے جنمی آوازوں سے ہی ہوا ہو گا۔

ہمیں، میرے چچا زاد بھائی جے کو اور مجھے، یہ سب ایک بہت دلچسپ کھیل لگتا تھا، جسے ہم بھی کھیلنا چاہتے تھے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ایک بار مشین چلاتے چلاتے تھک چکی ماں نے آواز دے کر کہا تھا، ’’لالہ، ہاتھ دُکھ رہے ہیں۔ تو ذرا پہیہ گھما دے نا تھوڑی دیر۔‘‘ شاید یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے، وہ بھی ماں نے، مجھے اتنا طاقتور مانا تھا کہ میں بھی ایک پہیہ گھما سکتا ہوں۔ اسی لاڈ میں میں نے پہلی بار میں پوری طاقت لگا کر اتنی زور سے پہیہ گھمایا تھا کہ ماں اتنے تیزی سے کپڑے کو آگے نہیں بڑھا پائی اور چلّائی تھی، ’’ارے! بس کر۔‘‘

بعد میں یہ بھی ایک کھیل ہو گیا۔ میرے شکتی پردرشن کے اس طریقے اور ماں کی ناراضگی میں ہم دونوں کو ہی مزہ آنے لگا تھا۔ دھیرے دھیرے پہیہ گھماتے گھماتے اچانک پوری طاقت سے پہیہ گھما دیتا اور ماں جھوٹ موٹ ناراض ہو کر ڈانٹتی اور آخر میں دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے۔ ایسے میں ماں مشین روک کر مجھے چوم لیتی اور میرا سر گود میں رکھ کر میرے سر سے جوئیں نکالنے لگتی۔ ایک ایک جوں نکال کر دکھاتی اور جھڑکتی کہ میں صفائی کا دھیان نہیں رکھتا اور مٹی میں کھیلتا رہتا ہوں۔

یہ ماں کے لاڈ کا ایک نمونہ تھا۔ ہم دونوں کو ہی اس میں مزہ آتا تھا۔ جس دن ماں کام میں بہت الجھی رہتی اور جوئیں نکالنے کے لیے نہ بلاتی تو میں خود ہی سر کھجاتا ہوا اس کے پاس پہنچ جاتا اور سب کام چھوڑ کر جوئیں نکلوانے کی ضد کرتا۔ میری ضد ہمیشہ کامیاب ہو جاتی تھی۔

٭٭٭٭٭

ماں اس گھر کی پاکیزگی اور پوتّرتا کی ضمانت تھی۔ بولتے ہوے بھی خاموشی کی مورت۔ حویلی میں ہر گھر سے آتی آوازوں کے شور کے بیچ اس کی آواز اکثر اسی کو سنائی نہیں دیتی تھی جسے مخاطب کیا گیا ہوتا۔ نتیجے میں ماں کو وہی بات دہرانا پڑتی۔ اس دہرانے کے عمل میں خود پر ہی ہنستی ہوئی اس کی ایک لاچار مگر معصوم سی مسکراہٹ بھی شامل ہو جاتی تھی۔

ایک جگہ ایسی بھی تھی گھر میں جہاں اسے اپنی بات اس طرح دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ جگہ تھی دو فٹ موٹی چونے کی دیوار کے ایک آلے میں بنا مندر۔ شِوجی، لکشمی جی کے کانچ میں جڑے چِتر اور پیتل کی کچھ چھوٹی چھوٹی مورتیاں تھیں۔ ایک ننھا سا جھولا جس پر اس سے بھی ننھا سا کرشن گھٹنے گھٹنے چلنے والی مُدرا میں براجمان ہوتا تھا۔ اور ایک بڑا ترتیب والا گول سا چکنا پتھر جسے ماں شِو روپ شالگرام بتاتی تھی۔

ماں مندر کے سامنے پوجا کے لیے بیٹھ جاتی۔ پانی سے بھرا ایک لوٹا اور ایک خالی لوٹا۔ ایک تھالی جس میں سیندور، چانول، اگر بتی ہوتے۔ ماں ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کچھ بدبداتی سی بولتی جاتی، جو میری تمام کوششوں کے باوجود پوری طرح سمجھ نہ آتا اور میں شردھا بھکتی بھاوٴ سے بھرے اس کے چہرے اور اس کے رِدم میں ہلتے ہونٹوں کو پڑھنے کی ناکام کوشش کرتا رہتا۔ ایسا کرتے ہوے وہ ایک ایک مورتی کو باری باری سے اٹھا کر سنان کرواتی جاتی تھی۔ بھرے لوٹے کا پانی خالی لوٹے میں جاتا اور بھگوان جی کا سنان ہو جاتا۔ اس کے بعد نیم نرم و نازک انداز میں ان مورتیوں کو کپڑے پہنانا شروع کرتی۔ ان کپڑوں کو دیکھ کر اکثر میرے چہرے پر مسکان آ جاتی۔ دل میں عجب سی گدگدی ہونے لگتی۔ میں اپنی قمیض کی آستین پکڑ کر بھگوان کے ان کپڑوں سے ان کا ملان کرتا۔ اس کی وجہ بھی ماں ہی تھی۔ وہ ہمیشہ میرے لیے قمیض سینے سے پہلے اس میں سے کسی نہ کسی بھگوان، خاص کر کرشن، کے کپڑے سیتی تھی۔ میں جب حیرت سے دیکھتا تو وہ کہتی، ’’اب تیرے اور بھگوان کے کپڑے ایک ہو گئے نا؟ تو اب تو بھگوان کے کپڑوں میں ہے تو تیرا کوئی بال بھی بانکا نہیں کر سکتا۔‘‘

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 3 (راج کمار کیسوانی)

آخر ایک دن وہ بھی آیا که ہندوستان سے لٹے پٹے مسلمانوں کو لے کر نکلی ٹرینوں کو پنجاب میں لگاتار بگڑتے حالات کے مدِنظر لاہور کے بجاے کراچی کی طرف موڑ دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بدحالی اور بدحواسی سے اُپجے کرودھ [غصے] سے بھری یہ بھیڑ کراچی سے سندھ کے باقی شہروں میں بھی پھیلنے لگی۔ اور اسی کے ساتھ اب تک شانتی کا ٹاپو [امن کا جزیرہ] بنا ہوا یہ علاقہ بھی باقی ہندوستان میں پھیلی ہِنسا کی چپیٹ میں آتا ہوا دکھائی دینے لگا۔
ہندوستان سے آنے والے مسلمان یہاں کے مسلمانوں کے لیے مسلمان نہیں مہاجر تھے۔ سو جب جب کسی ہندو سندھی کے گھر پر ان مہاجروں کی طرف سے کوئی حملہ ہوتا تو سندھی مسلمان بیچ میں آ کھڑے ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوا که سارا جھگڑا مہاجروں اور مقامی مسلمانوں کے بیچ کا ہو گیا۔
جلد ہی یہ منظر بھی بدلنے والا تھا۔ مہاجروں کی تعداد اور طاقت لگاتار بڑھتی جا رہی تھی اور ان کے لیے یہاں ہمدردی کا جذبہ بھی زور پکڑنے لگا تھا۔ سو آخر اتہاس کا وہ لمحہ بھی آیا کہ ہندوؤں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ان سارے بگڑتے حالات کے بیچ بھی میرے پتا، جو اس وقت “سندھ آبزرور” نام کے انگریزی اخبار کے رپورٹر تھے، اپنے پورے پریوار کو یقین دلاتے رہے که چاہے جو ہو جائے وہ یہیں رہیں گے۔ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن اس بھروسے نے بھی اس دن دم توڑ دیا جب جوانی کے جوش میں انھوں نے اخبار میں مسلم لیگ کے خلاف ایک خبر لکھ کر نوکری گنوا دی۔
خیر، جب اپنے آبائی وطن کو چھوڑنے کا فیصلہ لیا گیا تو کہتے ہیں اس دن گھر کے سب لوگ رو رہے تھے۔ خاص کر عورتیں۔ یہ لاچاری اور بےبسی کا رونا تھا۔ حالانکہ اس رونے کے بیچ بھی میرے دادا شیام داس اور نانا آسودامل کی دہاڑتی ہوئی آوازیں بھی تھیں۔ وہ دونوں تب بھی لڑ مرنے کو تیار تھے۔ پتاجی بھی ان دونوں سے سہمت تھے۔ لیکن خاندان کے کچھ بزرگ رشتےداروں کی سمجھائش کے بعد حقیقت ماننے کو تیار ہو گئے۔
پھر ستمبر 1948 کا وہ دن بھی آیا که جس دن یہ پورا کنبہ اپنے آبائی گھر اور ان میں رکھا ڈھیر سارا سامان چھوڑ کر سمندر کے راستے بمبئی جانے کے لیے نکل پڑا۔ ماں سے سنا تھا که گھر چھوڑنے سے پہلے داداجی نے گھر کے سارے کمروں میں باقاعدہ تالے لگا دیے تھے۔ نقدی، زیور اور بھاری سمان ساتھ لے جانے کی محدود چھوٹ کی وجہ سے سب کچھ لے جانا ممکن نہ تھا۔ پھر کہیں نہ کہیں یہ ڈھکی چھپی آس کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور گھر واپس آئیں گے۔ سو سب کچھ سنبھال کر رکھنا ضروری سمجھا گیا۔
گھر کی عورتوں نے ملکر اپنی ساری چیزیں شیشم کی لکڑی کی ایک مضبوط سی الماری میں بھر کر اس پر تالا لگا دیا۔ اتنا ہی کافی نہ تھا تو اس تالے کے ٹھیک اوپر، دونوں دروازوں کے بیچوں بیچ لئی سے شِوجی کی تصویر بھی چپکا دی۔ ماں نے ایک صاف ستھرے سفید کاغذ پر سندھی بھاشا میں، بڑے بڑے حروف میں لکھا اور اس تصویر کے نیچے چپکا دیا۔ اس کاغذ پر لکھا تھا 
“ہی الماری منھجی آ۔ ہِن الماری کھے ہتھ لاہن وارے کھے پاپ پوندو۔”
(یہ الماری میری ہے۔ اگر کوئی غیر اس الماری کو ہاتھ لگائے گا تو اسے پاپ لگے گا۔)
بھارت سرکار کی طرف سے کراچی سے اُجڑ کر آنے والے پریواروں کے لیے برٹش انڈیا سٹیم نیویگیشن کمپنی کی پہلے سے جاری پرشین گلف لائن سٹیمر سروس کے علاوہ 9 اور سٹیمر کرائے پر لے کر لگا دیے گئے تھے، جو ایک آدمی، ایک روپیہ کی سوِدھا [سہولت] کے ساتھ بمبئی پہنچاتے تھے۔ اسی طرح سپیشل ٹرین اور ہوائی جہاز بھی اس کام میں لگائے گئے تھے۔ ٹرانسپورٹ سروس میں لگی ان ساری سواریوں کو ایک ہی نام دیا گیا تھا: “رفیوجی سپیشل۔”
بٹوارے کے ایک سیاسی فیصلے نے دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں کروڑوں انسانوں سے ان کی صدیوں کی پہچان چھین کر ایک کو “مہاجر” یا دوسرے کو “ریفیوجی” بنا دیا تھا۔ اس ایک اکیلی چوٹ نے لاکھوں پریواروں کے سینے پر ایک ایسا داغ لگا دیا، جو مٹ مٹ کر بھی اَمِٹ ہے۔
کراچی سے روانہ ہوا یہ سٹیمر جہاز چار دن بعد جب بمبئی پہنچا تو وہاں کے ادھیکاریوں نے ان ’بن بلائے مہمانوں‘ کو شہر میں داخلہ دینے سے انکار کرتے ہوے انھیں پوربندر کی طرف لے جانے کا حکم جاری کر دیا۔ تازہ تازہ بےگھر ہوے سینکڑوں لوگوں کے کرودھ کا پارہ چڑھ گیا۔ حالات کی گمبھیرتا کو دیکھتے ہوے پرانا آدیش واپس لیتے ہوے جہاز کو لنگر ڈالنے کی اجاز ت دے دی گئی۔
جہاز کو آگے بھیجنے کے پیچھے بھی ایک بڑی واجب سی وجہ تھی۔ بندر کے آس پاس اور شہر کے دوسرے کئی ٹھکانوں پر بنائے گئے تمبو والے کیمپ پوری طرح بھر چکے تھے۔ لوگ کھلے میں پڑے ہوے تھے۔ نہ کھانے کا پورا انتظام تھا اور نہ ہی نہانے اور دھونے کا۔ نتیجے میں بیماریاں پھیل رہی تھیں اور اتنی بڑی تعداد میں علاج کی سہولت مہیا کرانا ایک ناممکن سی بات تھی۔
بدحالی سے بھرے ان حالات میں جب جینا مشکل ہوا تو یہ پورا کنبہ اُدے پور کی طرف نکل پڑا، جہاں پہلے سے کچھ رشتےدار پہنچے ہوے تھے۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا که ہندو مسلم دنگے شروع ہو گئے ہیں۔ پھر رخ کیا بھوپال کا۔

٭٭٭٭٭

بٹوارے نے چاروں طرف عجب سے حالات پیدا کر دیے تھے۔ چند روزہ جشنِ آزادی کے ترانوں کی گونج میں نئے اور پرانے ہندوستان میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کے شکار لوگوں کی ماتمی چیخیں بھلے ڈوب گئی ہوں لیکن اگلے دنوں میں انھیں چیخوں نے منظر پر قابض ہونا تھا۔
پیڑھیوں سے ز مانے کے سامنے گنگاجمنی تہذیب کی مثال بنا ہوا بیگموں اور نوابوں کا شہر بھوپال بھی اس اتھل پتھل سے اچھوتا نہیں رہ پایا تھا۔ جس دن آزادی نے دیش میں پہلا قدم رکھا، اس دن بھی یہ شہر اس آزاد ہندوستان میں شامل نہیں ہوا تھا۔ 1946 میں ہوے ہندو مسلم دنگے سے سلگے ہوے شہر میں دہکن کی باس ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ دعا سلام کے ہنستے مسکراتے رشتے ہمیشہ کی طرح پھر سے قائم بھلے ہو چکے تھے لیکن دونوں قومیں اب تک ایک دوسرے کو بڑی چوکنی اور شک بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
نوابی حکومت اب تک قائم ضرور تھی لیکن کب تک؟ یہ سوال دونوں طرف ہی زیرِ بحث تھا۔ ہندو لیڈران اس یقین کے ساتھ مسکراتے نظر آتے تھے که 80 فیصد آبادی انھی کی ہے۔ اسی بنا پر ہر فیصلہ انھی کے پکش میں ہو گا۔ مسلمانوں کو بھی اسی بات کا اندیشہ تھا۔ اس پر شہر سے مسلم پریواروں کا پاکستان کی اور لگاتار جاری پلائن بھی ان کی فکر کی ایک بڑی وجہ بنتا جا رہا تھا۔ پاکستان سے پلائن کر کے بھوپال آنے والے ہندو پریواروں کی بڑھتی رفتار نے اس فکر میں اور اضافہ کر دیا تھا۔
اکتوبر 1947 میں ایک سرکاری آرڈیننس کے ذریعے پاکستان سے آنے والے شرنارتھیوں کے بھوپال داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ سرکار کی دلیل تھی که ان شرنارتھیوں کے اچانک اتنی بڑی تعداد میں آنے کی وجہ سے یہاں کھانے پینے اور دوسری ضروری چیزوں کی قلت ہو رہی ہے۔ لہذا شہر میں امن و امان قائم رکھنے اور بھک مری کے حالات سے بچنے کے لیے یہ احتیاطی قدم اٹھانا بےحد ضروری ہے۔ اس پابندی پر عمل کے لیے سرکاری عملے کے ساتھ ہی والنٹیئروں کی ایک فوج کھڑی کر لی گئی۔
سرکار کے اس حکم کے نتیجے میں سٹیشن اور بس سٹینڈ سے ہی کئی سارے شرنارتھی پریواروں کو اگلے کسی سٹیشن کی طرف جانے کے لیے مجبور کیا گیا۔ قانون اور پولیس کی طاقت کے آگے بےبس لوگ روتے بلکتے کسی ایسی جگہ کے لیے روانہ ہو گئے جس کے بارے میں انھیں کسی طرح کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔
اس طرح کی پابندی لگانے والا بھوپال اکیلا نہیں تھا۔ مدراس، حیدرآباد، پٹنہ اور نہ جانے کتنے شہروں میں مقامی انتظامیہ نے اسی طرح کی پابندی لاگو کر دی تھی۔ اس پابندی کے نتیجے میں بگڑتے حالات پر جب دہلی کے اخباروں میں خبریں چھپیں تو دہلی سرکار حرکت میں آئی۔ بھوپال میں سب سے پہلے پابندی میں ڈھیل دے دی گئی۔
پرانی آبادی میں نئے چہروں کو ہمیشہ شک اور سوالوں بھری نظروں سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس بار اس میں ایک اور چیز شامل ہو گئی تھی – فکر۔ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے یہ انجانے لوگ آخر کریں گے کیا؟ ان سوالوں کا جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔ کیونکہ یہ سوال پوچھے ہی نہیں گئے تھے۔ پوچھے بھی جاتے تو بھی جواب نہ ملتے، کیونکہ ان سوالوں کے جواب کسی کے پاس تھے بھی نہیں۔ نہ آنے والوں کے پاس اور نہ ہی انھیں لانے والی سرکار کے پاس۔ نتیجہ یہ که سوالوں سے گھرے شہر کے لوگ اسی دھندلکے میں ایک دوسرے کی شکلیں پڑھنے کی کوشش کرتے تھے جن پر صرف سوال ہی سوال لکھے ہوے تھے۔
شہر میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو ان سوالوں سے الجھے لوگوں کے بیچ اور نئے سوال پیدا کر رہا تھا۔ یہ تھیں یہاں کی سیاسی پارٹیاں۔ ایک طرف تھی ہندوؤں کی پیروکار پارٹی ہندو مہاسبھا، تو دوسری طرف تھی کسی مداری کی طرح ہندو مسلم توازن کو سادھنے کی کوشش کرتی کانگریس پارٹی۔ اسی کانگریس پارٹی سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلتے لوگوں نے بعد کو کمیونسٹ پارٹی اور پھر پرجا سوشلسٹ پارٹی کی نیو ڈالی۔ یہ سب کے سب بدلے حالات کو اپنے موافق بنانے کی کوشش میں جٹے تھے۔
انھی پیچیدہ حالات کے بیچ ہی سب سے بڑا پیچیدہ مسئلہ پیدا ہو گیا تھا بھوپال سٹیٹ کے ہندوستان میں انضمام کا۔ نواب بھوپال حمیداللہ خاں کو ہمیشہ سے عوام دشمن مانا جاتا تھا اور مانا جاتا تھا که وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہیں گے۔ لیکن جغرافیائی حقائق اور عوام کی رائے کے چلتے یوں کر پانا بہت مشکل تھا۔ ایسے میں نواب نے بھوپال کو ہندوستان پاکستان کے بجاے آزاد ریاست بنائے رکھنا چاہا۔ جوناگڑھ، کشمیر، حیدرآباد اور جودھپور کے حکمرانوں کے اسی طرح کے ارادوں سے ان کے حوصلے مضبوط ہوے۔ انھوں نے خودمختار حکومت قائم کرنے کا فیصلہ لے لیا۔
اس فیصلے کی وجہ سے بھی شہر دو حصوں میں بٹ گیا۔ ایک بہت بڑا طبقہ ہندوستان میں شامل ہو کر رہنا چاہتا تھا، لیکن ایک نہایت چھوٹا سا جھنڈ اس کے خلاف تھا۔ اس جھنڈ میں زیادہ تر نواب کے وفادار اور پیروکار تھے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ بھی اس میں شامل تھا جو پاکستان نہیں جانا چاہتا تھا لیکن ہندوستان کے نئے نظام میں اسے اپنی خیریت کا بھروسا نہیں تھا۔ نواب صاحب کی صورت میں انھیں اپنی حفاظت کا ضامن نظر آتا تھا۔
انھی حالات میں بھوپال میں نومبر 1948 میں انضمام کے حق میں آندولن [تحریک] شروع ہو گیا۔ اس آندولن کی وجہ سے شہر میں آئے دن ہونے والے جلسے جلوسوں کی ہلچل سے شہر کا معمول پوری طرح بگڑ چکا تھا۔ فروری 1949 کے آتے آتے حالات کافی گمبھیر ہو گئے اور چالیس دن تک لگاتار بھوپال بند رہا، جس نے غریب عوام کی زندگی کو بےاندازہ مشکلوں سے بھر دیا۔
آخر ایک لمبی جدوجہد کے بعد 30 اپریل 1949 کو نواب حمیداللہ خاں کو اپنے ارادوں کو چھوڑ کر حقیقت کو ماننا پڑا۔ انھوں نے بھوپال کو ہندوستان میں شامل کرنے کے سمجھوتے پر دستخط کر دیے۔ 
عدم استحکام اور غیریقینی سے بھرے اس ماحول میں کسی کی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے اور جو ہو رہا ہے اس کا انجام کیا ہو گا؟ بھوپال کا فیصلہ بھلے ہی ہو گیا ہو، لیکن ہندوستان پاکستان کے بیچ جاری لوگوں کی ادلابدلی کے کھیل کے نتیجے میں شہر کے کئی سارے جانے پہچانے چہرے منظر سے آہستہ آہستہ گم ہوتے جاتے تھے تو دیکھتے دیکھتے ہی ان کی جگہ کچھ عجیب اور انجانے سے چہرے ہر جگہ دکھائی دینے لگے تھے۔ اِدھر اُدھر بھٹکتے، بدحواس، انجانے، ان دیکھے چہروں نے شہر کے لوگوں میں ایک کِھیج کا سا ماحول پیدا کر دیا تھا۔
50-60 ہزار کے آس پاس کی آبادی والے ایک چھوٹے سے شہر میں اچانک، ایک ساتھ پانچ چھ ہزار اجنبی لوگوں کے آ دھمکنے نے شہر کی ساری شکل صورت میں ایک عجب سا بدلاؤ لا دیا تھا۔ ایک ایسا شہر جہاں برسوں ساتھ رہتے رہتے ہر نام نہ سہی لیکن کم سے کم ہر چہرہ ایک دوسرے کا جانا پہچانا سا ہو، وہاں ایک ساتھ اتنے سارے اجنبی چہروں کا ایک شہر کے ہر روز کے معمول میں اِس اُس جگہ شامل ہو جانا، دال میں کنکر کی طرح ہو جاتا ہے۔
ایک اور بات جس نے چیزوں کو اور بھی اَسہج بنا دیا وہ تھا ان پانچ ہزار لوگوں کا پہناوا۔ اس شہر کے عام لوگوں کے پہناوے سے ایک دم ہی الگ ڈھیلے ڈھالے کرتے اور پھیلے ہوے چوڑے پاجامے، یا پھر لگ بھگ کسی ہوئی دھوتی۔ کچھ معاملوں میں دونوں کاندھوں سے گزر کر گھٹنوں تک آتا ہوا سفید گمچھا اور سر پر پونچھ نکلی سفید پگڑی، جسے وہ پٹکا کہتے تھے۔
گو اتنا ہی کافی نہ تھا۔ ان لوگوں کی ایک دم سمجھ میں نہ آنے والی اَن سنی بھاشا اور ان سنے اور اٹ پٹے لہجے میں قدم قدم پر انجانے شہر میں اگلے موڑ، اگلی گلی کا راستہ پوچھتے، کسی گریک ٹریجڈی کے کرداروں کے سے فکرمند اور بدحواس چہرے والے انسانوں کو یکایک کوئی کس طرح قبول کر سکتا تھا؟ سو یہ تناؤ بنا رہا۔    (جاری ہے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

اُداس ماسی نیک بخت (محمد جمیل اختر)

وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنا اداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔۔۔۔

میں نے پہلی بار ماسی نیک بخت کو اپنے بچپن میں دیکھا تھا، اُس وقت وہ بہت ضعیف تھیں۔ بعض لوگوں کو دیکھ کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ بچپن میں یا جوانی میں وہ کیسے رہے ہوں گے، سو میں کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ بچپن میں یا جوانی میں کیسی رہی ہوں گی میں نے انہیں جب دیکھا اُداس دیکھا شاید وہ بچپن میں بھی اُداس ہی رہتی ہوں۔

وہ پرانے محلے میں ایک کمرے کے مکان میں رہتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے ہمارے چھوٹے سے شہر کا پرانا محلہ ہی اصل میں آباد محلہ تھا اور یہاں بڑی رونق تھی یہاں سارے گھر پرانی طرز پر بنے ہوئے تھے تقسیم کے بعد بھی یہاں کافی آبادی تھی لیکن پھر لوگ پرانے مکانوں سے اُکتا نے لگے یا شاید چھوٹے مکانوں میں ان کا دم گھٹنے لگا تھا اور انسان ویسے بھی ایک جگہ پر زیادہ عرصہ رہ نہیں سکتاسو لوگ اب اس محلے سے نکل کر ارد گرد مکان بنانے لگے تھے لیکن ماسی نیک بخت کہاں جاتیں اور کیسے جاتیں اُن کا اِس دنیا میں اب تھا ہی کون۔

اُن کے شوہر کو پانچ سال پہلے ٹی بی ہوئی اور وہ چل بسا، کوئی اولاد تھی نہیں کہ بوڑھی نیک بخت کا سہارا بنتی سو زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے انہوں نے گھر ہی میں بچوں کی ٹافیاں اور کھلونے بیچنے شروع کردیئے۔ جب پرانے محلے میں آبادی تھی تو ان کی دُکان پر بچوں کا کافی رش رہتااور پھر ہر سال جب لوگ زکوۃٰ دیتے تو کسی نہ کسی کو بوڑھی نیک بخت کاخیا ل آجاتا کہ اِدھر محلے میں ایک بوڑھی بیوہ بھی رہتی ہے جس کو زکوۃٰ دی جا سکتی ہے۔

ماسی نیک بخت کے سارے گھر میں بس ایک کمرہ تھا جس میں دو چارپائیاں پڑی رہتی تھیں پہلے ایک چارپائی پر خیردین (ماسی کا شوہر)سارا دن پڑا کھانستا رہتا پھر جب وہ چل بسا تو ماسی نے اُس چارپائی پربچوں کی ٹافیوں اور کھلونوں کی دکان کھول لی، غریب کی کوئی بھی چیز بیکار نہیں جاتی۔

خیردین کے فوت ہونے کے بعد کسی نے بھی ماسی نیک بخت کو ہنستے ہوئے نہ دیکھا وہ ہمیشہ ہی اُداس رہتیں اتنی اُداس کہ ایسا اُداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔

جوں جوں محلے کی آبادی کم ہوتی جارہی تھی اداسی بڑھتی جارہی تھی مجھے ابھی بھی یاد ہے اُن دنوں جب ہم ماسی کی دکان پر جاتے تو وہ روز ہم سے یہی سوال پوچھتیں

’’مسجد گئے تھے؟ــ‘‘

’’جی ماسی‘‘

’’کتنی صفیں تھیں؟‘‘

’’ماسی تین‘‘

اور وہ ایک آہِ سرد کھینچتیں اور کہتیں

’’خیر دین تمہارے ہوتے پانچ صفیں بنتی تھیں۔‘‘

سارا محلہ ویران ہوتا جارہا تھا لوگ باغوں کے پاس بننے والی نئی ہاوسنگ سوسائیٹی میں جانے لگے تھے۔

پھر ہوتے ہوتے ایک صف بننے لگی، اُداسی اور بڑھ گئی۔

ان کے پڑوسی اشرف چچا ابھی بھی ساتھ والے مکان میں آباد تھے، جس سے ماسی کو بڑی ڈھارس ہوتی کہ چلو دیوار کے اُس پار کوئی تو ہے۔لیکن اب اشرف چچا کو بیٹھے بٹھائے پرانے محلے میں سو عیب نظر آنے لگے تھے’’ یہاں گلیاں تنگ ہیں، صفائی کا کوئی نظام نہیں ہے، نیا محلہ باغو ں کے پاس بنا ہے اس میں خوبیاں ہی خوبیا ں ہیں ‘‘۔

سوآخر وہ بھی پرانے محلے سے اُکتا گئے اور انہوں نے نئے محلے میں مکان بنواناشروع کردیا۔

اُن دنوں اشرف چچا کا بیٹا ناصر اور میں جب ماسی کے گھر جاتے تو ماسی برآمدے کی دیوار سے ٹیک لگائے پتہ نہیں کس سے باتیں کر رہی ہوتی تھیں۔

’’بن گیا تمہارا مکان؟‘‘ماسی ناصر سے پوچھتیں ۔

’’ بس ماسی کچھ دنوں میں بن جائے گا‘‘ ناصر جواب دیتا۔

’’اتنا پیارا مکان چھوڑ کر جارہے ہو میں کہتی ہوں پھر یہ محلہ اور ایسے لوگ نہیں ملیں گے تمہیں۔ اور یہ تم لوگوں کے پودے سارے کے سارے برباد ہوجائیں گے اور یہ آم کا درخت یہ بھی سوکھ جائے گا‘‘۔

’’ماسی ابا کہتا ہے اُدھر سکون ہی سکون ہے۔‘‘

’’ابا کو کہو جگہیں بدلنے سے سکون نہیں ملتا ‘‘۔

’’نہیں ماسی اِدھر بڑے مسئلے ہیں یہاں گلیاں تنگ ہیں وہ جو گاڑی چلاتے ہیں نا وہ ہماری گلی میں نہیں آسکتی اور ماسی اُدھر باغ بھی ہیں ‘‘۔

’’باغ ہیں تو کیا ہواتم نہیں جاو ٔگے تو باغ اکیلے ہوجائیں گے، اداس ہوں گے، روئیں گے کیا؟‘‘

’’نہیں ماسی وہ تو درخت ہیں۔۔۔۔وہ بھلا کیوں روئیں گے‘‘۔

’’یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ وہ درخت ہیں اکیلا تو بندہ ہوتا ہے۔۔۔‘‘

ماسی جو بھی چیزیں بیچتی تھیں وہ سارا سامان گلی کے نکڑ پر بنی امام بخش کی دکان سے آتا تھا، جوں جوں آبادی کم ہوتی جارہی تھی امام بخش کی بِکری بھی کم ہوتی جارہی تھی اور ایک دن وہ بھی پرانے محلے سے اکتا گیا اور اس نے بھی نئے محلے میں ایک دکان کرائے پر لے لی اور وہیں چلا گیا، ا ب ماسی کو سامان کون لاکر دیتا، بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنی طاقت نہیں تھی کہ بازار تک جا کر سامان خریدیں سو اس پریشانی میں بیمار ہوگئیں، پڑوسی تیمارداری کو آئے تو ماسی نے اپنی پریشانی بتائی کہ اب کھاؤں گی کہاں سے، تو اُس وقت اشرف چچانے بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ ’’ ماسی تو پریشان نہ ہو کھانا میرے گھر سے آئے گا‘۔‘

ماسی جو کئی روز سے اپنی دکان کے بند ہونے کے غم کو سینے سے لگائے پریشان تھیں ان کا کچھ بوجھ کم ہوا، اُٹھ کے اشرف پتر کی پیشانی چومی اور ڈھیروں دعائیں دیں۔

اور پھر کچھ دن بعد اشرف صاحب کا مکان بن گیا اور جس روز سامان منتقل ہورہا تھا اس دن ماسی بہت اداس تھیں، بار بار گلی کے دروازے سے دیکھتیں کہ یہ لوگ چلے تونہیں گئے اتنا غم شاید اشرف چچا کو اپنے پرکھوں کا گھر چھوڑنے پر نہیں ہوگا جتنا ماسی کو ان کے جانے کا تھا۔ اب تو دیوار کے اُس پار بھی کوئی نہیں ہوگا ا ور اب تو دکان بھی نہیں چلتی۔

شام تک سار ا سامان منتقل ہوگیا تھا سو اشرف چچا اپنے بیوی بچوں سمیت ماسی کو ملنے آئے۔

’’اچھا ماسی اجازت، بڑا اچھا وقت گزرا پتہ نہیں اب وہاں آپ جیسے اچھے پڑوسی ملیں نہ ملیں، آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو کوئی بھی کام ہو، آپ کا بیٹا حاضر ہے ‘‘۔

’’جیتے رہو بچو، جیتے رہو، سدا سکھی رہو، رونقیں لگی رہیں ــ‘‘ ماسی کی آنکھیں نم تھیں او ر لب دعاگو تھے۔

اشرف صاحب اور ان کی فیملی جب گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو ماسی اپنے گھر کے دروازے کا پردہ ہٹاکر انہیں دیکھ رہی تھیں اس وقت میں نے جو آنکھیں دیکھیں تھیں وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنی اُداس آنکھیں میں نے پھر کسی کی نہیں دیکھیں۔۔۔۔

Categories
فکشن

باجے والی گلی – قسط 2 (راج کمار کیسوانی)

[blockquote style=”3″]
راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال
[/blockquote] سانولی سی شام کا رنگ گہراتے گہراتے جب شیام رنگ ہو جاتا ہے تو شہربھر میں ان ویران پٹیوں پر آہستہ آہستہ ایک سماجی مجمع سا لگ جاتا ہے۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد جو زندگی نے تھمنے کا موقع دیا تو سب ایک دوسرے سے ملنے کو مچلنے سے لگتے ہیں۔ ان پٹیوں کا اس شہر کی زندگی میں وہی مقام ہے جو آسمان کے وجود میں چاند کا ہے۔ دن بھر زندگی کی سلگتی بھٹی کی تپش سے باہر نکل کر ٹھنڈک کا احساس دیتے ان پتھر کے ٹکڑوں پر بیٹھ کر نہ جانے کتنی پیڑھیوں نے راحت پائی ہے۔ نہ جانے کتنے اتہاس کہے سنے اور نہ جانے کتنے اتہاس لکھے گئے ہیں۔ ایک صفت اور ہے یہاں کی۔ جدھر نکل جائیے گا، وہیں چائے اور ورقی سموسے پروستی چھوٹی چھوٹی ہوٹلیں پائیے گا۔ چائے بھی نمک والی چائے۔ سلیمانی چائے۔ اور وہ بھی فل بالائی مار کر۔ اب یہی تو ہے نا که یہاں دودھ کی ملائی ’بالائی‘ ہو جاتی ہے، ہرا دھنیا ’کوتمیر‘ ہو جاتا ہے، اروی ’گھئیاں‘، لوکی ’گڑیلی‘ اور سپاری کسی حسین دوشیزہ کا بھرم دیتی ‘چھالیہ‘ کہلاتی ہے۔ یہ سب اپنی جگہ، لیکن سب سے ضروری دو چیزیں جن پر سارا شہر اِتراتا ہے۔ ایک ہے یہاں کا بڑا تالاب اور دوسرا ہے بروکاٹ بھوپالی۔ اِترانا تو ٹھیک، میلوں میں پھیلے اس بڑے تالاب کو لے کر بھوپالیوں نے تو سارے زمانے کو چنوتی سی دے رکھی ہے: تالوں میں تال تو بھوپال تال، باقی سب تلیّاں
رانیوں میں رانی تو کملا رانی، باقی سب گدھیّاں کملا رانی بولے تو بھوپال کی گونڈ رانی کملاپتی، جس کو لے کر بھی ہزار داستانیں ہیں۔
اب رہی بات ’’بروکاٹ بھوپالی’’ کی تو اس کا ایسا ہے که یہ لقب اصل میں یہاں کے مُول نِواسیوں [اصل باشندوں] کے لیے ہے جنھوں نے چاروں اور پھیلے برو کے جنگل صاف کر کے شہر کی آبادی کے لیے میدان صاف کیا۔ لیکن آفرین بھوپال کے ان جیالوں کو جو بسے بسائے شہر میں آ بسے اور بے جھجک خود کو برو کاٹ بھوپالی کا تمغہ دے کر تیڑھے میڑھے ہوے پھرتے ہیں۔ کسی وقت پورا شہر پرکوٹے سے گھرا تھا اور شہر میں داخل ہونے کے لیے سات گیٹ تھے۔ کہتے ہیں رات میں شہر کوتوال خود ساتوں دروازوں پر تالا لگاتا تھا اور صبح خود اپنے ہاتھوں سے کھولتا تھا۔ پرکوٹا ٹوٹا تو گیٹ بھی غائب ہونے لگے، لیکن کچھ ابھی بھی زندہ ہیں۔ سو جہاں گیٹ ہیں یا تھے وہ علاقے اب بھی امامی گیٹ، پیر گیٹ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یوں تو بتانے کو ابھی پورا شہر ہی باقی ہے، بلکہ جو بتایا ہے اس کے بارے میں بھی پورا پورا بتانا پوری طرح سے باقی ہے۔ لیکن اس وقت میں ذرا واپس اپنی باجے والی گلی کو لوٹنا چاہتا ہوں۔ بلکہ اپنے گھر لوٹنا چاہتا ہوں، جس نے مجھے باجے والی گلی کا باشندہ ہونے کا فخریہ حق دیا ہے۔ اور یوں بھی اس کہانی کو شروع بھی تو وہیں سے ہونا ہے۔ ٭٭٭٭٭٭ اس گلی میں، جہاں نواب جنرل عبیداللہ خاں صاحب کی خالی پڑی ایک ’’بہوت بائی بہوت‘‘ سائز کی لمبی چوڑی پائیگاہ ہے، وہاں باقی بچے حصے میں دونوں طرف زیادہ تر پتھر کی چنائی والی دیواروں پر دیسی کویلُو والی کھپریلوں سے ڈھکے مکانوں کی قطاریں ہیں۔ گلی کے بیچ کئی گلیاں ہیں۔ پتلی سی مگر خوب گہرے تک جاتی ہوئی۔ ان پتلی سی گلیوں کے آخر اور بیچ میں کچھ دروازے ہیں۔ دروازوں کے پیچھے پردے ہیں۔ ان پردوں کو کوئی ایک ہاتھ جب اوپر اٹھاتا ہے تبھی معلوم ہوتا ہے که وہاں بھی گھر ہیں۔ ایسے سخت پردے والی مسلم آبادی کی گھنی بستی کے گھروں کے بیچ چھتوں کی اونچائی کو لانگھ کر گلی میں جھانکتے کچھ پیڑ بھی ہیں۔ ان میں ایک جامن کا پیڑ، دو پیپل کے اور لگ بھگ چھ نیم کے پیڑ ہیں۔ یوں امرود کے پیڑ تو یہاں ہر گھر میں ہیں لیکن ان سبھی کا قد ان باقی پیڑوں کے سامنے اتنا ہی ہے جتنا یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کا شہر کے قدآور اور آسودہ لوگوں کے سامنے بیٹھتا ہے۔ اس گلی کے لوگوں کی زندگی میں ان پیڑوں کی ایک خاص جگہ ہے۔ جامن کا پیڑ جب اپنے شباب پر آتا ہے اور خوشی میں جامن کے چھوٹے چھوٹے، کالے کالے پھلوں سے لد جاتا ہے، تب یہ خوشی الگ الگ مقدار میں گلی کے کم و بیش ہر گھر تک پہنچ جاتی ہے۔ گلی میں کوئی آدھا درجن گھروں میں لگے نیم کے پیڑوں کے بیچ کچھ کچھ دوری تو ہے لیکن پھر بھی جب ہوائیں چلتی تو جھوم جھوم کر ناچتے گاتے، ایک دوسرے سے باتیں کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ دانت مانجنے کے لیے ہر صبح جب لوگ ان کی شاخیں توڑتے تو اس چھیناجھپٹی میں شاخوں سے ٹوٹ کر زمین پر ڈھیر سارے ہرے اور پیلے پتے بکھر جاتے ۔ ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکوں کے ساتھ پوری گلی میں اڑتے گرتے پتے ایک بھینی سی مہک کے ساتھ ہی ساتھ ایک خوبصورت منظر بھی رچ دیتے۔ ایسا لگتا مانو کوئی پینٹر کینوس پر کام کر رہا ہے۔ اس سارے منظر کو ایک اَدبھُت گرما دینے کے لیے ہر صبح ایک آواز گونجتی ہے۔ یہ آواز ہے یہاں رہنے والے میواتی گھرانے کے گایک دو بھایئوں، گھسیٹا استاد اور مسیتا استاد کی۔ یہاں سے پاکستان کو ہجرت کر جانے والے تو چلے تو گئے لیکن اُن لوگوں کی حویلیاں یہیں رہ گئیں۔ ان حویلیوں میں سے ایک تھی اس شہر بھوپال کی مشہور ’نانی جی کی حویلی‘ جس کا ایک دروازہ باجے والی گلی کی طرف تو دوسرا دروازہ کوتوالی والی سڑک کی طرف کھلتا تھا۔ اس حویلی کی شان یہ تھی که اس حویلی میں یہاں کے نامور حکیم سلطان محمود اپنے پورے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ اور ماشاءاللہ، جتنا بڑا خاندان تھا اور اتنی ہی بھری پُری جگہ حویلی میں تھی۔ اس کے نزدیک ہی بنا بڑے بڑے کالے پتھروں والا وشال کائے تبّا میاں کا محل بھی سونا رہ گیا تھا۔
تقریباً آدھا فرلانگ لمبی اس باجے والی گلی کی ہمیشہ سے ایک بہت بڑی خوبی یہ رہی ہے که یہاں پر غریبوں کا بڑا دبدبہ رہا ہے۔ چار چھ حیثیت والے لوگ بھلے ہی اس گلی میں رہتے رہے ہوں لیکن محلے کی صحت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے که حیثیت والوں نے اپنی حیثیت کا وزن محلے پر ڈالنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ سو انسانی فطرت سے پیدا ہونے والے کچھ لاعلاج آپسی مسئلوں کے علاوہ یہاں اکثر امن چین قائم رہا ہے۔ اس گلی کی دوسری خوبی یہ ہے که یہاں آپ کو دہاڑی مزدور سے لے کر لُہاری اور پائپ فٹنگ، اخبار بانٹنے والے ہاکر سے لے کر الیکٹریشین جیسے طرح طرح کے پیشے کرنے والے لوگوں سے لے کر جنگل کے ٹھیکیدار اور کلاسیکل موسیقی کے استاد ایک ساتھ مل جاتے ہیں۔ گلی کے ایک مُہانے سے ایک موڑ بِرجیسیہ مسجد سے ہوتا ہوا اتوارا کی سبزی منڈی کی طرف جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ والا موڑ جامع مسجد والے چوک کی طرف۔ یہاں پر چوک والی دِشا میں ایک لمبا چوڑا لکڑی کا ٹال ہے جو ’جلیل بھائی کا پیٹھا‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہی پیٹھا آگے چل کر میرا گھر بننے والا ہے۔ جلیل بھائی اس شہر کے خاصے معروف انسان ہیں۔ اس پیٹھے کے علاوہ آس پاس کے گاؤں میں خوب ساری زمینیں ہیں۔ ان میں ایک زمین وہ بھی ہے جہاں ہر سال راون کا وَدھ ہوتا ہے اور دشہرہ منایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ دشہرہ میدان کہلاتا ہے۔ پیٹھے کے بعد کوئی پانچ گھر چھوڑ کر اندر کی طرف ان کا گھر بھی ہے۔ ایک چھوٹے سے لکڑی کے دروازے کے پیچھے چھپے اس خاصے بڑے گھر کے اندر پورے دو درجن لوگ رہتے ہیں۔ آخر پورے سات بھایئوں کا کنبہ ہے، جن میں تین ابھی کنوارے ہیں۔
پیٹھے کے ٹھیک سامنے، ایک قدیمی انداز کے نام اور شکل صورت والا ایک گھر ہے – غریب خانہ۔ سیدھی سیدھی سفید چونے سے پتی ہوئی دیواریں، ایک گلی میں تو دوسرا سڑک کی طرف کھلتا ہوا دروازہ۔ سر پر وہی دیسی کویلُو کی چھت جو محلے کے زیادہ تر گھروں میں لگی ہے۔ اس غریب خانے کے مالک نصیب خاں ‘سوداگر‘ نہ جانے کتنے سودے نپٹانے کے بعد شہر کے بڑے سوداگروں میں شمار ہوتے ہیں۔ شہر کی معزز اولڈ بوائز کلب کے سیکرٹری ہیں۔ ہر شام وہاں پتے کھیلنے ضرور جاتے ہیں۔ نصیب خاں کی خوبی یہ ہے که سوداگر ہونے کے باوجود دل کے نیک اور طبیعت سے فیاض انسان ہیں۔ انھوں نے اپنے غریب خانے کے نام کو بامعنی کرتے ہوے باہر کی ایک چھوٹی سی کٹھریا گاؤں سے مزدوری کرنے آئی کھِمیا (شما) بائی کو بنا کرائے دے رکھی ہے۔ اسی سے لگا ایک کمرہ انھوں نے ایک نوجوان بیڑی مزدور صابر میاں کو دے رکھا ہے جس نے ایک چھوٹا سا چائے خانہ اور دو کیرم بورڈ لگا رکھے ہیں۔ یہ صابر میاں کنوارے ہیں۔ بڑے باغ و بہار انسان ہیں۔ انھوں نے اس کمرے کے باہر نکلے پتھر کے اوٹلے پر اپنے بیٹھنے کا ٹِھیا اور بغل میں ہی چائے بنانے کے لیے ایک سماوار لگا رکھا ہے۔ کیرم کھیلنے اور چائے پینے کی غرض سے اندر جانے یا باہر آنے کے لیے صابر میاں کو لانگھ کر ہی آنا جانا پڑتا ہے۔ صابر میاں اکثر کسی مداری کی طرح ایک ساتھ کئی کام کرتے ہوے نظر آتے ہیں۔ اپنی پیاری مونگیا رنگ کی کالر چڑھی مخملی جیکٹ اوڑھے وہ ایک لمحے پتی، تمباکو اور لال ڈوری والے گٹے سے بھرا سوپڑا گود میں لیے بیڑی بناتے دکھائی دیتے ہیں تو اگلے ہی پل وہ کیرم بورڈ پر بیٹھے اور چائے پی رہے گاہکوں پر نظر ڈالتے ہوے گیم اور چائے گنتے نظر آتے ہیں۔ اور جو اس سب سے من اُچٹا تو اندر رکھا بینجو نکال کر اس پر شروع ہو جاتے ہیں – ’’ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے، گورے گورے گالوں نے، کالے کالے بالوں نے۔‘‘ شاید انھیں ایک یہی گیت بجانا آتا تھا، کیونکہ انھیں دوسرا کوئی گیت کبھی بجاتے نہیں سنا گیا۔ یوں بھی یہ گیت ان کے کردار کے بہت قریب تھا۔ ان کی عادت میں ہر آتے جاتے کو کسی نہ کسی طرح ٹوکنا یا کوئی جملہ مارنا بےحد ضروری تھا۔ بنا مرد یا عورت کا فرق کیے، پہلا فقرہ اسمِ خاص میں ہی ہونا ہے۔ کسی ہم عمر کو سج دھج کر جاتے دیکھ لیا تو کہتے، “آئے ری، آج تو نبو میاں کی عید ہو گئی۔ اکنی زیادہ ملے گی۔‘‘ یا پھر کسی پر فقرہ کس دیا که ’’بھری جوانی، مانجھا ڈھیلا۔” غرض یہ که ہنسی ٹھٹھا چلتا ہی رہتا ہے۔ ان کے آگے والے گھر میں نگر پالیکا [میونسپلٹی] میں نل سدھارنے کی نوکری کرنے والے دو بھائی رہتے ہیں، جن کے کل جمع چھوٹے بڑے چار بیٹے بھی پرائیویٹ میں نل لگانے سدھارنے کا کام کرتے ہیں اور شام میں ہاکی سٹک لے کر کھیلنے نکل پڑتے ہیں۔ گھر کی عورتیں زیادہ تر زردوزی کا کام کرتی رہتی ہیں۔ ہاکی تو محلے کا کم وبیش ہر لڑکا کھیلتا ہے۔ کوئی لوکل تو نیشنل تو کوئی ’اولمپخ۔‘ غرض یہ که ’ہاکی ہے ایمان میرا‘ والی حالت ہے۔ اس گھر کے آگے والا گھر موسیٰ میاں کا، پھر چراغ حسین وغیرہ کے گھر، جن کے بارے میں ذرا بعد میں بات ہو گی۔ ابھی تو ذرا بس کچھ موٹی موٹی باتیں۔ مثلاً یہ که گلی کا سب سے زیادہ علاقہ کھانے والی چیز ہے جرنیل صاحب کی پائیگاہ۔ قاعدے سے تو پائیگاہ نوابوں کے ہاتھی گھوڑے باندھنے کے لیے ہوتی تھی لیکن سونگھنے پر بھی کبھی یوں نہیں لگا که یہاں کبھی کوئی جانور بھی رہا ہو گا، اور جو رہا ہو تو خدا جانے۔ اس وقت تو گلی کے ادھر والے حصے میں ایک بڑا سا دروازہ ہے جو ہمیشہ بند ہی رہتا ہے۔ البتہ اس کی پلٹ یعنی لیلیٰ برج والی سڑک کی طرف ضرور لڑکیوں کو سکول کالج لے جانے والی بسیں کھڑی ہوتی تھیں۔ پردے والی ان بسوں کو ہمارے صابر میاں نے ’حسینوں کا ڈبہ‘ کا نام دے رکھا ہے۔ ان میں سے سلطانیہ گرلز سکول والی ایک بس کے ڈرائیور صندل میاں اسی گلی میں رہتے ہیں۔ صابر میاں کے دوست بھی ہیں اور چائے پینے آتے تو صابر میاں ان سے چھیڑ میں لگ جاتے۔ پائیگاہ کی دیوار سے لگا اگلا مکان ہماری حویلی کے ٹھیک سامنے ایک مفلس شاعر کا گھر ہے۔ دو بھائی اور ہیں جو کچھ کام کرتے ہیں اور گھر چلاتے ہیں۔ شاعر صاحب، جن کا تخلص ’شرر‘ ہے، بس بچوں اور بڑوں کو فارسی اور اردو کے سبق سکھاتے ہیں اور حاصل رقم سے کچھ گھر والوں کو اور کچھ اپنی مرغیوں کو دے دیتے ہیں۔ شاید کچھ رقم وہ اپنے بالوں اور داڑھی میں مہندی لگانے میں خرچ کرتے ہوں گے، کیونکہ ان کے بالوں کا رنگ ہمیشہ کھلکھلاتا نظر آتا تھا۔ شرر صاحب صبح سے ہی اپنے مرغے اور مرغیوں کو گھر کے باہر لا کر دانہ ڈال دیتے تھے اور بڑے غور سے ان کو دیکھتے رہتے تھے۔ کمال یہ که وہ ان میں سے ہر ایک کو نام سے جانتے تھے اور انھیں بلاتے بھی نام سے ہی تھے۔ ہم بچوں کو اس بات پر ہنسی آتی تھی۔ ایک دن مرغے مرغیوں کو دانہ ڈالتے ہوے شرر صاحب نے سکھانے کی غرض سے پاس بلا کر ایک سوال پوچھا: “بتاؤ ان میں سے مرغے اور مرغی کو الگ الگ کیسے پہچانو گے؟” ہم بچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دبی دبی ہنسی کے ساتھ کھسیا کے، “ہمیں کیا معلوم” والی شکل بنا کر رہ گئے۔ شرر صاحب کو اس بات کا پہلے سے ہی اندازہ تھا۔ وہ مسکرائے اور مستی والے انداز میں بولے، “شکل سے پہچاننا ہو تو بڑی کلغی والا ہوا مرغا اور چھوٹی کلغی والی ہوئی مرغی۔ اور اگر اصل پہچاننا ہو تو ایک ہاتھ دل پہ اور دوسرا کان کے اوپر رکھو۔ کان سے سنو، دل سے پہچانو۔ مرغا ککڑوں کوں کرتا ہے اور مرغی صرف کوں کوں کرتی ہے۔” ہم سب کو بڑا مزہ آیا۔ ایک کھیل سا بن گیا۔ اپنے ہاتھوں کو ڈاکٹر کے سٹیتھسکوپ کی طرح استعمال کرتے اور مرغےمرغیوں سے آگے بڑھ کر بکرے بکریوں تک کی آوازیں سن کر الگ الگ پہچان کی کوشش میں ایک دوسرے کی عجب سی بنی ہوئی مُدرائیں دیکھ کر خوب ہنستے۔ شرر صاحب بھی بیٹھے بیٹھے خوب مزے لیتے، مسکراتے رہتے تھے۔ شاید یہ سوچ کر که کیسے انھوں نے مذاق مذاق میں بچوں کو کان کے ذریعے دل سے چیزوں کو پہچاننے کی سیکھ دے دی۔ ایک بےحد خداداد کردار اور ہے اس گلی میں۔ نام ہے ممتاز میاں۔ شہر کی اکلوتی کپڑا مل میں مزدور ہیں۔ گلی کے ٹھیٹھ دوسرے کونے پر مٹی کی چِنائی سے کھڑی دو دیواروں اور باقی ٹٹوں سے ڈھکا ہوا گھر انھی کا ہے۔ ممتاز میاں کی گردن ٹیڑھی ہے اور چلتے میں کافی ہلتے بھی ہیں۔ شہر کی روایت کے مطابق ان پر کئی سارے قصے اور ڈھیر سارے لطیفے بننے چاہیے تھے لیکن ایسا ہے نہیں۔ الٹے ممتاز میاں کو بےحد عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ وہ رمضان کے پورے مہینے صبح منھ اندھیرے اٹھ کر گلی اور آس پاس کی بستیوں میں گھوم گھوم کر سحری کے لیے جگانے کو آواز لگاتے ہیں: ’’ایمان والوں! اللہ کے پیاروں! جاگو! ۔۔۔ سحری کا وقت ہو گیا ہے۔ ایسے خوبصورت سے انسانوں کے بیچ ایک اور مزے کا کردار بھی ہے: ’لپک پٹھان۔‘ اصل نام تو راشد خاں ہے لیکن ان کی شخصیت میں پٹھانوں جیسی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ سنگل ہڈی فریم، ہر دم بکھرے بال، ساکیٹ سے باہر نکلتی آنکھیں، زبان سے ہر وقت خراش بھری آواز میں ہر دو لفظ کے بعد تازہ تازہ ایجادشدہ گالی ہوتی ہے۔ اپنے اسی لڑکھڑاتے جسم اور چلتے پھرتے اللہ واسطے کی لڑائیاں مول لینے کی عادت کی وجہ سے انھیں ’لپک پٹھان‘ کا یہ لقب حاصل ہوا تھا۔ حالانکہ بعد کو یہ نام بھی ٹکاؤ ثابت نہ ہوا۔ بعد کے برسوں میں رتن کھتری کے مٹکے والے سٹّے کا چلن ہوا تو اس کے پھیر میں بدنام ہو کر ’مما منڈی‘ کہلانے لگے۔ اب یوں تو یہاں میرے ڈھیر سارے دوست لتو پاگل، للن اور اس کی بہن ربّو، جنگل ٹھیکیدار شاہد میاں، ٹینٹ ہاؤس والے مجو میاں، دودھ والے نفیس بھائی، لائبریری والے سجاد صاحب اور ان کے دو بیٹے سلیم اور جاوید، اور نہ جانے کتنے لوگ ہیں،جن کا تذکرہ ابھی باقی ہے۔ ٭٭٭٭٭ میں آپ کو بتا دوں که میں کس طرح اس باجے والے گلی میں آیا۔ 1947 میں جس دن ہندوستان کے بٹوارے کا اعلان ہوا، اس دن تک تو میں وجود میں نہیں تھا لیکن میری کہانی کا پہلا منظر میری غیرحاضری میں ضرور لکھا جا رہا تھا۔ میرے خاندان کا شجرہ بتاتا ہے که اس کی جڑیں دیش کے جنوب مشرق میں بسے پرانت [خطّے] سندھ میں ہیں۔ ملک کے بٹوارے کے سودے کی شرطوں کے مطابق یہ پرانت ہندستانی مسلمانوں کے لیے بننے والے نئے ملک پاکستان کا حصہ طے ٹھہرا۔ اس فیصلے سے میرے خاندان کو دکھ بھلے ہی ہوا ہو، لیکن فکر بالکل بھی نہ ہوئی۔ صدیوں سے یہاں ساتھ رہنے والی آبادی میں ہندو مسلمان تو ضرور تھے لیکن وہ سب سندھی پہلے اور ہندو یا مسلمان بعد میں تھے۔ اسی کے چلتے کچھ عرصے تک یہاں کا ماحول لگ بھگ تناؤ سے خالی بنا رہا۔ پنجاب سے ہر روز آنے والی قتل غارت کی خبروں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چِنتاؤں کو صدیوں سے ساتھ رہنے والے مسلمان کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ہوا میں اڑا دیتے۔ ماحول ایک بار پھر سامانیہ [نارمل] ہو جاتا تھا۔ (جاری ہے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں (لی کوک لیانگ)

[blockquote style=”3″]

لی کوک لیانگ (Lee Kok Liang) ملائیشیا کی چینی نژاد برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانی ’’جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں‘‘ یوں تو ایک ایسے موضوع کو پیش کرتی ہے جس پر ہزارہا انداز سے لکھا جاتا رہا ہے، لیکن زوال عمر کے تجربے کو اس کہانی میں ایک بالکل اچھوتے زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس زاویے کو نبھانے کے لیے فن پر نہایت ماہرانہ دسترس ضروری تھی، اور کہانی پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ اسے اسی مہارت اور فنی ضبط کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: لی کوک کیانگ
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنگ منگ نے بائیں کلائی اٹھا کر گھڑی پر نظر ڈالی۔ ساڑھے پانچ بجے تھے۔ اس کے پاس ابھی کچھ وقت تھا۔

جوں ہی اس کی کار سائے سے نکلی، دھوپ اس پر جھپٹ پڑی اور بونیٹ کی کالی سطح سے روشنی کی چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بکھر اٹھیں۔ پیش بندی میں اس نے پہلے ہی سے اپنی آنکھیں سکیڑ لی تھیں۔ ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ تھامے تھامے، اس نے دوسرے ہاتھ سے رومال نکالا اور پھرتی سے اپنی گُدّی پونچھی۔ پسینہ اس کے چہرے کے اطراف اور گردن پر بہنے لگا تھا۔ رومال کو کار کے فرش پر ڈال کر اس نے سیٹ پر سے چشمہ اٹھایا اور اپنی آنکھوں پر جما لیا۔ سڑک اب اپنے ہلکے نشیب و فراز سمیت بتدریج چڑھائی میں تبدیل ہو رہی تھی۔ جب وہ بڑے موڑ پر پہنچا تو اس نے اپنی گھڑی ٹیلے پر بنائے گئے اس نئے گھنٹہ گھر سے ملائی جو بلوریں آسمان میں پیوست ہوتا نظر آتا تھا۔

دور سڑک کے سرے پر اسے اپنے بنگلے کی سیاہ ڈھلوان چھت، چائے کی دبیز باڑھ کے پرلی طرف گرد اڑنے کے سبب کسی قدیم جہاز کے ڈھانچے کی طرح جھکولے کھاتی دکھائی دی۔ اس کا بنگلہ پہاڑیوں میں ایک بلند مقام پر واقع تھا۔

جیسے ہی چھت پر نظر پڑی، اسے اپنی کنپٹیوں پر خفیف سی پھڑکن محسوس ہوئی۔ اس کی ڈھلی عمر کا لہو۔ یہ پھڑکن بڑھ کر شدت اختیار کر گئی۔ کنگ منگ نے پیٹھ اکڑا لی اور تن کر بیٹھ گیا۔ جوں جوں وہ بڑی سی چھت اپنی جسامت اور میلے پن کو نمایاں کرتی گئی، وہ بھی بےارادہ اپنے گھٹنے اکڑاتا رہا۔ یہ چھت سخت ڈھلوان تھی اور بارش نے اس پر بالکل پسینے کے نشان کی طرح کے دھبے ڈال دیے تھے۔ اس کا چہرہ ٹھنڈا ہو گیا اور تھرتھری اس کی ریڑھ کی دُمچی سے چھوٹی چھوٹی لہروں کی شکل میں نکل کر پھیل گئی۔ جیسے ہی درد کی لہر اس کی دائیں کنپٹی تک پہنچ کر ہتھوڑے کی چوٹ کی طرح لگی، اس نے سانس روک لی۔ دو دن قبل بھی اس نے یونہی لاچاری سے اس چھت کو دیکھا تھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا، وہ یوں جنبش کرتی معلوم دی جیسے کسی نہ نظر آنے والی موج پر بپھرتی چلی آتی ہو اور خوف دلاتی ہو کہ اونچی باڑ کے اوپر سے خود کو اٹھا پھینکے گی۔ کسی نہ کسی طرح اتنی قوت اس میں آ گئی کہ اس نے اپنی کار کو پشتے سے ٹکرا جانے سے پہلے ہی روک لیا۔

مگر اس بار وہ لرزشیں اس کے شانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی جاتی رہیں۔ اس کی سانس ایک طویل آہ کی صورت نکلی اور اس نے اپنی کار سڑک پار کر کے بھاری چوبی پھاٹک کے سامنے رسان سے لا روکی۔

اترنے سے پہلے اس نے اس دورے کے گزر جانے کا انتظار کیا۔ پھر اس نے پھاٹک کھولا اور کار کو آہستگی سے پختہ راستے کی ہلکی سی چڑھائی پر چڑھا لے گیا۔ اس نے انجن بند کیا تو تکان اور گرمی کے اثر کو تیزی سے خود پر غالب آتے محسوس کیا۔ اس نے اپنی پیشانی کو بازوؤں پر ٹکا دیا اور بغل کی بساند کے بھپکے سونگھتا رہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اسے نظر آیا کہ اس کے ہاتھ کتنے کھردرے اور سانولے ہو چکے تھے۔ جہاں جہاں اس نے کبھی کھجا لیا ہو گا وہاں وہاں جلد پر ننھے ننھے سے سفید نشان پڑ گئے تھے۔ مساموں کے سِروں پر چھوٹے چھوٹے سیدھے روئیں ابھرے ہوے تھے اور ایک گہری کاسنی ورِید اس کی لٹکتی کھال پر نمایاں تھی۔ وہ چل کر پھاٹک تک گیا اور پٹوں کو بہت احتیاط سے بند کیا اور نیچے والی لوہے کی چٹخنی کو دبانے کے لیے پیر استعمال کیا۔ جب وہ ان ڈِھبریوں کو غور سے دیکھنے کے لیے جھکا جن سے تختے جوڑے گئے تھے تو دھوپ نے اس کی گدّی کو جھلسا دیا۔ تب وہ سیدھا ہوا اور اپنے اس بنگلے کی طرف قدم بڑھائے جو اس نے اُس وقت بنوایا تھا جب وہ اپنی نوجوان شریک حیات کے ساتھ پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا۔ وہ اس سرزمین پر بسنے کے لیے جاوا سے آئے تھے۔ اس نے پہاڑی کی ڈھلان کا یہ قطعہ اس وجہ سے منتخب کیا تھا کہ یہ سستا بھی تھا اور شہر کے ساحلی علاقوں سے زیادہ ٹھنڈا بھی۔ یہ بنگلہ اس نے کئی بیٹوں کو دھیان میں رکھ کر بنوایا تھا۔ ایک بڑا وسیع بنگلہ، رین ٹری کے مانند مضبوط۔

بنگلے کے سامنے والے حصے نے زمین کی چوڑائی کا تقریباً تین چوتھائی حصہ گھیر رکھا تھا۔ نچلی اور بالائی منزل میں چار چار دریچے تھے۔ بنگلے کی ڈیوڑھی ایک چوبی پیش دہلیز تھی۔ بالائی منزل استعمال نہیں ہوتی تھی، اس کے زینوں کو اس نے تختے جڑوا کر بند کروا دیا تھا۔ پچھلے دنوں جب اس نے بجلی کی وائرنگ دوبارہ کروائی تھی تو کاریگروں کو اوپر جانے نہیں دیا تھا۔ بعض اوقات راتوں کو بالائی منزل پر بلیوں کی بھدبھد اس کو سنائی دیتی۔ کنکریٹ کی پختہ روش، اونچی باڑ، آزو بازو اور پشت پر جست کے تاروں کا جنگلہ اور بھاری پھاٹک تازہ اضافے تھے۔

جب وہ ڈیوڑھی کے قریب پہنچا تو قریبی کھڑکی کا گلابی چھینٹ والا پردہ یوں ہلا جیسے ہوا نے اسے ہلا دیا ہو۔ قدم روک کر اس نے آنکھیں سکیڑیں تو اس کو پردے کے پیچھے کسی کی جھلک محسوس ہوئی۔ اس نے پورچ کی ٹھنڈک میں سنبھل کر قدم رکھا اور پھر دہلیز پر بیٹھ کر اپنے جوتے کھولنے لگا۔ ہُو کا عالم تھا۔

’’کون؟ تم ہو کیا؟‘‘ وہ اپنی آواز کو قابو میں رکھتے ہوے پکارا۔
کوئی جواب نہ آیا۔
اس نے پھر پوچھا، ’’کون ہے؟‘‘ پھر اس نے نئی ملازمہ آہ نوئی کا ہیولا ہال کے اندھیرے میں چلتا ہوا پہچانا۔
’’تم اکیلی ہو کیا؟‘‘ اس نے اپنی آواز جھلّاہٹ سے پاک رکھنے کی کوشش کی۔

لڑکی نے اقرار میں اپنی مُنڈی زور سے ہلائی اور منھ پھیر لیا۔ وہ جو اپنی بالی عمر میں تھی اور دھوپ سے سنولائی ہوئی بھی تھی، اپنے کندھے لٹکائے کھڑکی کے قریب کھڑی تھی۔ اس کے بشرے سے گھبراہٹ عیاں تھی۔ اس نے کس کے پردے کو تھام لیا اور اپنے بدن میں دوڑتی کپکپی کو روکنے کی کوشش کی۔

’’کیا ابھی کھڑکی میں سے تم جھانک رہی تھیں؟‘‘ اس نے اپنی درشتی پر تاسف کرتے ہوے بہت نرم لہجے میں پوچھا۔ یوں پردے کو لمبے بے تکے ہاتھ سے تھامے وہ اپنے بسنتی جوڑے میں بہت الھڑ لگ رہی تھی۔ جوں ہی لڑکی نے اپنے قدم بدلے، پردے میں سے روشنی در آئی اور اس کے نوخیز سینے کو چھونے لگی— اس نے فوراً ہی اپنی نظر ہٹا لی۔ اس کی پوروں کے سروں پر سنسناہٹ کچھ اس طرح ہونے لگی جیسے اس نے دن کی پہلی سگریٹ پی ہو۔ اس نے اپنے داہنے ہاتھ کو جنبش دی اور جیب میں کھسے قلم کا کلپ درست کرنے کا ڈھونگ رچایا۔ خود کو سخت گیر ظاہر کرتے ہوے اس نے درشتی سے کہا، ’’تم جا سکتی ہو، اور آئندہ جھانکنا مت۔‘‘ وہ ہال پار کر کے گیا اور پنکھے کا بٹن کھول دیا۔

مگر وہ اس پر نظریں جمائے اسی جگہ کھڑی رہی۔ اس کے دہانے کے کنارے ایسے کپکپائے جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو۔ دھوپ سرک کر اب اس کی گردن پر آ گئی تھی اور اس کے کان کے نیچے واقع اس مسّے کو تپا رہی تھی جو سیاہ نہیں تھا بلکہ منّے سے تازہ زخم کی طرح سرخ تھا۔ وہ ہچکچائی اور پھر اس نے ایک دم پردہ چھوڑا اور سر جھکائے جھکائے چل دی۔ ہال کے پرلے سرے پر سبز دروازے کے پاس سے جب وہ گزری تو اس کے قدم تیز ہو گئے اور پھر وہ بنگلے کے پچھواڑے نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ کنگ منگ کی نظروں نے ہال میں اس کی چال کا تعاقب کیا اور پھر اس کی نگاہیں پلٹ کر سبز دروازے پر ٹک گئیں۔ وہ بند تھا۔

جب وہ چلی گئی تو یہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اپنا بایاں ہاتھ اس نے گود میں اس طرح رکھ لیا کہ وہ گھڑی پر نظر رکھ سکے۔ پنکھے کی ہوا نے اس کو ٹھنڈک پہنچائی۔ کچھ دیر بعد اس نے قمیص اتاری اور دبے پاؤں چلتا اپنے کمرے میں گھس گیا جو کہ پچھواڑے کی طرف جانے والی راہداری کے دوسرے سرے پر تھا۔ اس نے اپنی وارڈروب کھولی اور اپنے کپڑوں کو چھوا، ان کے کرارے پن کو محسوس کیا۔ قمیص اٹھا کر اس نے اپنی ناک سے لگائی اور پاک صاف سُوت کی مہک کو سونگھا۔ اس لڑکی نے کتنی عمدگی سے اس کے کپڑے استری کیے تھے۔ کتنے افسوس کی بات تھی کہ اس کا اپنا لباس ہمیشہ میلا اور جسامت سے ایک سائز بڑا نظر آتا تھا۔ اس نے سوچا کہ آیا وہ اس کو کچھ نئے جوڑے خرید دے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب اس کی نظر اس پر پڑی تھی تو پہلی نظر میں وہ کتنی سہمی ہوئی نظر آ رہی تھی، مگر اس کے اس خوفزدہ بشرے میں بھی کوئی بات ایسی تھی جو اس کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ اگر وہ کلی ہوتی تو وہ اس کو پروان چڑھاتا اور اس کے کھل اٹھنے کا انتظار کرتا، اور جو کہیں وہ اس کی اپنی بیٹی ہو سکتی تو وہ کتنا فخر محسوس کرتا۔ لیکن جب بھی اس سے لباس کے بارے میں پوچھنے کا اسے خیال آتا، ایک احساسِ گناہ اس کے حواس پر غالب آ جاتا اور وہ ایک لفظ بھی نہ بول پاتا، گو اس کا ارادہ ہمیشہ اس پر شفقت کرنے کا ہی ہوتا۔

کرسی کھڑکی کے قریب گھسیٹ کر اور کھڑکی کے شیشے پر سر ٹکا کر بیٹھا وہ اپنے کمرے میں سے باورچی خانے میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک سگریٹ وہ پھونک چکا تھا اور دوسری جلانے والا تھا کہ اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔ وہ چونک کر اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے نکل کر باورچی خانے میں گیا۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ ریفریجریٹر میں سے اس نے ٹھنڈا پانی لے کر ایک جگ میں انڈیلا اور سبز دروازے تک لے کر آیا۔ آہستہ سے اس نے چابیوں کا گچھا نکالا اور دروازے سے کان لگائے کھڑا رہا۔ چھوٹی سوئی چھ پر تھی۔ اس نے توقف کیا، یہاں تک کہ بڑی سوئی لرزتی ہوئی بارہ پر آ گئی۔ پھر اس نے دروازے کو چابی لگائی اور دھیمے سے دروازہ تھوڑا کھول دیا۔

اس کمرے کی تمام کھڑکیاں بند تھیں۔ دروازے میں کھڑے کھڑے اس نے کونے میں لگے ایک بستر پر نظر ڈالی۔ وہاں کوئی جنبش نہیں تھی۔ پنجوں کے بل کمرہ پار کرکے اس نے آہستہ آہستہ جھلملی کی ڈوری کھینچی۔ کمرہ روشن ہو گیا۔ وہ تن کر سیدھا ہوا، چل کر پلنگ تک آیا اور اس کی پٹی پر کولھا ٹکا کر بیٹھ گیا اور اپنی بیوی کو تکنے لگا۔

وہ چت پڑی تھی اور باقاعدگی سے سانس لے رہی تھی۔ جونہی اس کے وزن سے پلنگ دبا، وہ کسمسائی اور اپنے ٹخنے ایک دوسرے پر رکھ لیے۔ ہلکی روشنی میں اس کا چہرہ چھوٹا سا دکھائی دیتا تھا، سُتا ہوا، جھرّیوں سے بھرا جنھوں نے اس کے رخساروں پر چھوٹے چھوٹے سفید کھرونچوں کی سِیون سی بنا دی تھی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح بند نہیں تھیں، ان کی ہلالی درزوں میں سے وہ اس کے ڈھیلوں کو حرکت کرتے اور اس کے سوجے ہوے بیضوی پپوٹوں کو پھڑکاتے دیکھ سکتا تھا۔ بال اس کے سفید تھے، بس اطراف میں کہیں کہیں سیاہ پٹیاں سی تھیں۔ اس کی تازہ جھریوں کو یوں بیٹھ کر تلاش کرنا کچھ عجیب سا عمل تھا۔

کولھے کے پٹھے دُکھنے لگے تو اس کو پہلو بدلنا پڑا۔ اس ہل جل نے اس کی بیوی کو بےچین کر دیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، پتلیوں کو نچایا اور ایک ہلکی سی کراہ کے ساتھ کروٹ لے لی اور خود ایک گولے کی طرح گڑی مڑی ہو گئی۔ اس کے سارونگ نے اوپر کی طرف کھسک کر اس کی ٹانگوں کو ننگا کر دیا جو لیموں کی طرح زرد اور کسی نہ کسی حد تک اب بھی کسی کسائی دکھائی دیتی تھیں۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی انگلیاں ان پر پھیریں تاکہ اُن بیتے ہوے ابتدائی ایام کو یاد کر سکے۔ یقیناً اس کے ناخنوں نے ان پر خراشیں ڈال دی ہوں گی کیونکہ اس نے پیر زور سے جھٹکے اور اپنا ہاتھ منھ پر رکھ کر ہانپنے لگی۔ پہلی نظر میں وہ اس کو پہچان نہ سکی تھی اور وحشت زدہ سی گھورے جا رہی تھی۔

’’کیا میں نے تم کو پریشان کر دیا؟‘‘ وہ اس پر جھکا اور اس کا ہاتھ منھ پر سے ہٹایا۔ ’’آئی ایم سوری۔‘‘ اس کی بیوی نے اسے دیکھنے کے لیے خود کو اٹھا لیا۔ ’’نہیں نہیں، اٹھو مت، سو جاؤ، میں ہوں یہاں پر،‘‘ وہ پھڑکتے ہونٹوں سے مسکرایا۔

جماہی لیتے ہوے اور پیر پھیلاتے ہوے وہ تکیے پر گر گئی۔ بستر پر پَسر جانے کے بعد وہ سیدھی چھت کو تکنے لگی اور نچلے ہونٹ کو اندر دبا کر زور سے چبانے لگی۔اس نے تیزی سے اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن قبل اس کے کہ وہ اس کو چھوتا، اس نے اپنا ہونٹ چھوڑ دیا جو اُچک کر بہت گلابی سا ہو کر باہر نکل آیا۔ خود کو اپنی کہنیوں کے بل اٹھا کر اس کی بیوی نے اس کے چہرے کو دوبارہ غور سے دیکھا اور ایک ہاتھ سے اس کا ڈھیلا گریبان پکڑ لیا۔ وہ تنی ہوئی مسکراہٹ لیے دم سادھے بیٹھا رہا۔

’’پانی، پانی، مجھے پانی چاہیے۔‘‘ اس کی آواز میں شناسائی کا کوئی شائبہ نہ تھا۔

’’اچھا، اچھا، تم لیٹ جاؤ، میں تمھارے لیے پانی لاتا ہوں۔‘‘ ٹھڈّی سے اٹھتی ہوئی لرزش کو دباتے ہوے اس نے نرمی سے اپنی قمیص اس کے ہاتھ سے چھڑائی اور مسکراہٹ اپنے چہرے پر جما لی۔ اس کا ہاتھ لگتے ہی اس کی بیوی نے اپنا منھ گھما لیا۔ رخسار کی ہڈی باہر کو ابھر آئی جس نے اس کی گردن کی شکنوں کو سپاٹ کر کے غائب کر دیا۔

دروازہ کھلا چھوڑ کر جب وہ جگ اور پلاسٹک کا پیالہ لے کر لوٹا تو اس کو اسی حالت میں پایا۔ یہ طے کرتے ہوے کہ وہ اب اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا، اس نے بیوی کو دبی آواز سے پکارا، ’’دیکھو میں پانی لے آیا۔ لو پی لو۔‘‘

دونوں ہاتھوں سے پیالہ تھام کر اور اپنی ناک کے بانسے سے اس کی کگر ملا کر وہ آہستہ آہستہ پانی پینے لگی۔ کچھ دیر بعد اس کا دم رکنے لگا اور پانی اس کے رخساروں پر بہنے لگا۔ وہ پیالے کو پچکانے لگی۔ اپنے فیصلے کو فراموش کرتے ہوے اس نے پیالہ اس کے ہاتھ سے چھین لینا چاہا۔ جیسے ہی اس نے اسے ہاتھ لگایا، وہ زور سے چیخی اور اپنا سر جھٹکا۔ پانی چھلک گیا اور اس کے بلاؤز پر سامنے گیلی دھاریاں بن گئیں۔ فوراً ہی اس نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور کھڑا ہو گیا اور اپنی دکھاوٹی مسکراہٹ لیے اسے دیکھنے لگا۔ اس نے اپنی مٹھیاں کس کر اپنی رانوں کے اطراف گاڑ لیں۔ کافی دیر تک وہ اپنی سانس روکے رہا۔ اس بار اس کی چیخ بھلا کتنی دور تک گئی ہو گی؟ کتنی دور؟ دیکھتے دیکھتے پورے گھر پر سناٹا چھا گیا۔ ملازمہ اب کہاں دبکی بیٹھی ہو گی بھلا؟ تلخی کی ایک لہر نے اس کے خیالات کو منتشر کر دیا۔ اس کی کنپٹیاں لپکنے لگیں۔ کیا اس نے کافی خمیازہ نہیں بھگت لیا تھا؟ ایک ایسی بات کے لیے جو وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ہو۔ اس کے جسم میں ٹھنڈے غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مگر ہمیشہ کی طرح خود کو اس کے سامنے یوں کھڑے دیکھ کر اس نے اپنے آپ کو بہت بےبس محسوس کیا۔ اور جیسے ہی وہ ذرا پرسکون ہوا، ایک نئے طرز کی کوفت اور حقارت اس کے حلق میں مثل کڑواہٹ کے باقی رہ گئی۔ اس نے اس عجیب ذائقے کو محسوس کیا اور پھر اسی راضی برضا والی کیفیت نے اس کے جسم پر طاری ہو کر اس کی ہڈیوں کو کچھ اور نرم اور عضلات کو کچھ اور کمزور کر دیا۔ سب کچھ اتنا مایوس کن اور بےکیف لگ رہا تھا۔ دونوں کی عمر تھوڑی سی باقی رہ گئی تھی۔ جو وہ یہاں تک جھیل لے جا سکتا تھا تو اب چند روز اور مزید کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اس کو اپنی بیوی کی خبرگیری تو کرنا ہی تھی کہ اس کے سوا اب اس کا تھا بھی کون۔
اس کے ہاتھ سے پیالہ چھین لینا ایک غلطی تھی۔ ہاں، اس کی غلطی ہی تھی۔ اس نے اپنی مٹھیاں کھولیں تو اس کے کندھے لٹک گئے۔ اب وہ اس کو ٹھیک طرح دیکھ سکتا تھا۔ حیرت سی حیرت! اس کا چہرہ کتنا سُت گیا تھا، بس ہڈیاں ہی نکلی رہ گئی تھیں۔ ایک سہ پہر کو جب وہ دفتر لنچ بریک کے بعد معمول سے ذرا پہلے پہنچ گیا تھا تو چھوٹے اسٹور روم کے پاس سے گزرتے ہوے اس کے کان میں یہ بات پڑی تھی کہ عورت جب بوڑھاتی ہے تو کون سا حصہ پہلے مرجھاتا ہے۔ ایک جملہ اس کے ذہن میں اٹک گیا تھا، ’’میری خالہ بولتی ہیں۔۔۔۔‘‘ ایک تیکھی سی آواز سنائی دی تھی جو ہنسی ضبط کرتے ہوے تھوڑے توقف کے بعد بولی تھی ’’کہ جب عورت بوڑھی ہونے لگتی ہے تو مکھڑے سے چل کر نیچے کو سوکھنا شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم تو نیچے کی طرف بہت بعد میں بڑھتے ہیں نا۔‘‘ اور ہنسی کے فوارے کھلکھلاہٹ سمیت ابل پڑے تھے اور وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا تھا۔

اس کی بیوی تکیے پر سر ٹکائے یوں چپ چاپ پڑی تھی جیسے اس چیخ نے اسے نڈھال کر دیا ہو۔ وہ اپنی لٹوں کو اپنی چھنگلیا کے گرد لپیٹنے لگی، دھیرے دھیرے اور سنبھل سنبھل کر، اور ساتھ ہی وہ جَھرجَھری آواز میں گنگنانے لگی۔ کمرے میں دھوپ نے جگہ بدل لی تھی اور روشنی کا ایک بڑا سا قطعہ اس کے بلاؤز پر بلّی کی طرح لیٹا اس کی جھریوں بھری خشک گردن کو چاٹ رہا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں وہ دیکھتے دیکھتے کتنی بوڑھی ہو گئی تھی۔ کیا یہ کسی اندرونی ناسور کے زیراثر خون بہہ جانے کے سبب ہوا تھا کہ جس نے اس کے گوشت کی ساری نمی چوس لی تھی؟ سنگاپور یونیورسٹی کے طب کے استاد نے اس کا معائنہ کیا تھا اور وہ اس میں کوئی جسمانی آزار دریافت نہ کر سکا تھا۔ بیوی کے بارے میں اس نے پروفیسر سے اس وقت بات کی تھی جب وہ سامنے کوچ پر مصنوعی نیند کے غلبے میں بےحس پڑی تھی۔ اور واپسی کے سفر میں وہ اپنی سیٹ پر اس وقت تک غافل بیٹھی رہی تھی جب تک کہ نوجوان مردوں اور عورتوں کا ایک غول جشن آزادی کی خوشیوں سے سرشار، غل مچاتا، ڈبے میں داخل نہ ہوا تھا۔ اس نے بےچینی سے پہلو بدلا اور اپنے چہرے کے بائیں حصے پر یوں ہاتھ مارنے لگی جیسے اس پر مکھیاں آبیٹھی ہوں۔ بہرحال وہ خود اس موج اڑاتے غول کو دیکھ کر برانگیختہ ہو گیا تھا، خاص طور پر ان نوجوان لڑکیوں کو دیکھ کر جو اپنی اونچی اونچی اسکرٹس میں بہت اطمینان اور یقین سے راہداری میں چل رہی تھیں اور ان کے پسینے میں نہائے چہرے اس گرم دوپہر میں بہت چونچال لگ رہے تھے۔ جب وہ اس کے لیے پانی لینے باہر گیا تھا تو اسے نوجوان لڑکیوں کے اس ہجوم میں اپنا راستہ بنانے کے لیے دھکاپیل کرنا پڑی تھی اور جب اس کی رانوں نے ان کے پٹھوں سے رگڑ کھائی تو اس کی ناک میں ان کی جوان مہک پہنچی تھی اور اس کے رگ و پے میں خون تیزی سے دوڑنے لگا تھا جس نے اسے بے دم کردیا تھا۔ واپسی پر اس کی بیوی نے غالباً اس کی جولانی کو بھانپ لیا تھا کیونکہ وہ اکڑ کر بیٹھ گئی تھی اور اس نے پیٹھ پھیر کر پانی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے رومال احتیاط سے نکالا تھا اور بیوی سے چھپا کر ایک گولہ سا بنا کر اپنی مٹھی میں دبا لیا تھا اور اس کے چیخنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔ جس کے بجاے اس نے اپنے بال کھول ڈالے اور لٹیں اپنی انگلیوں میں لپیٹ کر انھیں اپنے منھ کے سامنے مثل پروں کے پھیلا لیا تھا۔ جب وہ لڑکیاں اِدھر سے گزریں تو یہ منظر دیکھ کر کھلکھلائی تھیں اور اس کو بہت غصہ آیا تھا۔

اس کو بستر پر لیٹے لیٹے، بالوں سے کھیلتے اور انگلیوں کو بار بار حرکت دیتے دیکھ کر وہ بڑی تھکن محسوس کرنے لگا۔ اس کی ٹھڈّی دکھنے لگی اور درد مٹانے کے لیے اس نے اپنی ریڑھ دوہری کر لی۔ کاش کہ وہ چند ساعت سر ٹکا کر جھپکی لے سکتا، بن سوچے رہ سکتا۔ مرد سب سے پہلے کہاں سے سکڑتا ہے؟

اس خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوے وہ بولا، ’’آؤ، باہر باغیچے میں چلیں۔ الامینڈر کھِلے ہوے ہیں، چلو۔‘‘ اس کو کمرے سے لازماً نکالنا چاہیے۔ ان لڑکیوں کے تصور نے کنگ منگ کو گڑبڑا دیا تھا۔

لیکن وہ سنی اَن سنی کر رہی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں موند لی تھیں اور کمبل کے ایک کونے کو باربار مروڑے جا رہی تھی جیسے اس سے چھوٹی چھوٹی گیندیں بنا رہی ہو۔

’’آؤ چلو،‘‘ اس نے منت کی، ’’الامینڈر سچ مچ اتنے پیارے سے اجلے اجلے، پیلے پیلے ہیں۔‘‘ اس نے لمبی سانس کھینچی۔ کمرہ جوان جسموں کی مہک سے پٹا معلوم ہوا۔ ایک خطاکار کی طرح اس نے چونک کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ مگر وہ اب بھی اپنا کمبل مروڑے جا رہی تھی۔
’’ارے بھئی چلو نا،‘‘ اس نے اپنی قوتِ برداشت پر تعجب کیا۔ بیوی نے کمبل چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ بالوں کی طرف اٹھ گیا۔

’’چلو گی نا؟‘‘ اس کی آواز میں تناؤ پیدا ہو گیا۔ اس کو دیکھتے ہوے اسے خیال آیا کہ خوابیدہ نفرتوں کے اس مستقل نقاب کے باعث وہ کتنی مسخ ہو چکی تھی۔ ایک درگزر نہ کرنے والا انتقامی کینہ اس پر مسلط تھا اور کسی بھی لمحے اس کے خدوخال بگڑ سکتے تھے۔ اس بارے میں سوچتے ہوے ایک خیال اس کے ذہن میں آیا اور جتنا جتنا اس نے سوچا اتنا ہی اس کا جوش بڑھتا گیا۔ اب اس کو کمرے سے باہر لے جانا لازم ہو گیا تھا۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ ابھی بھی کافی وقت تھا۔ لیکن پہلے اس کو پرسکون کرنا ضروری تھا۔ اس کی وحشت کو دور کرنا تھا۔

’’اچھا تو بھئی،‘‘ وہ بولا، ’’تمھیں اپنے بالوں کی اتنی فکر ہے تو میں تم کو برش لا دیتا ہوں، پھر تم پیاری لگو گی۔‘‘ اس کہنے کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو وہ کر رہی تھی۔ بس وہ تجربے سے یہ جان چکا تھا کہ اس کے سامنے کچھ بھی بول دینا اس کی توجہ مبذول کر لیتا تھا۔ اس کا خیال غلط نہیں تھا۔

جب کہ وہ یہ کہہ رہا تھا، اس کی بیوی نے پھرتی سے اپنے ہاتھ میں اپنا منھ چھپا لیا اور ایک پراسرار مسکراہٹ اس کے گالوں پر آنکھوں کے کناروں تک پھیل گئی۔ ایک دبی دبی سی ہنسی پھوٹی اور گزر گئی۔ برسوں پہلے جب وہ اس کو پہلی مرتبہ ایک مشترک پارٹی میں لے گیا تھا تو لوٹتے وقت کسی بیوقوف انگریز نے ملائی زبان میں اس کی ستائش کی تھی اور وہ ایک دم ٹھٹک کر اور گردن اٹھا کر بھونچکّا سی ایسے دیکھنے لگی تھی جیسے کہ اب کیا کرے۔ اُس وقت بھی اس نے اچانک اپنا ہاتھ اٹھا کر رومال سے منھ چھپا لیا تھا اور ہنسنے لگی تھی جس پر کنگ منگ نے شرمندگی محسوس کی تھی۔ ویسا ہی احساس اس پر اس وقت بھی طاری ہوا۔ بس صرف اس کے کنارے چپچپی نفرت اور حقارت سے سنے ہوے تھے، پھربھی اس نے تنی ہوئی مسکراہٹ اپنے چہرے پر برقرار رکھی۔ بیوی نے ہامی میں سر ہلا دیا۔

اس کو وہیں چھوڑ کر وہ کمرے کے دوسرے سرے پر رکھی ڈریسنگ ٹیبل تک گیا، جھکا اور برش کی تلاش میں درازیں کھکھوڑنے لگا۔ آئینہ نکال دیا گیا تھا۔ ایک دن وہ لوٹتے میں ہوٹل پر رک جانے کی وجہ سے گھر دیر سے پہنچا تو اس کو آئینے کے سامنے اس طرح کھڑے پایا تھا کہ اس کا ایک ہاتھ بےطرح کٹ گیا تھا، خون بہہ رہا تھا اور آئینے کی کرچیاں فرش پر بکھری پڑی تھیں۔ بہلا پھسلا کر اس کو بستر تک واپس لانے میں اسے کافی وقت لگا تھا اور جب ڈاکٹر نے اسے خواب آور دوا دے دی تھی تو وہ کرسی پر بیٹھا رہا تھا اور اس کی تیمارداری کرتا رہا تھا۔ تب ہی اس نے فیصلہ کیا تھا کہ لوٹتے ہوے کبھی ہوٹل پر نہیں رکے گا۔ یہ اس کی ایک اور غلطی تھی۔

’’مل گیا،‘‘ وہ برش دکھاتے ہوے جیسے ہی مڑا، اس کی نمائشی مسکراہٹ اس کے چہرے سے جاتی رہی۔ وہ اپنے بستر پر نہیں تھی۔ وہ تیزی سے بستر کی طرف لپکا اور گھٹنوں کے بل جھک کر پلنگ کے نیچے دیکھنے لگا۔ خون اس کے سر کی جانب چڑھ گیا اور وہ بڑی دقت سے کھڑا ہو سکا۔ آنکھیں موند کر سہارے کے لیے اس نے پلنگ کی پٹی پکڑ لی، یہاں تک کہ چکر کا اثر جاتا رہا۔ وہ کتنا بیوقوف تھا کہ اس نے دروازہ بند نہیں کیا تھا۔

جیسے ہی وہ کھڑا ہوا تو دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ تھوڑا سا لڑکھڑایا۔ اس نے اپنا سر آہستہ سے باہر نکالا اور خفیف سی بھی حرکت کی سن گن لینے لگا۔ دل ہی دل میں دعا مانگتا رہا کہ اس شام اتنی جلدی اس کو ہسیٹریائی دورہ نہ پڑے۔ وہ اپنی سانس روکے رہا تو تھوک اس کے منھ میں جمع ہو گیا۔ جوں ہی اس کو یقین ہوا کہ اس کی بیوی ہال میں نہیں ہے، وہ کمرے سے باہر آیا اور دروازہ بند کرنے کا خیال رکھا۔ پنجوں کے بل رینگتا وہ باورچی خانے کی طرف ہو لیا۔

جس وقت وہ داخل ہوا، آہ نوئی پھسکڑا مارے ترکاری کاٹنے میں منہمک تھی۔ اس کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کا پیندا کس قدر کَس کے اس کے بسنتی پجامے پر دباؤ ڈالے ہوے تھا تو ہلکی سی جھنجھناہٹ اس کی رانوں میں دوڑ گئی۔ شاید اس نے بھی محسوس کر لیا کہ وہ وہاں اکیلی نہیں کیونکہ وہ ایک دم گھبرائی سی آواز نکال کر پلٹی اور چاقو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر تختے پر گر پڑا۔ خود کو تنبیہ کرتے ہوے کہ وہ پرسکون رہے گا، وہ ایسا بن کر باورچی خانے میں ہر طرف نظر دوڑانے لگا جیسے کہ اس نے اسے دیکھا ہی نہیں، اور پھر خاموشی سے واپس پلٹ کر باغیچے کی طرف نکل گیا۔

جب وحشت کے ابتدائی آثار نمودار ہوے تو خوش بختی ہی سمجھیے کہ بنگلے کے تینوں اطراف جست کے تاروں کا اونچا جنگلہ لگوا کر وہ احتیاط اختیار کر چکا تھا۔ سامنے والی باڑ گھنی تھی اور وہ شمار ہی نہیں رکھ سکا تھا کہ اس کو اس کی خاطر کَے گاڑی گوبر استعمال کرنا پڑا تھا۔ مگر موجودہ چوبی پھاٹک لگنے سے قبل ایک چھوٹا سا جھولنے والا دروازہ تھا جس میں کنڈی لگی تھی اور جو آسانی سے کھولی جا سکتی تھی۔ ایک شام وہ یہ جھولنے والا دروازہ کھلا چھوڑ کر غائب ہو گئی تھی۔ ڈھونڈنے والے پہاڑی کی ڈھلانوں پر چاروں اطراف پھیل گئے تھے اور کچھ وقت تک اس نے اس بڑے رین ٹری کی طرف اشارہ کرنے سے گریز کیا تھا جس کی ایک موٹی سی ٹیڑھی میڑھی ڈال ایک ضخیم پتھریلی چٹان پر جھکی رہتی تھی۔ مگر جب وہ ان لوگوں کو کہیں نہ ملی تھی تو پھر اس نے ان کو اس پیڑ کا بتایا تھا اور خود تھکن کا بہانہ کر کے ایک گِرے ڈالے پر بیٹھ گیا تھا جبکہ وہ سب اپنی ٹارچیں لیے اس طرف بڑھ گئے تھے۔ جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئے تھے، اس نے ان کے قدموں کو گنا تھا۔ بڑے نعرے بلند ہوے جب ان لوگوں نے اس کو پتھریلی چٹان پر کھڑے کھڑے ہاتھ اٹھا کر اس جھکے ہوے ٹیڑھے میڑھے ڈالے کو پکڑنے کی کوشش کرتے دیکھ لیا تھا، اور جب وہ لوگ اس کو لے کر اس کے پاس آئے تھے تب بھی اس نے چیخنا چلّانا بند نہیں کیا تھا اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوے وہیں ان لوگوں کے سامنے اس سے لپٹ کر رو پڑا تھا۔ یہ کئی برس پہلے ہوا تھا۔

چوبی پھاٹک اب مٹیالا ہو چکا تھا، اور اس کے جوڑ کی درزوں میں سبز کائی جم چکی تھی۔ ایک نظر میں اس نے دیکھ لیا کہ وہ بند تھا، اس لیے وہ پورچ میں ہی کھڑا رہا۔ باغیچے میں ایک سبز لان تھا جس میں اس نے سب سے بڑھیا گھاس جو وہ خرید سکتا تھا، لگوائی تھی۔ اس میں جگہ جگہ گھنی پتیوں سے ڈھکے، لذیذ پھلوں والے چھوٹے درخت لگے ہوے تھے۔ اجلے اجلے، پیلے الامینڈر اپنی بھوری پھلیوں سمیت پھاٹک کے قریب اگے ہوے تھے۔ پانچ قسم کے ہبسکس کے پودے اپنے سرخ چکنے پھول اٹھائے لان کے وسط میں لگے تھے۔ اس نے کناروں پر لال اینٹیں چنوائی تھیں۔ الامینڈر کے قریب ہی فرنجی پانی کا ٹیڑھا میڑھا درخت اپنی شاخوں کو اینٹوں کی حد سے بھی آگے پھیلائے وقفے وقفے سے اپنے پھولوں کے پیراشوٹ زمین پر بھیج رہا تھا۔ ہوا میں قدرے خشکی پیدا ہو گئی تھی اور دھوپ اب پیڑوں کی اوپری شاخوں پر پہنچ گئی تھی۔

’’نکل آؤ،‘‘ پیڑوں کی طرف مبہم انداز میں ہاتھ اٹھ کر اس نے بلند آواز سے کہا، ’’میں نے تم کو دیکھ لیا ہے!‘‘ دم سادھ کر اس نے کن سوئیاں لیں۔ ’’تم بےایمانی کر رہی ہو،‘‘ وہ بولا، ’’میں نے تم کو دیکھ لیا ہے، اگر تم یہ کرو گی تو میں نہیں کھیلوں گا۔‘‘ پھر اس نے اپنا سر رک رک کر بائیں سے دائیں گھمایا اور آسمان کی طرف دیکھا جو غروبِ آفتاب کے باعث ہلکا بینگنی بلکہ تقریباً بھورا گلابی ہو رہا تھا۔ تھوک گٹکتے ہوے وہ چلّایا، ’’نکل آؤ!‘‘ اور پھر اس نے ظاہر کیا کہ جیسے وہ اندر جا رہا ہو۔ اس نے گھڑی پر تیزی سے ایک بےچین نظر ڈالی۔

اس کی آواز کی گونج ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی بیوی کا قہقہہ لان کے سرے پر لگی ہبسکس کی جھاڑیوں کے پیچھے سے گونجا۔ وہ جھاڑیوں کو ہلاتی کھڑی ہو گئی۔ بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوے تھے۔ مسکراہٹ سے تھوڑی دیر کے لیے چہرہ شکن آلود ہوا اور پھر وہی بیزاری لوٹ آئی۔ کناروں پر کھلے چھوٹے چھوٹے سرخ پھولوں کو توڑتے ہوے رکتا رکاتا وہ اس کی طرف گیا۔

’’شریر کہیں کی، تم پہلے کیوں نہیں نکلیں؟‘‘ اس نے پھول اس کے ہاتھوں میں پکڑا دیے، جن کو اس نے اونچا اٹھا لیا اور ان کی پنکھڑیوں کو وہ دونوں ہاتھوں سے مسلنے لگی۔ اس نے اپنی ہتھیلیوں پر لگے سرخ دھبوں کو دیکھا تو پھر سے قہقہہ لگایا۔ اس نے فوراً ہی جیب سے رومال گھسیٹا اور گھبرایا سا اس کے ہاتھ پونچھنے لگا۔ جس وقت وہ یہ کر رہا تھا تو اس نے کنکھیوں سے پورچ کے پاس والی کھڑکی کے پردے کے پیچھے تھوڑی سی حرکت دیکھی۔

’’آہ نوئی، آہ نوئی،‘‘ اس نے آواز دی، ’’ذرا چٹائی تو نکال لانا۔‘‘
سایہ پردے کے پاس سے ہٹ گیا۔

اور پھر وہ باہر آئی، روشن زرد کوندے کی طرح لپکتی، لپٹی چٹائی بغل میں دبائے اور اپنا سر جھکائے وہ ان کی طرف آئی۔ ان کے قریب پہنچ کر چٹائی اس نے زمین پر ڈال دی اور چپ چاپ کھڑی ہو گئی۔ اس کی بیوی نے ملازمہ کو گھورا اور بدبداتے ہوے مٹھیاں بھینچیں۔ لمحے بھر کو اسے اندیشہ ہوا کہ اس کی بیوی اس ملازمہ کو بھی اسی طرح کھدیڑ دے گی جس طرح وہ گزشتہ سال ایک اور ملازمہ کے ساتھ کر چکی تھی، مگر اس مرتبہ اس کی بیوی نے فقط تھوک دیا۔ ’’مجھے الھڑ چھوکریوں سے چڑ ہے، بڑی کتّی خصلت ہوتی ہیں،‘‘ وہ پھنکاری، مگر لڑکی ہلی تک نہیں۔ وہ جلدی سے بولا، ’’جاؤ، تم جا سکتی ہو۔‘‘ وہ اتنی جلدی کوئی ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ لڑکی جانے کو مڑی تو اس کی کمر کتنی پتلی دکھائی دی۔

’’آؤ یہاں بیٹھیں،‘‘ اس نے چٹائی گھاس پر بچھا دی۔ جاتی ہوئی لڑکی پر سے نظریں ہٹائے بغیر اس کی بیوی چٹائی پر تن کر بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ پھر دور کے خیالوں میں گم ہو گیا۔

اس نے اپنی جیب سے تاش کی وہ گڈی نکالی جو اس کی تلاش کے دوران اس نے میز پر سے اٹھا لی تھی۔ گڈی کے دو حصوں کو انگوٹھوں اور انگلیوں میں دبا کر اس نے بار بار پھریری دی۔ یہ کرتے دیکھ کر اس کی بیوی کے چہرے کا انداز بدل گیا۔ اس نے پتوں کو پھینٹا اور اس کے سامنے کھلے پتے ایک قطار میں جمانے لگا۔ وہ اس کے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھتی رہی اور جب اس نے ہاتھ روکا تو بغیر کچھ کہے وہ جھکی اور اس نے غلام اٹھا لیا۔ اس نے گردن ہلائی اور مسکرایا۔ تین ماہ قبل وہ تاش کے پتے پہچان ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ ترکیب اسے ڈائجسٹ کے ایک مضمون سے سوجھی تھی۔ شہر کا کوئی بھی ڈاکٹر اس کے لیے سوا مسکّن دوائیں تجویز کرنے اور اس کو پرسکون رکھنے کا مشورہ دینے کے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ جہاں تک اس پاگل خانے تن جونگ نائیر اسپتال کا تعلق تھا تو وہ تو ایک قیدخانہ تھا یا اس سے بھی بدتر۔ وہ اس کو وہاں تو کبھی نہیں بھیج سکتا، حالانکہ چند ڈاکٹر اس کی تصدیق کرنے کو تیار تھے۔ اس کے کچھ کاروباری دوستوں نے سمجھایا بھی تھا کہ آزادی ملنے کے بعد بڑی بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ تب سے وہ متعدد بار تن جونگ نائیر تبدیلیاں دیکھنے جا چکا تھا۔ گزشتہ چھ برسوں میں وہ کئی بار وہاں جا چکا تھا مگر ناامیدی کے سوا اسے کچھ نہ ملا تھا۔

پتے پھنٹے اور چابکدستی سے پرندوں کے پروں کی طرح دوبارہ چٹائی پر پھیلا دیے گئے۔ مگر اس بار اس نے ان کو چھوا تک نہیں۔ اس نے سر اٹھا کر بیوی کی طرف دیکھا۔ پپڑیاں جمے خشک بھورے ہونٹوں کو اندر باہر کرتے ہوے اس نے پھوپھو کرنا شروع کر دیا۔ پھولے ہوے غبارے اور پچکے ہوے جوف کی طرح گال پھولنے اور سکڑنے لگے۔ سوکھی ہوئی چام کے نیچے ہڈیاں اُبھر آئیں۔ دفتر میں اس لڑکی کا کہا ہوا جملہ اس کے ذہن میں کچوکے لگانے لگا، اور ایک صدمے کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ اس کی بیوی کے بارے میں ہی گفتگو کر رہی تھیں۔ یہ بات کان میں پڑنے سے چند روز پہلے وہ ایک جوان عورت کی طرح بنی ٹھنی اس کے دفتر آ دھمکی تھی اور جب اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا تو اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ دورے کی حالت میں تھی۔ اس کو ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی وہ اس کو اپنے کمرے سے باہر لایا تھا۔ وہ ایک ایسی بےکیف گرم سہ پہر تھی جب ہر ایک اکھڑا اکھڑا اپنی ڈیسک پر بیٹھا وقت گزر جانے کا منتظر تھا۔ اس کی بغلوں میں پسینہ بہہ رہا تھا۔ جب وہ دفتر میں سے گزر رہے تھے تو اس کی بیوی ہاتھ چھڑا کر ایک لڑکی کی طرف لپکی تھی اور اس کے گال پر تھپڑ جڑ دیا تھا۔ لڑکی نے سسکی بھر کر کھڑے ہونے کی کوشش کی تھی مگر اس کی بیوی نے ٹہوکا دے کر اسے دھکیل دیا تھا اور چیخ چیخ کر اس کا سینہ نوچنے لگی تھی۔ ’’بیہودہ! بیہودہ!‘‘ سب لوگ دم بخود دیکھتے رہ گئے تھے۔ چپراسی کی مدد سے وہ اس کو دفتر سے باہر لایا تھا۔ اس سہ پہر وہ پھر لوٹ کر دفتر نہیں گیا تھا۔

’’اچھا، بادشاہ اٹھاؤ،‘‘ اس نے اپنے جذبات قابو میں رکھتے ہوے کہا۔ اس کی بیوی پھونکیں مارتی رہی۔ اس کے گلے میں کچھ پھنسنے لگا اور اس کی آواز بیٹھ سی گئی۔ دفتر میں ہونے والے اس واقعے کی یاد نے اس کی تلخی میں اضافہ کر دیا۔

شاید اس تبدیلی کو اس نے محسوس کرلیا اور یک لخت پھونکنا بند کر دیا۔ اس کے بشرے پر تکان کا اثر نمایاں ہو گیا۔ اس کی آنکھیں گمبھیر ہو کر جھٹپٹے میں چمکنے لگیں۔ اس کا دایاں ہاتھ کانپا اور وہ بار بار اپنی انگلیاں کھولنے اور بند کرنے لگی۔ وہ بالکل چپ بیٹھی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اب وہ روئے گی یا اس پر چیخے گی۔

’’چلو اٹھاؤ،‘‘ اپنی آواز اور بھینچ کر اور اپنی تلخی کا مزہ لیتے ہوے اس نے اصرار کیا۔

اس کے بائیں رخسار کے عضلات جھٹکا لے کر پھڑکے اور جب اس نے گھبرا کر اپنا داہنا ہاتھ پھیلایا تو ساتھ ہی اس کو ٹکٹکی باندھ کر گھورنے لگی۔ اس کو گھورتے جو دیکھا تو اس نے اپنا سر ساکت رکھ کر اس کے آر پار دیکھنے والی ترکیب استعمال کی۔ اس بار اس نے ہتھیار ڈال دیے، اپنا سر جھکا کر اس نے اپنا ہاتھ پتوں کے عین اوپر ٹھہرا لیا۔ اچانک اس سکوت کو پہاڑی کی طرف اڑ کر جاتے ہوے ایک زرد پرندے کی سریلی آواز نے توڑ دیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور سر اٹھا کر پرندے کی اڑان دیکھنے لگی۔ جب اس نے پرندے کی اڑان کا رخ یہ دیکھا کہ وہ بڑے درختوں کی جانب لپک رہا تھا تو اس کے چہرے پر ہیبت چھانے لگی۔

’’یہ دیکھو۔۔۔‘‘ اس نے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے کہا کیونکہ وہ بھی دیکھ چکا تھا کہ پرندے کی منزل کدھر تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا، اس نے ہاتھ مار کر تاش چٹائی پر تتر بتر کردیے اور دونوں مٹھیوں سے گھاس پیٹ پیٹ کر بین کرنے لگی۔

’’کوئی بات نہیں، روؤ مت، کوئی بات نہیں!‘‘ اس کی تلخی کافور ہو گئی۔ اس نے اس گھور غم کو محسوس کیا جس نے ان دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ یہ اس پر اتنا اچانک ٹوٹا تھا کہ اس نے اسے بالکل پست کر دیا تھا۔ ایک بار تو اس نے بھی حقیقتاً ندامت محسوس کی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کانپتا ہاتھ اس کے شانے پر رکھ دیا۔ وہ ایک دم پرسکون ہو گئی۔ ’’آؤ لیٹ جاؤ، تم کو زیادہ آرام ملے گا۔‘‘ جب تک پہاڑی نظر نہ آئے، اس کا سکون برقرار رہے گا۔

اس نے بغیر کسی مزاحمت کے اُسے لٹانے دیا۔ چٹائی پر پاؤں پھیلا کر اس نے اپنے بازو پیٹ پر رکھ لیے اور آسمان کو تکنے لگی۔ وہ اس سے باتیں کرنے لگا، چھوٹی چھوٹی باتیں جو وہ سننا پسند کرتی تھی، ساتھ ہی ساتھ اپنی آنکھیں بند کر کے انگلیوں سے اس کی پیشانی سہلاتا رہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ وہ سو چکی تھی۔ اندھیرا پھیل رہا تھا اور آسمان گہرا اُودا ہو چکا تھا اور اکادکا بدلیاں تیر رہی تھیں۔ ہوا رک گئی تھی، زمین اپنی گرمی کے نم بھپارے رہ رہ کر چھوڑ رہی تھی۔ سڑک پر کاریں تواتر سے اپنی آوازیں بکھیرتی گزر رہی تھیں۔ جب وہ قریب سے گزرتیں تو ان کے ہیڈ ماپ باڑھ پر روشنی کی چتیاں ڈالتے اور سیاہ پتیوں میں جگنو سے اڑاتے۔ پہاڑی کی ڈھلانیں مدھم ہوتے جھٹپٹے کو جذب کر رہی تھیں۔ جیسے جیسے رات کے سائے پھنگیوں کی جانب بڑھ رہے تھے، ویسے ویسے درختوں کی گوبھی نما چوٹیاں اوجھل ہوتی جا رہی تھیں۔ اور وہ زرد پرندہ غالباً کسی بڑے درخت کی جھولتی شاخ پر بسیرا کیے نیچے کالی چٹانوں کو دیکھ رہا ہو گا۔ شام کے دھندلکے میں فرنجی پانی کا پیڑ وقفے وقفے سے اپنے سیاہ جسم سے چھوٹی چھوٹی سفید بوندیں ٹپکا رہا تھا۔

اور اسے سیوچو کا خیال آیا جو اپنے سفید لباس میں اس فرنجی پانی کے نیچے گرے ہوے پھولوں کے درمیان مثل ایک سائے کے بت بنی ششدر کھڑی پہاڑی کے عقب میں غروب ہوتے آفتاب کی بھڑک دیکھ رہی تھی۔ جب وہ اس کو اندر بلا لے جانے کے لیے گھر کے اندھیارے سے نکل کر دبے پاؤں اس کے پیچھے پہنچا تو اس نے اس کو تقریباً ڈرا دیا تھا۔ وہ اس کی بیوی سے بہت چھوٹی تھی۔ سیوچو اپنی شادی کے دن کے انتظار کا وقفہ گزارنے کے لیے ان کے پاس رہنے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ کنگ منگ کو اس کا نکاحی گواہ بننا تھا کیونکہ اس کے سسر کا انتقال ہو چکا تھا اور اس کے کنبے میں اور کوئی مرد نہیں تھا۔ شادی میں ابھی کوئی دو ماہ باقی تھے۔ مگر وہ اپنی ہمشیرہ سے ملاقات کرنا چاہتی تھی جو اس وقت رخصت ہو کر آ گئی تھی جب سیوچو ابھی بچی ہی تھی۔

غالباً پہاڑی کے حسن سے متاثر ہو کر گھر کے اندر جانے سے پہلے اس نے اس کے ساتھ بےتکلفی سے گفتگو کی تھی۔ کسی نوجوان لڑکی سے بےتکلفی سے گفتگو کرنا اس کو ایک انوکھا تجربہ لگا تھا۔

پراسرار کمردرد اور پسینہ چھوٹنے کی تکلیف کے سبب اس کی بیوی کی صحت کچھ دنوں سے گر رہی تھی، اس لیے لڑکی کی میزبانی اس نے کنگ منگ کے سپرد کر دی تھی۔ بعض اوقات وہ سیوچو کو شہر لے جاتا تھا جہاں وہ خریداری کیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ اس کی خوش اخلاقی کا گرویدہ ہوتا گیا تھا۔ ہر شام کھانے کے بعد وہ دونوں باغیچے میں چلے جاتے تھے جبکہ اس کی بیوی معذرت کر لیتی تھی۔ اس کو آپس کی بیشتر گفتگو تو اب یاد نہیں رہی تھی؛ زیادہ تر تو وہی معمولی باتیں تھیں جن سے اس کو دلچسپی تھی۔ لڑکی کو بیرونی دنیا کی معلومات کی چیٹک تھی اور جلد ہی اس کی ابتدائی جھجک جاتی رہی تھی۔ اب وہ اس کو الجھن میں ڈالے بغیر اس کی طرف دیکھ سکتا تھا۔ دو چمکدار سیاہ آنکھیں جن سے رات کی روشنی منعکس ہوتی رہتی تھی، نازک بیضوی چہرہ اور آواز جو کھنکھناتی تھی۔ وہ اس کی بیوی کا بہتر مثنیٰ تھی اور حیرت انگیز طور پر نرم خو تھی۔ اس کی بیوی میں تو ایک مخصوص سی سنگدلی کا شائبہ تھا، ضبط کے پارچے تلے مستور ایک خوابیدہ ڈاہ۔ لڑکی کو دیکھ کر اسے پیلی چڑیا کا پوٹا یاد آ جاتا تھا۔
اب وہ صحیح صحیح تو دہرا نہیں سکتا تھا کہ یہ سب ہو کیسے گیا تھا۔ ایک شام وہ تاش کھیل رہے تھے کہ اتفاقاً اس کی انگلیاں اس کی ہتھیلی کی پشت سے چھو گئیں جو ٹھنڈی تھی مگر اس کو یوں معلوم دیا جیسے اچانک کوئی سلگتی چنگاری آ گری ہو۔ اس کی ریڑھ تن گئی تھی۔ اس رات کے بعد وہ اس سے کترانے لگا تھا۔ اس نے اپنے ان احساسات کو دبانا شروع کر دیا تھا جنھوں نے ایک عجیب پریشان کن صورت اختیار کر لی تھی۔ مگر چند ہی راتیں ڈانواڈول رہنے کے بعد اس نے اس واقعے کو ذہن سے جھٹک دیا تھا بلکہ اسے اس قسم کی بات سمجھنے لگا تھا جس کی پروا نہیں کرنا چاہیے تھی۔ آخر تھا تو وہ ایک امرِ اتفاقی۔

اول اول تو وہ لڑکی حیران پریشان رہی تھی اور اس کے اندر کی تبدیلی کو سمجھ نہ پائی تھی، قہقہے اس کے اب بھی کھنکتے تھے۔

آہستہ آہستہ اس کو گھورے جانے کا احساس ہوا تھا اور پھر جب بھی وہ اس پر سے اپنی نگاہ جلد نہیں ہٹاتا تھا تو اس کی تیوری پر تشویش نمایاں ہو جاتی تھی۔ وہ اس سے خوفزدہ نظر آتی تھی۔ مگر جب تک رات کی دبیز ہوا میں اس کی تازہ سنگتروں جیسی خوشبو آتی رہتی تھی تب تک اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی کہ وہ لڑکی اس کو پراسرار سمجھتی تھی۔

جس روز ملک کی آزادی کا اعلان ہوا تھا، وہ بار میں اپنے کاروباری ساتھیوں کی سنگت میں جام لنڈھا کر اور ویٹریسوں سے ٹھٹھولیاں کر کے جشن مناتا رہا تھا اور جب وہ معمول سے ذرا دیر میں گھر پہنچا تھا اور اپنے پنجوں پر اپنا توازن قائم کرتے ہوے کار سے نکلا تھا تو وہ اس کو فرنجی پانی کے نیچے آسمان کی طرف منھ اٹھائے کھڑی آتش بازی کا تماشا دیکھتے ہوے ملی تھی۔ جلوس بہت پہلے گھر کے پاس سے گزر کر دور جا چکا تھا۔ وہ دبے پاؤں چلتا اس کے نزدیک گیا تھا۔ وہ اس سے معلوم کرنے لگی تھی کہ شہر میں کیا کچھ ہوتا رہا تھا۔ بےشک وہ شراب کی ترنگ ہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا نے اس کی جلد کو چھیڑا تو برانڈی کے اثر سے نرالے احساسات اس کے تن بدن میں دوڑ گئے تھے، یہاں تک کہ اس کو پور پور مدہوش ہوتی لگی تھی۔ وہ شہر کی ان خوشی سے تمتماتے چہروں والی حسیناؤں کے تصور کا ہی اثر تھا جس نے اس سے وہ حرکت سرزد کروائی تھی۔ اس نے اس کو اپنی بغل میں کھینچا تھا اور سر ابھی چکرا ہی رہا تھا کہ اس کو چوم لیا تھا۔ اس کی چیخ نکل گئی تھی۔ آتش بازی نے آسمان پر روشنی کی ایک چھتری سی چھا دی تھی اور اندھیارے میں اجالے کے نقطے سے بکھیر دیے تھے اور جیسے ہی اس نے اپنے آپ کو چھڑا کر علیحدہ کیا تھا، ان کی نظر پورچ میں کھڑی ہوئی بیوی پر پڑی تھی۔ لڑکی خود کو چھڑا کر بھاگی تھی اور اس کی بیوی کے پاس سے گزر کر دوڑتی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی تھی۔ یہ سراسر اس کی نادانی تھی۔ اگر وہ اس رات بھاگی نہ ہوتی تو اس نے کوئی نہ کوئی عذر تراش لیا ہوتا۔

رات گئے تک آتش بازی چھوٹتی رہی تھی مگر گھر میں ایک بےچین کر دینے والی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اپنے کمرے میں جانے کے بجاے وہ جھونک میں آ کر پنکھے کے نیچے کوچ پر ہی پڑ رہا تھا۔ اس کی بیوی نے اس کا سامان کمرے کے باہر پھینک دیا تھا۔ اس کو گمان گزرا کہ ایک مرتبہ اس نے خواب میں کسی تاریک سائے کو اپنے اوپر جھکتے دیکھا تھا اور جب اس نے کروٹ لی تھی تو سائے نے اس کے گال کو چھوا تھا۔ صبح ہوتے جب اس کی نیند اچٹ گئی تھی تو وہ اٹھ گیا تھا اور تادیر ہال میں ٹہلتا رہا تھا۔ پھر اس نے اپنے کمرے میں جھانکا تھا۔ اس کی بیوی گہری نیند سو رہی تھی۔ وہ دوبارہ ٹہلنے لگا تھا۔ آخرکار وہ دوسرے کمرے کی طرف گیا تھا اور جب اس نے دروازہ کھولا تھا تو وہ کانپ رہا تھا۔ مگر سیوچو کا بستر خالی تھا۔ وہ اس کو پورے گھر میں چپ چاپ تلاش کرتا پھرا تھا اور پھر باغیچے میں نکل گیا تھا۔ جب وہ گھر میں جانے کے لیے پلٹ رہا تھا تو اس کی نظر کھڑکی پر پڑی تھی جو کھلی ہوئی تھی۔ باہر سڑک سنسان تھی۔ بےچینی محسوس کرتے ہوے وہ ہال میں آیا تھا۔ آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو جگانے کی ہمت کی تھی اور جس وقت تک وہ کھوجیوں کو اکٹھا کر سکے تھے، دن نکل آیا تھا۔ ایک تنگ حلقہ بنائے انھوں نے پہاڑی کی ڈھلانوں کو کھنگالنا شروع کیا تھا۔ اس کی بیوی نے ہی سب سے پہلے اس کو رین ٹری کی اس ٹیڑھی میڑھی شاخ سے جھولتے لٹکتے دیکھا تھا۔ ایک چھوٹا سفیدپوش پیکر سیاہ چٹان کے اوپر لٹکا ہوا تھا۔ جب دوڑ کر وہ اُدھر گئی تھی اور اس لڑکی کو نیچے کھینچنے لگی تھی تو اس کی آہ و زاری نے دور دور تک پہاڑی کی خاموشی کو پاش پاش کر دیا تھا۔ سہارا دے کر وہ اپنی بیوی کو گھر لے آیا تھا اور ڈاکٹر بلوایا تھا۔

وہ حقیقتاً پشیمان تھا۔ ذہن ہی ذہن میں اس نے تقدیر سے شکوہ کیا تھا۔ آخر کو تھی تو وہ ایک معمولی سی بات، پھر اس کا انجام یوں کیوں ہوا؟ کنگ منگ نے کبھی بھی یہ حقیقت قبول نہیں کی کہ زندگی ایسے ہی صورت اختیار کرتی تھی جیسے جھینگر کے حلق سے نکلی ایک یکہ و تنہا تھرتھری رات کو پہاڑ بنا دے۔

یہ سات برس پہلے کی بات تھی۔ رات کی خنک ہوا نے اس کے چہرے کو منجمد کر دیا اور وہ کانپا۔ گھڑی کے روشن ڈائل پر 7:54 کے ہندسے نظر آئے۔ اس کی بیوی اب بھی چٹائی پر سوئی پڑی تھی۔ سڑک پر اچانک خاموشی چھا گئی تھی۔ دھیمے دھیمے ایک نئی آواز ابھری۔ شروع میں بہت مدھم، دور سے آتی ہوئی گاجے باجے کی آواز، جو بتدریج قریب آتی گئی۔ بیوی اب بھی سو رہی تھی اور وہ اس اُدھیڑبُن میں تھا کہ آیا وہ پھر وہی کچھ ہونے دے۔ گردن گھما کر اس نے ہال کی روشنیوں کو گلابی پردوں میں سے چھن کر آتے دیکھا اور اپنے ہونٹ چباتے ہوے اس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ جس بات کا خیال اسے آیا تھا، وہ نہ ہو۔ سیوچو کی موت کے بعد وہ اندر سے ڈھے گیا تھا۔ بند ٹوٹ چکا تھا۔ آبِ زُلال اب غلیظ سیل بن چکا تھا۔ اس نے اپنے گھٹنوں میں سر دے لیا اور اپنی چپنیوں کو زور سے دبایا۔ یہاں تک کہ ماتھا دُکھنے لگا۔ اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر باڑ کی سمت دیکھا۔ آتے ہوے جلوس کے گیس ہنڈوں سے آتی ہوئی روشنی کی وجہ سے باڑ سلمہ ستارے والی ہو گئی تھی اور ہوا میں سانپ کی طرح لہرا رہی تھی۔ جلوس کی آوازوں نے پھیل کر فضا کو پُرشور کر دیا تھا۔ گاتی بجاتی آوازیں، نفیریاں، بینڈباجوں پر فوجی نغمے… اور اچانک مائیکروفون نے تلوار کی طرح وار کیا۔ ایک تیز کرخت آواز آئی، ’’آزادی، ہماری قوم زندہ باد!‘‘ اور خلقت کی طرف سے نعرہ بلند ہوا، ’’آزادی، آزادی!‘‘

اس کی بیوی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور بغیر کچھ سمجھے دائیں بائیں دیکھنے لگی۔ یک لخت تاریک آسمان میں دور اوپر آتش بازی پھٹ پھٹ کر اپنی شاخیں پھیلانے لگی تو جلوس میں سے زوردار نعرے بلند ہوے۔ ایک پل کے لیے اس کی بیوی بالکل حواس باختہ رہی اور پھر ایک جست مارکر چیخ پکار کرتی گھر کے اندر بھاگ گئی۔

جب وہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں گھسا تو وہ اپنے بستر پر لیٹ چکی تھی اور اس کا حلیہ بگڑا ہوا تھا۔

’’آہ نوئی! آہ نوئی!‘‘ کنگ منگ بیوی کی چیخوں سے اپنی آواز زیادہ بلند کرتے ہوے پکارا، ’’اِدھر آؤ، فوراً!‘‘ اس نے خود کو بیوی پر گرایا اور جب وہ اٹھنے لگی تو اسے جکڑ لیا۔ گردن گھمائی تو اس نے ملازمہ کو دروازے میں ٹھٹکے ان دونوں کو دیکھتے ہوے پایا۔ ’’جلدی کرو! جلدی سے گولیوں کی شیشی اور ایک کپ پانی لے آؤ۔۔۔۔ جلدی کرو!‘‘ اس نے چیخ کر سہمی ہوئی لڑکی کو حکم دیا۔ لڑکی پھرتی سے گئی اور دوا کی شیشی اور پلاسٹک کپ لے کر آ گئی۔ ’’ادھر آؤ!‘‘ اس نے اپنا آزاد ہاتھ ہلایا۔ ’’جب میں دوا دوں تو تم ان کو کس کر دبائے رہنا۔‘‘ اس نے دل میں دعا مانگی کہ وہ اٹھ کر بھاگ نہ جائے۔ لڑکی نے اس کے کہنے پر عمل کیا۔

جب اس کی بیوی نے دیکھا کہ اسے کون پکڑے تھا تو گالیاں کوسنے اس کے منھ سے ابل پڑے۔ لڑکی پیلی پڑ گئی۔ اپنی انگلیوں کی لرزش کو قابو میں کرتے ہوے اس نے شیشی کا ڈھکن کھولا اور گولیاں اپنی ہتھیلی پر انڈیلیں اور پھر جھک کر اس نے بیوی کے پے در پے چپتیں لگائیں اور اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کی چمٹی سی بنا کر اس کے گالوں کو دبایا اور زبردستی اسے منھ کھولنے پر مجبور کیا۔ اس نے منھ سے غرغراہٹ پیدا کی، حیرت انگیز قوت سے بل کھا کر پہلو بدلا، اپنا چہرہ اس کی گرفت سے چھڑا لیا اور اسی لپیٹ میں لڑکی کو وہ اپنے ساتھ گھسیٹ لے گئی۔ اس اچانک زورآزمائی نے اس کا توازن بگاڑ دیا اور اس نے خود کو اس حالت میں پایا کہ اس کا سینہ لڑکی کے کندھوں کے اوپر تھا۔ زور لگا کر اس کی بیوی نے دوبارہ اٹھنا چاہا تو لڑکی کے سرین اچھلے اور اس کے پیٹ سے ٹکرا کر پچک گئے۔ اس کی رانوں میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ اپنا بایاں ہاتھ لڑکی کے سر کے اوپر سے نکال کر اس نے بیوی کے رخسار پھر انگلیوں کی گرفت میں لیے، آہستہ آہستہ اسے منھ کھولنے پر مجبور کیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے گولیاں اس کے لرزتے منھ میں ڈالیں اور منھ بند کر کے دوسرے ہاتھ سے ناک دبا دی۔ اس کی بیوی نے گولیاں یوں نگلیں جیسے اُبکائی لے رہی ہو۔ لڑکی اب رونے لگی تھی۔ اس گڑبڑاہٹ میں اس نے اس کے سرین پر ہاتھ پھیر دیا اور پھر کانپتے ہوے کمزوری محسوس کرنے لگا۔ تادیر تینوں اسی طرح ایک دوسرے میں الجھے رہے۔
ایک دھچکے کے ساتھ اس کو احساس ہوا کہ وہ تو لڑکی کے کان کے نیچے واقع گلابی مسّے کو چاٹ رہا تھا، اپنی زبان کی نوک سے اس کو تر کر رہا تھا اور اس کی ناک اس کی لیموں جیسی مہک کو یوں سونگھ رہی تھی جیسے کہ وہ کتّا ہو۔ وہ خود کو اس کے بدن سے مس کر رہا تھا، اور تب ہی غشی کی ایک لہر سی اس پر سے گزر گئی۔ اپنے جسم کو اس سے دور ہٹاتے ہوے وہ خود کو آپے میں لایا اور اپنے آپ کو تھکی تھکی آواز میں کہتے سنا، ’’تم اب جا سکتی ہو۔‘‘ اس کی بیوی اب بھی اس کے بوجھ تلے دبی پڑی تھی۔ لڑکی اس کے جسم پر دباؤ ڈالتی اٹھی اور جب وہ پلنگ سے اتری تو اس کا اسپرنگ اپنی جگہ آیا اور پلنگ چرچرایا۔ جب اس نے منھ گھمایا تو اس کی نظریں لڑکی کی عجیب الجھن میں گرفتار نظروں سے ملیں۔ وہ ابھی تک پلنگ کے قریب کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بات کو پا جانے والی چمک تھی۔ ’’تم جاؤ، میں ٹھیک ہوں…میں اب ٹھیک ٹھاک ہوں،‘‘ اس نے دہرایا اور منھ پھیر لیا۔ وہ ذرا سا کُب نکالے وہاں سے چل دی۔ جب وہ چلی گئی تو وہ اپنی بیوی پر جھکا چپکے چپکے روتا رہا جو کچھ اس طرح ساکت پڑی تھی جیسے مردہ ہو۔

دھوم دھڑکّا آدھا گھنٹہ ہوا ختم ہو چکا تھا۔ وہ آہستگی سے پلنگ سے اٹھا، باغیچے میں جا کر بکھرے ہوے تاش سمیٹے اور چٹائی کو لپیٹا۔ رات اندھیری تھی اور آتش بازی اب بھی آسمان پر چھوٹ رہی تھی۔ اس کو ناتوانی محسوس ہوئی تو اس نے ایک درخت سے ٹیک لگا لی۔ ایک بڑا سا چکنا پھول اس کے گال کو چھوتا ہوا زمین پر جا گرا۔

جیسے ہی وہ واپس جانے کے لیے مڑا، لڑکی کے کمرے کی بتی بجھ گئی۔ اسے جُھرجُھری شروع ہوئی تو اس نے لان کے کنارے ٹھٹک کر آنکھیں موند لیں اور بڑی دقت سے اپنے قدم اٹھائے۔ اس نے غور سے اس کی آواز پر کان لگائے لگائے ہال کی بتیاں بجھائیں۔ جھینگر کے حلق سے ایک کراہ نکل کر فضا میں لرزنے لگی۔ فاختیٔ رنگ کی چھپکلیاں اپنے شکار کی تلاش میں چھت کے تختوں پر رینگیں۔ پچھلی بار کون سی تھی؟ کیا وہ آہ پن تھی جو پھرتی سے اپنا دروازہ بند کرتے ہوے ہکلائی تھی؟ یا وہ آہ کِم تھی جس نے کپڑوں پر استری کرتے ہوے عیّار نظریں مٹکائیں اور پھر اس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی؟ یا آہ پوہ جس نے باہر نکل کر بھاگنے کے لیے بیرونی پھاٹک دھڑدھڑا ڈالا تھا؟ لگتا تھا اتنی بہت سی تھیں۔ تھکن محسوس کرتے ہوے وہ اپنی بیوی کے کمرے میں گیا اور کرسی پر مڑتڑ کے پڑ رہا اور بستر پر پڑے اس کے مبہم جسم کو دیکھتا رہا۔ خدا کا شکر کہ اگلے دن چھٹی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان ڈراؤنے خوابوں کی کشش سے پیچھا چھڑانے میں لگ گیا جو اب کثرت سے آنے لگے تھے۔ مکان کی بالائی منزل میں بلیاں دبے پاؤں گھوم رہی تھیں۔ اس نے سوچا کہ ایک طرح سے وہ خوش تھا کہ اس کا اپنا گھر تھا اور روپے پیسے کی طرف سے بھی کوئی فکر نہیں تھی۔ آزادی نے اس پر بڑا ہُن برسایا تھا۔ بس اگر سیوچو بھی زندہ رہتی۔۔۔۔ اگلے دن کے لیے جب اس نے گھڑی کو کوک دی تو اندھیرے میں اس کی روشن سوئی تھرتھرائی۔

Categories
فکشن

سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔”
کنڈیکٹر کی تکرار سن کر اچانک وہ اپنے خیالات سے باہر نکل آیا۔
’’کرن؟ کیا اس کی منزل آگئی۔۔ـ‘‘ اس نے سیٹ پر سیدھا ہوتے ہوئے باہر جھانکا۔۔۔۔
’’بندر روڈ سے اگلا اسٹاپ بولٹن مارکیٹ کا ہی ہوتا ہے۔ سمندر تو ابھی کچھ دور ہے۔۔۔ مگر پھر میرے ذہن میں کرن کا نام کیوں آیا۔ کیا کنڈیکٹر نے صدا لگائی تھی؟ یابس یوں ہی۔۔۔۔۔‘‘
بس ابھی بھی بولٹن مارکیٹ پر ہی رکی ہوئی تھی۔۔۔ وہ دوبارہ سیٹ پر ڈھے گیا۔۔ پھر، ایک گہری سانس بھرتا ہوا۔۔۔ گہری سوچوں میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔

’’تم تو سمندر تھے۔‘‘
’’تم بھی تو اس سمندر کی واحد ڈالفن۔‘‘

’’تم سمندر نہ رہے۔‘‘
’’تم نے اور پانیوں کی تلاش کر لی۔ اس سمندر کو چھوڑ کر۔ اور میں شاید بھول گیا تھاکہ سمندر کے اطراف آکٹوپس بھی تاک میں کھڑے ہیں۔‘‘

سیٹ یکایک، ایک ہائی ٹیک سیٹ میں اور بس خلائی راکٹ تبدیل ہوچکی تھی اور بے پناہ رفتار سے کرہ ارض سے باہر نکل کر اب چاند کے پاس سے گزر رہی۔۔۔۔۔۔
“چاند۔۔۔۔۔۔۔کرن۔۔۔۔ چاند۔۔۔”
اس نے بے اختیار ہو کر دروازہ کھولا اور باہر نکل کر اسے اپنی گرفت میں لینا چاہا۔۔۔۔۔۔ مگر چاند اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا۔ وہ کنی کاٹ گیا۔۔۔ اورکچھ فاصلے پرجاکر طنزیہ انداز میں ہنسنے لگا۔۔۔۔۔اچانک خلا کی یخ بستہ تاریکی اس کے اندر سما گئی۔۔۔ وہ منجمد ہو گیا اور تیزی سے نیچے گرنے لگا۔۔۔۔
“ٹاور۔۔ ٹاور ”
وہ چونک پڑا۔منزل تک لے جانے والا اسٹاپ یعنی سمندر اب سامنے ہی تھا، وہ تیزی سے نیچے اتر گیا۔۔۔اسے نیچے اترتا دیکھ کر اس کے اور کرن کے درمیان حائل خون آشام آکٹوپس چاروں جانب سے اس کی سمت لپکنے لگے۔ اور اسے نگل گئے۔۔۔۔۔
Image: Vasko Taskovski