قصیدہ ماہِ بہمن کے انسان کا

قصیدہ ماہِ بہمن کے انسان کا احمد شاملو کی نظم (فارسی سے ترجمہ) __________________ تجھے کیا پتہ بڑے پن کی چنگھاڑ کیا ہے، وہ کیا پہاڑ ہے، جو توڑ کر بکھیر دینے والے شکنجے میں بھی روتا تک نہیں تجھے کیا پتہ جب خوف کی حاکم آنکھ اندھی ہو جائے تو محکوم کی بے جھپک […]
دو نظمیں (اسد رضا)

اونگھتا جھولتا پیلٹ فارم
ایک پھوڑے کی طرح نیند میں بہہ نکلا ہے
چائے کے لیے ایک نظم اور دیگر نظمیں (نسیم خان)

شاعر کی آنکھ کھلتی ہے
اور وہ خود کو زندہ پاکر خوشی سے پاگل ہونے لگتا ہے
تعزیت نامہ اور دیگر نظمیں (وجیہہ وارثی)

غربت کی لکیر آمدنی اخراجات کو دعوتِ گناہ دیتی ہوٸی آتی ہے “ہم مہذب نہیں مذہبی ہیں” اس جملے کی روشنی میں مالتھس کا نظریہ ضبط تولید کفر قرار دیا جا چکا ہے ہمارے کسان اپنی کھیتی میں دن رات ہل جوتتے ہیں میزاٸل نما بیج بوتے ہیں ہم مقروض پیدا کرنے کی مشینیں ہیں […]
وحشت کا سایہ (عظمیٰ طور)

میں ننھے بچوں کے ماتھے نہیں چومتی
کہیں میری وحشت ان میں منتقل نہ ہو جائے
سمندر خالی ہو گئے؟ (رضی حیدر)

ہم فقط تمہارے چہرے کو دیکھ کر وقت بتا سکتے تھے
بے وطن عورت کا مارچ اور دیگر نظمیں — سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران: میں زوجہ فلاں ابن فلاں
تمہاری وردیوں کے لئے حلال نہیں ہو سکتی
چاند رات (عادل یوسف)

اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے ہر آنکھ میں مردہ خوابوں کی لاشیں تیرتی رہتی ہیں جو فاتحہ کی امید پہ اکثر آنکھوں سے ٹکراتی رہتی ہیں انہیں ہر دن رشتوں کے گدھوں کی خوراک بننا ہے لڑکیاں جو شادیوں کی […]
دودھ والے وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں (ساحر شفیق)

اگر مجھے بیس منٹ میں کچھ لکھنے کو کہا جائے تو میں کاغذ پر ۷ تک پہاڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں لکھ سکوں گا ___یا شاید___ متعدد بار اپنا نام اور پتہ اس رسم الخط میں/ جو میں نے خود ہی ایجاد کیا تھا میں ان بیس منٹوں میں اپنے دن بھر کے معمولات […]
پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں (صدیق شاہد)

پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں اپنے اپنے موسموں میں اپنے اپنے ملکوں میں سرحدوں پہ تعینات فوجیوں پر امام کی تقریریں بے اثر جاتی ہیں وطن سے محبت اور شہید کا رتبہ تمہارے خطوں سے افضل نہیں ہو سکتا تمہارے خط کچی مہندی اور کنواری رانوں کے مدھ بھرے سندیسے امیدوں بھری صبحوں کی […]
مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے ایک راستہ چاہیے جو پاؤں سے نہیں دل سے نکلتا ہو مجھ تک آنے کے لیے ایک دروازہ چاہیے جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے کھل سکتا ہو اور ایک کھڑکی جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو مجھ تک آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت […]
ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا ہمیں بھول جانا چاہیئے اس بوسے کو جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا اور نہیں نکلتا اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا […]
جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے مگر جھک نہیں سکتی ماں کی نظروں سے مجبور اٹھا کر نہیں کھائے گی آپ کے ہاتھوں سے گرے چپس کے ٹکڑے پیار کرتی ہے مگر جھک نہیں سکتی عزت سے مجبور آپ کے تقاضوں پر چھوڑ دے گی آپ کو ہمیشہ کے لیے اچھی بیوی ہے مگر جھک نہیں سکتی بچوں […]
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا (سرمد بٹ)

اس مسلسل گھومتی زمین پہ اگی آسمان کی بے مروتی سے اکتائی ہوئی گھاس کی طرح بیزار میرے یار تم جیو بہتر سال میری اس wish کے پیپھے ہے ایک selfish cause تمھاری آواز جس میں دیکھی میں نے اپنی ناک نہ تم گرہباں چاک نہ میں گریباں چاک اother is not the hell meri […]
نظموں کے لیے ایک سباٹیکل (تنویر انجم)

آپ کا کام خاصا توجہ طلب ہے ہفتے میں اٹھارہ گھنٹے پڑھانا باقی تیس گھنٹوں میں دنیا کے مشہور شاعروں اور ادیبوں پر تحقیق کرنا اور کروانا کانفرنسوں میں جانا سیمینار کروانا پینلز میں شامل ہونا بین الاقوامی جریدوں کے لیے مضامین لکھنا اور آپ کو تنخواہ کے علاوہ ملے گا ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں ایک […]