ایک خط: روش ندیم کے نام

حفیظ تبسم: روش ندیم!
تمہارے ٹشو پیپر پر لکھے دکھ پڑھ کر
ہماری نیندیں خدا کے دروازے پر دستک دیتی ہیں
مگر دروازہ کُھلنے سے انکار کر دیتا ہے
ایک تلوار کی داستان

افضال احمد سید: یہ ایک تلوار کی داستان ہے
جس کا دستہ ایک آدمی کا وفادار تھا
اور دھڑ ایک ہزار آدمیوں کے بدن میں اتر جاتا تھا
جو شیطانچے بند صندوق میں ہیں

ستیہ پال آنند: فقط ایک رستہ اُسے سُوجھتا ہے
کہ خود اپنی گردن بُریدہ کرے۔۔۔۔۔
گرڑ پُران

ستیہ پال آنند: گرڑ پُران کا لیکھک تم کو سمجھاتا ہے
اپنا لیکھا جوکھا اب تم خود ہی کر لو
میں ایک آنسو اکٹھا کر رہا ہوں

سید کاشف رضا: میری آنکھوں میں ایک آبشار کی دھند پھیل گئی ہے
میں اسے ایک آنسو میں جمع کر لوں گا
ہماری نظمیں تمہاری جی حضوری نہیں کریں گی

نسیم سید: تم نہیں جانتے
ہماری نظمیں
تمہاری شرائط کو ٹھوکر پہ رکھتی ہیں
الفاظ سے آگے

جلیل عالی: میں ان پہاڑوں، چٹانوں، ہواؤں،
ندی نالوں،چشموں، گھٹائوں،
پرندوں، چرندوں،
گھنے جنگلوں ہی کا حصہ ہوں
قرنوں کا قصہ ہوں
آدمی کہتا ہے وہ جی سکتا ہے

زاہد امروز: ڈرے ہوئے آدمی ڈرے ہوئے آدمی سے ڈر جاتے ہیں
مرے ہوئے آدمی مرے ہوئے آدمی کو مار دیتے ہیں
عشرہ // سو قومی نظریہ (2) دس نمبری آزادی

ادریس بابر:
کون سا بھاری مینڈیٹ، جس نے ووٹ دیا تھا
اِس تقسیم کے حق میں کس نے ووٹ دیا تھا
تبسم ضیاء کی نظمیں

تبسم ضیاء: کائنات کے سُر
شہنائی کے سُر ہیں
دوغلے سُر
شادمانی کی آڑ میں غمگین سُر
ایک اور فتح کے بعد

ثروت زہرا: بموں اور گولیوں سے
مری دھرتی اب نئی دنیا اگائے گی
وہ برسوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہے

مصطفیٰ ارباب: وہ ایک ہی وقت میں
دو جگہوں پر
دو طریقوں سے
زندگی بسر کر رہا ہے
تمھاری تجارت چلتی رہے

عذرا عباس: ہم نہیں جانتے
ہمارے خواب کب چھین لئے جاتے ہیں
ہم منہ بولی اخلاقیات کے بچھونے میں
منہ چھپا کر سونے کے عادی بنا دئے گئے
ورشا گورچھیا کی نظمیں

ورشا گورچھیا: یہ میری آنکھیں
میری خوفزدہ نظموں کی
ٹوٹتی سانسوں کے گمنام
سلسلے کے علاوہ کچھ نہیں
تصویروں سے بھری چھاتی

حسین عابد: تین قدم کے بلیک ہول سے
رنگ نہیں رِستے
خون نہیں رِستا
کورے کینوس اڑتے ہیں خواب گاہ میں