Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں مگر تم نے کبھی سوچا ہے! تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر […]
ایک لمحہ کافی ہے (حسین عابد)

کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی ہنسی پر ٹھٹھکتے محبوب آنکھوں میں جھانکتے پکی خوشبو اور معصوم آوازوں کے شور میں بدن سے دن کی مشقت دھوتے یا کھلے، وسیع میدان میں بہتی ندی کے ساتھ چلتے جس کے کناروں کی گھاس پانی میں ڈوب رہی ہو وقت کی دھڑکتی تھیلی میں پڑا ابدی […]
جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں ایک دوسرے کو دکھ میں اور خوشی میں اور مِل سکتے ہیں شام کی چائے یا ڈنر کے امکان پر میں اُس وقت کا سوچتا ہوں جب ہمارے درمیان ایک رات بھی نہیں رہے گی تب ہم کیا کریں گے؟ کہاں طلوع ہوں گے؟ Iamge: Eugenia […]
ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی اعداد ہیں تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو […]
انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں کے پیچھے موت کے انتظار میں بے چین ٹہل رہی ہیں گلے آخری ہچکی کی ریہرسل کرتے سوکھ چکے اپنے سوگواروں کے سیاہ لبادے لٹکانے کو کھونٹیاں ہم نے تابوت […]
طبیب بھنبھنا گیا (ستیہ پال آنند)

فَتَکلّمُواَ تُعرَفُوا کلام کرو تا کہ پہچانے جاؤ۔۔۔۔۔۔ حٖضرت علی کرم اللہ وجہہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طبیب بھنبھنا گیا میں سب علاج کر کے تھک گیا ہوں، پر یہ بچہ بولتا نہیں زبان اس کی ٹھیک ٹھاک، تندرست ہے کہیں بھی کوئی رخنہ، کوئی نقص ہو یہ میں نہیں سمجھ سکا بدن بھی تندرست ہے مگر یہ […]
دھند

رضوان علی: اک کرن دھوپ سے ذرا پہلے
آکے کہرے میں ٹوٹ جاتی ہے
ایک بے ارادہ نظم

نصیر احمد ناصر: بے ارادہ
پانیوں سے
آنکھ بھرتی جا رہی ہے
شہ رگ کی بالکونی سے

ثاقب ندیم: خدا جو شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے
اس کو اپنا دکھ سنانے کے لئے
مُردوں کو جنجھوڑنے والا بہت خوش ہے
رات کے خیمے میں ہے تیرا وجود

عمران ازفر: رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
بیتے دنوں کی یاد میں
روشن سلگتی موم بتی
سیدھے لوگ آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے

ایچ بی بلوچ:مچلھیاں اور سیدھے لوگ
آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے
انہیں کسی بھی وقت
کنڈے سے لٹکایا جا سکتا ہے
میرے پاس کیا کچھ نہیں

ابرار احمد: تمھاری اس دنیا میں میرے پاس کیا کچھ نہیں ہے
وقت
اور تم پر اختیار کے سوا
مجھے ڈوبنا نہیں آتا

ایچ- بی- بلوچ: میں بولنا بھی نہیں جانتا
کیا تم نے کبھی خاموش کنویں دیکھے ہیں؟
جن میں سے
کائی اگ آتی ہے
جو شہر بھر کے گند اور گناہوں میں
چپکے سے شریک ہوجاتے ہیں
وہ ایک پُل تھا

سوئپنل تیواری: وہ ایک پُل تھا
جہاں ملا تھا
میں آخری بار تم سے جاناں
کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

صفیہ حیات: زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی