Categories
اداریہ

انسانی حقوق کا عالمی دن— جدوجہد جاری رہے گی ۔ اداریہ

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں رضا محمود خان یا سبین محمود کی طرح لاپتہ ہونے،یا مار دیئے جانے کے شدید خطرے سے دوچار ہیں، آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں بنیادی آزادیاں محدود ہوئی ہیں، پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں دہشت گردی کو جواز بنا کر انسانی حقوق کو حاصل آئینی تحفظ کا نظام کمزور ہوا ہے اور جمہوری عمل تنگ نظر اور بنیاد پرست مذہبی و قومی جماعتوں کے دباؤ کاشکار ہوا ہے۔ عالمی سطح پر جاری اسلامی دہشت گردی، علاقائی تنازعات ، اور قوم پرست، نسل پرست اور مذہبی سیاسی قوتوں کے فروغ نے انسانی حقوق اور آزادیوں کے لئے جاری کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ بالخصوص پاکستان میں ریاستی اداروں اور غیر ریاستی مذہبی عناصر اتنے طاقتور ہیں ان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے لانے اور سزا دینے کا نظام مفلوج اور غیر موثر ثابت ہوتاہے ۔ عدلیہ اور منتخب نمائندوں کی جانب سے لاپتہ افراد کے معاملے میں لاچارگی قابل افسوس اور تشویش ناک ہے۔ حال ہی میں لاہور سےلاپتہ ہونے والے انسانی حقوق کے کارکن رضا محمود خان کا معاملہ اس بات کا ثبوت ہے پاکستان میں انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے محفوظ نہیں۔ شدت پسند سیاسی مذہبی گروہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے حالیہ دھرنے پر گفتگو کے بعد ان کی گمشدگی ایک خطرناک اتفاق ہے، ویسا ہی خطرناک جیسا اس سے قبل جبری طور پر لاپتہ کیے گئے بلاگرز کا عسکری اداروں پر طنز اور تنقید کرنے کی جرات کرنا تھا۔

عسکری ادارے اور شدت پسند غیر ریاستی عناصر خوف زدہ کرنے اور خاموش کرانے کی حکمت عملی پر اپنے اپنے طور پر عمل پیرا ہیں اور سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں کو بری طرح پسپا کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات متواتر اور سنگین ہیں اور ان میں عسکری ادارے اور غیر ریاستی عناصر کے ملوث ہونے کے آثار محض تاثر یا اتفاق نہیں۔ اس گمان کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ ایک جانب ریاستی اداروں کے دباؤ پر ایسی قانون سازی کی گئی ہے جوان اداروں کے انسانی حقوق سے متصادم اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے، تو دوسری جانب مذہبی بنیاد پرست گروہ اور ریاستی ادارے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سزا سے عملاً مستثنیٰ ہیں۔

یہ پاکستان میں یقیناً جبر کے ایک اور تاریک اور مایوس کن دور کا آغاز ہے، جب ایک جانب جمہوری عمل کمزور ہے، منتخب سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شدت پسندی کے متشدد مظاہر پر خاموش ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مواخذہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں انسانی حقوق کے کارکنان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یہ وقت انسانی حقوق کے لئے پرامن اور مسلسل جدوجہد جاری رکھنے کا ہے، یہ وقت دنیا بھر میں انسانی حقوق کی ہمہ قسم خلاف ورزیاں خواہ وہ کسی بھی رنگ، نسل، صنف یا قومیت کے افراد کے خلاف ہوں کے خلاف ہوں پر آواز اٹھانے کا ہے، یہ وقت انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تحت سب افراد کا بلا تفریق مساوی حیثیت دلانے کے لئے کوشش کرنے کا ہے۔

عالمی سطح پر #MeToo جیسی تحریک کی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ جلد یا بدیرمذہبی شدت پسندی، نسل پرستی اور قومیت پرستی کے خلاف مقامی اور عالمی جدوجہد ایک بہتر مستبل تعمیر کرے گی۔ ہماری تاریخ فوجی آمریت، معاشی استحصال اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف جدوجہد کی تاریخ ہے اور عسکریت پسند مذہبی بنیاد پرستی، ریاستی اداروں کے ماورائے آئین اقدامات اور کمزور جمہوری نظام کے باوجود پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی۔

Categories
نقطۂ نظر

دو دسمبر ۔۔۔۔۔

میں رضا سے کبھی نہیں ملا ، بالکل ویسے ہی جیسے میں کبھی واحد بلوچ، سلمان حیدر، وقاص گورائیہ، زینت شہزادی سے نہیں ملا مگر میرے لئے 2 دسمبر ایک تکلیف دہ دن ہے۔ بلکہ ہم سب کے لئے 2 دسمبر ایک تکلیف دہ دن ہے۔
ہم جو کبھی کبھار کہیں مل بیٹھ کر اس ملک کے مستقبل سے متعلق خدشات اور امیدوں کا کھل کراظہار کرنے کے لئے کسی محفوط جگہ کے متلاشی رہتے ہیں،
ہم جو کسی کونے کھدرے میں سول بالادستی کے امکانی ہوائی محل تعمیر کرتے کرتے خفیہ ہاتھوں کی سنگین خنکی محسوس کرتے ڈر جاتے ہیں،
ہم جو آزادی کو تقسیمِ ہند اور آزاد کشمیر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کہہ اور لکھ کر خود کو دانشور قرار دیتے ہیں،
ہم جو کسی متوازی سائبر کائنات میں دو جوہری ہمسایوں کے مابین کرکٹ میچوں، فلموں اور موسیقی کے میلوں اور سیاحتوں کے خوشگوار تجارتی، سیاسی اور عسکری پہلوؤں پر بات چیت کرتے رہتے ہیں ،
ہم سب کے لئے 2 سمبر ایک تکلیف دہ دن ہے خواہ ہم رضا سے ملے ہوں یا نہیں۔خواہ ہمیں رضا کی گمشدگی کا علم ہو بھی کہ نہیں ۔ خواہ ہمیں رضا، آغازِ دوستی یا لوکی لوکائی سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات ہوں یا نہیں۔۔۔ دو دسمبر ایک تکلیف دہ دن ہے کیوں کہ اس روز ہم نے امن کا خواب دیکھنے والے ایک اور فرد کو لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہوتے دیکھا ہے، ایک ایسی فہرست جس کی ابتدا و انتہا ہمارے وہم و گمان سے باہر ہے۔
میں رضا سے کبھی نہیں ملا بالکل ویسے ہی جیسے میں کبھی لاپتہ بلوچوں اور سندھیوں سے نہیں ملا مگر دو دسمبر میرے لئے ایک خوفناک دن ہے۔
یہ دن ہم سب کے لئے خوفناک ہے جو ایک پر امن اور روادار معاشرے کا خواب دیکھنے کی سکت اور جرات رکھتے ہیں۔
ہم جو کبھی کبھار تاریخ کے ان تاریخ ادوار کا حال پڑھ کر جب کسی طالع آزما نے اپنی وردی سمیت ہمارے ووٹوں کی بے حرمتی کی، یہ امید باندھتے ہیں کہ شاید آئندہ کبھی ایسا نہ ہو،

 

ہم جو کھلی ہوا میں گیت گانے، ناچنے ، پتنگ اڑانے یا یونہی بے مقصد آوارہ پھرنے کو اپنی تفریح سمجھتے ہیں،
ہم جو رکشے والوں، پتنگ سازوں، ٹیکسالی والوں سے ہمدردی رکھتے ہیں،
ہم جو ادھر ادھر بے وجہ کاٹے گئے جانوروں پر افسوس کرتے ہیں،
ہم سب کے لئے دو دسمبر ایک خوفناک دن ہے۔۔۔ اس لئے کہ اس روز ایک اور ایسا شخص مفقود الخبر ہوا ہے جو اپنے آس پاس بسنے والوں کو محض ایک شناختی کارڈ، محض ایک تصویر یا محض ایک خبر سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔
میں رضا سے کبھی نہیں ملا بالکل اسی طرح جیسے میں اجتماعی قبروں، خفیہ حراستی مراکز اور نجی عقوبت خانوں کے سپرد کئے جانے والوں سے نہیں ملا۔۔۔میرے لئے 2 دسمبر رونے کا دن ہے، بلکہ ہم سب کے لئے دو دسمبر رونے کا دن ہے۔
ہم جو سرحد پار رہنے والوں کو قابل نفرت نہیں سمجھتے صرف اس لئے کہ ان کے پرکھوں کو ہمارے بزرگوں نے یا ہمارے بزرگوں کو ان کے پرکھوں نے ایک لاعلاج اور اچانک پاگل پن کی لہر میں قتل کیا تھا
ہم جو ماتھا ٹیکنے والوں، ہاتھ جوڑنے والوں، علم والوں، منبر والوں سمیت کسی کو کافر قرار دینے کو باعث فخر نہیں سمجھتے،
ہم جو ناکوں اور چوکیوں پر سڑکوں اور چوراہوں پر اپنے ہی ملک میں داخلے اور نقل و حرکت کی آزادی پر عائد پابندیوں کو ناروا خیال کرتے ہیں،
ہم جو ٹی وی چینلوں، اخباروں، فتووں ، اشتہاروں اور تقریروں میں نفرت کی نشاندہی کرتے ہیں،
ہم سب کے لئے دو دسمبر یوم گریہ ہے، ان دیکھے اندیشوں، خفیہ ہاتھوں، آدم خور رکھوالوں سے ڈرنے کا دن، خاموش ہو جانے کا دن۔ میں رضا سے کبھی نہیں ملا، مگر رضا جو کوئی بھی تھے اور رضا کو اٹھانے والے جو کوئی بھی تھے ہم سب کے لئے دو دسمبر 2017 کا دن خوف، گریے اور دکھ کا ایک اور دن ہے۔

Categories
نقطۂ نظر

صنفی تشدد اور استحصال کے خلاف آواز کیوں اٹھائیں؟

جنسی و صنفی تشدد اور استحصال کے خلاف 16 روزہ جدوجہد ایک عالمی تحریک ہے جو ہر سال، 25 نومبر تا 10 دسمبر چلائی جاتی ہے۔ اس تحریک کا آغاز سنہ 1991 میں ہوا تھا۔ یہ تحریک عالمی یومِ انسدادِ جنسی تشدد سے شروع ہوتی ہے اور عالمی یومِ انسانی حقوق تک چلتی ہے۔ اس تحریک کا مقصد عورتوں پر ہونے والے مظالم اور جرائم کے بارے میں آواز بلند کرنا، خواتین کو حقیقی صورت میں ان کے حقوق دلوانا اور قدیم، قبیح، رذیل و ذلیل پدرسری روایات کا تدارک ہے۔(ویسے کیا ہی بہتر ہوتا کہ یہ کالم بھی کوئی خاتون ہی لکھتی لیکن شاید ایڈیٹر کا ارادہ بھی مجھے میری برادری کا قبیح چہرہ دکھانا تھا)۔ مذاق سے سوا بہر طور حقوق نسواں کے لیے کوشش انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا لازمی جز ہے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جنسی تشدد اور استحصال کا خاتمہ مردوں کی بھی اسی قدر ذمہ داری ہے جس قدر خواتین کی۔

 

حقوق نسواں کے لیے کوشش انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا لازمی جز ہے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جنسی تشدد اور استحصال کا خاتمہ مردوں کی بھی اسی قدر ذمہ داری ہے جس قدر خواتین کی۔
بہت سے مرد شاید فوراً اس حقیقت کو جھٹلا دیں گے کہ عورت مظلوم ہے! کیونکہ جب بھی عورتوں پر مظالم کی بات ہوتی ہے تو انگلی ہمیشہ مردوں کی جانب ہی اٹھتی ہے۔ کئی مرد فوراً کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے کبھی کسی عورت کا استحصال کیا ہی نہیں ہے تو پھر تمام مردوں کو موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے لیکن جب میں عالمی ادارہِ صحت کی مرتب کردہ عورتوں پر ہونے والے مظالم کی فہرست دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ عورت کا استحصال قبل از ولادت شروع ہوتا ہے اور بعد از مرگ جاری رہتا ہے! یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہاں بہت سے خطوں کے باشندے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، لیکن یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر معاشرے میں سیاسی طاقت، معیشت اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو شامل نہ کیے جانے کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ حقوق نسواں کی جدوجہد مردوں کے خلاف نہیں بلکہ ان پدرسری اقدار، قوانین، رسوم و رواج اور افراد کے خلاف ہے جو ان جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں یا انہیں تحفظ دیتے ہیں۔
اور اگر اب بھی آپ کو لگتا ہے کہ “مرد مظلوم ہے” یا یہ کہ “عورت اتنی بھی مظلوم نہیں” تو اسی فہرست کی مناسبت سے مثالیں پیش کیے دیتا ہوں۔

 

کبھی سنا ہے کہ الٹراسائونڈ رپورٹ میں لڑکا پتہ چلے اور باپ اس بچے کو تلف کرنے پر زور دے؟ نہیں! غریب سے غریب ترین شخص بھی بیٹے کی پیدائش پر رقصاں ہوتا ہے لیکن دنیا کے کئی علاقوں میں آج بھی بچے کی جنس پتہ چلنے پر بہت سی بچیوں کو رحم مادر میں قتل کردیا جاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ خرچہ کروائے گی، اس کا جہیز کون بنائے گا! اور جس آدمی کے پاس بیوی کا الٹراساونڈ کروانے کے پیسے نہ ہوں وہ بعد از ولادت اپنی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ وجہ وہی یہ کھائے گی، پیئے گی، لیکن کمائے گی نہیں!

 

عورت کا بچپن امتیازی سلوک سے داغدار ہوتا ہے! بیٹے کو دو انڈے تو کھلادیئے جاتے ہیں لیکن بیٹٰی کو انڈے کی سفیدی پر ہی اکتفا کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ زردی بھی بھائی کو کھانے دو! اس کو توانائی کی ضرورت ہے! اس نے بڑے ہو کر باپ کا بانہہ بیلی بننا ہے، لیکن اس بات کو صرفِ نظر کردیا جاتا ہے کہ بیٹی کو بھی بڑے ہو کر ماں بننا ہے، اس کے جسم کو بھی غذائیت کی ضرورت ہے۔

 

ہر وہ بینک جو قرضے بانٹ رہا ہوتا ہے وہ ہمیشہ والدین کو تاکید کرتا ہے کہ بیٹے کی تعلیم کے لیے قرضہ لے لو اور بیٹی کے جہیز کے لیے، ہم عموماً بیٹوں کو نجی جامعات سے تعلیم دلواتے ہیں اور بیٹیوں کو؟ سرکاری جامعات سے! وجہ لڑکیوں نے کیا کرنا ہے تعلیم حاصل کر کہ؟ ہم من حیث القوم بلکہ من حیث الخطہ عورتوں کی تعلیم کے دشمن ہیں۔ ہمارے ہاں عورت کی تعلیم کا جواز بھی خاندان کے لیے عورت کی تعلیم کی ضرورت کے ساتھ مشروط ہے یعنی ہم تعلیم کو عورت کا بطور انسان حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں بلکہ ہم اسے محض اس لیے تعلیم دلاتے ہیں کہ اس کی “سماجی افادیت” کتنی ہے۔

 

دنیا کے کئی علاقوں میں آج بھی بچے کی جنس پتہ چلنے پر بہت سی بچیوں کو رحم مادر میں قتل کردیا جاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ خرچہ کروائے گی، اس کا جہیز کون بنائے گا
جہیز کے نام پر ذلت ہمیشہ عورت ہی جھیلتی ہے! جہیز کی وصولی کے لیے تو بہت سی بات چیت ہوتی ہے لیکن عموماً حق مہر، نان نفقے اور طلاق کے حق پر سوچ بچار اور لڑکی کی مرضی پوچھنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ کئی دفعہ دلہے منہ دکھائی میں اپنے سابقہ معاشقوں کی فہرست پیش کردیتے ہیں اور فوراً ایک این آر او مانگ لیتے ہیں، سچائی سے بڑا کوئی تحفہ ہو نہیں سکتا ہے، البتہ ان اپنے جیسی ‘سچی’ بیوی درکار نہیں ہوتی ہے۔ ان کو ایک مالدار گونگی بیوی درکار ہوتی ہے۔ جو جہیز لائے بلکہ ہر سال اس ڈیوڈنڈ یا منافع بھی لاتی رہے۔

 

کیا کبھی کسی مرد کو لڑکا نہ پیدا کرنے کی پاداش میں ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ نہیں! مرد موبائل سم کی طرح بیویاں بدل لیتا ہے کہ شاید دوسری یا تیسری کہ یہاں بیٹا پیدا ہوجائے، لیکن اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے کہ یہ قدرتی عمل ہے جس کے لیے کسی عورت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ایک عورت کے ہاں لڑکی کے بعد ایک اور لڑکی پیدا ہوجائے تو اسے مزید سزائیں جھیلنی پڑتی ہیں، کبھی کئی بیٹیوں کے باپ کو برا بھلا کہا گیا؟ نہیں، اس کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، با ہمت اور سخت جان کہا جاتا۔ لیکن اس تمام احترام اور عزت میں بھی ترس اور افسردگی چھپی ہوتی ہے، دوسری جانب اس شخص کی بیوی کو بدنصیب تصور کیا جاتا ہے۔

 

ہم سب کہتے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے! شاید تبھی معاشرہ اتنا ملعون ہوتا جا رہا ہے، ہم محبت کے عہد و پیماں کے لیے ‘یومِ جانو’ تو ضرور مناتے ہیں لیکن جہیز کی ملعون رسم کو ختم کرنے کے لیے کوئی دن نہیں مناتے ہیں۔ اور اگر کوئی باپ جیسے تیسے کر کہ اپنی بیٹی کو جپیز دے بھی دے تو جہیز کم لانے پر اس کو تاحیات رسوا کیے رکھتے ہیں۔

 

کبھی سنا ہے کہ کسی لڑکے نے منگنی توڑ دی اور انتقاماً لڑکی نے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا؟ نہیں! لیکن اگر کوئی لڑکی، کسی لڑکے سے شادی سے انکار کردے تو اس کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے اپنی دانست میں تاحیات “نشان عبرت” بنادیا جاتا ہے۔

 

دیہی علاقوں میں اگر مرد کا کسی لڑکی پر دل آجائے تو اس لڑکی کے بھائی پر کارو کاری کا الزام لگا کر، بطور سزا اس کی بہن کا ہاتھ مانگ لیا جاتا ہے۔ اس بات کو دیہات کا واقعہ سمجھ کر ہم شہری علاقوں میں رہنے والوں کو اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ ہمارے ملک کی کم و بیش 70 فیصد آبادی دیہات پر ہی مشتمل ہے۔ اور یہ سانحات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔

 

کبھی سنا ہے کہ لڑکا شادی کے بعد انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں بیچ دیا گیا؟ نہیں! ہاں یہ ضرور سن رکھا ہے ہم سب نے کہ فلاں لڑکی کو لڑکا گھر سے بھگا لے گیا۔ اگر کوئی بھاگنے والی لڑکی سے پوچھے تو وہ یہ کہتی ہے کہ میں اپنا بنیادی انسانی حق استعمال کر رہی ہوں یعنی کہ اپنی رضامندی سے شادی کا حق۔ یہ حق جو مجھے ریاست اور تمام اقوامِ عالم نے تفویض کیا ہے! لیکن ہر لڑکی جو شادی کرنے کی خاطر اپنا گھر چھوڑ دیتی ہے، تاحیات ہنسی خوشی رہتی ہے؟ شاید! لیکن حقائق تو یہ کہتے ہیں کہ لافانی محبت کے جال میں پھانسنے والے لڑکے ان لڑکیوں کو عموماً معاشرتی دباو کے تحت چھوڑ دیتے ہیں! اور اگر کبھی ان بد بختوں سے پوچھا جائے کہ تم نے اس لڑکی کو اپنی شریکِ حیات کیوں نہ بنایا تو وہ کہتے ہیں کہ جو اپنے ماں باپ کی نہ ہوئی وہ میری کیا ہوتی! میرے بعد کسی اور کے ساتھ بھاگ جاتی لہٰذا میں نے قصہ ہی ختم کردیا، اب میں کسی شریف زادی کے ساتھ شادی کروں گا۔

 

ہمارے معاشرے میں جائیداد کو بچانے کی غرض سے بھی عورت کا استحصال کیا جاتا ہے۔ قرآن سے شادی، وٹہ سٹہ اور شادی بیاہ کی دیگر رسموں میں عورت کو ملکیت کی طرح لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان قبیح افعال کا پدرسری معاشرے اور عورت کے استحصال سے گہرا تعلق ہے۔ عورت کو ہی ہر مشکل، مصیبت، برائی اور فساد کی جڑ قرار دیا جاتا ہے اور اس بات کو بطور محاورہ بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ زن، زر اور زمین ہر فساد کی جڑ ہے۔
کیوں کہ زن کی شادی کرنے کی صورت میں اس کو وراثت میں سے اس کا حصہ دینا پڑے گا، اس لیے اس کو زر اور زمین کا بٹوارہ کرنے والی چیز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس لڑکا، شادی کی صورت میں دوسرے کے گھر کی زن، زر اور زمین تینوں گھسیٹ لائے گا۔

 

ہمارے معاشرے میں جائیداد کو بچانے کی غرض سے بھی عورت کا استحصال کیا جاتا ہے۔ قرآن سے شادی، وٹہ سٹہ اور شادی بیاہ کی دیگر رسموں میں عورت کو ملکیت کی طرح لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
شاید اسی لوٹ کھسوٹ سے بچنے کے لیے مردوں نے عورتوں کے “تبادلے” پر مبنی ایک اور قبیح رسم ایجاد کر ڈالی ہے جسے وٹّہ سٹّہ کہتے ہیں، کہا یہ جاتا ہے کہ اپنی بہن کا گھر سلامت رکھنے کے لیے اگلے کی بہن اپنے گھر لے آو لیکن بادی النظر دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ تم میری بہن کی جائیداد کا حصہ نہ مانگنا اور میں تمہاری بہن کا حصہ نہ مانگوں گا۔

 

مندرجہ بالا مظالم کم ہیں؟ حقیقت اس سے زیادہ قبیح ہے! اگر یقین نہ آئے تو ٹی وی کھولیں اور ڈرامے دیکھ لیں! وہاں بھی خواتین کے استحصال کی منظر کشی نشر ہو رہی ہے، یہ الگ بات ہے اس منظر کشی کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ تفریحی چینل عورتوں کے استحصال کو ذریعہِ تسکین بنا چکے ہیں عورتیں ان مظالم کو دیکھتی ہیں اور انہی کو اپنا مقدر مان کر چپ پو بیٹھتی ہیں، اور مرد نیوز چینلز پر ہونے والی اس گھٹیا منظر کشی سے نفسانی تسکین کشید کرتے ہیں۔ اخبارات ان مسائل کی خبر لگا کر طاقت کے ایوانوں کو ہلانا نہیں چاہتے ہیں، بلکہ دوسرے اور آٹھویں صفحہ پر خالی کالموں کا پیٹ بھرتے ہیں۔

 

اس غلام گردش سے نکلنے کا واحد راستہ خواتین میں ان حقوق کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ اپنے جاننے والوں کو خواتین کے حقوق کے بارے میں بتائیں! انسانی حقوق کا عالمی منشور Universal Declaration of Human Rights کیا کہتا ہے یہ ہر فرد کو بتانا ضروری ہے۔ سیڈا یا CEDAW – Convention on All Form of Discriminations Against Women کیا کہتا ہے؟ شادی سے قبل فریقین کی رضامندی، شادی کے لیے عمر کی کم از کم حد اور شادی کی رجسٹریشن کے عالمی کنونشن Convention on Consent to Marriage, Minimum Age for Marriage and Registration of Marriages میں کیا عہد کیے گئے ہیں۔
عالمی پلان برائے انسدادِ تشدد بر زنان و دختران Global Implementation Plan to End Violence against Women and Girls میں کیا عودے کیے گئے ہیں۔

 

آئینِ پاکستان میں خواتین کو کون سے حقوق تفویض کیے گئے ہیں۔
دفاتر میں ہراسانی سے تحفظ کے قوانین Bill Against Harassment of Women At Workplace کا متن کیا ہے۔
ان دستاویزات کو پڑھیئے اور اوروں کو بھی پڑھائیے، ان پر بحث کریں، بلاگ لکھیں، ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کریں، اگر کسی مارننگ شو کا پروڈیوسر آپ کا جاننے والا ہے تو اس سے کہیں کہ ان موضوعات پر سال میں کم از کم بارہ شو ضرور کرے! آئیں عہد کریں کہ ہم کم از کم دس افراد تک یہ پیغام ضرور پہنچائیں گے اور بالخصوص خواتین کو ان کے آئینی و انسانی حقوق کے بارے میں ضرور بتائیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

امریکی خارجہ حکمت عملی کے سامراجی خدوخال

روس شام میں داعش کے خلاف محاذ کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی میڈیا پر روس کو لے کر دو طرح کی بحث دیکھنے کو ملتی ہے؛ ایک تو یہ کہ روس داعش سے زیاد ہ بشارالاسد کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے مخالف باغیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور چونکہ یہ باغی داعِش کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہیں سو اِنہیں کمزور کرنے سے داعِش مضبوط ہوسکتی ہے اور اِس سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ یوں اس طرح کے آپریشن سے لوگ زیادہ متنفر ہو سکتے ہیں اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ خد شہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے کئی سالوں سے جاری کارروائیوں کی نسبت روس کی جانِب سے کی گئی کاروائی نے داعش کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ماسکو آ نے والے دنوں میں بشارالاسد اور اس کے حامیوں کو شام میں ایک اچھی حکومت چلانے کے لیے کسی دوسرے گروہ یا شخص سے زیادہ منا سب سمجھتا ہے۔ مگر امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی اور رویہ ہمیشہ روس سے مختلف رہا ہے۔ وہ نہ تو اپنی سر زمین پہ جنگ چاہتا ہے اور نہ کبھی ہونے دیتا ہے۔ جب امریکہ کو کسی مضبوط ریاست سے کسی قسم کا خطرہ ہوتا ہے وہ اس کے کمزور ہمسائے کے ساتھ یا تو سفارتی تعلقات بناتا ہے یا پھر عسکری تعلقات استوار کرتا ہے۔ امریکہ ہمیشہ کسی خطے میں ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے سیاسی دوست چاہتے ہیں۔ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی معیشت چین کو مات دینے کے لیے امریکہ وہاں قدم جمانا چاہتا تھا مگر وسطی ایشیا پہ ایران کے ساتھ سیاسی اختلافات ہونے کی وجہ سے اس نے افغانستان میں اپنی پسند کی حکومتیں لانے کی کوشش کی تا کہ وسطی ایشیا میں کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وہاں فوج موجود ہو۔ امریکہ افغانِستان میں عین ویسی حکومت کا خواہاں ہے جیسی خظے میں موجود اس کے سیاسی حلیف پاکِستان اور بھارت چاہتے ہیں۔
امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔

 

امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔ عراق اور افغانستان کے بعد بظاہر امریکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں میں بھی براہِ راست عسکری مداخلت چاہتا تھا تا کہ افغانستان میں اپنے فوجیوں اور تنصیبات کو محفوظ بنا سکے مگر اس وقت کی پاکِستانی قیادت اس سے نا خوش تھی سو وہ براہِ راست مداخلت نہ کر سکا۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے دوران پاکستان کو اتحادی بنائے رکھنے کے بعد اب امریکہ نے ہندوستان کو خطے میں اپنے حلیف کے طور پر دیکھنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان نے امریکہ کی بجائے چین پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔ اوبامہ نے خود بھارت کا دورہ کیا اور کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔

 

دیگر سامراجی طاقتوں برطانیہ اور فرانس کی طرح امریکہ بھی مذہب کو اپنے لیے کار گر حربہ سمجھتا ہے۔ اَسّی کی دہائی میں روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر امریکہ نے افغانستان میں نجیب حکومت گرانے کے لیے یہاں مذہب کی بنیاد پر مزاحمت کی سرپرستی شروع کی۔ لوگوں کو مذہب کے نام پر انتہا پسند بنا کر پاکستان اور سعودی عرب کی مدد سے مجاہدین بنائے گئے تاکہ ایک تو خطے میں بڑھتے ہوئے روسی اثرورسوخ روکا جا سکے اور آنے والے دنوں میں یہاں پر اپنی موجودگی کے لیے کوئی جواز تراشا جا سکے۔
امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔

 

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ صورتِ حال پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ شام اور عراق میں امریکہ بالکل ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے حامی ترکی، اِسرائیل اور سعودی عرب چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے امریکہ حلیف بھی اب امریکی طرز پر اپنے مفادات کے حصول کے لیے عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی اور براہ راست مداخلت کی راہ اپنا چکے ہیں ۔ شام اور عراق میں امریکی و سعودی مداخلت کے باعث شیعہ، سنی تصادم میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔ ان تنظیموں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان اور عراق میں امریکی اور اتحادی افواج کی مداخلت سے دنیا میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکی حکمت عملی مختلف وجوہ کی بناء پر ناکام ہوئی ہے اور القاعدہ سے زیادہ خوفناک تنظیموں کی شکل میں نئے عفریت سامنے آئے ہیں۔
یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔

 

داعش کے خلاف امریکہ اور اتحادیوں کی کارروائیاں غیرموثر رہی ہیں کیوں کہ امریکی حکام شام اور عراق میں اپنے مفادات کے تحت مخصوص گروہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ امریکہ نے جو ہتھیار شامی باغیوں کے حوالے کیے تھے وہ بھی داعش کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ داعش کے خلاف سب سے موثر مزاحمت کردِش آرمی پیش مر گہ کی جانب سے کی جارہی ہے لیکن امریکہ کی جانب سے انہیں ہتھیار فراہم کرنے یا تربیت دینے کے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے اور اور نہ ہی امریکہ کے کسی سیاسی یا عسکری حلیف کی طرف سے انہیں کوئی کمک حاصل ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے کرد مزاحمت کار مضبوط ہوسکتے ہیں اور قوم پرست پیش مرگہ ترکی میں اردگان کے لیے سردرد بن سکتے ہیں۔ ترکی پیش مرگہ کو اس وقت بھی نشانہ بناتا ہے جب وہ کوبانی میں داعش کے خلاف جان کی بازی لگا کر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یوں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ترکی شمالی کردستان میں داعش کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے کرد علاقوں میں اپنی فوج استعمال کرسکے۔

 

شامی خانہ جنگی اور یمنی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کردار تخریبی رہا ہے۔ یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔ اس طرزعمل نے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کیا ہے اور مسلح عسکریت پسندی کو عام کیا ہے۔ اگر امریکہ واقعی مشرقِ وسطٰی میں داعش اور دیگر انتہا پسندوں کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے روس، عراق اور ایران کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ امریکہ کو ترکی اور سعودی عرب جیسے اپنے حلیفوں کے مفادات کو پسِ پشت رکھتے ہوئے عالمی اتفاق رائے کے قیام کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ امریکہ اور سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں نجی ملیشیاز اور جہادی گروہوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی روش ترک کر دیں نہیں تو آنے والے دِنوں میں پاکستان کی طرح اس کا خمیازہ ان ممالک کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

وزیر اعظم اور کراچی آپریشن

یکم ستمبر 2015ء کو وزیراعظم نوازشریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے مابین ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ کراچی آپریشن سیاسی مصلحت کے بغیر جاری رکھا جائے گا۔ یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ کراچی آپریشن پر کسی قسم کا سیاسی دباو قبول نہیں کیا جائےگا۔ وزیراعظم اور سپہ سالار کی ملاقات میں کراچی میں رینجرز کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن اور حالیہ گرفتاریوں پر بعض سیا سی حلقوں کے تحفظات پر بھی بات چیت کی گئی۔ دو ستمبر کوکراچی کے حوالے سےوزیراعظم نوازشریف کا آزادکشمیر باغ میں کہنا تھا کہ کراچی کے حالات بہترہوگئے ہیں،جس پرکراچی کے لوگ بہت خوش ہیں،ہم کراچی میں ملزمان پرہاتھ ڈالنے سے گھبرائے نہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے اسی خطاب میں دہشت گردی کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج اور عوام طے کرچکے دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کریں گے، دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے عالمی برادری کو مستقل امن کا تحفہ دیناچاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان دہشت گردی کےلیے نہیں بنا، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
سندھ پولیس کے مطابق5ستمبر 2013سے یکم ستمبر2015 تک کراچی آپریشن کے دوران ایک ہزار 171ملزمان مارے گئے اور64ہزار سے زائد ملزمان کوگرفتار کیا گیا
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ملک کے دو بڑے مسائل کراچی میں بدامنی اور دہشت گردی کو گڈمڈ کردیا۔ ان دو مسائل کوفوجی اور نیم فوجی اداروں کی دو علیحدہ علیحدہ قسم کی کارروائیوں کےذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایک آپریشن کو کراچی آپریشن کا نام دیا گیا ہے جبکہ دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کا نام پاک فوج نے “ضرب عضب” رکھا ہے۔ چارستمبر 2013ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بدامنی سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو مرکزی کردار دینے کی تجویز پیش کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس آپریشن کی نگرانی کرتی ہے۔ کراچی آپریشن شروع کرنے سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس آپریشن کی نگرانی کےلیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی بنائیں گے لیکن وعدے کے باوجود مانیٹرنگ کمیٹی نہیں بنائی گئی۔سندھ پولیس کے مطابق5ستمبر 2013سے یکم ستمبر2015 تک کراچی آپریشن کے دوران ایک ہزار 171ملزمان مارے گئے اور64ہزار سے زائد ملزمان کوگرفتار کیا گیا۔اسی پولیس رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران 250پولیس افسران اور اہل کار شہید ہوچکے ہیں۔
کراچی کے ایک سماجی کارکن محمد طاہر کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن سے قبل سیاسی و سماجی صورتحال نہایت ابتری کا شکار رہی ہے ۔لیکن جب سے رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کیا ہے حالات بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہیں۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خوف کی فضا ختم ہونے کو ہے ۔ کراچی کی بدامنی میں جہاں غنڈہ عناصر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل کرتے تھے، وہیں اُن کی دیکھا دیکھی نوجوان نسل بھی محنت کے بجائے “شارٹ کٹ”کے چکر میں تعلیم سے دور ہوکر “ٹی ٹی” کے قریب ہونے لگی تھی۔ گلی محلوں میں مقامی بدمعاشوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ شریف انسان کا اس ماحول میں جینا محال ہو چکا تھا، مگر جب کراچی آپریشن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جرائم پیشہ لوگ قانون کی گرفت میں آنا شروع ہوئے تو ان موسمی بدمعاشوں نے بھی توبہ کرنا شروع کر دی ۔
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کراچی میں پچھلے ڈھائی برس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔
اگر آپ کراچی میں رہنے والے ایک عام آدمی سے پوچھیں تو وہ یہ ہی کہے گا کہ کراچی میں بہتری آئی ہے لیکن دوسری طرف سیاسی طور پر مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ آپریشن کے شروع سے مانیٹرنگ کمیٹی کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس نے پچھلے دنوں اسی بنیاد پر استعفے بھی دیئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں ایم کیو ایم کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ہمارے کارکنوں کوتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے اقدامات کا جائزہ لیں، جوڈیشل کمیشن بنا دیں تو ہم اس میں پیش ہوکر انصاف کے متقاضی ہیں۔ ایم کیو ایم نے حکومت کےساتھ مذاکرات ختم کردیئے ہیں اورایک بار پھر اصرارکیا ہے کہ ان کے استعفے قبول کرلیے جائیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان انہیں اسمبلیوں میں واپس لانے کے لیے حکومت اور ایم کیو ایم میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا نے بھی مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کی حمایت کی تھی۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق کا کہنا ہے کہ “ہم نے اس بار استعفے احساس محرومی کی کیفیت تک پہنچے کے بعد دیئے ہیں۔ مانیٹرنگ کمیٹی کے علاوہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور جو کارکن لاپتہ ہیں انہیں بازیاب کرایا جائے”۔
الطاف حسین اور آصف زرداری نے عسکری مقتدراعلیٰ کے خلاف اپنی تقاریر کا حشر دیکھنے کے بعد اپنی توپوں کا رخ نواز شریف حکومت کی طرف موڑ دیا ہے، لیکن نواز شریف کی مجبوری یہ ہے کہ اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، شاید اُنہیں اور سندھ حکومت کو سندھ کے معاملات سے علیحدہ کردیا گیا ہے۔ اپنی جماعت کے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کے سخت پیغام کے جواب میں وزیراعظم نے حال ہی میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن)کے کل کے اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا نام اب مخالفوں کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کراچی میں پچھلے ڈھائی برس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی کی اشد ضرورت ہے اور یہ حکومت کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
وزیراعظم نوازشریف کا آزادکشمیر باغ میں کہنا تھا کہ ہم کراچی میں ملزمان پرہاتھ ڈالنے سے گھبرائے نہیں۔لیکن افسوس کہ وزیر اعظم نواز شریف نے جمعرات 20 اگست کو کراچی میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایم کیو ایم کے مانیٹرنگ کمیٹی کےمطالبے پر غورہی نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں شریک ایک اہلکار نے بتایا کہ نہ وزیر اعظم اور نہ ہی وزیر اعلیٰ نے مانیٹرنگ کمیٹی تذکرہ کیا۔ جب صورتحال اس قسم کی ہو کہ وزیر اعظم صاف طور پر بےبس نظر آرہےہیں تو پھر آرمی چیف سے صرف اتنا کہنا ضروری ہوگا کہ جناب آپ لوگ بہت اچھا کام کررہے ہیں لیکن کچھ ایسے کام بھی آپ کررہے ہیں جو آپ کو نہیں سیاست دانوں کو کرنا چاہیئے۔ اگر قانون نافذکرنے والے ادارے اپنا کام کریں اور سیاستدان اپنا کام کریں تو یقیناً کراچی آپریشن ایک اچھے نتیجے پر ختم ہوگا اور کراچی میں پایئدارامن کی امید کی جاسکتی ہے، ورنہ کراچی میں پہلے بھی 1992ء سے لےکر 1998ء تک تین مرتبہ آپریشن ہوچکے ہیں۔ کیا کراچی کے عوام اپنے سیاستدانوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ امید کرسکتے ہیں کہ اُن کے آپس کےتعاون سےجب تک آخری مجرم یا دہشت گرد ختم نہیں ہوجاتا، کراچی آپریشن بغیر کسی کے ساتھ زیادتی کیے جاری رہے گا؟
Categories
اداریہ

ماما قدیر کالعدم تنظیموں سے زیادہ سنگین خطرہ ہے-اداریہ

ماماقدیر کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں بلائے جانے پر ملکی خفیہ اداروں کا دباو اور مذاکرے کی منسوخی پاکستانی تعلیمی اداروں میں آزادی اظہاررائے کے حوالے سے موجود دہرے معیار کی نشاندہی کے لیے کافی ہے۔ پاکستانی تعلیمی اداروں میں جہاں ایک جانب فرقہ پرست علماء، جہادپسند تجزیہ نگار اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے رہنما مدعو کیے جاتے ہیں وہیں انسانی حقوق کے کارکنان، بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے رہنماوں اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں ملالہ کی کتاب کی رونمائی کی اجازت نہ ملنا، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اسرائیلی ثقافت کا سٹال ہٹایا جانا، سندھ یونیورسٹی میں ہولی کی تقریبات سے روکنا اور ماما قدیر کے مذاکرے کی منسوخی پاکستان بھر کے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں جاری سنسر شپ کی چند ادنی ٰ مثالیں ہیں۔
پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی نظر میں بظاہر تعلیمی اداروں میں کالعدم جہادی گروہوں اور فرقہ پرست قدامت پسند مذہبی علماء کی کھلے عام سرگرمیوں کے برعکس ماماقدیر کا طالب علموں سے رابطہ کہیں زیادہ سنگین خطرہ ہے
پاکستانی جامعات میں زید حامد، حمید گل اوراوریا مقبول جان جیسے جہادپسندوں کی تقاریر کوئی نئی بات نہیں۔ بارہا زید حامد پاکستانی جامعات میں سرینگر کی آزادی، لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہرانے اور اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے پاکستانی فوج کی مدح سرائی اور حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ بیسیوں مرتبہ ہمارے تدریسی اداروں میں اوریا مقبول جان ایک عالمگیر خلافت کے قیام، اسرائیل اور امریکہ کی تباہی اور احادیث کی روشنی میں سیاہ علم بلند کیے مجاہدین کی آمد کی نوید دے چکے ہیں۔ نوے کی دہائی میں سرکاری تعلیمی اداروں میں جہادی تنظیموں کے کارکنان کی آمدورفت، چندہ مہم اور مجاہدین کی بھرتی عام سی بات تھی۔پاکستانی تعلیمی اداروں میں مقررین اور مہمانان کو مدعو کرتے وقت ریاست، فوج، حکومت اور مذہب پر قابض حکم ران طبقے کے مفادات اور پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں سے اجتناب برتتے ہوئے محض ان افراد کو مدعو کیا جاتا ہے جوریاستی،فوجی ، عوامی اور مذہبی اکثریت اور بااثر طبقے کے لیے قابل قبول ہوں۔
پاکستانی درس گاہوں میں جہاد کی تبلیغ، عسکریت پسندی کی ستائش اور تکفیریت کی ترویج کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے کسی سرکاری محکمے، کسی خفیہ ادارے اور کسی سیکیورٹی اہلکار سے پوچھنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی نظر میں بظاہر تعلیمی اداروں میں کالعدم جہادی گروہوں اور فرقہ پرست قدامت پسند مذہبی علماء کی کھلے عام سرگرمیوں کے برعکس ماماقدیر کا طالب علموں سے رابطہ کہیں زیادہ سنگین خطرہ ہے؛ شاید عسکری ادارے ریاستی دہشت گردی اور ریاستی جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کو قومی جرم سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں دہشت گرد بیانیے کی ترویج پر کسی قسم کی روک ٹوک دکھائی نہیں دیتی لیکن قوم پرست اور جمہوریت پسند سیاسی رہنماوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کو تعلیمی اداروں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ ریاستی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے بلوچ اور سندھی طالب علم اپنے جائز مطالبات کے حق میں بھی تعلیمی اداروں میں کسی تقریب کااہتمام نہیں کر سکتے لیکن دوسری طرف ملک بھر میں ریاستی اداروں کی پروردہ مذہبی اور جہادی طلبہ تنظیموں کو متعارف کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاستی ادارے ضیاالحق کی امریت کی طرز پر آج بھی الشباب، جمعیت طلبہ اسلام اور جماعت الدعوۃ جیسی مخصوص مذہبی جہادی نظریات کی حامل تنظیموں کی سرپرستی کے ذریعے قوم پرست اور ترقی پسند طلبہ کی آواز کو دبا رہے ہیں۔ پاکستانی درس گاہوں میں عمومی سطحی مفروضوں اور سازشی نظریات سے ہٹ کر معقول، تنقیدی، ترقی پسند اور حقیقت پسندانہ شعور مفقود ہونے کی ایک اہم وجہ یہی ہے کہ اختلاف رائے کی بجائے ریاستی بیانیے کی تکرار اور تنقید کی بجائے تقلید کا درس دیا جارہا ہے۔
نظریہ پاکستان، قومی سلامتی، مذہب اور شرم و حیا کے تحفظ کے نام پر پاکستانی درسگاہوں کو تبلیغی مدارس میں تبدیل کرنے سے پاکستان علمی پستی اور فکری تنزلی کے پست ترین مقام کی جانب مائل بہ زوال ہے۔
گزشتہ دودہائیوں کے دوران تعلیمی اداروں میں تبلیغی کلچر بھی تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ ہر فرقے، تنظیم اور جماعت کے مبلغین بلاروک ٹوک پاکستانی جامعات کا رخ کرتے ہیں اور اپنے فرقے کے مطابق تبلیغ کے ذریعے مذہبی شدت پسندی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ پاکستان میں تمام مذاہب کو یکساں آزادی کا حق دینے کی بجائے جہاں ایک طرف اقلیتی فرقوں، احمدیوں اور غیر مسلموں کو تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاتی وہیں مولانا طارق جمیل جیسے مبلغین کی آمد اور تبلیغ کے انتظامات سرکاری سطح پر کیے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تکثیریت کی نفی کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے منظور شدہ مذہبی اور جہادی بیانیے کی تبلیغ کا عمل نہ صرف معیار تعلیم پر اثر انداز ہورہا ہے بلکہ علم کی تخلیق اور ترقی کے لیے درکار فکری آزادی، اختلاف رائے اور آزادی اظہار رائے جیسے بنیادی عناصر کی دستیابی میں روکاوٹ بھی بن رہا ہے۔
11127815_433036623536721_446346868839027644_n
تعلیمی اداروں میں مدعو کیے جانے والے مقررین اور مہمانان گرامی کا مختصر جائزہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ریاست ، حکومت اور ریاستی ادارے محض اکثریتی اور بااثر طبقات کے مذہب، فرقے اور نقطہ نظر کی ترویج میں مصروف ہیں۔ سرکاری اور نجی اداروں میں ریاست، معاشرے اور اکثریت کے لیے قابل قبول نقاط نظر کے علاوہ کسی اختلافی آواز کی کوئی گنجائش نہیں۔ نظریہ پاکستان، قومی سلامتی، مذہب اور شرم و حیا کے تحفظ کے نام پر پاکستانی درسگاہوں کو تبلیغی مدارس میں تبدیل کرنے سے پاکستان علمی پستی اور فکری تنزلی کے پست ترین مقام کی جانب مائل بہ زوال ہے۔
ریاست اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پاکستانیت، اسلام، نظریہ پاکستان اور سلامتی کی کوئی ایک تعریف سب کے لیے درست اور کوئی ایک نقطہ نظر سب کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ تعلیمی اداروں کا فریضہ کسی ایک فرقے اور جہاد کے مبلغین کی سرپرستی کرنا نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر، سماجی پس منظر اور رحجانات کے حامل طبقات کو باہم تبادلہ خیال کے لیے آزادانہ ماحول فراہم کرنا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ میں ناکامی کے اسباب

انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اور پاکستان کاآئین ،ریاست کو تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ 1973 کے آئین کے آرٹیکل 8 تا 28 شہریوں کے لیے ان تمام بنیادی انسانی حقوق کی فہرست پر مشتمل ہیں جو ریاست کی ذمہ داری قرار دیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی پاسداری اور بنیادی آزادیوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی آئین ایک ایسا آئینی ڈھانچہ مہیا کرتا ہے جہاں مقننہ کو ان حقوق کی فراہمی کے لیے مناسب قانون سازی کا ذمہ دار جبکہ اعلیٰ عدلیہ کوان کا محافظ قرار دیا گیا ہے۔ ایک آئینی وجمہوری سیاسی نظام اور انسانی حقوق کے تمام اہم عالمی معاہدوں کا رکن ہونے کے باوجودانٹرنیشنل ہیومن رائٹس انڈیکس کے مطابق پاکستان انسانی حقوق کی صورت حال کے اعتبار سے 146 ویں نمبر پر ہے جو یقیناًتشویش ناک ہے۔
پارلیمان آئین میں انسانی حقوق کی فراہمی کی واضح ہدایات کے باوجود تاحال خواتین، بچوں، اقلیتوں، ہم جنس پرستوں کے تحفظ اور حقوق کی فراہمی کا نظام بنانے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے خواتین، اقلیتوں، بچوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق سے متعلق تمام عالمی اشاریوں پر نچلی ترین سطح پر ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں حائل روکاوٹیں پاکستان کے کمزور سیاسی نظام اور قدامت پرست معاشرتی تشکیل کی پیداوار ہیں۔ جمہوری اقدار کے زوال اور شدت پسندی کے فروغ کے باعث بنیادی حقوق سے متعلق مسائل اور روکاوٹوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔غیر مستحکم جمہوری نظام،وسائل کی کمیابی، سیاسی ارادے کی کمی، انصاف کی فراہمی کے نظام میں نقائص، انسانی حقوق سے متعلق آگہی کی کمی اور امن و امان کی خراب صورت حال وہ چند عوامل ہیں جو انسانی حقوق کی فراہمی کو بہتر بنانے میں روکاوٹ ہیں۔
انسانی حقوق کی پامالی کا عمل پاکستان میں نیا نہیں اوراس ضمن میں حکومتی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی ، مسلح علیحدگی پسندتحریکوں اور مذہبی انتہا پسندی کا سامنا کرنے والی پاکستانی ریاست میں انسانی حقوق کی اس صورت حال کے لیے سیاسی حکومتوں کے علاوہ سکیورٹی اداروں اور معاشرے میں سرگرم نظریاتی اور مسلح گروہوں کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا جانا چاہیے۔
غیر مستحکم سیاسی نظام
فوجی مداخلت کے خطرے تلے پروان چڑھنے والے جمہوری نظام کو متعدد بار اپنے کمزور ہونے کاتجربہ کرنا پڑا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کی مقتدر جماعتیں انسانی حقوق کی فراہمی جیسے معاملات کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے وسائل کا ایک بڑا حصہ ایسے منصوبوں پر خرچ کرتی ہیں جو انہیں انتخابات میں کامیابی دلا سکیں۔ اگرچہ انسانی حقوق کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے منشورکافی حد تک واضح ہیں تاہم حکومت اور حزب اختلاف میں شریک تمام سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کے تحفظ کے عمل میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر پائیں۔
پارلیمان آئین میں انسانی حقوق کی فراہمی کی واضح ہدایات کے باوجود تاحال خواتین، بچوں، اقلیتوں، ہم جنس پرستوں کے تحفظ اور حقوق کی فراہمی کا نظام بنانے میں ناکام رہی ہے۔ ایک قدامت پسند مذہبی معاشرہ ہونے کے باعث حکومتوں کے لیے انسانی حقوق خصوصاً مذہبی اور جنسی اقلیتوں کے معاملات پر قانون سازی کرنا بے حد مشکل رہا ہے۔ ماضی میں گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، ریپ اور شادی کی کم سے کم عمر کے حوالے سے قانون سازی کرنے والی حکومتوں کو حزب مخالف اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سیاسی ردعمل کے خوف سے تاحال حکومت توہین مذہب ، توہین رسالت اور غیر مسلم اقلیتوں کے مساوی حقوق پر قانون سازی کا آغاز نہیں کر سکی۔
سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کے باعث جمہوری حکومتیں عسکری اداروں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ جمہوری سیاسی نظام کی کم زور حیثیت کے باعث ہی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی حکومتیں بلوچ علیحدگی پسندوں، جبری گم شدگیوں اور ماورائے عدالت قتل روکنے اور بلوچوں سمیت دیگر علیحدگی پسند گروہوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہیں۔ پشاورسانحہ کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ بھی سول ملٹری تعلقات میں فوج کی جانب سے سویلین عدلیہ اورمقننہ پرعدم اعتماد کا مظہر ہے۔
دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے قوانین کے غلط استعمال اور ان قوانین میں پائے جانے والے نقا ئص کے باعث عام افراد اور سیاسی کارکنوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
پاکستانی سیاسی نظام میں بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جنہیں آئینی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ مثلاً خواتین اور اقلیتوں سے متعلق مذہبی قوانین میں بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا جس کے باعث سرکاری اور معاشرتی سطح پر ان طبقات کو حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دہشت گردی اور مسلح علیحدگی پسند تنظیمیں
عسکری اداروں کی جانب سے دہشت گردوں اور مسلح علیحدگی پسندوں کے خلاف کاررایوں کے دوران کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں سیاسی حکومت اور عدلیہ کا کردار مایوس کن رہا ہے۔ ایک جانب ریاست کے عسکری ادارے ماورائے عدالت قتل ، تشدداور جبری گمشدگیوں جیسے ہتھکنڈے بلوچ اور سندھی سیاسی کارکنوں اور قوم پرست تحریکوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں تو دوسری طرف دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایسے قوانین تشکیل دیے جا رہے ہیں جو انسانی حقوق کی مزید خلاف ورزیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
نامناسب قوانین
دہشت گرد تنظیمیں ریاست کے لیے خطرہ بن چکی ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے قوانین کے غلط استعمال اور ان قوانین میں پائے جانے والے نقا ئص کے باعث عام افراد اور سیاسی کارکنوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہم جنس پرستوں، خواتین، بچوں اور دیگر زدپذیر طبقات کے تحفظ کے قوانین نہ ہونے یا ان کے خلاف موجود امتیازی قوانین کے باعث بھی انسانی حقوق کے تحفظ کی صورت حال ابتر ہے۔
سیاسی ارادے کی کمی
سیاسی جماعتوں اور ملکی قیادت میں انسانی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے قوت ارادی کی کمی بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی روک تھام کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ بیشتر سیاسی جماعتیں مذہبی گروہوں کے احتجاج اور اپنا ووٹ بنک کم ہونے کے خطرے کے باعث کھل کر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ ملک میں ترقی پسند فکر کے زوال اور شدت پسند سوچ میں اضافہ کے باعث پیپلز پارٹی جیسی سیاسی جماعتوں کے لیے انسانی حقوق کے معاملات پر سیاست کرنا دشوار ہوتا جارہا ہے۔ ترقی پسند سیاسی جماعتوں کے محدود کردار کے باعث انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے حکومت پر خاطر خواہ دباو ڈالنا ممکن نہیں۔ دوسری جانب مذہبی جماعتوں کے متشدد ہتھکنڈے اوراحتجاجی قوت سیاسی حکومتوں کے لیے انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے قانون سازی کی راہ میں روکاوٹ ہیں۔
وسائل کی کم یابی
دولت کی پیداوار اور تقسیم کے ناقص نظام کی وجہ سے حکومت کے پاس بنیادی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کے لیے ضروری وسائل موجود نہیں۔ خسارے کی معیشت اور کم پیداواری قوت کے باعث حکومت شہری سہولیات کی فراہمی کے اداروں اور فلاحی ترقیاتی منصوبوں پر خاطر خواہ رقم خرچ نہیں کر پاتی۔ پاکستان میں تعلیم، صحت، خوراک ، رہائش اور تحفظ پر عالمی معیار سے کہیں کم رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ سرحدوں پر کشیدگی، دہشت گردی اور علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے دفاع پر بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ کرنے کی وجہ سے بھی عوامی فلاح کے لیے بجٹ میں وسائل کی فراہمی ممکن نہیں۔انتخابی سیاست کے رحجانات کی وجہ سے مسلم لیگ نواز جیسی سیاسی جماعتیں تعلیم، صحت اور تحفظ کے منصوبوں کی بجائے سڑکوں، پلوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر جیسے اقدامات پر زیادہ پیسہ خرچ کررہی ہیں۔
انصاف کی فراہمی کا ناقص نظام
مناسب قوانین کی عدم موجودگی، تفتیش کے ناقص نظام اور غیر فعال عدلیہ کے باعث پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا عمل ناممکن ہے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات پر عدالتوں کی جانب سے مناسب کارروائی نہ ہونے کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ مقننہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں کے درمیان پائی جانے والی سردمہری بھی انصاف کی فراہمی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ لاپتہ افراد کے کیس میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے اعلی عدلیہ کے احکامات کی خلاف ورزی ، توہین مذہب اور رسالت کے واقعات میں نچلی عدالتوں میں غیر معیاری سماعت اور اقلیتوں کی انصاف کی فراہمی کے نظام میں نمائندگی بے حد کم ہونے سے بھی اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پاکستان میں بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات پر انصاف کی فراہمی کیوں ناممکن ہے۔
تفتیشی اداروں کے فرسودہ طریقوں اور پیشہ ورانہ غفلت کے باعث مقدمات کے اندراج اور تفتیش کے دوران ایسے قانونی سقم رہ جاتے ہیں جس کے باعث یا تو ملزمان تک پہنچنا ہی ممکن نہیں ہوتا یا پھر ملزمان باآسانی چھوٹ جاتے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم کے بیشتر ملزمان تاحال گرفتارنہیں کیے جاسکے، اسی طرح خواتین پر تیزاب انڈیلنے، ریپ اورغیرت کے نام پر قتل کے ملزمان کے خلاف کارروائی کا عمل بھی تسلی بخش نہیں۔
پدرسری مذہبی معاشرہ اور غیر فعال سول سوسائٹی
پاکستانی معاشرہ پدرسری اور مذہبی ہونے کے باعث انسانی حقوق کے جدید تصورات کو تسلیم کرنے اور رائج کرنے سے انکاری ہے۔ خواتین کی مساوی حیثیت، ہم جنس پرست افراد کے حقوق، مذہبی آزادی اور آزادی اظہار رائے جیسے تصورات کو معاشرے میں ناپسند کیا جاتا ہے۔ مخصوص قدامت پسند معاشرتی تشکیل کے باعث انسانی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کے لیے حکومت پر دباو ڈالنے کے لیے ایک فعال سول سوسائٹی وجود میں نہیں آسکی۔مذہبی جماعتوں کی جانب سے سیاسی اور معاشرتی سطح پر انسانی حقوق کے جدید تصورات کو متنازعہ، غیر اسلامی اور فحش قرار دینے کے باعث بھی انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کے لیے کام کرنا مشکل ہوا ہے۔
شعور و آگہی کی کمی
خواندگی سے متعلق یونیسکو کی 2012 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان خواندگی کے اعتبار سے 180 ویں نمبر پر ہے۔ محض 56 فی صد خواندہ افراد، جن میں سے ایک بڑی تعدادکے صرف بنیادی لسانی مہارتوں سے واقف ہونے کے باعث پاکستان میں بنیادی حقوق سے متعلق شعور اور آگہی کی صورت حال تشویشناک ہے۔ پاکستانی تعلیمی نظام میں بنیادی انسانی حقوق کے تصورات سے متعلق مبہم، متنازعہ اور بعض اوقات غلط معلومات کی فراہمی کے باعث تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے زیادہ تر افراد بنیادی انسانی حقوق سے متعلق گمراہ کن خیالات کے حامل ہیں۔ مذہبی متن، نظریاتی تکرار اور غیر معیاری تدریس کے باعث بھی پاکستانی معاشرہ میں انسانی حقوق سے متعلق آگہی کا فقدان ہے۔
مذہبی جماعتوں کی جانب سے سیاسی اور معاشرتی سطح پر انسانی حقوق کے جدید تصورات کو متنازعہ، غیر اسلامی اور فحش قرار دینے کے باعث بھی انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کے لیے کام کرنا مشکل ہوا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی انسانی حقوق کے معاملات پر رپورٹنگ اور پروگرامنگ کا معیار تشویش ناک ہے۔ جنسی جرائم، اقلیتوں کے خلاف جرائم اور بلوچستان کے حالات پر مجرمانہ خاموشی یا غیر سنجیدہ سنسنی خیزی کی وجہ سے عام قاری، ناظر اور سامع انسانی حقوق کی تشویش ناک صورت حال سے ناواقف ہے۔
اظہار رائے پر پابندیاں
بڑھتی ہوئی سرکاری اور غیر سرکاری سنسرشپ اور پابندیوں کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں پر آواز اٹھانا مشکل ہورہا ہے۔ تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کڑی نگرانی اور سنسر شپ کی وجہ سے حکومتی اداروں اور طاقتور طبقات کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو سامنے لانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ صحافیوں اورانسانی حقوق کے کارکنوں کو لاحق خطرات کی وجہ سے اکثروبیشتر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات خصوصاً اقلیتوں اور خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی بجائے چھپایا جاتا ہے۔امن اومان کی مخدوش صورت حال، سماجی کارکنوں اور صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور کم زور نظام انصاف کی وجہ سے انسانی حقوق کے اداروں اور کارکنوں کے لیے کام کرنا مشکل ہوا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

انسانی حقوق اور حریت فکر

ہر انسان انصاف ،امن ،محبت اور خوشحالی کا طلب گار ہے اور ہر فرد نا انصافی ،بدامنی ،نفرت اور غربت کو برا سمجھتا ہے۔ معاشرے میں تمام قانون،ادارے اور ضابطے اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ انسانوں کو انصاف،امن اور خوشحالی میسرآ سکیں اور بدامنی، نا انصافی اور محرومی کا راستہ روکا جا سکے، ایک فلاحی ریاست کا تصور انہی انسانی خواہشات کی عکاس ہوتی ہے۔ انسانی حقوق محض عظیم ہستیوں کے اقوال ،آسمانی کتابوں یا چند اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں تک محدود نہیں بلکہ انسانی حقوق انسانیت کے صدیوں پر محیط اجتماعی تجربات کا نچوڑ ہیں۔
بیسویں صدی میں لڑی جانے والی دو خوفناک عالمی جنگوں نے دنیا کو قائل کیا کہ تمام انسانوں کے یکساں تحفظ، دیرپا ترقی اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کےلیے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے اداروں کا قیام اور سیاسی ضمانتیں ضروری ہیں۔1945میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تین بنیادی نکات یعنی امن،ترقی اور انسانی حقوق پر رکھی گئی تھی۔ اس چارٹر کی روشنی میں 10دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ نے متفقہ طور پر انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ منظورکیا۔انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ رنگ،نسل، مذہب، جنس، زبان، ثقافت، معاشی حیثیت اور سماجی پس منظر سے قطع نظر تمام انسانوں میں بنیادی مساوات اور برابری کا اصول تسلیم کیا گیا۔ انسانی حقوق کی فراہمی ایسے قوانین، اقدار اور اداروں کے باعث ممکن ہے جو تمام انسانوں کا یکساں استحقاق ہیں اور ان حقوق کی تحصیل کی بنیادی شرط صرف انسان ہونا ہے۔رنگ، نسل، مذہب، جنس، زبان، ثقافت، سماجی مقام، مالی حیثیت اور سیاسی خیالات کے فرق سے کسی فرد کے انسانی حقوق پر کوئی اثر نہی پڑتا۔
انسانی حقوق محض عظیم ہستیوں کے اقوال ،آسمانی کتابوں یا چند اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں تک محدود نہیں بلکہ انسانی حقوق انسانیت کے صدیوں پر محیط اجتماعی تجربات کا نچوڑ ہیں۔
انسانی معاشرہ ہر لمحہ جنم لیتی ہوئی نت نئی تبدیلیوں اور کبھی نہ ختم ہونے والے نئے امکانات کا رنگا رنگ مظہر ہے۔انسان ہونے کے ناطے ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کو اسطرح منظم اور مربوط کیا جائے کہ ہر نیا مرحلہ تحفظ، انسانی ضروریات کی فراہمی اور خوشیوں کے حصول، پائیدار ترقی اوراختیارات کی تقسیم سے اجتماعی معیار زندگی کو بہتر بنائے۔
جس کی لاٹھی اسکی بھینس کے اصول کے نتیجے میں انسانی معاشرے میں بہت سی بنیادی نا انصافیوں نے جنم لیا۔ اسطرح مراعات یافتہ افراد اور گروہوں نے وسائل پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے کے لیے لوگوں میں اونچ نیچ کے تصورات پیدا کیے۔ رنگ، نسل اور جنس جیسی پیدائشی خصوصیات کو آڑ بنا کر انسانوں کی اکثریت کو بنیادی ضروریات سے محروم کیا گیا اور ترقیاتی عمل اور فیصلہ سازی سے باہر رکھا گیا۔ معاشرے میں ریاستی جبر، معاشی نا انصافی، سماجی اونچ نیچ، فکری پابندیوں اور تشدد کو دور کرنے کےلیے حریت فکر کا اصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں نا انصافی اور استحصال کرنے والے افراد، گروہ اور قومیں حریت فکروعمل کو کچلنے کےلیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ کہیں نام نہاد قومی سلامتی کا ہوا کھڑا کیا جاتا ہے، کہیں ثقافتی قدروں کی پامالی کا رونا رویا جاتا ہے، کہیں عقیدے کی آڑ میں انسانی سوچ پر پہرے لگائے جاتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فیصلے کا حق کسے حاصل ہے کہ کون سے نظریات،اصول اور ضابطے انسانوں کےلیے مفید ہیں اور کون سے غیر مفید۔یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فکروعمل کی آزادی کی جائز حدود کیا ہیں؟جو بھی فرد یا گروہ آج یہ فیصلہ کرنے کا مجاز قرار دیاجائے گا وہ ماضی کے تعصبات اور اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرنے سے قاصر ہوگا۔اس ضمن میں واحد غیر جانبدار منصف انسانی تاریخ ہے اور تاریخ میں کوئی ایسامعاشرہ ترقی نہیں کر سکا جہاں سوچ اور عمل کی آزادی کسی خاص طبقے یا گروہ کے پاس رہن ررکھ دی جائے۔
۔ معاشرے میں ریاستی جبر، معاشی نا انصافی، سماجی اونچ نیچ، فکری پابندیوں اور تشدد کو دور کرنے کےلیے حریت فکر کا اصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے
پاکستان سے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ ہمارے ہاں فکری آزادی کی روایت موجود نہیں لیکن گزشتہ چند دہائیوںمیں انسانی حقوق کی صورت حال بگڑی ہے۔پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق صرف آئین پاکستان تک محدود ہیں، مذہبی شدت پسندی اور تنگ نظری کی وجہ سے عورتوں کو ابھی تک انکے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے ، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت جیسے مسائل ابھی تک موجود ہیں۔ فرقہ وارانہ ہلاکتیں ہوں یا اقلیتوں کے حقوق کی کھلے عام پامالی ،بنیادی وجہ ریاست کا مذہبی منافرت کی سیاست کرنے والوں کے سامنے سر جھکا لینا ہے ۔اس ضمن میں یہ بھی اہم ہے کہ انسانی حقوق کی حتمی ضمانت صرف ریاستیں فراہم نہی کیا کرتیں، بلکہ ایک فعال سول سوسائٹی اور عالمی برادری بھی انسانی حقوق کی فراہمی کی لازمی شرط ہیں۔ انسانی حقوق ایک آزاد انسان، ذمہ دار شہری، ہمدرد دل اور روشن دماغ کی پکار ہیں ۔ انسانی حقوق کے تعین اور فراہمی کے لیے بنیادی اکائی فرد ہے اسی لیے انسانی حقوق کے تحفظ کی کچھ ذمہ داری بھی فرد پر عائد ہوتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

کنٹینرز، بنیادی حقوق اور شریف عدلیہ

لاہور کی عدالت عالیہ نے کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنے سے متعلق اپیل پر فیصلہ سنایا ہے کہ کنٹینرز لگانے سے بنیادی انسانی حقوق متاثر نہیں ہوتے۔ جسٹس خالد محمود خان نے قرار دیا کہ غیر قانونی اقدامات کا خدشہ ہو تو حفاظتی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ اہلکاروں سے اسلحہ چھیننا کونسا انقلاب ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنٹینرز ہٹانے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
خدا آپ کا، افتخار چودھری کا اور خواجہ شریف کا اقبال بلند کرے۔ آخر آپ لوگوں کو ہم نے ہی تو بحال کرایا تھا۔
عزت مآب جناب جسٹس خالد محمود کے اس فیصلے کی کوئی نقل تاحال دستیاب نہیں۔ تاہم مندرجہ بالا نکات قومی سطح کے تمام قابل اعتبار ذرائع ابلاغ میں اسی طرح شائع و نشر کیے گیے ہیں سو ان کی صحت پر کوئی بڑا سوال ممکنات میں سے نہیں۔
اس فیصلے نے سابق چیف جسٹس پاکستان جناب افتخار چودھری اور سابق چیف جسٹس جناب خواجہ شریف کے فیصلوں کی یاد دلا دی ہے۔ راقم الحروف قانون دان تو نہیں لیکن ایسے پیشے سے وابستہ ہے کہ آئین کی کتاب سے اکثر پالا پڑتا رہتا ہے اور اس آئین کے بنیادی حقوق سے متعلق باب دوم سے بھی قریبی شناسائی ہے۔ اس اختتام ہفتہ پر، جب لاہور میں سیاسی درجہ حرارت عین عروج پر تھا، راقم کو وفاقی دارالحکومت سے وسطی پنجاب کے ضلع پاکپتن اور وہاں سے واپس اسلام آباد تک سفر کرنے کا موقع ملا۔ اس سفر میں انہی کنٹینرز، راستوں اور پٹرول کی بندش کا بھی سامنا کرنا پڑا جن پر محترم عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کس آئینی مصلحت کو بنیاد بنا کر عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے۔ لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ آئین کے باب دوم میں دئیے تئیس میں سے کم از کم نو بنیادی انسانی حقوق، جو مجھے پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت میں حاصل ہیں، وہ ان کنٹینروں کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ہمارے قابل احترام منصفین کے پاس لازماً اس فیصلے کا کوئی قانونی جواز موجود ہو گا جو مجھ فاترالعقل کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں ایک ایک کر کے ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر اپنا موقف پیش کرتا ہوں۔
مجھے نہیں معلوم کہ کس آئینی مصلحت کو بنیاد بنا کر عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے۔ لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ آئین کے باب دوم میں دئیے تئیس میں سے کم از کم نو بنیادی انسانی حقوق، جو مجھے پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت میں حاصل ہیں، وہ ان کنٹینروں کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
پہلا بنیادی حق جس کی ضمانت آئین پاکستان اپنے شہریوں کو دیتا ہے وہ انسانی جان کی حفاظت اور آزادی سے متعلق ہے۔ محترم جناب جسٹس صاحب، آج کے اخبار میں لکھا ہے کہ راستے بند ہونے سے دو مریض چل بسے۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو چلتے چلتے رہ گئے ہوں گے۔ اپنے حالیہ سفر کے دوران کامونکی کے قریب راستے کی بندش کے باعث ایک ایمبولینس کو نامراد واپس لوٹتے تو میری آنکھوں نے بھی دیکھا ہے۔ پھر لبرٹی کا تو ذکر ہی کیا۔ سینکڑوں افراد جو وفاقی و صوبائی دارالحکومت میں محصور کردیے گیے جن کی سواریوں کو راستے سے واپس لوٹا دیا گیا۔ انسانی تحفظ کا یہ بنیادی حق آپ نے کیوں نظر انداز کردیا، اس پر مجھے اور دیگر متاثرین کو آپ سے جواب مانگنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟
جناب والا، پھر اسی باب میں نیچے کہیں نقل و حرکت کی آزادی کا ایک حق الگ سے دیا گیا ہے جس میں ہمارے قانون سازوں نے لکھا ہے کہ ہر پاکستانی ملک عزیز کے کسی بھی کونے کھدرے میں جاسکتا ہے وہاں رہ سکتا ہے اور وہاں مٹر گشت کرسکتا ہے۔ اس حق میں ایک قدغن لگائی گئی ہے کہ عوامی مفاد میں کچھ جگہوں پر یہ حق معطل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ معطلی بھی کسی قانون کے تحت ہی کی جاسکتی ہے کسی فرمان شاہی پر شہریوں کی نقل و حرکت کو پابند نہیں کیا جاسکتا۔ جناب میرا گمان یہ ہے کہ عوامی مقامات بشمول کوئی سڑک بالخصوص اگر وہ آپ کے گھر کو جاتی ہو وہ اس پابندی کے ذیل میں نہیں آتی۔ محترم جسٹس صاحب لیکن مجھے میرے گھر جانے والے راستے پر سفر کی اجازت نہیں دی گئی۔ مجھے اپنے گھر جانے کے لیے آٹھ گھنٹوں کے سفر کو سولہ گھنٹے میں طے کرنا پڑا۔ کیا یہ میرے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں؟
اس کے بعد آئین پاکستان کہتا ہے کہ شہریوں کو اکٹھا ہونے کی آزادی حاصل ہے۔ میں تو جناب والا غیر سماجی قسم کا بندہ ہوں اکٹھ کو کم ہی پسند کرتا ہوں۔ لیکن آپ کی عدالت کی حدود میں بسنے والے کروڑوں دیگر شہریوں کا یہ حق بھی حکمرانوں نے سلب کرلیا اور آپ کو احساس تک نہ ہوا۔ حضرت والا تبار سیاسی وابستگی کا حق بھی ہمیں آئین دیتا ہے۔ مگر اس سیاسی وابستگی کی بنیاد پر سینکڑوں گرفتاریاں ہو چکیں مزید سینکڑوں ہو رہی ہیں مگر آپ چپ ہیں۔ چلیے ان حقوق کا براہ راست کنٹینروں سے کوئی تعلق نہیں اور ازخود نوٹس لینے کو اور بہت سے مسائل پڑے ہیں۔
مگر شہریوں کا ایک اور حق بھی ان کنٹینروں کی وجہ سے بری طرح مجروح ہوا ہے۔ تجارت، کاروبار اور ملازمت کی آزادی سے موسوم اس حق کو آپ کس کھاتے میں ڈالیں گے جب اشیائے خوردونوش، صنعتی خام مال اور زرعی اجناس سے لدے ٹرک پنجاب کے قریباً سبھی شہروں میں قطار اندر قطار منتظر کھڑے ہیں کہ کب انہیں روانگی کی اجازت ملے۔ پھر وہ کنٹینرز اس کے سوا ہیں جو سرکار نے ضبط کر کے راستوں کی بندش کے لیے استعمال کر رکھے ہیں۔ اس سارے عمل میں جانے کتنے کا مال ضائع ہوگا اور کتنے کا بچ رہے گا۔ کس کا کاروبار ٹھپ ہوگا اور کس کسان پر کتنا قرضہ چڑھ جائے گا۔ لیکن اس کا ریکارڈ رکھنا تو آپ کی ذمہ داری ہے نہیں۔ آپ کا کام تو فیصلہ سنانا ہے۔
شاید آپ جب اپنے ریڈر کو فیصلہ رقم کرا رہے تھے تو بنیادی حقوق سے آپ کی مراد معلومات کی فراہمی تھی کہ یہ حق کنٹینروں سے براہ راست متاثر نہیں ہوتا اور ٹیلیویژن کی لہریں کنٹینروں کو با آسانی پھلانگ جاتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں اگر اخبار نہ بھی پہنچا ہو تو خیر ہے کہ ٹی وی اب خاصا عام ہے سو اس بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی تو ان کنٹینروں سے قطعاً نہیں ہوتی۔
اس کے بعد دو حقوق جو نو میں سے بچ رہتے ہیں۔ وہ شہریوں کی برابری اور عوامی مقامات تک رسائی کے حقوق ہیں۔ یہ حقوق تو شاید اہم نہیں رہے۔ کہ گذشتہ دو دن کیا یہ اول روز سے ہی کم کم لوگوں کو حاصل رہے ہیں۔ انگریزی کہاوت ہے کہ Some people are more equal than othersسو اس کی ذمہ داری آپ کنٹینروں پر ڈال کر بیچار ےکنٹینروں سے ناانصافی نہیں برتنا چاہتے تھے۔
ظلم پر چپ بیٹھنے والا ظالم کا ساتھی ہے۔ خدانخواستہ میں آپ پر ظلم کی تہمت قطعاً نہیں لگا رہا۔ بس استاد کا سبق دہرارہا ہوں۔
حضور لگے ہاتھوں ایک اور بھی عرض کرتا چلوں۔ اس کا بھی بنیادی حقوق سے اتنا ہی لینا دینا ہے جتنا کہ کنٹینرز کا۔ یعنی نہ ہونے کے برابر۔ کل ہی پنجاب کی بہادر سپاہ نے چند فسادیوں کے خلاف انسداد دہشتگردی کے اقدامات کے تحت پرچہ درج کرلیا ہے۔ بہت اچھا اور قابل تحسین اقدام ہے۔ بس اتنا سا پوچھنا تھا کہ انسداد دہشتگردی و تحفظ پاکستان کا نفاذ دہشتگردوں پر بھی ہوتا ہے یا ایسے قوانین صرف سیاسی مخالفین کے لیے ہی ہیں؟ اصل میں اب کیا بتاؤں شرم آتی ہے کہ میں بھی اس قانون کے تحت ایک مقدمہ بھگتا چکا ہوں۔ کوئی چار پانچ سال پہلے کی بات ہے۔ تب بہت دہشتگردی ہوا کرتی تھی۔ لیکن لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں صرف ایک دہشتگرد کا مقدمہ تھا باقی کوئی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والےفسادی تھے یا کوئی فوجی آپریشن کے خلاف نعرے مارنے پر دھر لیے گئےتھے۔ بس یہ ذرا سی کنفیوژن تھی سوچا پوچھ لوں۔آپ برا مانتے ہیں تو بھلے جواب نہ دیں۔
جسٹس صاحب، اگر میری کسی بات سے آپ کے یا عدالت کے وقار پر حرف آتا ہو تو میری جانب سے قبل از توہین عدالت نوٹس غیر مشروط معافی قبول فرمائیے۔ اصل میں ایک دو استادوں نے چند اصول سمجھا کر دماغ خراب کردیا ہے۔ ایک تو آپ کی وکلا برادری سے ہی ہے ،کہتا تھا کہ مقننہ اور عدالت کو قانون سازی اور فیصلہ بناتے وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کا نفاذ چاند یا مریخ پر بھی کرنا پڑے تو کوئی معصوم اس کی زد میں نہ آئے۔ ایک اور استادنے سکھایا تھا کہ ظلم پر چپ بیٹھنے والا ظالم کا ساتھی ہے۔ خدانخواستہ میں آپ پر ظلم کی تہمت قطعاً نہیں لگا رہا۔ بس استاد کا سبق دہرا رہا ہوں۔
خدا آپ کا، افتخار چودھری کا اور خواجہ شریف کا اقبال بلند کرے۔ آخر آپ لوگوں کو ہم نے ہی تو بحال کرایا تھا۔ لو پھر زبان پھسل گئی۔ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ ہماری کیا اوقات یہ تو میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی مہربانی تھی۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان میں انسانی حقوق: ایک لمحہ فکریہ

human rights

شہزاد یوسف

لغات کے مطابق انسانی حقوق سے مراد انسانوں کے وہ حقوق ہوتے ہیں جو ان کے محض انسان ہونے کی وجہ سے ملنا چاہیئں۔ جیسا کہ خوراک، صحت، تعلیم اور آزادیءاظہار وغیرہ۔اور پھر ان کے ثقافتی، سیاسی اور معاشی حقوق جو کہ جدید معاشروں کا لازمہ ہیں۔
انسانی حقوق کی جدوجہدکی ابتدا 1215ءمیں یورپ میں میگنا کارٹا نامی قانون کی منظوری سے ہوئی البتہ عہد جدید میں اس جدوجہد کا پس منظر دوسری جنگ عظیم میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے جڑاہوا ہے۔ اسی جنگ کی تباہیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے 1948ءمیں اقوام متحدہ نے 30نقات پر مشتمل انسانی حقوق کا منشور پیش کیاجو کہ اس وقت کے ممبر ممالک نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ معاشروں میں اس وقت انسانی حقوق کی صورت حال، انسانوں کے نان و نفقہ سے لے کرشخصی آزادی تک، خاصی تسلی بخش ہے۔
دیکھا جائے تو اسلام نے دوسرے معاشروں سے بہت پہلے شخصی آزادی اور حقوق کا نعرہ بلند کیاتھالیکن آج مسلم دنیا بالخصوص پاکستان میں اس نعرے کو مغرب کی سازش سمجھا جاتا ہے۔ اور انسانیت کی تکریم کی بات کرنے والوں کو لادین اور مغرب کے پروردہ کہا جاتا ہے حالانکہ اسلام مساوات اور رواداری کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ چنانچہ انسانی حقوق کے نعرے کو مغربی رنگ دینے میں ان استحصالی قوتوں کی بدنیتی اور کاوشیں کارفرما ہیں جو پسے ہوئے طبقوں کو جینے کا حق دینے پر کسی طور بھی تیار نہیں۔اور کیوں نہ ہوں عوام الناس کی محرومی اور کمزوری ہی ان کی طاقت اور اقتدار کا راز ہے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی معمول کی بات ہے اور اب تو معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ انسانیت سوزواقعات پر حکومتی ایوانوں اور عوام میں اضطراب کی لہر بھی پیدا نہیں ہوتی۔پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سال 2010ءانسانی حقوق کے حوالے سے نہایت مایوس کن رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر تا نومبر صرف تین ماہ کے دوران 1136خودکشی کے واقعات ہوئے جن میں 578 لوگوں نے جان کی بازی ہاری جبکہ 558کو بروقت امداد سے بچا لیا گیا۔ خود کشی کی یہ شرح دنیا کے پس ماندہ ترین ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ اوسطاً دس لوگوں نے روزانہ خودکشی کی کوشش کی جن میں سے پانچ کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اسی طرح ڈیرہ غازی خان کے علاقے مرہٹہ میں دو بچیوں کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے ماموں اور باپ کے ساتھ جیل سے رہائی پا کر آرہی تھیں ۔ اس واقعہ کے پیچھے کی کہانی نہایت المناک اور جان سوز ہے، کچھ عرصہ قبل یہ دونوں لڑکیاں زبردستی کی شادی طے ہونے کی وجہ سے گھر سے بھاگ گئی تھیں۔
ہمارے معاشرہ میں خودکشی، غیرت کے نام پر قتل، خاندانی دشمنیاں ، زنا باالجبر ، جنسی طور پر ہراساں کرنا، جبری مشقت، مذہبی تنگ نظری اور دوسرے مذاہب سے عدم رواداری وہ تمام پہلو ہیں جن کی وجہ سے زندگی د ن بدن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سال 2010ءانسانی حقوق کے حوالے سے نہایت مایوس کن رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر تا نومبر صرف تین ماہ کے دوران 1136خودکشی کے واقعات ہوئے جن میں 578 لوگوں نے جان کی بازی ہاری جبکہ 558کو بروقت امداد سے بچا لیا گیا۔ خود کشی کی یہ شرح دنیا کے پس ماندہ ترین ممالک سے بھی زیادہ ہے۔

اگست 2010ءمیں وزرات برائے انسانی حقوق کے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعدادو شمار کے مطابق صرف آٹھ ماہ کے عرصہ کے د وران کل گیارہ ہزار ایسے کیس رپورٹ ہوئے جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی اور ان میں 8000کیسز بغیر کسی تفتیش اور انجام کے پولیس کی طرف سے یا دوسرے اداروں کی طرف سے ختم کر دئیے گئے۔ اسی طرح انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے پیش کردہ اعدادو شمار اس سے بھی زیادہ ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر تا نومبر 2010تین ماہ کے دوران کاروکاری کے الزامات لگا کر 64مرد و خواتین کو موت کے گھاٹ اتار گیا ان میں اکثریت خواتین کی تھی۔ ان واقعات میں سے بھی زیادہ ترکی تو رپورٹ بھی درج نہیں ہوئی اور جن کی ہوئی تھی وہ بھی سرد خانے کی نذرہو گئےکیونکہ پاکستان میں غیرت کے نام پر کبھی بھی بہن بھائی ، ماں یا باپ کو قتل کرنے والے کو سزا نہیں ملی۔
اس سلسلے میں حکومتی عدم توجہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 4اگست2010ءمیں گھریلو تشدد سے بچاﺅ اور حفاظت کا ایک بل پارلیمنٹ میں منظور ہوا مگر سینٹ سے منظوری حاصل نہ کر سکا اس کے لئے حکومت نے نہ تو کوئی کمیٹی بنائی اور نہ ہی کوئی اورتگ و دو کی حالانکہ یہ بل خالصتاً عوامی مفاد کا بل تھا چنانچہ یہ بل اپنی موت آپ ہی مر گیا۔ تاہم ایک دوسری سطح پر حکو مت کی تمام تر کوششوں کو مذہب کے نام پر سیا ست کر نے والی جما عتیں ناکام بنانے کے در پے رہتیں ہیں۔ Women Protection Billاس کی ایک مثال ہے۔
2ماہ قبل میر پور خاص کے علاقے میر واہ گور چانی میں ہندوﺅں کی میگھواڑ برادری کی ایک کالونی پر حملہ کرکے کئی لوگوں کو زخمی کر دیا گیا۔ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک ایسے نوجوان کو پنا ہ دی ہے جس نے شہر کی دیواروں پر نبی کریم اور مسلمانوں کے بارے میں غلط ریمارکس لکھے ۔ اس طرح اس کالونی پر حملہ کرکے کئی لوگوں کو زخمی کیا گیا اور گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ راجپوت برادری اس کالونی سے گزرنے کا راستہ مانگ رہی تھی جو کہ اقلیتی ہندوﺅں نے دینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے یہ ناموس رسالت کی توہین کا ڈرامہ رچا کر اقلیتوں کو سبق سکھانے کا حیلہ بنایا گیا ۔ پاکستان میں ضیاءالحق کے دور حکومت سے لےکر آج تک اقلیتوں سے عدم برداشت کا جو رویہ روا رکھا گیا ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بہت زیادہ شکوک و شبہات کا اظہار کرتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گوجرہ میں مسیحیوں پر ہونے والے ظلم اوردوسرے ایسے واقعات کی روشنی میں اور حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ ”حکومت پاکستان اقلیتوں اور مذہبی اکائیوں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔“

آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد ہوں یا سیلاب زدگان، ایجنسیوں کے لاپتہ کئے گئے افراد ہوں یا کراچی اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ ،بچوں ، مزدوروں، عورتوں اور کسانوں کے حقوق کی خلاف ورزی سے لےکر اقلیتوں کے عدم تحفظ تک کے تمام معاملات میں ہماری حکومت نے حد درجہ بے اعتنائی اور عدم توجہ کا رویہ روا رکھا ہوا ہے۔

اقلیتوں کو تحفظ اور انسانی حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نامور مورخ ڈاکٹر مبارک علی نے بنگلہ دیش سے موازنہ کرتے ہوئے کہا، ”بنگلہ دیش نے گذشتہ چالیس سال میں انسانی حقوق کے حوالے سے بھی اور مجموعی طور پر بھی اپنے کلچر میں رواداری اور باہمی سمجھوتے کی فضا پید اکرتے ہوئے ہم سے بازی لے گیا ہے جبکہ ہم نے عدم برداشت اور مذہبی جنونیت کے ہاتھوں خود کو مزید گہرائی میں دھکیل دیا ہے۔“ ڈاکٹر مبارک علی پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے آمر ضیاءالحق کے دور کو بدترین قرار دیتے ہیں کہ اس دور کے بنائے ہوئے قوانین اور اقدامات آج بھی جنونیت اور شرپرستی کو ہوا دیتے ہیں۔
جنوبی پاکستان میں سندھ کے علاقے میں ایک ہندو اقلیتی تنظیم کے مطابق قریبا 20لاکھ ہندو جبری مشقت کےلئے غلاموں کے طور پر رکھے گئے ہیں اور ان میں غالب اکثریت نچلی ذات کے ہندوﺅں کی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بننے والے متعصب قوانین نے بھی عدم برداشت، جنسی عدم توازن اور اقلیتوں کے لیے مشکلات کو جنم دیا ہے ان متعصب قوانین میں حدود آرڈیننس ، قانون شہادت 1984، اور قصاص اور دیت کا 1991کا آرڈیننس قابل ذکر ہیں۔
انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیموں کے نزدیک ترقی یافتہ دنیا 2014ءتک پوری دنیا سے چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے جب کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب پاکستان میں چائلد لیبر کی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔اس وقت پاکستان میں لگ بھگ دو کروڑ سے زیادہ بچے رسمی اور غیر رسمی شعبوں میں معاشی سرگرمیوں میں متحرک ہیں۔
خفیہ ایجنسیا ں پاکستان میں آئے دن لوگوں کو اغوا کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتی ہیں ،اغوا شدگان کا کسی بھی عدالت یا کچہری میں مقدمہ چلائے بغیر اکثریت کو گمشدگی کے دوران ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار حکومت کو باقاعدہ خط لکھ کر کیا اور سپریم کورٹ آف پاکسان کے گمشدہ افراد کے بارے میں از خود نوٹس لینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ گذشتہ ششماہی میں سو کے قریب لوگ لاپتہ ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سےاسی کارکنان کی ہے ۔یہ صورتِ حال جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بد ترین مثال ہے وہیں بلوچستان میں بدامنی کا موجب بھی بن رہی ہے۔
اس کے علاوہ مزدوروں، کسانوں، اور ہاریوں کے حقوق کے حوالے سے بھی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ حکومت نے کم از کم اجرت کا اعلان تو کر دیا ہے مگر اس پر عمل در آمد کی صورتحال کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود حکومت کا شروع کر دہ قومی سطح کا صحت پروگرام جس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کام کرتی ہیں ان کو کم از کم اجرت کے نصف سے بھی کم یعنی صرف پچیس سو سے تین ہزار ماہانہ ادا کئے جا رہے ہیں۔
سوات آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد ہوں یا سیلاب زدگان، ایجنسیوں کے لاپتہ کئے گئے افراد ہوں یا کراچی اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ ،بچوں ، مزدوروں، عورتوں اور کسانوں کے حقوق کی خلاف ورزی سے لےکر اقلیتوں کے عدم تحفظ تک کے تمام معاملات میں ہماری حکومت نے حد درجہ بے اعتنائی اور عدم توجہ کا رویہ روا رکھا ہوا ہے۔
اس حکومتی بے حسی اور بے اعتنائی کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر زاہدہ حنا کہتی ہیں ”پاکستان نے جتنی نیک نیتی سے بین الاقوامی میثاق برائے سول و سیاسی حقوق پر دستخظ کئے ہیں اس کا اندازہ ان تحفظات سے لگایا جا سکتا ہے جو حکومت نے شامل کئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ پاکستان آرٹیکلز 2،7،18 اور 19پر صرف اس حد تک عمل کرے گا جہاں تک وہ ملکی قوانین اور شرعی قوانین سے متصادم نہیں ہوگا۔ آرٹیکل 6کی ذیلی شق کہتی ہے کہ زندہ رہنا اور زندگی کی حفاظت حاصل ہونا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پاکستانی حکومت شاید زندہ رہنا بھی آئین سے متصادم سمجھتی ہے۔ اور جب پاکستانی حکومت آرٹیکل 6اور7 پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے تو وہ دراصل یہ اعتراف کرتی ہے کہ اس کی سرحدوں کے اندر غیر انسانی جرائم کا ارتکاب اس کی مرضی سے ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔“