Categories
نقطۂ نظر

شامی خانہ جنگی: پسِ منظر سے پیش منظر تک- دوسری قسط

اس سلسلے کے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
دوسری قسط

 

شامی بحران میں شامی بعث پارٹی، علوی برادری اور اسد حکومت کا عمل دخل

 

بعث پارٹی شام کے ایک عیسائی دانشور مشیل عفلق نے 7 اپریل 1947ء کو قائم کی تھی۔ بعث پارٹی ‘مصنوعی سرحدوں’ میں منتشر عربوں کو قومیت، اشتراکیت اور سیکولرازم کی بنیاد پر یکجا کرنے اور منقسم عرب خطوں کی جغرافیائی وحدت کو عربوں کے لیے راہِ نجات قرار دیتی ہے۔ بعث پارٹی کو عراق اور شام میں فوجی انقلابات کے ذریعے اقتدار تو مل گیا لیکن عراق اور شام کی مقتدر بعث پارٹیاں بہت جلد قیادت کے حصول کی لڑائی میں پڑ گئیں اور یوں بعث ازم کے تحت عراق اور شام کے باہم الحاق سے ایک قوم پرست اشتراکیت پسند عرب جمہوریت کے قیام کی دو طرفہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

 

مشیل ایفلق
مشیل ایفلق
شام میں بعث پارٹی اور اسد حکومت کا پسِ منظر

 

حافظ الاسد نے اپنے تیس سالہ دور میں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی ایمرجنسی کو اُٹھانے کی بجائے حسبِ سابق من وعن شامیوں پر مسلط کیے رکھا۔
17 اپریل 1946ء کو فرانسیسی استعمار سے آزادی کے بعد سے مارچ 1971ء تک شام داخلی اور خارجی عوامل کی بنا پر پچیس برس تک سیاسی عدم استحکام اور معاشی انحطاط کا شکار رہا۔ اسرائیل سے تین جنگوں میں شکست، فلسطینی مہاجرین کی آمد، نااہل سیاسی قیادت، مصر سے الحاق اور علیحدگی، فوجی انقلابات اور قیادت کا فقدان اس سیاسی اور معاشی بحران کی وجہ بنے۔ اُسی زمانے میں مشرقی وسطیٰ اور گردونواح میں اشتراکیت پسندوں کا اثرورسوخ بھی بڑھ رہا تھا۔ ہمسایہ ممالک کے حالات سے شہہ ملنے پر شام کی مسلح افواج میں بعث پارٹی سے وابستہ عناصر نے 8 مارچ 1963ء کو فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بعدازاں شام کے موجودہ صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد نے ’بعث پارٹی شام‘ کے اپنے حامی رہنماؤں اور شام کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے علوی عہدیداران کی ملی بھگت سے 1970ء میں شام کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

 

شام پر اسد خاندان کی حکومت بھی مشرقِ وسطیٰ میں دیگر بادشاہی اور خودرانی عرب حکومتوں کی طرح مطلق العنانیت، استبدادیت اور جبر کے بل پر قائم ہے۔ اس نظامِ حکومت میں بھی عوام کو ایمرجنسی، جاسوسی، خفیہ پولیس، سخت قوانین، ہولناک سزاؤں اور عقوبت خانوں کے خوف سے مطیع بنائے رکھا گیا ہے۔ حافظ الاسد نے اپنے تیس سالہ دور میں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی ایمرجنسی کو اُٹھانے کی بجائے حسبِ سابق من وعن شامیوں پر مسلط کیے رکھا۔ جس کی وجہ سے شامی قانوناً بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حق سے محروم رہے۔ جس طرح مصر میں حسنی مبارک مذہبی عسکریت پسندوں کی جانب سے ملکی قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایمرجنسی کے بلاتعطل نفاذ کو ضروری قرار دیتے تھے، بالکل اسی طرح حافظ الاسد بھی شام میں ہنگامی حالت کے مسلسل نفاذ کے حق میں ایسی ہی پالیسی رکھتے تھے۔ اس حوالے سے اسد حکومت کے موقف کو تب وزن ملتا ہے جب شام میں بشارالاسد کی جانب سے 48 سالہ طویل ایمرجنسی اُٹھانے کے نتیجے میں اخوان المسلمین سمیت عسکریت پسند گروہوں کی زیرزمین سرگرمیاں سر اُٹھانے لگیں۔ یہ سرگرمیاں بالآخر موجودہ خانہ جنگی پر منتج ہوئیں۔ اگرچہ شام میں اسد حکومت نے اپنے شہریوں کو ضمیر کے مطابق مذہبی وظائف سرانجام دینے کی آزادی دیے رکھی ہے مگر حکومت کی جانب سے کسی شہری کا غیرمعمولی طور پر مذہبی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شک کی نظر سے دیکھاجاتا ہے چاہے وہ شہری شیعہ ہو یا سنی کیونکہ حکومت انتہاپسندی کو سماجی استحکام کے لیے تباہ کن گردانتی ہے۔

 

حافظ الاسد کی مقبولیت کیوں کم ہوئی؟

 

حافظ الاسد کے عہد میں شام کی حکومت، بعث پارٹی، سول بیوروکریسی اور مسلح افواج کے کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں کے محرکات مذہبی نہیں بلکہ ذاتی تھے۔
گو ابتداء میں حافظ الاسد کے انقلاب کو شامیوں کی جانب سے خوش آمدید کہا گیا لیکن 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد عوام میں حافظ الاسد کی حکومت کی مقبولیت کم ہوئی۔ جنگ کے دوران اسرائیل سے گولان کی پہاڑیوں کا قبضہ چھڑانے میں ناکامی سے عوام کی نظروں میں حافظ الاسد کی حکومت کا وقار کم ہوا۔ ملکی معیشت میں مندی پر’ملک اسرائیل کے خلاف حالت جنگ میں ہے‘ کا عذر پیش کیا گیا جس نے شامی عوام کو حافظ الاسد سے بہت جلد مایوس کر دیا اوریوں شام کی عوام میں حافظ الاسد کی مقبولیت کم ہوتی چلی گئی۔ اگرچہ مجموعی طور پر حافظ الاسد حکومت کی وجہ سے شام میں معاشی استحکام دیکھنے کو ملا اور عوام کے معیارِ زندگی میں نسبتاً بہتری بھی آئی لیکن اس ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک نہیں پہنچے۔ حافظ الاسد کے دور میں مادی ترقی اور خوشحالی کے اعتبار سے پسماندہ علوی برادری نے باقی قومیتوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ترقی کی۔

 

گولان پہاڑیاں اسرائیل اور شام کے مابین تنازعے کی وجہ ہیں
گولان پہاڑیاں اسرائیل اور شام کے مابین تنازعے کی وجہ ہیں
حافظ الاسد کی علویوں سے پر نوازشات سے متعلق اکثر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حافظ الاسد کے عہد میں شام کی حکومت، بعث پارٹی، سول بیوروکریسی اور مسلح افواج کے کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں کے محرکات مذہبی نہیں بلکہ ذاتی تھے۔ چونکہ حافظ الاسد کا اقتدار محلاتی سازشوں کا نتیجہ تھا اِسی وجہ سے ان کے اقتدار کو جوابی محلاتی سازش کا کسی بھی وقت سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ جیسا کہ حافظ الاسد کو اپنے بھائی رفعت الاسد کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی محلاتی سازشوں کا بھی سامنا ہوا۔ لہٰذا اِن خطرات کا سدباب کرنے کے لیے انہوں نے کلیدی عہدوں پر اپنے آبائی علاقے اور خاندان سے تعلق رکھنے والے قابلِ اعتبار اور وفادار امیدواروں کو مقرر کیا۔ بالکل اِسی طرح جیسے عراق میں صدر صدام حسین نے بیشتر کلیدی عہدوں پر اپنے آبائی علاقے تکریت سے تعلق رکھنے والے بااعتماد اور وفادار افراد کا تقرر کیا تھا۔ حافظ الاسد کا خاندان اپنی نجی زندگی میں انتہائی لبرل ہے اور بعثی رجحانات کی وجہ سے وہ مذہب کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ حافظ الاسد کی بہو اور بشارالاسد کی اہلیہ اسماء اسد کا تعلق سُنی فیملی سے ہے۔ جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ علویوں کے کلیدی عہدوں پر تقرر کے پیچھے حافظ الاسد کے مسلکی محرکات نہیں بلکہ ذاتی مفادات تھے۔ لیکن کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں سے عوام میں حافظ الاسد حکومت کا امیج بعث پارٹی کی حکومت کی بجائے علوی حکومت کا بن گیا اور یوں شامی بعث پارٹی کا سیکولر تشخص علوی چھاپ کی نذر ہو گیا۔

 

اکثریت پر قلیت کی حکمرانی

 

اسد خاندان کے شام پر برسراقتدار آنے سے علوی بطورِ ایک برادری مقتدر سیاسی قوت اور سماجی اشرافیہ بن گئے جس کے نتیجے میں شام کی اکثریتی سنی المسلک اور کرد النسل عوام احساسِ محرومی کا شکار ہوگئے۔
علوی اور دروزی مسلمانوں کے ہی دو فرقے ہیں جو خود کو شیعہ مسلک کے ذیلی فرقے قرار دیتے ہیں۔ مگر تاریخ میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں علویوں اور دروزیوں کی تکفیر کرتے آئے ہیں۔ البتہ سیاسی مقاصد کے لیے اہل سنت میں پہلے مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی اور بعدازاں اہل تشیع میں سے ایرانی نژاد لبنانی عالم آیت اللہ موسیٰ الصدر نے انہیں مسلمان قرار دیا۔ ان علماء کا بنیادی مقصد خطے میں آبادی ی بنیاد پر یہودیوں اور میرونیائی عیسائیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ظاہر کرنا تھا۔ اسد خاندان کے شام پر برسراقتدار آنے سے علوی بطورِ ایک برادری مقتدر سیاسی قوت اور سماجی اشرافیہ بن گئے جس کے نتیجے میں شام کی اکثریتی سنی المسلک اور کرد النسل عوام احساسِ محرومی کا شکار ہوگئے۔ چونکہ اسد خاندان کا اقتدار اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی تھی اس لیے شام کی عوام نے اِسے اپنے استحصال کے زمرے میں لیا جو کہ غلط نہ تھا۔ لہٰذا جس طرح بلحاظِ آبادی شیعہ اکثریتی عراق میں یک جماعتی نظام حکومت کے تحت برسراقتدار جماعت عراقی بعث پارٹی پر سنیوں کا غلبہ اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی تھی بالکل اِسی طرح سنی اکثریتی شام میں یک جماعتی نظام کی حکمران جماعت شامی بعث پارٹی پر علویوں کا غلبہ بھی اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی ہے۔

 

شام میں علوی آبادی اقلیت میں ہے
شام میں علوی آبادی اقلیت میں ہے
علوی برادری اسد حکومت سے دور ہو رہی ہے

 

علوی شام کی کل آبادی کا 12 فیصد ہیں۔ حافظ الاسد نے اپنے اقتدار کی بقاء کے لیے علویوں کو کلیدی عہدوں پر متعین کیا تاکہ علویوں کو احسانات تلے دبا کر اپنا وفادار بنایا جا سکے۔ حافظ الاسد شعوری طور پر علویوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ شام میں انہیں جو شان وشوکت اور ٹھاٹھ باٹھ حاصل ہے وہ صرف حافظ الاسد حکومت کی وجہ سے ہے۔ صدام حسین کی طرح حافظ الاسد نے بھی اپنے اقتدار کی بقاء اور طوالت کے لیے اکثریت کو دبائے رکھا اور اقرباء پروری کے ذریعے علویوں کو اپنا وفادار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب موجودہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو حکومت نے نے ایران اور حزب اللہ سے مدد مانگنے سے پہلے علوی کمیونٹی کو امن لشکروں کے ذریعے حکومت کی حمایت میں باغیوں کے خلاف مزاحمت پر مجبور کیا۔ یوں بہت جلد علویوں کو احساس ہوگیا کہ شام کی خانہ جنگی علویوں کی بطورِ گروہ ذاتی جنگ نہیں بلکہ اسد خاندان کی جنگ ہے جس میں وہ مفت میں مارے جا رہے ہیں۔ لہٰذا علوی برادری نے خود کو بشارالاسد سے دور کر لیا ہے۔ علوی برادری نہیں چاہتی کہ وہ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کی صورت میں فاتحین کے انتقام کا نشانہ بنے۔ اس صورت حال سے اس نکتے کو تقویت ملتی ہے کہ شام میں جاری خآنہ جنگی فرقہ وارانہ نہیں بلکہ اقتدار کی سیاست کی مظہر ہے۔

 

(جاری ہے)

Image: www.panoramio.com

Categories
نان فکشن

شامی خانہ جنگی: پسِ منظر سے پیش منظر تک- پہلی قسط

اس سلسلے کے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

پہلی قسط

شام پر فرانسیسی استعمار کے مضر اثرات اور خانہ جنگی کی تاریخی جڑیں

 

جنگِ عظیم اول 11 نومبر 1918ء کو جرمنی اور اُس کے حلیف ممالک آسٹریا، ہنگری، بلغاریہ اور خلافتِ عثمانیہ پر مشتمل دھڑے کی شکست پر اپنے انجام کو پہنچی۔ برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں قائم فاتح اتحادی دھڑے کے رکن ممالک میں پہلے سے کیے گئے خفیہ معاہدے’سائیکوس پیکو‘ کے تحت مفتوحہ ممالک کی بطورِ مالِ غنیمت کی تقسیم شروع ہوئی۔ یہ معاہدہ 16 مئی 1916 میں ہوا تھا۔ اس تقسیم میں خلافت عثمانیہ کا علاقہ شام فرانس کے حصے میں آیا۔ تب کا شام موجودہ شام سے رقبے کے لحاظ سے کافی وسیع تھا، اس زمانے کے شام میں موجودہ لبنان، اردن، فلسطین، اسرائیل اور ترکی کا عرب آبادی والا صوبہ ’ہاتے‘ بھی شامل تھا۔

 

سلطنت شام 1918
سلطنت شام 1918
بالشویک روس کی انقلابی حکومت نے روسی آرکائیو ڈپارٹمنٹ سے زارروس کے عہد میں عوام سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات عام کیں۔
اسی دوران 23 نومبر1917ء کو روس میں لینن کی قیادت میں بالشویک انقلاب برپا ہوا۔ بالشویک روس کی انقلابی حکومت نے روسی آرکائیو ڈپارٹمنٹ سے زارروس کے عہد میں عوام سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات عام کیں۔ اِن محفوظ شدہ دستاویزات کے عام کیے جانے سے برطانوی سفارت کار مارک سائیکس اور فرانسیسی سفارت کار فرانسوا جارج پیکو کے مابین ہونے والا معاہدہ بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا۔ سائیکس پیکو معاہدے کے تحت روس کے حصے میں درہ دانیال اور باسفورس پر مشتمل آبناؤں کے ساتھ ساتھ استنبول، آرمینیا اور کردستان کے کئی علاقے آنے تھے۔ یہ علاقے گرم پانیوں والے سمندروں تک رسائی کا راستہ ہونے کی وجہ سے روس کے لیے تجارتی اور تذویراتی اعتبار سے انتہائی اہمیت اور افادیت کے حامل تھے۔ مگر لینن کے زیراقتدار بالشویک روس نے مفتوحہ ممالک کی اس استعماری تقسیم میں شمولیت کی بجائے سائیکوس پیکو معاہدے کی دستاویزات کو بے نقاب کیا اور استعماری گٹھ جوڑ کا حصہ بننے سے گریز کیا۔ سائیکس پیکو معاہدے کا تذکرہ آج بھی شام اور عراق کی صورت حال میں بار بار سامنے آتا ہے، حال ہی میں دولت اسلامیہ نے بھی اس معاہدے کا ذکر کیا۔

 

سائیکس پیکو معاہدے کے تحت فرانس اور برطانیہ کے مابین علاقوں کی تقسیم کا نقشہ
سائیکس پیکو معاہدے کے تحت فرانس اور برطانیہ کے مابین علاقوں کی تقسیم کا نقشہ
یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ صرف سائیکس پیکو معاہدہ ہی نہیں، بلکہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے مقامی عرب آبادی کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی بھی موجودہ صورت حال کی ذمہ دار ہے۔ برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف اتحادی افواج کا ساتھ دینے کے عوض شریف مکہ سے شام کی بادشاہت ان کے بیٹے کو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ لارنس آف عریبیہ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ شام پر فرانس کے استعماری قبضے سے قبل برطانیہ نے 8 مارچ 1920 ء کو اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے شریفِ مکہ حسین ابن علی ہاشمی کے بیٹے فیصل ابن حسین کو شام کی بادشاہت سونپ دی۔ مگر محض چار ماہ بعد ہی 24 جولائی 1920ء کو فرانس کے شام پر قبضے اور فیصل ابن حسین کی بے دخلی پر برطانیہ خاموش رہتا ہے کیونکہ خفیہ معاہدے سائیکس پیکو کے تحت شام فرانس کے حصہ میں آنا تھا۔ شام پر فرانس کا استعماری قبضہ 17 اپریل 1946ء کو شام سے آخری فرانسیسی قابض فوجی دستے کی واپسی تک جاری رہا۔ اپنی خودمختاری کی امید پر جنگ عظیم اول کے دوران خلافتِ عثمانیہ کے خلاف ’عرب بغاوت‘ کی مسلح تحریک چلانے والے شامی خلافتِ عثمانیہ کی تحلیل اور ترکوں سے علیحدگی کے بعد فرانسیسی استعمار کے زیرِنگیں آ گئے۔

 

اپنی خودمختاری کی امید پر جنگ عظیم اول کے دوران خلافتِ عثمانیہ کے خلاف ’عرب بغاوت‘ کی مسلح تحریک چلانے والے شامی خلافتِ عثمانیہ کی تحلیل اور ترکوں سے علیحدگی کے بعد فرانسیسی استعمار کے زیرِنگیں آ گئے۔
فرانسیسی استعمار نے شام پر اپنے چھبیس سالہ قبضے کے دوران شام کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھائے رکھا۔ اس دوران فرانس نے برطانیہ کے ساتھ مل کر بالفور ڈیکلیریشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ’فرانسیسی مینڈیٹ برائے شام و لبنان‘ منصوبے کے تحت تین ایسے اقدامات کیے جو آنے والے وقتوں میں شام کے لئے انتہائی مضر ثابت ہوئے۔
پہلا یہ کہ فرانس نے 1920ء میں اُردن، لبنان اور فلسطین کو شام سے جدا کر کے شام کو موجودہ رقبے تک محدود کر دیا۔ تاکہ آنے والے وقتوں میں فلسطین میں یہودی آبادکاری اور مجوزہ یہودی ریاست اسرائیل کے قیام کے لئے رقبہ میسر آ سکے، اور خطے میں طاقت کا توازن نومولود اسرائیل کے تذویراتی حق میں پہلے سے تراشا جا سکے۔ ساتھ میں ’شریفِ مکہ‘ حسین ابن علی ہاشمی کے بیٹے فیصل ابن حسین کو عراق اور عبداللہ بن حسین کو اردن کی امارتیں دے کر مطمئن کیا جا سکے۔

 

دوسرا یہ کہ برطانوی ہند میں تقسیمِ بنگال 1905ء کے ماڈل پر فرانس نے موجودہ رقبے پر محیط باقی کے شام کو عارضی طور پر مسلکی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کیے رکھا۔ یہ تقسیم 1920ء سے 1936ء تک مسلکی اور نسلی بنیادوں پر پانچ کالونیوں کی صورت میں قائم رہی اگرچہ فرانس کے بقول تقسیم انتظامی لحاظ سے تھی۔ مگر پسِ پردہ فرانسیسی قابضین کا مقصد شام کے مقامی باشندوں یعنی دروزیوں، علویوں اور سنیوں کے مابین فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا اور کردوں میں عربوں سے علیحدگی کے رجحان کو ابھارنا تھا۔ بالکل اِسی طرح جیسے بنگال کی انتظامی تقسیم کے پیچھے برطانیہ کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں میں تقسیم کو بڑھا کر اپنے تسلط کو طول دینا تھا۔
تیسرا یہ کہ فرانس نے برطانیہ کے ساتھ مل کر شام کے صوبہ لوأالاسکندرون (ہاتے) کو شام کی آزادی سے قبل 1936ء کو متنازع طور پر ترکی کی تحویل میں دے دیا۔ یہ اقدام شام کی آزادی کے بعد شام اور ترکی کے مابین تعلقات میں سردمہری کا باعث بنا۔

 

فرانسیسی مینڈیٹ برائے شام و لبنان
فرانسیسی مینڈیٹ برائے شام و لبنان
شام کو موجودہ نہج پر لانے میں فرانسیسی قبضے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعثی عنصر اور شام کی علوی برادری سے تعلق رکھنے والی اسد حکومت بھی اہم محرکات میں سے ہیں۔
فرانسیسی استعمار کے یہ اقدامات خارجی اور داخلی دونوں سطحوں پر شام کی موجودہ حالتِ زار اور خانہ جنگی کا سبب بنے ہیں۔ خارجی سطح پر شامیوں کے ترکی کے ساتھ اختلافات فرانسیسی استعمار کے قبضے کے دوران ہی سر اُٹھانے لگے تھے۔ جبکہ 1946ء میں آزادی کے بعد شام کی اسرائیل کے ساتھ کشیدگی 1948ء کی پہلی عرب اسرائیل جنگ سے شروع ہو گئی تھی۔ داخلی سطح پر شامیوں میں فرانسیسی استعمار کا اُبالا گیا فرقہ وارانہ منافرت اور نسل پرستانہ عصبیت کا لاوا بھی اپنے مضر اثرات کے ساتھ جلد ہی پھٹ پڑا۔ تاہم اِس کی شدت میں حقیقی اضافہ 1960ء کی دہائی میں فوجی انقلاب کی صورت میں عرب سوشلسٹ بعث پارٹی کے شام کے اقتدار پر قبضے سے ہوا۔ شام کی داخلی صورت حال دسمبر2010ء میں بہارِ عرب اور 2011 سے جاری خانہ جنگی کی صورت میں اپنی سنگین ترین شکل کو پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ حالیہ خانہ جنگی میں کلیدی کردار بیرونی طاقتیں ادا کر رہی ہیں۔ تاہم شام کو موجودہ نہج پر لانے میں فرانسیسی قبضے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعثی عنصر اور شام کی علوی برادری سے تعلق رکھنے والی اسد حکومت بھی اہم محرکات میں سے ہیں۔

 

(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

عراق، شام، تیل اور داعش

فرانس کے تاریخی شہر اور دارالحکومت پیرس میں خوفناک حملوں سے یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح ہوگئی ہے کہ عراق وشام میں سرگرم دہشت گرد اب یورپ کے محفوظ ممالک تک رسائی رکھتے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم دنیا کی سب سے امیر اور خوفناک دہشت گرد اسلامی تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) نے قبول کی تھی۔ داعش کے حوالے سے خوف اور خبریں تو بہت ہیں لیکن اس گروہ کے پس منظر اور تشکیل سے متعلق بے حد ابہام ہے۔

 

2003ء میں امن، جمہوریت اور انسانی آزادیوں کے ‘علمبردار’ امریکہ نے اپنے یورپی حواریوں کے ہمراہ عراق پر حملہ کیا۔ حملے کی وجہ وہ ناقابل بھروسہ انٹیلی جنس معلومات تھیں جن کے مطابق عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا اورصدام حکومت کے القاعدہ سے مراسم کا ‘انکشاف’ کیا گیا۔ حملہ آوروں کے خیال میں عراق کے پاس موجود ہتھیار اور القاعدہ سے اس کے روابط سے دنیا بھر کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ جب ان ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہ ملا توپھر یہ شوشہ چھوڑ اگیا، کہ گزشتہ تین دہائیوں سے عراق صدام حسین کی آمریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا اور اب مہذب دنیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ عراقی عوام کو صدام کی آمریت سے نجات دلاکر جمہوری روایات سے روشناس کرائے۔ اُس وقت برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا سمیت نیٹو کے 48 ممالک امریکہ کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک تھے۔ اس حملے کے دوران ان ممالک نے عراق کے مستقبل کا فیصلہ عراقی عوام کی صوابدید پر چھوڑنے کی بجائے اسلحے اور طاقت سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔ عراق میں نافذ کیا جانے والا نیا جمہوری نظم سنی اقلیت کو مناسب نمائندگی اور حقوق دینے میں ناکام رہا۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے دنیا بھر کی جہادی تنظیموں نے عراق کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

 

عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔
عراق میں القاعدہ کا قیام:

 

داعش کی ابتداء اور ارتقاءکو سمجھنے کے لیے پہلے ان عوامل اور محرکات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے یہاں ایسے سخت گیر سنی گروہ کے لیے گنجائش پیدا ہوئی اور بغداد اس ‘کالی آندھی’ کی لپیٹ میں آگیا۔ عراق پر سن 2003ء میں امریکی حملے کے ایک سال بعد 2004ء میں القاعدہ نے وہاں پر اپنی شاخ قائم کی۔ عراق کے سماجی ڈھانچے میں بہت بڑے سیاسی و انتظامی خلاء کے ساتھ شیعہ سنی کشیدگی بھی موجود تھی۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی سنی آبادی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین میں القاعدہ کو پنپنے میں بڑی آسانی رہی۔ Vox.com پر 19 نومبر 2015ءکو ISIS, a history: how the world’s worst terrorist group came into beingکے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی ایس دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور دہشت گرد گروہ ہے جو سن 2003ءکو امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد وجود میں آیا۔ اس حملے نے عراقی سماج کے سارے مظاہر کو تہس نہس کر دیا جس سے عراق طوائف الملوکی اور انتشار کا شکار ہو گیا۔ بیرونی دنیا کے دہشت گرد عراق کی جانب مائل ہوئے۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ نے صدام حسین کی سیاسی جماعت اور سنی العقیدہ سول اور فوجی نظم کو ختم کیا اور شیعہ اکثریت کے تعاون سے نئی حکومت کھڑی کی۔ جب عراق میں القاعدہ نے اپنی شاخ قائم کی تو وہ صدام دور کے فوجی اہلکاروں اور فسران کے لیے مزاحمت اور روزگار کا ایک موقع ثابت ہوئی۔ 2004ء ہی میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اورمشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔ مسلکی بنیادوں پر اس قتل و غارت کا بنیادی مقصد شیعہ سنی تفریق کو بڑھا کر خانہ جنگی کو ہوادینا تھا، اسی تکفیری طرز پر داعش بھی اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر ہی ہے۔ عراق اور افغانستان میں القاعدہ کے کمزور ہونے اور بیشتر قیادت کے مارے جانے کے باعث عملاً القاعدہ کی دہشت گردانہ سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں جس کے بعد عراق میں القاعدہ کی شاخ نے شام اور عراق کی خانہ جنگی اور شیعہ سنی تفریق کا فائدہ اٹھا کر سخت گیر اور بنیاد پرست اسلامی تکفیری فکر کی بنیاد پر اپنی تنظیم سازی شروع کی۔

 

نوری المالکی حکومت اور داعش:

 

عراق پر قبضے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے عراق میں جمہوری نظام رائج کرنے کے حوالے سے انتخابات منعقد کیے۔ ان انتخابات میں شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نوری المالکی کو کامیابی ملی۔ عراق کی کل آبادی کا 60 فیصد شیعہ، 22 فیصد صدام حسین کے حامی عرب سنی اور 18 فیصد صدام مخالف کرد سنی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں مسلکی بنیادوں پر شیعہ حکومت قائم ہوئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق نوری المالکی نے اعتدال پسند سیکولر سیاسی و آئینی نظام کے قیام اور سنی اقلیت کو اقتدار میں جائز نمائندگی فراہم کرنے کی بجائے مسلکی تعصبات پر مبنی حکمرانی کی۔ اور یوں وہ سنی اقلیت جو برسوں سے عراق پر حکمران رہی تھی سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی۔ نوری المالکی کی حکومت کے امتیازی سلوک سے سنی اقلیت خود کو غیر محفوظ سمجھنے کے علاوہ شدت پسند گروہوں میں اپنی بقاء تلاش کرنے لگی۔

 

دو ہزار چودہ میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اور مشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔
عراق اور شام کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بہت حد تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عراق میں مداخلت اور ناہلی پر عائد ہوتی ہے۔ تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔ زید ال علی فارن پالیسی میں How Maliki Ruined Iraqکے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں وضاحت کرتے ہیں: ”بالآخر 2010ء میں عراق سیکیورٹی کے لحاظ سے نسبتاً بہتر پوزیشن میں آگیا اور ملک کے مختلف مذہبی و نسلی گروہوں کے درمیان مثبت تعلقات استوار ہوگئے۔ لیکن یہ تبدیلی دیر پا ثابت نہ ہوئی۔ کیونکہ نوری المالکی نے سیاسی و انتظامی شعبوں سے اپنے مخالفین کو بے دخل کر دیا، فوج میں من پسند افراد کا تقرر کیا جبکہ پر امن احتجاجیوں کو کچل ڈالا۔ یہی وہ وجوہ تھیں جنہوں نے داعش کو پھلنے پھولنے میں مدد دی“۔

 

داعش کا ارتقاء:

 

آن لائن مجلہ Crethiplethi.com 2009ء سے مشرقی وسطیٰ، اسرائیل، عرب دنیا اور جنوب مغربی ایشیاء وغیرہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس جریدے نے 20نومبر 2015ء کو The Historical Roots and Stages in the Development of ISISکے موضوع سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس ساری صورتحال کو یوں بیان کیاگیا ہے۔

 

“عراق میں امریکیوں نے نوری المالکی کی قیادت والی شیعہ اور قوم پرست جمہوری طرزِ حکمرانی کی حمایت کی تاہم اس دور میں تاریخی لحاظ سے عراق پر (برسوں سے قابض) سنی آبادی کو حکومت سے باہر رکھا گیا کیونکہ وہ (عددی اعتبارسے ) اقلیت میں تھی۔ عراق میں القاعدہ کے قیام سے لے کر داعش تک کے مراحل کو اس رپورٹ میں چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے “عراق او ر شام میں القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کا قیام چار مرحلوں میں مکمل ہوا“۔

 

1: پہلا مرحلہ (2004-06) پہلے مرحلے میں عراق میں ابو مصعب الزرقاوی کی قیادت میں القاعدہ کی شاخ کا قیام عمل میں آیا جس نے امریکہ اور اتحادی فوجیوں اور شیعہ آبادی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی پہلا مرحلہ اس وقت اختتام پزیر ہوا جب (القاعدہ کے راہنما) ابومصعب الزرقاوی جون 2006ء کو امریکہ کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

 

تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔
2: دوسرا مرحلہ (2006-11) دوسرے مرحلے میں “امارت اسلامیہ العراقیہ” کا قیام عمل میں آیا۔ آئی ایس آئی دوسری دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتی رہی جس نے امریکہ، اس کے اتحادیوں اور اہل تشیع کے خلاف گوریلا حملے جاری رکھے۔ اس زمانے میں امریکہ کی موجودگی، ان کی عسکری کارروائیوں اور اس دور کی کامیاب خارجہ و داخلہ پالیسی جس میں تمام عراقی طبقات کو عراقی نظم میں شامل رکھا گیا کی وجہ سے آئی ایس آئی کمزور رہی۔

 

3: تیسرا مرحلہ (2012سے جون2014): اس دوران “امارت اسلامیہ العراقیہ” نے خود کو مستحکم کیا اور شام میں جاری خانہ جنگی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس دوران اس تنظیم نے اپنا نام تبدیل کر کے امارت اسلامیہ عراق و شام یاISIS رکھ لیا۔ سن 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد داعش مزید مضبوط ہوگئی۔ ٹھیک اسی دوران افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک میں “بہارِعرب” آمریت مخالف تحریکیں شروع ہوئیں۔ شام میں “بہارعرب” کے اثرات پہنچنے اور بشارالاسد حکومت کے خلاف تحریک کے انسداد کے لیے طاقت کے استعمال سے شامی ریاست میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے داعش کو وہاں اپنے پاوں جمانے کا موقع ملا اور وہاں النصرا فرنٹ کے نام سے اس تنظیم کی شاخ قائم کی گئی۔

 

4: چوتھا مرحلہ (جون 2014ءکے بعد ): داغش کی عسکری فتوحات اور ڈرامائی کامیابی: اسی مرحلے میں داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ جما لیا۔ جبکہ مشرقی شام کے مختلف حصے بھی داعش کے قبضے میں آگئے۔ جہاں حکومتی مرکز ‘الرقہ’ پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد داعش نے اسلامی امارات (IS)یا اسلامی خلافت کے باقاعدہ قیام کا اعلان کر دیا جس کی قیادت داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کر رہے ہیں۔ ستمبر 2014ء میں امریکہ نے داعش کے خلاف بھر پور مہم کا آغاز کیا“۔

 

ابوغریب جیل پر حملہ:

 

21جولائی 2013ء کو البغدادی نے ایک منصوبے کے تحت بغداد کے قریب واقع ابوغُریب جیل پر حملہ کر دیا۔ اس جیل میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب خطرناک دہشت گرد موجود تھے۔ حملے میں صرف 50 داعش اہلکاروں نے حصہ لیا اور 500 دہشت گردوں کو رہا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔ حملے کے وقت جیل کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکار ذرا برابر بھی مزاحمت نہ کر سکے اور بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے داعش جنگجووں نے جیل توڑ ڈالی۔ بی بی سی نیوز میں 2 اگست 2014ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگرچہ داعش اور القاعدہ کے درمیان زیادہ ہم آہنگی موجود نہیں لیکن عراق اور شام کی حد تک دونوں مل چکے ہیں۔ اس گروہ میں شامل افراد کی کل تعداد کا صیحح اندازہ تو نہیں البتہ ہزاروں افراد اس گروہ سے منسلک ہیں۔ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی میدان جنگ کے بہترین کمانڈر اور منصوبہ ساز ہے۔ ابوبکر البغدادی نے دنیا بھر میں موجود عالمگیر سنی خلافت کے حامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے میں بہت کامیاب رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگار داعش اور القاعدہ کا تقابلی جائزہ یوں کرتے ہیں کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ایک امیر کبیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اور امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل تھے یعنی القاعدہ کا سربراہ جدید تعلیم یافتہ جبکہ ان کے پیروکار جاہل قبائلی تھے۔ اس کے برعکس داعش کی قیادت ناخواندہ جبکہ اس گروپ کے جنگجو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی بی سی انگریزی سروس کی اس رپورٹ میں لندن کے کنگ کالج کے پروفیسر پیٹرنغمان کے حوالے سے لکھا گیا ہے ”البغدادی کے گروپ (داعش) میں 80 فیصد غیر ملکی جنگجو شامل ہو کر شام میں لڑ رہے ہیں، جن میں سے اکثریت فرانس، برطانیہ، جرمنی، یورپین ممالک، امریکہ اور عرب دنیا سے تعلق رکھتے ہیں“۔

 

شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔
بشار الاسد کی گمراہ کن پالیسیاں:

 

Vox.com کی مذکورہ بالا رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ سن 2011ء میں جب شام بہارِ عرب سے متاثر ہونے لگا اور عوام سڑکوں پر نکل کر بشارالاسد کی آمریت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے تو اسی وقت بشارالاسد حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے اس عوامی تحریک کا رخ مذہبی شدت پسندی کی جانب ہو گیا۔ اسد نے انتہائی خطرناک جواء کھیلا، یعنی ان کا یہ خیال تھا کہ اگر ان کے مخالف مذہبی شدت پسند ہوں گے تو یورپ اور امریکہ اس مذہبی تحریک سے خوفزدہ ہو کر ان (اسد) کا ساتھ دیں گے اور یوں شام کی جمہوریت نواز سیکولر تحریک بشارالاسد کی غلط اور گمراہ کن پالیسیوں کی بابت مذہبی شدت پسندی میں تبدیل ہوگئی۔ سعودی عرب، امریکہ اور یورپ نے بھی شام کے معاملے میں ایسی ہی غلطیاں کیں۔ داعش کی مالی سرپرستی کرنے والوں کے ہاتھ سے یہ تنظیم بہت جلد نکل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سن 2013ء میں شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے میں آ گیا جو کہ ہتھیار ڈالنے والا شام کا پہلا بڑا شہر تھا۔

 

داعش کے مالی وسائل :

 

مبصرین کے مطابق داعش دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم ہے جو مختلف طریقوں سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی دولت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔ مشرقی شام میں موجود تیل کے ذخائر پر بھی اس تنظیم کا قبضہ اس کے لیے مالی طور پر سودمند رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان کا خاندان داعش سے سستے داموں تیل خرید رہا ہے جس کی بنا پر ترکی بالخصوص ترک صدر داعش کے حوالے سے نرم گوشہ اختیارکیے ہوئے ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی کئی مرتبہ ترکی پر داعش کی مدد اور ان سے تیل خریدنے کے الزامات عائد کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے روس ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکا۔ اس کے علاوہ داعش نے عراق او رشام کے تاریخی مقامات کو لوٹ کر وہاں موجود نواردات بھی بیچے ہیں۔ پروفیسر نغمان کا خیال ہے کہ “موصل پر قبضے سے قبل جون 2014ء میں داعش کے پاس 900 ملین ڈالر کی نقد رقم موجود تھی موصل پر قبضے کے بعد ان کے اثاثوں کی مقدار 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ موصل پر قبضے کے بعد وہاں کے مرکزی بنک کی شاخ کو لوٹا گیا تھا جبکہ شمالی عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضے کے بعدان کے اثاثوں میں مزید کئی گنا اضافہ ہوا“۔

 

دہشت گردی اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور القاعدہ کے بعد داعش اب ایک نیا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ یورپ، امریکہ اور مسلم ممالک وک سمجھنا ہو گا کہ یہ صرف بنیاد پرست تکفیری اسلام اور خلافت کے قیام کا خواب ہی نہیں جو ایسی تنظیموں کی وجہ ہے بلکہ عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ اور سعودی عرب کی تباہ کن خارجہ پالیسی ہے جس کی وجہ سے آج مشرق وسطیٰ اس عفریت کا شکار ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا امریکہ، اس کے یورپی حواری، سعودی عرب اور ایران دہشت گردی کے ان وجوہ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟
Categories
نقطۂ نظر

روس کیا کر سکے گا؟

جو امریکہ نہیں کر سکا، روس کر سکے گا؟ BBC کے سفارتی و دفاعی امور کے مدیر مارک اربن(Mark Urban) نے یہ سوال ایک تحریر میں اُٹھایا ہے۔ اور اس سوال کے پیچھے چھپے خدشات ان کی تحریر سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ اربن اپنی تحریر میں، جو 29اکتوبر کو شائع ہوئی ایک جگہ یہ مانتے بھی ہیں کہ روس کی کارrوائیاں امریکی کاروائیوں سے کئی گنا بہتر اثر انداز ہو رہی ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ان کارروائیوں سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔ اس تحریر میں عجلت اور غیر ذمہ دارانہ پن دیکھا جا سکتا ہے۔ تحریر کا مقصد روس کی مخالفت کرنا تو ہے ہی لیکن ایک طرح سے یہ روس کی کارروائیوں سے شدت پسندوں کو پہنچنے والے نقصانات کا اثر کم کر کے پیش کرنے کی کوشش بھی ہے۔

 

افغان مجاہدین کی حمایت، عراق اور افغانستان میں مدخلت سمیت ہر موقع پر امریکی خارجہ حکمت عملی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلاء کو دہشت گرد تنظیموں نے پُر کیا ہے، شام میں امریکی یا روسی مداخلت مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کی وجہ ہے۔
شام حقیقی معنوں میں اس وقت عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس میں فائدہ امریکہ کا ہو گا یا روس کا لیکن اس بات میں ہرگز دو رائے نہیں کہ نقصان صرف اور صرف شام کا ہو رہا ہے۔ 14اکتوبر کو نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ پرایک نسبتاً غیر جانبدار رپورٹ شائع ہوئی، جو اگلے روز اخبار میں بھی شائع ہوئی۔ یہ رپورٹ سٹیو ن لی میئرز(Steven Lee Myers) اور ایرک شمٹ(Eric Schmidt) نے لکھی۔ اس رپورٹ میں ایک طرف یہ تاثر دیا گیا ہے کہ شام میں روس اپنے جمع کیے گیے اسلحے کو تجربانی بنیادوں پر استعمال کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا اقرار بھی کیا گیا ہے کہ روس شدت پسند عناصر کے خلاف جتنے حملے ایک دن میں کر رہا ہے اتنے امریکہ اور اس کے اتحادی ایک مہینے میں بھی نہیں کر پا رہے۔ اس کی وجوہ بھی واضح ہیں۔ امریکہ اور اتحادی بیشتر حملے خلیجی ممالک کے

 

تعاون سے کر رہے ہیں۔ جہاں سے پرواز کر کے لڑاکا جہاز زیادہ سے زیادہ دن میں دو سے تین حملے ہی کر سکتے ہیں ۔ جب کہ روس نے اپنی کارروائیوں کا مرکزشام میں ہی شمال مغرب کی طرف لتاکیا(Latakia) کے ہوائی اڈے کو بنایا ہوا ہے۔ لتاکیا شام کا ایک اہم ساحلی شہر اور پانچواں بڑا شہر بھی ہے۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے کارروائیاں اس لیے بھی موثر ثابت ہو رہی ہیں کیوں کہ زمینی افواج کی مدد بھی انہیں حاصل رہتی ہے۔ یہ زمینی افواج شام کی سرکاری افواج ہیں جنہیں بشار الاسد کی حامی افواج سمجھا جاتا ہے۔ 35 سے زائد روسی جنگی جہاز، ہیلی کاپٹر، اور دیگر اسلحے کے علاوہ روس کی تیاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس آپریشن میں روس کی طرف سے فوجیوں کے لیے ہنگامی طور پر فوری تیار ہونے والے گھر بھی شامل ہیں جو کم و بیش 2000 فوجیوں کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔ یہ تمام جنگی سازوسامان 1970 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے جب سوویت یونین نے مصر میں بھیجا تھا۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں اس حقیقت کو مانا گیا ہے کہ امریکی اتحادیوں کے مقابلے میں روس 30 ستمبر کے بعد سے ایک دن میں 90 حملے تک کر چکا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں شام کو روس کے لیے ایک تجربہ گاہ تو قرار دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی روسی کارروائیوں کی افادیت بھی ڈھکے چھپے لفظوں میں تسلیم کی گئی ہے جسے روس کی کامیابی تصور کیا جاسکتا ہے۔ اسی کامیابی کا اثر ہے کہ اب امریکہ نے بھی زمینی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔

 

اس لڑائی میں روس کے زیادہ مفادات اس لیے وابستہ ہیں کہ دہشت پسند عناصر براہ راست روس پہ اثر انداز ہو سکتے ہیں جب کہ امریکی سرزمین تک ان کا پہنچنا نہایت مشکل ہے اس لیے روس نہ صرف شام بلکہ اپنی سر زمین کا تحفظ بھی کر رہا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی ایک شامی مصنفہ مارام سسلی(Maram Susli)نے ایک آرٹیکل لکھا جو 20 اکتوبر کوNew Eastern Outlook نامی آن لائن میگزین پر شائع ہوا۔ یاد رہے کہ مارام شام میں غیر ملکی جارحیت کے خلاف لکھنے کی وجہ سے Syrian Girl کے نام سے مشہور ہے۔ مصنفہ نے لکھا کہ شام میں امریکی کارروائیاں دہشت پسند عناصر کا قلع قمع کرنے کے بجائے صرف چہرے تبدیل کرنے کے لیے ہیں۔ امریکی کارروائیوں کا مقصد شدت پسندوں کے خاتمے کی بجائے بشار الاسد کو ہٹانا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی کارروائیوں کا اہم مقصد اس خطے میں روسی اثر و رسوخ کم کرنا ہے۔ اسی لیے روس کی کارروائیوں پہ امریکہ سیخ پا ہے کیوں کہ اس خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر سے امریکی و اسرئیلی مفادات پہ کاری ضرب لگنے کا خدشہ ہے۔ امریکہ یہاں اسی انداز میں روس کا عمل دخل کم کرنا چاہتا ہے جیسے سربیا اور کوسووو میں کر چکا ہے۔ مارام کی رپورٹ میں DIA کے سابق چیف Micheal Flynn کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ امریکہ نے جان بوجھ کر داعش کو شام میں پھلنے پھولنے کا موقع دیا تاکہ اسے شامی حکومت کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ امریکی واویلا اس لیے بھی اہم ہے کہ روسی کارروائیوں کا نشانہ کم و بیش وہ 10000 باغی بھی بن رہے ہیں جو امریکی تربیت یافتہ بھی ہیں جن کا حوالہ اس رپورٹ میں موجود ہے۔ مزید لکھتی ہیں کہ اس لڑائی میں روس کے زیادہ مفادات اس لیے وابستہ ہیں کہ دہشت پسند عناصر براہ راست روس پہ اثر انداز ہو سکتے ہیں جب کہ امریکی سرزمین تک ان کا پہنچنا نہایت مشکل ہے اس لیے روس نہ صرف شام بلکہ اپنی سر زمین کا تحفظ بھی کر رہا ہے۔ ماضی میں جس (گمراہ کن) منطق کے تحت امریکہ افغانستان اور عراق پر اپنے ‘تحفظ’ کے لیے حملہ کر چکا ہے، اسی کے تحت روسی کرتا دھرتا بھی شام کا ساتھ دے رہے ہیں۔ امریکہ کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ شدت پسندوں کو شام و عراق تک محدود رکھا جائے تا کہ وہ امریکی سر زمین کا سوچ ہی نہ سکیں۔ لیکن روس اس لیے ان کامکمل قلع قمع کرنے میں ہی دلچسپی رکھتا ہے کیوں کہ وہ براہ راست اس کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ روس اپنی تمام کارروائیوں کی منظر کشی Russia Today نامی فورم پر کر رہا ہے جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میںRT کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب کہ امریکی کارروائیوں کے بارے میں شاذ و نادر ہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ امریکہ کی جانبداری پہ اس لیے بھی سوال اٹھ رہا ہے کیوں کہ امریکہ صرف بشار الاسد کو ہٹانے کے لیے ایسے عناصر کی بھی مدد کر رہا ہے جو شدت پسندی پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ Aleppo میں موجود ایرانی فوجی بھی نیٹو اتحادیوں کے لیے اور امریکہ کے لیے بھی درد سر بنے ہوئے ہیں۔

 

بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے بہت سے بہتر طریقے ہو سکتے ہیں۔ اگربشارالاسد کے طرز حکمرانی سے شامی عوام کی اکثریت تنگ ہے اور تبدیلی چاہتی ہے یا بشارالاسد کی حکومت کسی طرح عالمی امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے تو عالمی برادری کو شامی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اقتدار سے پر امن طریقے سے علیحدہ ہو جائے، حکومت کی تبدیلی کا حق شامی عوام کو دیا جانا چاہیئے۔ اس عمل کی نگرانی اقوام متحدہ کے ذریعے کی جانی چاہیئے۔ اس تنازعے کا خاتمہ پوری عالمی برادری کی زیر نگرانی منصفانہ انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ جن میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بشار الاسد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہ ہو سکے اور لوگوں کو فیصلہ کرنے کی آزادی ہو۔ شدت پسند عناصر یا باغیوں کو مسلح کرنا کسی بھی طرح اس مسئلے کا حل نہیں۔ افغان مجاہدین کی حمایت، عراق اور افغانستان میں مدخلت سمیت ہر موقع پر امریکی خارجہ حکمت عملی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلاء کو دہشت گرد تنظیموں نے پُر کیا ہے، شام میں امریکی یا روسی مداخلت مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کی وجہ ہے۔