Categories
نقطۂ نظر

امریکی خارجہ حکمت عملی کے سامراجی خدوخال

روس شام میں داعش کے خلاف محاذ کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی میڈیا پر روس کو لے کر دو طرح کی بحث دیکھنے کو ملتی ہے؛ ایک تو یہ کہ روس داعش سے زیاد ہ بشارالاسد کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے مخالف باغیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور چونکہ یہ باغی داعِش کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہیں سو اِنہیں کمزور کرنے سے داعِش مضبوط ہوسکتی ہے اور اِس سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ یوں اس طرح کے آپریشن سے لوگ زیادہ متنفر ہو سکتے ہیں اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ خد شہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے کئی سالوں سے جاری کارروائیوں کی نسبت روس کی جانِب سے کی گئی کاروائی نے داعش کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ماسکو آ نے والے دنوں میں بشارالاسد اور اس کے حامیوں کو شام میں ایک اچھی حکومت چلانے کے لیے کسی دوسرے گروہ یا شخص سے زیادہ منا سب سمجھتا ہے۔ مگر امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی اور رویہ ہمیشہ روس سے مختلف رہا ہے۔ وہ نہ تو اپنی سر زمین پہ جنگ چاہتا ہے اور نہ کبھی ہونے دیتا ہے۔ جب امریکہ کو کسی مضبوط ریاست سے کسی قسم کا خطرہ ہوتا ہے وہ اس کے کمزور ہمسائے کے ساتھ یا تو سفارتی تعلقات بناتا ہے یا پھر عسکری تعلقات استوار کرتا ہے۔ امریکہ ہمیشہ کسی خطے میں ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے سیاسی دوست چاہتے ہیں۔ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی معیشت چین کو مات دینے کے لیے امریکہ وہاں قدم جمانا چاہتا تھا مگر وسطی ایشیا پہ ایران کے ساتھ سیاسی اختلافات ہونے کی وجہ سے اس نے افغانستان میں اپنی پسند کی حکومتیں لانے کی کوشش کی تا کہ وسطی ایشیا میں کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وہاں فوج موجود ہو۔ امریکہ افغانِستان میں عین ویسی حکومت کا خواہاں ہے جیسی خظے میں موجود اس کے سیاسی حلیف پاکِستان اور بھارت چاہتے ہیں۔
امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔

 

امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔ عراق اور افغانستان کے بعد بظاہر امریکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں میں بھی براہِ راست عسکری مداخلت چاہتا تھا تا کہ افغانستان میں اپنے فوجیوں اور تنصیبات کو محفوظ بنا سکے مگر اس وقت کی پاکِستانی قیادت اس سے نا خوش تھی سو وہ براہِ راست مداخلت نہ کر سکا۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے دوران پاکستان کو اتحادی بنائے رکھنے کے بعد اب امریکہ نے ہندوستان کو خطے میں اپنے حلیف کے طور پر دیکھنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان نے امریکہ کی بجائے چین پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔ اوبامہ نے خود بھارت کا دورہ کیا اور کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔

 

دیگر سامراجی طاقتوں برطانیہ اور فرانس کی طرح امریکہ بھی مذہب کو اپنے لیے کار گر حربہ سمجھتا ہے۔ اَسّی کی دہائی میں روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر امریکہ نے افغانستان میں نجیب حکومت گرانے کے لیے یہاں مذہب کی بنیاد پر مزاحمت کی سرپرستی شروع کی۔ لوگوں کو مذہب کے نام پر انتہا پسند بنا کر پاکستان اور سعودی عرب کی مدد سے مجاہدین بنائے گئے تاکہ ایک تو خطے میں بڑھتے ہوئے روسی اثرورسوخ روکا جا سکے اور آنے والے دنوں میں یہاں پر اپنی موجودگی کے لیے کوئی جواز تراشا جا سکے۔
امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔

 

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ صورتِ حال پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ شام اور عراق میں امریکہ بالکل ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے حامی ترکی، اِسرائیل اور سعودی عرب چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے امریکہ حلیف بھی اب امریکی طرز پر اپنے مفادات کے حصول کے لیے عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی اور براہ راست مداخلت کی راہ اپنا چکے ہیں ۔ شام اور عراق میں امریکی و سعودی مداخلت کے باعث شیعہ، سنی تصادم میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔ ان تنظیموں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان اور عراق میں امریکی اور اتحادی افواج کی مداخلت سے دنیا میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکی حکمت عملی مختلف وجوہ کی بناء پر ناکام ہوئی ہے اور القاعدہ سے زیادہ خوفناک تنظیموں کی شکل میں نئے عفریت سامنے آئے ہیں۔
یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔

 

داعش کے خلاف امریکہ اور اتحادیوں کی کارروائیاں غیرموثر رہی ہیں کیوں کہ امریکی حکام شام اور عراق میں اپنے مفادات کے تحت مخصوص گروہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ امریکہ نے جو ہتھیار شامی باغیوں کے حوالے کیے تھے وہ بھی داعش کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ داعش کے خلاف سب سے موثر مزاحمت کردِش آرمی پیش مر گہ کی جانب سے کی جارہی ہے لیکن امریکہ کی جانب سے انہیں ہتھیار فراہم کرنے یا تربیت دینے کے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے اور اور نہ ہی امریکہ کے کسی سیاسی یا عسکری حلیف کی طرف سے انہیں کوئی کمک حاصل ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے کرد مزاحمت کار مضبوط ہوسکتے ہیں اور قوم پرست پیش مرگہ ترکی میں اردگان کے لیے سردرد بن سکتے ہیں۔ ترکی پیش مرگہ کو اس وقت بھی نشانہ بناتا ہے جب وہ کوبانی میں داعش کے خلاف جان کی بازی لگا کر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یوں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ترکی شمالی کردستان میں داعش کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے کرد علاقوں میں اپنی فوج استعمال کرسکے۔

 

شامی خانہ جنگی اور یمنی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کردار تخریبی رہا ہے۔ یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔ اس طرزعمل نے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کیا ہے اور مسلح عسکریت پسندی کو عام کیا ہے۔ اگر امریکہ واقعی مشرقِ وسطٰی میں داعش اور دیگر انتہا پسندوں کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے روس، عراق اور ایران کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ امریکہ کو ترکی اور سعودی عرب جیسے اپنے حلیفوں کے مفادات کو پسِ پشت رکھتے ہوئے عالمی اتفاق رائے کے قیام کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ امریکہ اور سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں نجی ملیشیاز اور جہادی گروہوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی روش ترک کر دیں نہیں تو آنے والے دِنوں میں پاکستان کی طرح اس کا خمیازہ ان ممالک کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

اونچی شلوار اور تاریخ کا ٹھنڈا گوشت

ابھی دفتر پہنچا ہی تھا کہ ظفر بھائی (ظفر معراج ) کا ایس ایم ایس آیا ۔لکھا تھا “جاوید چوہدری کا کالم پڑھو”۔ کالم پڑھا عنوان تھا “الٹی شلواریں ٹھنڈے گوشت “۔کالم پر بات کرنے سے پہلے اور اپنا تبصرہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے سے پہلے جاو ید چودھری کے ایک ٹی وی شو کو آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ ایکسپریس ٹیلی وژن پر اپنے پروگرام “کل تک “کا ایک پروگرام ہمارے ممدوح نے اس بات سے شروع کیا کہ ایک وقت تھا جب دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کو بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے انیس سو اکسٹھ میں صدر ایوب کے دورہ امریکہ کی ویڈیو فٹیج چلائی اور کہا کہ دیکھیں کس طرح امریکی صد رجان ایف کینڈی خود صدر ایوب کا استقبال کرنے ایر پورٹ پر آیا تھا ۔اس سارے تبصرے میں انہوں نے ایک بار بھی اس بات کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ اس وقت پاکستان سوویت یونین کے خلاف امریکہ کا اتحادی تھا اور امریکہ کو سرخ خطرے کے خلاف لڑنے کے اپنی خدمات کی بار بار یقین دہانی کروانے کے بعد اس مقام تک پہنچا تھا ۔بہار انیس سو اکسٹھ میں امریکی نائب صدر جانسن نے پاکستان کا دورہ کیا تو صد ر ایوب نے فوجی امداد لینے کے جانسن کو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پاکستان امریکہ کو سوویت یونین کے مقابلے میں ناکام ہوتا نہیں دیکھ سکتا اور امریکہ کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے ۔ یہاں زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہم اپنے اصل موضوع سے ہٹ جائیں گے ۔مزید تفصیل کے لیے حسین حقانی کی کتاب Magnificent Delusions دیکھی جا سکتی ہے ۔موصوف نے تاریخ کو نہ تو پڑھنے کی زحمت کی اور نہ ہی اسے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی کوشش یا شاید ریٹنگ کے چکر میں آپ نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ قوم اس سے گمراہ ہو گی ۔لیکن جس شخص کو آپ شرابی کہتے ہیں اس نے چچام سام کے نام اپنے چوتھے خط میں صدر ایوب کے دورہ امریکہ سے کوئی دس سال پہلے امریکی امداد اور اس کے مضمرات کا تجزیہ کر دیا تھا آپ بھی ملاحظہ کر لیں شاید کہ کچھ کام آ جائے
افسوس کہ جاوید چودھری صاحب کوئی فکر انگیز تبصرہ پیش کرنے کی بجائے تاریخ کی ایک من گھڑت تشریح کرنے میں جت گئے

 

” آپ پاکستان سے فوجی امداد کو معاہدہ ضرور کریں گےاس لیے آپ کو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے استحکام کی بہت زیادہ فکر ہے اور کیوں نہ ہو اس لیے کہ یہاں کا ملا روس کے کمیونزم کا بہترین جوڑ ہے فوجی امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا تو آپ سب سے پہلے ان ملاﺅںکو مسلح کیجئے گا ان کے لئے خالص امریکی ڈھیلے ، خالص امریکی تسبیحیں اور خالص امریکی جائے نمازیں روانہ کیجیئے گا استروں اور قینچییوں کو سرفہرست رکھیے گا ، خالص امریکی خضاب لاجواب کا نسخہ بھی اگر آپ نے ان کو مرحمت کردیا تو سمجھیے پو بارہ ہیں فوجی امداد کا مقصد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان ملاﺅں کو مسلح کرنا ہے”۔
افسوس کہ جاوید چودھری صاحب کوئی فکر انگیز تبصرہ پیش کرنے کی بجائے تاریخ کی ایک من گھڑت تشریح کرنے میں جت گئے۔ کچھ ایسا ہی انہوں نے فلم منٹو دیکھنے کے بعد منٹو کے ساتھ کیا۔اس کی ایک وجہ تو سمجھ آتی ہے کہ فلم سے کچھ ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ منٹو ایک شرابی آدمی تھا جس نے بیٹی کی دوائی پر اپنی شراب کو ترجیج دی ۔ فلم منٹو کو جس انداز میں پیش کرتی ہے اس سے جاوید چودھری جیسا شخص یہی نتیجہ نکال سکتا تھا کہ
“ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گی، سعادت حسن منٹو خود اپنی ذات کے ولن تھے، منٹو کو کسی دوسرے شخص نے نہیں مارا، منٹو کو خود منٹو نے قتل کیا، منٹو کی ذات میں چھپا شرابی، ضدی، بے حس اور فحش سعادت حسن دنیا کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا قاتل تھا، منٹو کو سماج، فسادات اور چوہدری محمد حسین جیسے محب وطن لوگوں نے پریشان نہیں کیا، اسے شراب اور ضد پی گئی اور یہ اردو کے اس عظیم ادیب کی کہانی کا وہ پہلو ہے جس سے ملک کے ہر اس دانشور، ادیب اور صحافی کو عبرت پکڑنی چاہیے جو اپنی سستی، کاہلی، ضد، بے حسی اور نشے کو ادب ثابت کرنے کی لت میں مبتلا ہے”۔
چودھری محمد حسین اور ان کے پشت پناہی کرنے والوں کے ذہن میں جس طرح کا پاکستان موجود تھا اور وہ جس طرح کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے اس کی عکاسی مولانا اختر علی کے اس بیان بخوبی ہوتی ہے کہ “نہیں نہیں اب ایسا ادب پاکستان میں نہیں چلے گا”۔

 

مجھے اس نتیجے سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہ نتیجہ اس منافقانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کی بنیاد ان لوگوں نے رکھی تھی جنہوں نے بانی پاکستانی کی گیارہ اگست کی تقریر کو نہ صرف سنسر کیا بلکہ طویل عرصے تک اس تقریر کو ایک شجر ممنوعہ بنائے رکھا ۔یہ اونچی شلواروں والی وہی ذہنیت تھی جس نے پاکستان کو ایک سخت گیر مذہبی ریاست بنانے کی سرتوڑ کوشش کی ۔جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ وہ(چودھری محمد حسین ) پنجاب کی پریس برانچ میں ملازم تھے، وہ منٹو کو فحش نگار سمجھتے تھے اور وہ ہر اس رسالے پر پابندی بھی لگا دیتے تھے جس میں منٹو کا افسانہ چھپتا تھا۔

 

بھائی چودھری صاحب محمد حسین صاحب خود سے فیصلہ کرنے والے کون ہوتے تھے کہ کیا فحش ہے اور کیا نہیں ۔ منٹو پر فحش نگاری کے الزامات اور پابندیاں عائد کرنے کی بجائے چودھری محمد حسین اور ان لوگوں کی ذہنیت کا تجزیہ ضروری ہے جو منٹو پر فحاشی کا الزام لگا کر ایک تنگ نظر معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے ۔چودھری محمد حسین اور ان کے پشت پناہی کرنے والوں کے ذہن میں جس طرح کا پاکستان موجود تھا اور وہ جس طرح کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے اس کی عکاسی مولانا اخترعلی کے اس بیان بخوبی ہوتی ہے کہ “نہیں نہیں اب ایسا ادب پاکستان میں نہیں چلے گا “۔یہ وہ بیانیہ تھا جس نے اسٹیبلشمنٹ کو بعد ازاں دانشوروں کے خلاف ایک جواز مہیا کر دیا کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکتا اور یہ پاکستان میں نہیں چل سکتا۔اس بیانیے نے پاکستانی معاشرے میں مذہب کے نام پر طاقت میں حصہ بٹورنے کے لیے ایک نئے طبقے کو آگے بڑھنے کو حوصلہ دیا جو اب گلیوں میں دندناتا پھر رہا ہے ۔آج بھی ہر وہ شخص جو مروجہ نظریات کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اسے یہی کہہ کر چپ کروایا جاتا ہے کہ ایسا پاکستان میں نہیں چل سکتا (دائیں بازو کے ایک اخبار کے مدیر محترم نے جو اب ایک نوجوان میزبان کے ساتھ ٹی وی پروگرام کرتے ہیں، ڈاکٹر مبارک علی کو ایک ٹاک شو میں کہا تھا کہ یہاں یہ نہیں چل سکتا آپ پھر ہندوستان چلے جائیں) ۔
منٹو کے خلاف مقدمات میں اگر عدلیہ اپنا وزن دائیں بازو میں نہ ڈالتی توآج سخت گیر مذہبی نظریات رکھنے والے قاتلوں اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلے سنانے میں اتنی مشکلات نہ پیش آتیں جتنی اب آ رہی ہیں ۔اور جج فیصلہ کرے بیوی بچوں سمیت ملک سے باہر نہ جاتے۔
اگر ہم نے منٹو ٹھیک وقت پر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے دیا ہوتا تو شاید ہم راولپنڈی کے انٹرنیٹ کیفے اور قصور جیسے سکینڈ لوں کا سامنا نہ کرتے اور خود سے منہ نہ چھپاتے پھرتے
جاوید چودھری صاحب نے چودھری محمد حسین کی جو خدمات گنوائیں ہیں وہ ساری اقبال اور ان کی اولاد کے گرد گھومتی ہیں ۔ ان خدمات کا پاکستانی معاشرے کی تشکیل اور اس کی ذہنی آبیاری سے کیا لینا دنیا۔ ہاں انہوں نے سرکاری ملازم ہونے کے ناطے جو کیا اس نے پاکستان معاشرے میں گھٹن کی فضا کو ضرور جنم دیا ۔اس گٹھن زدہ معاشرے میں جو Social Depressionپیدا ہورہا تھا اس سے فرار منٹو کے پاس شراب کی صورت میں تھا۔ وہ منافق نہیں تھااس نے اس گھٹن کو بے نقاب کیا نا کہ اس پہ تصوف کا لبادہ اوڑھانے ور اشاروں کنایوں میں بات کرنے کی کوکوشش کی ۔یہ وہی گھٹن کی فضا ہے جس میں آج اقبال کے خطبات” تشکیل جدیدالہیات اسلامیہ” کو شائع کرنا محال ہوچکا ہے ۔ اس گھٹی ہوئی فضا کا کرشمہ ہے کہ یاتو ہماری نوجوان نسل نظریاتی الجھنوں کا شکار ہو رہی ہے یاپھر مولویوں کے ہاتھوں “مس گائیڈڈ مزائل “بن کر پھٹ رہی ہے ۔
انہوں نے چودھری صاحب کے ایک خدمت یہ بھی گنوائی ہے کہ
“علامہ صاحب کا مقبرہ بھی چوہدری صاحب نے بنوایا تھا، مقبرے کے لیے ہندوستان، افغانستان اور ایران سے آرکی ٹیکٹ بلائے گئے تھے چوہدری صاحب انھیں فکر اقبال کی روشنی میں ڈیزائن تیار کرنے کی ہدایت دیتے تھے یہاں تک کہ موجودہ مقبرے کا ڈیزائن تیار ہوا، چوہدری صاحب نے خود دھوپ میں کھڑے ہو کر مقبرہ تیار کروایا”۔

 

“اقبال کا مزار فکر اقبال کی روشنی میں “کیا خوب اس بات کی کسر رہ گئی تھی سو وہ بھی پوری ہو گئی ۔اب کوئی نہ کوئی اقبالیات کا شعبہ اس موضوع پر بھی تحقیقی مقالہ یا تو قبول کر لے گا یا پھر اس پر تحقیق کروائے گا ۔ویسے جاوید چودھری اگر خود پہل کریں اور اس موضوع پر مقالہ تحریر فرما دیں تو شاید انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگر عطا کر دی جائے ۔
چودھری صاحب کالم کے آخر میں لکھتے ہیں کہ
“آپ الٹی شلوار یا ٹھنڈا گوشت نکالیے اور اپنی بہن اور بیٹی کو پڑھنے کے لیے دے دیجیے”۔

 

بہتر ہوتا کہ کالم تحریر کرنے سے قبل منٹو پر کچھ تحقیق کر لیتے اور فرحانہ صادق کی تحریر کو منٹو کے سر نہ تھوپتے۔ جناب عالی صرف اس قدر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ٹھنڈا گوشت necrophilia سے متعلق ہے ۔اگر اہم نے اس موضوع پر کام کر لیا ہوتا ، اس کی وجوہ جاننے کی کوشش کی ہوتی تو شاید کراچی اور دیگر شہروں میں قبرستانوں میں لاشوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کو روک لیا جاتا لیکن افسوس کہ یہ واقعات بھی ٹاک شوز کی سنسنی خیزی کی نظر ہوگئے ۔برنارڈ شاہ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ایک صحافی ایک سائیکل کے حادثے اور تہذیب کے انہدام میں تمیز نہیں کر سکتا۔اگر ہم نے منٹو ٹھیک وقت پر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے دیا ہوتا تو شاید ہم راولپنڈی کے انٹرنیٹ کیفے اور قصور جیسے سکینڈ لوں کا سامنا نہ کرتے اور خود سے منہ نہ چھپاتے پھرتے۔اور اگر کوئی کہتا ہے کہ منٹو کے افسانے پڑھ کے اس پر جنس سوار ہوجاتی ہے تو اس کے لیے مشورہ ہے کہ اشفاق احمد صاحب کے گرو اور قدرت اللہ شہاب کے پیر ممتاز مفتی کو نہ پڑھے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی تاب نہ لا سکے ۔
Categories
نقطۂ نظر

جوہری معاہدہ، گیس پائپ لائن اور بلوچستان

معاشی پابندیوں میں گھرا ایران بالآخر امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کے بھنور سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ایران اورمغربی ممالک کے درمیان طویل اور مشکل مذاکرت کے بعد جوہری پروگرام پر معاہدہ طے پاگیاہے جس کے تحت ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھنے کا حق مل گیا ہے ۔ کامیاب مذاکرات پر ایرانیوں نے تہران کی سڑکوں پر جشن منایا ہے کیونکہ ایرانیوں کو اب اس بات کا یقین ہے کہ معاہدےکے بعد ایران پر کئی سالوں سے عائد معاشی پابندیاں اب بتدریج ختم ہوجائیں گی جس سے ایرانی معیشت مستحکم ہوگی۔ ایرانیوں کو یقین ہے کہ اچھا وقت آنےوالا ہے۔ اس معاہدے پر بہت سے ممالک خوش دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اس معاہدے کے بعد مشرق وسطی میں لگی آگ پر قابو پایا جاسکے گا اور ایران کی مدد سے خطے میں امن کا راستہ ہموار ہوگا، جبکہ اسرائیل اور اس کے حواری اس معاہدے سے کافی ناخوش دکھائی دیتے ہیں اور وہ اوباما حکومت کے اس معاہدے کو ایک تاریخی غلطی سمجھ رہے ہیں۔
ایران اور مغربی ممالک کے درمیان طویل اور مشکل مذاکرت کے بعد جوہری پروگرام پر معاہدہ طے پاگیاہے جس کے تحت ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھنے کا حق مل گیا ہے
مستقبل میں اس معاہدے کے کیا مثبت اور کیا منفی اثرات ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر موقع کی مناسبت سے پاکستان نے ضرور فائدہ اٹھایا ہے۔ معاہدے کے اعلان کے دوسرے روز ہی پاکستان کے وفاقی وزیربرائے پٹرولیم و قدرتی وسائل خاقان عباسی نے تعطل کی شکار پاک ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر کی خواہش کا ایک بار پھر اظہار کیاہے۔
وفاقی وزیر نے بی بی سی سے ایک انٹرویو کے دوران اپنے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اس گیس پائپ لائن منصوبے پر یکم اکتوبر سے کام شروع کر دے گا اور معاہدے کے تحت 30 ماہ میں اس پائپ لائن کو مکمل ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ پائپ لائن دو سال میں مکمل ہو جائے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران بھی اپنے ملک میں اڑھائی سو کلومیٹر پائپ لائن اسی عرصے میں مکمل کر لے گا۔ پٹرولیم کے وفاقی وزیر کے مطابق ایران سے آنے والی یہ گیس ملک میں گیس کی کمی کا نصف فراہم کر سکے گی۔’اس وقت ملک میں 2 ارب مکعب فٹ گیس کی کمی ہے اور اس پائپ لائن کے ذریعے ایک ارب مکعب فٹ گیس لائی جا سکے گی۔ اس دوران گیس کی طلب بھی بڑھ جانے کے باوجود اس پائپ لائن کے ذریعے ملکی ضرورت کا ایک بڑا حصہ ایران سے درآمد کیا جا سکے گا۔
پاکستان کی پاک ایران گیس پائپ لائن کی دیرینہ خواہش اپنی جگہ مگر اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ منصوبہ کامیاب ہوپائے گا یا نہیں ۔ یہ پائپ لائن ایرانی سیستان و بلوچستان سے شروع ہوکر پاکستانی شورش زدہ صوبے بلوچستان سے گزرکر ملک کے دوسرے حصوں تک جائے گی ۔ اس منصوبے کو بلوچ مسلح جدوجہد کا سامنا رہے گا جو پاکستان اور ایران دونوں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت نے جب ایران گیس پائپ لائن کا آغاز کیا تو اس وقت کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نظر نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہاتھا کہ بلوچوں کی منشا و مرضی کے بغیر ہم بلوچستان میں ایسے منصوبوں کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
سوال یہ ہے کہ بلوچوں کی مرضی و منشاء کے بغیر بلوچ سرزمین سے گزرنے والی گیس پائپ لائن اور اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں سے بلوچستان کو بھی کچھ فائدہ ہوگا یا نہیں
بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے یہ موقف بے حد اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ بلوچ پاکستانی ریاست کو ایک قابض قوت سمجھنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ پاکستان بننے سے لےکر آج تک بلوچ اپنی ہی سرزمین اور اس کے وسائل کی ملکیت سے محروم ہیں۔ 1952 میں سوئی سے دریافت ہونے والی گیس آج تک بلوچ آبادیوں تک نہیں پہنچ پائی۔ سوئی میں گیس کے 100 کنوئیں ہونے کو باوجود بلوچستان کے لوگ گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔ بلوچستان کے معدنی و ارضیاتی وسائل سے پورا پاکستان مستفید ہورہا ہے لیکن بلوچ عوام ابھی تک بنیادی سہولیات حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔
سوال یہ ہے کہ بلوچوں کی مرضی و منشاء کے بغیر بلوچ سرزمین سے گزرنے والی گیس پائپ لائن اور اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں سے بلوچستان کو بھی کچھ فائدہ ہوگا یا نہیں۔ بلوچ ان منصوبوں کے حوالے سے جن خدشات کا شکار ہیں کیا انہیں دور کیا جائے گا یا نہیں۔ کیا مقامی لوگوں کو سہولیات اور معاشی مواقع ملیں گے یا ہمیشہ کی طرح پنجاب اور دیگر صوبوں کے لوگ ان وسائل پر قابض ہو جائیں گے۔ گواد رکی بندرگاہ، اقتصادی راہداری اور گیس پائپ لائن منصوبوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی مواقع اور ملازمتیں اگر غیر بلوچوں کے قبضے میں چلے گئے تو علیحدگی کی تحریک مزید طاقتور ہوگی۔ ایران سے مقامی سطح پر جاری غیر قانونی تجارت کو باقاعدہ قانونی حیثیت دیتے ہوئے بلوچوں کاموقف سننا بھی ضروری ہے۔ایران پر پابندی ختم ہونے کے بعد ایرانی تیل کی غیرقانونی اسمگلنگ جس سے لاکھوں بلوچوں کے گھروں کا چولہا جلتا ہے کوقانونی حیثیت دیتے وقت بلوچوں کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ بلوچ اپنے علاقے کی ترقی اور خوش حالی کے عمل میں مزید پسماندہ نہ ہو جائیں۔
Categories
نقطۂ نظر

امریکہ میں پاکستانی

بدقسمتی سے اردو مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ گئی ہے چاہے وہ پاکستان جیسا پسماندہ ملک ہو یا امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک، اردو زبان میں لکھنے والوں کی اکثریت پاکستانیوں کی ذہنی پسماندگی کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ ہی کررہی ہے
امریکہ نہ صرف دنیا کا ایک بڑا ملک بلکہ عالمی طاقت ہے۔ اس کی معیشت بہت بڑی اور مضبوط ہے۔ اسے’’ مواقع کی سرزمین‘‘(Land of Opportunity)بھی کہا جاتا ہے جہاں دنیا بھر خاص کر پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے نوجوان ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کرکے آنا چاہتے ہیں۔امریکی نظام معیشت سرمایہ دارانہ ہے، یہاں ہر کسی کوکام کرنا پڑتا ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ امریکہ میں زندگی سخت ہے ۔ بے شک زندگی سخت ہے مگر یہاں پاکستان کے برعکس محنت کا معاوضہ پورا ملتا ہے اور کم سے کم تنخواہ پانے والے کو بھی زندگی کی بنیادی سہولتیں حاصل ہیں۔
پاکستان میں بھی زندگی اتنی آسان نہیں، لوگ سخت محنت کرتے ہیں مثال کے طور پر ایک پھل فروش یا چنے کی ریڑھی لگانے والا صبح سے لے کر شام تک سخت موسم میں چاہے گرمی ہو یا سردی ،بارش ہو یا دھند کھڑا رہتا ہے مگر اس مشقت کے بعد بھی اتنی بچت نہیں ہوتی کہ وہ اپنا معیار زندگی بلند کر سکے یا اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلا سکے بلکہ وہ کسمپرسی کی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہےمگر امریکہ میں ایسا نہیں اگر آپ محنت کرتے ہیں توآپ کا معیار زندگی نہ صرف بلند ہوتا ہے بلکہ آپ کے بچوں کو بہترین تعلیم کے مواقع ملتے ہیں۔
۱مریکہ میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو تقریباً زندگی کے ہر شعبے میں کام کر رہے ہیں۔یہاں سے اردو کے چار پانچ ہفتہ وار اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔ یہاں اخبارات فروخت نہیں ہوتے بلکہ دیسی سٹورز پر مفت ملتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا ذریعہ اشتہارات ہیں جو زیادہ تر دیسی افراد کے کاروبار کی تشہیر کے لیےہوتے ہیں۔ان اخبارات کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بھی دکانداری کی ایک قسم ہے۔
خبروں اور مضامین کے لحاظ سے ان اخبارات کا معیار انتہائی پست ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے والی خبریں اور مضامین پاکستانی اخبارات سے نقل کر لیے جاتے ہیں ۔ کچھ مضامین امریکہ میں رہنے والے پاکستانی لکھتے ہیں جو اسلامی نظام کی خوبیاں بیان کرتے ہیں یا اس کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہیں ۔کچھ کالم نگار امریکیوں کو بیوقوف سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔بدقسمتی سے اردو مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ گئی ہے چاہے وہ پاکستان جیسا پسماندہ ملک ہو یا امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک، اردو زبان میں لکھنے والوں کی اکثریت پاکستانیوں کی ذہنی پسماندگی کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ ہی کررہی ہے۔
امریکہ میں بسنے والے پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نائن الیون کو یہودیوں کی سازش سمجھتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو امریکہ نے خود تباہ کیا ہے تاکہ وہ مسلمانوں پر حملہ کر سکے
اوسط درجے کا پاکستانی (بلکہ ہندوستانی مسلمان بھی) تو دور کی بات انتہائی پڑھے لکھے افرادیعنی وکیل، ڈاکٹر اور انجینئرزکی اکثریت امریکہ کو ایک سازشی ملک قرار دیتی ہے۔مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر مغربی ممالک یا امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہی کرنی ہیں تو پھر ہر سال ان کو اپنی شہریت کیوں دیتا ہے؟ انہیں اپنے ہاں وہ تمام مذہبی آزادیاں دیتا ہے جو مسلمانوں کو اپنے ملک میں بھی حاصل نہیں؟جبکہ اسلامی ریاست میں غیر مسلم دوسرے درجے کے شہری ہوتے ہیں۔یہ امریکہ ہی ہے جہاں رہ کر اس کے نظام پر لعنت ملامت کی جا سکتی ہے وگرنہ کوئی اسلامی ریاست یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ آپ اس کے خلاف کوئی بات بھی کر سکیں کیونکہ اسلامی ریاست تو اطاعت امیر کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔
کہا جاتا ہے کہ مسلمان کبھی جمہوریت کو اپنا نہیں سکتا کیونکہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہاں اقتدار میں آنے کے لیے وہ جمہوریت کو بحالت مجبوری قبول کرلیتے ہیں۔ ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے کہا تھا کہ جمہوریت ایک ایسی ٹرین ہے جب آپ کا مطلوبہ سٹیشن آجائے تو وہاں اتر جائیں اور یہی کچھ مصر کے سابقہ صدر مرسی نے کیا ۔
مسلمان جمہوریت کو فریب کاری سمجھتے ہیں اور خلافت کے دعویدار ہیں۔ علامہ اقبال بھی کہیں فرما گئے ہیں جمہوریت میں سر گنے جاتے ہیں دماغ نہیں۔ایک پاکستانی انجینئر کا کہنا ہے کہ امریکہ کاجمہوری یا انتخابات کا نظام دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ یہاں پہلے سے فیصلے ہو جاتے ہیں کہ کس کو جتوانا ہے اور کس کو نہیں۔ان کے خیال میں امریکی میڈیا بالکل آزاد نہیں ہے۔ اصل بات (جس کا شاید انہیں خود بھی علم نہیں) وہ عوام کو بتاتا نہیں۔نہ ہی وہ’’ اصل بات‘‘ امریکہ سے چھپنے والے اردو کے اخبارات بتاتے ہیں۔
امریکہ میں بسنے والے پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نائن الیون کو یہودیوں کی سازش سمجھتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو امریکہ نے خود تباہ کیا ہے تاکہ وہ مسلمانوں پر حملہ کر سکے وغیرہ وغیرہ۔ ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت ایک تیسری قوت چلا رہی ہے جو نظر نہیں آتی یہ قوت چند افراد پر مشتمل ہے جو ہماری قسمتوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔
پاکستان میں اگر مسجدوں کی بھرمار ہے تو امریکہ میں چرچ ہر گلی کی نکڑ پر نظر آئیں گے مگر فرق یہ ہے کہ امریکی مزاج سیکولر ہے
کسی زمانے میں پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کرنے والے ایک صاحب اب امریکہ میں زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن ابھی بھی سرد جنگ کے زمانے میں جی رہے ہیں۔وہ امریکہ کے معاشی نظام کے سخت خلاف ہیں لیکن چین اور روس کے سرمایہ دارانہ نظام، جو کہ امریکی نظام سے کئی گنا گھناؤنا ہے ،کی تعریف کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت چین کے پیسوں سے چل رہی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی قوت سے بہت خوفزدہ ہے اور وہ اس کو ختم کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے اور اب وہ ہندوستان کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔ ان کو یقین ہے کہ جلد ہی چین اور روس امریکہ کو سبق سکھائیں گے۔
اسی نقطہ نظر کے حامل کچھ پاکستانیوں نے امریکہ کی برائیوں میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ یہ خواتین و حضرات کوئی بھی بات ہو گی وہ فوراً آپ کو بتائیں گے کہ امریکہ میں نئے سال کے آغاز کے بعد کتنے قتل اور ریپ کے واقعات ہوئے ہیں، کتنے لوگوں نے خودکشیاں کی ہیں،کتنے بڑے لوگ مالی بدعنوانی میں ملوث ہیں اور یہاں جیلوں میں کیسے منشیات سمگل کی جاتی ہیں، پولیس کیسے مظلوموں کو مارتی ہے اور یہاں کتنی معاشرتی برائیاں موجود ہیں۔یہ لوگ امریکی معاشرے کی ” برائیاں” لذت لے کر گنوائیں گے۔ ہم جنس پرستوں کو شادی کرنے کی اجازت دینے کی مذمت کرتے ہیں مگر ان کی سالانہ پریڈ بھی بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔
امریکہ میں پاکستانیوں کی دو بڑی تنظیمیں ’’اپنا ‘‘APPNA اور ’’ اکنا‘‘ICNA ہیں ۔اول الذکر ڈاکٹروں کی تنظیم ہے اور موخر الذکر امریکہ میں پاکستانی اور بھارتی مسلمانوں کی تنظیم ہے ۔ بلکہ ’’اکنا‘‘ کو جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ تنظیمیں وقتاً فوقتاً بڑے بڑے سیمینارز منعقد کرتی ہیں مگر کسی تنظیم نے ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام ملنے پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ خاموشی اختیار کی۔جب وہ امریکہ آئی تو چند پاکستانی افراد نے اپنی ذاتی حیثیت میں ہندوستانی تنظیم کے ساتھ مل کر اس کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی۔
پاکستان میں اگر مسجدوں کی بھرمار ہے تو امریکہ میں چرچ ہر گلی کی نکڑ پر نظر آئیں گے مگر فرق یہ ہے کہ امریکی مزاج سیکولر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ کا سیکولر نظام ہے جبکہ پاکستانی زندگی کے ہر شعبے میں مذہب کو گھسیڑ تے ہیں۔ شاندار ماضی ان کے ذ ہنوں سے نہیں نکلتا۔ہر وقت مسلمانوں کے خلاف ہونے والی غیر ملکی سازشوں کا ذکر کرتے نظر آئیں گے لیکن امریکہ میں انہیں کسی بھی قسم کی مذہبی پابندیوں کا سامنا نہیں۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی انہیں اس بات کا پکا یقین ہے کہ یورپ اور امریکہ چاہتے ہی نہیں کہ مسلمان ترقی کر سکیں۔
امریکہ میں مسلمانوں کے تمام فرقوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن نہیں ہیں۔ احساس برتری کاعالم یہ ہے کہ امریکی معاشرے کی خوبیوں کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں نے ہماری اچھی باتیں اپنا لی ہیں۔ایک امام مسجد جمعے کے خطبے میں فرمارہے تھے کہ پاکستان( بلکہ تمام اسلامی ممالک)میں ایمان ہے لیکن ایمانداری نہیں اور امریکہ میں ایماندار ی ہے اور ایمان نہیں۔وہ انتہائی تاسف کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکی قوم اندھیرے میں ہے اور وہ ایمان کی روشنی سے فائدہ نہیں اٹھاتی اور ہمارا فرض ہے کہ ان تک ایمان کی روشنی پہنچائیں تاکہ وہ ’’ہماری طرح‘‘ سیدھے راستے پر آ جائیں۔
Categories
نقطۂ نظر

آرمی چیف کا دورۂ امریکہ ؛ایک مضبوط آغاز

03مئی سے 26مئی 1950 کے دوران پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان صاحب کے دورہ امریکہ سے آج تک پاکستان کے کسی بھی سربراہ یا اعلیٰ عہدیدار کا دورہ امریکہ پوری دنیا کے میڈیا کی نظروں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کا دفاعی و معاشی حوالے سے ایک اہم خطے سے تعلق ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ کی نظریں پاکستان پر لگی رہتی ہیں۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے بعد سے پاکستان کا جھکاؤ امریکہ کی طرف رہا ہے۔ پاکستانی تاریخ میں بہت کم ایسے ادوار گزرے ہیں کہ پاکستانی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ کسی اورعالمی طاقت یا بلاک کی جانب ہوا ہو۔ جیسے بھٹو دور کے بعض اقدامات سے روس سے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کا تاثر ملتا ہے۔ بھٹو صاحب کے علاوہ کسی اور حکم ران کی پالیسیوں سے امریکی اثر سے نکلنے کی کوششوں کا اظہار نہیں ہوتا۔
بھٹو دور کے بعد ایک نیا رحجان یہ سامنے آیا کہ عالمی میڈیا اور ممالک پاکستان کی سیاسی قیادت کے بجائے فوجی قیادت کے دوروں کو زیادہ اہمیت دینے لگا اس کی وجہ فوج و حکومت میں تناؤ کو گردانا جاتا ہے۔
ایوب خان کے 1961 کے دورہ امریکہ کے دوران جو استقبال اور پذیرائی ایوب خان کو نصیب ہوئی شاید ہی اب تک کسی پاکستانی سربراہ یا عہدیدار کو امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس انداز میں خوش آمدید کہا گیا ہو۔اگرچہ یہ استقبال امریکہ کے اپنے مقاصد کے لیےتھا لیکن بہر حال وہ ایک فقید المثال سفارتی استقبال تھا۔ اسی سے اندازہ ہو تا ہے کہ اس وقت امریکی ایوان ہائے اقتدار میں پاکستان کوکس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے (اس استقبال کی چند نایاب تصاویر مجھے ایک دوست کے توسط سے دیکھنے کا موقع ملا ورنہ آج کی نسل تو اس سے واقف نہیں ہے )۔
آنے والے ادوار میں بھٹو اور ضیاء دور میں ملا جلا رجحان رہا کیوں کہ ان ادوار میں امریکہ کو اپنے مقاصد کی تکمیل میں کچھ مسائل کا سامنا ضرور کرنا پڑا۔ بھٹو دور میں بھی تعلقات معمول سے ہٹ کر استوار نہ ہو سکے ، ضیاء دور میں پاکستان اور امریکہ کا اتحاد اگرچہ پاکستان کی عسکری اور تزویراتی اہمیت میں اضافہ کا باعث بنا تاہم روسی افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کی اہمیت کم ہوئی۔ حالانکہ ضیاء دور میں سوویت یونین کو توڑنے میں پاکستان کا کردار شاید امریکہ کے لیے ہمیشہ احسان مند رہنے کا سبب بنتا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
بی بی اور میاں صاحب نے بالترتیب دو دو مرتبہ اقتدار کے ایوانوں کی سیر کی اور دونوں ہی امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے،سوائے 28مئی1998جب میاں صاحب نے قدرے جرات کا مظاہرہ کرت ہوئے ایٹمی تجربات کیے۔ بھٹو دور کے بعد ایک نیا رحجان یہ سامنے آیا کہ عالمی میڈیا اور ممالک پاکستان کی سیاسی قیادت کے بجائے فوجی قیادت کے دوروں کو زیادہ اہمیت دینے لگا اس کی وجہ فوج و حکومت میں تناؤ کو گردانا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے متضاد آراء پائی جاتی ہیں تاہم تجزیہ کار و ماہرین اس بات میں کوئی دو رائے نہیں رکھتے کہ پاکستان کی بنیادیں اس وقت ایک مضبوط دفاع کی وجہ سے کھڑی ہیں۔بد قسمتی سے پاکستان میں کمزور سیاسی حکومتوں کی وجہ سے مسلح افواج اپنے آئینی کردار کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی طرح خارجی تعلقات کے حوالے سے پاکستانی موقف پر بھی اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔
پرویز مشرف دور کے بعد فوج کےکردار پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے، دہست گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستانی فوج کے دورخے کردار، بلوچ آپریشن اور سیاسی عمل میں مداخلت کے باعث فوج کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ کیانی صاحب نے جب فوج کی قیادت سنبھالی تو ان کا زیادہ عرصہ فوج کی ساکھ بحال کرنے میں ہی صرف ہوا۔ اس تمام عرصے میں جب بھی کوئی فوجی یا سیاسی سربراہ بیرون ملک بالخصوص امریکہ جاتا اس کو مزید تعاون کا پروانہ تھما دیا جاتا۔ کیانی صاحب نے مشکل حالات میں فوج کی قیادت کی چھڑی جنرل راحیل شریف کے سپرد کی ۔ نئے چیف آف آرمی سٹاف کے سامنے نہ صرف فوج کے سیاسی کردار کے تاثر کو ختم کرنے کا چیلنج تھا بلکہ پاک افغان معاملات ،پاک بھارت تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی کردار پر عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کا ہدف بھی تھا۔ جنرل راحیل شریف کا نومبر کے آخر میں کیا گیا امریکہ کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلی دفعہ ایسا ہواہے کہ مسلح افواج کے سربراہ کو اس درجہ پروٹوکول دیا گیا اور اس حد تک گرمجوشی کا مظاہرہ کیا گیا،امریکہ کی اعلیٰ عسکری قیادت جنرل راحیل شریف کو خصوصی اہمیت دیتی نظر آئی۔ مختلف دفاعی تنصیبات اور اداروں کے دورے کے موقع پر بھی جنرل راحیل شریف کو خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔ بے شک کسی بھی ملک کی فوجی قیادت کو پروٹوکول دینا طے شدہ روایات ہیں لیکن دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستانی کردار سے نالاں امریکی قیادت اور پاکستانی حکام میں ایک واضح خلیج حائل ہو چکی تھی۔ لیکن جنرل راحیل شریف کو موجودہ دورہ امریکہ کے موقع پر یہ تاثر کافی کم ہوا ہے۔ موجودہ آرمی چیف کے دورہ امریکہ سے قبل ضرب عضب اور آپریشن خیبرون کے دوران عسکری کامیابیوں کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلی دفعہ ایسا ہواہے کہ مسلح افواج کے سربراہ کو اس درجہ پروٹوکول دیا گیا اور اس حد تک گرمجوشی کا مظاہرہ کیا گیا،امریکہ کی اعلیٰ عسکری قیادت جنرل راحیل شریف کو خصوصی اہمیت دیتی نظر آئی۔
آرمی چیف کے دورہ امریکہ کو خصوصی اہمیت اس لیے بھی دی جا رہی تھی کہ 2014 کے بعد افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوج کی واپسی کے بعد کی صورت حال عالمی طاقتوں کے لیے بہت اہم ہےاور پاکستان کے لیے بھی محفوظ پاک افغان سرحد یقیناًاہمیت کی حامل ہے۔ اندرونی سطح پر ہم جن مسائل کا شکار ہیں ان میں پاک افغان سرحد پر شدت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت بہت اہم مسئلہ ہے۔ افغانستان کی سمت سے سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری یقیناًافغان و نیٹو فورسز کی ہے۔ آرمی چیف کو موجودہ دورہء امریکہ سے شاید امریکہ یہ سمجھ چکا ہے کہ جب تک ہمارے مفادات کا تحفظ نہیں گا تب تک پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف موثر کاروائی نہیں کرے گا۔
غیر جانبدار تجزیہ کار بھی اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ شاید یہ پہلا موقع تھا کہ جب پاکستان کے آرمی چیف کے دورہء کے موقع پر “Do More” کی گردان سننے کو نہیں ملی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ امریکہ کو یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ خطے میں ہمارا کردار صرف ایک تماشائی کا نہیں ہے بلکہ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک اور عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے۔ شایداسی لیے امریکی حکام کے رویے آرمی چیف کے دورہ امریکہ کے موقع پر کچھ بدلے نظر آئے۔ پاکستان اور امریکہ کے بہتر ہوتے تعلقات نہ صرف پاکستان اور امریکہ بلکہ خطے کی سکیورٹی صورت حال کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔