Categories
گفتگو

داعش کا کُھرا مل گیا

کراچی میں صفورہ چورنگی کے قریب 13 مئی 2015ء کو دہشت گردوں نے ایک بس میں سوار اسماعیلی برادری کے 47 بے گناہ لوگوں کو قتل کیا۔ اس دہشت گردی میں شقی القلب دہشت گردوں نے صرف چند منٹ میں اسماعیلی برادری کے بیس سے ستر برس تک کی عمر کے 74 معصوم اور بے ضرر لوگوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔ پاکستان میں یہ ایسا پہلا حملہ تھا، جس کے لیے ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ پاکستانی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے 20 مئی 2015ء کو کراچی میں 47 اسماعیلی شیعہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث ماسٹر مائنڈ اور دیگر حملہ آوروں کو حراست میں لینے کا انکشاف کیا۔ وزیر داخلہ متواتر پاکستان میں داعش کی موجودگی کا امکان مسترد کرتے رہے ہیں، لیکن یہ چوہدری نثار کی بدقسمتی ہے کہ داعش کا “کُھرا” پاکستان میں مل چکا ہے، پاکستانی کھوجیوں نے داعش کے “کُھرے” کو نہ صرف کراچی بلکہ پنجاب کی متعددشہروں میں ڈھونڈ نکالا ہے۔ دہشت گرد طالبان کے زیادہ تر کُھرے مردانے پائے گئے ہیں لیکن داعش کے “کھُروں” میں پاکستانی کھوجیوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے”کھُرے” بھی کھوج نکالے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ داعش پاکستان میں حملے کر رہی ہے اور پاکستان سے لوگ بھرتی کر رہے لیکن چوہدری نثارابھی تک اس امر کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

 

اکوڑہ خٹک کے استاد نے عدالت میں تسلیم کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو قتل کے ملزمان ان کے مدرسے کے طالب علم تھے۔
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان قسمت کے دھنی ہیں وہ جس بات سے انکار کرتے ہیں وہ فوراً ثبوت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے، گزشتہ سال فرمایا “پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں”۔ برا ہو دفتر خارجہ کا کہ جس نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا کہ داعش نے جنوری میں پاکستان اور افغانستان کو خراسان قرار دے کر یہاں اپنی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ چوہدری نثار نے لال مسجد کے دہشت گرد مولانا عبدالعزیز کے بارے میں فرمایا “اُن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، سوشل اورالیکٹرونک میڈیا نے مولانا کے خلاف لاتعداد ثبوت جن میں دو عدد”ایف آی آر” بھی شامل ہیں پیش کردیں، کچھ عرصہ قبل جامعہ حفضہ کی طالبات کی جانب سے داعش کے حق میں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اسلام آباد میں سول سوسائٹی کی جانب سے مظاہرے کیے گئے تھے۔مظاہرین کے دباؤ کے بعد اسلام آباد انتظامیہ حرکت میں آئی اور دہشت گرد مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، اُس کے ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے گئے۔ تاہم وزیر داخلہ چودھری نثار نے اسلام آباد پولیس کو کارروائی کرنے سے روک دیا۔ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا کہ مدارس کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دینا درست نہیں، ادھر مدرسہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک کے استاد نے عدالت میں تسلیم کر لیا کہ بے نظیر بھٹو قتل کے ملزمان ان کے مدرسے کے طالب علم تھے۔ چودھری نثار کو اب استعفیٰ دے دینا چاہئے!

 

کراچی میں انسداد دہشت گردی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں داعش کی حمایتی خواتین کا ایک گروہ سرگرم ہے، اس گروہ میں بیس خواتین شامل ہیں، جو تمام خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ صفورہ واقعے کے سہولت کار خالد یوسف باری کی اہلیہ خواتین میں ایک یو ایس بی تقسیم کرتی ہے جس میں داعش کے متعلق ویڈیوز بھی ہوتی ہیں۔ خواتین کا یہ گروہ خواتین کی ذہن سازی اور چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ شدت پسندوں کی شادیوں کا انتظام کرتا ہے۔یہ بات محکمہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ راجہ عمر خطاب نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔ خواتین کے اس نیٹ ورک کی سرپرستی صفورہ بس حملے کے مرکزی ملزم سعد عزیز عرف ٹن ٹن کی بیگم اور ساس، خالد یوسف باری کی اہلیہ اور اسی واقعے کی ایک اور ملزم قاری توصیف کی اہلیہ کرتی ہیں۔ سعد عزیز پر امن کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش خالد یوسف نے انکشاف کیا ہے ان کی اہلیہ نے الذکرہ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ بنا رکھا ہے، جس کا کوئی دفتر نہیں ہے لیکن اس میں 20 سے زائد صاحب حیثیت خواتین شامل ہیں جو درس و تدریس کی آڑ میں نہ صرف ذہن سازی کرتی ہیں بلکہ دہشت گرد تنظیموں کو زکوٰۃ، خیرات اور چندے کی صورت میں فنڈز فراہم کرتی ہیں۔

 

خالد یوسف نے انکشاف کیا ہے ان کی اہلیہ نے الذکرہ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ بنا رکھا ہے، جس کا کوئی دفتر نہیں ہے لیکن اس میں 20 سے زائد صاحب حیثیت خواتین شامل ہیں جو درس و تدریس کی آڑ میں نہ صرف ذہن سازی کرتی ہیں بلکہ دہشت گرد تنظیموں کو زکوٰۃ، خیرات اور چندے کی صورت میں فنڈز فراہم کرتی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ماضی میں ملک میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ فی الحال حکام کے پاس اس حوالے سے کوئی حتمی معلومات موجود نہیں کہ صوبہ پنجاب میں دولتِ اسلامیہ کا نیٹ ورک کتنا وسیع ہے اور اس میں شمولیت کے لیے پاکستان سے باہر جانے والے افراد کی اصل تعداد کیا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر 31 دسمبر 2015ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اطلاعات کے مطابق تین خواتین ایک درجن سے زیادہ بچوں کو لے کر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے شام چلی گئی ہیں۔ ان افراد کے اغوا کی ایف آئی آر چند ماہ قبل ٹاؤن شپ، وحدت کالونی اور ہنجروال کے تھانوں میں درج کروائی گئی تھیں۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ معلومات ملی ہیں کہ یہ لوگ کراچی اور گوادر کے راستے ایران سے شام گئے ہیں تاکہ دولتِ اسلامیہ میں شامل ہو سکیں۔

 

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے بی بی سی کو پہلے بتایا تھا کہ پولیس کے پاس تو ان کے اغوا کی ایف آئی آر درج تھی لیکن اب ان میں سے کچھ خواتین کا رابطہ اپنے گھر والوں سے ہوا ہے جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اطلاع دی ہے کہ وہ اغوا نہیں ہوئیں بلکہ اپنی مرضی سے شام گئی ہیں۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمۂ انسداد دہشت گردی کی مزید تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ خواتین کراچی اور گوادر کے راستے ایران سے شام گئیں تاکہ داعش کے لیے کام کر سکیں۔تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ پولیس اس حوالے سے مزید تحقیقات کر رہی ہے۔بی بی سی کو موصول ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق تھانہ ہنجروال میں اپنی پوتی کی اغوا سے متعلق ستمبر میں دی گئی درخواست میں فاطمہ بی بی نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کی ایک بیٹی ارشاد بی بی اپنے دو بچوں کے ساتھ چند ماہ پہلے شام منتقل ہو چکی ہیں۔مبینہ طور پر شام جانے والی خواتین میں ٹاؤن شپ کی بشریٰ چیمہ عرف حلیمہ کے علاوہ فاطمہ بی بی کی ہمسائی فرحانہ بھی شامل ہیں جو ستمبر میں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ گھر سے غائب ہوئیں۔

 

فرحانہ کے بھائی اور مقامی صحافی عمران خان نے پولیس کو ان کی گمشدگی کی اطلاع بھی دی تھی۔عمران کا کہنا ہے کہ فرحانہ کے شوہر اور محکمہ ریونیو کے ملازم مہر حامد شدت پسند تنظیموں سے ہمددردی کے جذبات رکھتے تھے اور انہیں تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں بھی لیا تھا اور وہ کئی ماہ تک لاپتہ رہے۔عمران کا کہنا تھا کہ اس دوران فرحانہ میں شدت پسندی کا رجحان نمایاں ہوا اور وہ ستمبر میں اپنے پانچ بچوں سمیت گھر سے غائب ہوگئیں۔تاہم عمران کا دعوی ہے کہ فرحانہ نے پاکستان کی سرحد عبور نہیں کی تھی بلکہ ستمبر میں ہی ایف سی نے انہیں ایران کی سرحد کے قریب جیوانی سے گرفتار کرلیا تھا۔ ان افراد کے شام جانے کی تصدیق ایسے موقعے پر ہوئی جب اُس سے ایک روز قبل ہی انسداد دہشت گردی فورس نے سیالکوٹ کے قریبی علاقے ڈسکہ میں آٹھ افراد پر مشتمل ایک ایسا نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ کیا تھا جو پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور ان کے لیے بھرتیاں کرنے کا کام کر رہا تھا۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے پنجاب میں اس شدت پسند تنظیم کی موجودگی کی سرکاری سطح پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈسکہ میں موجود یہ آٹھ افراد دولتِ اسلامیہ کے لیے کام کرنے والے ایک شخص امیر معاویہ سے موبائل سروس وائبر کے ذریعے رابطے میں تھے۔

 

پولیس نے دعویٰ کیا کہ صفورہ واقعے کے سہولت کار خالد یوسف باری کی اہلیہ خواتین میں ایک یو ایس بی تقسیم کرتی ہے جس میں داعش کے متعلق ویڈیوز بھی ہوتی ہیں۔
مذکورہ بالا اطلاعات اردو اخبارات اور ویب سائٹس پر موجود ہیں لیکن شاید پاکستانی وزیر داخلہ کو ابھی تک اس مواد کو دیکھنے کی فرصت نہیں ملی ہے۔ ہماری عورتیں اور بچیاں ایسے درندوں کے پاس پہنچ رہی ہیں جن کے عراق اور شام میں خواتین پرمظالم کی خبریں ہر دردمند انسان کا دل دہلا دیتی ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ داعش کے اہلکار خواتین کے ساتھ اس غیر انسانی اور غیر اسلامی سلوک کو قرآن وسنت کے مطابق جائزقرار دے رہے ہیں۔کچھ عرصہ قبل داعش نے اپنے آن لائن میگزین “دبیق” میں عورتوں کو غلام بنانے اور ان کی خریدوفروخت کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ القاعدہ نے جس بے راہ روی کی بنیاد اسلام اور جہاد کے نام پر ڈالی تھی داعش اس کا ایک بہت ہی بھیانک نتیجہ ہے۔ داعش ہرلحاظ سے اب القاعدہ کو دہشت گردی اور سفاکی میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔

 

عالمِ اسلام کے بیشتر رہنما اور علماء داعش اور القاعدہ کے جہاد کو دہشت گردی قرار دے چکے ہیں اور انہیں علمی دلیلوں سے رد کیاجا چکا ہے لیکن بدقسمتی سے علماء اور مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان کے مطالبات اور مقاصد کو غلط قرار دینے کو تیار نہیں۔ جب ان تنظیموں کا جہاد غلط ہے تو ان کے مذہبی اہداف اور مقاصد جنہیں یہ جہاد کی آڑ میں حاصل کرنا چاہتے ہیں کس طرح سے جائز ہوسکتے ہیں؟ ان حالات میں حکومت پاکستان خاص کر وزات خارجہ اور وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں کافی بڑھ جاتی ہیں۔ ہمیں داعش کے بارے میں ویسی ہی غلط فہمیوں میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے جیسی طالبان سے متعلق پیدا کی گئیں، حکومت کو تسلیم کرنا چاہیئےکہ ملک میں داعش کا وجود ہے اور ہمیں فوری طور پر اس تنظیم کے خلاف اقدامات کرنے ہوں گے، یہ جو خواتین شام پہنچ چکی ہیں یہ کسی تنظیم کے ذریعے ہی شام پہنچی ہیں، اور یہ اس بات بات کا واضع ثبوت ہے کہ داعش کے سہولت کار پاکستان میں موجود ہیں۔ ان تشویش ناک واقعات کے بعد بھی اگر وزیر داخلہ چوہدری نثار اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ پاکستان میں داعش موجود ہے تو پھر ہم سب کو اگلی کئی دہائیوں تک عدم استحکام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔
Categories
نقطۂ نظر

عراق، شام، تیل اور داعش

فرانس کے تاریخی شہر اور دارالحکومت پیرس میں خوفناک حملوں سے یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح ہوگئی ہے کہ عراق وشام میں سرگرم دہشت گرد اب یورپ کے محفوظ ممالک تک رسائی رکھتے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم دنیا کی سب سے امیر اور خوفناک دہشت گرد اسلامی تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) نے قبول کی تھی۔ داعش کے حوالے سے خوف اور خبریں تو بہت ہیں لیکن اس گروہ کے پس منظر اور تشکیل سے متعلق بے حد ابہام ہے۔

 

2003ء میں امن، جمہوریت اور انسانی آزادیوں کے ‘علمبردار’ امریکہ نے اپنے یورپی حواریوں کے ہمراہ عراق پر حملہ کیا۔ حملے کی وجہ وہ ناقابل بھروسہ انٹیلی جنس معلومات تھیں جن کے مطابق عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا اورصدام حکومت کے القاعدہ سے مراسم کا ‘انکشاف’ کیا گیا۔ حملہ آوروں کے خیال میں عراق کے پاس موجود ہتھیار اور القاعدہ سے اس کے روابط سے دنیا بھر کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ جب ان ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہ ملا توپھر یہ شوشہ چھوڑ اگیا، کہ گزشتہ تین دہائیوں سے عراق صدام حسین کی آمریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا اور اب مہذب دنیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ عراقی عوام کو صدام کی آمریت سے نجات دلاکر جمہوری روایات سے روشناس کرائے۔ اُس وقت برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا سمیت نیٹو کے 48 ممالک امریکہ کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک تھے۔ اس حملے کے دوران ان ممالک نے عراق کے مستقبل کا فیصلہ عراقی عوام کی صوابدید پر چھوڑنے کی بجائے اسلحے اور طاقت سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔ عراق میں نافذ کیا جانے والا نیا جمہوری نظم سنی اقلیت کو مناسب نمائندگی اور حقوق دینے میں ناکام رہا۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے دنیا بھر کی جہادی تنظیموں نے عراق کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

 

عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔
عراق میں القاعدہ کا قیام:

 

داعش کی ابتداء اور ارتقاءکو سمجھنے کے لیے پہلے ان عوامل اور محرکات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے یہاں ایسے سخت گیر سنی گروہ کے لیے گنجائش پیدا ہوئی اور بغداد اس ‘کالی آندھی’ کی لپیٹ میں آگیا۔ عراق پر سن 2003ء میں امریکی حملے کے ایک سال بعد 2004ء میں القاعدہ نے وہاں پر اپنی شاخ قائم کی۔ عراق کے سماجی ڈھانچے میں بہت بڑے سیاسی و انتظامی خلاء کے ساتھ شیعہ سنی کشیدگی بھی موجود تھی۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی سنی آبادی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین میں القاعدہ کو پنپنے میں بڑی آسانی رہی۔ Vox.com پر 19 نومبر 2015ءکو ISIS, a history: how the world’s worst terrorist group came into beingکے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی ایس دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور دہشت گرد گروہ ہے جو سن 2003ءکو امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد وجود میں آیا۔ اس حملے نے عراقی سماج کے سارے مظاہر کو تہس نہس کر دیا جس سے عراق طوائف الملوکی اور انتشار کا شکار ہو گیا۔ بیرونی دنیا کے دہشت گرد عراق کی جانب مائل ہوئے۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ نے صدام حسین کی سیاسی جماعت اور سنی العقیدہ سول اور فوجی نظم کو ختم کیا اور شیعہ اکثریت کے تعاون سے نئی حکومت کھڑی کی۔ جب عراق میں القاعدہ نے اپنی شاخ قائم کی تو وہ صدام دور کے فوجی اہلکاروں اور فسران کے لیے مزاحمت اور روزگار کا ایک موقع ثابت ہوئی۔ 2004ء ہی میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اورمشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔ مسلکی بنیادوں پر اس قتل و غارت کا بنیادی مقصد شیعہ سنی تفریق کو بڑھا کر خانہ جنگی کو ہوادینا تھا، اسی تکفیری طرز پر داعش بھی اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر ہی ہے۔ عراق اور افغانستان میں القاعدہ کے کمزور ہونے اور بیشتر قیادت کے مارے جانے کے باعث عملاً القاعدہ کی دہشت گردانہ سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں جس کے بعد عراق میں القاعدہ کی شاخ نے شام اور عراق کی خانہ جنگی اور شیعہ سنی تفریق کا فائدہ اٹھا کر سخت گیر اور بنیاد پرست اسلامی تکفیری فکر کی بنیاد پر اپنی تنظیم سازی شروع کی۔

 

نوری المالکی حکومت اور داعش:

 

عراق پر قبضے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے عراق میں جمہوری نظام رائج کرنے کے حوالے سے انتخابات منعقد کیے۔ ان انتخابات میں شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نوری المالکی کو کامیابی ملی۔ عراق کی کل آبادی کا 60 فیصد شیعہ، 22 فیصد صدام حسین کے حامی عرب سنی اور 18 فیصد صدام مخالف کرد سنی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں مسلکی بنیادوں پر شیعہ حکومت قائم ہوئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق نوری المالکی نے اعتدال پسند سیکولر سیاسی و آئینی نظام کے قیام اور سنی اقلیت کو اقتدار میں جائز نمائندگی فراہم کرنے کی بجائے مسلکی تعصبات پر مبنی حکمرانی کی۔ اور یوں وہ سنی اقلیت جو برسوں سے عراق پر حکمران رہی تھی سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی۔ نوری المالکی کی حکومت کے امتیازی سلوک سے سنی اقلیت خود کو غیر محفوظ سمجھنے کے علاوہ شدت پسند گروہوں میں اپنی بقاء تلاش کرنے لگی۔

 

دو ہزار چودہ میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اور مشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔
عراق اور شام کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بہت حد تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عراق میں مداخلت اور ناہلی پر عائد ہوتی ہے۔ تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔ زید ال علی فارن پالیسی میں How Maliki Ruined Iraqکے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں وضاحت کرتے ہیں: ”بالآخر 2010ء میں عراق سیکیورٹی کے لحاظ سے نسبتاً بہتر پوزیشن میں آگیا اور ملک کے مختلف مذہبی و نسلی گروہوں کے درمیان مثبت تعلقات استوار ہوگئے۔ لیکن یہ تبدیلی دیر پا ثابت نہ ہوئی۔ کیونکہ نوری المالکی نے سیاسی و انتظامی شعبوں سے اپنے مخالفین کو بے دخل کر دیا، فوج میں من پسند افراد کا تقرر کیا جبکہ پر امن احتجاجیوں کو کچل ڈالا۔ یہی وہ وجوہ تھیں جنہوں نے داعش کو پھلنے پھولنے میں مدد دی“۔

 

داعش کا ارتقاء:

 

آن لائن مجلہ Crethiplethi.com 2009ء سے مشرقی وسطیٰ، اسرائیل، عرب دنیا اور جنوب مغربی ایشیاء وغیرہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس جریدے نے 20نومبر 2015ء کو The Historical Roots and Stages in the Development of ISISکے موضوع سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس ساری صورتحال کو یوں بیان کیاگیا ہے۔

 

“عراق میں امریکیوں نے نوری المالکی کی قیادت والی شیعہ اور قوم پرست جمہوری طرزِ حکمرانی کی حمایت کی تاہم اس دور میں تاریخی لحاظ سے عراق پر (برسوں سے قابض) سنی آبادی کو حکومت سے باہر رکھا گیا کیونکہ وہ (عددی اعتبارسے ) اقلیت میں تھی۔ عراق میں القاعدہ کے قیام سے لے کر داعش تک کے مراحل کو اس رپورٹ میں چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے “عراق او ر شام میں القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کا قیام چار مرحلوں میں مکمل ہوا“۔

 

1: پہلا مرحلہ (2004-06) پہلے مرحلے میں عراق میں ابو مصعب الزرقاوی کی قیادت میں القاعدہ کی شاخ کا قیام عمل میں آیا جس نے امریکہ اور اتحادی فوجیوں اور شیعہ آبادی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی پہلا مرحلہ اس وقت اختتام پزیر ہوا جب (القاعدہ کے راہنما) ابومصعب الزرقاوی جون 2006ء کو امریکہ کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

 

تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔
2: دوسرا مرحلہ (2006-11) دوسرے مرحلے میں “امارت اسلامیہ العراقیہ” کا قیام عمل میں آیا۔ آئی ایس آئی دوسری دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتی رہی جس نے امریکہ، اس کے اتحادیوں اور اہل تشیع کے خلاف گوریلا حملے جاری رکھے۔ اس زمانے میں امریکہ کی موجودگی، ان کی عسکری کارروائیوں اور اس دور کی کامیاب خارجہ و داخلہ پالیسی جس میں تمام عراقی طبقات کو عراقی نظم میں شامل رکھا گیا کی وجہ سے آئی ایس آئی کمزور رہی۔

 

3: تیسرا مرحلہ (2012سے جون2014): اس دوران “امارت اسلامیہ العراقیہ” نے خود کو مستحکم کیا اور شام میں جاری خانہ جنگی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس دوران اس تنظیم نے اپنا نام تبدیل کر کے امارت اسلامیہ عراق و شام یاISIS رکھ لیا۔ سن 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد داعش مزید مضبوط ہوگئی۔ ٹھیک اسی دوران افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک میں “بہارِعرب” آمریت مخالف تحریکیں شروع ہوئیں۔ شام میں “بہارعرب” کے اثرات پہنچنے اور بشارالاسد حکومت کے خلاف تحریک کے انسداد کے لیے طاقت کے استعمال سے شامی ریاست میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے داعش کو وہاں اپنے پاوں جمانے کا موقع ملا اور وہاں النصرا فرنٹ کے نام سے اس تنظیم کی شاخ قائم کی گئی۔

 

4: چوتھا مرحلہ (جون 2014ءکے بعد ): داغش کی عسکری فتوحات اور ڈرامائی کامیابی: اسی مرحلے میں داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ جما لیا۔ جبکہ مشرقی شام کے مختلف حصے بھی داعش کے قبضے میں آگئے۔ جہاں حکومتی مرکز ‘الرقہ’ پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد داعش نے اسلامی امارات (IS)یا اسلامی خلافت کے باقاعدہ قیام کا اعلان کر دیا جس کی قیادت داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کر رہے ہیں۔ ستمبر 2014ء میں امریکہ نے داعش کے خلاف بھر پور مہم کا آغاز کیا“۔

 

ابوغریب جیل پر حملہ:

 

21جولائی 2013ء کو البغدادی نے ایک منصوبے کے تحت بغداد کے قریب واقع ابوغُریب جیل پر حملہ کر دیا۔ اس جیل میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب خطرناک دہشت گرد موجود تھے۔ حملے میں صرف 50 داعش اہلکاروں نے حصہ لیا اور 500 دہشت گردوں کو رہا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔ حملے کے وقت جیل کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکار ذرا برابر بھی مزاحمت نہ کر سکے اور بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے داعش جنگجووں نے جیل توڑ ڈالی۔ بی بی سی نیوز میں 2 اگست 2014ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگرچہ داعش اور القاعدہ کے درمیان زیادہ ہم آہنگی موجود نہیں لیکن عراق اور شام کی حد تک دونوں مل چکے ہیں۔ اس گروہ میں شامل افراد کی کل تعداد کا صیحح اندازہ تو نہیں البتہ ہزاروں افراد اس گروہ سے منسلک ہیں۔ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی میدان جنگ کے بہترین کمانڈر اور منصوبہ ساز ہے۔ ابوبکر البغدادی نے دنیا بھر میں موجود عالمگیر سنی خلافت کے حامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے میں بہت کامیاب رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگار داعش اور القاعدہ کا تقابلی جائزہ یوں کرتے ہیں کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ایک امیر کبیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اور امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل تھے یعنی القاعدہ کا سربراہ جدید تعلیم یافتہ جبکہ ان کے پیروکار جاہل قبائلی تھے۔ اس کے برعکس داعش کی قیادت ناخواندہ جبکہ اس گروپ کے جنگجو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی بی سی انگریزی سروس کی اس رپورٹ میں لندن کے کنگ کالج کے پروفیسر پیٹرنغمان کے حوالے سے لکھا گیا ہے ”البغدادی کے گروپ (داعش) میں 80 فیصد غیر ملکی جنگجو شامل ہو کر شام میں لڑ رہے ہیں، جن میں سے اکثریت فرانس، برطانیہ، جرمنی، یورپین ممالک، امریکہ اور عرب دنیا سے تعلق رکھتے ہیں“۔

 

شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔
بشار الاسد کی گمراہ کن پالیسیاں:

 

Vox.com کی مذکورہ بالا رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ سن 2011ء میں جب شام بہارِ عرب سے متاثر ہونے لگا اور عوام سڑکوں پر نکل کر بشارالاسد کی آمریت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے تو اسی وقت بشارالاسد حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے اس عوامی تحریک کا رخ مذہبی شدت پسندی کی جانب ہو گیا۔ اسد نے انتہائی خطرناک جواء کھیلا، یعنی ان کا یہ خیال تھا کہ اگر ان کے مخالف مذہبی شدت پسند ہوں گے تو یورپ اور امریکہ اس مذہبی تحریک سے خوفزدہ ہو کر ان (اسد) کا ساتھ دیں گے اور یوں شام کی جمہوریت نواز سیکولر تحریک بشارالاسد کی غلط اور گمراہ کن پالیسیوں کی بابت مذہبی شدت پسندی میں تبدیل ہوگئی۔ سعودی عرب، امریکہ اور یورپ نے بھی شام کے معاملے میں ایسی ہی غلطیاں کیں۔ داعش کی مالی سرپرستی کرنے والوں کے ہاتھ سے یہ تنظیم بہت جلد نکل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سن 2013ء میں شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے میں آ گیا جو کہ ہتھیار ڈالنے والا شام کا پہلا بڑا شہر تھا۔

 

داعش کے مالی وسائل :

 

مبصرین کے مطابق داعش دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم ہے جو مختلف طریقوں سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی دولت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔ مشرقی شام میں موجود تیل کے ذخائر پر بھی اس تنظیم کا قبضہ اس کے لیے مالی طور پر سودمند رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان کا خاندان داعش سے سستے داموں تیل خرید رہا ہے جس کی بنا پر ترکی بالخصوص ترک صدر داعش کے حوالے سے نرم گوشہ اختیارکیے ہوئے ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی کئی مرتبہ ترکی پر داعش کی مدد اور ان سے تیل خریدنے کے الزامات عائد کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے روس ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکا۔ اس کے علاوہ داعش نے عراق او رشام کے تاریخی مقامات کو لوٹ کر وہاں موجود نواردات بھی بیچے ہیں۔ پروفیسر نغمان کا خیال ہے کہ “موصل پر قبضے سے قبل جون 2014ء میں داعش کے پاس 900 ملین ڈالر کی نقد رقم موجود تھی موصل پر قبضے کے بعد ان کے اثاثوں کی مقدار 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ موصل پر قبضے کے بعد وہاں کے مرکزی بنک کی شاخ کو لوٹا گیا تھا جبکہ شمالی عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضے کے بعدان کے اثاثوں میں مزید کئی گنا اضافہ ہوا“۔

 

دہشت گردی اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور القاعدہ کے بعد داعش اب ایک نیا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ یورپ، امریکہ اور مسلم ممالک وک سمجھنا ہو گا کہ یہ صرف بنیاد پرست تکفیری اسلام اور خلافت کے قیام کا خواب ہی نہیں جو ایسی تنظیموں کی وجہ ہے بلکہ عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ اور سعودی عرب کی تباہ کن خارجہ پالیسی ہے جس کی وجہ سے آج مشرق وسطیٰ اس عفریت کا شکار ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا امریکہ، اس کے یورپی حواری، سعودی عرب اور ایران دہشت گردی کے ان وجوہ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟
Categories
نقطۂ نظر

پیرس میں دہشت گردی کے اثرات

کہا جارہا ہے کہ فرانس کی شام میں مداخلت کے پیش نظر داعش کی جانب سے پیرس میں دہشت گردی کے ذریعے انتقام لیا گیا ہے۔ اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ پیرس میں دہشت گردی کی یہ واردات کامیاب کیسے ہوئی؟ فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک میں یہ بہت ناممکن لگتا ہے، پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کا اثر حکومتوں اور عام لوگوں پر ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کے اخبارات میں اس حوالے سے چھپنے والی خبروں سے یہ واضح ہو جاتی ہے کہ پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فرانسیسی حکومت نے دستیاب معلومات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اورکچھ زیادہ ہی خود اعتمادی کا شکار ہوگئی۔ مختلف ماہرین اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ یہ حملہ کیوں ہوا اور دہشت گرد آٹھ مقامات پر اسلحہ لے کر اتنی آسانی سے کیسے پہنچ گئے۔ خود کش جیکٹس، خود کار ہتھیار اور بارودی مواد لے کر یہ افراد پورے شہر میں گھومتے رہے اور اُنہیں کسی نے روکا نہیں۔ پیرس کے سیکیورٹی ادارے اور انٹیلی جنس والے آخر کہاں تھے؟ لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ امریکہ میں دہشت گردی کی نائن الیون جیسی بڑی کارروائی کے بعد شدت پسند پہلے سے زیادہ مظبوط ہوئے ہیں جبکہ ان سے ہمدردی کرنے والوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے اس لیےشدت پسندوں کے لیے ایسے حملے کرنا ممکن ہے۔

 

پیرس میں پہلے شارلی ایبڈو پر اور اب عام شہریوں پر دولت داعش کے حملوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دہشت گردوں کی پہنچ سے اب کوئی مقام محفوظ نہیں، وہ دنیا میں جب اور جہاں چاہیں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ پیرس میں دہشت گردی کے اثرات مستقبل کی بین الاقوامی سیاست پر جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ پیرس حملوں کا تمام تر ملبہ عام مسلمانوں پر گرا ہے، امریکا میں عربی بولنا بھی آپ کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہے۔ جمعرات 19 نومبر 2015ء کو امریکی ریاست شکاگو سے فلاڈیلفیا جانے والی ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کی پرواز کے دو مسافروں کو محض اس وجہ سے جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا کیونکہ وہ آپس میں عربی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔

 

یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ امریکہ میں دہشت گردی کی نائن الیون جیسی بڑی کارروائی کے بعد شدت پسند پہلے سے زیادہ مظبوط ہوئے ہیں جبکہ ان سے ہمدردی کرنے والوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے اس لیےشدت پسندوں کے لیے ایسے حملے کرنا ممکن ہے
جس روز پیرس میں حملے ہوئے اُسی دن ترکی کے شہر استنبول میں دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنایاگیا، حکام کے مطابق پولیس نے 13 نومبر 2015ء کو جمعہ کے روز استنبول سے داعش جنگجو جہادی جان کے قریبی ساتھی سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا تھا، یہ لوگ سانحہ پیرس والے دن استنبول میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس نے پیرس حملوں میں ملوث ایک خودکش بمبار عمر اسماعیل کے بارے میں فرانسیسی حکام کو آگاہ کردیا تھا تاہم انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور فرانس نے پیرس جیسے مزید حملوں کا انتباہ جاری کردیا ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے خبردار کیا ہے کہ داعش نے پیرس جیسے مزید حملوں کی منصوبہ بندی کررکھی ہے، سیکورٹی اور انٹیلی جنس ادارے ان سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنی پوری صلاحیت بروئے کار لارہے ہیں۔ خودکش بمباروں نے پیرس کے دل میں انتہائی منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے اور اس عمل میں کئی ماہ کا عرصہ لگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ داعش کسی بھی وقت اس طرح کے مزید حملے کر سکتی ہے۔ فائنینشل ٹائمز کے سام جونز لکھتے ہیں کہ ایسے اشارے مل رہے تھے کہ یہ واقعہ ہونے والا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں دو اعلیٰ عہدیداروں نے فائنینشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ انہوں نے داعش کی سرحدوں سے بہت باہر اس کے عزائم اور مقاصد کا جو اندازہ لگایا تھا اس میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ داعش القاعدہ کی طرح بہت بڑا حملہ کرنا چاہتی تھی، مگر یہ بات غیر واضح تھی کہ وہ اس نوع کا حملہ کرنے کی سکت رکھتی بھی ہے؟

 

پیرس حملے پر بات کرتے ہوئے لندن میں مقیم صحافی قندیل شام کا کہنا تھا کہ پیرس پر حملہ یورپ میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ ہے اور اگر اس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے تو یہ اُن کے لیے بھی بڑی تبدیلی ہے۔ فرانس میں انتخابات کا انعقاد بھی ہونے والا ہے جس پر اس کا بہت اثر پڑے گا۔ اس سال یورپ میں سترہ دہشت گردی کے حملے ہوئے جس میں سے سات فرانس میں ہوئے ہیں اور 1200 سو کے قریب غیر ملکی جنگجو اس وقت فرانس سے عراق اور شام میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ فرانس میں ان حملوں کے بعد انتہا پسندی کے خلاف آواز بڑھ گئی ہے۔ چارلی ہیبڈو پر حملے کے بعد دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے فرانس کی حکومت کی تیاری پر بات کرتے ہوئے قندیل شام نے کہا کہ اس کے دو جواب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ دولت اسلامیہ جیسے گروہ اب زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں جو اس حملے سے نظر آرہا ہے کیوں کہ یہ ایک منظم حملہ تھا۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یورپ میں اب اس طرح کے عناصر ہیں جو اس طرح کے حملے مستقبل میں کر سکتے ہیں اور ‘خوابیدہ گروہوں’ کی موجودگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

برطانیہ میں مقیم کالم نگار نجمہ اسلام کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں کے بعد میرا حجاب میں باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ نجمہ اسلام کہتی ہیں کہ جب بھی یورپ میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے، مسلم آبادی کی زندگی مشکل ہوجاتی ہے۔ نجمہ اسلام کے مطابق ایشیائی آبادی میں رہنے والے مسلمان تو پھر بھی محفوظ رہتے ہیں، لیکن دوسرے علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں پر دہشت گردی کے رد عمل میں عرصہ حیات تنگ ہوجاتا ہے۔ کیا ان دہشت گردوں کو اس بات کی پروا ہے کہ ان کے شیطانی عمل سے عام مسلمان شہریوں کی زندگیوں پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اب میں حجاب میں گھر سے باہر جاتے ہوئے ڈرتی ہوں، لوگوں کی نگاہیں میرا تعاقب کرتی ہیں۔ پیرس حملوں کے بعد جب میں حجاب کرکے باہر نکلتی ہوں تو لوگ سرگوشی میں مجھے دہشت گرد اور مسلم کتیا کہتے ہیں اور میرا تعلق داعش سے جوڑتے ہیں۔ نوجوانوں کے غول میرے ارد گرد اکٹھے ہوجاتے ہیں اور وہ مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ اب گھر سے باہر نکلنے کا مطلب ہراساں ہونے کے لیے تیار رہنا ہے۔ میرے فیس بک کے دوست اسلام کو دہشت گردوں کا مذہب قرار دے رہے ہیں اور معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے مسلمانوں کو دیس نکالا دینا چاہتے ہیں۔ میرے حجاب کی وجہ سے مجھے ایک منصوبے سے الگ کردیا گیا ہے۔

 

کیا ان دہشت گردوں کو اس بات کی پروا ہے کہ ان کے شیطانی عمل سے عام مسلمان شہریوں کی زندگیوں پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
پیرس میں داعش دہشت گردوں کے حملے نے مغرب میں رہنے والے مسلمان شہریوں کو احساس جرم اور احساس ندامت کا شکار کردیا ہے۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اپنے میزبان معاشرے سے اعتماد پر مبنی تعلق استوار کرنے کے لیے ایک فرانسیسی مسلمان نوجوان نے ایک انوکھا انداز اختیار کیا۔ وہ پیرس کے ایک مصروف چوراہے پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر کھڑا ہوگیا اور اس نے اپنے سامنے ایک گتے پر لکھ رکھا تھا “اگر آپ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں تو مجھے گلے لگایئے، میں ایک مسلمان ہوں اور مجھے کہاجاتا ہے کہ میں دہشت گرد ہوں”۔ یہ دیکھنے کے بعد پیرس کے رہنے والے بڑی تعداد میں اس سے گلے ملنے لگے۔ کچھ لوگ اس جذباتی منظر کو دیکھ کر روتے رہے۔ ایک طویل وقفے تک مجمعے سے نکل کرآنے والے مردوخواتین نوجوان سے بغل گیر ہوتے رہے جس کے بعد نوجوان نے اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی اتار دی اور کہا کہ میں آپ میں سے ہر ایک کا شکرگزار ہوں جو مجھ سے بغل گیر ہوا، میں نے یہ سب کچھ ایک پیغام دینے کے لیے کیا اور وہ پیغام یہ تھا کہ “میں ایک مسلمان ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دہشت گرد ہوں”۔ میں دہشت گردی کے اس سانحہ میں نشانہ بننے والے افراد کے اہل خانہ کے گہرے دکھ کو محسوس کرتا ہوں اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مسلمان ہونے کا مطلب لازماً دہشت گرد ہونا نہیں ہے۔ اس پیغام کو سن کر لوگوں نے تالیاں بجائیں اور خوشی کا اظہار کیا۔

 

http://dai.ly/x3edtph

اسی طرح مسلم نوجوانوں کی جانب سے شروع کیا گیا ٹویٹر ٹرینڈ “میرے نام پر نہیں” بھی مذہبی دہشت گردوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ مذہب کو دہشت گردی کے لیے جواز نہیں بنا سکتے۔پاکستانی نوجوانوں نے اپنی ایک ویڈیو میں پیرس حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ انہیں بھی اتنا ہی صدمہ ہے۔

 

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثارنے کہا ہے کہ تارکین وطن پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ دہشت گردی کےحالیہ واقعات سے بیرون ملک پاکستانیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا، جبکہ پیرس میں موجود پاکستانی سفیر غالب اقبال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فرانس میں مقیم پاکستانی برادری نہ صرف مکمل طور پر محفوظ ہے اور وہ قطعی طور پر ایسا نہیں سمجھتے کہ پیرس پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں انہیں کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اور ہمارے سفارت خانوں کو یورپ اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے رابطے میں رہنا چاہیئے، عام پاکستانیوں کو بھی چاہئیے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی اطلاع فوری طور پر اپنے سفارت خانے کو دیں۔

 

فرانسیسی پولیس نے جب مجرموں کا پیچھا شروع کیا تو ایک خاتون خودکش بمبار حسنہ آیت ابوالحسن تک پہنچ گئے لیکن 26سالہ حسنہ نے گرفتار ہونے کے بجائے پولیس کارروائی کے دوران مبینہ طور پر خود کو بم سے اُڑا لیا تھا۔ حسنہ آیت ابوالحسن پیرس کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اباعود کی کزن تھی۔ اُس کی لاش پیرس کے شمال میں واقع ایک نواحی علاقے کے اُس اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئی ہے جہاں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پیرس حملوں کے مبینہ ماسٹرمائنڈ کو ہلاک کر دیا تھا۔ حسنہ آیت ابوالحسن کے خاندان کے افراد اور دوستوں کاکہنا ہے کہ حسنہ نے پارٹی گرل سے بنیاد پرست بننے کا سفر صرف چھ ماہ میں طے کیا۔ حسنہ کی متزلزل پرورش ہوئی اور اس نے حکومتی نگرانی میں چلنے والے کیئرہومز میں بھی وقت گزارا ۔ حسنہ کو اس کے دوست مخبوط الحواس کہتے تھے اور وہ کاؤ بوائے ہیٹ اور جوتے پہننا کرتی تھی۔ حسنہ آیت ابوالحسن کے بھائی نے بتایا کہ “حسنہ اچانک ہی چھ ماہ میں بنیاد پرست بن گئی، اس نے پہلے حجاب پہننا شروع کیا پھر پورے چہرے کا نقاب پہننے لگی، وہ متزلزل تھی، اس نے کبھی مذہب کا مطالعہ نہیں کیا اور میں نے کبھی اسے قرآن پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا”۔ حسنہ آیت بوالحسن کی پڑوسی صوفین نے بتایا کہ وہ تیز طرار تھی اور ساتھ ہی مخبوط الحواس بھی تھی۔

 

داعش اور اس جیسی جنگجو مذہبی جہادی تنظیموں کی پیداوار کی ایک بڑی وجہ بنیاد پرست اور سیاسی اسلام کے ساتھ ساتھ مغرب اور امریکہ کی توسیع پسند خارجہ پالیسی اور مسلم ممالک میں غیر جمہوری حکومتوں کے باعث پیدا ہونے والاسیاسی اور نظریاتی خلاء ہے۔
داعش اور اس جیسی جنگجو مذہبی جہادی تنظیموں کی پیداوار کی ایک بڑی وجہ بنیاد پرست اور سیاسی اسلام کے ساتھ ساتھ مغرب اور امریکہ کی توسیع پسند خارجہ پالیسی اور مسلم ممالک میں غیر جمہوری حکومتوں کے باعث پیدا ہونے والاسیاسی اور نظریاتی خلاء ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان اور عراق میں مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کا ایک نتیجہ داعش ہے بالکل ویسے ہی جیسے افغان جہاد کے نیتجے میں القاعدہ پیدا ہوئی تھی۔ عرب ممالک کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے بھی داعش جیسی تنظیم کی سرپرستی کی گئی۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر عراق جنگ میں ہونے والی غلطیوں کا عتراف بھی کر چکے ہیں۔ داعش والے دہشت گرد تو ہیں لیکن مسلمان نہیں، یہ کمزور ذہن اور متزلزل مسلمانوں کو مذہب کے نام پر استمال کرتے ہیں اور ان کی بے روزگاری بھی ختم کرتے ہیں، اس بات کا ثبوت پیرس کے شمال میں واقع ایک نواحی علاقے کی رہنے والی ایک خاتون خودکش بمبار حسنہ آیت ابوالحسن ہے۔ یہ دہشت گرد جو نام نہاد مسلمان بنے ہوئے ہیں درحقیقت کرائے کے قاتل ہیں تاہم بدقسمتی سے مسلم دنیا میں ابھی تک ایسی تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر مزمت یا مزاحمت کا رحجان دیکھنے کو نہیں ملا۔
Categories
نقطۂ نظر

امریکی خارجہ حکمت عملی کے سامراجی خدوخال

روس شام میں داعش کے خلاف محاذ کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی میڈیا پر روس کو لے کر دو طرح کی بحث دیکھنے کو ملتی ہے؛ ایک تو یہ کہ روس داعش سے زیاد ہ بشارالاسد کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے مخالف باغیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور چونکہ یہ باغی داعِش کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہیں سو اِنہیں کمزور کرنے سے داعِش مضبوط ہوسکتی ہے اور اِس سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ یوں اس طرح کے آپریشن سے لوگ زیادہ متنفر ہو سکتے ہیں اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ خد شہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے کئی سالوں سے جاری کارروائیوں کی نسبت روس کی جانِب سے کی گئی کاروائی نے داعش کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ماسکو آ نے والے دنوں میں بشارالاسد اور اس کے حامیوں کو شام میں ایک اچھی حکومت چلانے کے لیے کسی دوسرے گروہ یا شخص سے زیادہ منا سب سمجھتا ہے۔ مگر امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی اور رویہ ہمیشہ روس سے مختلف رہا ہے۔ وہ نہ تو اپنی سر زمین پہ جنگ چاہتا ہے اور نہ کبھی ہونے دیتا ہے۔ جب امریکہ کو کسی مضبوط ریاست سے کسی قسم کا خطرہ ہوتا ہے وہ اس کے کمزور ہمسائے کے ساتھ یا تو سفارتی تعلقات بناتا ہے یا پھر عسکری تعلقات استوار کرتا ہے۔ امریکہ ہمیشہ کسی خطے میں ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے سیاسی دوست چاہتے ہیں۔ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی معیشت چین کو مات دینے کے لیے امریکہ وہاں قدم جمانا چاہتا تھا مگر وسطی ایشیا پہ ایران کے ساتھ سیاسی اختلافات ہونے کی وجہ سے اس نے افغانستان میں اپنی پسند کی حکومتیں لانے کی کوشش کی تا کہ وسطی ایشیا میں کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وہاں فوج موجود ہو۔ امریکہ افغانِستان میں عین ویسی حکومت کا خواہاں ہے جیسی خظے میں موجود اس کے سیاسی حلیف پاکِستان اور بھارت چاہتے ہیں۔
امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔

 

امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔ عراق اور افغانستان کے بعد بظاہر امریکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں میں بھی براہِ راست عسکری مداخلت چاہتا تھا تا کہ افغانستان میں اپنے فوجیوں اور تنصیبات کو محفوظ بنا سکے مگر اس وقت کی پاکِستانی قیادت اس سے نا خوش تھی سو وہ براہِ راست مداخلت نہ کر سکا۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے دوران پاکستان کو اتحادی بنائے رکھنے کے بعد اب امریکہ نے ہندوستان کو خطے میں اپنے حلیف کے طور پر دیکھنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان نے امریکہ کی بجائے چین پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔ اوبامہ نے خود بھارت کا دورہ کیا اور کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔

 

دیگر سامراجی طاقتوں برطانیہ اور فرانس کی طرح امریکہ بھی مذہب کو اپنے لیے کار گر حربہ سمجھتا ہے۔ اَسّی کی دہائی میں روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر امریکہ نے افغانستان میں نجیب حکومت گرانے کے لیے یہاں مذہب کی بنیاد پر مزاحمت کی سرپرستی شروع کی۔ لوگوں کو مذہب کے نام پر انتہا پسند بنا کر پاکستان اور سعودی عرب کی مدد سے مجاہدین بنائے گئے تاکہ ایک تو خطے میں بڑھتے ہوئے روسی اثرورسوخ روکا جا سکے اور آنے والے دنوں میں یہاں پر اپنی موجودگی کے لیے کوئی جواز تراشا جا سکے۔
امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔

 

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ صورتِ حال پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ شام اور عراق میں امریکہ بالکل ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے حامی ترکی، اِسرائیل اور سعودی عرب چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے امریکہ حلیف بھی اب امریکی طرز پر اپنے مفادات کے حصول کے لیے عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی اور براہ راست مداخلت کی راہ اپنا چکے ہیں ۔ شام اور عراق میں امریکی و سعودی مداخلت کے باعث شیعہ، سنی تصادم میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔ ان تنظیموں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان اور عراق میں امریکی اور اتحادی افواج کی مداخلت سے دنیا میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکی حکمت عملی مختلف وجوہ کی بناء پر ناکام ہوئی ہے اور القاعدہ سے زیادہ خوفناک تنظیموں کی شکل میں نئے عفریت سامنے آئے ہیں۔
یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔

 

داعش کے خلاف امریکہ اور اتحادیوں کی کارروائیاں غیرموثر رہی ہیں کیوں کہ امریکی حکام شام اور عراق میں اپنے مفادات کے تحت مخصوص گروہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ امریکہ نے جو ہتھیار شامی باغیوں کے حوالے کیے تھے وہ بھی داعش کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ داعش کے خلاف سب سے موثر مزاحمت کردِش آرمی پیش مر گہ کی جانب سے کی جارہی ہے لیکن امریکہ کی جانب سے انہیں ہتھیار فراہم کرنے یا تربیت دینے کے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے اور اور نہ ہی امریکہ کے کسی سیاسی یا عسکری حلیف کی طرف سے انہیں کوئی کمک حاصل ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے کرد مزاحمت کار مضبوط ہوسکتے ہیں اور قوم پرست پیش مرگہ ترکی میں اردگان کے لیے سردرد بن سکتے ہیں۔ ترکی پیش مرگہ کو اس وقت بھی نشانہ بناتا ہے جب وہ کوبانی میں داعش کے خلاف جان کی بازی لگا کر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یوں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ترکی شمالی کردستان میں داعش کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے کرد علاقوں میں اپنی فوج استعمال کرسکے۔

 

شامی خانہ جنگی اور یمنی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کردار تخریبی رہا ہے۔ یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔ اس طرزعمل نے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کیا ہے اور مسلح عسکریت پسندی کو عام کیا ہے۔ اگر امریکہ واقعی مشرقِ وسطٰی میں داعش اور دیگر انتہا پسندوں کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے روس، عراق اور ایران کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ امریکہ کو ترکی اور سعودی عرب جیسے اپنے حلیفوں کے مفادات کو پسِ پشت رکھتے ہوئے عالمی اتفاق رائے کے قیام کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ امریکہ اور سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں نجی ملیشیاز اور جہادی گروہوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی روش ترک کر دیں نہیں تو آنے والے دِنوں میں پاکستان کی طرح اس کا خمیازہ ان ممالک کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

قاتلوں کے عزائم

سولہ دسمبر کا دن ہمارے لئے قیامت صغریٰ ہی تو تھااس رات ایسی کوئی آنکھ نہ ہوگی جو اشکبار نہ ہو۔ سولہ دسمبر کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن رہا ہے اور اب اس کی سیاہی مزید گہری ہوگئی۔ جو ایک سو تیس معصوم جانیں چھین لی گئیں، خدا انکے والدین کو صبر عطا کرے لیکن وہ سینکڑوں جو بچ گۓ انکی زندگی شاید پھر کبھی نارمل نہ ہوپاۓ، اپنے ساتھیوں کی قبروں کی مٹی اور خون آلود لاشے تمام عمر ان کے دلوں میں تازہ رہیں گے۔سولہ دسمبر کی رات ہم سب نے شدید اذیت میں گزاری ہے،سب افسردہ تھے، غمگین تھے اور صدمے کی کیفیت میں تھےلیکن سب سے غالب عنصر لاچارگی کا تھا۔ ہم سب کو اس وقت اپنی بیچارگی پر سخت غصّہ تھا، ہم سب ہی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے تقریباً محروم تھے لیکن آج ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ حملہ کے بعد سے اب تک یہ سب شمالی وزیرستان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے، آرمی اسکول پر طالبانی حملہ دراصل انتقامی کارروائی ہے لیکن یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟
ذرا غور کریں کیا اس سے پہلے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں بچے ہلاک نہیں ہوۓ؟ آل سینٹس چرچ، پشاور پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد بچوں کی بھی تھی جو وہاں اپنے والدین کے ساتھ عبادت کرنے آۓ تھے۔ہزارہ برادری اور شیعہ زائرین پر ہونے والے حملوں میں بھی بچوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے ہیں لیکن ان حملوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کی حیثیت ہمارے لیے محض ایک اخباری خبر کی سی ہوتی ہے۔
داعش کے پاس وہ سب کچھ ہے جو انتہا پسند جنگجوؤں کے لئے کشش کا باعث ہے؛ نقل و حرکت کی آزادی، قتل و غارتگری کی آزادی،وسائل کی فراوانی اور نظریاتی مماثلت، یہ چیزیں القاعدہ اور طالبان میں شامل نچلے درجے کے جنگجوؤں کو میسر نہیں
رواں سال اکتوبر میں عید الاضحٰی کے موقع پر طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے داعش کے ساتھ حمایت کا اعلان کیا تھا، اس اعلان میں داعش کو بھائی کہہ کر مخاطب کرتے ہوۓ ترجمان طالبان نے تنظیم کو اسکی کامیابیوں پر مبارکباد دی تھی اور بھرپور حمایت کا اعلان بھی کیاتھا۔ طالبان کی طرف سے داعش کی حمایت کا بعد ملک بھر میں داعش کی حمایت میں وال چاکنگ کا سلسلہ سا چل نکلا تھا اور پاکستان میں داعش کی موجودگی کی خبریں ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے لگی تھیں۔
ضرب عضب کے آغاز سے اب تک پاکستانی طالبان (جنہیں خطّے کی ایک خطرناک طاقت سمجھا جانے لگا تھا) کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے،ان کا نیٹ ورک کم زورہوا ہےاسی لیے انتہا پسند جنگجو، القاعدہ کی بجائےداعش کی جانب راغب ہوئے ہیں- داعش میں شمولیت سےشدت پسندوں کو اپنا سابقہ اثرورسوخ بحال کرنے میں مدد ملنے کی امیدہے۔ داعش کی قیادت، القاعدہ اور طالبان کی طرح بوڑھی اور محتاط نہیں ہے، ان کے پاس بہترین پروپیگنڈا مشینری اور سفاک ترین قاتل موجود ہیں- داعش ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی طاقت سے بھی اچھی طرح واقف ہے اورسماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس تنظیم کی فعال موجودگی سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ القاعدہ کے برعکس داعش اپنے نظریات اور کارروائیوں کی سفاکیت چھپانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ داعش کے پاس وہ سب کچھ ہے جو انتہا پسند جنگجوؤں کے لئے کشش کا باعث ہے؛ نقل و حرکت کی آزادی، قتل و غارتگری کی آزادی،وسائل کی فراوانی اور نظریاتی مماثلت، یہ چیزیں القاعدہ اور طالبان میں شامل نچلے درجے کے جنگجوؤں کو میسر نہیں اور یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے انتہا پسند داعش کی طرف زیادہ مائل ہیں اور بڑی تیزی کے ساتھ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔
پشاور سانحہ سے دوروز قبل، آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک کیفے کو یرغمال بنانے والا ایرانی شخص ہارون مونس، داعش کی حمایت حاصل کرنا چاہتا تھا- اسی طرح پچھلے دنوں انڈیا میں گرفتار کیا جاے والا ‘شامی وٹنس’ بھی داعش کا ہی پرستار تھا۔اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک طالبان کے کے کم از کم چھ گروہ داعش سے الحاق کر چکے ہیں۔ داعش کی شدت پسند جہادی تنظیموں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر ہی رواں برس ستمبر میں القاعدہ نے مقامی جہادی گروہوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اپنی مقامی شاخ کا اعلان کیا تھا۔مشکل یہ ہے کہ طالبان، ملا عمر کو اپنا امیر مانتے ہیں اور القاعدہ سے وابستگی رکھتے ہیں، داعش سے وابستہ ہوکر وہ اپنے امیر سے غدّاری کے مرتکب نہیں ہوسکتے ہاں البتہ داعیش کی طرف دوستی کا ہاتھ ضرور بڑھا سکتے ہیں۔
داعش اور القاعدہ کے بیچ جنوبی ایشیاء کے کروڑوں مسلمانوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لئے مسلسل رسہ کشی جاری ہے،طالبان نے داعش کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ایک طرح سے اس تنظیم کو پاکستان میں اپنی خدمات کی پیشکش کی ہیں اور پشاور آرمی سکول پر حملہ کو داعش کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔پشاور سانحہ کے پیچھے طالبان کے اصل عزائم صاف نظر آتے ہیں۔ یہ کارروائی آرمی سے بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ داعش کو اپنی صلاحیتوں سے واقف کرانے کا ایک ذریعہ بھی تھی۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اسکول کو محض اس کے ایک کمزور ٹارگٹ ہونے کی وجہ سے ہی منتخب نہیں کیا گیا تھا، اس حملے کا ماسٹر مائنڈ اچھی طرح جانتا تھا کہ آرمی اسکول میں ایک بار اندر گھس جانے کے بعد حملہ آوروں کا زندہ باہر نکلنا ناممکن ہے،اس لئے یرغمالی کارروائی کی بجاۓ ، مارو اور مرجاؤ کا منصوبہ تشکیل دیا گیا۔
طالبان نے داعش کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ایک طرح سے اس تنظیم کو پاکستان میں اپنی خدمات کی پیشکش کی ہیں اور پشاور آرمی سکول پر حملہ کو داعش کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
محض فوج سے بدلہ لینے کے لیے خودکش حملے یا بم دھماکے بھی استعمال کیے جاسکتے تھے اور چھٹی کے وقت خودکش حملہ کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا جا سکتا تھا،لیکن اس طرح اصل داعش تک اپنی وفاداری اور اہلیت کا پیغام ٹھیک طرح پہنچانا ممکن نہ تھا اس لئےداعش کی طرز پر چن چن کر بچوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔اور وہی ہوا معصوم جانوں کا قتل کر کے طالبان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بھی داعش کی طرح سفّاک قاتل ہیں اور ان کے دلوں میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں، ٹھیک داعش ہی کی طرح اپنے مکروہ عمل کو جائز قرار دینے کے لئے اسلامی تاریخ سے واقعات کو سیاق وسباق سے ہٹا کر اور مسخ کر کے جواز بھی پیش کیا گیا ہے۔
طالبان بخوبی واقف تھے کہ اس حملہ کے نتیجے میں پاکستان کی جانب سے فوجی آپریشن نہ صرف تیز ہوگا بلکہ عوامی حمایت میں بھی نمایا کمی ہو گی لیکن اس کے باوجود اس حملہ کا کیا جانا اور اس میں ازبک جنگجووں کی شمولیت یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستانی طالبان اب افغان طالبان اور القاعدہ کی جگہ د اعش کی جانب حمایت کے لیے دیکھ رہے ہیں۔ پشاور حملہ ضرب عضب کا بدلہ لینے کے ساتھ داعش کی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔دوسری جانب انہوں نے اپنے آقاؤں کی آنکھوں پر یہ کہہ کر پردہ ڈال دیا ہے کہ یہ حملہ ضرب عضب کے خلاف انتقامی کارروائی ہے- لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ محض انتقامی کارروائی ہے تو افغان طالبان اتنے برہم کیوں ہیں پشاور سانحہ پر افغان طالبان کی برہمی صاف بتا رہی ہے کہ جو کچھ ہم خبروں اور تجزیوں میں سن رہے ہیں وہ مکمل سچ نہیں، افغان طالبان بھی ہوا کا رخ دیکھ رہے ہیں اور یہ جان گۓ ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کا جھکاؤ داعش کی طرف ہوچکا ہے اور یہ سب کچھ خود کو داعش کا منظورنظر بنانے کی کوشش ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

داعش اور مسئلہ عراق

فٹ بال کے عالمی مقابلے اور شمالی وزیر ستان آپریشن نیز علامہ طاہر القا دری ایسی بلند قامت دیواروں کے پیچھے جو واقعہ ہماری نظروں سے مسلسل اوجھل ہو رہا ہے وہ ہے عراق کا بحران اور بین الاقو امی سیاسی منظر نامے میں اس کی غیر معمولی اہمیت۔ داعش کی برق رفتار فتوحات اور بغداد کے گرد ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ ہونے والا گھیرا یہ سمجھنے کو کافی ہے کہ عالمی سیاست کا دھارا اب مشرق وسطیٰ کا رخ کر چکا ہے۔ داعش بنیادی طور پر اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کا ایسا جتھہ ہے جو عراق ، شام ، لبنان اور بعد ازاں ترکی کے علاقوں پر مشتمل اسلامی خلافت کے قیام کے لئے لڑائی کر رہے ہیں۔2003 سے متحرک اس گروہ نے اس سال کے اوائل میں القا عدہ سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بعد اپنے طور پر سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس کے موجودہ امیر ابوبکر البغدادی ہیں جو عراق پر امریکی قبضے کے دوران قید میں بھی رہے۔ البغدادی نے بغداد یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے رکھی ہے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ جنگی حکمت کے مالک ہیں۔
داعش بنیادی طور پر اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کا ایسا جتھہ ہے جو عراق ، شام ، لبنان اور بعد ازاں ترکی کے علاقوں پر مشتمل اسلامی خلافت کے قیام کے لئے لڑائی کر رہے ہیں۔
داعش کو کچھ لوگ عراق کے طالبان سمجھتے ہیں جو میرے خیال میں کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ صدام حسین کی برطرفی کے بعد عراق میں دبے ہوۓ شیعہ سنی مسئلے کا ابھر آنا داعش کی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملنے کی ایک اہم وجہ ہے جو پاکستانی طالبان کے معاملے میں نہیں ہے۔ عراق کے موجود وزیر اعظم المالکی پر لگنے والے الزامات کہ وہ سنی اقلیت کے ساتھ تعصب کا رویہ رکھتے ہیں اور انہیں حکومت میں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ نیز عراق کے اندرونی معاملات میں ایران کا حد سے بڑھتا ہوا کردار بھی معاملے کو مزید گنجلک بنا دیتا ہے۔ چنانچہ عراقی سنی آبادی میں پائی جانی سیاسی محرومی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوۓ داعش ان سب کو حکومت مخالف محاذ میں اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اگرچہ سنی آبادی کا ایک معقول حصہ اب بھی داعش سے اشتراک کا قائل نہیں ہے مگر عراقی سرکاری افواج کی داعش سے مسلسل شکستوں کے بعد جب آیت اللہ سیستانی کی جانب سے شیعہ عوام سے یہ کہا گیا کہ وہ رضا کارانہ طور پر داعش کے خلاف لڑنے میں حکومت کا ساتھ دیں اور پھر مقتدیٰ الصدر کے فرمان پر مہدی آرمی کی بغداد میں فوجی پریڈ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے عراقی سنی عوام میں یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ ان کی بقا داعش کے ساتھ ملنے میں ہے۔ عراقی کردستان میں بغداد سے آنے والے سنی مہاجرین نے ایک صحافی کو یہ بتایا کہ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس عراقی حکومت یا داعش کے علاوہ کوئی تیسرا امکان نہیں بچا۔ آپ اس بیان سے مسئلے کی پیچیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری اور شام اور اردن کی سرحدی چوکیوں کے بعد اب داعش بغداد سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر ہے اور شاید بغداد پر حملے سے بھی پہلے داعش حدیثیہ کے ڈیم پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گی اور ایسی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں عراق کی جنگ اپنے سنجیدہ اور خطرناک ترین حصے میں داخل ہو جاۓ گی۔
عراقی کردستان میں بغداد سے آنے والے سنی مہاجرین نے ایک صحافی کو یہ بتایا کہ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس عراقی حکومت یا داعش کے علاوہ کوئی تیسرا امکان نہیں بچا۔
کہا جاتا ہے کہ داعش میں صدام دور کے کئی فوجی افسران بھی شامل ہیں جنہوں سے بعث پارٹی کی حکومت کے دنوں میں سوویت یونین سے فوجی تربیت حاصل کی تھی اور داعش کی جنگی کامیابیوں میں ان افسران کا اہم کردار ہے۔ چند روسی تجزیہ کار اس امر کو فخریہ انداز میں جارجیا میں امریکی تربیت یافتہ افواج کی روسی فوج سے شکست کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ جو چیز عراقی بحران کو شام کے بحران سے جدا کرتی ہے وہ صدام دور میں حکومتی سطح پر غالب رہنے والا سنی مسلمانوں کا وہ طبقہ ہے جسے صدام کے بعد عراقی منظر نامے سے غائب کر دیا گیا تھا جبکہ شام میں طویل عرصے سے کوئی سنی حکومت رہی ہی نہیں۔ شام اور عراق کے مسئلے کو اس انداز میں بھی جدا جدا دیکھا جا سکتا ہے کہ عراق میں داعش کے خلاف امریکہ اب تک عراق کا ایک محتاط اتحادی ہے جبکہ شام میں یہی امریکہ داعش اور اس جیسے دیگر حکومت مخالف دھڑوں کی حمایت میں سرگرم ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے کانگریس سے 50 کروڑ ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے جو شام میں قابلِ اعتماد باغیوں کی مدد میں استعمال ہو گی۔ اس امر کے امکانات بہت کم ہیں کہ امداد کی یہ رقم شفاف طریقے سے تقسیم کی جاسکے گی۔ امریکی حکومت نے عراق کے بارہا مطالبے کے باوجود اب تک عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی کاروائی نہیں کی جبکہ شام کی جانب سے عراق میں داعش پر بمباری اور روس کی جانب سے عراقی حکومت کو جنگی طیاروں کی کھیپ دئیے جانے کا عندیہ داضح طور پر بتا رہا ہے کہ امریکہ عراق میں داعش کے خلاف کھل کر فوجی کاروائی نہیں کرے گا اور بشار الاسد اور روس کا دیرینہ اتحاد عراق میں المالکی حکومت اور ایران کے اتحاد سے مل کر داعش کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس صورت حال میں یہ واضح ہے کہ امریکہ شام کے بحران کے تناظر میں ہی عراق میں کاروائی کرے گا۔ ایران کا امریکہ سے عراقی مسئلے پر متوقع اشتراک ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے امریکہ مخالف بیان کی وجہ سے تقریباً کھٹائی میں پڑ چکا ہے۔ مگر آیت اللہ کا یہ بیان کوئی رسمی بیان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ المالکی کی جگہ عراق میں اپنی پٹھو حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ شاید ایران کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ عراق میں امریکہ کی کاروائی شام کے بحران کو سامنے رکھے بغیر ممکن نہیں جہاں امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ نیز ایران یہ بھی جان چکا ہے کہ عراق میں امریکہ کسی بھی کاروائی کو حکومت میں سنی نمائندگی سے مشروط رکھنا چاہے گا جو مستقبل میں عراق میں ایرانی مفادات کے حق میں نہیں ہے۔ بغداد میں القدس فورس کے چیف سمیت ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ ” تہران عالمِ مشرق کا جنیوا بننے” کا خواب تنہا پورا کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن ایران کی حالیہ پالیسی عراق میں شیعہ سنی مسئلے کو بڑھاوا ہی دیتی آئی ہے اور اب خبر ہے کہ ہندوستان سے بھی شیعہ رضاکار عراق کی جنگ کا حصہ بننے کا تیار ہیں۔
مسلم ممالک کو یہ جان لینا چائیے کہ جمہوریت کی کامیابی سیکولرازم اپناۓ بغیر ممکن نہیں ہے۔
ہمارے لئے اس تمام بحران میں جو شے سب سے زیادہ قابلِ غور ہے وہ مسلم ممالک میں جمہوریت کی مسلسل ناکامی اور اس کی بڑی وجہ حکومتوں کا مذہبی ہونا ہے۔ تباہ حال عراقی شہری یہ گلہ بھی کرتے ہیں کہ صدام کے دور میں کم ازکم سیکورٹی کے ایسے سنگین مسائل تو نہیں تھے جو امریکی حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جمہوریت میں ہیں۔ مسلم ممالک کو یہ جان لینا چائیے کہ جمہوریت کی کامیابی سیکولرازم اپناۓ بغیر ممکن نہیں ہے۔ جب عوام ہی حکومت کا چناؤ کرتے ہوں تو طاقت کا سر چشمہ بھی عوام کو ہی ہونا چائیے ناکہ کسی مذہبی عقیدے یا مافوق الفطرت خدا کو۔ عراق کا یہ مسئلہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتا اگر عقیدے کی بنا پر عوام کو طبقات میں تقسیم نہ کیا گیا ہوتا۔ مسلم ممالک بشمول پاکستان میں ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ جمہوریت اور مذہب کو جوڑ کر حکومت چلانے کے تجربے اکثر اسی بنا پر ناکام ہوۓ ہیں کہ جمہوریت تمام شہریوں کو ان کی شہریت کی بنیاد پر مساوی سمجھتی ہے جب کہ مذہب عوام کی ایسی تقسیم کا قائل ہے جو عقیدے کی بنیاد پر ہو۔ یہ واضح تناقض مسلم جمہوریتوں کی ناکامی اور سیکورٹی مسائل نیز بار بار کے مارشل لا ء کی بڑی وجہ ہے۔