Categories
نقطۂ نظر

عراق، شام، تیل اور داعش

فرانس کے تاریخی شہر اور دارالحکومت پیرس میں خوفناک حملوں سے یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح ہوگئی ہے کہ عراق وشام میں سرگرم دہشت گرد اب یورپ کے محفوظ ممالک تک رسائی رکھتے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم دنیا کی سب سے امیر اور خوفناک دہشت گرد اسلامی تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) نے قبول کی تھی۔ داعش کے حوالے سے خوف اور خبریں تو بہت ہیں لیکن اس گروہ کے پس منظر اور تشکیل سے متعلق بے حد ابہام ہے۔

 

2003ء میں امن، جمہوریت اور انسانی آزادیوں کے ‘علمبردار’ امریکہ نے اپنے یورپی حواریوں کے ہمراہ عراق پر حملہ کیا۔ حملے کی وجہ وہ ناقابل بھروسہ انٹیلی جنس معلومات تھیں جن کے مطابق عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا اورصدام حکومت کے القاعدہ سے مراسم کا ‘انکشاف’ کیا گیا۔ حملہ آوروں کے خیال میں عراق کے پاس موجود ہتھیار اور القاعدہ سے اس کے روابط سے دنیا بھر کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ جب ان ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہ ملا توپھر یہ شوشہ چھوڑ اگیا، کہ گزشتہ تین دہائیوں سے عراق صدام حسین کی آمریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا اور اب مہذب دنیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ عراقی عوام کو صدام کی آمریت سے نجات دلاکر جمہوری روایات سے روشناس کرائے۔ اُس وقت برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا سمیت نیٹو کے 48 ممالک امریکہ کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک تھے۔ اس حملے کے دوران ان ممالک نے عراق کے مستقبل کا فیصلہ عراقی عوام کی صوابدید پر چھوڑنے کی بجائے اسلحے اور طاقت سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔ عراق میں نافذ کیا جانے والا نیا جمہوری نظم سنی اقلیت کو مناسب نمائندگی اور حقوق دینے میں ناکام رہا۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے دنیا بھر کی جہادی تنظیموں نے عراق کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

 

عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔
عراق میں القاعدہ کا قیام:

 

داعش کی ابتداء اور ارتقاءکو سمجھنے کے لیے پہلے ان عوامل اور محرکات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے یہاں ایسے سخت گیر سنی گروہ کے لیے گنجائش پیدا ہوئی اور بغداد اس ‘کالی آندھی’ کی لپیٹ میں آگیا۔ عراق پر سن 2003ء میں امریکی حملے کے ایک سال بعد 2004ء میں القاعدہ نے وہاں پر اپنی شاخ قائم کی۔ عراق کے سماجی ڈھانچے میں بہت بڑے سیاسی و انتظامی خلاء کے ساتھ شیعہ سنی کشیدگی بھی موجود تھی۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی سنی آبادی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین میں القاعدہ کو پنپنے میں بڑی آسانی رہی۔ Vox.com پر 19 نومبر 2015ءکو ISIS, a history: how the world’s worst terrorist group came into beingکے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی ایس دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور دہشت گرد گروہ ہے جو سن 2003ءکو امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد وجود میں آیا۔ اس حملے نے عراقی سماج کے سارے مظاہر کو تہس نہس کر دیا جس سے عراق طوائف الملوکی اور انتشار کا شکار ہو گیا۔ بیرونی دنیا کے دہشت گرد عراق کی جانب مائل ہوئے۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ نے صدام حسین کی سیاسی جماعت اور سنی العقیدہ سول اور فوجی نظم کو ختم کیا اور شیعہ اکثریت کے تعاون سے نئی حکومت کھڑی کی۔ جب عراق میں القاعدہ نے اپنی شاخ قائم کی تو وہ صدام دور کے فوجی اہلکاروں اور فسران کے لیے مزاحمت اور روزگار کا ایک موقع ثابت ہوئی۔ 2004ء ہی میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اورمشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔ مسلکی بنیادوں پر اس قتل و غارت کا بنیادی مقصد شیعہ سنی تفریق کو بڑھا کر خانہ جنگی کو ہوادینا تھا، اسی تکفیری طرز پر داعش بھی اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر ہی ہے۔ عراق اور افغانستان میں القاعدہ کے کمزور ہونے اور بیشتر قیادت کے مارے جانے کے باعث عملاً القاعدہ کی دہشت گردانہ سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں جس کے بعد عراق میں القاعدہ کی شاخ نے شام اور عراق کی خانہ جنگی اور شیعہ سنی تفریق کا فائدہ اٹھا کر سخت گیر اور بنیاد پرست اسلامی تکفیری فکر کی بنیاد پر اپنی تنظیم سازی شروع کی۔

 

نوری المالکی حکومت اور داعش:

 

عراق پر قبضے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے عراق میں جمہوری نظام رائج کرنے کے حوالے سے انتخابات منعقد کیے۔ ان انتخابات میں شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نوری المالکی کو کامیابی ملی۔ عراق کی کل آبادی کا 60 فیصد شیعہ، 22 فیصد صدام حسین کے حامی عرب سنی اور 18 فیصد صدام مخالف کرد سنی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں مسلکی بنیادوں پر شیعہ حکومت قائم ہوئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق نوری المالکی نے اعتدال پسند سیکولر سیاسی و آئینی نظام کے قیام اور سنی اقلیت کو اقتدار میں جائز نمائندگی فراہم کرنے کی بجائے مسلکی تعصبات پر مبنی حکمرانی کی۔ اور یوں وہ سنی اقلیت جو برسوں سے عراق پر حکمران رہی تھی سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی۔ نوری المالکی کی حکومت کے امتیازی سلوک سے سنی اقلیت خود کو غیر محفوظ سمجھنے کے علاوہ شدت پسند گروہوں میں اپنی بقاء تلاش کرنے لگی۔

 

دو ہزار چودہ میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اور مشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔
عراق اور شام کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بہت حد تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عراق میں مداخلت اور ناہلی پر عائد ہوتی ہے۔ تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔ زید ال علی فارن پالیسی میں How Maliki Ruined Iraqکے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں وضاحت کرتے ہیں: ”بالآخر 2010ء میں عراق سیکیورٹی کے لحاظ سے نسبتاً بہتر پوزیشن میں آگیا اور ملک کے مختلف مذہبی و نسلی گروہوں کے درمیان مثبت تعلقات استوار ہوگئے۔ لیکن یہ تبدیلی دیر پا ثابت نہ ہوئی۔ کیونکہ نوری المالکی نے سیاسی و انتظامی شعبوں سے اپنے مخالفین کو بے دخل کر دیا، فوج میں من پسند افراد کا تقرر کیا جبکہ پر امن احتجاجیوں کو کچل ڈالا۔ یہی وہ وجوہ تھیں جنہوں نے داعش کو پھلنے پھولنے میں مدد دی“۔

 

داعش کا ارتقاء:

 

آن لائن مجلہ Crethiplethi.com 2009ء سے مشرقی وسطیٰ، اسرائیل، عرب دنیا اور جنوب مغربی ایشیاء وغیرہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس جریدے نے 20نومبر 2015ء کو The Historical Roots and Stages in the Development of ISISکے موضوع سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس ساری صورتحال کو یوں بیان کیاگیا ہے۔

 

“عراق میں امریکیوں نے نوری المالکی کی قیادت والی شیعہ اور قوم پرست جمہوری طرزِ حکمرانی کی حمایت کی تاہم اس دور میں تاریخی لحاظ سے عراق پر (برسوں سے قابض) سنی آبادی کو حکومت سے باہر رکھا گیا کیونکہ وہ (عددی اعتبارسے ) اقلیت میں تھی۔ عراق میں القاعدہ کے قیام سے لے کر داعش تک کے مراحل کو اس رپورٹ میں چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے “عراق او ر شام میں القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کا قیام چار مرحلوں میں مکمل ہوا“۔

 

1: پہلا مرحلہ (2004-06) پہلے مرحلے میں عراق میں ابو مصعب الزرقاوی کی قیادت میں القاعدہ کی شاخ کا قیام عمل میں آیا جس نے امریکہ اور اتحادی فوجیوں اور شیعہ آبادی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی پہلا مرحلہ اس وقت اختتام پزیر ہوا جب (القاعدہ کے راہنما) ابومصعب الزرقاوی جون 2006ء کو امریکہ کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

 

تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔
2: دوسرا مرحلہ (2006-11) دوسرے مرحلے میں “امارت اسلامیہ العراقیہ” کا قیام عمل میں آیا۔ آئی ایس آئی دوسری دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتی رہی جس نے امریکہ، اس کے اتحادیوں اور اہل تشیع کے خلاف گوریلا حملے جاری رکھے۔ اس زمانے میں امریکہ کی موجودگی، ان کی عسکری کارروائیوں اور اس دور کی کامیاب خارجہ و داخلہ پالیسی جس میں تمام عراقی طبقات کو عراقی نظم میں شامل رکھا گیا کی وجہ سے آئی ایس آئی کمزور رہی۔

 

3: تیسرا مرحلہ (2012سے جون2014): اس دوران “امارت اسلامیہ العراقیہ” نے خود کو مستحکم کیا اور شام میں جاری خانہ جنگی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس دوران اس تنظیم نے اپنا نام تبدیل کر کے امارت اسلامیہ عراق و شام یاISIS رکھ لیا۔ سن 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد داعش مزید مضبوط ہوگئی۔ ٹھیک اسی دوران افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک میں “بہارِعرب” آمریت مخالف تحریکیں شروع ہوئیں۔ شام میں “بہارعرب” کے اثرات پہنچنے اور بشارالاسد حکومت کے خلاف تحریک کے انسداد کے لیے طاقت کے استعمال سے شامی ریاست میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے داعش کو وہاں اپنے پاوں جمانے کا موقع ملا اور وہاں النصرا فرنٹ کے نام سے اس تنظیم کی شاخ قائم کی گئی۔

 

4: چوتھا مرحلہ (جون 2014ءکے بعد ): داغش کی عسکری فتوحات اور ڈرامائی کامیابی: اسی مرحلے میں داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ جما لیا۔ جبکہ مشرقی شام کے مختلف حصے بھی داعش کے قبضے میں آگئے۔ جہاں حکومتی مرکز ‘الرقہ’ پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد داعش نے اسلامی امارات (IS)یا اسلامی خلافت کے باقاعدہ قیام کا اعلان کر دیا جس کی قیادت داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کر رہے ہیں۔ ستمبر 2014ء میں امریکہ نے داعش کے خلاف بھر پور مہم کا آغاز کیا“۔

 

ابوغریب جیل پر حملہ:

 

21جولائی 2013ء کو البغدادی نے ایک منصوبے کے تحت بغداد کے قریب واقع ابوغُریب جیل پر حملہ کر دیا۔ اس جیل میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب خطرناک دہشت گرد موجود تھے۔ حملے میں صرف 50 داعش اہلکاروں نے حصہ لیا اور 500 دہشت گردوں کو رہا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔ حملے کے وقت جیل کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکار ذرا برابر بھی مزاحمت نہ کر سکے اور بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے داعش جنگجووں نے جیل توڑ ڈالی۔ بی بی سی نیوز میں 2 اگست 2014ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگرچہ داعش اور القاعدہ کے درمیان زیادہ ہم آہنگی موجود نہیں لیکن عراق اور شام کی حد تک دونوں مل چکے ہیں۔ اس گروہ میں شامل افراد کی کل تعداد کا صیحح اندازہ تو نہیں البتہ ہزاروں افراد اس گروہ سے منسلک ہیں۔ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی میدان جنگ کے بہترین کمانڈر اور منصوبہ ساز ہے۔ ابوبکر البغدادی نے دنیا بھر میں موجود عالمگیر سنی خلافت کے حامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے میں بہت کامیاب رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگار داعش اور القاعدہ کا تقابلی جائزہ یوں کرتے ہیں کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ایک امیر کبیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اور امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل تھے یعنی القاعدہ کا سربراہ جدید تعلیم یافتہ جبکہ ان کے پیروکار جاہل قبائلی تھے۔ اس کے برعکس داعش کی قیادت ناخواندہ جبکہ اس گروپ کے جنگجو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی بی سی انگریزی سروس کی اس رپورٹ میں لندن کے کنگ کالج کے پروفیسر پیٹرنغمان کے حوالے سے لکھا گیا ہے ”البغدادی کے گروپ (داعش) میں 80 فیصد غیر ملکی جنگجو شامل ہو کر شام میں لڑ رہے ہیں، جن میں سے اکثریت فرانس، برطانیہ، جرمنی، یورپین ممالک، امریکہ اور عرب دنیا سے تعلق رکھتے ہیں“۔

 

شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔
بشار الاسد کی گمراہ کن پالیسیاں:

 

Vox.com کی مذکورہ بالا رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ سن 2011ء میں جب شام بہارِ عرب سے متاثر ہونے لگا اور عوام سڑکوں پر نکل کر بشارالاسد کی آمریت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے تو اسی وقت بشارالاسد حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے اس عوامی تحریک کا رخ مذہبی شدت پسندی کی جانب ہو گیا۔ اسد نے انتہائی خطرناک جواء کھیلا، یعنی ان کا یہ خیال تھا کہ اگر ان کے مخالف مذہبی شدت پسند ہوں گے تو یورپ اور امریکہ اس مذہبی تحریک سے خوفزدہ ہو کر ان (اسد) کا ساتھ دیں گے اور یوں شام کی جمہوریت نواز سیکولر تحریک بشارالاسد کی غلط اور گمراہ کن پالیسیوں کی بابت مذہبی شدت پسندی میں تبدیل ہوگئی۔ سعودی عرب، امریکہ اور یورپ نے بھی شام کے معاملے میں ایسی ہی غلطیاں کیں۔ داعش کی مالی سرپرستی کرنے والوں کے ہاتھ سے یہ تنظیم بہت جلد نکل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سن 2013ء میں شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے میں آ گیا جو کہ ہتھیار ڈالنے والا شام کا پہلا بڑا شہر تھا۔

 

داعش کے مالی وسائل :

 

مبصرین کے مطابق داعش دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم ہے جو مختلف طریقوں سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی دولت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔ مشرقی شام میں موجود تیل کے ذخائر پر بھی اس تنظیم کا قبضہ اس کے لیے مالی طور پر سودمند رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان کا خاندان داعش سے سستے داموں تیل خرید رہا ہے جس کی بنا پر ترکی بالخصوص ترک صدر داعش کے حوالے سے نرم گوشہ اختیارکیے ہوئے ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی کئی مرتبہ ترکی پر داعش کی مدد اور ان سے تیل خریدنے کے الزامات عائد کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے روس ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکا۔ اس کے علاوہ داعش نے عراق او رشام کے تاریخی مقامات کو لوٹ کر وہاں موجود نواردات بھی بیچے ہیں۔ پروفیسر نغمان کا خیال ہے کہ “موصل پر قبضے سے قبل جون 2014ء میں داعش کے پاس 900 ملین ڈالر کی نقد رقم موجود تھی موصل پر قبضے کے بعد ان کے اثاثوں کی مقدار 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ موصل پر قبضے کے بعد وہاں کے مرکزی بنک کی شاخ کو لوٹا گیا تھا جبکہ شمالی عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضے کے بعدان کے اثاثوں میں مزید کئی گنا اضافہ ہوا“۔

 

دہشت گردی اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور القاعدہ کے بعد داعش اب ایک نیا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ یورپ، امریکہ اور مسلم ممالک وک سمجھنا ہو گا کہ یہ صرف بنیاد پرست تکفیری اسلام اور خلافت کے قیام کا خواب ہی نہیں جو ایسی تنظیموں کی وجہ ہے بلکہ عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ اور سعودی عرب کی تباہ کن خارجہ پالیسی ہے جس کی وجہ سے آج مشرق وسطیٰ اس عفریت کا شکار ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا امریکہ، اس کے یورپی حواری، سعودی عرب اور ایران دہشت گردی کے ان وجوہ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟
Categories
نقطۂ نظر

دولت اسلامیہ کی پاکستان میں آمد میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں

وفاقی وزیرداخلہ نے دولت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان میں قدم جمانے کے سوال پر معاملہ تقریباً صاف کردیا ہے، اُن کا موقف ہے کہ بعض تنظیمیں دولت اسلامیہ کی حامی ہیں جبکہ بذات خود دولت اسلامیہ کا ابھی تک پاکستان میں کوئی وجود نہیں۔وفاقی وزیرداخلہ اصل میں کہنا یہ چاہتے ہیں کہ دولت اسلامیہ عراق و شام ابھی تک پاکستان میں اپنے اصلی چہرے کے ساتھ موجود نہیں بلکہ اس کے حامی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔یقینی طور پر دولت اسلامیہ پاکستان میں اپنی باقاعدہ شاخ کھولنے سے پہلے وفاقی وزارت داخلہ کو درخواست ارسال نہیں کرے گی ۔کیوں کہ ابھی تک سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دولت اسلامیہ کو پاکستان کی روایتی جنگجو تنظیموں کی طرح خیرات اور صدقے کے پیسے کے لیے قومی بینکوں میں اکاو نٹ کھولنے کی حاجت نہیں۔ماضی اس بات کا شاہد ہے کہ اب کی بار بھی پاکستان کی زبردست خفیہ ایجنسیاں اور حکومتی ادارے دولت اسلا میہ کو پاکستان میں دیکھنے سے ایک لمبے عرصے تک قاصر رہیں گے اور جب تک ابوبکر بغدادی کسی غار یا حجرے میں مارا نہیں جاتا، ہمیں کچھ ’’معلوم‘‘ نہیں ہوگا کہ کون تھا اور کہاں تھا۔

 

کچھ سال پہلے جب میں نے ’’پنجابی طالبان‘‘ پر تحقیق کی اور اس کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا تو اچانک میں نے اپنے آپ کو بڑے بڑے دھانے والی توپوں کے سامنے پایا۔

 

ہمارے اکثر و بیشتر ‘دانش مندان و ماہرین’ کے خیال میں دولت اسلامیہ اور اس کا اب تک سامنے آنے والا موقف اور اعمال ہماری سرزمین کے لیے اجنبی ہیں۔یہ ایک ایسی منطق ہے جس کا کوئی توڑ نہیں اور اگر کوئی اس کے خلاف موقف اپنانے کی کوشش کرے تو پھر اُس کی خیر نہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کچھ سال پہلے جب میں نے ’’پنجابی طالبان‘‘ پر تحقیق کی اور اس کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا تو اچانک میں نے اپنے آپ کو بڑے بڑے دھانے والی توپوں کے سامنے پایا۔حال یہ تھا پنجاب کا وزیراعلیٰ اور وزیر قانون نجی محفلوں میں مجھے گالیاں دیتے تھے کہ یہ کون ہے جس نے پنجاب کی صوفیانہ آدرشوں سے لبریز پُرامن سرزمین کے منہ پر کالک پوتنے کی کوشش کی ہے۔دوسری طرف پنجابی پیارے سوشل میڈیا پر چڑھ دوڑے اور پنجاب کے ساتھ میری غداری کے فتوے جاری ہونے لگے۔بھلا ہو عصمت اللہ معاویہ کا جس نے بروقت وفاقی حکومت اور پاکستانی میڈیاکو انتباہی خط لکھ کر سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو نہ صرف موت سے بچالیا بلکہ مجھے کہنے کا حوصلہ دیا کہ دیکھو پنجابی طالبان کا کچھ نہ کچھ وجود تو بہرحال ہے۔

 

پاکستان کے جن جن شہروں اور قصبات میں دولت اسلامیہ کی حالیہ اشتہار بازی سامنے آئی ہے اُن میں سے زیادہ تر شہروں کا پاکستان کی فرقہ وارانہ تاریخ میں اہم کردار ہے۔ پنجاب میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے مخصوص تعلیمی و تنظیمی مرکز کبیر والا(خانیوال) اور ملتان میں مقامی انتظامیہ ششدر ہے کہ کس طرح راتوں رات ’’نامعلوم‘‘ افرادنے پورے شہر کی دیواروں پر دولت اسلامیہ کے نعرے لکھ دئیے۔ملتان میں دولت اسلامیہ کے لیے چاکنگ کرنے والوں میں شامل گرفتارافراد پہلے ہی مقامی پولیس کو بعض سنگین جرائم میں مطلوب تھے اور اُن کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ سے ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام اور عراق میں مصروف دولت اسلامیہ کے فرقہ وارانہ تصورات اور قتل و غارت سے فوری طور پر متاثر ہونے والوں میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی شامل ہیں، جنہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر پاکستان میں دولت اسلامیہ کے حقوق حاصل کرنا شروع کردیئے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سے مسلح گوشوں سے دولت اسلامیہ کے لیے ہمدردری کے چشمے پھوٹ رہے ہیں اور تحریک طالبان کے علاوہ کئی متشدد گروہوں نے دولت اسلامیہ کی پاکستانی شاخیں قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

 

پاکستان کے جن جن شہروں اور قصبات میں دولت اسلامیہ کی حالیہ اشتہار بازی سامنے آئی ہے اُن میں سے زیادہ تر شہروں کا پاکستان کی فرقہ وارانہ تاریخ میں اہم کردار ہے۔

 

ایک عام تصور یہ ہے کہ دولت اسلامیہ پاکستان میں وہ پذیرائی حاصل نہیں کرپائے گی جو القاعدہ کے حصے میں آئی۔لیکن یہ خیال اس وقت غلط ثابت ہونے لگتا ہے جب پاکستان کی ہر قسم کی فرقہ وارانہ تنظیمیں دولت اسلامیہ سے محبت کی دوڑ میں بازی لیجانے میں بیتاب نظر آتی ہیں۔فرقہ وارانہ جماعتوں میں القاعدہ کے لیے اس طرح کی بیتابی کبھی نظر نہیں آئی۔اس کے علاوہ پاکستان میں القاعدہ اور بعض فرقہ پرست گروہوں کے تعلقات کہیں بہت بعد میں استوار ہوئے جب کہ پاکستان میں القاعدہ کا غالب تعارف فرقہ وارانہ نہیں۔القاعدہ جیش محمد اور سابق حزب الجہاد الا سلامی جیسے گروہوں کے زیادہ قریب تھی اور ان گروہوں کا تعارف مکمل طور پر فرقہ وارانہ نہیں تھا۔دونوں مذکورہ بالا گروہوں کی قیادت اور اراکین کی بہت بڑی تعداد چوں کہ کراچی کے دیوبندی مدارس کی فارغ التحصیل تھی، اس لیے بعض اوقات مخالف مسالک کے بارے میں ایک اجتماعی بیزاری اُن کے ہاں نظر آجاتی ہے لیکن اُنہیں اس طرح فرقہ پرست قرار دینا جس طرح سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی وغیرہ ہیں مناسب نہیں۔

 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کو القاعدہ سے کہیں زیادہ پذیرائی ملے گی اور اس کے اہداف زیادہ تر مقامی ہوں گے۔القاعدہ نے کہیں بہت عرصے بعد مقامی ضروریات کے پیش نظر مجبوراً فرقہ وارانہ بنیادوں پر اپنے روابط بڑھانا شروع کیے اور مقامی فرقہ پرستوں کو اپنی صفوں میں شامل کیا، لیکن پاکستان میں عام فرقہ پرست جماعتوں کی طرح مخالفین پر کھلے حملے نہیں کیے بلکہ اپنے فرقہ وارانہ تصورات کو ایران اور افغانستان کے اندر موجود مسلکی مخالفین کے ساتھ معاملات میں استعمال کیا۔یا پھر بلوچستان جہاں القاعدہ کو افغانستان میں آپریشنل معاملات کے لیے ناگزیر موجودگی کو برقرار رکھنا تھا، وہاں پر مقامی فرقہ پرستوں کے ساتھ ہموار تعلقات کو قائم رکھنے کے لیے مسلکی مخالفین پر ہاتھ ڈالا گیا، جس کے بعد ہم نے کوئٹہ اور پاک ایران سرحد پر فرقہ وارانہ قتل و غارت کے مظاہرے دیکھے۔ لیکن دولت اسلامیہ اس حوالے سے زیادہ مہلک ثابت ہوگی کیوں کہ اس کا غالب تصور فرقہ وارانہ قتل و غارت سے لبریز ہے۔

 

پاکستان کی ہر قسم کی فرقہ وارانہ تنظیمیں دولت اسلامیہ سے محبت کی دوڑ میں بازی لیجانے میں بیتاب نظر آتی ہیں۔فرقہ وارانہ جماعتوں میں القاعدہ کے لیے اس طرح کی بیتابی کبھی نظر نہیں آئی۔

 

یہ ایک بالکل الگ موضوع ہے کہ پاکستانی ریاست اور اس کے ادارے دولت اسلامیہ کے ساتھ کس قسم کا سلوک کریں گے کیوں کہ جہاں تک پاکستان کی روایتی سیاست کا تعلق ہے، پاکستان میں کامیاب سیاسی جماعتیں فرقہ وارانہ تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کی بیزاری کے بجائے اِن سے انتخا بات اور دیگر سیاسی اُمور میں مسلح معاونت حاصل کرتی رہی ہیں۔مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی باقاعدہ فرقہ پرستوں کی مسلح امداد کو استعمال میں لانے والی دو بڑی پارٹیاں ہیں۔تحریک انصاف کی قیادت کے ہاں بھی ان گروہوں کے بارے میں کوئی خاص بیزاری نظر نہیں آتی جب کہ عمران خان اکثر اوقات متذبذب بیان بازی کا شکار رہتے ہیں جو نہ صرف مقامی مسلح گروہوں کو فائدہ پہنچاتی ہے بلکہ اِن کی جماعت کے بارے میں ابہام بڑھاتی رہتی ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ فرقہ پرست گروہوں کے بارے میں قومی سطح پر اتفاق رائے نہ ہونے کے برابر ہے اور جس کا براہ راست فائدہ شورش پسند اُٹھاتے ہیں۔دولت اسلامیہ کی پاکستان میں آمد اور پھر مضبوطی کی راہ میں بظاہر کوئی روکاوٹ نظر نہیں آتی۔