Categories
نقطۂ نظر

عراق، شام، تیل اور داعش

فرانس کے تاریخی شہر اور دارالحکومت پیرس میں خوفناک حملوں سے یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح ہوگئی ہے کہ عراق وشام میں سرگرم دہشت گرد اب یورپ کے محفوظ ممالک تک رسائی رکھتے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم دنیا کی سب سے امیر اور خوفناک دہشت گرد اسلامی تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) نے قبول کی تھی۔ داعش کے حوالے سے خوف اور خبریں تو بہت ہیں لیکن اس گروہ کے پس منظر اور تشکیل سے متعلق بے حد ابہام ہے۔

 

2003ء میں امن، جمہوریت اور انسانی آزادیوں کے ‘علمبردار’ امریکہ نے اپنے یورپی حواریوں کے ہمراہ عراق پر حملہ کیا۔ حملے کی وجہ وہ ناقابل بھروسہ انٹیلی جنس معلومات تھیں جن کے مطابق عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا اورصدام حکومت کے القاعدہ سے مراسم کا ‘انکشاف’ کیا گیا۔ حملہ آوروں کے خیال میں عراق کے پاس موجود ہتھیار اور القاعدہ سے اس کے روابط سے دنیا بھر کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ جب ان ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہ ملا توپھر یہ شوشہ چھوڑ اگیا، کہ گزشتہ تین دہائیوں سے عراق صدام حسین کی آمریت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا اور اب مہذب دنیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ عراقی عوام کو صدام کی آمریت سے نجات دلاکر جمہوری روایات سے روشناس کرائے۔ اُس وقت برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا سمیت نیٹو کے 48 ممالک امریکہ کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک تھے۔ اس حملے کے دوران ان ممالک نے عراق کے مستقبل کا فیصلہ عراقی عوام کی صوابدید پر چھوڑنے کی بجائے اسلحے اور طاقت سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔ عراق میں نافذ کیا جانے والا نیا جمہوری نظم سنی اقلیت کو مناسب نمائندگی اور حقوق دینے میں ناکام رہا۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے دنیا بھر کی جہادی تنظیموں نے عراق کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

 

عراق پر قبضے کے بعد امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادیوں نے عراقی فوج، سول افسرشاہی سمیت تمام حکومتی اداروں کو تہس نہس کر دیا جس سے عراقی معاشرے میں ایک تباہ کن خلاء پیدا ہو گیا۔
عراق میں القاعدہ کا قیام:

 

داعش کی ابتداء اور ارتقاءکو سمجھنے کے لیے پہلے ان عوامل اور محرکات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے یہاں ایسے سخت گیر سنی گروہ کے لیے گنجائش پیدا ہوئی اور بغداد اس ‘کالی آندھی’ کی لپیٹ میں آگیا۔ عراق پر سن 2003ء میں امریکی حملے کے ایک سال بعد 2004ء میں القاعدہ نے وہاں پر اپنی شاخ قائم کی۔ عراق کے سماجی ڈھانچے میں بہت بڑے سیاسی و انتظامی خلاء کے ساتھ شیعہ سنی کشیدگی بھی موجود تھی۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی سنی آبادی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین میں القاعدہ کو پنپنے میں بڑی آسانی رہی۔ Vox.com پر 19 نومبر 2015ءکو ISIS, a history: how the world’s worst terrorist group came into beingکے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی ایس دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور دہشت گرد گروہ ہے جو سن 2003ءکو امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد وجود میں آیا۔ اس حملے نے عراقی سماج کے سارے مظاہر کو تہس نہس کر دیا جس سے عراق طوائف الملوکی اور انتشار کا شکار ہو گیا۔ بیرونی دنیا کے دہشت گرد عراق کی جانب مائل ہوئے۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ نے صدام حسین کی سیاسی جماعت اور سنی العقیدہ سول اور فوجی نظم کو ختم کیا اور شیعہ اکثریت کے تعاون سے نئی حکومت کھڑی کی۔ جب عراق میں القاعدہ نے اپنی شاخ قائم کی تو وہ صدام دور کے فوجی اہلکاروں اور فسران کے لیے مزاحمت اور روزگار کا ایک موقع ثابت ہوئی۔ 2004ء ہی میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اورمشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔ مسلکی بنیادوں پر اس قتل و غارت کا بنیادی مقصد شیعہ سنی تفریق کو بڑھا کر خانہ جنگی کو ہوادینا تھا، اسی تکفیری طرز پر داعش بھی اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر ہی ہے۔ عراق اور افغانستان میں القاعدہ کے کمزور ہونے اور بیشتر قیادت کے مارے جانے کے باعث عملاً القاعدہ کی دہشت گردانہ سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں جس کے بعد عراق میں القاعدہ کی شاخ نے شام اور عراق کی خانہ جنگی اور شیعہ سنی تفریق کا فائدہ اٹھا کر سخت گیر اور بنیاد پرست اسلامی تکفیری فکر کی بنیاد پر اپنی تنظیم سازی شروع کی۔

 

نوری المالکی حکومت اور داعش:

 

عراق پر قبضے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے عراق میں جمہوری نظام رائج کرنے کے حوالے سے انتخابات منعقد کیے۔ ان انتخابات میں شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نوری المالکی کو کامیابی ملی۔ عراق کی کل آبادی کا 60 فیصد شیعہ، 22 فیصد صدام حسین کے حامی عرب سنی اور 18 فیصد صدام مخالف کرد سنی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں مسلکی بنیادوں پر شیعہ حکومت قائم ہوئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق نوری المالکی نے اعتدال پسند سیکولر سیاسی و آئینی نظام کے قیام اور سنی اقلیت کو اقتدار میں جائز نمائندگی فراہم کرنے کی بجائے مسلکی تعصبات پر مبنی حکمرانی کی۔ اور یوں وہ سنی اقلیت جو برسوں سے عراق پر حکمران رہی تھی سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی۔ نوری المالکی کی حکومت کے امتیازی سلوک سے سنی اقلیت خود کو غیر محفوظ سمجھنے کے علاوہ شدت پسند گروہوں میں اپنی بقاء تلاش کرنے لگی۔

 

دو ہزار چودہ میں الزرقاوی کے گروپ نے بھی القاعدہ کی حمایت کر دی اور اس کانام ‘عراقی القاعدہ’ رکھا گیا۔ اس گروہ نے عراقی اہلِ تشیع کی مساجد، مقابر اور عوامی مقامات پر حملے اور مشہور شیعہ شخصیات کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا۔
عراق اور شام کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بہت حد تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عراق میں مداخلت اور ناہلی پر عائد ہوتی ہے۔ تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔ زید ال علی فارن پالیسی میں How Maliki Ruined Iraqکے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں وضاحت کرتے ہیں: ”بالآخر 2010ء میں عراق سیکیورٹی کے لحاظ سے نسبتاً بہتر پوزیشن میں آگیا اور ملک کے مختلف مذہبی و نسلی گروہوں کے درمیان مثبت تعلقات استوار ہوگئے۔ لیکن یہ تبدیلی دیر پا ثابت نہ ہوئی۔ کیونکہ نوری المالکی نے سیاسی و انتظامی شعبوں سے اپنے مخالفین کو بے دخل کر دیا، فوج میں من پسند افراد کا تقرر کیا جبکہ پر امن احتجاجیوں کو کچل ڈالا۔ یہی وہ وجوہ تھیں جنہوں نے داعش کو پھلنے پھولنے میں مدد دی“۔

 

داعش کا ارتقاء:

 

آن لائن مجلہ Crethiplethi.com 2009ء سے مشرقی وسطیٰ، اسرائیل، عرب دنیا اور جنوب مغربی ایشیاء وغیرہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس جریدے نے 20نومبر 2015ء کو The Historical Roots and Stages in the Development of ISISکے موضوع سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس ساری صورتحال کو یوں بیان کیاگیا ہے۔

 

“عراق میں امریکیوں نے نوری المالکی کی قیادت والی شیعہ اور قوم پرست جمہوری طرزِ حکمرانی کی حمایت کی تاہم اس دور میں تاریخی لحاظ سے عراق پر (برسوں سے قابض) سنی آبادی کو حکومت سے باہر رکھا گیا کیونکہ وہ (عددی اعتبارسے ) اقلیت میں تھی۔ عراق میں القاعدہ کے قیام سے لے کر داعش تک کے مراحل کو اس رپورٹ میں چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے “عراق او ر شام میں القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کا قیام چار مرحلوں میں مکمل ہوا“۔

 

1: پہلا مرحلہ (2004-06) پہلے مرحلے میں عراق میں ابو مصعب الزرقاوی کی قیادت میں القاعدہ کی شاخ کا قیام عمل میں آیا جس نے امریکہ اور اتحادی فوجیوں اور شیعہ آبادی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی پہلا مرحلہ اس وقت اختتام پزیر ہوا جب (القاعدہ کے راہنما) ابومصعب الزرقاوی جون 2006ء کو امریکہ کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

 

تقریباً نو برس یعنی2003ءسے 2011ء تک عراق میں رہنے کے باوجود امریکہ ایک مستحکم عراقی فوج، نظام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام میں ناکام رہا۔ 2011ء میں جونہی امریکی افواج کا عراق سے انخلاء شروع ہوا دہشت گردی بڑھنے لگی۔
2: دوسرا مرحلہ (2006-11) دوسرے مرحلے میں “امارت اسلامیہ العراقیہ” کا قیام عمل میں آیا۔ آئی ایس آئی دوسری دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتی رہی جس نے امریکہ، اس کے اتحادیوں اور اہل تشیع کے خلاف گوریلا حملے جاری رکھے۔ اس زمانے میں امریکہ کی موجودگی، ان کی عسکری کارروائیوں اور اس دور کی کامیاب خارجہ و داخلہ پالیسی جس میں تمام عراقی طبقات کو عراقی نظم میں شامل رکھا گیا کی وجہ سے آئی ایس آئی کمزور رہی۔

 

3: تیسرا مرحلہ (2012سے جون2014): اس دوران “امارت اسلامیہ العراقیہ” نے خود کو مستحکم کیا اور شام میں جاری خانہ جنگی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس دوران اس تنظیم نے اپنا نام تبدیل کر کے امارت اسلامیہ عراق و شام یاISIS رکھ لیا۔ سن 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد داعش مزید مضبوط ہوگئی۔ ٹھیک اسی دوران افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے مسلم اکثریتی ممالک میں “بہارِعرب” آمریت مخالف تحریکیں شروع ہوئیں۔ شام میں “بہارعرب” کے اثرات پہنچنے اور بشارالاسد حکومت کے خلاف تحریک کے انسداد کے لیے طاقت کے استعمال سے شامی ریاست میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے داعش کو وہاں اپنے پاوں جمانے کا موقع ملا اور وہاں النصرا فرنٹ کے نام سے اس تنظیم کی شاخ قائم کی گئی۔

 

4: چوتھا مرحلہ (جون 2014ءکے بعد ): داغش کی عسکری فتوحات اور ڈرامائی کامیابی: اسی مرحلے میں داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ جما لیا۔ جبکہ مشرقی شام کے مختلف حصے بھی داعش کے قبضے میں آگئے۔ جہاں حکومتی مرکز ‘الرقہ’ پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد داعش نے اسلامی امارات (IS)یا اسلامی خلافت کے باقاعدہ قیام کا اعلان کر دیا جس کی قیادت داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کر رہے ہیں۔ ستمبر 2014ء میں امریکہ نے داعش کے خلاف بھر پور مہم کا آغاز کیا“۔

 

ابوغریب جیل پر حملہ:

 

21جولائی 2013ء کو البغدادی نے ایک منصوبے کے تحت بغداد کے قریب واقع ابوغُریب جیل پر حملہ کر دیا۔ اس جیل میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب خطرناک دہشت گرد موجود تھے۔ حملے میں صرف 50 داعش اہلکاروں نے حصہ لیا اور 500 دہشت گردوں کو رہا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔ حملے کے وقت جیل کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکار ذرا برابر بھی مزاحمت نہ کر سکے اور بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے داعش جنگجووں نے جیل توڑ ڈالی۔ بی بی سی نیوز میں 2 اگست 2014ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگرچہ داعش اور القاعدہ کے درمیان زیادہ ہم آہنگی موجود نہیں لیکن عراق اور شام کی حد تک دونوں مل چکے ہیں۔ اس گروہ میں شامل افراد کی کل تعداد کا صیحح اندازہ تو نہیں البتہ ہزاروں افراد اس گروہ سے منسلک ہیں۔ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی میدان جنگ کے بہترین کمانڈر اور منصوبہ ساز ہے۔ ابوبکر البغدادی نے دنیا بھر میں موجود عالمگیر سنی خلافت کے حامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے میں بہت کامیاب رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگار داعش اور القاعدہ کا تقابلی جائزہ یوں کرتے ہیں کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ایک امیر کبیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اور امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل تھے یعنی القاعدہ کا سربراہ جدید تعلیم یافتہ جبکہ ان کے پیروکار جاہل قبائلی تھے۔ اس کے برعکس داعش کی قیادت ناخواندہ جبکہ اس گروپ کے جنگجو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی بی سی انگریزی سروس کی اس رپورٹ میں لندن کے کنگ کالج کے پروفیسر پیٹرنغمان کے حوالے سے لکھا گیا ہے ”البغدادی کے گروپ (داعش) میں 80 فیصد غیر ملکی جنگجو شامل ہو کر شام میں لڑ رہے ہیں، جن میں سے اکثریت فرانس، برطانیہ، جرمنی، یورپین ممالک، امریکہ اور عرب دنیا سے تعلق رکھتے ہیں“۔

 

شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔
بشار الاسد کی گمراہ کن پالیسیاں:

 

Vox.com کی مذکورہ بالا رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ سن 2011ء میں جب شام بہارِ عرب سے متاثر ہونے لگا اور عوام سڑکوں پر نکل کر بشارالاسد کی آمریت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے تو اسی وقت بشارالاسد حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے اس عوامی تحریک کا رخ مذہبی شدت پسندی کی جانب ہو گیا۔ اسد نے انتہائی خطرناک جواء کھیلا، یعنی ان کا یہ خیال تھا کہ اگر ان کے مخالف مذہبی شدت پسند ہوں گے تو یورپ اور امریکہ اس مذہبی تحریک سے خوفزدہ ہو کر ان (اسد) کا ساتھ دیں گے اور یوں شام کی جمہوریت نواز سیکولر تحریک بشارالاسد کی غلط اور گمراہ کن پالیسیوں کی بابت مذہبی شدت پسندی میں تبدیل ہوگئی۔ سعودی عرب، امریکہ اور یورپ نے بھی شام کے معاملے میں ایسی ہی غلطیاں کیں۔ داعش کی مالی سرپرستی کرنے والوں کے ہاتھ سے یہ تنظیم بہت جلد نکل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سن 2013ء میں شام کا شہر رقہ داعش کے قبضے میں آ گیا جو کہ ہتھیار ڈالنے والا شام کا پہلا بڑا شہر تھا۔

 

داعش کے مالی وسائل :

 

مبصرین کے مطابق داعش دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم ہے جو مختلف طریقوں سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی دولت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔ مشرقی شام میں موجود تیل کے ذخائر پر بھی اس تنظیم کا قبضہ اس کے لیے مالی طور پر سودمند رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان کا خاندان داعش سے سستے داموں تیل خرید رہا ہے جس کی بنا پر ترکی بالخصوص ترک صدر داعش کے حوالے سے نرم گوشہ اختیارکیے ہوئے ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی کئی مرتبہ ترکی پر داعش کی مدد اور ان سے تیل خریدنے کے الزامات عائد کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے روس ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکا۔ اس کے علاوہ داعش نے عراق او رشام کے تاریخی مقامات کو لوٹ کر وہاں موجود نواردات بھی بیچے ہیں۔ پروفیسر نغمان کا خیال ہے کہ “موصل پر قبضے سے قبل جون 2014ء میں داعش کے پاس 900 ملین ڈالر کی نقد رقم موجود تھی موصل پر قبضے کے بعد ان کے اثاثوں کی مقدار 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ موصل پر قبضے کے بعد وہاں کے مرکزی بنک کی شاخ کو لوٹا گیا تھا جبکہ شمالی عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضے کے بعدان کے اثاثوں میں مزید کئی گنا اضافہ ہوا“۔

 

دہشت گردی اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور القاعدہ کے بعد داعش اب ایک نیا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ یورپ، امریکہ اور مسلم ممالک وک سمجھنا ہو گا کہ یہ صرف بنیاد پرست تکفیری اسلام اور خلافت کے قیام کا خواب ہی نہیں جو ایسی تنظیموں کی وجہ ہے بلکہ عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ اور سعودی عرب کی تباہ کن خارجہ پالیسی ہے جس کی وجہ سے آج مشرق وسطیٰ اس عفریت کا شکار ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا امریکہ، اس کے یورپی حواری، سعودی عرب اور ایران دہشت گردی کے ان وجوہ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟
Categories
نقطۂ نظر

پیرس میں دہشت گردی کے اثرات

کہا جارہا ہے کہ فرانس کی شام میں مداخلت کے پیش نظر داعش کی جانب سے پیرس میں دہشت گردی کے ذریعے انتقام لیا گیا ہے۔ اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ پیرس میں دہشت گردی کی یہ واردات کامیاب کیسے ہوئی؟ فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک میں یہ بہت ناممکن لگتا ہے، پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کا اثر حکومتوں اور عام لوگوں پر ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کے اخبارات میں اس حوالے سے چھپنے والی خبروں سے یہ واضح ہو جاتی ہے کہ پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فرانسیسی حکومت نے دستیاب معلومات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اورکچھ زیادہ ہی خود اعتمادی کا شکار ہوگئی۔ مختلف ماہرین اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ یہ حملہ کیوں ہوا اور دہشت گرد آٹھ مقامات پر اسلحہ لے کر اتنی آسانی سے کیسے پہنچ گئے۔ خود کش جیکٹس، خود کار ہتھیار اور بارودی مواد لے کر یہ افراد پورے شہر میں گھومتے رہے اور اُنہیں کسی نے روکا نہیں۔ پیرس کے سیکیورٹی ادارے اور انٹیلی جنس والے آخر کہاں تھے؟ لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ امریکہ میں دہشت گردی کی نائن الیون جیسی بڑی کارروائی کے بعد شدت پسند پہلے سے زیادہ مظبوط ہوئے ہیں جبکہ ان سے ہمدردی کرنے والوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے اس لیےشدت پسندوں کے لیے ایسے حملے کرنا ممکن ہے۔

 

پیرس میں پہلے شارلی ایبڈو پر اور اب عام شہریوں پر دولت داعش کے حملوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دہشت گردوں کی پہنچ سے اب کوئی مقام محفوظ نہیں، وہ دنیا میں جب اور جہاں چاہیں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ پیرس میں دہشت گردی کے اثرات مستقبل کی بین الاقوامی سیاست پر جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ پیرس حملوں کا تمام تر ملبہ عام مسلمانوں پر گرا ہے، امریکا میں عربی بولنا بھی آپ کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہے۔ جمعرات 19 نومبر 2015ء کو امریکی ریاست شکاگو سے فلاڈیلفیا جانے والی ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کی پرواز کے دو مسافروں کو محض اس وجہ سے جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا کیونکہ وہ آپس میں عربی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔

 

یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ امریکہ میں دہشت گردی کی نائن الیون جیسی بڑی کارروائی کے بعد شدت پسند پہلے سے زیادہ مظبوط ہوئے ہیں جبکہ ان سے ہمدردی کرنے والوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے اس لیےشدت پسندوں کے لیے ایسے حملے کرنا ممکن ہے
جس روز پیرس میں حملے ہوئے اُسی دن ترکی کے شہر استنبول میں دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنایاگیا، حکام کے مطابق پولیس نے 13 نومبر 2015ء کو جمعہ کے روز استنبول سے داعش جنگجو جہادی جان کے قریبی ساتھی سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا تھا، یہ لوگ سانحہ پیرس والے دن استنبول میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس نے پیرس حملوں میں ملوث ایک خودکش بمبار عمر اسماعیل کے بارے میں فرانسیسی حکام کو آگاہ کردیا تھا تاہم انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور فرانس نے پیرس جیسے مزید حملوں کا انتباہ جاری کردیا ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے خبردار کیا ہے کہ داعش نے پیرس جیسے مزید حملوں کی منصوبہ بندی کررکھی ہے، سیکورٹی اور انٹیلی جنس ادارے ان سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنی پوری صلاحیت بروئے کار لارہے ہیں۔ خودکش بمباروں نے پیرس کے دل میں انتہائی منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے اور اس عمل میں کئی ماہ کا عرصہ لگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ داعش کسی بھی وقت اس طرح کے مزید حملے کر سکتی ہے۔ فائنینشل ٹائمز کے سام جونز لکھتے ہیں کہ ایسے اشارے مل رہے تھے کہ یہ واقعہ ہونے والا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں دو اعلیٰ عہدیداروں نے فائنینشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ انہوں نے داعش کی سرحدوں سے بہت باہر اس کے عزائم اور مقاصد کا جو اندازہ لگایا تھا اس میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ داعش القاعدہ کی طرح بہت بڑا حملہ کرنا چاہتی تھی، مگر یہ بات غیر واضح تھی کہ وہ اس نوع کا حملہ کرنے کی سکت رکھتی بھی ہے؟

 

پیرس حملے پر بات کرتے ہوئے لندن میں مقیم صحافی قندیل شام کا کہنا تھا کہ پیرس پر حملہ یورپ میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ ہے اور اگر اس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے تو یہ اُن کے لیے بھی بڑی تبدیلی ہے۔ فرانس میں انتخابات کا انعقاد بھی ہونے والا ہے جس پر اس کا بہت اثر پڑے گا۔ اس سال یورپ میں سترہ دہشت گردی کے حملے ہوئے جس میں سے سات فرانس میں ہوئے ہیں اور 1200 سو کے قریب غیر ملکی جنگجو اس وقت فرانس سے عراق اور شام میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ فرانس میں ان حملوں کے بعد انتہا پسندی کے خلاف آواز بڑھ گئی ہے۔ چارلی ہیبڈو پر حملے کے بعد دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے فرانس کی حکومت کی تیاری پر بات کرتے ہوئے قندیل شام نے کہا کہ اس کے دو جواب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ دولت اسلامیہ جیسے گروہ اب زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں جو اس حملے سے نظر آرہا ہے کیوں کہ یہ ایک منظم حملہ تھا۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یورپ میں اب اس طرح کے عناصر ہیں جو اس طرح کے حملے مستقبل میں کر سکتے ہیں اور ‘خوابیدہ گروہوں’ کی موجودگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

برطانیہ میں مقیم کالم نگار نجمہ اسلام کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں کے بعد میرا حجاب میں باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ نجمہ اسلام کہتی ہیں کہ جب بھی یورپ میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے، مسلم آبادی کی زندگی مشکل ہوجاتی ہے۔ نجمہ اسلام کے مطابق ایشیائی آبادی میں رہنے والے مسلمان تو پھر بھی محفوظ رہتے ہیں، لیکن دوسرے علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں پر دہشت گردی کے رد عمل میں عرصہ حیات تنگ ہوجاتا ہے۔ کیا ان دہشت گردوں کو اس بات کی پروا ہے کہ ان کے شیطانی عمل سے عام مسلمان شہریوں کی زندگیوں پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اب میں حجاب میں گھر سے باہر جاتے ہوئے ڈرتی ہوں، لوگوں کی نگاہیں میرا تعاقب کرتی ہیں۔ پیرس حملوں کے بعد جب میں حجاب کرکے باہر نکلتی ہوں تو لوگ سرگوشی میں مجھے دہشت گرد اور مسلم کتیا کہتے ہیں اور میرا تعلق داعش سے جوڑتے ہیں۔ نوجوانوں کے غول میرے ارد گرد اکٹھے ہوجاتے ہیں اور وہ مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ اب گھر سے باہر نکلنے کا مطلب ہراساں ہونے کے لیے تیار رہنا ہے۔ میرے فیس بک کے دوست اسلام کو دہشت گردوں کا مذہب قرار دے رہے ہیں اور معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے مسلمانوں کو دیس نکالا دینا چاہتے ہیں۔ میرے حجاب کی وجہ سے مجھے ایک منصوبے سے الگ کردیا گیا ہے۔

 

کیا ان دہشت گردوں کو اس بات کی پروا ہے کہ ان کے شیطانی عمل سے عام مسلمان شہریوں کی زندگیوں پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
پیرس میں داعش دہشت گردوں کے حملے نے مغرب میں رہنے والے مسلمان شہریوں کو احساس جرم اور احساس ندامت کا شکار کردیا ہے۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اپنے میزبان معاشرے سے اعتماد پر مبنی تعلق استوار کرنے کے لیے ایک فرانسیسی مسلمان نوجوان نے ایک انوکھا انداز اختیار کیا۔ وہ پیرس کے ایک مصروف چوراہے پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر کھڑا ہوگیا اور اس نے اپنے سامنے ایک گتے پر لکھ رکھا تھا “اگر آپ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں تو مجھے گلے لگایئے، میں ایک مسلمان ہوں اور مجھے کہاجاتا ہے کہ میں دہشت گرد ہوں”۔ یہ دیکھنے کے بعد پیرس کے رہنے والے بڑی تعداد میں اس سے گلے ملنے لگے۔ کچھ لوگ اس جذباتی منظر کو دیکھ کر روتے رہے۔ ایک طویل وقفے تک مجمعے سے نکل کرآنے والے مردوخواتین نوجوان سے بغل گیر ہوتے رہے جس کے بعد نوجوان نے اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی اتار دی اور کہا کہ میں آپ میں سے ہر ایک کا شکرگزار ہوں جو مجھ سے بغل گیر ہوا، میں نے یہ سب کچھ ایک پیغام دینے کے لیے کیا اور وہ پیغام یہ تھا کہ “میں ایک مسلمان ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دہشت گرد ہوں”۔ میں دہشت گردی کے اس سانحہ میں نشانہ بننے والے افراد کے اہل خانہ کے گہرے دکھ کو محسوس کرتا ہوں اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مسلمان ہونے کا مطلب لازماً دہشت گرد ہونا نہیں ہے۔ اس پیغام کو سن کر لوگوں نے تالیاں بجائیں اور خوشی کا اظہار کیا۔

 

http://dai.ly/x3edtph

اسی طرح مسلم نوجوانوں کی جانب سے شروع کیا گیا ٹویٹر ٹرینڈ “میرے نام پر نہیں” بھی مذہبی دہشت گردوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ مذہب کو دہشت گردی کے لیے جواز نہیں بنا سکتے۔پاکستانی نوجوانوں نے اپنی ایک ویڈیو میں پیرس حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ انہیں بھی اتنا ہی صدمہ ہے۔

 

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثارنے کہا ہے کہ تارکین وطن پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ دہشت گردی کےحالیہ واقعات سے بیرون ملک پاکستانیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا، جبکہ پیرس میں موجود پاکستانی سفیر غالب اقبال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فرانس میں مقیم پاکستانی برادری نہ صرف مکمل طور پر محفوظ ہے اور وہ قطعی طور پر ایسا نہیں سمجھتے کہ پیرس پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں انہیں کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اور ہمارے سفارت خانوں کو یورپ اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے رابطے میں رہنا چاہیئے، عام پاکستانیوں کو بھی چاہئیے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی اطلاع فوری طور پر اپنے سفارت خانے کو دیں۔

 

فرانسیسی پولیس نے جب مجرموں کا پیچھا شروع کیا تو ایک خاتون خودکش بمبار حسنہ آیت ابوالحسن تک پہنچ گئے لیکن 26سالہ حسنہ نے گرفتار ہونے کے بجائے پولیس کارروائی کے دوران مبینہ طور پر خود کو بم سے اُڑا لیا تھا۔ حسنہ آیت ابوالحسن پیرس کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اباعود کی کزن تھی۔ اُس کی لاش پیرس کے شمال میں واقع ایک نواحی علاقے کے اُس اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئی ہے جہاں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پیرس حملوں کے مبینہ ماسٹرمائنڈ کو ہلاک کر دیا تھا۔ حسنہ آیت ابوالحسن کے خاندان کے افراد اور دوستوں کاکہنا ہے کہ حسنہ نے پارٹی گرل سے بنیاد پرست بننے کا سفر صرف چھ ماہ میں طے کیا۔ حسنہ کی متزلزل پرورش ہوئی اور اس نے حکومتی نگرانی میں چلنے والے کیئرہومز میں بھی وقت گزارا ۔ حسنہ کو اس کے دوست مخبوط الحواس کہتے تھے اور وہ کاؤ بوائے ہیٹ اور جوتے پہننا کرتی تھی۔ حسنہ آیت ابوالحسن کے بھائی نے بتایا کہ “حسنہ اچانک ہی چھ ماہ میں بنیاد پرست بن گئی، اس نے پہلے حجاب پہننا شروع کیا پھر پورے چہرے کا نقاب پہننے لگی، وہ متزلزل تھی، اس نے کبھی مذہب کا مطالعہ نہیں کیا اور میں نے کبھی اسے قرآن پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا”۔ حسنہ آیت بوالحسن کی پڑوسی صوفین نے بتایا کہ وہ تیز طرار تھی اور ساتھ ہی مخبوط الحواس بھی تھی۔

 

داعش اور اس جیسی جنگجو مذہبی جہادی تنظیموں کی پیداوار کی ایک بڑی وجہ بنیاد پرست اور سیاسی اسلام کے ساتھ ساتھ مغرب اور امریکہ کی توسیع پسند خارجہ پالیسی اور مسلم ممالک میں غیر جمہوری حکومتوں کے باعث پیدا ہونے والاسیاسی اور نظریاتی خلاء ہے۔
داعش اور اس جیسی جنگجو مذہبی جہادی تنظیموں کی پیداوار کی ایک بڑی وجہ بنیاد پرست اور سیاسی اسلام کے ساتھ ساتھ مغرب اور امریکہ کی توسیع پسند خارجہ پالیسی اور مسلم ممالک میں غیر جمہوری حکومتوں کے باعث پیدا ہونے والاسیاسی اور نظریاتی خلاء ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان اور عراق میں مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کا ایک نتیجہ داعش ہے بالکل ویسے ہی جیسے افغان جہاد کے نیتجے میں القاعدہ پیدا ہوئی تھی۔ عرب ممالک کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے بھی داعش جیسی تنظیم کی سرپرستی کی گئی۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر عراق جنگ میں ہونے والی غلطیوں کا عتراف بھی کر چکے ہیں۔ داعش والے دہشت گرد تو ہیں لیکن مسلمان نہیں، یہ کمزور ذہن اور متزلزل مسلمانوں کو مذہب کے نام پر استمال کرتے ہیں اور ان کی بے روزگاری بھی ختم کرتے ہیں، اس بات کا ثبوت پیرس کے شمال میں واقع ایک نواحی علاقے کی رہنے والی ایک خاتون خودکش بمبار حسنہ آیت ابوالحسن ہے۔ یہ دہشت گرد جو نام نہاد مسلمان بنے ہوئے ہیں درحقیقت کرائے کے قاتل ہیں تاہم بدقسمتی سے مسلم دنیا میں ابھی تک ایسی تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر مزمت یا مزاحمت کا رحجان دیکھنے کو نہیں ملا۔
Categories
نقطۂ نظر

Ahmed Rashid on Politics of Turmoil in the Muslim World

Ahmed Rashid, a renowned journalist and author of bestselling “Taliban: Militant Islam, Oil and Fundamentalism” spoke on the rise of ISIS, Yemen Crisis and their impact on Pakistan in a talk hosted by The Last Word. The Last Word is a celebrated book store in Lahore which, according to its Facebook page, caters to a ‘readership that thrives on ideas, creativity and explosive concepts’. Such talks and public events are a regular feature at The Last Word which has soon established itself as a popular venue for Lahore’s literati. Attended by a house full of around 70 people, the hour long candid talk was followed by questions and answers session.

“Rise of ISIS is not a surprise for me”

Starting with the history and genesis of ISIS, Ahmed Rashid asserted, “The birth of ISIS and their swift escalation is not a surprise for me as it is the outcome of a highly destabilized Iraq, crippled by violence and wars.”He further attributed the long standing insurgency and the huge power vacuum in Iraq as the key factors giving birth to ISIS.

Iraq grew to be the nucleus of terrorism after the American invasion which soon begot large scale sectarian violence, and terrorism owing to Al-Qaida’s presence. The violence and marginalization suffered by a number of groups provided the context which thrives radicalization and terrorism. The ISIS came as a natural culmination of these circumstances, he opined.

ISIS, according to Ahmed Rashid, was born out of Al-Qaeda.It was after the death of al-Zarqawi, al-Qaida’s head in Iraq, in 2006 that ISIS’s formation was declared under the leadership of Abu Omar al-Baghdadi, the predecessor of current emir of ISIS known as Abu Bakr al-Baghdadi.

Al-Qaida and ISIS

Speaking on the similarities between ISIS & Al-Qaida, Rashid pointed out that in terms of ideology there is not much of a difference.In terms of strategy, however, they are poles apart. ISIS believes in capturing the territory and establishing a caliphate in whatever form, which then be used as a base for further expansion and fighting the enemies of Islam. Al-Qaida, on the other hand, believes in fighting US and other perceived enemies of Islam, and sees the establishment of Caliphate as the long-term objective.

Answering a question on ISIS’s stance on Palestine issue, Rashid highlighted that interestingly ISIS is virtually silent on Palestine and never challenges Israel’s hegemony. On the contrary, Palestinian refugee camps in Syria frequently become victims of ISIS’s cruelties.

ISIS: A look inside the cadre

“The hierarchy of ISIS is comprised of several ex-officers of Saddam’s Army, along with Uzbek, Tajik and Chechen fighters. They are all professionally trained jihadi militants,” told Rashid.

About 25,000 recruits from 90 different countries have joined ISIS in the last couple of years, which is roughly equal to one thousand recruits per month.ISIS’s numbers have multiplied exponentially in no time. Young people from Britain, France, and astonishingly, from all over Europe are rushing to join ISIS. Another element which distinguishes ISIS from other jihadi militias is their success in attracting female recruits, explained Rashid while talking about traction for ISIS.

ISIS is currently the richest terrorist group on the planet. They are controlling nearly 50 oil wells and further using smuggling and kidnapping for ransom to generate revenue. They are also employing thousands of women and young girls in sexual slavery. They are earning a million to two million dollars a day which makes them the spearhead of terrorism in the world. Al-Qaeda never achieved anything like this.I think we are going to witness further spread of the ISIS, said Rashid whilst commenting on the gravity of the situation.

“Media manipulation paved way for the success of ISIS”

Explaining the motives of the ISIS and their techniques of media manipulation, Rashid explained that ISIS not only wants to abolish the borders between Iraq and Syria, they want the expansion of their Khilafat by all means. Unlike Al-Qaeda, ISIS believes in exterminating all minorities residing in the areas under their control.They are doing mass killings, beheadings, suicide bombings and major terrorist attacks not just in Iraq and Syria but in places like Jordan and recently, in Saudi Arabia.

After expunging all other media sources which could expose their activities and whereabouts, ISIS choose themselves what and how they want to show to the rest of the world. They have been using footages of beheadings and bombings for fear and propaganda. The online propaganda had a massive impact on the radicalized youth all over the world.

The Yemen Conflict

“Yemen is in a state of civil war for the last five years”, said Rashid. Commenting on the sectarian facet of the conflict, he was of the view that it is not mainly a proxy war. Because of doctrinal differences, Iran may not consider Houthis as proper Shia. Houthis have been marginalized in the post-Saleh political setup which led to their revolt against the regime.

“Yemen has 95 million guns for 25 million people”

Rashid said that Yemen is currently the most armed country in the world. With a population of about 25 million, there are 90 million guns in Yemen. In such a heavily armed country with tribal allegiances, poor governance and infrastructure, very cautious measures need to be taken to address the Yemen crisis. Unfortunately there has been no serious diplomat effort on Yemen so far.

What is the rest of Muslim world doing?

Rashid said that the Arab countries and their lack of leadership is quintessentially resulting in the spread of ISIS. The Americans and other Western countries are taking steps against the organization which should have been a task completed by the Arab countries.

“The 60 state alliance against ISIS should have been led by the Arab countries rather than America”, Rashid lamented.

Talking finally about Pakistan, he said, “Pakistan did the right thing by not sending it troops to Yemen”. The situation in Yemen is far too complex to be handled through military operation. Only diplomatic effort and political solution has the answer.

Commenting on the possibility ISIS’s upsurge in Pakistan, Rashid said that the kind of vacuum ISIS requires to grow is not there yet.

Rashid was warmly appreciated by the echoing applause in the end of the talk and he thanked all his listeners for showing interest

Categories
نقطۂ نظر

دولت اسلامیہ کی پاکستان میں آمد میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں

وفاقی وزیرداخلہ نے دولت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان میں قدم جمانے کے سوال پر معاملہ تقریباً صاف کردیا ہے، اُن کا موقف ہے کہ بعض تنظیمیں دولت اسلامیہ کی حامی ہیں جبکہ بذات خود دولت اسلامیہ کا ابھی تک پاکستان میں کوئی وجود نہیں۔وفاقی وزیرداخلہ اصل میں کہنا یہ چاہتے ہیں کہ دولت اسلامیہ عراق و شام ابھی تک پاکستان میں اپنے اصلی چہرے کے ساتھ موجود نہیں بلکہ اس کے حامی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔یقینی طور پر دولت اسلامیہ پاکستان میں اپنی باقاعدہ شاخ کھولنے سے پہلے وفاقی وزارت داخلہ کو درخواست ارسال نہیں کرے گی ۔کیوں کہ ابھی تک سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دولت اسلامیہ کو پاکستان کی روایتی جنگجو تنظیموں کی طرح خیرات اور صدقے کے پیسے کے لیے قومی بینکوں میں اکاو نٹ کھولنے کی حاجت نہیں۔ماضی اس بات کا شاہد ہے کہ اب کی بار بھی پاکستان کی زبردست خفیہ ایجنسیاں اور حکومتی ادارے دولت اسلا میہ کو پاکستان میں دیکھنے سے ایک لمبے عرصے تک قاصر رہیں گے اور جب تک ابوبکر بغدادی کسی غار یا حجرے میں مارا نہیں جاتا، ہمیں کچھ ’’معلوم‘‘ نہیں ہوگا کہ کون تھا اور کہاں تھا۔

 

کچھ سال پہلے جب میں نے ’’پنجابی طالبان‘‘ پر تحقیق کی اور اس کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا تو اچانک میں نے اپنے آپ کو بڑے بڑے دھانے والی توپوں کے سامنے پایا۔

 

ہمارے اکثر و بیشتر ‘دانش مندان و ماہرین’ کے خیال میں دولت اسلامیہ اور اس کا اب تک سامنے آنے والا موقف اور اعمال ہماری سرزمین کے لیے اجنبی ہیں۔یہ ایک ایسی منطق ہے جس کا کوئی توڑ نہیں اور اگر کوئی اس کے خلاف موقف اپنانے کی کوشش کرے تو پھر اُس کی خیر نہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کچھ سال پہلے جب میں نے ’’پنجابی طالبان‘‘ پر تحقیق کی اور اس کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا تو اچانک میں نے اپنے آپ کو بڑے بڑے دھانے والی توپوں کے سامنے پایا۔حال یہ تھا پنجاب کا وزیراعلیٰ اور وزیر قانون نجی محفلوں میں مجھے گالیاں دیتے تھے کہ یہ کون ہے جس نے پنجاب کی صوفیانہ آدرشوں سے لبریز پُرامن سرزمین کے منہ پر کالک پوتنے کی کوشش کی ہے۔دوسری طرف پنجابی پیارے سوشل میڈیا پر چڑھ دوڑے اور پنجاب کے ساتھ میری غداری کے فتوے جاری ہونے لگے۔بھلا ہو عصمت اللہ معاویہ کا جس نے بروقت وفاقی حکومت اور پاکستانی میڈیاکو انتباہی خط لکھ کر سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو نہ صرف موت سے بچالیا بلکہ مجھے کہنے کا حوصلہ دیا کہ دیکھو پنجابی طالبان کا کچھ نہ کچھ وجود تو بہرحال ہے۔

 

پاکستان کے جن جن شہروں اور قصبات میں دولت اسلامیہ کی حالیہ اشتہار بازی سامنے آئی ہے اُن میں سے زیادہ تر شہروں کا پاکستان کی فرقہ وارانہ تاریخ میں اہم کردار ہے۔ پنجاب میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے مخصوص تعلیمی و تنظیمی مرکز کبیر والا(خانیوال) اور ملتان میں مقامی انتظامیہ ششدر ہے کہ کس طرح راتوں رات ’’نامعلوم‘‘ افرادنے پورے شہر کی دیواروں پر دولت اسلامیہ کے نعرے لکھ دئیے۔ملتان میں دولت اسلامیہ کے لیے چاکنگ کرنے والوں میں شامل گرفتارافراد پہلے ہی مقامی پولیس کو بعض سنگین جرائم میں مطلوب تھے اور اُن کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ سے ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام اور عراق میں مصروف دولت اسلامیہ کے فرقہ وارانہ تصورات اور قتل و غارت سے فوری طور پر متاثر ہونے والوں میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی شامل ہیں، جنہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر پاکستان میں دولت اسلامیہ کے حقوق حاصل کرنا شروع کردیئے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سے مسلح گوشوں سے دولت اسلامیہ کے لیے ہمدردری کے چشمے پھوٹ رہے ہیں اور تحریک طالبان کے علاوہ کئی متشدد گروہوں نے دولت اسلامیہ کی پاکستانی شاخیں قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

 

پاکستان کے جن جن شہروں اور قصبات میں دولت اسلامیہ کی حالیہ اشتہار بازی سامنے آئی ہے اُن میں سے زیادہ تر شہروں کا پاکستان کی فرقہ وارانہ تاریخ میں اہم کردار ہے۔

 

ایک عام تصور یہ ہے کہ دولت اسلامیہ پاکستان میں وہ پذیرائی حاصل نہیں کرپائے گی جو القاعدہ کے حصے میں آئی۔لیکن یہ خیال اس وقت غلط ثابت ہونے لگتا ہے جب پاکستان کی ہر قسم کی فرقہ وارانہ تنظیمیں دولت اسلامیہ سے محبت کی دوڑ میں بازی لیجانے میں بیتاب نظر آتی ہیں۔فرقہ وارانہ جماعتوں میں القاعدہ کے لیے اس طرح کی بیتابی کبھی نظر نہیں آئی۔اس کے علاوہ پاکستان میں القاعدہ اور بعض فرقہ پرست گروہوں کے تعلقات کہیں بہت بعد میں استوار ہوئے جب کہ پاکستان میں القاعدہ کا غالب تعارف فرقہ وارانہ نہیں۔القاعدہ جیش محمد اور سابق حزب الجہاد الا سلامی جیسے گروہوں کے زیادہ قریب تھی اور ان گروہوں کا تعارف مکمل طور پر فرقہ وارانہ نہیں تھا۔دونوں مذکورہ بالا گروہوں کی قیادت اور اراکین کی بہت بڑی تعداد چوں کہ کراچی کے دیوبندی مدارس کی فارغ التحصیل تھی، اس لیے بعض اوقات مخالف مسالک کے بارے میں ایک اجتماعی بیزاری اُن کے ہاں نظر آجاتی ہے لیکن اُنہیں اس طرح فرقہ پرست قرار دینا جس طرح سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی وغیرہ ہیں مناسب نہیں۔

 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کو القاعدہ سے کہیں زیادہ پذیرائی ملے گی اور اس کے اہداف زیادہ تر مقامی ہوں گے۔القاعدہ نے کہیں بہت عرصے بعد مقامی ضروریات کے پیش نظر مجبوراً فرقہ وارانہ بنیادوں پر اپنے روابط بڑھانا شروع کیے اور مقامی فرقہ پرستوں کو اپنی صفوں میں شامل کیا، لیکن پاکستان میں عام فرقہ پرست جماعتوں کی طرح مخالفین پر کھلے حملے نہیں کیے بلکہ اپنے فرقہ وارانہ تصورات کو ایران اور افغانستان کے اندر موجود مسلکی مخالفین کے ساتھ معاملات میں استعمال کیا۔یا پھر بلوچستان جہاں القاعدہ کو افغانستان میں آپریشنل معاملات کے لیے ناگزیر موجودگی کو برقرار رکھنا تھا، وہاں پر مقامی فرقہ پرستوں کے ساتھ ہموار تعلقات کو قائم رکھنے کے لیے مسلکی مخالفین پر ہاتھ ڈالا گیا، جس کے بعد ہم نے کوئٹہ اور پاک ایران سرحد پر فرقہ وارانہ قتل و غارت کے مظاہرے دیکھے۔ لیکن دولت اسلامیہ اس حوالے سے زیادہ مہلک ثابت ہوگی کیوں کہ اس کا غالب تصور فرقہ وارانہ قتل و غارت سے لبریز ہے۔

 

پاکستان کی ہر قسم کی فرقہ وارانہ تنظیمیں دولت اسلامیہ سے محبت کی دوڑ میں بازی لیجانے میں بیتاب نظر آتی ہیں۔فرقہ وارانہ جماعتوں میں القاعدہ کے لیے اس طرح کی بیتابی کبھی نظر نہیں آئی۔

 

یہ ایک بالکل الگ موضوع ہے کہ پاکستانی ریاست اور اس کے ادارے دولت اسلامیہ کے ساتھ کس قسم کا سلوک کریں گے کیوں کہ جہاں تک پاکستان کی روایتی سیاست کا تعلق ہے، پاکستان میں کامیاب سیاسی جماعتیں فرقہ وارانہ تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کی بیزاری کے بجائے اِن سے انتخا بات اور دیگر سیاسی اُمور میں مسلح معاونت حاصل کرتی رہی ہیں۔مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی باقاعدہ فرقہ پرستوں کی مسلح امداد کو استعمال میں لانے والی دو بڑی پارٹیاں ہیں۔تحریک انصاف کی قیادت کے ہاں بھی ان گروہوں کے بارے میں کوئی خاص بیزاری نظر نہیں آتی جب کہ عمران خان اکثر اوقات متذبذب بیان بازی کا شکار رہتے ہیں جو نہ صرف مقامی مسلح گروہوں کو فائدہ پہنچاتی ہے بلکہ اِن کی جماعت کے بارے میں ابہام بڑھاتی رہتی ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ فرقہ پرست گروہوں کے بارے میں قومی سطح پر اتفاق رائے نہ ہونے کے برابر ہے اور جس کا براہ راست فائدہ شورش پسند اُٹھاتے ہیں۔دولت اسلامیہ کی پاکستان میں آمد اور پھر مضبوطی کی راہ میں بظاہر کوئی روکاوٹ نظر نہیں آتی۔
Categories
نقطۂ نظر

ISIS Links with Pakistan: Past & Present

Wall chalking in support of ISIS in Bannu, Pakistan. [courtesy of Talha Siddidui]
Wall chalking in support of ISIS in Bannu, Pakistan. [courtesy of Taha Siddiqui]
The entire world has been gripped by news of ISIS – Islamic State of Iraq and the Levant (also known as Islamic State of Iraq and al-Sham; now just Islamic State) – declaring on 29th June 2014 what Islamist movements have always dreamt of: a Caliphate.

The concept of the Caliphate is sold in Jihadist narratives as the ultimate goal of their political (violent & non-violent) struggle. It is considered by them as the ultimate antidote to the venom of secular and liberal democracy, and thus a panacea for all social, political and religious ills that Muslim communities are currently undergoing.

ISIS have declared themselves the winners of the global race towards a Caliphate, and as such its gains and losses will shape the future face of Jihadism in Pakistan and across the world.

Their destruction of Sufi shrines, mass murders of Christians and Shias and threats to desecrate shrines in Karbala, Baghdad and even establishments in the Kaaba, reflect the ideological basis on which their movement is based.

Transnational alliances of Islamist movements form the backbone of their material and ideological support systems, a subject not given due mileage in local counter-extremism and counter-terrorism work. Thus this article attempts to explore the links between ISIS and various Jihadist movements within Pakistan.

History
ISIS sprang from what is known as Jama’at al-Tawhid wal-Jihad (JTJ) and later Al-Qaeda in Iraq (AQI), both of which were founded by Abu Musab al-Zarqawi. Zarqawi’s Islamic State of Iraq – also known as al-Qaeda in Iraq – is the genesis of what is today known as the ISIS.

Zarqawi is said to have traveled to Pakistan at the age of 23 to participate in the Afghan Jihad (Ahmed, 2011). He started living in Hayatabad, Peshawar and networked with leadership members of the newly formed al-Qaeda. It is important to note that Hayatabad, Peshawar became a center for al-Qaeda leadership and many of its terrorists have been arrested from there. Zarqawi’s sisters were also settled in Peshawar and his mother visited him frequently there.

It was in Peshawar that Zarqawi adopted the fundamentalist Salafist faith, which experts say fuelled his animosity toward Shia Muslims and moderate Muslim governments.

Zarqawi established a terrorist camp on the Afghanistan-Pakistan border to train fighters and is responsible for multiple terrorist attacks on government targets and against Shias.

He was hosted by the banned Pakistani terrorist outfit Lashkar-e-Jhangvi (LeJ) for several years and trained their recruits from South Punjab in his camp.

He is also rumored to be arrested by the Pakistani intelligence ISI, but was later released. He traveled to Karachi regularly, and before saying goodbye to Pakistan in 1999 he is thought to have influenced local Jihadi organizations like Laskhar-e-Taiba and Laskhar-e-Jhangvi, and maintained Jihadist ties with them. (Mir, 2008)

Zarqawi developed differences with Al-Qaeda’s spiritual mentor Al-Zahwahiri, chief Osama Bin Laden and ideologue Maqdisi for his brutal, ad-hoc and indiscriminate killing of Shias in Iraq.

Much of what is happening in the Arab world can be credited to the conscious decision of Zarqawi to adapt a violent anti-Shia stance in his global Jihadist world-view. The sectarian civil strife the Middle East is currently witnessing is exactly what the anti-Zarqawi leadership of Al-Qaeda predicted. He inspired and executed several attacks on Iraqi Shias and till date inspires local Pakistani organizations like Laskhar-e-Jhangvi for their public massacres of Shias.

Funeral
On 10th June 2006, Jamat’ud Dawa held funeral prayers in absentia of Abu Musab al-Zarqawi, after his death in an airstrike on 7th June 2006.

As certain Urdu columnists observed the ‘martyrdom’ of their fallen hero Zarqawi, many Pakistanis who stood at his funeral prayers in absentia did not know of the violence perpetuated by this man and his fierce anti-Shia views (although posted and published few days before his death on mainstream media and internet forums in June 2006) in which he claimed that, “There would be no total victory over the Jews and Christians without a total annihilation of the Shia” and that, “If you can’t find any Jews or Christians to kill, vent your wrath against the next available Shia” (Ahmed, 2011).

Current leader of ISIS
The current leader of IS (ISIS) and self-proclaimed Caliph of Muslims, Abu Bakr al-Baghdadi, fought and studied under Abu Musab al-Zarqawi. ISIS’s fighters have been spotted raising pictures of Zarqawi even 8 years after his death, clear proof of his continuing influence on the organization’s ideology.

Amid rumors, it is now established that ‘Mujahideen’ of Pakistani origin are also fighting in Syria and Iraq. Tehrik e Taliban Pakistan (TTP) has openly boasted about sending ‘hundreds of men’ and having established Jihadi camps in Syria.

The social media feeds of Sipah e Sahaba and Lashkar-e-Jhangvi reveal their level of interest in recent developments in the Middle East. While sectarian wars are on the rise everywhere, the recent upsurge in attacks on Shias in Pakistan can be directly linked with the rise of ISIS.

Zarqawi is dead but ‘Zarqawism’ is now deeply rooted in violent Islamist movements and his ruthless advocacy to kill the ‘near enemy’ (Shias, Sufis, Jews, Christians and others) first will not vanish anytime soon.

It is now up to Muslim societies and states to ensure that this crisis does not escalate further into what could be a full-blown, global sectarian war. The responsibility lies with governments and civil society, and the peaceful voices within them, to take a stand against the forces that seek to instil hatred, violence and division among us.

Categories
نقطۂ نظر

!عراق شورش: آخر ہو کیا رہا ہے

shafqat ullah

گلو بٹ سے لے کر طاہرالقادری کے انقلاب تک ہمارے میڈیا کے پاس لوکل قسم کے جینوئن اور نان جینوئن ایشوز کی بھرمار ہے ۔ ایسے میں عراقی خانہ جنگی اور مشرق وسطی میں آنے والی نت نئی تبدیلیوں پر ہماری توجہ بھلا کیونکر ہو۔ اول تو ہمارے ہاں عراق، شام اور پورے مڈل ایسٹ کے داخلی اور خارجی امور پر نپی تلی اور مستند آرا کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ دفاعی امور کے تجزیہ کاروں کی فوج ظفر موج تو ہے، لیکن جب ان سے پوچھیے کہ جناب عراق میں کیا ہو رہا ہے تو یہ حضرات عموما جواب میں اسلام آباد سے کراچی تک کا کوئی قصہ سنا دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں ملاقات ہوئی جناب شفقت اللہ سے۔
شفقت اللہ صاحب، تاریخ، سیاست اورفلسفے جیسے موضوعات پر اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں، آپ ہفت روز ہ ہم شہری کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مشرق وسطی سے جڑے جغرافیائی اور سیاسی امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔ عراق میں جاری سول وار پر تجزیے کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے ” پابجولاں ” کے لیے شفقت اللہ صاحب سے ایک نشست کا اہتما م کیا گیا، جس کی روداد پیش خدمت ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق داعش نامی جہادی تنظیم نے عراق میں اپنے زیر اثر علاقوں میں نظام خلافت کا اعلان کر دیا ہے اور تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو مسلم امہ کا خلیفہ مقرر کیا ہے۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”2″]
ajmal-jami

سوال: داعش یا آئی ایس آئی ایس کیا ہے؟ اس کا ظہور اچانک ہوا ہے یا یہ سب ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے؟
جواب: ان کا پہلا تعارف تو القاعدہ آف عراق کے نام سے ہوتا ہے، اس وقت یہ دولت اسلامیہ فی العراق کے نام سے جانے جاتے تھے۔یہ لوگ ۲۰۰۶ء میں امریکہ کے خلاف بر سر پیکار ہوئے اور تب یہ گروہ لائم لائٹ میں آیا، اس وقت ان کا سربراہ ابو مصعب الزرقاوی تھا، جو بعد میں امریکی اور عراقی فورسز کے جوائنٹ آپریشن میں مارا گیا، زرقاوی کےاسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ القاعدہ کی شفقت سے یہ گروہ پروان چڑھا۔ یہ بنیادی طور پر اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی ازم ہیں۔ اور اس کی مثال تب دیکھنے کو ملی ، جب انہوں نے سامرا میں مزارات پر حملے کیے۔ حالانکہ اسامہ بن لادن اور الظواہری نے ان کی ایسی پالیسیوں کی مخالفت کی اور انہیں اینٹی شیعہ کاروائیوں سے منع کیا۔
سوال: زرقاوی تو مارا گیا تھا، داعش یہاں تک کیسے پہنچی؟
جواب: زرقاوی کے قتل کے بعد القاعدہ آف عراق کا نام ختم ہو گیا، پھر ان کی باگ ڈور ابو عمر البغدادی کے ہاتھوں میں رہی جو عراقی فورسز کے ایک آپریشن میں مارا گیا۔ اس کے بعد ان کے موجودہ رہنما ابو بکر البغدادی منظر عام پر آئے۔ گو کہ ابو بکر البغدادی کے بارے میڈیا پر بہت کم معلومات میسر ہیں، اکا دکا تصاویر کے علاوہ یہ صاحب زیادہ نہیں دیکھے گئے۔ دو ہزار بارہ میں شام کی سول وار کے دوران اس تنظیم کا نام بدلا، اور یہ دولت اسلامیہ فی العراق و الشام کے نام سے منظر عام پرآئے۔ اس دور میں داعش اور جہبۃ النصرہ نامی تنظیمیں القاعدہ سے منسلک ہونے کی دعوے دار تھیں جنہوں نے شام میں سول وار میں حصہ لیا۔ جہبتہ النصرہ کے سربراہ ابو محمد الجولاتی ہیں۔یہ دو گروہ اختلافات کا شکار ہوئے۔ گو کہ الظواہری کی القاعدہ نے ان گروہوں کے درمیان مفاہمت کی بہت کوشش کی ۔ لیکن انجام علیحدگی پر ہوا۔ بعد میں الظواہری کی حمایت جولاتی گروپ کے ساتھ رہی۔ یہ وہ دور تھا جب الظواہری نے داعش کو شام سے نکلنے کا کہا لیکن داعش نے ایسا کرنے سے انکار کیا، پھر ان کی آپس میں زبردست جنگ ہوئی۔

ISIS 3

موصل میں تیس ہزار کے قریب عراقی فوجی موجود تھے، یہاں موجود جرنیلوں نے فوج کو داعش کے خلاف کاروائی کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ احکامات بغداد سے موصول ہوئے ہیں۔
سوال: بنیادی طور پر داعش کہاں پروان چڑھی؟
جواب: مشرقی اور شمالی شام میں داعش کی بنیاد رکھی گئی، یہ علاقے عراقی اور ترک سرحد کے قریب واقع ہیں۔ حلب شام کا دوسرا بڑا شہر ہے جو شمال میں ترکی کے قریب واقع ہے، جہاں داعش اور دیگر گروپس کی شامی فورسز کے ساتھ زبردست لڑائی ہوئی۔ اسی علاقے میں اختلافات کے بعد جبتہ النصر اور ان کے حامیوں نے داعش کے خلاف ایکشن لیا،اور داعش کو حلب سے نکال باہر کیا، پھر یہ لوگ عراق میں دیر الزور کے مقام پر پڑاو ڈالتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جو شامی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں آئل ریفائنریز ہیں۔ پچھلے دو سال سے یہ علاقہ بحثیت مجموعی داعش کے قبضے میں ہے۔ گو کہ یہاں ائر پورٹ اور گیریژن بھی واقع ہے جو ابھی تک شامی فورسز کے کنٹرول میں ہی ہے۔ بنیادی طور پر ‘الرقا ‘ کا علاقہ داعش کا مرکزی ہیڈ کواٹر سمجھا جاتا ہے۔ یہ دو سال سے ان کے کنٹرول میں ہے، یہاں ان کی اپنی عدالتیں ہیں جو سخت شرعی نظام پر عمل پیرا ہیں، یعنی یہاں سزا کے طور پر ہاتھ کاٹے جاتے ہیں، سنگسار کیا جاتا ہے اور تمام کیپیٹل سزائیں نافذالعمل ہیں۔
سوال: عراق کی جانب داعش کی پیش قدمی کب اور کیسے ہوئی؟
جواب: پچھلے سال کے آخر میں خبریں آئیں کہ عراقی صوبے الانبار میں داعش نے پیش قدمی کی ہے۔ الانبار سنی علاقہ ہے،جغرافیائی اعتبار سے عراق کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن نسبتا کم گنجان ہے۔ یہ خطہ شام اور سعودی سرحد کے قریب واقع ہے، مجموعی طور پر الانبار عراق کا جغرافیائی طور پر پینتیس سے چالیس فیصد ہے۔ یہاں سنی دھرنے چل رہے تھے، اسی دوارن داعش نے الانبار کے صوبائی دارالحکومت فلوجہ پر چڑھائی کر دی، فلوجہ تاحال ان کے قبضے میں ہے لیکن رمادی پر ان کا کنٹرول جزوی ہے۔ اب تازہ معلومات کے مطابق عراقی افواج نے فلوجہ کا گھیراؤکر لیا ہے۔
سوال: لیکن داعش کی سب سے بڑی کارروائی تو موصل میں دیکھنے کو ملی، اس بارے کیا کہیں گے آپ؟
جواب: موصل صوبہ نینوا کا دارالحکومت ہے، چند ہفتے پہلے داعش نے موصل سے پہلے ایک تاریخی شہر سامرہ پر قبضے کی کوشش کی،جہاں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں سے انہوں نے تیرہ سو افراد کی ملیشا کی صورت میں نئی گاڑیوں اور راکٹ لانچرز کی مدد سے موصل پر دھاوا بولا۔ موصل میں تیس ہزار کے قریب عراقی فوجی موجود تھے، یہاں موجود جرنیلوں نے فوج کو داعش کے خلاف کاروائی کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ احکامات بغداد سے موصول ہوئے ہیں۔ فوج انتشار کا شکار ہوئی، اسلحہ اور وردیاں چھوڑ کر فوجیوں نے جان بچائی، ان جرنیلوں کو بعد میں بغداد حکومت نے فارغ کر دیا۔
سوال: یہ جرنیل اب کہاں ہیں؟
جواب: اب تک کی معلومات کے مطابق انہوں نے کر د علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ اور ان دنوں یہ سویڈن اور ناروے میں پناہ لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سوال: داعش نے تکریت اور بغداد کی جانب بھی پیش قدمی کی کوشش کی وہاں ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟
جواب: موصل پر حملے کے فوراً بعد داعش نے بغداد کی جانب رخ کیا، رستے میں تکریت آتا ہے۔ وہاں بھی جرنیلوں کی ملی بھگت سے پچیس سو کے قریب عراقی فوجیوں نے ہتھیار ڈالے، ان میں سے سترہ سو سے زائد فوجی شیعہ تھے، جنہیں انتہائی بے دردی سے داعش نے قتل کیا، آپ کو یاد ہو گا کہ تکریت سابق عراقی صدر صدام حسین کا آبائی علاقہ ہے۔ تکریت سے موصل کے رستے میں عراق کی بہت بڑی آئل ریفائنری بھی واقع ہے، یہاں بھی داعش نے قبضے کی کوشش کی۔ اس بارے متضاد اطلاعات ہیں، کہا جار ہاہے کہ یہ ریفائنری تا حال عراقی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ داعش کی کارروائیوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، اس گروہ نے بعقوبہ اور صوبہ دیالہ پر بھی چڑھائی کی کوشش کی لیکن یہاں انہیں ابھی تک خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
سوال: بظاہر یہ انتہائی پیچیدہ جغرافیائی منظر نامہ ہے، جغرافیائی اعتبار سے عراق کی کیا بانٹ بَنت ہے؟
جب بھی کسی قوت نے پرائیویٹ ملیشیا کو پروان چڑھایا، تاریخ شاہد ہے کہ وہی گروہ اسی طاقت کے خلاف بر سر پیکار نظر آئے۔ آپ افغان جنگ سے لے کر اب تک کا عالمی منظر نامہ دیکھ لیجیے۔ یہ بات درست ثابت ہو گی۔
جواب: بنیادی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عراق اس وقت تین حصوں میں تقسیم ہے۔
ایک تو شمال مشرقی عراقی علاقے ہیں، یہ ایران اور ترکی کے قریب واقع ہیں۔ یہاں کرد زیادہ تعداد میں بستے ہیں، کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کردوں کی آبادی مجموعی عراقی آبادی کا اکیس فیصد ہے۔ صدام کا تختہ گرنے کے بعد یہ تقریبا ایک خود مختار علاقہ بن چکا ہے، مقامی حکومت ہے، اپنا وزیر اعظم ہے، اپنی ملیشیا ہے جسے کرشمرغا کہا جاتا ہے۔ انہی کردوں نے کرکوک پر قبضہ کیا، جہاں تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ کرد فقہ کے اعتبار سے شافعی مسلک سے جڑے ہیں اور ان کے ترکی اور اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔ حالیہ دنوں کردوں نے ایک ملین بیرل تیل ترکی کے ذریعے اسرائیل کو کم ترین معاوضے پر بیچا۔ اس مد میں ایک سو چار ملین ڈالر ترکی کے بنک میں موجود ہیں۔ بغداد حکومت نے ترکی کے خلاف اقوام متحدہ میں احتجاج بھی کیا کہ تیل بیچنے کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو حاصل ہے۔
دوسرے علاقے کو ہم وسطی عراق کہہ سکتے ہیں، جس میں کسی حد تک مشرقی عراق کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں، یہ سنی علاقہ ہے جو الانبار، بغداد، صلاح الدین، اور نینوا جیسے صوبوں پر مشتمل ہے۔ موصل کا شمار بھی اسی علاقے میں ہو گا۔ حالانکہ موصل میں اکثریت ترک اور کردوں کی ہے۔
تیسرا حصہ کہلائے گا جنوبی عراق۔ یہ بغداد سے جنوب کی جانب کے علاقے ہیں، یعنی ایرانی اور کویتی سرحد کے قریبی علاقے۔ تاریخی اعتبار سے یہاں شیعہ اکثریت میں آباد ہیں، بصرہ، کربلا، نجف، کوفہ یہاں کے بڑے شہر ہیں، خوش قسمتی سے یہ علاقے ابھی بغداد کے کنٹرول میں ہی ہیں، یہاں شیعہ ملیشیابھی موجود ہے، مقتدیٰ الصدر کی سابقہ ملیشیا ، مہدی ملیشیا، الصائب اہل حق اور قطائب حزب اللہ یا عراقی حزب اللہ جیسے مسلح گروہ یہیں پائے جاتے ہیں۔ isis map 1
سوال: عراق میں داعش کے حامی مسلح گروہ کونسے ہیں؟
جواب: داعش پانچ یا چھے گروہوں کا مرکب ہے، ان کی کارروائیوں میں انہیں جیش الرجال الطریقہ النقشبندیہ جیسے گروہ کی بھی حمایت حاصل ہے، جس کے سربراہ عزت الدوری ہیں، عزت الدوری صدام حسین کےنائب کے طور پر جانے جاتے تھے۔ داعش کے ساتھ، بعث کے گروہ بھی شامل ہیں، اور بعثی گروہ اپنے سابقہ دور کا احیا چاہتے ہیں۔ مختلف مقاصد ہونے کی وجہ سے ان کی آپسی جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہی، سامرہ میں داعش اور بعث پارٹی کے تصادم کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں۔ اب امریکی بھی بعث کے خاتمے کو اپنی سنگین غلطی سمجھتے ہیں۔
امریکی انخلا کے بعد خدشہ ہے کہ اگر یہ تمام گروہ مزید قوت حاصل کرتے ہیں تو یہ ڈیورنڈ لائن کے قریب عالمی طاقتوں کی حمایت سے القاعدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔
سوال: داعش کے اصل مقاصد کیا معلوم ہوتے ہیں؟
جواب: حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، لیکن بظاہر یوں لگتا ہے جیسے سنی اور تکفیری اتحاد کے ذریعے اس جنگ کو شیعہ سنی تصادم قرار دے کر پاپولر سنی انقلاب کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ جس کی باگ ڈور داعش اپنے ہاتھوں میں ہی رکھنے کی خواہاں ہے۔ دوسری جانب اب شیعہ رضا کار اور بغداد حکومت بھی اپنی کمر کس رہی ہے۔ داعش کے لیے دور رس نتائج حاصل کرنا قطعا آسان نہ ہو گا۔
سوال: اس ساری صورتحال کے تناظر میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں کہاں کھڑی دکھائی دیتی ہیں؟
جواب: یہ ایک انتہائی دلچسپ سوال ہے، جس کا جواب انتہائی پیچیدہ ہے۔ شام کی جنگ میں خیال تھا کہ داعش ، جبتہ النصرہ اور دیگر مذہبی گروہوں کو سعودی ، قطری اور دیگر خلیجی ممالک کی حمایت حاصل رہی ہے، ان گروہوں کے آپس کے اختلافات کے باعث علاقائی قوتوں کا وزن بھی مختلف پلڑوں میں گرتا رہا۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ قطر داعش کا زیادہ حمایتی ہے، دوسری جانب نقشبندی گروہ کو اب بھی سعودی آشیر باد حاصل ہے۔ جبکہ تمام شیعہ گروہ ایران اور ایران کی چند ایک حمایتی قوتوں کے زیر اثر ہیں۔
سوال: کیا یہ کہنا درست ہے کہ امریکی پالیسی خاصی مبہم ہے؟
جواب: امریکی پالیسی بظاہر واضح نہیں، ایک طرف وہ داعش کے خلاف ہیں تو دوسری جانب شام میں معتدل مذہبی گروہ جن کا رجحان درحقیقت داعش کی ہی جانب ہے انہیں امریکہ شامی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد دے رہا ہے۔ گو کہ اس بابت سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن یہی امداد عراق میں داعش تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
القاعدہ کی شفقت سے یہ گروہ پروان چڑھا۔ یہ بنیادی طور پر اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی ازم ہیں۔ اور اس کی مثال تب دیکھنے کو ملی ، جب انہوں نے سامرا میں مزارات پر حملے کیے۔ حالانکہ اسامہ بن لادن اور الظواہری نے ان کی ایسی پالیسیوں کی مخالفت کی اور انہیں اینٹی شیعہ کاروائیوں سے منع کیا۔
داعش عراق سے سعودی عرب کی جانب بھی پیش قدمی کا ارادہ رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سعودی فوج بھی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ایسی صورت میں مصری فوج بھی ان ایکشن ہو سکتی ہے۔ کچھ ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق اردن کی فضائیہ نے عراقی سرحد پر داعش کے قافلوں پر بمباری کی تھی، جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق ماضی میں امریکہ ہی نے اردن میں ٹریننگ کیمپس بھی قائم کیے جہاں داعش کے جہادیوں کو ٹریننگ دی گئی،۔یہاں یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ جب بھی کسی قوت نے پرائیویٹ ملیشیا کو پروان چڑھایا، تاریخ شاہد ہے کہ وہی گروہ اسی طاقت کے خلاف بر سر پیکار نظر آئے۔ آپ افغان جنگ سے لے کر اب تک کا عالمی منظر نامہ دیکھ لیجیے۔ یہ بات درست ثابت ہو گی۔ قصہ مختصر یہ کہ مشرق وسطی میں تمام تر علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کے مفادات ہیں، اور اپنے اپنے مفادات کی خاطر طاقت کا پلڑا بدلا جا رہا ہے۔
سوال: یہ منظر نامہ یقیناً ایران کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، ایران کی پوزیشن کیا ہے؟
جواب: ایران ، شام کی صورتحال میں براہ راست فریق ہے۔ داعش کا شام سے عراق آ جانا، سنی علاقوں پر قبضے کی کوشش بغداد حکومت کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ عراقی حکومت ایرانی اتحادی ہے، اگر بغداد گرتا ہے تو یہ جنگ فرقہ وارانہ شکل اختیار کر لے گی، جس کی آگ یقینا ایران کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ایران کی شام تک زمینی رسائی صرف عراق کے ذریعے ہی ممکن ہے، ایسی صورت میں ایران کا شام سے زمینی رابطہ منقطع ہو سکتا ہے، اس سے آپ اس علاقے میں ایرانی مفادات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک ایران عراق میں براہ راست ان ایکشن نہیں، لیکن دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہے کہ القدس فورس کے کچھ اہلکار مشیران کی حیثیت سے بغداد حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں، جن کی کمان جنرل قاسم سلیمانی کر رہے ہیں، جن کی عراق میں موجودگی کی بھی رپورٹس ہیں۔
سوال: سعودی عرب کا کردار انتہائی مشکوک دکھائی دے رہا ہے۔ اس بارے کیا تبصرہ ہے آپ کا؟
حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، لیکن بظاہر یوں لگتا ہے جیسے سنی اور تکفیری اتحاد کے ذریعے اس جنگ کو شیعہ سنی تصادم قرار دے کر پاپولر سنی انقلاب کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ جس کی باگ ڈور داعش اپنے ہاتھوں میں ہی رکھنے کی خواہاں ہے۔
جواب: سعودی ہمیشہ سے ہی اپنی پسند کے گروہ کی مدد کرتے رہے ہیں، اسرائیل کی نیوز ایجنسی دیبکا فائیل کے مطابق عراق شام سرحد پر واقع پوائنٹ القائم پر داعش نے کچھ عرصے کے لیے قبضہ کیا۔ یہاں ایک ملٹری ائیرپورٹ بھی واقع ہے، اس نیوز ایجنسی کا ماننا ہے کہ یہاں سعودی کارگو طیارے اترے، جن کے ذریعے داعش عراق اور شام کے لیے ملٹری سپلائی پہنچی، یہ وہی وقت تھا جب شامی فضائیہ نے القائم پر کارروائی کی، اور یہ کارروائی اسی ائیر بیس کو تباہ کرنے کے لیے کی گئی، اب اس کاروائی کو دیکھیں تو ڈیبکا فائل کا دعویٰ درست معلوم ہوتا ہے۔ اب یہ ساری صورتحال معاملے کو مزید پیچیدہ کرتی ہے۔ اسی وجہ سے حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن آپ تمام پلیئرز کی نشاندہی ضرور کر سکتے ہیں، جو ہم اس گفتگو میں کر چکے ہیں۔
سوال: پاکستان یا افغانستان ان بدلتے حالات سے کس حد تک الگ ہیں؟
جواب: دہشت گردوں کے تمام گروہ دنیا بھر میں آپس میں روابط رکھتے ہیں، داعش کے اندر افغان ، چینی، ترک، ازبک اور دنیا بھرے سے آئے افراد شامل ہیں، موصل پر قبضہ کرنے والے داعش کے کمانڈر کا تعلق چیچنیا سے ہے۔ یہ بنیادی طور پر انٹرنیشنل موومنٹس ہیں، جو مختلف طاقتوں کےتابع مختلف ادوار میں ہوتی ہیں، انہیں کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے، لہذا یہ پاکستان اور افغانستان کے لیے بھی غور کا مقام ہے۔ ہمیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھنا ہو گی، اور جلد از جلد اپنے قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ کو بحال کرنا ہوگا۔ امریکی انخلا کے بعد خدشہ ہے کہ اگر یہ تمام گروہ مزید قوت حاصل کرتے ہیں تو یہ ڈیورنڈ لائن کے قریب عالمی طاقتوں کی حمایت سے القاعدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔ اس میں قابل غور معاملہ ہمارے سعودی اور ایرانی حکومت کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ہمیں کسی بھی پلڑے میں ضرورت سے زیادہ وزن رکھنے سے گریز کرنا ہوگا۔ایران کے ساتھ ویسے بھی ہمارے تعلقات میں اعتماد کا فقدان ہے، لہذا متوازن راستہ اختیار کرنا بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ اب ایسے میں ہم آئسولیشن بھی اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ دہشت گردی کی وجہ سے کئی بین الاقوامی معاملات میں ہم پہلے ہی تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔
سوال: تو ایسے میں پاکستان کو کیا کرنا ہوگا۔آپریشن ضرب عضب درست سمت میں ایک قدم نہیں؟
جواب: تیس سال سے بگڑی بیماری کو دنوں میں ختم کرنا مشکل ہے، دیر آید درست آید، ہمیں ایسے اقدامات بہت پہلے اٹھا لینے چاہیے تھے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم مذہبی دہشت گردی کے بانی ہیں، اس اوریجنل سن کا آغاز ہمارے ہاں سے ہی ہوتا ہے۔آپ اندازہ کیجیے ایک زمانے میں افغان جہاد کے لیے موساد نے فلسطینیوں کو ٹریننگ دی، پھر وہی تربیت یافتہ گروہ انہی کے خلاف لڑے، بالکل ویسے جیسے ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ لہذا اب ہمیں اچھے برے کی تمیز کیے بغیر ان تمام دہشت گردوں کا صفایا کرنا ہوگا۔ ضرب عضب کے نتیجے میں چند ہفتوں میں شمالی وزیرستان میں حکومتی رٹ قائم ہو جائے گی، لیکن ہمیں جنوبی پنجاب اور کراچی پر بھی توجہ دینا ہو گی۔
سوال: امریکہ داعش کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی سے کیوں گریزاں ہے؟
جواب: امریکہ شاید مشرق وسطیٰ میں فعال ریاستوں کا قیام چاہتا ہی نہیں، اس سلسلے میں بہت سے تھینک ٹینکس نے درجنوں نئے نقشے بھی شائع کیے۔جن میں جغرافیائی بندر بانٹ کی رام کہانی الاپی گئی ہے۔ اور انہی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک لانے کے لیے داعش اور طالبان جیسے کردار زندہ رکھے جاتے ہیں۔ اس بارے میں بے شمار تھیوریاں پیش کی گئیں۔ لیکن حقائق تو یہ کہتے ہیں کہ عراق نے ایک عرصے سے ایف سولہ طیاروں کی ادائیگی کر رکھی ہے لیکن ابھی تک امریکہ نے یہ طیارے عراق کے حوالے نہیں کیے۔ بالاخر عراق نے روس سے سینکڈ ہینڈ سخوئی طیارے خریدے۔
سوال: مشرق وسطی میں جاری یہ خانہ جنگی کب تک جاری رہ سکتی ہے؟
جواب: اسکا انحصار بین الاقوامی طاقتوں پر تو ہے ہی، لیکن اس سے زیادہ یہ دیکھنا ہو گا کہ اس خطے میں کونسی ایسی طاقت ہے جسکا مفاد اس آگ کے مزید بھڑکاؤمیں ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

The Trouble in the Middle East

With radical state and non-state actors, the Middle East is not only a key player in the global oil trade with its unmatched oil monopoly but it also shapes the international politics to a great extent. Issues and conflicts pertaining to this region range from ethnic to nationalist and religious to sectarian, all in the pursuit of power.

According to the sources, ISIS has now become the richest terrorist group in the world.

After the disintegration of the Ottoman Empire, Middle East witnessed a number of conflicts among the Arab states, but after the creation of the state of Israel in 1948, Arab-Israeli conflict stole the limelight and shaped the entire regional politics with directly influencing international politics as well. Since 1948, there have been more wars and armed conflicts between Arabs and Israelis than among the Arab states. But after recent developments since the Arab Spring, Muslims have found more reasons to fight with each other as the regional politics has undergone a paradigm shift.
In the Arab spring – a series of uprisings which were instigated against dictatorships, monarchies and political corruption – protesters who demanded more political rights were tried to be quelled. The situation went out of control in some states in which the repressive rulers were either ousted or dragged on the streets of their own countries. For instance, leaders of Tunisia, Egypt and Yemen were deposed and in Libya, Gaddafi was killed by the rebellious masses. The uprisings in two states – Syria and Bahrain – radically altered the dynamics of regional politics. The uprisings, which were originally against the ruling elites, were molded into an all-out sectarian conflict between Shias and Sunnis. Particularly in Syria, this transformation took place when Iran and Saudi Arabia shadily and actively intervened to hijack the genuine revolt that was initially led by the Free Syrian Army (FSA). Hence, a proxy war has been initiated in which private militias and jihadi terrorist groups are still being heavily funded, and both states are pursuing and advancing their political interests at the cost of human lives. Outrage of western powers over the alleged use of chemical weapons by Assad compelled him to surrender his weapon stockpile. Plus, gave an apparent reason to the western powers to back out from the Syrian crisis with a superficial victorious face.

Unfortunately, a region that only had one main conflict to deal with i.e. the Arab-Israel conflict, has now fallen into an abyss of its own homegrown conflicts.

Resultantly, militants flexed their muscles and this caused a spillover in Iraq as well. Also, internal differences and infighting led some jihadi groups to act independently. The most prime example is that of Islamic State of Iraq and Syria (ISIS) or also known as Islamic State in Iraq and Levant (ISIL). This group used to operate under the umbrella of al-Qaeda but not anymore, because the group leader, Abu Bakr al-Baghdadi, rejected the orders of Ayman al-Zawahiri to operate only in Iraq and, currently, it continues to operate both in Iraq and Syria. The extremity of ISIS can be evaluated by the fact that after a power struggle between ISIS and al-Qaeda the latter had to dissociate itself from the former. Moreover, parts of northern Syria are already under the control of ISIS and, with the US troops withdrawn, weak Iraqi government and military, ISIS rebounded with robust force taking over Mosul, Tikrit, Falluja along with many other cities seizing massive caches of arms, ammunitions, large amount of money and laying siege to Iraq’s largest oil refinery. According to the sources, ISIS has now become the richest terrorist group in the world.
Such advancement has not only raised eyebrows in the Iraqi political circles, but in the White House as well. Iran has already expressed its will to assist Iraq while, on the other hand, the US is mulling options which includes airstrikes and support for the Iraqi military or Kurdistan’s army, the peshmerga. Moreover, clerics are also playing an active role in the conflict. In Iraq, Ayatollah Sistani issued a call to take up arms against ISIS militants whereas, in Syria, the Grand Mufti announced that voting for Assad was commanded by the Prophet. Since, ISIS’ militants are adherent of Sunni Islam, so once again the fight is being dubbed as a sectarian conflict between Shias and Sunnis. And, such statements by clerics will only add more fuel to the fire; let the political forces handle the crisis.
The ongoing crises in the Middle East, particularly in Iraq, bears two lessons. First, for the West; peace cannot be attained just by replacing one political actor with the other as the problem lies deep within the minds. Afghanistan can be the next Iraq. Second, for the Muslims in general, separating religion from politics will save the former, before power politics, in the name of religion and sectarianism, destroy religion. Unfortunately, a region that only had one main conflict to deal with i.e. the Arab-Israel conflict, has now fallen into an abyss of its own homegrown conflicts.