Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان؛ سیاسی قیدیوں کی رہائی ضروری ہے

letters-to-the-editor-full-featured1

محترم مدیر
گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے، ان سے ناروا سلوک کیا جاتا ہےاور ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہماری تنظیم بالاورستان فرنٹ ہمیشہ سے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہی ہے۔ آپ کے موقر جریدے کے ذریعے ہم عوام الناس کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر سے وابستہ گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنی آزادی، خودمختاری اور آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں وفاقی حکومت کے نمائندے اورگلگت بلتستان میں موجود ان کے مقامی گماشتے ہمیں خاموش کرانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور ریاستی طاقت استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے کئی سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے ساتھی ریاستی اداروں کی حراست میں ہیں۔ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اپنے حقوق کی بات کرنے کی پاداش میں سینکٹروں سیاسی کارکن اور رہنما پچھلے 5 ماہ سے گلگت بلتستان کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔
وابستہ گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنی آزادی، خودمختاری اور آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں وفاقی حکومت کے نمائندے اور گلگت بلتستان میں موجود ان کے مقامی گماشتے ہمیں خاموش کرانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور ریاستی طاقت استعمال کرتے ہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق 7 جون 2015 کو جب فاتح گلگت بلتستان کرنل مرزا حسن خان (مرحوم) کے فرزند کرنل ریٹائرڈ نادر حسن خان، بالاورستان کے اہم رہنما صفدر علی، افتخار حسین، مدثر، وسیم، افتخار پالے اور دیگر کارکنان پاک چین اقتصادی راہداری پراپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے گلگت میں یونائیٹڈ نیشن ملٹری گروپ برائے انڈیا اینڈ پاکستان کے ذیلی دفتر جوٹیال گلگت پہنچے۔ یہ افراد اس اقتصادی منصوبے پر اپنے تحفظات عالمی اداروں تک پہنچانا چاہتے تھے لیکن انہیں ریاستی اداروں نے روک کر زدوکوب کیااور گرفتار کر لیا۔ اپنا آئینی، قانونی اور سیاسی حق استعمال کرنے والے یہ سیاسی کارکن تاحال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ان سیاسی کارکنوں کو قانونی معاونت بھی فراہم نہیں کی جارہی جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ان کا حق ہے۔پچھلے پانچ ماہ کے دوران نہ تو انہیں کسی عدالت سے ضمانت حاصل کرنے دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی واضح مقدمہ قائم کیا جارہا ہے ۔ لہٰذا اس سلسلے میں ہم پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عالمی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان میں اسیر سیاسی رہنماوں کو فی الفور رہائی کے لیے اقدامات کریں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر لگائے گئے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے انہیں بری الزمہ قرار دیا جائے۔ ہم اس حوالے سے حکمرانوں کو انتباہ کرتے ہیں وہ گلگت بلتستان کے سیاسی اسیران کے حوالے سے نوٹس لے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے بیس لاکھ مظلوم و محکوم عوام اپنے حقوق کے لیے پوری قوت سے اٹھ کھڑے ہوں گے جنہیں سنبھالنا موجودہ حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا۔
فقط
اراکین بالاورستان نیشنل فرنٹ
Categories
نقطۂ نظر

امریکی خارجہ حکمت عملی کے سامراجی خدوخال

روس شام میں داعش کے خلاف محاذ کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی میڈیا پر روس کو لے کر دو طرح کی بحث دیکھنے کو ملتی ہے؛ ایک تو یہ کہ روس داعش سے زیاد ہ بشارالاسد کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے مخالف باغیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور چونکہ یہ باغی داعِش کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہیں سو اِنہیں کمزور کرنے سے داعِش مضبوط ہوسکتی ہے اور اِس سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ یوں اس طرح کے آپریشن سے لوگ زیادہ متنفر ہو سکتے ہیں اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ خد شہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے کئی سالوں سے جاری کارروائیوں کی نسبت روس کی جانِب سے کی گئی کاروائی نے داعش کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ماسکو آ نے والے دنوں میں بشارالاسد اور اس کے حامیوں کو شام میں ایک اچھی حکومت چلانے کے لیے کسی دوسرے گروہ یا شخص سے زیادہ منا سب سمجھتا ہے۔ مگر امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی اور رویہ ہمیشہ روس سے مختلف رہا ہے۔ وہ نہ تو اپنی سر زمین پہ جنگ چاہتا ہے اور نہ کبھی ہونے دیتا ہے۔ جب امریکہ کو کسی مضبوط ریاست سے کسی قسم کا خطرہ ہوتا ہے وہ اس کے کمزور ہمسائے کے ساتھ یا تو سفارتی تعلقات بناتا ہے یا پھر عسکری تعلقات استوار کرتا ہے۔ امریکہ ہمیشہ کسی خطے میں ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے سیاسی دوست چاہتے ہیں۔ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی معیشت چین کو مات دینے کے لیے امریکہ وہاں قدم جمانا چاہتا تھا مگر وسطی ایشیا پہ ایران کے ساتھ سیاسی اختلافات ہونے کی وجہ سے اس نے افغانستان میں اپنی پسند کی حکومتیں لانے کی کوشش کی تا کہ وسطی ایشیا میں کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وہاں فوج موجود ہو۔ امریکہ افغانِستان میں عین ویسی حکومت کا خواہاں ہے جیسی خظے میں موجود اس کے سیاسی حلیف پاکِستان اور بھارت چاہتے ہیں۔
امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔

 

امریکی سفارتی حکمت عملی میں دیگر ممالک میں عسکری مداخلت نہایت اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت امریکہ کی براہ راست مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور یہ سلسلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔ عراق اور افغانستان کے بعد بظاہر امریکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں میں بھی براہِ راست عسکری مداخلت چاہتا تھا تا کہ افغانستان میں اپنے فوجیوں اور تنصیبات کو محفوظ بنا سکے مگر اس وقت کی پاکِستانی قیادت اس سے نا خوش تھی سو وہ براہِ راست مداخلت نہ کر سکا۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے دوران پاکستان کو اتحادی بنائے رکھنے کے بعد اب امریکہ نے ہندوستان کو خطے میں اپنے حلیف کے طور پر دیکھنا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان نے امریکہ کی بجائے چین پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔ اوبامہ نے خود بھارت کا دورہ کیا اور کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔

 

دیگر سامراجی طاقتوں برطانیہ اور فرانس کی طرح امریکہ بھی مذہب کو اپنے لیے کار گر حربہ سمجھتا ہے۔ اَسّی کی دہائی میں روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر امریکہ نے افغانستان میں نجیب حکومت گرانے کے لیے یہاں مذہب کی بنیاد پر مزاحمت کی سرپرستی شروع کی۔ لوگوں کو مذہب کے نام پر انتہا پسند بنا کر پاکستان اور سعودی عرب کی مدد سے مجاہدین بنائے گئے تاکہ ایک تو خطے میں بڑھتے ہوئے روسی اثرورسوخ روکا جا سکے اور آنے والے دنوں میں یہاں پر اپنی موجودگی کے لیے کوئی جواز تراشا جا سکے۔
امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔

 

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ صورتِ حال پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ شام اور عراق میں امریکہ بالکل ویسی حکومت چاہتا ہے جیسی وہاں موجود اس کے حامی ترکی، اِسرائیل اور سعودی عرب چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے امریکہ حلیف بھی اب امریکی طرز پر اپنے مفادات کے حصول کے لیے عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی اور براہ راست مداخلت کی راہ اپنا چکے ہیں ۔ شام اور عراق میں امریکی و سعودی مداخلت کے باعث شیعہ، سنی تصادم میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی اور مداخلت کے باعث مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور داعش جیسی مذہبی تنظیموں نے قدم جما لیے ہیں۔ ان تنظیموں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان اور عراق میں امریکی اور اتحادی افواج کی مداخلت سے دنیا میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکی حکمت عملی مختلف وجوہ کی بناء پر ناکام ہوئی ہے اور القاعدہ سے زیادہ خوفناک تنظیموں کی شکل میں نئے عفریت سامنے آئے ہیں۔
یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔

 

داعش کے خلاف امریکہ اور اتحادیوں کی کارروائیاں غیرموثر رہی ہیں کیوں کہ امریکی حکام شام اور عراق میں اپنے مفادات کے تحت مخصوص گروہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ امریکہ نے جو ہتھیار شامی باغیوں کے حوالے کیے تھے وہ بھی داعش کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ داعش کے خلاف سب سے موثر مزاحمت کردِش آرمی پیش مر گہ کی جانب سے کی جارہی ہے لیکن امریکہ کی جانب سے انہیں ہتھیار فراہم کرنے یا تربیت دینے کے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے اور اور نہ ہی امریکہ کے کسی سیاسی یا عسکری حلیف کی طرف سے انہیں کوئی کمک حاصل ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے کرد مزاحمت کار مضبوط ہوسکتے ہیں اور قوم پرست پیش مرگہ ترکی میں اردگان کے لیے سردرد بن سکتے ہیں۔ ترکی پیش مرگہ کو اس وقت بھی نشانہ بناتا ہے جب وہ کوبانی میں داعش کے خلاف جان کی بازی لگا کر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یوں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ترکی شمالی کردستان میں داعش کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے کرد علاقوں میں اپنی فوج استعمال کرسکے۔

 

شامی خانہ جنگی اور یمنی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کردار تخریبی رہا ہے۔ یہ بات امریکہ کے لیے قطعی ناقابلِ قبول ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں ایسی حکومتیں آئیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے حلیف ممالک میں آمروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرتا آیا ہے ۔ اس طرزعمل نے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کیا ہے اور مسلح عسکریت پسندی کو عام کیا ہے۔ اگر امریکہ واقعی مشرقِ وسطٰی میں داعش اور دیگر انتہا پسندوں کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے روس، عراق اور ایران کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ امریکہ کو ترکی اور سعودی عرب جیسے اپنے حلیفوں کے مفادات کو پسِ پشت رکھتے ہوئے عالمی اتفاق رائے کے قیام کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ امریکہ اور سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں نجی ملیشیاز اور جہادی گروہوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی روش ترک کر دیں نہیں تو آنے والے دِنوں میں پاکستان کی طرح اس کا خمیازہ ان ممالک کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
Categories
تبصرہ

شیعہ سنی مخاصمت مذہبی سے زیادہ سیاسی ہے

عرب خطے میں جاری شورش کے فرقہ وارانہ اور سیاسی رحجانات کے تناظر میں لکھا گیا این بلیک کا یہ مضمون دی گارڈین اخبار کی ویب سائٹ پر 5 اپریل 2015 کو شائع کیا گیا تھا۔

 

عرب خطے میں ایک زمانے تک کسی عرب سے اس کاعقیدہ یا مسلک پوچھنا نامناسب خیال کیا جاتا تھا، اگرچہ اس کے نام، لہجے، جائے رہائش ،عبادت گاہ یا دیوار پر آویزاں تصاویر سے اس کا سنی، شیعہ یا عیسائی العقیدہ ہونا عیاں ہو۔نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد کے ایام تفاخر میں تمام تر توجہ ایک مشترکہ عرب اور قومی شناخت کی تشکیل پر تھی۔ سنی، علوی، دروز اور کئی عیسائی قومیتوں پر مشتمل شام “عرب قومیت کادھڑکتا دل”بن کر نمایاں ہوا،حتی کہ لبنان میں بھی جہاں شراکت اقتدار کی بنیاد مسلک پر تھی عقیدہ ایک نجی معاملہ تھا۔ عرب خطے میں بین المسالک شادیاں عام تھیں۔دمشق اور بغداد میں حکومت کرنے والی جماعت بعث پارٹی کی بنیاد ایک عیسائی عرب قومیت پرست مشیل عفلق نے رکھی، دو اہم فلسطینی انقلابی رہنما جارج حبش اور نایف حواتمہ سمیت عرب قوم پرستی کے مورخ جارج انطونیوس بھی عیسائی تھے۔
شام میں گزشتہ چار برس سے جاری خونریز جنگ میں علویوں کو بحیثیت مجموعی بشارالاسد کا طرفدار جبکہ حزب مخالف کو سنی العقیدہ قرار دینے سے بھی فرقہ وارانہ جذبات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
شیعہ اکثریت، سنی اقلیت اورکردوں پر مبنی عثمانی خلافت کے ایک صوبے پر مشتمل برطانیہ کا تشکیل دیا غریب، دیہی عراق جہاں سنی صدام حسین نے سب گروہوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش میں سبھی پر جبر کیا۔اس صورت حال میں تبدیلی 1979میں ایران کے اسلامی انقلاب سے آئی جس سے مشرق وسطی کی تاریخ پرشدید اثرات مرتب ہوئے اور پورے عرب خطے میں پسماندہ رہ جانے والے شیعہ مسلمانوں کو تقویت اور مہمیز ملی۔1980 میں صدام حسین کی ایران کے خلاف جارحیت کو سنی عرب اور خلیجی ریاستوں کی مالی معاونت حاصل رہی اور اسے عرب اور عجم کی جنگ قرار دیا گیا۔ 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے کا جشن منانے والے شیعہ مسلمانوں نے اس واقعے کو 680ء میں سنی امویوں کے ہاتھوں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے تناظر میں دیکھا۔
اگرچہ فرقہ بندی مذہبی اختلافات کی مظہر ہے اور “غیریت” کی بنیاد ہے لیکن یہ ہمیشہ طاقت، وسائل اور علاقائی اقتدارسے جڑی رہی ہے۔ بحرین کی سنی العقیدہ بادشاہت اقتدار اور نظام حکومت میں اپنے جائز حصے سے محروم شیعہ اکثریت کی مزاحمت کو ہمیشہ تہران کی پشت پناہی کی پیداوار قرار دیتی آئی ہے۔ سعودی عرب بھی اسی طرح اپنے شرقی حصوںمیں شیعہ اقلیت کی جدوجہد کو ایرانی سازش قرار دیتا آیا ہے۔ بحرین اور سعودی عرب دونوں جگہ مقامی سیاسی مسائل کو چھپانے کے لیےفرقہ وارانہ رنگ دیا گیاہے۔
دولت اسلامیہ کے خلیفہ ابوبکر بغدادی نے اسامہ بن لادن کے جانشین ایمن الظواہری کی جانب سے اہل تشیع کے بے دریغ قتل عام کی بجائے عراق اور شام کی شیعہ نواز اورصفوی حکومتوں پر حملے کرنے کی استدعا کو نظر انداز کیاہے۔
شام میں گزشتہ چار برس سے جاری خونریز جنگ میں علویوں کو بحیثیت مجموعی بشارالاسد کا طرفدار جبکہ حزب مخالف کو سنی العقیدہ قرار دینے سے بھی فرقہ وارانہ جذبات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ بشارالاسد کو ایرانی حمایت یافتہ شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کی حمایت ملنےسے بھی اس تاثر میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ فرقوں کےمابین بھی تنازعات موجود ہیں اور ایسےتنازعات بھی ہیں جہاں مسئلہ مذہبی شناخت سے بالاتر ہے۔
سعودی عرب اور کویت میں مقیم سنی شدت پسند مبلغین مخصوص وہابی اندازبیان کے مطابق اہل تشیع کی تضحیک انہیں “بت پرست” کہہ کرکرتے ہیں۔ ایرانیوں کی ہتک کے لیے انہیں سولہویں صدی کی ایرانی صفوی بادشاہت کے حوالے سے”صفوی” بھی پکارا جاتا ہے۔ بنیاد پرست جہادی اپنے تکفیری نظریات کی بنا پر (ایسے) “کفار” کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔
اپنے عروج کے زمانے میں القاعدہ اپنے “دورافتادہ” دشمنوں خصوصاً امریکہ کو ہدف بناتی رہی لیکن دولت اسلامیہ نے رد تشیع کو اپنے زہریلے نظریات میں بنیادی حیثیت دی ہے۔ دولت اسلامیہ کے خلیفہ ابوبکر بغدادی نے اسامہ بن لادن کے جانشین ایمن الظواہری کی جانب سے اہل تشیع کے بے دریغ قتل عام کی بجائے عراق اور شام کی شیعہ نواز اورصفوی حکومتوں پر حملے کرنے کی استدعا کو نظر انداز کیاہے۔ بااثر سنی عالم یوسف القرضاوی نے الجزیرہ ٹی وی پر حزب اللہ کے حسن نصراللہ کو حزب الشیطان کا سربراہ قرار دیا تھا۔
فرقہ واریت نے گزشتہ چند برس کے دوران جڑ پکڑ لی ہے لیکن اس امر میں بہت سے لوگوں کی کوششوں کا حصہ ہے، خاص طور پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے عدم برداشت پر مبنی زہریلا پراپیگنڈا پھیلانا خاصا آسان کردیا ہے۔ اس کے باوجود فرقہ واریت مشرق وسطی میں تنازعات کی بنیادی وجہ نہیں۔ شیعہ اسلام سے وابستہ ہونے کے باوجود زیدی فرقے کے حوثی باغی یمن کے شدت اختیار کرتے بحران میں اپنے ملک کی سنی اکثریت کے قریب ہیں۔ سعودی مداخلت کے باعث حوثی باغیوں کو ایران سے حاصل ہونے والی مدد محض اتحادیوں کے حصول اور اپنی طاقت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔
امریکی دانشور اور مشرق وسطی کے مبصر”ہوان کول” کے مطابق یہ کہنا کہ ایران حوثی باغیوں کی مدد مذہبی بنیادوں پر کر رہاہے ایسا ہی ہے جیسے “یہ مان لیا جائے کہ سکاٹش پریسبیٹیرین ہمیشہ جنوبی بپٹسٹ عیسائیوں کی مدد کریں گے کیوں کہ دونوں پروٹسٹنٹ مسلک سے ہیں۔ ” یمن تنازعہ کافرقہ وارانہ انگ شیعہ سنی مخاصمت کی بجائے اس خطے کے سیاسی اور جغرافیائی سیاق و سباق کے باعث ہے۔ مصر کی واضح طور پر سنی العقیدہ آبادی کے باوجود2011 کے انقلاب اور اس کے استبدادی اور متنازعہ نتائج کے باعث قبطی عیسائی اقلیت کو شدت پسندوں کی طرف سے سابق حکومت کا حمایتی قرار دے کر نشانہ بنایا جانا بھی( اسی نوعیت کی )ایک مثال ہے۔
عربوں کا ہر گروہ اپنی مذہبی یا علاقائی شناخت کی بنیاد پر دوسرے عرب گروہوں سے ایک ایسی بے مصرف جنگ لڑ رہا ہے جس میں سب کی ہار یقینی ہے
مغرب(شمالی افریقہ) میں جہاں تیونسی انقلاب کے دوران عرب بہار کا آغاز ہوا تھا ؛شامی خانہ جنگی اور دولت اسلامیہ کے ظہور کے باعث شدت پسندی میں اضافے کے باوجود فرقہ وارنہ مسائل موجودنہیں ہیں۔ لیبیا، مراکش اور الجیریا کو(مختلف العقیدہ) بربر قوم کے حقوق سے متعلق مسائل کا سامنا ضرور ہے تاہم یہ کسی بحران کا باعث نہیں بن پائے۔
یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ہر جگہ بہار عرب کا آغاز کسی بھی مذہب، عقیدے یا مسلک کے برعکس سیکولر اصلاحات کے مطالبے کے تحت ہوا تھا، جیسا کہ طلال سلمان نے لبنانی اخبارالسفیر میں لکھا،”کسی بھی قبیلے، خاندان، عقیدے یا مسلک سے قبل تمام شہریوں نے “احترام” کا مطالبہ کیا۔ ” وہ لکھتے ہیں کہ “(بہار عرب کے نتیجے میں) انتقال اقتدار کے باوجود بھی حالات جوں کے توں رہنے کے باعث وقت کے ساتھ فرقہ وارانہ رحجانات واضح ہونا شروع ہو گئے اورزیادہ تر لوگوں نے خود کو سیاسی خطوط پر منظم کرنے کی بجائے قبائلی اور مذہبی وابستگی کو شناخت بنانا شروع کر دیا۔”
طلال سلمان کے مطابق “آج عرب بیک وقت بھائی بھی ہیں اور دشمن بھی، عربوں کا ہر گروہ اپنی مذہبی یا علاقائی شناخت کی بنیاد پر دوسرے عرب گروہوں سے ایک ایسی بے مصرف جنگ لڑ رہا ہے جس میں سب کی ہار یقینی ہے۔۔۔مختصراً مشترکہ عرب قوم پرستی کا خاتمہ بھائیوں کے درمیان ایک ایسی خانہ جنگی کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا جس سے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ اس کا اختتام کب اور کیوں کر ہوگا ۔”