Categories
نقطۂ نظر

شامی خانہ جنگی: پسِ منظر سے پیش منظر تک۔ تیسری قسط

اس سلسلے کے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

﴿شامی خانہ جنگی پر شامی بعث پارٹی، علوی کمیونٹی اور اسد رژیم کی فرقہ وارانہ چھاپ کے اثرات

 

اسد رژیم کے بارے میں فرقہ وارانہ تاثر 1980ء کے بعد سے عام ہونا شروع ہوا۔ اس سے پہلے تک اسدحکومت کی پہچان بائیں بازو کی عرب قوم پرست حکومت کی تھی۔ ستمبر 1970ء میں اردن میں بلیک ستمبر کا سانحہ ہوا۔ اسد حکومت نے فلسطین کاز کی حمایت میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا ساتھ دیا جس میں بیسیوں شامی فوجی بھی فلسطینیوں کی حمایت میں لڑتے مارے گئے۔ حافظ الاسد نے اردن کی جانب سے فلسطینی گوریلوں کو اردن سے بے دخل کرنے پر اردن کے بادشاہ شاہ حسین بن طلال کی شدید مخالفت کی۔ 6 تا26 اکتوبر 1973ء چوتھی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسدرژیم کے زیرِاقتدار شام نے مصر کے شانہ بشانہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ اسد حکومت نے لبنانی خانہ جنگی میں بھی اپنی افواج بھجوائیں۔ لبنان میں 1975ء سے 1990ء تک خانہ جنگی رہی۔ اس خانہ جنگی میں شامی افواج نے مقامی مسلمانوں کو اسرائیلی دراندازوں اور میرونائیٹ عیسائی جتھوں سے بچانے کے لیے Deterrence Army کا کردار ادا کیا۔ یوں فلسطین اور لبنان میں بھی اسد خاندان کو اپنے حامی مل گئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شام کی حالیہ خانہ جنگی میں بشارالاسد کو فلسطین اور لبنان کی بااثر عسکری تنظیموں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ ان تنظیموں میں لبنانی ’حزب اللہ‘ اور فلسطینی ’پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین لبریشن جنرل کمانڈ‘ سرفہرست ہیں۔

 

بلیک ستمبر کے دوران شامی افواج اردن کی حدود میں داخل ہوئیں
بلیک ستمبر کے دوران شامی افواج اردن کی حدود میں داخل ہوئیں
ابتداء میں شام اور عراق میں بعث پارٹی کی حکومتیں سیکولر، عرب قوم پرست اور سوشلسٹ رجحانات رکھنے کی وجہ سے غیرمذہبی تشخص کی حامل گردانی جاتی تھیں۔ لیکن شام میں حافظ الاسد اور عراق میں صدام حسین کے بعثی ادوارِ حکومت کے بارے میں فرقہ وارانہ تاثر کو 1979ء میں تقویت ملنا شروع ہوئی۔ اس تاثر کی بنیادی وجوہ اس زمانے میں ہونے والی تاریخ ساز عالمی تبدیلیاں تھیں۔ ان تبدیلیوں میں سرفہرست امریکی کارٹر انتظامیہ کے تخلیق کردہ “اسلام ازم” (سیاسی اسلام) کا عالمی سیاست میں ابھرنا تھا۔ اسی نظریے کے تحت افغانستان میں امریکی سرپرستی میں عالمی جہاد کا آغاز ہوا۔ اسی دوران ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوا اور مصر اور شام میں اخوان المسلمین کی اقتدار پر قبضے کی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔

 

عالمی سطح پر رونما ہونے والی اِن تبدیلیوں سے شام اور عراق خاص طور پر متاثر ہوئے۔ جس طرح کمیونزم کی عالمی قیادت کے مسئلے پر سوویت یونین کے نکیتا خروشیف اور کمیونسٹ چین کے ماؤزے تنگ فطری اتحادی ہونے کے باوجود مخالفت پر اتر آئے تھے تقریباً اِسی طرح شام کے حافظ الاسد اور عراق کے صدام حسین بھی بعث ازم کی عالمی قیادت کے مسئلے پر فطری اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے کٹر مخالف بن کر سامنے آئے۔ یوں عراق اور شام کی بعث پارٹیاں فطری اتحاد کے باوجود ایک دوسرے کے مدمقابل آنے سے خود پرسنی اور علوی ہونے کی فرقہ وارانہ چھاپ لگوا بیٹھیں۔ اس صورت حال میں عراق اور شام نے نئے اتحادی تلاش کیے۔ 1980ء کی دہائی میں آیت اللہ خمینی کے زیرِاقتدار ایران کو عالمی برادری میں اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت تھی۔ شام کی صورت میں ایران کو ایک اتحادی میسر آیا تو دوسری جانب حافظ الاسد کو عراق سے کشیدگی کے بعد ایران کی حمایت حاصل ہوئی۔ صدام حسین کو شام اور ایران کے خلاف سنی اکثریت کے حامل خلیجی عرب ممالک کی قربت میسر آئی۔

 

بین الاقوامی تعلقات کی تھیوری ’نیو رئیل ازم‘ کے مطابق “بین الاقوامی سیاست کے خدوخال اور حالات و واقعات کسی بھی ریاست کے خارجی رویے کا تعین کرتے ہیں”۔ یہی معاملہ شام اور ایران کے ساتھ ہوا۔ نظریاتی طور پر اشتراکیت کے کٹر مخالف آیت اللہ خمینی اور سیاسی اسلام کے کٹر مخالف حافظ الاسد باہم متصادم نظریات کے باوجود بھی زمینی حالات کے پیشِ نظر اتحادی بنے۔ دوسری جانب صدام حسین کے زیراقتدار عراق کو شام اور ایران کے خلاف خلیجی عرب ممالک کا حلیف بننا پڑا۔ ایران عراق جنگ اس نئی سیاسی صف بندی کو مضبوط کرنے کا باعث بنی۔ 22 ستمبر 1980ء کو عراقی صدر صدام حسین نے شط العرب پر قبضے کی تذویراتی جنگ شروع کی۔ اس جنگ کو آیت اللہ خمینی کی شیعائی ملائیت کے زیرِاقتدار ایران پر سنی مسلکی شاؤنزم مسلط کرنے کی جنگ کے طور پر دیکھا گیا۔ 1988ء میں جنگ کے اختتام تک آٹھ سال کے عرصے میں شامی بعث پارٹی کے علوی سربراہ اور شامی صدر حافظ الاسد نے ایران کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں عراقی بعث پارٹی کی سنی شناخت اور شامی بعث پارٹی کی علوی پہچان کا تاثر گہرا ہوا۔ عراق میں صدر صدام حسین نے اور شام میں صدر حافظ الاسد نے اِس عوامی تاثر کو دور کرنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی۔ بعث پارٹی کی سنی پہچان اب بھی قائم ہے اور یہ جماعت اس وقت بھی عراقی حکومت کے خلاف زیرزمین سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد عراقی بعث پارٹی پر پابندی لگائی گئی تھی۔ سابق عراقی صدر صدام حسین کے نائب عزت ابراہیم الدوری اور صدام حسین کی بیٹی کی قیادت میں عراقی بعث پارٹی نقشبندی آرمی کے نام سے کام کر رہی ہے۔

 

ایران عراق جنگ میں شام نے ایران کا ساتھ دیا تھا
ایران عراق جنگ میں شام نے ایران کا ساتھ دیا تھا
حافظ الاسد کے عہد میں 1982ء میں حماۃ شہر پر اخوان المسلمین کے بلوائیوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے کی گئی ناکہ بند فوجی کارروائی میں ہزاروں عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں اسدرژیم پر سنی دشمنی کی مہر بھی لگ گئی لیکن سنی دشمنی کا یہ الزام بہت زیادہ درست نہیں۔ مصر میں بھی ’اخوان المسلمین‘ جیسی عسکریت پسند مذہبی سیاسی جماعتوں کو دبائے رکھا گیا حتیٰ کہ مصر میں تو اخوان المسلمین کے مرشد سید قطب کو پھانسی تک دی گئی۔ حال ہی میں اخوان المسلمین کو سعودی عرب، بحرین اور مصر نے ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے کر کالعدم کیا ہے۔ لہٰذا شام میں اسد حکومت کی اخوان المسلمین مخالف پالیسیوں پر اُسے علوی سُنی فرقہ وارانہ دشمنی کا مظہر قرار دینا مناسب نہیں۔ اخوان المسلمین کی حکومت کے خلاف اور اقتدار پر جنرل عبدالفتح السیسی کے قبضے کی تائید میں فتویٰ جاری کرنے والے مفتیوں میں مصر کے مشہور سنی عالم ڈاکٹر علی جمعہ سرفہرست ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شام میں اسدرژیم کا اخوان المسلمین کو عتاب کا نشانہ بنانا فرقہ وارانہ تضادات کا معاملہ نہیں بلکہ آمرانہ حکومتی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

 

اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسدرژیم کو صرف علوی کمیونٹی کی حکومت نہیں کہا جاسکتا کیونکہ حافظ الاسد اور بشارالاسد کے انتہائی وفادار اور قریبی حلقوں میں سنیوں کی بھی بڑی تعداد ہے جن پر اسدفیملی علویوں سے بھی بڑھ کر بھروسہ کرتی ہے۔ حافظ الاسد نے 1983ء میں اپنی علالت کے دوران کاروبارِ حکومت اپنے بھائی رفعت الاسد اور علویوں کو نظرانداز کر کے چھ رکنی کمیٹی کے حوالے کیا جس کے اراکین سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ رفعت الاسد اور حافظ الاسد میں اس فیصلے پر اختلافات پیدا ہوئے۔ رفعت الاسد نے بعدازاں شامی مسلح افواج کے علوی افسران کی ملی بھگت سے فوجی انقلاب برپا کرنے کی کوشش بھی کی جو پکڑی گئی۔ تب سے اب تک حافظ الاسد اور رفعت الاسد کے گھرانوں میں ناراضی چلی آرہی ہے حتیٰ کہ رفعت الاسد کا شمار بشارالاسد کے مخالف جلاوطن اپوزیشن رہنماؤں کی صفِ اول میں کیا جاتا ہے۔ گویا اسدفیملی کی سیاست علوی کمیونٹی کی نہیں ہے بلکہ اقتدار کی سیاست ہے۔

 

حافظ الاسد (دائیں) اور رفعت الاسد (بائیں)
حافظ الاسد (دائیں) اور رفعت الاسد (بائیں)
علاوہ ازیں چونکہ علویوں کو بذاتِ خود اہل تشیع بھی غیر مسلم سمجھتے تھے لہٰذا اپنی حکومت کو عوام میں نسبتاً قابلِ قبول بنانے کے لیے اسد فیملی نے اثناعشری شیعہ مذہب کی طرف جھکاؤ کیا اور اپنے خاندان اور علوی کمیونٹی کی ’شیعہ نائزیشن‘ کا سلسلہ شروع کیا۔ تقریباً اس سے مماثل مثال قائداعظم کی ہے جو اسماعیلی فرقے سے تھے مگر بعدازاں اثناعشری شیعہ بن گئے۔حتیٰ کہ بشارالاسد اپنے مذہبی وظائف بالخصوص نمازوں کی ادائیگی اہل سنت کی طرح ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بشارالاسد کی اپنی اہلیہ اسماء اسد سنی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ شام کے سنیوں میں بشارالاسد کی حامی شخصیات میں شافعی فقہ سے تعلق رکھنے والے معروف عالمِ دین الشیخ ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی سرفہرست تھے۔ جنہیں 21 مارچ 2013ء کو دمشق کی ایک مسجد میں درس دیتے ہوئے خودکش حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

 

نومبر1989ء میں دیوار برلن گرنے اور پھر سوویت یونین کی تحلیل سے عالمی سطح پر اشتراکی تحریک کو دھچکا پہنچا۔ بعدازاں سردجنگ کے خاتمے اور سرمایہ دارانہ روس کی عالمی سیاست میں وقتی خاموشی سے شام کا خارجی سیاست میں ایران اور لبنان کی شیعہ تنظیموں جیسے امل اور حزب اللہ پر انحصار بڑھتا چلا گیا۔ داخلی سیاست میں بعث ازم کی ناکامی نے بعث پارٹی کو ایک نظریاتی جماعت سے مقتدر اقلیتی اشرافیہ کی حکمران جماعت میں بدل دیا۔ جس کا مرکزومحور کوئی نظریہ نہیں بلکہ اسد خاندان کے اقتدار کا تحفظ تھا۔ عالمی سیاست میں “تاریخ کا خاتمہ”، “تہذیبوں کا تصادم” اور “نیو ورلڈ آرڈر” جیسے اشتراکیت کا خاتمہ کرنے کے دعویدار نظریات کی وقتی دھاک بیٹھنے سے بھی عراق اور شام کی مقتدر بعث پارٹیوں کا نظریاتی کردار محدود ہوکر اقتدار کی مصلحتوں کی نذر ہوگیا۔جس کا نتیجہ عراق اور شام کی بعث پارٹیوں پر فرقہ وارانہ چھاپ کی صورت میں نکلا۔
حافظ الاسد اور صدام حسین نے بعث ازم کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا
حافظ الاسد اور صدام حسین نے بعث ازم کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا
بلاشبہ بعث ازم عرب نیشنلزم،سیکولرازم اور سوشلزم کے امتزاج پر مبنی ایک معقول اور پرکشش نظریہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عراق میں سنیوں کے زیرغلبہ بعث پارٹی نے اِسے شیعہ اکثریت کو دبانے کے لیے استعمال کیا۔ شام میں علویوں کے زیرغلبہ بعث پارٹی نے سنی اکثریت کو دبانے کے لیے بعث ازم کو نظریاتی محرک کے طور پر برتا۔ بالکل اسی طرح جیسے متحدہ پاکستان کی پنجابی اور مہاجر اشرافیہ نے بنگالی اکثریت کو دبائے رکھنے کے لیے ’اسلام‘ کو استعمال کیا اور متحدہ بنگال میں ہندواشرافیہ نے مسلمان اکثریت کو اپنے استحصال تلے دبائے رکھنے کے لیے بنگالی قوم پرستی کا سہارا لیا۔

 

(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

شامی خانہ جنگی: پسِ منظر سے پیش منظر تک- دوسری قسط

اس سلسلے کے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
دوسری قسط

 

شامی بحران میں شامی بعث پارٹی، علوی برادری اور اسد حکومت کا عمل دخل

 

بعث پارٹی شام کے ایک عیسائی دانشور مشیل عفلق نے 7 اپریل 1947ء کو قائم کی تھی۔ بعث پارٹی ‘مصنوعی سرحدوں’ میں منتشر عربوں کو قومیت، اشتراکیت اور سیکولرازم کی بنیاد پر یکجا کرنے اور منقسم عرب خطوں کی جغرافیائی وحدت کو عربوں کے لیے راہِ نجات قرار دیتی ہے۔ بعث پارٹی کو عراق اور شام میں فوجی انقلابات کے ذریعے اقتدار تو مل گیا لیکن عراق اور شام کی مقتدر بعث پارٹیاں بہت جلد قیادت کے حصول کی لڑائی میں پڑ گئیں اور یوں بعث ازم کے تحت عراق اور شام کے باہم الحاق سے ایک قوم پرست اشتراکیت پسند عرب جمہوریت کے قیام کی دو طرفہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

 

مشیل ایفلق
مشیل ایفلق
شام میں بعث پارٹی اور اسد حکومت کا پسِ منظر

 

حافظ الاسد نے اپنے تیس سالہ دور میں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی ایمرجنسی کو اُٹھانے کی بجائے حسبِ سابق من وعن شامیوں پر مسلط کیے رکھا۔
17 اپریل 1946ء کو فرانسیسی استعمار سے آزادی کے بعد سے مارچ 1971ء تک شام داخلی اور خارجی عوامل کی بنا پر پچیس برس تک سیاسی عدم استحکام اور معاشی انحطاط کا شکار رہا۔ اسرائیل سے تین جنگوں میں شکست، فلسطینی مہاجرین کی آمد، نااہل سیاسی قیادت، مصر سے الحاق اور علیحدگی، فوجی انقلابات اور قیادت کا فقدان اس سیاسی اور معاشی بحران کی وجہ بنے۔ اُسی زمانے میں مشرقی وسطیٰ اور گردونواح میں اشتراکیت پسندوں کا اثرورسوخ بھی بڑھ رہا تھا۔ ہمسایہ ممالک کے حالات سے شہہ ملنے پر شام کی مسلح افواج میں بعث پارٹی سے وابستہ عناصر نے 8 مارچ 1963ء کو فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بعدازاں شام کے موجودہ صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد نے ’بعث پارٹی شام‘ کے اپنے حامی رہنماؤں اور شام کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے علوی عہدیداران کی ملی بھگت سے 1970ء میں شام کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

 

شام پر اسد خاندان کی حکومت بھی مشرقِ وسطیٰ میں دیگر بادشاہی اور خودرانی عرب حکومتوں کی طرح مطلق العنانیت، استبدادیت اور جبر کے بل پر قائم ہے۔ اس نظامِ حکومت میں بھی عوام کو ایمرجنسی، جاسوسی، خفیہ پولیس، سخت قوانین، ہولناک سزاؤں اور عقوبت خانوں کے خوف سے مطیع بنائے رکھا گیا ہے۔ حافظ الاسد نے اپنے تیس سالہ دور میں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی ایمرجنسی کو اُٹھانے کی بجائے حسبِ سابق من وعن شامیوں پر مسلط کیے رکھا۔ جس کی وجہ سے شامی قانوناً بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حق سے محروم رہے۔ جس طرح مصر میں حسنی مبارک مذہبی عسکریت پسندوں کی جانب سے ملکی قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایمرجنسی کے بلاتعطل نفاذ کو ضروری قرار دیتے تھے، بالکل اسی طرح حافظ الاسد بھی شام میں ہنگامی حالت کے مسلسل نفاذ کے حق میں ایسی ہی پالیسی رکھتے تھے۔ اس حوالے سے اسد حکومت کے موقف کو تب وزن ملتا ہے جب شام میں بشارالاسد کی جانب سے 48 سالہ طویل ایمرجنسی اُٹھانے کے نتیجے میں اخوان المسلمین سمیت عسکریت پسند گروہوں کی زیرزمین سرگرمیاں سر اُٹھانے لگیں۔ یہ سرگرمیاں بالآخر موجودہ خانہ جنگی پر منتج ہوئیں۔ اگرچہ شام میں اسد حکومت نے اپنے شہریوں کو ضمیر کے مطابق مذہبی وظائف سرانجام دینے کی آزادی دیے رکھی ہے مگر حکومت کی جانب سے کسی شہری کا غیرمعمولی طور پر مذہبی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شک کی نظر سے دیکھاجاتا ہے چاہے وہ شہری شیعہ ہو یا سنی کیونکہ حکومت انتہاپسندی کو سماجی استحکام کے لیے تباہ کن گردانتی ہے۔

 

حافظ الاسد کی مقبولیت کیوں کم ہوئی؟

 

حافظ الاسد کے عہد میں شام کی حکومت، بعث پارٹی، سول بیوروکریسی اور مسلح افواج کے کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں کے محرکات مذہبی نہیں بلکہ ذاتی تھے۔
گو ابتداء میں حافظ الاسد کے انقلاب کو شامیوں کی جانب سے خوش آمدید کہا گیا لیکن 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد عوام میں حافظ الاسد کی حکومت کی مقبولیت کم ہوئی۔ جنگ کے دوران اسرائیل سے گولان کی پہاڑیوں کا قبضہ چھڑانے میں ناکامی سے عوام کی نظروں میں حافظ الاسد کی حکومت کا وقار کم ہوا۔ ملکی معیشت میں مندی پر’ملک اسرائیل کے خلاف حالت جنگ میں ہے‘ کا عذر پیش کیا گیا جس نے شامی عوام کو حافظ الاسد سے بہت جلد مایوس کر دیا اوریوں شام کی عوام میں حافظ الاسد کی مقبولیت کم ہوتی چلی گئی۔ اگرچہ مجموعی طور پر حافظ الاسد حکومت کی وجہ سے شام میں معاشی استحکام دیکھنے کو ملا اور عوام کے معیارِ زندگی میں نسبتاً بہتری بھی آئی لیکن اس ترقی کے ثمرات تمام طبقات تک نہیں پہنچے۔ حافظ الاسد کے دور میں مادی ترقی اور خوشحالی کے اعتبار سے پسماندہ علوی برادری نے باقی قومیتوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ترقی کی۔

 

گولان پہاڑیاں اسرائیل اور شام کے مابین تنازعے کی وجہ ہیں
گولان پہاڑیاں اسرائیل اور شام کے مابین تنازعے کی وجہ ہیں
حافظ الاسد کی علویوں سے پر نوازشات سے متعلق اکثر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حافظ الاسد کے عہد میں شام کی حکومت، بعث پارٹی، سول بیوروکریسی اور مسلح افواج کے کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں کے محرکات مذہبی نہیں بلکہ ذاتی تھے۔ چونکہ حافظ الاسد کا اقتدار محلاتی سازشوں کا نتیجہ تھا اِسی وجہ سے ان کے اقتدار کو جوابی محلاتی سازش کا کسی بھی وقت سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ جیسا کہ حافظ الاسد کو اپنے بھائی رفعت الاسد کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی محلاتی سازشوں کا بھی سامنا ہوا۔ لہٰذا اِن خطرات کا سدباب کرنے کے لیے انہوں نے کلیدی عہدوں پر اپنے آبائی علاقے اور خاندان سے تعلق رکھنے والے قابلِ اعتبار اور وفادار امیدواروں کو مقرر کیا۔ بالکل اِسی طرح جیسے عراق میں صدر صدام حسین نے بیشتر کلیدی عہدوں پر اپنے آبائی علاقے تکریت سے تعلق رکھنے والے بااعتماد اور وفادار افراد کا تقرر کیا تھا۔ حافظ الاسد کا خاندان اپنی نجی زندگی میں انتہائی لبرل ہے اور بعثی رجحانات کی وجہ سے وہ مذہب کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ حافظ الاسد کی بہو اور بشارالاسد کی اہلیہ اسماء اسد کا تعلق سُنی فیملی سے ہے۔ جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ علویوں کے کلیدی عہدوں پر تقرر کے پیچھے حافظ الاسد کے مسلکی محرکات نہیں بلکہ ذاتی مفادات تھے۔ لیکن کلیدی عہدوں پر علویوں کی تقرریوں سے عوام میں حافظ الاسد حکومت کا امیج بعث پارٹی کی حکومت کی بجائے علوی حکومت کا بن گیا اور یوں شامی بعث پارٹی کا سیکولر تشخص علوی چھاپ کی نذر ہو گیا۔

 

اکثریت پر قلیت کی حکمرانی

 

اسد خاندان کے شام پر برسراقتدار آنے سے علوی بطورِ ایک برادری مقتدر سیاسی قوت اور سماجی اشرافیہ بن گئے جس کے نتیجے میں شام کی اکثریتی سنی المسلک اور کرد النسل عوام احساسِ محرومی کا شکار ہوگئے۔
علوی اور دروزی مسلمانوں کے ہی دو فرقے ہیں جو خود کو شیعہ مسلک کے ذیلی فرقے قرار دیتے ہیں۔ مگر تاریخ میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں علویوں اور دروزیوں کی تکفیر کرتے آئے ہیں۔ البتہ سیاسی مقاصد کے لیے اہل سنت میں پہلے مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی اور بعدازاں اہل تشیع میں سے ایرانی نژاد لبنانی عالم آیت اللہ موسیٰ الصدر نے انہیں مسلمان قرار دیا۔ ان علماء کا بنیادی مقصد خطے میں آبادی ی بنیاد پر یہودیوں اور میرونیائی عیسائیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ظاہر کرنا تھا۔ اسد خاندان کے شام پر برسراقتدار آنے سے علوی بطورِ ایک برادری مقتدر سیاسی قوت اور سماجی اشرافیہ بن گئے جس کے نتیجے میں شام کی اکثریتی سنی المسلک اور کرد النسل عوام احساسِ محرومی کا شکار ہوگئے۔ چونکہ اسد خاندان کا اقتدار اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی تھی اس لیے شام کی عوام نے اِسے اپنے استحصال کے زمرے میں لیا جو کہ غلط نہ تھا۔ لہٰذا جس طرح بلحاظِ آبادی شیعہ اکثریتی عراق میں یک جماعتی نظام حکومت کے تحت برسراقتدار جماعت عراقی بعث پارٹی پر سنیوں کا غلبہ اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی تھی بالکل اِسی طرح سنی اکثریتی شام میں یک جماعتی نظام کی حکمران جماعت شامی بعث پارٹی پر علویوں کا غلبہ بھی اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی ہے۔

 

شام میں علوی آبادی اقلیت میں ہے
شام میں علوی آبادی اقلیت میں ہے
علوی برادری اسد حکومت سے دور ہو رہی ہے

 

علوی شام کی کل آبادی کا 12 فیصد ہیں۔ حافظ الاسد نے اپنے اقتدار کی بقاء کے لیے علویوں کو کلیدی عہدوں پر متعین کیا تاکہ علویوں کو احسانات تلے دبا کر اپنا وفادار بنایا جا سکے۔ حافظ الاسد شعوری طور پر علویوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ شام میں انہیں جو شان وشوکت اور ٹھاٹھ باٹھ حاصل ہے وہ صرف حافظ الاسد حکومت کی وجہ سے ہے۔ صدام حسین کی طرح حافظ الاسد نے بھی اپنے اقتدار کی بقاء اور طوالت کے لیے اکثریت کو دبائے رکھا اور اقرباء پروری کے ذریعے علویوں کو اپنا وفادار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب موجودہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو حکومت نے نے ایران اور حزب اللہ سے مدد مانگنے سے پہلے علوی کمیونٹی کو امن لشکروں کے ذریعے حکومت کی حمایت میں باغیوں کے خلاف مزاحمت پر مجبور کیا۔ یوں بہت جلد علویوں کو احساس ہوگیا کہ شام کی خانہ جنگی علویوں کی بطورِ گروہ ذاتی جنگ نہیں بلکہ اسد خاندان کی جنگ ہے جس میں وہ مفت میں مارے جا رہے ہیں۔ لہٰذا علوی برادری نے خود کو بشارالاسد سے دور کر لیا ہے۔ علوی برادری نہیں چاہتی کہ وہ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کی صورت میں فاتحین کے انتقام کا نشانہ بنے۔ اس صورت حال سے اس نکتے کو تقویت ملتی ہے کہ شام میں جاری خآنہ جنگی فرقہ وارانہ نہیں بلکہ اقتدار کی سیاست کی مظہر ہے۔

 

(جاری ہے)

Image: www.panoramio.com