Categories
گفتگو

سوشل میڈیا پر لکھاری ہی مدیر اور ناشر ہے: زاہد امروز

[blockquote style=”3″]

گزشتہ پندرہ سالوں میں اظہار کے نئے ذرائع مثلاً ادبی ویب سائٹس، بلاگز، آن لائن صفحات ، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ نے نئے ادبی اور سماجی رجحانات کو جنم دیا ہے۔ ان سے قاری، مدیر اور لکھاری کے رشتے میں ایک تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ خصوصاً اردو شاعروں اور ادیبو ں میں سوشل میڈیا کا حد درجہ استعمال کیا اثرات مرتب کر رہا ہے ، اس پر شائد ہی بات ہوئی ہے۔ کیا یہ اردو شعر و ادب کی ترویج کے لیے مثبت رجحان ہے اور اس سے ادب کا دائرہ صحیح معنوں میں وسیع ہو رہا ہے؟ کیا سوشل میڈیا اور سماجی ویب سائٹس پرنٹ میڈیا کا نعم البدل ہو سکتی ہیں؟ عالمی اد ب میں ان ٹیکنالوجیکل رجحانات کو کیسے دیکھا جا رہا ہے ۔مزید یہ کہ سوشل میڈیا کا صارف لامحالہ کارپوریٹ سرمایہ داری نظام کا آلہ کار بن جاتا ہے ۔ اردو ادیب اس عمل کو کیسے دیکھتا ہے ؟ اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے ’لالٹین ‘نے زاہد امروز سے ایک گفتگو کی جسے ہم یہاں شائع کر رہے ہیں۔ امید ہے یہ گفتگو سوشل میڈیا پر ہمہ وقت موجود رہنے والے شاعروں اور ادیبوں کو سوچنے کا موقع دے گی۔

[/blockquote]

س: آپ سوشل میڈیا کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ ایک سنجیدہ ادبی فورم ہے اورکسی لکھنے والے کا ادبی معیار متعین کر سکتا ہے؟

میں ان سوالوں کے روایتی جوابات دینے کی بجائے (جن میں کسی جج سا فیصلہ کن انداز شامل ہوتا ہے) محض اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔ ان میں کہیں کہیں میری خود کلامی بھی در آئے گی اور کہیں کہیں نئے سوالات بھی کیونکہ ابھی اس بارے میں کوئی تاریخی اورحتمی رائے قایم کرنا قبل از وقت ہے۔ سوشل میڈیا کا بطور ایک متبادل یا متوازی عوامی فورم ، کم و پیش ایک دہائی کا قصہ ہے۔اگرچہ سوشل میڈیاایک دہائی میں ہی ہماری زندگیوں کا اہم حصہ بن چکا ہے ۔ہم ایک زندگی حقیقت میں جیتے ہیں اور دوسری سوشل میڈیا پر۔ اظہار کے (ادبی اور زیادہ تر غیر ادبی ) اس نئے فورم کے ہمہ وقت وجود سے ہماری زندگیوں میں کیا تبدیلی آرہی ہے۔ اس کو سمجھنا ضروری ہے۔آپ کے سوال کے تناظر میں ہم سوشل میڈیا کے استعمال کو دودرجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک بطور متبادل ادبی فورم اور دوسرا بطور تفریحی فورم۔ ہم ان دونوں پہلوؤں پر بات کریں گے۔اردو میں سوشل میڈیا کا مطلب ہوا سماجی مواصلاتی ذریعہ۔ یعنی ایک ایسا نظام جو سماجی اور عوامی استعمال میں ہو اور انہیں کے کنٹرول میں ہو۔ اور جب ایک بڑی عوامی تعداداسے استعمال کرنے لگے، تو اشتہاروں کے ذریعے پیسہ کمایا جائے۔ مواصلاتی ٹیکنالوجی کے عوامی دسترس میں آنے سے رابطوں کا جو نیا رستہ قایم ہوا اس کاابتدائی کاروباری مقصد یہ تھا کہ عوام بطور صارف اسے استعمال کرے ۔یعنی یہ اخبار اور ٹی وی کا نعم البدل بن جائے۔ اسے ہر صارف اپنی دلچسپی کے مطابق استعمال کرے۔ اپنی پسند ،نا پسند کی بنیاد پر اپنی ترجیحات کے مواد تک رسائی حاصل کرے ، اپنے دوستوں اور ہم خیال لوگوں تک پہنچ سکے اور مشترکہ دلچسپیوں کی گروہ بندی کرے جس میں عموماً عام فہم تفریحی قسم کی عوامی دلچسپیاں، انٹرٹینمنٹ اور سماجی مشاہدات جیسا مواد ہو۔ کیونکہ اکثریت اسی طرح کی زندگی گزارتی ہے۔ اور اسی سے حظ اٹھاتی ہے۔

س: اظہار کے اس نئے ذرائع سے ادبی اور علمی عمل میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے؟

ایک بڑی تبدیلی تو یہی پیدا ہوئی کہ بطور متوازی ذریعہِ اظہار ادبی عمل کی ریاضیاتی مساوات بدل گئی ۔یعنی سوشل میڈیا پر لکھاری خود مدیر ہے اور خود ہی ناشر ہے ۔ وہ قاری تک رسائی میں اب کسی کا محتاج نہیں۔ لیکن اس وصال کی عمر محدود ہے۔ میرے نزدیک سوشل میڈیا ایک چوک ہے جہاں ہر کسی کے پاس ایک سی رسائی ہے۔ ہر کوئی بات کر رہا ہے۔ ہر کوئی سن رہا ہے اور ہر کوئی بول رہا ہے۔ ایک جمہوریت ہے جس میں لکھاری اور قاری ایک ہو گئے ہیں۔ آپ بیک وقت لکھاری بھی ہیں اور قاری بھی ۔یعنی آپ خود ہی مداری ہیں۔خود تماش بین بھی ہیں اورخود ہی تماشہ بھی۔ یہ عمل اب دو طرفہ ہے جس میں خیال ، اس کے اظہار اور اشاعت میں وقت کی تاخیر اور انتظار نہیں۔

سوشل میڈیا سے دوسری اہم تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ اس (ورچوئل ورلڈ)میں مرکز اور مضافات کی تفریق ختم ہو گئی۔ آ پ لندن میں رہتے ہوں، چیچہ وطنی میں بیٹھے ہوں، یاتھر پارکر کے کسی دور افتادہ گاؤں میں، آپ یہاں سٹلائٹ کے آ فاقی چشم و گوش کے ذریعے ہمہ وقت دیکھے سنے جا سکتے ہیں۔ یہ کثیر مرکزیت اپنی ظاہریت میں جمہوری ہے۔اپنی تصویر و تحریر کی ترسیل کے لیے آپ کوکسی اخبار کی ضرورت نہیں، کسی ادبی رسالے کے مدیر سے رسمی تعلق رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد کے ’’لکی ایرانی لٹریری فیسٹول‘‘ کے منتظمین کی عدم توجہ پر کڑھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی فیس بک وال، آپ کا ٹویٹ اور انسٹاگرام سپیس آپ کا اخبار بن گیا ہے جس میں آپ جو چاہیں نشر کرتے ہیں اورہمہ وقت اپنے قارئین کی پسند و ناپسند پر آنکھ رکھے ہوئے ہیں۔

س: لیکن اس مکمل خود مختاری سے کچھ سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ہمہ وقت موجودگی کیا واقعی حقیقت کا نعم البدل ہے اور بظاہراظہار و ترسیل کی اس انقلابی نوعیت کی تبدیلی کیا بڑا ادیب پیدا کر سکتی ہے؟ کیا سوشل میڈیا ادبی سرگرمی کے کوئی منفی پہلو بھی ہیں ؟

یہ ہمارا اردو ادیب ابھی نہیں سوچ رہا۔اکثر میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا کس نوعیت کا میڈیم ہے۔ میں اب تک یہ سمجھا ہوں کہ سوشل میڈیا اگرچہ ایک ورچوئل ورلڈ ہے، لیکن یہ اسی مادی ، حقیقی دنیا کا ایک پرتو ہے۔ جس طرح سایہ اپنا وجود نہیں رکھتا ۔ یہ کسی مادی شے کا روشنی کے راستے میں آجانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا حقیقی زندگی کی پرچھائیں ہے۔ جس طرح کسی شے کا سایہ محض سیاہ رنگ کا بے خال و خد حاشیہ ہوتا ہے اسی طرح آپ کا سوشل میڈیا پروفائیل آپ کی اصل شخصیت کا بے خال و خد سایہ ہوتا ہے۔ اس میں آپ اپنی تمام کمزوریاں، خرابیاں ، محرومیاں اور بے بسیاں چھپا لیتے ہیں۔جس طرح سب کے سائے ایک جیسے ہوتے ہیں، اسی طرح آپ اپنی’ سوشل میڈیا شخصیت ‘کچھ بھی پیش کر سکتے ہیں۔جس طرح آپ کو ادبی حلقوں میں، گلیوں بازاروں میں تماشہ گر قسم کے لوگ ملتے ہیں ، سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی لوگ موجود ہیں۔فرق محض میڈیم کا ہے۔ہر شخص اپنا اظہار چاہتا ہے۔ ہر گلی محلے میں لکھنے والے ہوتے ہیں ۔پرنٹ میڈیا میں قاری اور لکھاری کے درمیان مدیر، ناشراور مارکیٹ بطور فلٹر کام کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ فلٹر ہٹ جاتا ہے۔ کسی نظر انداز کیے گئے اچھے لکھاری کے لیے یہ ایک نعمت ہے ۔ یہاں وہ دوسروں تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے بغیر بھی اچھا لکھنے والا زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔سوشل میڈیا کا منفی پہلو یہ ہے اس سے وہ سارا کچرا قاری تک پہنچتا ہے جو ادبی اشاعتی عمل میں فلٹر ہوتا ہے۔

س: اگر یہ حقیقت کا پرتو ہے توپھر روایتی ادبی فورم اورسوشل میڈیا بطور ادبی فورم میں کیا فرق ہے؟

ہر میڈیم یا فورم کی ایک نفسیات اورایک مزاج ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیاصحافت کی ایک شاخ ہے۔ لیکن اس میں اور روایتی صحافت میں فرق یہ ہے کہ اس میں ہر صارف صحافی و مدیر خود ہے۔ تحریر اور قاری کے اس برا ہ راست تعامل سے کچھ نئے پہلو نمایا ں ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لکھاری خود ہی کاتب ، خود پروف ریڈر، خود مدیر اور خود ہی ناشر بن گیا۔ وہ جو بھی خیال حرف کرے، سونا بنائے یا مٹی، اس کا انحصار کسی’ دوسرے ‘پر نہیں رہا۔ وہ اپنے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے قاری تک رسائی میں خود مختار ہو گیاہے۔ یوں کہئے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا عوامی تھڑا ہے جس میں لکھاری اور قاری کے وصال میں کوئی رابطہ کار نہیں،کوئی مدیر نہیں، کوئی ناشر نہیں، معیار کا کوئی معروضی پیمانہ نہیں۔ اس سے لکھنے والے کو مفت اور مکمل آزادی مل گئی ۔ایسی آزادی جس میں وقت کی بھی قید نہیں۔

س:ہم دیکھتے ہیں کہ اردو کا شاعر و ادیب طبقہ فیس بک یا سماجی رابطے کی دوسری ویب سائٹس پر ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں کہ اس سے ادب کی عوام تک فوری رسائی ہو رہی ہے۔اور آپ کے کلام کی زیادہ پذیرائی ہو سکتی ہے؟

دیکھو، جس طرح گوئیّے کو سنوئیّاچاہئے ہوتا ہے اور مداری کوتماش بین ، اسی طرح لکھاری کو قاری چاہیے ہوتا ہے ۔ آپ صدر، وزیراعظم (بادشاہ) کے دربار میں گائیں ، صوفی کے دربار پر، کوکا کولا کے دربار میں یا گھر کی بیٹھک میں موبائل پراپنا گانا بمعہ وڈیو ریکارڈ کر کے آن لائن ( فیس بک چوک ) میں رکھ دیں، سب اظہار کے راستے ہیں۔لوگ آپ کو دیکھیں گے ، سنیں گے، ایک دوسرے کی نقالی کریں گے اور داد دیں گے۔ اسی طرح، شاعر ادیب لوگ خواہ ایوانِ صدر میں مشاعرے پڑھیں ، ٹی وی چینلوں کے عید شوز میں کلام آزمائی کریں ، سنجیدہ ادبی رسائل میں تحریریں چھپوائیں یا فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام پر لکھاری بمعہ مدیری بمعہ اشتہاری کی سہ جہتی ڈیوٹی کریں۔ سب اظہار کے راستے ہیں۔ (یہاں اشتہاری سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی تشہیر آ پ کرے) ۔ویسے تو اخباروں اور ادبی رسائل میں بھی روزانہ ڈھیروں کچرا شائع ہوتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر لکھاری کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ (اپنی فیس بک وال پر بطور سٹیٹس ) بیک وقت لکھ بھی رہا ہے اور شائع بھی رہا ہے۔ یعنی لکھاری کے لیے اپنی تحریر کی نظرِثانی بھی بے معنی بات ہے اور بلا وجہ کی تاخیر اور رکاوٹ ہے۔لکھار ی اور قاری کے درمیان یہ نیا تعلق مثبت ہے یا منفی؟ میرے نزدیک یہ مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔اس کا انحصار تحریر کے تناظر (context) پر ہے۔

جہاں تک ادب کی ترسیل اور پذیرائی کی بات ہے، کم سہی لیکن سنجیدہ پڑھنے والے آپ کو کتابیں پڑھتے ہی نظر آئیں گے۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کو پڑھنے والے (کچھ سنجیدہ اورزیادہ تر غیر سنجیدہ)،آپ کی یک حرفی تعریف کرنے والے ا ور فوراً فین بن جانے والے لوگ مل جائیں گے۔آپ سوشل میڈیا پر بے حد مشہور ہیں یا بالکل مشہور نہیں ہیں، آپ کو ہزاروں لائک ملتے ہیں یا سو پچاس، ایک بات طے ہے کہ اس سے آپ کی ادبی و علمی قد و قامت اور معیارِ تحریر متعین نہیں ہو سکتیں۔ادب کے لیے سنجیدہ فورم کون سا ہے اور غیر سنجیدہ کون سا، اس کا فیصلہ ہم ابھی نہیں کرتے۔البتہ میرے نزدیک ایک سنجیدہ لکھنے والے کو جن باتوں اور حرکات سے دور رہنا چاہئے ، سوشل میڈیا انہیں حرکات کے بدولت چلتا ہے۔

س: ان حرکات سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا معروف ادب اور سنجیدہ ادب دو مختلف چیزیں ہیں؟کتنے ہی اچھے شاعرا ور فنکار سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں؟

یہ اس اختیار و رسائی کا مثبت پہلو ہے کہ کثیر مرکزیت سے کئی نئے در کھلے ہیں۔ لیکن یہاں ہم سوشل میڈیا بطور متبادل ادبی فورم کی بات کر رہے ہیں۔نئے شاعر ادیب تو سوشل میڈیا سے پہلے بھی متعارف ہوتے رہے ہیں اور اس کے لیے سوشل میڈیا کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ یہ بڑا ادب ہے اور یہ بڑا ادب نہیں ہے اس کا پیمانہ یہ ہرگز نہیں کہ کسی تحریر یا وڈیو یا فلم کو کتنے لائکس ملے ہیں یا اسے کتنے لوگوں نے دیکھا ہے۔ تخلیقی عمل اس کے بالکل بر عکس ہے۔ کسی بھی تحریر (یہاں تحریر سے مراد textہے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر حسی تجربہ ایک تحریر/ textہے)کے راتوں رات مشہور ہو جانے کے لیے ضروری ہے کہ یہ عام فہم یعنی familiarہو، پہلے سے آپ کے مشاہدے میں ہو اور اُس میں کوئی اجنبیت نہ ہو۔ آپ اسے سرسری دیکھیں اور سوچے بغیر اسے سمجھ لیں۔ ایسی تحریر جو آپ کے تصوارت اور عقائد کو چیلنج نہ کرے اور کسی الجھن میں نہ ڈالے ۔ ایسی ادبی تحریریں کلیشے سے بھری ہوتی ہیں۔ اور کلیشے ادبی تحریر کی موت ہے۔ بڑا ادب کسی نئے تجربے کے بیان میں آنے سے یا کسی عام تجربے سے نیابیانیہ تشکیل دینے سے پیدا ہوتاہے ۔ اس میں ایک پر اسراریت، ایک اجنبیت ہوتی ہے۔ وہ آپ کو چیلنچ کرتا ہے اور مروّجہ نقطہ نظر کو بدل دیتا ہے۔سوشل میڈیا اس کا متحمل نہیں۔ بڑے ادب کی اس اجنبیت اور غیر مانوسیت ) (Unfamiliarity کوسمجھنے کے لیے وقت درکا ر ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پر کسی تحریر یا پوسٹ کی عمر کچھ لمحے یا زیادہ سے زیادہ کچھ گھنٹے ہوتی ہے ۔اس کے بعد آنکھ اوجھل ، پہاڑ اوجھل ۔ آپ کو کچھ سنجیدہ قارئین ضرور مل جائیں گے۔سو پچاس اچھے پڑھنے والے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں۔ آپ خود دیکھیں۔ جن ادبی تحریروں کو سوشل میڈیا پرہزاروں لاکھوں لوگ لائک کرتے ہیں ان میں شاز و نادر ہی کوئی اچھی تحریر ہوتی ہے ورنہ وہی ادبی جگالی ۔ چونکہ یہاں آپ خود ہی سارے شعبوں پر ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ آپ جتنی خود تشہیری کر یں گے اتنے مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جستجو تخلیق کا ر کو تماشہ گر بنا دیتی ہے۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ تخلیقی عمل کے لیے جو بے فکری درکار ہوتی ہے وہ آلودہ ہو جاتی ہے۔ آپ ہمہ وقت لائکس اور کمنٹس گنتے رہتے ہیں۔ یہ گویا ہوا کے گولے جمع کرنے کے مترادف ہے۔

س: یعنی آپ کے نزدیک سوشل میڈیا پر تحریر شائع کرنا برانہیں ،اس سے اپنا ادبی قد متعین کرنا خام خیالی ہے؟

ہاں ، آپ کہہ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ایک نئی طرز کا شاعر ،ادیب پیدا کیا ہے ۔ یہ جھٹ لکھی، پٹ اپ لوڈ کی ، قسم کی عام فہم، مختصر، جذباتی نوعیت کی تحریریں جو انسٹاگرام، فیس بک، ٹویٹر پر وائرل ہو جاتی ہیں ،خیال اور کرافٹ کی سطح پر اکثر کوئی نیا تجربہ پیش نہیں کرتیں۔ یہ اردو شاعروں ادیبو ں کی تحریریں ہوں یا دوسری زبانوں میں لکھنے والوں کی، اس کے اصول و قوائدایک سے ہیں۔ قاری مصروف ہے۔ وہ میٹرو میں سفر کر رہا ہے،اسٹیشن پر بس کا انتظار کر رہا ہے، ٹائلٹ میں بیٹھا ہے، وہ دماغ سے نہیں پڑھ رہا اپنے سمارٹ فون کی سکرین پر رکھے انگوٹھے سے پڑھ رہا ہے۔ اس کا انگوٹھا اس کے دماغ سے زیادہ تیز چلتا ہے۔ بوریت کے خلا کو وہ کسی غزل یا مختصر نظم پڑھ کر پُر تو کر رہا ہے اور ممکن ہے یہ اس پر اثر انداز بھی ہو، لیکن اس دورانیے میں وہ ادبی تحریر سے ، کسی وڈیو یا تصویر سے لمحاتی تفریح سے زیادہ توقع نہیں رکھتا ۔ آپ سوشل میڈیا مواد کا تجزیہ کریں تو لاکھوں، کروڑوں لائکس حاصل کرنے والی پوسٹ عموماً موبائل سے بنائی گئی کسی ڈکیتی، کسی ظلم ، زیادتی، یا کسی راہ گیر سے پیش آئے واقع کی کوئی سنسی خیزوڈیو ہو گی۔کسی ایکٹر، ایکٹرس کا کوئی پرائیویٹ بیڈ روم منظر یا کسی عام لڑکی کا سطحی جنسی اشتہا دیتا ڈانس کلپ ہو گا۔ سماجی میڈیا اپنی فطرت میں ایک ورچوئل بازار ہے جو ہماری حقیقی زندگی کی نفسیات کی پرچھائیں ہے۔ اس ورچوئل بازار میں لوگ تفریح کے لیے نکلتے ہیں۔ ان کے پاس سنجیدہ مواد پڑھنے کا وقت نہیں۔ سنجیدہ ادب کے لیے آپ مخصوص ادبی ویب سائٹس پر جاناہو گا۔مثلاًآن لائن اردو میڈیا میں ریختہ، ادبی دنیا ، لالٹین یا عالمی سطح پر معروف ادبی رسالوں کی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں کسی تحریر کو مخصوص ادبی تناظر میں پیش کیاجاتا ہے۔سوشل میڈیا چونکہ ایک صحافیانہ فورم ہے اسے پروپیگنڈے کے لیے ، سیاسی اور تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، سنجیدہ ادبی سرگرمی کے لیے یہ غیر مناسب ہے۔

س: اگر آپ کسی بڑے شاعر ادیب کی شاعری یا فن پارے سوشل میڈیا پر پیش کریں تو آپ کے مطابق لوگ اسے کس طرح پڑھتے ہیں؟

مثلاً آپ بابا فریدیا غالب کو آج زندہ کر لیجئے اور ان کے سوشل میڈیا پروفائل بنادیں ۔ جہاں وہ فیس بکی ادیبوں شاعروں کی طرح روزانہ صبح شام اپنی تحریریں اپ لوڈکریں۔ ہر صبح ناشتے کے بعد اپنا ایک شعر یا اشلوک زنانہ تصویر کا پس منظر لگا کر انسٹاگرام یا فیس بک پر اپ لوڈ کریں،اس کی تشہر کریں ۔ لوگوں کواپنی تحریروں پر کمنٹس کرنے کے لیے اِن باکس میں ذاتی پیغامات اور سفارشیں بھیجیں ، تو کیا لوگ ان کے اشلوک یا اشعار ایک سرسری پڑھت میں سمجھ لیں گے؟ سمجھیں گے نہیں ، مروتاً لائک کر کے گزر جائیں گے۔ کسی تحریراور اس کے لکھاری کا عظیم ہونااس کی شہرت میں نہیں اس کے باطن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ دراصل کوئی بھی شے /تحریر بذاتِ خود مکمل معنی نہیں رکھتی اس کا تنا ظر اسے معنی و مفہوم فراہم کرتا ہے۔ اگر اس سوال کو ایک اور طرح سے دیکھیں تو میں کہوں گا کہ تحریر کا ایک تناظر اس کاذریعہِ اشاعت بھی ہے۔ آپ ایک تحریر اخبار میں شائع کریں، اسی کو ایک معیاری ادبی جریدے میں شائع کریں (جس کی مقبولیت مخصوص اور سخت ادبی معیار کے تحت ہو) ۔اسی تحریر کو بطور آن لائن بلاگ کے شائع کریں اور پھر اسی تحریر کو فیس بک پروفائل دیوار پربطور سٹیٹس لگا دیں۔ ایک ہی تحریر کے مختلف ذریعہِ اشاعت کے باعث اس کا تناظر بدل جائے گا اور پڑھنے والااس اشاعتی ذرائع/ میڈیم سے منسلک اپنی پیش بین جانب دار ی (Pre-conceived bias) یا میڈیم کے مزاج کے اثرکے تحت مختلف رائے قائم کرے گا۔ ہر تحریر اپنے مناسب ذریعہِ اشاعت کی محتاج ہے تاکہ وہ صحیح تناظر میں اصل قارئین تک پہنچ سکے۔اس کا مطلب ہوا کہ کسی تحریر کا کوئی حتمی تناظر نہیں ہوتا۔قاری اور تحریر ہر تعامل میں اپنی قدر اور معنی خود متعین کرتے ہیں۔ تحریر اور قاری کے درمیان رابطہ کسی بھی ذریعے سے ہواس کی کوئی معروضی اور حتمی شکل طے کرنا مشکل ہے۔

س: سوشل میڈیا کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ لامحالہ ادیب کو سرمایہ داری نظام کا صارف بنا دیتا ہے ، یہ کیسے کام کرتا ہے ۔ اگر یہ ادب کی خدمت نہیں کر رہا تو کیا اس سے کنارہ کشی ممکن ہے؟

آپ دیکھیں تو ان سماجی میڈیا ویب سائٹس کے خالقین اور منتظمین کے ذاتی پروفائل اکاونٹ قدرے غیر متحرک ہیں۔ وہ صبح شام فیس بک کے عادی اردو شاعروں ،ادیبوں کی طرح آن لائن نہیں رہتے۔ وجہ جاننے کے لیے اس وِرچوئل بازار کی نفسیات اور کاروباری حکمتِ عملی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج دنیاکے امیر ترین سرمایہ دارلوگ انہیں ورچوئل بازاروں مثلاً فیس بک، ٹویٹر ، انسٹاگرام کے مالکان ہیں۔ کروڑوں، اربوں صارفین کے مفت استعمال کے لیے دستیاب ویب سائٹس اتنا پیسہ کہاں سے کماتی ہیں؟در اصل یہ منافع آپ سے دوہری شکل میں وصول کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس کے نفسیاتی پہلو پر بات کرتے ہیں۔مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹس بنانے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسانی شعور اور نفسیات کیسے کام کرتی ہے۔ انسانی دماغ میں ایک مرکب ڈوپامائن (Dopamine)پایا جاتا ہے جس کے ذریعے نیوران کے درمیان عصبی ترسیل ہوتی ہے۔ ڈوپامائن مرکب ہمیں کسی چیز کے عادی ہوجانے میں ، لذت دینے والی اشیا کی طرف بار بار مائل ہونے میں ، کسی نشے سے لطف حاصل کرنے میں بنیادی محرک کاکردار ادا کرتا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی چیز کا عادی ہوتا ہے۔ کسی عادت کا پیدا ہونا اصل میں تو کسی ایسے کام کو شعوری یا غیر شعوری طور پر بار بار کرنے کا نام ہے جو آپ کو لطیف احساس دے اور آپ مزہ محسوس کریں، یہ کوئی بھی فعل ہو سکتا ہو۔ خواہ کسی نشے کی لت ہو، کوئی گیم ہو ،جنسی فعل ہو، سسپنس ڈائجسٹ ہوں یا کوئی اور عادت،آپ کے دماغ میں اس عمل سے ڈوپامائن لیول کا بڑھنا ایک لطیف احساس دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی ایسے اصولوں پر ڈیزائن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس ویب سائٹ کے استعمال کے دوران صارف کے دماغ میں ڈوپامائن لیول کو اشتہا ملے۔نفسیاتی سطح پر ٹیکنالوجی کی لت بھی نشے کی لت جیسا اثر کرتی ہے۔ اسی لیے پچھلے پندرہ سالوں میں موبائل فون میسجنگ، سوشل میڈیا پر اجنبی روابط، ٹنڈر، فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام جیسی ویب سائٹس استعمال کرتے ہوئے آپ کو بہت سا دلچسپی کا سامان ملتا ہے۔ دوسرے لوگوں کی شیئر کی ہوئی معلومات کے اس سمندر میں آپ بے سمت تیراکی (surfing)کرتے ہوئے دوستوں کی تصاویر دیکھتے ہیں۔ان کے روز مرہ کی سرگرمیوں سے واقف ہوتے ہیں، اجنبیوں کی پروفائل ٹٹولتے ہیں، کوئی ہنسی مزاق کی وڈیو دیکھتے ہیں۔ یہاں وہاں سے کوئی شعر، کوئی غزل ، نظم پڑ ھتے ہیں، لائکس ، کمنٹ کرتے جاتے ہیں۔اسی طرح گھنٹوں گزر جائیں گے اور آپ لطف لیں گے۔ لیکن اس وقت گزاری کے بعد آپ کا ذہن ایک خالی پن محسوس کرے گا۔آپ کئی لوگوں کے شیئر کیے ہوئے تجربات کو سکرین پر دیکھیں گے لیکن خود کسی تجربے سے نہیں گزریں گے۔آپ اس مغالطے میں مبتلا رہتے ہیں کہ آپ سکرین پر ہونے والی سرگرمی کا حصہ ہیں۔ لیکن حقیقت اور آپ کے درمیان ایک متحرک سکرین حائل ہے اورآپ اپنے کمرے میں بند محض ساکن تماش بین بنے بیٹھے ہیں۔ آپ لطف اندوز ضرور ہوتے ہیں لیکن کچھ نیا نہیں سیکھتے۔یہی لطیف کیفیت کسی نشے کے بعد ہوتی ہے۔ ان عادتوں اور تجربوں کی مماثلت کے پیچھے ڈوپامائن کام کر رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ کی اس وقت گزاری (یا آپ کی محدود ادبی سرگرمیوں کا) کا سوشل میڈیا مالکان کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ جب آپ سوشل میڈیا پر اپنا اکاؤنٹ بناتے ہیں ۔آپ اس سرمایہ داری منڈی میں ایک صارف بن جاتے ہیں۔ آپ اس بازار میں آجاتے ہیں جہاں ہر نوع کی اجناس موجود ہیں۔ سب کی طرح آپ بھی کچھ اپ لوڈ، کچھ شیئر کرتے ہیں۔ اور آپ کے پاس بھی اوروں کی طرح اپنی تصاویر، روز مرّہ سرگرمیوں کا حال، کچھ چبائے ہوئے سطحی سے خیالات اور دن بھر ارد گرد سے سنے ہوئے سیاسی تجزیئے وغیرہ ہوتے ہیں جو آپ اپنی آواز، اپنی شناخت پیدا کرنے کے لیے، اپنے وجود کی تصدیق کے لیے اور دوسروں کی نظر میں نمایاں ہونے کے لیے شیئر کرتے ہیں۔ یہ سب اس ورچوئل منڈی کا مال بن جاتا ہے۔جسے آپ کے جاننے والے ، دوست احباب اور’ اجنبی دوست ‘ صرف کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ دوسروں کا لایا ہوا ما ل/ مواد صرف کرتے ہیں۔ آپ جتنے کلک کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر اتنا ٹریفک بڑھتا ہے ۔ کروڑوں، اربوں کی تعداد میں جمع شدہ عالمی بھیڑکو سرمایہ داری کمپنیاں اشتہارات کی صورت میں اپنی مصنوعات متعارف کرواتی ہیں۔ ان اشتہاروں سے سوشل میڈیا مالکان پیسہ کماتے ہیں۔ آپ اپنی ساری نقل و حرکت، پسند ناپسند، اچھائی برائی، سوشل میڈیا پربراہ راست یا بلاواسطہ شیئر کرتے ہیں جسے کمپیوٹرز کے مصنوعی ذہانت پر مبنی حسابی کلیے (Algorithms) مسلسل جمع کرتے ہیں اور آپ کی نفسیات کا تجزیہ کرکے آپ کی دلچسپی کی خبریں اور صارفی مصنوعات کے اشتہارات آپ کے سامنے بار بار پیش کرتے ہیں۔یعنی ایک طرف توآپ صارف بن گئے۔ دوسرا آپ سوشل میڈیا پر جتتا زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان صارفی ویب سائٹس کے لیے مفت ملازمت کرتے ہیں۔اس سے بڑھ کر آپ ان ویب سائٹس کے استعمال کے عادی ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب وہاں آپ کی ایک شخصیت بن چکی ہے۔ آپ کے احباب ہیں، سننے ، پڑھنے والے ہیں ۔ اجنبی دوست آپ کے سٹیٹس لائک کرتے ہیں۔ کمنٹ کرتے ہیں۔ گو یا آپ ایک مشہور شخصیت celebrity) (بن جاتے ہیں۔حقیقی زندگی میں کوئی آپ کی رائے، آپ کی بات کو اہمیت نہ بھی دیتا ہو، یہاں آپ کو سو پچاس لائک مل جاتے ہیں اور آپ کی انا کی تسکین ہوتی ہے۔ یہی احساس آپ کا ڈوپامائن لیول بڑھاتا ہے جو نشے کی لت کی ایک صورت ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارا اردوشاعر ادیب ، دانش ور طبقہ ہمہ وقت فیس بک پر موجود رہتا ہے۔ یا تو وہ اس کے منفی اثرات سے غافل ہے یا اس لت کا شکار ہوچکا ہے جو اُسے سوائے وقتی لذت کے اور کچھ پیش نہیں کر رہی۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے میںیہی کہوں گا کہ سوچنے سمجھنے والے شاعروں ادیبوں کو سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے۔دوستوں سے رابطے ، ادبی سرگرمیوں کی معلومات اور سیاسی اور سماجی پروپیگنڈے کی حد تک تو درست ہے لیکن ہر روز اپنی صبحیں اور شامیں اس لت کی نذر کرنا مناسب نہیں۔ بڑا ادب پیدا کرنے کے لیے گہرا تفکر اور بے فکری درکارہوتی ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا کے شور سے دور خاموشی کو محسوس کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنے باطن کی جنبشوں کو محسوس کر سکیں جو گہری اور خوبصورت ہیں۔

Categories
اداریہ

مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ

بہاولپور میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پرصحابہ سے متعلق ‘توہین آمیز’ مواد پوسٹ کرنے کے ‘جرم’ میں سزائے موت سنائی ہے۔ مقدس شخصیات، صحائف اور عقائد کی توہین جیسے معمولی واقعات کی دہشت گردی کی عدالتوں میں سماعت اور اس پر پھانسی جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا مذہب کے نام پر جبر اور ظلم کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔یہ مقدمہ اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا اس لیے زیادہ خوفناک اور غیر انسانی ہے کیوں کہ یہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار خیال پر پاکستان میں دی جانے والی پہلی ایسی سزا ہے۔ اس مقدمے کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت بجائے خود ایک ناانصافی ہے۔ اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی، آزادانہ اظہار رائے پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔

توہین مذہب و رسالت کی کسی متفقہ تعریف کی عدم موجودگی میں کسی بھی واقعے کو سزائے موت کا موجب جرم قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں انسانی آزادیوں، حقوق اور زندگی کی اہمیت چند مذہبی لوگوں کے عقائد اور جذبات سے بھی ارزاں ہے۔ یہ قانون ریاستی اور معاشرتی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کی پامالیوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر ریاستی اور معاشرتی جبر پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کی ایسی پر تشدد اور غیر جمہوری روایات کو جنم دے رہا ہے جو کبھی مشتعل ہجوم کی صورت میں سرعام قتل و غارت کے بہیمانہ واقعات کے لیے جواز بخشتی ہیں تو کبھی عدالتوں میں غیر انسانی فیصلوں اور سزاؤں کی وجہ۔

توہین مذہب و رسالت کے غیر انسانی قانون کے تحت دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت اور موت کی سزا جبر کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ دور غیر مسلم اور غیر سنی اقلیتوں کے لیے بالخصوص اور دیگر مکاتب فکر کے افراد کے لیے بالعموم ابتلاء اور آزمائش کا ایک پرآشوب دور ثابت ہو گا۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر روا رکھے جانے والے ریاستی اور غیر ریاستی تشدد کی لپیٹ میں آزادی اظہار رائے، اختلاف رائے اور انسانی آزادیاں بھی آئیں گی اور بہت جلد یہ تشدد مزید غیر منصفانہ قوانین، مزید غیر انسانی سزاؤں اور مزید بہیمانہ غارت گری کو فروغ دے گا۔ عدم برداشت اور تشدد کی یہ صورت طالبان یا داعش سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔ پاکستان متعدد فرقوں اور عقائد کے حامل افراد کا ملک ہے ایسے میں ایک فرقے کے لیے جو توہین مذہب، توہین رسالت یا توہین صحابہ ہے وہ دوسرے فرقوں کے لیے تاریخی حقائق اور عین ایمان ہے۔ توہین مذہب و رسالت کی تعریف کا یہی اختلاف ہر فرد کو جان لینے کا خدائی اختیار دینے کا باعث بنے گا۔

مقدس شخصیات کے مرتبے اور تاریخی حیثیت کے حوالے سے اختلافات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، اور کسی بھی فرد کو مقدس شخصیات کی تاریخی حیثیت پر سوال اٹھانے یا کسی دوسرے فرقے میں ان شخصیات کی حیثیت سے مختلف رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کو توہین مذہب و رسالت قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ باور کرنا بھی ضروری ہے کہ واقعتاً کوئی فرد اگر توہین کا مرتکب ہوا بھی ہے تو بھی اس معمولی جرم کو انسداددہشت گردی کی عدالتوں میں سننے اور اس کے لیے سزائے موت جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا تجویز کرنے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔
Categories
فکشن

بھگوڑا

با لآخر یونس بھاگنے پر تیار ہوگیا۔ اس بارے سوچتے،ارادہ بناتےتو اسے ہفتوں ہو چلے تھے مگر آخری گرہیں جوڑتے رسیاں دھاگوں سی صورت بنا لیتیں اورکئی سوال اس کے آگے اندھےغار کی طرح منہ کھول کر کھڑے ہوجاتے اور وہ پیٹھ پھیرلیتا۔ سوال تو اب بھی منہ پھاڑے ہوئے تھے۔ کسی ایک کو بھی بند نہیں کر پایا تھااور کرے بھی کیسے؟ افلاس میں گھرا گھر، بوڑھے ماں باپ،ضروریات کے اسیر بیوی بچے، ہمیشہ خالی رہنے والی جیب۔ اگر چند ٹیوشنیں حاصل نہ ہوتیں تو پرائیویٹ اسکول کی معمولی تنخواہ سے پیٹ بھی بھر نہ پاتے۔ کچھ مدد حکمت بھی کردیتی جو اس کے والد ساری عمر کرتے رہے۔ مگر اب ماہ میں دو چار مریض ہی حکیم محمد صالح کے ہاتھ لگتے جس سے چند سو ہاتھ آجاتے۔ صورت یہ تھی کہ کسی عید پر بچوں کے کپڑے بن جاتے، کسی پر دھلے ہوتے۔ اچھا یہ تھا کہ اسکول مالک کی مہربانی سے تینوں بچے پڑھ رہے تھے۔ نہیں تو پیلااسکول تو تھا ہی۔ اور چوتھا بچہ ابھی چھوٹا ہی تھا۔ پر سوالوں میں اس کا بھی شمار ہوتا تھا۔ مگر شگفتہ کا ان سوالوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف ایم یونس کو جانتی تھی۔ یہ شگفتہ کون ہے؟ وہی جویونس کو بھگا کر لے جارہی ہے۔ اس بھاگنے کے پیچھے سب کچھ اسی کا تھا۔ اس کا ہاتھ، اسی کا پیسہ، اسی کا منصوبہ۔ حتیٰ کہ ہمت بھی اس کی تھی۔ یونس کے پاس تو صرف سوال ہی تھے۔ ایک اور بات بھی ہے۔ یونس سے رابطہ کی مضبوطی اور تعلق جسے آپ محبت کہیں، وہ بھی شگفتہ کے سر تھی۔ ذریعہ بنا فیس بک۔ سوالوں کے ساتھ یونس کے پاس صورت بھی تھی۔ فیس بک پر اس کی تعارفی تصویرمتوجہ کیے بنا نہیں چھوڑتی تھی۔ شگفتہ بھی متوجہ ہوئی۔ اورہوکے ہی رہ گئی۔ کنڈا اٹک جائے تو رہائی کہاں ملتی ہے اور رہائی چاہتا کون ہے؟ فیس بک پر وقت گذاری کرتے ایک گروپ میں شگفتہ شامل ہوئی تو یونس اس گروپ کے دلچسپ ہونے کا ایک سبب تھا۔ جس پوسٹ پر وہ نظر آتا وہاں مستی مزاح اپنا اثر ظاہر کرتی۔ وہ سنجیدہ بات کوبھی مزاحیہ رنگ دیتااور پھر دوسروں کے کمنٹس کو جس طرح ذو معنی بنا کر اپنا مطلب بیان کرتا، وہاں پھلجھڑیاں اڑنے لگتیں اور بس کمنٹس کے دھیڑ لگے رہتے۔ شگفتہ اس پوسٹ سے چپک کر رہ جاتی۔ وہ ایم یونس کے نام سے بنی آئی ڈی کی ہر پوسٹ،ہر کمنٹ لائک کرتی رہتی۔ کالج سے گھر پہنچتے ہی اپنے لیپ ٹاپ کی طرف دوڑ لگاتی اور فیس بک سے جڑ کر بیٹھ جاتی۔ کیونکہ یونس دو پہر کو ایک سے ڈیڑہ گھنٹاہی گروپ میں نظر آتاتھا۔ وہ توبعدمیں شگفتہ کو پتہ چلا یونس اپنے اسکول کے کمپیوٹر پر چھٹی کے بعد چار بجے تک آفیس میں فیس بک چلا لیتا ہے۔یہ وہی چار بجے تھے جس دوران شگفتہ اپنے بیڈ پر یونس کے کمنٹ پڑھتی اور ہنس ہنس کر دُہری ہوتی رہتی۔ گھر میں ماموں مشتاق ہوتے تو وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دبائے بغیر آواز ہنسی سے ہلتی رہتی۔ کیونکہ اگر وہ اس کی ہنسی کی آواز سن لیتے تو پھر اپنے درس سمیت آجائے۔ نصیحت چلنا شروع کردیتی۔ ہنسنے کی قباحتیں،نیک لوگوں کے طور اطوار، شریف گھرانوں کا چلن، انٹرنیٹ کی بیہودگی۔یہ سب کچھ سننا پڑجاتا۔ اثر تو وہ خاک لیتی پرسر جھکائےمجرم بنے سننا آسان تو نہیں نا۔ کبھی کبھی اماں کو رحم آتا تو آکر آزادی دلادیتیں اورکبھی ماموں کے ساتھ مل کر ناصح بن جاتیں۔بھلا وہ بھی کریں کیا؟ شوہر عرب ریاست میں کام کرتے تھے۔ سال میں ڈیڑھ دو ماہ کے لیے آتے۔ ساری ذمہ داری وہی محسوس کرتیں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا،جو آخر میں تھا۔ ان کی تعلیم تربیت، گھر کو سنبھالنا۔ اگر ماموں مشتاق ساتھ نہ رہتے تو وہ کہاں نبھا پاتیں۔ یہ ماموں مشتاق تھے تو اماں کے بھائی پر بچوں نے اماں کی عادت بھی ماموں کہنے پر بنا دی تھی۔عرصہ آٹھ سال سے انہی کے ہاں رہتے تھے۔ قریب کی مارکیٹ میں فوٹو اسٹیٹ مشینیں ڈالی ہوئی تھیں۔ کمپوزنگ کا کام بھی کیا کرتے تھے۔ ان کا اچھا گذارہ ہوجاتا۔ ابھی چھڑے بھی تو تھے۔ اوپر سے ابا بھی بلا ناغہ ان کے لیے اماں کو تاکیدی پیسے بھجواتے۔ ویسے تاکید کی ضرورت تھی تو نہیں پر ابا کی طبیعت۔اور تاکید وہ بچوں کے لیے کرتے”انہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو”کمی وہ کیوں محسوس کرتے؟۔ گھر میں ہر چیزکی زیادتی تھی لیکن ایک کمی تھی اور وہ تھے ابا۔ مگر وہ ابا کے بھی بس میں نہ تھی۔ سال بعد ابا گھر آتے تو گھر میں سیلاب آجاتا۔ کپڑوں لتوں کا، جیولری کا، پرفیومز کا، سینڈلز کا، عادل کے لیے کھلونوں کا اور سب سے زیادہ خوشیوں کا۔ کبھی تاش چل رہی ہے، کبھی کیرم بورڈ سجا ہوا ہے،کبھی لڈو کھیلا جا رہا ہے، ٹی وی ہے کہ سارادن چلائی جا رہی ہے، موسیقی کے آواز سے گھر کے در و دیوار بجے جا رہے ہیں،ہنسی مذاق قہقہے تھمنے کو نہیں۔ بس ماموں مشتاق بیٹھے پیچ وتاب کھارہے ہیں۔

 

“سلیم بھائی خود انہیں بگاڑ رہے ہیں۔ ہر وقت ہنسی، ٹھٹھا، ٹی وی پر ہندوستانی ڈرامے چل رہے ہیں، فلمیں دیکھی جارہی ہیں، کیا سیکھیں گے؟ بھجن پوجا پاٹ؟ ہندوانہ طور اطوار گھر میں گھسے آرہے ہیں اور۔بھائی صاحب کوئی فکر ہی نہیں۔”

 

“چھوڑو ماموں۔ اب کچھ دن کے لیے تو آئے ہیں سلیم۔بچوں کو خوش ہولینے دو۔”اماں کی بات ماموں کو کہاں چپ کروا سکتیں۔کبھی تو وہ ابا سے بول بیٹھتے
“سلیم بھائی ہر وقت بچوں کا ڈرامے فلمیں دیکھنا اور ہنسی مذاق ان کے اوپر اچھا اثر نہیں ڈالے گا” ابا جوابامسکرا دیتے۔اب بھلا مسکراہٹ کے جواب میں کیا بولا جائے؟ ابا جوں ہی ابو ظہبی روانہ ہوتے وہ سب پژمردہ ہوجاتے۔ جیسے کسی نے کھلونوں میں سے بیٹری نکال دی ہو۔ شگفتہ اور اس کی بڑی بہن مریم کے لیے لمحے اکتاہٹ سے بھر جاتے۔ چھوٹا عادل بھی بھلنے تک چند دن لے لیتا۔ اور اماں تو بولائی بولائی پھرتی۔باقی ماموں مشتاق بااختیار ہوجاتے۔ تاش بند، کیرم بورڈ اسٹورروم میں پہنچ جاتا اور ٹی وی ماموں کے زیر انتظام دیکھی جانے لگتی۔ بلند آواز میں میوزک کا نام و نشان تک نہ ملتا۔ جس نے سننا ہے وہ کانوں پر ہیڈفون لگا کر سنتا رہے۔ اسی طرح زندگی بے رنگ کٹ رہی تھی کہ شگفتہ نے فیس بک تک رسائی حاصل کرلی۔ کالج سے فیس بک کا سن اور سیکھ آئی۔ اکاؤنٹ بنے۔ گھر میں ایک ہی لیپ ٹاپ تھا جو اکثر عادل کے گیموں کا ذریعہ تھا۔ اب وقت مقرر ہوئے۔ عادل کا، مریم کا، شگفتہ کا، دو دو گھنٹے۔ اور پھر شگفتہ ایم یونس کی ہر پوسٹ اور ہر کمنٹ کو لائک کرتی جاتی۔اس نے کمنٹ کرنا شروع کیا۔ جس پوسٹ پر وہ نظر آتا، ضرور گھستی۔ کچھ دنوں میں گروپ ممبرز نے اسے قبول کیا۔ اس کی کمنٹس کو داد اور جواب ملنے لگے۔ وہ جانی پہچانی جانے لگی مگر یونس نے اسے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ نہ وہ اس کی پوسٹ پر آتا اور نہ ہی اس کے کسی کمنٹ کا جواب دیتا۔ کچھ مرتبہ تو شگفتہ نے سے ٹیگ تک کیا مگر جواب ندارد۔ شگفتہ نے خود کو غیر اہم ہوتے محسوس کیا۔ جیسے اس کا ہونا نہ ہونا ہو۔

 

“آئندہ میں کبھی فیس بک پر ہی نہ جاؤں گی”اس نے اپنا اکاؤنٹ ڈی ایکٹویٹ کیا اورلیپ ٹاپ عادل کو دے کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی۔ آدھا گھنٹہ گذرنے سے پہلے وہ دوبارہ اکاؤنٹ ایکٹیویٹ کر چکی تھی۔”میں اس لعنتی کی وجہ سے فیس بک کیوں چھوڑوں؟ میں اس گروپ میں نہیں جاؤں گی بس۔”اس نے خود سے وعدہ کیا۔اسی شام وہ دوسرے ممبرز کی پوسٹس پڑھتے ہوئے یونس کے کمنٹ نظر انداز کیے جارہی تھی۔ اگلے دن کالج سے جلد واپسی کی اور ” لعنتی “کا ہر کمنٹ پڑھ کر لائک کیے دو بجے کا انتظار کر رہی تھی۔دو بجنے سے تھوڑی دیر بعد شگفتہ نے یونس کو گروپ میں کمنٹ کرے ہوئے دیکھتے ان باکس کیا۔

 

“سلام”
“وسلام بہن” وقفے کے بعد جواب نظر آیا۔
“مجھے بہن کہنے والے اور والیاں دونوں ہیں۔یہ لفظ آپ اپنے پاس سنبھال رکھیں۔”
“سوری میں معذرت چاہتا ہوں۔”
“چاہیں”
“جی میں سمجھا نہیں”
“یہ بھی ایک مسئلہ ہے”
“کیا؟”
“چلیں چھوڑیں، ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟”
“جی پوچھیں؟”
“آپ بزی تو نہیں؟”
“نہیں نہیں”
“ایزی ہیں؟”
“جی ہاں”
“مائنڈ تو نہیں کریں گے؟”
“نہیں۔”
“آپ لاٹ صاحب کو جانتے ہیں؟”
“نہیں تو”
“لاٹ صاحب سے کوئی رشتہ داری ؟”
“بالکل نہیں”
“پھر یہ بتائیں میں نے آپ کی پوسٹس پر جاکر کمنٹ کیے۔ آپ کو ٹیگ کرکے متوجہ کیا، اپنی پوسٹ لگا کر دوسروں کے ساتھ آپ کو بھی کمنٹ کرنے کو کہا۔ مگر آپ کا کوئی رسپانس ہی نہیں۔میں نے سوچا لاٹ صاحب نہیں تو اس کے رشتہ دار تو ضرور ہوں گے۔”
“میں معافی چاہتا ہوں۔” اس سے آگے کچھ سجھائی ہی نہیں دیا ہوگا۔

 

“میرا نام شگفتہ سلیم ہے،سلیم میرے والد کا نام ہے، بی اے فائنل میں پڑھتی ہوں۔ شہر کا نام فی الحال نہیں بتا رہی۔اوکے؟”

 

“جی بہتر”

 

” تصویر بھی بھیج دوں؟”

 

“نہیں پلیز۔”

 

“ابھی وہ اتنا لکھ پایا تھا کہ ان باکس میں تصویر آ پہنچی۔

 

“اس پکچر کو کسی اور تک نہیں پہنچنا چاہیے۔”

 

“نہیں پہنچے گی، اعتماد کا شکریہ۔” ایم یونس نے جواب لکھا۔بھلا بیچارا اور کیا لکھتا۔ بس اسی طرح ابتدا ہوئی اور پھر چل سو چل۔ آٹھ ماہ کے بعد کی کہانی اولین سطریں بیان کر چکی ہیں۔ان آٹھ ماہ کی کچھ اور باتیں بھی سن لیں۔ آپ کو اندازہ تو ہوگا نا کہ محبت کس طرح بندے کو اس کے ماحول اور مسائل سے الگ کردیتی ہے۔ بس وہی ہوا۔ فون پر ایک دوسرے سے گھنٹوں باتیں اور ساری کی ساری اچھی اچھی۔ دماغ تک کچھ غلط سوچ نہیں سکتا۔ ویسے اگر آپسی تعلق چھے ماہ کے اوپر کا عرصہ نکال لیتا ہے تو یقین کرلیں کہ کچھ نہ کچھ اس میں ہوتا ہے۔ تو آٹھ ماہ میں باتوں کے ڈھیڑ، لاتعداد وعدے اور تین عدد ملاقاتیں بمع تحائف۔ تینوں کے تینوں شگفتہ کی طرف سے دیے گئے۔ خیر دیا تو کرایہ بھی گیا تھا۔ تینوں مرتبہ بس بمع رکشہ۔ اورتحائف کیا تھے؟ ٹچ اسکرین موبائل، لیپ ٹاپ اور پرفیوم۔ تینوں کی خریداری دونوں نے کٹھی کی تھی۔ یونس اپنے چھوٹے سے شہر سے چل کر بڑے شہر پہنچتا۔ شگفتہ کالج چھوڑ آتی۔ دونوں پہلے پارک میں بیٹھتے اور پھر میٹرو اسٹور کا رخ کرتے۔ وہیں سے یہ تینوں چیزیں خریدی گئیں تھیں۔ تو بس آٹھ ماہ کا حاصل یہی تھا اور یہ بھی کہ یونس بھاگنے کے لیے تیار تھا۔ اب بھاگا کیسے جائے؟ یہ سوال دونوں کے لیے نیا تھا۔پوچھتے تو کس سے؟بس دونوں نے اندازہ کیا۔ یونس نے کچھ معلومات لیں۔ اپنے کسی کلاس فیلو کے وکیل بھائی تک رسائی کی۔ ہدیہ مبلغ دس ہزار عوضانے سے وکیل صاحب نے کورٹ میں ان کے نکاح کی کارروائی مکمل کروادی۔ ویسے تو گاؤں چھوٹے شہروں کے لوگ اپنے تعلق ناتوں سے بغیر کسی پیسے کے ایک دوجے کے کام کردیتے ہیں لیکن وکیل تو وکیل ہوتا ہے۔باقی بچے دو لاکھ اڑتیس ہزار روپے۔ انہی پیسوں میں سے جو شگفتہ اپنے ساتھ لائی تھی۔ ساتھ میں کوئی دس بارہ تولے سونا بھی تھا۔ شادی تو ہوگئی اب کہاں جائیں؟ یہ بات طے کرنے سے رہ گئی تھی۔ شگفتہ کو تو کوئی پریشانی ہی نہیں تھی۔ وہ تو کہے جارہی تھی کہیں بھی رہ لیں گے۔ اب “کہیں “یونس کہاں سے لائے۔اب تک تو جو بھی مراحل تھے وہ شگفتہ نے طے کروائے تھے مگر اب اسے بھی کچھ کرنا تھا۔ اس نے اپنے شہر کے رخ کرنے کا ارادہ کیا۔ دوران سفر وہ اسے تسلیاں دینے آئی۔ وہی پہلے والی۔

 

“کچھ بھی نہیں ہوگا۔پریشانی کی کیا بات ہے؟”

 

“ابا مجھے ایک لفظ بھی نہیں کہتے چاہے میں کچھ بھی کرلوں”۔

 

“اصل میں امی نہیں مانتی اور میں نے تمہارے بارے میں جب سے انہیں بتایا ہے انہوں نے رشتہ بھی کردیا ہے۔ بس ابو کےآنے کاانتظار ہے”شہر پہنچے یونس کے دوست کے تعلق دار کے خالی فلیٹ میں ٹھہر گئے۔ ایک دن، دودن، تین دن۔ فلیٹ سے نکلے ہی نہیں۔فون آتے رہے۔ یونس نے گھر بتادیا کہ دوستوں ساتھ گھومنے نکلا ہوں۔ دو تین دن میں آؤں گا۔ شگفتہ کیا بتاتی اور وہاں گھر میں تو سب کو پتہ چل گیا تھا۔ تیسرے دن ابو کا میسیج آیا۔

 

“یہ بھاگنے کی کیا تک ہے بھائی۔بے وقوف ہو تم۔گھر واپس آ جاؤ”شگفتہ کو میسیج پڑھتے رونا آگیا۔

 

“ابو ہم آرہے ہیں”

 

“اچھا ہے۔ “اور پیسے زیور کی بات تک نہ کی۔حالانکہ وہ سب کا سب واپس جارہا تھا۔ بس وکیل کی فیس کے علاوہ چند ہزار اور کم ہوئے تھے۔ شگفتہ گھر اکیلے جانا چاہتی تھی مگر یونس ماننے پر آمادہ ہی نہیں۔

 

” میں تمہیں گھر پہنچا کر واپس چلا جاؤں گا۔ “عصر سے تھوڑا پہلے وہ گھر جا پہنچے۔ گھر میں کیا داخل ہوئے ہنگامہ اورغل برپا ہو گیا۔ شور، گالیاں، دھمکیاں، رونا، دوہتڑ، بدعائیں،تھپڑیں، بالوں سے پکڑنا، کھینچا تانی، پھٹی ہوئی شرٹ سب شامل تھا۔ ایک کمرے میں شگفتہ نشانہ بن رہی تھی ایک میں یونس۔ شگفتہ کے لیے ماں کی طرف سے دوہتڑ اور ادھر یونس کو دھکیل کر دیوار سے ٹکرایا گیا تھا۔ ساتھ میں کچھ تھپڑ، پھٹا گریبان، ننگی گالیاں۔ یہ کاروائی ماموں، شگفتہ کے ابو کے بڑے بھائی، شگفتہ کے خالو اور ان کے فرزند، جو شگفتہ کے متوقع منگیتر تھے،کی طرف سے عمل میں لائی گئی۔ اس دوران شگفتہ کے ابو چپ چاپ کرسی پر بیٹھے تھے۔جب کارروائی ٹھنڈی پڑتی محسوس کی تو اٹھ کھڑے ہوئے۔

 

ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ہوگیا بس ہوگیا۔اب آپ لوگ جائیں باقی میں دیکھ لوں گا۔ انھوں نے بلند آواز اور بلند ہاتھ کر کے دو تین بار بولا۔یہ سن کر مزید چلم چلی ہوئی۔کچھ اور تھپڑ گالیوں کے ساتھ پڑے۔

 

“میں آپ لوگوں کو بعد میں بلاؤں گا۔ فی الوقت آپ چلے جائیں۔”قہر برساتی آنکھیں، خطرناک دھمکیاں دیتی زبانوں اور پٹختے پاؤں کے ساتھ وہ لوگ جانے لگے اسی اثنا میں ابو نے متوقع منگیتر کا ہاتھ بھی پکڑا تھا۔

 

“بیٹا تمہارے ابو نے مارلیا ہے نا۔ فی الحال وہ کافی ہے۔ باقی بعد میں۔ شاباش۔”ابو نے سب کو چلتا کرکے گھر کا گیٹ بند کیااورواپس اپنے کمرے میں آئے۔کمرے کے فرش پر یونس اپنی بدحالی کے ساتھ موجودتھا۔

 

“ارے میاں یوں زمین پر تو نا بیٹھو۔”ابو نے یونس کا بازو پکڑ کر کرسی پر بٹھاتے کہا۔

 

“اور ماموں تم ایسے ہی کھڑے ہو۔جاؤ میاں جا کر پانی لے آؤ۔”یہ کہہ کر ذرا رکے اور پھر ماموں کو اور حکم کیا

 

“نہیں پانی لانے سے پہلے اپنی بہن کو لے آؤ۔”ماموں کیا اپنی بہن کو بلا لائے بس کمرے میں بگولا گھس آیا۔

 

“کمینے، بےشرم،بے غیرت۔تجھے اور کوئی نہیں ملا ؟ لعنت ہو تمہارے ماں باپ پر جنہوں نے ایسابے غیرت پیدا کیا ہے۔ ہماری عزت مٹی میں ملاکر ہمارے گھر آکر یوں صوفے پربن ٹھن آ بیٹھا ہے۔ بے حیا۔ وےمشتاق ان سے تو کچھ ہونے سے رہا۔پر تو یوں کھڑا ٹکر ٹکر دیکھ رہا ہے۔ اس حرامی کو ایک ہاتھ بھی نہیں مارا جاتا تجھ سے؟” ماموں غصے سے میں یونس کی طرف بڑھے۔ابا جب تک بڑھ کر روکیں تب یونس نے منہ میں نمکین ذائقہ محسوس کیا۔

 

“کیڑے پڑیں تجھے، قبر بھی نصیب نہ ہو، تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔”

 

“بیگم ایسا نہ کہو اور یہ اپنے ماموں نہیں کہتےکہ زور زور سے بولنا شریفوں کو زیب نہیں دیتا۔ جاؤماموں اپنی بہن کو لے جاؤ۔ بلڈپریشر والی دوائی کھلا اور پانی وانی پلا۔ پھر یہاں پانی لے آنا۔”

 

“پانی کیوں ؟اسے روح افزا پلا روح افزا۔”اماں چلانے لگیں تو ابا خود سے پانی لے آئے۔

 

“یہ پانی پی لو بیٹا۔کہیں چوٹ ووٹ تو نہیں لگ گئی؟ لگی ہے۔ اچھا۔سر میں۔ ہاں وہ دیوار سے ٹکر ہوگئی نا۔ اس میں لگ گئی ہوگی۔۔اٹھواٹھو۔ شاباس بیڈ پر لیٹ جاؤ۔سفر کی بھی تھکن ہوگی۔ ارے بھائی جوان بنو۔اٹھو۔بیڈ پر لیٹ جاؤ۔ایک تکیہ کافی ہے؟ اچھا۔ دوسرے کی ضرورت ہو تو وہ بھی لے آؤں؟ نہیں؟ ٹھیک ہے۔ بیٹا دل میں نہ کرنا۔ زینت دل کی بری نہیں۔ زینت یہ شگفتہ کی ماں۔ بس اسے بھی تکلیف ہوئی ہوگی۔ تو اس لیے میں نے روکنا ٹھیک نہیں سمجھا۔ اور باقی میرے بڑے بھائی اور دوسرے تھے شگفتہ کے خالو۔ان لوگوں کا شگفتہ سے رشتے کا خیال تھا۔ بس سمجھو کہ ہم بھی راضی تھے۔ تواس بات سے انہیں دکھ ہوا ہوگا۔ اس لیے انہوں نے تمہارے ساتھ یہ تھوڑا غلط کردیا۔ اصل میں غلطی میری ہے میں شگفتہ کو کہہ دیتا کہ وہ فی الحال تمہیں ساتھ نہ لائے۔ معاف کردینا بیٹا۔ لیکن یہ بھی ہےاچھا ہوا جو تم آگئے۔ سب کا غصہ بھی ہلکا ہوگیا نا۔ تم ٹھیک تو ہونا۔بول ہی نہیں رہے؟”

 

“سر میں درد ہورہا ہے۔” یونس کے الفاظ اور آنسو ساتھ نکلے۔

 

“ارے ارے۔ رو مت بیٹا۔ شاباس شاباس۔ میں ابھی گولی لے آتا ہوں۔ گولی کھالو۔ شاباش۔ اب میری گود میں سر رکھ کر لیٹ جاؤ۔ لیٹ جاؤ ہاں ٹھیک ہے۔ تم بڑے اچھے لڑکے ہو۔ بڑے پیارے۔ تمہارے ساتھ واقعی زیادتی ہوگئی۔ لیکن کبھی کبھی ایسے ہوجاتا ہے بیٹے۔ ہر ایک اپنے دکھ کے آگے مجبور ہوتا ہے اس لیے انہوں نے تمہارےاوپر ہاتھ اٹھا ڈالا۔ رؤو مت۔ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔سر زیادہ درد کر رہا ہے؟ اچھا یہ گولی تھوڑی دیر میں اثر کر لے گی۔ تم ٹھیک ہوجاؤگے۔آیوڈیکس کے مالش بھی بڑا فائدہ دیتی ہے۔میں آیو ڈیکس لے آتا ہوں۔ دیکھو بیٹا اگر مجھے شگفتہ بتا دیتی تو اس تکلیف کی نوبت ہی نہیں آتی۔ میں خود دھوم دھام سے تمہاری شادی کرواتا لیکن کوئی بات نہیں۔ تم کل پرسوں ہی اپنے والدین کو لے آؤ۔رسم دنیا ہے۔تو تمہاری رخصتی کردیتے ہیں۔بڑی دھوم دھام سے۔ہم بھی خوش ہو جائیں گے لوگ بھی خوش۔یہ ضروری تو نہیں۔ لیکن وہ کیا ہے کہ ایسے کرنا پڑتا ہے اور پھر ایک بار تم لوگوں نے اپنی مرضی سے ایک بار ہمارے مرضی سے۔ہاں؟ کیسے؟ ٹھیک ہے نا؟ تمہاری پہلے شادی ہے؟ نہیں نہیں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ واقعی پانچ بچے؟ سچ میں؟ تم نے مشکل بنا دیا۔ مسئلہ تو مشکل ہو گیا۔ ایسے تو شگفتہ کی ماں اور رشتے دار بالکل بھی نہیں مانیں گی۔ تمہاری غلطی نہیں ہے بیٹا۔ تم معافی نہ مانگو۔ اٹھو نہیں۔ اٹھو نہیں۔ لیٹے رہو۔ تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں۔ اب درد کچھ کم ہوا ہے؟ ہوجائے گا۔ ہوجائے گا۔ مالش ہو رہی ہے نا۔تو جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن بات مشکل ہوگئی۔ ہمارے ہاں ایسا ہوتا نہیں ہے۔ رواج ہی نہیں ہے۔ کیا کریں؟ تم نے شگفتہ کو بتایا ہوا ہے؟ اچھا پھر اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا؟ بس بھئی پھر تو بات ہی ختم۔ اصل فیصلہ تم دونوں کا ہے۔ تم دونوں راضی ہو تو دنیا کو بھی راضی ہونا چاہیے لیکن ہمیں ابھی عادت نہیں ہے۔ خیر ہوجائے گی۔ مگر اس بات کا کیا کریں۔ مجھے حل سمجھ نہیں آرہا۔ دیکھو بیٹا۔ اب توایک بات ہی ہوسکتی ہے۔تم دونوں ایک بار پھر بھاگ جاؤ اور کوئی راستہ نہیں۔ آج رات تم دونوں نکل جاؤ۔ میں یہیں ہوں۔ سب سنبھال لوں گا۔ فکر نہ کرو۔ میں بالکل خوشی سے کہہ رہا ہوں۔تم دونوں کی خوشی کی بات ہے۔ ارے ارے اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ یوں نہ کرو بیٹا۔ اچھا نہیں لگتا۔ میرے پاؤں چھوڑدو شاباس۔ تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ کوئی فکر نہ رکھو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ یہیں لیٹے رہو۔ ابھی تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ میں سر دباتا ہوں۔ سوجاؤ شاباس سوجاؤ۔ تم نے آدھی رات کو نکلنا بھی ہے۔ ” پھر دھیرے دھیرے یونس سو گیا۔ پھر اٹھا۔پتا نہیں کس وقت؟ ابا رات گئے کمرے میں اسے اٹھانے گئے تو وہ پھر بھاگ نکلا تھا۔اکیلا۔

Image:JOEY GUIDONE

Categories
نقطۂ نظر

کیا ہم سوشل میڈیا پر تنازعات تلاش کرتے ہیں؟

[blockquote style=”3″]

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ‘یہ ویب سائٹس کس طرح پاکستان اور دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں؟’ اس موضوع پر مضامین کا ایک سلسلہ لالٹین پر شروع کیا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں ان مضامین سے ادب، معاشرے، سیاست، صحافت، تفریح اور دیگر شعبہ ہائے زندگی پر ان ویب سائٹس کے اثرات سمجھنے میں مدد ملے گی۔

[/blockquote]

اس سلسلے کے دیگر مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

معلوم نہیں کوئی بھی چیز وائرل کس طرح ہوتی ہے اور کیوں اتنے بہت سے لوگ کسی ایک بات پر فوراً ٹویٹس اور تبصروں کے خنجر ایک دوسرے پر سونت لیتے ہیں۔ میرے لیے ایک تصویر یا ویڈیو کا ٹرینڈ کرنا اور پر ہونے والے مباحثوں کامعاملہ ایک معمہ ہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ایک تنازعے کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ بھی ایسا جو سنسنی پھیلا دے۔ ہم صرف ان باتوں کو پھیلاتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی ناپسندیدہ شخصیات کو بدنام کر سکیں یا اپنے پسندیدہ لوگوں کو ہر معاملے میں درست ثابت کر سکیں۔ وہ تمام باتیں جن سے ہمارے موقف کی تائید یا تردید نہیں ہوتی ہمارے لیے بے معنی ہیں۔ وہ تمام واقعات جو کسی بھی طرح ہمارے سیاسی رحجانات کی مخالفت یا حمایت نہیں کرتے ہمارے لیے قابل توجہ نہیں۔ ہمیں ہر وقت کچھ ایسا چاہیئے جو متنازع ہو یا جس کے باعث جھگڑا کھڑا ہو سکے، بات توتو میں میں تک پہنچے، گالم گلوچ کی نوبت آئے، پگڑیاں اچھالی جائیں اور ایک دوسرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑی جائے۔

 

ہمیں ہر وقت کچھ ایسا چاہیئے جو متنازع ہو یا جس کے باعث جھگڑا کھڑا ہو سکے، بات توتو میں میں تک پہنچے، گالم گلوچ کی نوبت آئے، پگڑیاں اچھالی جائیں اور ایک دوسرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑی جائے۔
ابھی حال ہی میں دو تین ایسے واقعات پیش آئے جو میرے اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں ملالہ یوسفزئی نے ایک بیان میں یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ ہجرت کر کے آنے والے بچوں کی تعلیم کے لیے عملی اقدامات کریں۔ یہ خبر کہیں بہت سی خبروں میں دبی رہی حالانکہ ملالہ یوسفزئی اور اس کے بیانات ہمارے ہاں ایک ایسا موضوع ہیں جو مذہبی غیر مذہبی، لبرل اشتراکیت پسند، دائیں اور بائیں بازو غرض ہر قسم کے حلقوں کے لیے ایک بہت بڑے تنازعے کا باعث ہے۔ ملالہ کے اس بیان پر اوریا مقبول جان کا کوئی کالم اس کے خلاف نہیں آیا، کسی اینکر پرسن نے اس معاملے پر ملالہ کی نیت پر شبہ کیا۔ اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر کوئی تنازع کھڑا نہیں ہوا۔ اس بات کو بس ایک خبر کے طور پر دیکھا گیا اور بات آگے بڑھ گئی چند فیس بک صفحات نے اس بات پر بھی مخالفین کا منہ چڑانے کی کوشش کی مگر دال نہیں گلی اور سب بھول بھال گئے۔

 

اسی طرح عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے ہندوستانی فوج کے کشمیر میں مظالم پر ہندوستان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا کشمیر کی صورت حال سے موازنہ درست نہیں۔ عاصمہ جہانگیر کو کئی مذہبی فیس بک صفحات ہندوستان کی ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ ان کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ یوٹیوب پر ویڈیوز میں انہیں ملک دشمن ثابت کیا جاتا ہے اور جب بھی وہ فوج پر گرجتی برستی ہیں تو یہ ویڈیوز وائرل ہو جاتی ہیں مگر میں نے کسی مذہب پسند صفحے پر اس بیان کے حوالے سے کچھ نہیں دیکھا۔ لیکن اس کے برعکس جب بھی وہ فوج کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کی جاتی ہے تو عاصمہ جہانگیر کے خلاف وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے کہ الامان۔

 

ماضی قریب میں سامنے آنے والی خبروں پر ہونے والی بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ان خبروں کے متنازع ترین پہلووں پر ہی بات چیت کی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بم دھماکوں اور انسانی سانحات کو بھی تنازعات میں تبدیل کر دیا گیا۔ مرنے والوں کے لاشوں، ان کے عقائد، ان کی بے گناہی اور ان پر سامنے آنے والا ردعمل ہر طرح سے جانبدار ہوتا ہے۔ اکثر فیس بک صفحات پر میں اس قسم کا مواد دیکھتی ہوں کہ اگر یہی بم دھماکہ کسی مسلم ملک میں ہوا ہوتا تو کیا تب بھی لبرلز کا یہی ردعمل ہوتا(مثلاً فرانس میں ہونے والے حملے اور امریکہ میں ایک ہم جنس پرستوں کے کلب پر حملہ)۔ اسی طرح ہم نے فرانس میں برقینی پر پابندی کے معاملے میں ایسی پوسٹس پڑھیں کہ اگر خواتین کے ساتھ فلاں واقعہ کسی مسلم ملک میں ہوا ہوتا تو کیا مذہبی جماعتیں اسی طرح احتجاج کرتیں وغیرہ۔

 

ماضی قریب میں سامنے آنے والی خبروں پر ہونے والی بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ان خبروں کے متنازع ترین پہلووں پر ہی بات چیت کی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بم دھماکوں اور انسانی سانحات کو بھی تنازعات میں تبدیل کر دیا گیا۔
ایسے لگتا ہے جیسے ہر فرد نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک نظریاتی مورچہ سنبھالا ہوا ہے اور وہ کسی بھی طرح کسی ایسی بات کی حمایت یا مخالفت کرنے کو تیار نہیں جس سے اس کے نظریاتی موقف کو گزند پہنچنے کا امکان ہو۔ ہر خبر اور ہر واقعے پر ہمارا ردعمل کبھی بھی متوازن، غیر جانبدارانہ یا عالمانہ نہیں ہوتا۔ بس ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اپنی نظریاتی جنتوں اور جہنموں کا وجود ثابت کیا جائے۔ کوئی یورپ پر آنچ نہیں آنے دیتا، کسی نے سعودی اور ایرانی حکومتوں کے دفاع کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ کچھ فیس بکیے فوج کے دفاع پر کمربستہ ہیں تو کچھ سیاستدانوں کے متوالے ہیں، کچھ کو سب خرابیاں مذہب اور مولوی میں دکھائی دیتی ہیں اور کوئی ہر معاملے میں امریکہ کی مخالفت فرض سمجھتا ہے۔

 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے ہمارے تنازعات کی ٹوہ میں رہنے کے رویے کو پرورش دی ہے۔ ہم جو پہلے ہی ہر چیز میں سازش تلاش کرتے رہے ہیں اور ہر بات کو جھگڑے کی شکل دینے میں مہارت رکھتے ہیں سوشل میڈیا پر جہاں ہمارے لیے اپنی شناخت چھپانا بھی ممکن ہے اور کسی بھی شخص سے براہ راست ٹاکرے کا امکان بھی نہیں وہاں تنازعات کو تصادم کی شکل دینا بے حد آسان ہو گیا ہے۔ ہم ہر معاملے کو ایک تنازعے کی شکل دینا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اگر ایک تنازعہ موجود نہیں ہے تو کھڑا کیا جائے، اگر موجود ہے تو اسے بھڑکایا جائے، اگر تنازع بھڑک رہا ہے تو ہم اس میں اپنے اپنے نظریات کا ایندھن جھونکنے میں لگے رہتے ہیں تاوقتیکہ کہ ہمارے اپنے ہاتھ جھلسنے لگیں۔ یہ الاو تب تک روشن رکھے جاتے ہیں جب تک کہیں کوئی اور چنگاری آن لائن نہ ہو جائے۔

 

ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اگر ایک تنازعہ موجود نہیں ہے تو کھڑا کیا جائے، اگر موجود ہے تو اسے بھڑکایا جائے، اگر تنازع بھڑک رہا ہے تو ہم اس میں اپنے اپنے نظریات کا ایندھن جھونکنے میں لگے رہتے ہیں تاوقتیکہ کہ ہمارے اپنے ہاتھ جھلسنے لگیں۔
تنازعات کی ٹوہ میں رہنے کے اس رحجان نے ہماری عام زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم جو پہلے ہی ہر شخص کے معاملے میں Judgmental تھے ہم نے اب یہ کام پہلے سے کہیں زیادہ شروع کر دیا ہے۔ فلانے کی بات مت سنو وہ لبرال فاشسٹ ہے، اس کی تحریر مت پڑھو کہ وہ بنیاد پرست مولوی ہے، اس کا پیج لائیک مت کرنا وہاں را کے ایجنٹ بیٹھے ہیں، اس کو بلاک کر دو یہ تو ملحد ہو گیا ہے، فلاں یہ ہے اور فلاں وہ ہے کے لیبل لگانا اتنا آسان ہو گیا ہے کہ ہر کسی کی ہر بات متنازع ہو گئی ہے اور ایسے میں کہیں بھی کوئی بھی معقول یا متوازن رائے پڑھنے کو نہیں ملتی۔ موٹروے پولیس کے اہلکار پر فوجی افسران اور جوانوں کے تشدد کی خبر پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہوا وہ اس کی ایک حالیہ مثال ہے۔ سوائے ‘ہم سب’ پر شائع ہونے والی ایک دو تحاریر خصوصاً محترم وجاہت مسعود کی تحریر کے ہر کسی نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے اور سنگ باری شروع ہو گئی۔ پہلے پہل فوج کو بدنام کیا گیا پھر اس پورے واقعے کو ہی فوج کے خلاف پروپیگنڈا قرار دے کر تنازعے کی نذر کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ تخریب پسندی بہت بری طرح سے ہمارے دنیا اور لوگوں سے متعلق تصورات کو بدل رہی ہے۔ اور بدقسمتی سے یہ تبدیلی نہایت منفی ہے۔ اب ہم سوشل میڈیا سے باہر بھی ایسے ہی رویوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سبزی خریدتے ہوئے، بچوں کو سکول چھوڑتے ہوئے، کلاس میں پڑھاتے ہوئے یا اپنے گھر والوں، پڑوسیوں اور کولیگز سے بات کرتے ہوئے ہم صرف تنازعات کو ہوا دیتے رہتے ہیں اور کسی بھی ایسے شخص پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں جو ہم سے مختلف نظریات رکھتا ہو۔ ہمیں ہر وقت ایک تنازعے کی تلاش رہتی ہے اور اگر نیٹ نہ ہو، یا کوئی متنازع چیز ٹرینڈ نہ کر رہی ہو تو ہم عجیب سی craving کا شکار ہو جاتے ہیں کہ بس ابھی کوئی ایسی بات ہو کہ ہم خوب تالیاں پیٹیں، تو تڑاخ کریں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں۔

 

‘تنازع پسندی’ کی یہ انسانی جبلت معلوم نہیں آگے کیا رخ اختیار کرے گی لیکن یہ بات طے ہے کہ اب جنگیں ٹی وی پر نہیں درحقیقت سوشل میڈیا پر لڑی جا رہی ہیں۔ کسی بھی خبر کے نیچے بس پاکستانیوں یا ہندوستانیوں کے کمنٹس پڑھ لیجیے آپ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ تنازعات کس طرح پیدا ہو رہے ہیں۔ کس طرح ہم سب ایک طرف ان تنازعات کا حصہ بننے پر مجبور بھی ہیں اور اپنی ٹویٹس، پوسٹس اور میمز کے ذریعے تنازعات کھڑے کرنے کی دبی دبی خواہش بھی رکھتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

قوم کے منہ پر طمانچہ

youth-yell-featured

جشن آزادی کے موقع پر اس دفعہ کراچی کے عوام میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔ ایک خبر یہ بھی تھی کہ بابائے قوم کے مزار پر دو لاکھ لوگوں نے حاضری دی یہ صرف خبر ہی نہیں بلکہ ایسا نظر بھی آرہا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کراچی کافی عرصہ بعد قدرے پر امن اور پرسکون ہے۔ لیکن جہاں قوم نے جشن آزادی پر یہ جوش و خروش دیکھا وہیں چند اوباشوں نے آزادی کے دن پوری قوم کے منہ پر طمانچہ مارا جس سے نہ صرف پاکستان میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے بلکہ دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی یہ واقعہ سوہان روح ثابت ہوا۔
سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو پوسٹ کی گئی جس کی وجہ سے جشن آزادی کی تمام خوشیاں ماند پڑگئیں۔ ویڈیو میں آزادی کا جشن مناتے ہوئے ایک نوجوان کو دیکھا جاسکتا ہے جس نے جسم کو مقد س قومی پرچم والے لباس سے ڈھانپا ہوا تھا اور سر پر سینگ سجائے ہوئے تھے ۔ یہ نوجوان کراچی کی ایک شاہراہ پر اپنے چند اوباش دوستوں کے ساتھ رقص کررہا تھا کہ اچانک ایک برقع پوش خاتون 14 یا 15 سالہ لڑکے کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار وہاں سے گزر ی۔ اس لڑکے نے مبینہ طور پراسے دبوچ کربری طرح ہراساں کیا۔
یہ نوجوان کراچی کی ایک شاہراہ پر اپنے چند اوباش دوستوں کے ساتھ رقص کررہا تھا کہ اچانک ایک برقع پوش خاتون 14 یا 15 سالہ لڑکے کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار وہاں سے گزر ی۔ اس لڑکے نے مبینہ طور پراسے دبوچ کربری طرح ہراساں کیا۔
اگرچہ اس ویڈیو کی تصدیق آزاد ذرائع سے ممکن نہیں تاہم اس ویڈیو میں دکھایا جانے والا رحجان ہمارے ہاں عام ہے۔ایسپریس ٹریبون میں اپنے مضمون میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ایسے واقعات حقیقت میں بھی رونما ہوتے ہیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا نوجون پاکستانی پرچم میں ملبوس ہے تاہم اس کے طوراطواز کسی طرح شائستہ نہیں۔ ایسے نوجوان مختلف تہواروں پر نہ صرف ریاست کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ پوری قوم کے منہ پر کالک ملنے کا باعث بنتے ہیں لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ انہیں روکنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی۔ روکنا تو کجا بلکہ اس گھناؤنی حرکات کی عکس بندی بھی کی جاتی ہے اور موقعے پر موجود تماش بین داد بھی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیو اگر جعلی بھی ہو تو بھی جس سماجی رویے کی عکاسی کررہی ہے وہ بہر حال اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ جس وقت سوشل میڈیا پر یہ وڈیو پوسٹ ہوئی میں ٹی وی چینلز پر ملی نغمے دیکھ رہا تھا اور وطن عزیز کے لیے ایک نظم لکھنے میں مصروف تھا۔ جیسے ہی مجھے چند دوستوں سے اس ویڈیو کا پتہ لگا تو میں نے سوچا دیکھا جائے کہ اصل ماجرہ ہے کیا اور جب میں یہ ویڈیو دیکھ رہا تھا تو بالکل اسی وقت ٹی وی پر ایک قومی نغمہ آرہا تھا ” ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر ۔۔۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر” اس نغمے کےیہ بول میری آنکھوں کو نم کررہے تھے کہ کہ وہ بچے جن سے قائد مخاطب ہیں وہ سرعام آزادی کے نام پر ہر قاعدے ہر قانون کو توڑنے میں مصروف ہیں وہ کیا خاک اس ملک کو سنبھالیں گے۔
اب اس ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے بعد یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ویڈیو جھوٹی تھی یا سچی جو بات اہم ہے وہ یہ کہ اس سے ہمارا قومی وقار مجروح ہوا اور یہ پوری قوم کے لیے دنیا میں ذلت کا باعث بنی۔
عموماً ہمارے ہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورت اگر باپردہ ہو اور محرم کے ہمراہ ہو تو اسے جنسی ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہ خیال بھی عام ہے کہ ہمارا مذہب ہمارا معاشرہ خواتین کی عزت و احترام کا درس دیتا ہے اور ہمارے ہاں خواتین نسبتاً محفوظ ہیں۔ مگر یہ خاتون با پردہ بھی تھیں اور محرم کے ہمراہ بھی لیکن اس کے باوجود بھی انہیں بری طرح ہراساں کیا گیا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی مقامات پر خواتین کو جس جنسی ہراسانی کا سامنا ہے وہ بے پردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ انہیں ایک جنسی وجود اور کم تر صنف سمجھنے کی وجہ سے ہے۔
جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئی اس پر لوگوں نے مختلف رائے دینا شروع کردی زیادہ تر ا س کی مذمت کی گئی اور اس واقعہ میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ چند کا یہ بھی خیال تھا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور خاتون بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ انہوں نے قطعی مزاحمت نہیں کی کم از کم اس لڑکے کے منہ پر ہی ایک طمانچہ رسید کردیا ہوتا۔ کچھ کے خیال میں وہ برقعہ پوش بھی لڑکا ہی تھا وغیرہ وغیرہ لیکن اب اس ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے بعد یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ویڈیو جھوٹی تھی یا سچی جو بات اہم ہے وہ یہ کہ اس سے ہمارا قومی وقار مجروح ہوا اور پوری قوم کے لیے دنیا میں ذلت کا باعث بنی۔اگر یہ ویڈیو جعلی بھی تھی توبھی اس ویڈیو سے بہرطور اس ذہنیت کی غمازی ہوتی ہے جو تفریح کے نام پر جنسی جرائم کے ارتکاب کو بھی جائز سمجھتی ہے۔ ایسی ویڈیوز بنانا اور انہیں پوسٹ کرنا نہ صرف کردار کشی یا قومی تشخص کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے بلکہ ترغیبات کے زمرے میں آتی ہیں کیونکہ اس پر اگر کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور کوئی سزا نہیں دی جاتی تو یہ عمل باقی لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
جہاں ایک طرف میڈیا پر عورت کو ایک جنسی وجود کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہیں سوشل میڈیا ایسے گمراہ کن تصورات کے فروغ کا کہیں زیادہ آسان ذریعہ بن چکا ہے۔ اس ویڈیو کو مختلف فورمز پر حقیقی واقعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور چوں کہ سوشل میڈیا پر تصدیق کا کوئی ذریعہ موجود نہیں اس لیے اسے حقیقی مان بھی لیا گیا ہے۔ تاہم قطع نظر اس کے کہ یہ واقعہ حقیقی تھا یا نہیں عوامی مقامات پر جنسی ہراسانی ہرگز کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمیشہ صرف حکومت کی جانب دیکھا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر کام حکومت نے نہیں کرنا ہے کچھ ہمیں بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ہمیں بھی اس ملک کو اپنا سمجھنا ہوگا ہمیں بھی اس معاشرے میں تیزی سے پھیلتی ہوئی برائیوں کو روکنا ہوگا ۔ ہر سال 14 اگست کوہی وطن سے محبت کا مظاہرہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ ہر لمحہ وطن کی سالمیت اس کے تقدس کے خلاف ہونے والی ہر بات کو روکنا ہوگا ۔
Categories
اداریہ

زرعی یونیورسٹی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال کرنے پر پابندی

پیر مہر علی شاہ زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بک کے استعمال پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ پابندی بعض طالبات کی طرف سے ساتھی طلبہ کی جانب سے نازیبا تبصروں اور بلااجازت تصاویر اپ لوڈ کرنے کی تحریری شکایات موصول ہونے پر لگائی گئی ہے۔ پابندی کے باعث یونیورسٹی حدود اور اقامت گاہوں میں یونیورسٹی کے وائی فائی کنکشن (Wi-Fi Connection) پر جولائی 2014کے اوائل سے ٹویٹر اور فیس بک تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
“سوشل میڈیا پر چند افراد کی غیر اخلاقی حرکات کو روکنے کے لئے سب کے لئے فیس بک بند کر دیناایسے ہی ہے جیسے حادثات کی وجہ سے سڑکوں پر چلنے پھرنے سے منع کردیا جائے۔”
یونیورسٹی طلبہ نے اس پابندی کو یونیورسٹی انتظامیہ کی اخلاقی پولیس گردی (Moral Policing) قرار دیا ہے۔ “سوشل میڈیا پر چند افراد کی غیر اخلاقی حرکات کو روکنے کے لئے سب کے لئے فیس بک بند کر دیناایسے ہی ہے جیسے حادثات کی وجہ سے سڑکوں پر چلنے پھرنے سے منع کردیا جائے۔”ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بتایا۔گریجویشن کے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بند کرنا ممکن نہیں،”اگر یونیورسٹی کے انٹرنیٹ کنکشن پر فیس بک نہیں چلتی تو کیا ہوا 3G کنکشن یا Proxyاستعمال کرکے ویب سائٹس کھولی جا سکتی ہیں۔ اگر کسی نے کچھ غلط کرنا ہے تو اسے ویب سائٹس بند کرکے نہیں روکا جا سکتا۔ ”
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پابندی کا دفاع کیا اور فیس بک اور ٹویٹر کو طلبہ کی تعلیم کے لئے نقصان دہ قرار دیا ۔ “طلبہ کو اپنا وقت سوشل میڈیا پر ضائع کرنے کی بجائے تعلیم پر صرف کرنا چاہئے۔” یونیورسٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نیٹ ورکنگ ندیم ملک نے بتایا۔ ندیم ملک کے مطابق انہیں بعض طالبات کی جانب سے نامناسب تبصروں اور ہراساں کیے جانے کے کی روک تھام کی درخواست موصول ہوئی تھی جس کے بعد یونیورسٹی اکیڈمک کونسل نے اس پابندی کی 24 جون کو منظوری دی تھی۔
اس سے قبل پنجاب یونیورسٹی میں بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پابندی رہی ہے، اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کی جانب سے گستاخانہ فلم کے باعث یوٹیوب پر لگائے جانے والی پابندی تاحال قائم ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعہ معلومات تک رسائی اور اظہار کے ذرائع پر پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث Proxyویب سائٹس کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
Categories
خصوصی

برازیل کی لاش پر ٹویٹر سیاست

فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز میں جیسے ہی سماجی رابطوں کی مشہور ویب سائٹ ٹویٹر نے ورلڈ کپ کے حوالے خصوصی ضمیے کا آغاز کیا تو دنیا بھر کے ٹویٹر یوزرز کی طرح پاکستان میں بھی بہت سے فٹ بال ماہرین کا “ظہور ” ہوا (اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان کی فٹ با ل ٹیم کی عالمی رینکنگ میں کیا پوزیشن ہے)۔ دنیا بھر میں ٹویٹر کے اس ضمیے کو استعمال کرتے ہوئے اتنی زیادہ ٹویٹس کی گئیں کہ برازیل اور جرمنی کے درمیان کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میچ کے دوران 35.6 ملین ٹویٹس کر کے کسی بھی کھیل کو سب سے زیادہ موضوعِ بحث بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا گیا۔ یقیناََ ان مجموعی ٹویٹس میں ایک حصہ پاکستانی “ماہرین” کی جانب سے بھی ڈالا گیا۔ میچ کے دوران برازیل کی مضحکہ خیز کارکردگی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی صارفین کی جانب پاکستانی کی سیاسی اور سماجی صورتحا ل کی عکاس ٹویٹس بھی کی گئیں۔ ان میں سے چند ایک کو مضمون کا حصہ بنایاجا رہا ہے۔
پاکستانیوں کی جانب سے میچ کے دوران کی جانیوالی ٹویٹس میں بھی پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان ایک دوسرے کے لیڈرز کو نیچا دکھاتے نظر آئے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ نواز کے وزیر پرویز رشید غیروں کی جنگ” میں “اپنوں ” کا نشانہ بنے رہے۔ ان حضرات کا بظاہر برازیل، جرمنی اور فٹ بال میں سے کسی کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ، ہاں اگر بات کرکٹ ، برطانیہ یا کسی اور “دلچسپی کے امور” کی ہوتی تو بات بن سکتی تھی۔ عمران خان کے انتخابات میں “مبینہ” دھاندلی اور پرویز رشید کے ” کرسیوں کی گنتی” کے تاریخی فرمان پاکستانیوں کی زبان زدِ عام نظر آئے۔

برازیلی فٹبال کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی اورجرمن ٹیم کے قابلِ قدر کھیل کا مظاہرہ ہو رہا تھا تو ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں “پینتیس پنکچرز” اور اس سے قبل اپنی “چڑیا” کی وجہ سے مشہور جناب نجم سیٹھی کا دکرِ خیر بھی دیکھنے میں آیا۔

جس طرح بار بار نجم سیٹھی صاحب کو پاکستان کرکٹ بورڈکا چیئرمین تعینات کیا گیا اور شب و روز میں متعددبار ان کی تعیناتی اور برخاستگی کے “فرمان” جاری کیئے گئے تو اگر برازیل کی جگہ پاکستانی ٹیم ہوتی جو کہ حسبِ توقع ایسے جوہر دکھا بھی سکتی تھی، یہ عین ممکن تھا کہ یہ ٹویٹ سچ ثابت ہو کر “چڑیا کی پیش گوئی” کے مرتبے پر فائز ہوتی۔
جب بات کارکردگی کی چل ہی رہی تھی تو کیسے ممکن تھا کہ کسی دل جلے پاکستانی کوپاکستانی حکومت کی کارکردگی کی یاد نہ ستاتی۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ٹویٹ کرنے والے صاحب کی نظر بس وفاقی حکومت پر ہے، کسی صوبائی حکومت کی کارگزاری سے گویا ان کو کوئی سروکار نہیں ۔ خیر یہ ٹویٹر کے صارف کی مرضی ہے کہ جس پر چاہے انگلی اٹھائے اور جس پر چاہے نظرِ کرم کر دے (باقی آپ خوب جانتے ہیں کہ ٹویٹر پر وفاقی حکومت پر نظر رکھنے والے اکثر خود کس پارٹی سے ہوتے ہیں)۔

پاکستانیوں کا ابتداء ہی یہ وتیرہ رہا ہے کہ جب بات ہاتھ سے نکل جائے تو پھر کسی “بات بنانے والے” کو کام سونپ دیا جاتا ہے۔ جیسے لا ہور میں کام “سر انجام” دینے کیلیئے پنجاب پولیس نے “گلو بٹ” کا استعمال کیا اور اس کی بھرپور “محنت ” سے ماڈل ٹاون کا “معرکہ” تکمیل کو پہنچا۔ برازیل کی دورانِ میچ خستہ حالت دیکھ کر کئی پاکستانیوں کے دلوں میں گلو بٹ کی یاد جاگ اٹھی اور گلو بٹ اس “تاریخی میچ” میں اپنا نام زندہ و جاوید کر گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ گلو بٹ تو شایدمیچ میں برازیل کی مدد کو پہنچ جاتا مگر پنجاب پولیس کا کردار کون ادا کرتا؟

برازیل کی توہین آمیز کارکردگی کے دوران پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی بھی “سائبر رپورٹر” کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ انہوں نے میچ کے دوران برازیل کے زمینی حالات سے متعلق “معلومات” دیتے ہوئے فرمایا ” برازیل میں ٹیلی ویژن سیٹ بند کر دئیے گئے” ۔

یہاں وزیرِمملکت یہ بتانا بھول گئے کہ برازیل کے ساتھ بطور اظہارِ یکجہتی پاکستان میں بھی ان کی وزارت نے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ لوگوں کے ٹیلی ویژن سیٹ “بند” کر دئیے تھے۔ بلکہ وہ یہاں برازیل کو واپڈا جیسے “چست اور وقت کے پابند” ادارے کے قیام کا مشورہ بھی دے سکتے تھے ۔
جب میچ میں جرمنی کی طرف سے “برزوکا” کے زریعے گول پر گول داغے جا رہے تھے تو متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کی جانب سے پاکستان تحریک طالبان کے ذکرِ خیر سے معمور ایک ٹویٹ بھی کی گئی۔

پاکستانی طالبان شاید اس ٹویٹ پر بھی ضرور عمل کرتے اگر انہیں خود آج کل شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جانب سے “بزوکا”(بندوق کی ایک قسم) سے داغا نہ جا رہا ہوتا۔ لہذا اس پر یہ مصرع محض صادق ہی آتا ہے ” حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے”۔
عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کسی بھی کھیلنے والی ٹیم کو ہوم گراونڈ کا اضافی فائدہ ہوتا ہے، شاید یہ بات اس مشہور محارے کی بدلی ہوئی شکل ہے ” اپنی گلی میں تو کتا بھی شیر ہوتا ہے”۔ مگر جرمنی کے ہاتھوں برازیل کی بنی حالیہ درگت کے بعد یہ ٹویٹ محض ٹویٹ نہیں رہتی۔

جرمنی کے ہاتھوں برازیل کی عبرتناک شکست کے بعد سوشل میڈیا پر برازیل کے جھنڈے کی ایک تصویر بھی زیرِ گردش نظر آئی جس میں اس سالہ تاریخی ہار کو جھنڈے میں نقش کر دیا گیا ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر آپ کو ہرگز یہ نہیں سوچنا کہ اگر پاکستان برازیل کی جگہ پر ہوتا تو کیا پاکستان کا وقار بھی اسی طرح مجروح کیا جاتا کیونکہ پاکستانی فٹبال ٹیم بہرحال عالمی رینکنگ میں ایک ایسی پوزیشن پر موجود ہے کہ ورلڈکپ کا سیمی فائنل کھیلنا تو درکنار ورلڈکپ کوالیفائینگ راونڈ کھیلنا بھی ایک خواب ہے۔ خیر آپ کو اس بات پر بھی زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم تو پاکستانی ہیں اور ہم کرکٹ سے پیار کرتے ہیں(قومی کھیل بھلے ہمارا ہاکی ہی ہے)۔