Categories
اداریہ

مذہبی جذبات جنید حفیظ کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں: اداریہ

جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ اس ملک میں انسانی زندگی، آزادی اور تحفظ کی جدو جہد کرنے والے ہر فرد کے لیے تکلیف اور صدمے کا باعث ہے۔ جنید حفیظ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کسی ایک شخص کو سزائے موت دینے کا حکم نہیں، یہ اس نقطہ نظر کی تائید ہے کہ مذہب اور نظریے کے نام پر کسی فرد، گروہ یا طبقے کا استحصال ، درست ہے، یہ اس کج فہمی کی تائید ہے جس کے مطابق عقائد کا تقدس انسانی جان سے زیادہ مجترم قرار پاتا ہے، اور یہ تاریخی انسانی میں کیے جانے والے ہر اس قتل کی ایک اورعدالتی تائید ہے جہاں افراد کو ان کے نقطہ نظر ، اظہار خیال یا نظریات کی بنیاد پر واجب القتل قرار دیا گیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک ہجوم یا ایک مذہبی جنونی کے ہاتھوں کسی فرد کے قتل سے کچھ بہت مختلف نہیں قرار دیا جا سکتا، سوائے اس کے کہ عین ممکن ہے کہ اس فیصلے کو قانون کا تحفظ اور گمراہ کن مذہبی جذبات کی تائید حاصل ہے۔

جنید حفیظ کو دی جانے والی سزا ایک فرد کو دی جانے والی سزا نہیں، بلکہ ریاست اور نظام انصاف کے مذہبی گروہوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی فردجرم ہے۔ یہ ہماری ریاست کے اس طرز حکمرانی کا واضح اظہار ہے جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون ہاتھ میں لینے کوسزا دینے کی بجائے ان کی منشاء کے مطابق کمزور طبقات کو قربان کرنا درست خیال کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق یہ بحث کہ آیا جنید حفیظ اس جرم کے مرتکب ہوئے یا نہیں جس کے لیے انہیں سزائے موت جیسی ظالمانہ اور غیر انسانی سزا دی گئی، یا کیا انہیں دفاع کا مناسب حق دیا گیا یا نہیں اور کیا ان کے خلاف کافی شواہد موجود تھے۔۔۔ اور کیا جو واقعات یا بیانات ان سے منسوب کیے گئے اگر وہ واقعتاً ان سے سرزد ہوئے بھی تو کیا وہ توہین مذہب و رسالت کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں اس پر آنے والے دنوں میں اعلی عدلیہ اور سماجی طبقات ہر جگہ بحث کی جائے گی تاہم اس بحث سے قطع نظر اس وقت یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے بھی اور اگر مذہبی طبقات کے دباو میں اسے لائق تعزیر جرم خیال کر بھی لیا جائے تو بھی جنید حفیظ سزائے موت کے مستحق نہیں۔

اس موقع پر ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جانا ضروری ہے کہ کیا کسی بھی مقدس شخصیت، نظریے یا مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو ایک شخص کی زندگی سے زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے؟ کیا کسی بھی مقدس شخصیت، نظریے یا مذہب پر تنقید، طنز یا توہین کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر یہ جرم ہے بھی تو کیا یہ اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کے لیے سزائے موت کو لازم قرار دیا جائے؟ مقدس شخصیات ، مذہب اور نظریات کا احترام کیا جاسکتا ہے مگر انہیں تنقیدبالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا، ان پر طنز کو نامناسب خیال کیا جا سکتا ہے مگر جرم نہیں قرار دیا جا سکتا، ان کی توہین کو غلط خیال کیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو مہذب انداز میں منع کیا جا سکتا ہے مگر اسے جرم قرار دے کر سزائے موت جیسی ظالمانہ سزا سنایا جانا نہ صرف غلط ہے بلکہ صریحاً ظلم ہے۔

عدالتی فیصلہ واضح ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ مذہبی جذبات ریاست اور عدالت کے لیے انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہیں، قانون شکن ہجوموں کا خوف آزادی اظہار رائے کا تحفظ یقینی بنانے کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے اور ریاست اور عدالتیں اپنی کمزوری کے باعث امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مذہبی جنونیوں کے آستانوں پر جنید حفیظ جیسوں کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی۔

Categories
اداریہ

مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ

بہاولپور میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پرصحابہ سے متعلق ‘توہین آمیز’ مواد پوسٹ کرنے کے ‘جرم’ میں سزائے موت سنائی ہے۔ مقدس شخصیات، صحائف اور عقائد کی توہین جیسے معمولی واقعات کی دہشت گردی کی عدالتوں میں سماعت اور اس پر پھانسی جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا مذہب کے نام پر جبر اور ظلم کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔یہ مقدمہ اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا اس لیے زیادہ خوفناک اور غیر انسانی ہے کیوں کہ یہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار خیال پر پاکستان میں دی جانے والی پہلی ایسی سزا ہے۔ اس مقدمے کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت بجائے خود ایک ناانصافی ہے۔ اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی، آزادانہ اظہار رائے پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔

توہین مذہب و رسالت کی کسی متفقہ تعریف کی عدم موجودگی میں کسی بھی واقعے کو سزائے موت کا موجب جرم قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں انسانی آزادیوں، حقوق اور زندگی کی اہمیت چند مذہبی لوگوں کے عقائد اور جذبات سے بھی ارزاں ہے۔ یہ قانون ریاستی اور معاشرتی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کی پامالیوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر ریاستی اور معاشرتی جبر پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کی ایسی پر تشدد اور غیر جمہوری روایات کو جنم دے رہا ہے جو کبھی مشتعل ہجوم کی صورت میں سرعام قتل و غارت کے بہیمانہ واقعات کے لیے جواز بخشتی ہیں تو کبھی عدالتوں میں غیر انسانی فیصلوں اور سزاؤں کی وجہ۔

توہین مذہب و رسالت کے غیر انسانی قانون کے تحت دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت اور موت کی سزا جبر کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ دور غیر مسلم اور غیر سنی اقلیتوں کے لیے بالخصوص اور دیگر مکاتب فکر کے افراد کے لیے بالعموم ابتلاء اور آزمائش کا ایک پرآشوب دور ثابت ہو گا۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر روا رکھے جانے والے ریاستی اور غیر ریاستی تشدد کی لپیٹ میں آزادی اظہار رائے، اختلاف رائے اور انسانی آزادیاں بھی آئیں گی اور بہت جلد یہ تشدد مزید غیر منصفانہ قوانین، مزید غیر انسانی سزاؤں اور مزید بہیمانہ غارت گری کو فروغ دے گا۔ عدم برداشت اور تشدد کی یہ صورت طالبان یا داعش سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔ پاکستان متعدد فرقوں اور عقائد کے حامل افراد کا ملک ہے ایسے میں ایک فرقے کے لیے جو توہین مذہب، توہین رسالت یا توہین صحابہ ہے وہ دوسرے فرقوں کے لیے تاریخی حقائق اور عین ایمان ہے۔ توہین مذہب و رسالت کی تعریف کا یہی اختلاف ہر فرد کو جان لینے کا خدائی اختیار دینے کا باعث بنے گا۔

مقدس شخصیات کے مرتبے اور تاریخی حیثیت کے حوالے سے اختلافات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، اور کسی بھی فرد کو مقدس شخصیات کی تاریخی حیثیت پر سوال اٹھانے یا کسی دوسرے فرقے میں ان شخصیات کی حیثیت سے مختلف رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کو توہین مذہب و رسالت قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ باور کرنا بھی ضروری ہے کہ واقعتاً کوئی فرد اگر توہین کا مرتکب ہوا بھی ہے تو بھی اس معمولی جرم کو انسداددہشت گردی کی عدالتوں میں سننے اور اس کے لیے سزائے موت جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا تجویز کرنے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔
Categories
اداریہ

انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ

مردان میں مشعل خان کا بہیمانہ قتل محض ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ یہ مذہب کی ایسی تشریحات کا انسانیت سوز اظہار ہے جو عقیدے کو انسانیت سے مقدم قرار دیتی ہیں۔ مذہبی طبقات کی جانب سے حرمت رسول اور تقدیس مذہب کو انسانی حقوق اور آزادیوں سے زیادہ اہم ثابت کرنے کا رحجان پاکستان میں خونریزی کا باعث بن رہا ہے، ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی ایک جیتے جاگتے فرد کو اپنے عقیدے کی بنیاد پر قتل کرنے کا جواز بخشنے کی بنیادی وجہ ہے۔ حرمت رسول و مذہب کی یہ گمراہ کن تعبیریں پاکستانی معاشرے کو ایک ایسے تابوت میں تبدیل کر رہی ہیں جہاں مذہبی معاملات میں اختلاف کرنے، تنقید کرنے اور سوال کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے، ہمارا معاشرہ ایک ایسی کال کوٹھڑی کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کوئی بھی کسی کو بھی محض توہین مذہب و رسالت کے الزام کے تحت نہ صرف قتل کر سکتا ہے بلکہ غازی اور شہید کا مرتبہ بھی پا سکتا ہے۔

توہین مذہب و رسالت کے نام پر جہاں ایک جانب ممتاز قادریوں کے جتھے بستیاں جلا رہے ہیں وہیں ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس ضمن میں قانون سازی سے گریزاں ہیں۔ریاست اور اس کے ادارے نہ صرف انسانی جان کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں بلکہ وہ مذہب کی بنیاد پر خونریزی پر ابھارنے والوں کا سدباب کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ “گستاخانہ مواد” کی بناء پر گرفتاریوں، مقدمات اور پابندیوں کے نفاذ کی کوششوں سے “گستاخ رسول کی ایک سزا سر تن سے جدا” کے نعرے لگانے والوکی بیخ کنی نہیں کی جا سکی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں جب کسی جتھے نے توہین مذہب و رسالت کا ہتھیار اٹھا کر گلے کاٹے ہوں، سلمان تاثیر، شمع اور شہزاد سمیت کتنے ہی لوگ توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل کیے جا چکے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ مذہبی تشریحات میں بنیادی اصلاحات کی متقاضی بھی۔ اسلام خواہ کتنا ہی سچا مذہب ہو، پیغمبر اسلام خواہ کتنے ہی محترم ہوں لیکن اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت، تقدس اور اہمیت کسی بھی طرح ایک انسان کی زندگی سے زیادہ محترم، مقدس اور اہم نہیں۔ مذہب، مقدس شخصیات اور مذہبی کتب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس بناء پر انسانی آزادیوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام پر تنقید، اعتراض اور طنز اشتعال انگیز ہو سکتے ہیں لیکن انہیں جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توہین مذہب اور گستاخی رسول گناہ یا جرم ہو سکتے ہیں لیکن اس کی بناء پر کسی کو قتل کرنے کا جواز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

مردان میں طلبہ کے ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک طالب علم کی بہیمانہ ہلاکت کو کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قطع نظر اس کے کہ مشعل خان یا ایسے ہی دوسرے لوگ توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے یا نہیں لیکن یہ ضرور طے ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور امردان کا مشتعل ہجوم مجرم ہیں اور سخت سے سخت سزا کے مستحق بھی۔ لیکن محض چند قاتلوں کو سزا دے کر توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت روکا نہیں جا سکتا، اس مقصد کے لیے مذہب پر تنقید، اعتراض اور طنز کے حق کو تسلیم کرنا اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ضروری ہے۔ حرمت رسول پر جان قربان کرنے اور جان لینے کا درس دینے والے مبلغین کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ان کا مذہب اور ان کے پیغمبر کسی بھی طرح تنقید، اعتراض اور طنز سے بالاتر نہیں، انہیں یہ ماننا ہو گا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے تقدس کا تحفظ اپنی جگہ لیکن اس بناء پر کسی کی جان لینے کا اختیار انہیں نہیں، انہیں یہ باور کرنا ہو گا کہ ان کے مذہبی جذبات کا مجروح ہونا کسی جتھے کو مشتعل کر کے کسی کی جان لینے کا پروانہ نہیں۔

توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت کی روک تھام کے لیے عموماً ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں مذہبی معاملات میں اختلاف رائے اور اظہار رائے پر پابندیاں عائد کرنے کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، مذہبی طبقات کی جانب سے احترام مذہب و رسول کو یقینی بنانے کے لیے ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی کی جاتی ہے، تاہم ریاست اور مذہبی طبقات پابندیوں یا قتل و غارت کے ذریعے اختلاف رائے اور اظہار رائے کی آزادی سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

Image: Newsweek

Categories
نقطۂ نظر

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

youth-yell-featuredایک ایسا معاشرہ جہاں جذباتی باتوں، فرسودہ سوچوں اور جوشیلے نعروں پر لوگ آنکھیں بند کر کے ایمان لے آتے ہیں وہاں عقل و دانش رکھنے افراد کا گزارا مشکل ہوتا ہے اور اگر ایسے حضرات باہمت ہوں اور جہلاء کے گروہ کے سامنے جھکنے سے انکار دیں تو انہیں اسی انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس کا سامنا سلمان تاثیر کو کرنا پڑا۔ سابق گورنر پنجاب نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے بے بنیاد الزام سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے توہین مذہب اور توہین رسالت کے موجودہ قانون پر تنقید کی تھی، جس کے بعد پانچ برس قبل ان کی حفاظت پر مامور ایلیٹ فورس کے سپاہی ممتاز قادری نے ان کی جان لے لی۔ سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟ کیا وہ اس مذہبی ‘استحقاق’ کی بنیاد پرجب چاہیں گے، جیسی چاہیں گے مذہب کی تشریح کریں گے اور لوگوں کی جان ہتھیا لیں گے؟ یا ریاست اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے گی؟ کیا توہین مذہب کے الزامات کے تحت مشتعل ہجوم اپنے تئیں قانون کو ہاتھ میں لے کر کارروائی کرتے رہیں گے یا قانون کے اطلاق اور جرم کے تعین کا عدالتی فریضہ ریاست سرانجام دے گی؟ قانون کا اطلاق، جرم کی تفتیش اور سزا ریاست کا کام ہے نا کہ مسلح جتھوں یا شدت پسند جماعتوں کا۔

 

سلمان تاثیر تو چلے گئے لیکن ایک بحث طلب سوال ضرور چھوڑ گئے کہ کیا توہین کے فتوے جاری کرنے کا ٹھیکہ مولویوں اور مذہبی علماء کے پاس ہی رہے گا؟
ممتاز قادری کی سزائے موت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سلمان تاثیر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر تنقید اور بہتری کی گنجائش کی بات کرنا ہرگز توہین کے زمرے میں نہیں آتا۔ وہ گروہ اور افراد جو ممتاز قادری جیسے مجرم کو ہیرو بنائے بیٹھے ہیں وہ درحقیقت آنکھیں بند کر کے مذہبی چورن فروشوں کے پھیلائے پراپیگنڈا کا شکار نظر آتے ہیں۔ ممتاز قادری ایک نیم خواندہ اور دل شکستہ شخص تھا جو ایک لڑکی کی محبت میں دل گرفتہ قاری حنیف کی نفرت انگیز تقریر سے متاثر ہو کر یہ قدم اٹھا بیٹھا۔ مذہبی صنعت کے ان داتا اور ٹھیکیدار اس بہیمانہ قتل پر اسے ایک ہیرو کا درجہ دے رہے ہیں۔

 

آپ اگر سلمان تاثیر سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ممتاز قادری جیسے قاتل کو ہیرو نہیں سمجھتے تو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی آپ کو مسلمان نہ ہونے کے سرٹیفیکس دینے لگیں گے۔ آپ کو بھی دھمکیوں اور تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ممتاز قادری کے مداحین کی اکثریت نہ تو اس مقدمے کی تفصیلات سے واقف ہے اور نہ توہین رسالت کے قانون پر سلمان تاثیر کی تنقید سے۔ یہ خواتین و حضرات ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کے قتل کو درست قرار دے کر اپنا ذہنی بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

سلمان تاثیر پاکستان میں متوسط طبقے کے کسی بھی شخص کے لیے عام زندگی میں ترقی کی ایک روشن مثال ہیں۔ جنہوں نے ایک معمولی سی اکاؤنٹ فرم سے کیرئر کا آغاز کر کے اسے ملک کی سب سے بڑی کمپنی بنا ڈالا اور سیاست میں آنے کے بعد اس کی ملکیت سے دستبردار بھی ہو گئے۔ دوسری جانب قاری حنیف اور ممتاز قادری جیسے لوگ ہیں جنہوں نے سوائے نفرتیں پھیلانے اور قتل وغارت گری کے اس معاشرے کو کچھ نہیں دیا۔ سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔ ایسے افراد کے لیے مذہب کوئی مقدس شے نہیں بلکہ روپیہ کمانے کا ایک ذریعہ اور تجارت ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے ابھی معاشرے میں بے حد کام کی ضرورت ہے۔ اس سوچ کا ماخذ مذہبی اجارہ دار ہیں جو محض چند روپوں اور مذہب پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے مذہبی قوانین کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ طبقہ ماضی میں حدود کے قوانین کا بھی اسی طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا رہا ہے جیسے اب توہین مذہب کے قوانین کا کیا جارہا ہے۔

 

سلمان تاثیر کا قاتل صرف ممتاز قادری نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ اور اس سوچ کو پھیلانے سب افراد بھی ہیں جو مذہب کو جذبات اور اندھی عقیدت کے ساتھ نتھی کر کے اسے ایک “صنعت” کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔
جیل سے اپنی سزائے موت کے خلاف رحم کی درخواستیں کرتا ممتاز قادری خود سلمان تاثیر کے بے گناہ ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، لیکن قاری حنیف جس کی مشتعل تقریر سے یہ دل سوز واقعہ پیش آیا تھا ابھی بھی آزادی سے گھومتا پھرتا ہے، بلکہ مختلف ٹی وی چینلز پر آ کر مذہب پر بحث کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب آسیہ بی بی جس کے حق میں سلمان تاثیر مرحوم نے آواز بلند کی تھی آج بھی جیل کی کال کوٹھڑی میں سڑ رہی ہے۔ انسانیت کی توہین ہر لمحہ اور ملک کے ہر گوشے میں ہوتی ہے لیکن اس پر بولنے والا کوئی نہیں۔ جس معاشرے میں مذہبی مباحث کا مقصد مذہب کے نام پر دوسروں کو کافر قرار دینا، جہاد اور قتال پر اکسانا اور جنت میں مباشرت کے لذائذ کی تبلیغ ہو وہاں مثبت مذہبی فکر کی افزائش کیوں کر ممکن ہے؟ وہاں تعمیری دماغ تو پنپنے سے رہے، ایڈیسن یا سٹیفن ہاکنگ جیسے لوگ تو سامنے آنے سے رہے البتہ ممتاز قادریوں اور قاری حنیف جیسے جہلاء کے لیے یہ معاشرے بے حد زرخیز ہوتے ہیں۔ سلمان تاثیر نے ایسے ہی طبقات کے اندھے مذہبی جنون کے خلاف آواز بلند کی تھی اور ایسی ہی سوچ کے خاتمے کے لیے قدم اٹھایا تھا۔

 

ممتاز قادری اور قاری حنیف جیسے لوگ اس کھیل میں محض مہروں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گھناونا کھیل کھیلنے والے مذہبی شدت پسند گروہ طاقت کے ایوانوں میں اپنے تعلقات کے بل پر اس مکروہ کاروبار کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔ سوال کی نعمت سے محروم کروڑوں بنجر بنجر ذہن اور اندھے عقیدت مند وہ کندھے ہیں جن پر چڑھ کر یہ اپنا اقتدار قائم رکھتے ہیں۔ یوں شدت پسندی اور اقلیتوں کو بزور طاقت دبانے کا یہ گھناؤنا کھیل جاری و ساری رہتا ہے۔ مذاہب انسانوں کو زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اتارے گئے تھے نا کہ ان کی زندگی اجیرن کرنے یا ختم کرنے۔ سلمان تاثیر کی بے گناہی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ثابت کر دی لیکن وہ تمام لوگ جو اپنی اپنی سوچوں میں ممتاز قادری اور قاری حنیف ہیں وہ نہ تو کسی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی قانون کو، اور یہ سوچ اس معاشرے کے لیے سب سے خطرناک سوچ ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جو فکر ممتاز قادری جیسے لوگوں کو مذہب کے نام پر جان لینے پر اکساتی ہے وہ آج کروڑوں لوگوں کی ذہن سازی کر رہی ہے۔ معاشرے میں اس سوچ کا پروان چڑھنا ایک مستقل خطرہ ہے۔ خوف کی وجہ سے اس سوچ کے تدارک کے لیے شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر کے سوا ریاست اور سیاسی جماعتوں کی جانب سےکبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس سوچ کے حامل افراد کو جدید دنیا سے روشناس کرانے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ یہی ذہن جو اس شدت پسندی کے ہاتھوں بنجر اور ویران ہو رہے ہیں انہیں اذہان کی مدد سے ہم اس شدت پسندی کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں اس تعصب، بنیاد پرستی اور نرگسیت کی دلدل سے نکال سکتے ہیں اور مذہبی چورن فروشوں کا گھناونا کاروبار بھی بند کر سکتے ہیں۔ کم سے کم آنے والی نسلوں تک تو یہ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے کہ زندگی میں سب کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے اور زندگی کا مقصد کسی بھی مذہب کے نام پر کسی کو مارنا یا خود مرنا نہیں۔ شدت پسندی کے خمیر سے گُندھے معاشرے میں کس طرح سے اپنے آپ کو مذہبی منافرت سے بچا کر خود کو ایک تعمیر پسند شہری بنانا ہے، اس کا ادراک بھی آنے والی نسلوں کو کرانا بے حد ضروری ہے۔

 

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشدد اور عدم برداشت کو ناپسند فرماتے تھے۔ توہین مذہب کے موجودہ قوانین اور ان کے تحت سزا کے غیرمنصفانہ ہونے کی بحث اپنی جگہ لیکن اس قانون کے غلط استعمال اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے خلاف ہم سب کو متفق ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی جواز کے تحت قانون ہاتھ میں لینے یا کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

 

سلمان تاثیر نے اس قانون پر تنقید کی تھی جسے ایک آمر نے اقلیتوں اور مخالفین کو دبانے کے لیے ترمیم کے ساتھ آئین پاکستان میں شامل کیا تھا اب ہمیں اس قانون پر سنجیدہ بحث کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے غلط استعمال کا تدارک کیا جا سکے۔ سلمان تاثیر جیسے لوگ کسی مخالفت کی پرواہ کرتے ہی کب ہیں ان جیسے لوگ اپنے ضمیر کے قیدی ہوتے ہیں جو بلا خوف وخطر سچائی کے لیے سب کچھ داو پر لگا دیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی اکثریت ممتاز قادری جیسے افراد کی یا تو حامی ہے، یا ہمدرد یا خاموش ہے، معدودے چند سلمان تاثیر جیسے بے باک افراد ہی سامنے آ کر ظلم کو ظلم قرار دینے کی جرات کرتے ہیں۔ لیکن اکثریت کا عقیدہ،اکثریت کی رائے اور اکثریت کا چلن دیکھ کر سچ کی نشاندہی سے گریز کسی طرح درست نہیں برٹرینڈ رسل کے بقول:

“The fact that an opinion has been widely held is no evidence whatever that it is not utterly absurd; indeed in view of the silliness of the majority of mankind, a widely spread belief is more likely to be foolish than sensible.”

لیکن ایک سچ کی خاطر سر کٹانے والے جتنے بھی کم ہو ان کی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔

 

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
(فیض احمد فیض)

Image: Umair Vahidy