Categories
گفتگو

سوشل میڈیا پر لکھاری ہی مدیر اور ناشر ہے: زاہد امروز

[blockquote style=”3″]

گزشتہ پندرہ سالوں میں اظہار کے نئے ذرائع مثلاً ادبی ویب سائٹس، بلاگز، آن لائن صفحات ، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ نے نئے ادبی اور سماجی رجحانات کو جنم دیا ہے۔ ان سے قاری، مدیر اور لکھاری کے رشتے میں ایک تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ خصوصاً اردو شاعروں اور ادیبو ں میں سوشل میڈیا کا حد درجہ استعمال کیا اثرات مرتب کر رہا ہے ، اس پر شائد ہی بات ہوئی ہے۔ کیا یہ اردو شعر و ادب کی ترویج کے لیے مثبت رجحان ہے اور اس سے ادب کا دائرہ صحیح معنوں میں وسیع ہو رہا ہے؟ کیا سوشل میڈیا اور سماجی ویب سائٹس پرنٹ میڈیا کا نعم البدل ہو سکتی ہیں؟ عالمی اد ب میں ان ٹیکنالوجیکل رجحانات کو کیسے دیکھا جا رہا ہے ۔مزید یہ کہ سوشل میڈیا کا صارف لامحالہ کارپوریٹ سرمایہ داری نظام کا آلہ کار بن جاتا ہے ۔ اردو ادیب اس عمل کو کیسے دیکھتا ہے ؟ اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے ’لالٹین ‘نے زاہد امروز سے ایک گفتگو کی جسے ہم یہاں شائع کر رہے ہیں۔ امید ہے یہ گفتگو سوشل میڈیا پر ہمہ وقت موجود رہنے والے شاعروں اور ادیبوں کو سوچنے کا موقع دے گی۔

[/blockquote]

س: آپ سوشل میڈیا کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ ایک سنجیدہ ادبی فورم ہے اورکسی لکھنے والے کا ادبی معیار متعین کر سکتا ہے؟

میں ان سوالوں کے روایتی جوابات دینے کی بجائے (جن میں کسی جج سا فیصلہ کن انداز شامل ہوتا ہے) محض اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔ ان میں کہیں کہیں میری خود کلامی بھی در آئے گی اور کہیں کہیں نئے سوالات بھی کیونکہ ابھی اس بارے میں کوئی تاریخی اورحتمی رائے قایم کرنا قبل از وقت ہے۔ سوشل میڈیا کا بطور ایک متبادل یا متوازی عوامی فورم ، کم و پیش ایک دہائی کا قصہ ہے۔اگرچہ سوشل میڈیاایک دہائی میں ہی ہماری زندگیوں کا اہم حصہ بن چکا ہے ۔ہم ایک زندگی حقیقت میں جیتے ہیں اور دوسری سوشل میڈیا پر۔ اظہار کے (ادبی اور زیادہ تر غیر ادبی ) اس نئے فورم کے ہمہ وقت وجود سے ہماری زندگیوں میں کیا تبدیلی آرہی ہے۔ اس کو سمجھنا ضروری ہے۔آپ کے سوال کے تناظر میں ہم سوشل میڈیا کے استعمال کو دودرجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک بطور متبادل ادبی فورم اور دوسرا بطور تفریحی فورم۔ ہم ان دونوں پہلوؤں پر بات کریں گے۔اردو میں سوشل میڈیا کا مطلب ہوا سماجی مواصلاتی ذریعہ۔ یعنی ایک ایسا نظام جو سماجی اور عوامی استعمال میں ہو اور انہیں کے کنٹرول میں ہو۔ اور جب ایک بڑی عوامی تعداداسے استعمال کرنے لگے، تو اشتہاروں کے ذریعے پیسہ کمایا جائے۔ مواصلاتی ٹیکنالوجی کے عوامی دسترس میں آنے سے رابطوں کا جو نیا رستہ قایم ہوا اس کاابتدائی کاروباری مقصد یہ تھا کہ عوام بطور صارف اسے استعمال کرے ۔یعنی یہ اخبار اور ٹی وی کا نعم البدل بن جائے۔ اسے ہر صارف اپنی دلچسپی کے مطابق استعمال کرے۔ اپنی پسند ،نا پسند کی بنیاد پر اپنی ترجیحات کے مواد تک رسائی حاصل کرے ، اپنے دوستوں اور ہم خیال لوگوں تک پہنچ سکے اور مشترکہ دلچسپیوں کی گروہ بندی کرے جس میں عموماً عام فہم تفریحی قسم کی عوامی دلچسپیاں، انٹرٹینمنٹ اور سماجی مشاہدات جیسا مواد ہو۔ کیونکہ اکثریت اسی طرح کی زندگی گزارتی ہے۔ اور اسی سے حظ اٹھاتی ہے۔

س: اظہار کے اس نئے ذرائع سے ادبی اور علمی عمل میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے؟

ایک بڑی تبدیلی تو یہی پیدا ہوئی کہ بطور متوازی ذریعہِ اظہار ادبی عمل کی ریاضیاتی مساوات بدل گئی ۔یعنی سوشل میڈیا پر لکھاری خود مدیر ہے اور خود ہی ناشر ہے ۔ وہ قاری تک رسائی میں اب کسی کا محتاج نہیں۔ لیکن اس وصال کی عمر محدود ہے۔ میرے نزدیک سوشل میڈیا ایک چوک ہے جہاں ہر کسی کے پاس ایک سی رسائی ہے۔ ہر کوئی بات کر رہا ہے۔ ہر کوئی سن رہا ہے اور ہر کوئی بول رہا ہے۔ ایک جمہوریت ہے جس میں لکھاری اور قاری ایک ہو گئے ہیں۔ آپ بیک وقت لکھاری بھی ہیں اور قاری بھی ۔یعنی آپ خود ہی مداری ہیں۔خود تماش بین بھی ہیں اورخود ہی تماشہ بھی۔ یہ عمل اب دو طرفہ ہے جس میں خیال ، اس کے اظہار اور اشاعت میں وقت کی تاخیر اور انتظار نہیں۔

سوشل میڈیا سے دوسری اہم تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ اس (ورچوئل ورلڈ)میں مرکز اور مضافات کی تفریق ختم ہو گئی۔ آ پ لندن میں رہتے ہوں، چیچہ وطنی میں بیٹھے ہوں، یاتھر پارکر کے کسی دور افتادہ گاؤں میں، آپ یہاں سٹلائٹ کے آ فاقی چشم و گوش کے ذریعے ہمہ وقت دیکھے سنے جا سکتے ہیں۔ یہ کثیر مرکزیت اپنی ظاہریت میں جمہوری ہے۔اپنی تصویر و تحریر کی ترسیل کے لیے آپ کوکسی اخبار کی ضرورت نہیں، کسی ادبی رسالے کے مدیر سے رسمی تعلق رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد کے ’’لکی ایرانی لٹریری فیسٹول‘‘ کے منتظمین کی عدم توجہ پر کڑھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی فیس بک وال، آپ کا ٹویٹ اور انسٹاگرام سپیس آپ کا اخبار بن گیا ہے جس میں آپ جو چاہیں نشر کرتے ہیں اورہمہ وقت اپنے قارئین کی پسند و ناپسند پر آنکھ رکھے ہوئے ہیں۔

س: لیکن اس مکمل خود مختاری سے کچھ سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ہمہ وقت موجودگی کیا واقعی حقیقت کا نعم البدل ہے اور بظاہراظہار و ترسیل کی اس انقلابی نوعیت کی تبدیلی کیا بڑا ادیب پیدا کر سکتی ہے؟ کیا سوشل میڈیا ادبی سرگرمی کے کوئی منفی پہلو بھی ہیں ؟

یہ ہمارا اردو ادیب ابھی نہیں سوچ رہا۔اکثر میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا کس نوعیت کا میڈیم ہے۔ میں اب تک یہ سمجھا ہوں کہ سوشل میڈیا اگرچہ ایک ورچوئل ورلڈ ہے، لیکن یہ اسی مادی ، حقیقی دنیا کا ایک پرتو ہے۔ جس طرح سایہ اپنا وجود نہیں رکھتا ۔ یہ کسی مادی شے کا روشنی کے راستے میں آجانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا حقیقی زندگی کی پرچھائیں ہے۔ جس طرح کسی شے کا سایہ محض سیاہ رنگ کا بے خال و خد حاشیہ ہوتا ہے اسی طرح آپ کا سوشل میڈیا پروفائیل آپ کی اصل شخصیت کا بے خال و خد سایہ ہوتا ہے۔ اس میں آپ اپنی تمام کمزوریاں، خرابیاں ، محرومیاں اور بے بسیاں چھپا لیتے ہیں۔جس طرح سب کے سائے ایک جیسے ہوتے ہیں، اسی طرح آپ اپنی’ سوشل میڈیا شخصیت ‘کچھ بھی پیش کر سکتے ہیں۔جس طرح آپ کو ادبی حلقوں میں، گلیوں بازاروں میں تماشہ گر قسم کے لوگ ملتے ہیں ، سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی لوگ موجود ہیں۔فرق محض میڈیم کا ہے۔ہر شخص اپنا اظہار چاہتا ہے۔ ہر گلی محلے میں لکھنے والے ہوتے ہیں ۔پرنٹ میڈیا میں قاری اور لکھاری کے درمیان مدیر، ناشراور مارکیٹ بطور فلٹر کام کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ فلٹر ہٹ جاتا ہے۔ کسی نظر انداز کیے گئے اچھے لکھاری کے لیے یہ ایک نعمت ہے ۔ یہاں وہ دوسروں تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے بغیر بھی اچھا لکھنے والا زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔سوشل میڈیا کا منفی پہلو یہ ہے اس سے وہ سارا کچرا قاری تک پہنچتا ہے جو ادبی اشاعتی عمل میں فلٹر ہوتا ہے۔

س: اگر یہ حقیقت کا پرتو ہے توپھر روایتی ادبی فورم اورسوشل میڈیا بطور ادبی فورم میں کیا فرق ہے؟

ہر میڈیم یا فورم کی ایک نفسیات اورایک مزاج ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیاصحافت کی ایک شاخ ہے۔ لیکن اس میں اور روایتی صحافت میں فرق یہ ہے کہ اس میں ہر صارف صحافی و مدیر خود ہے۔ تحریر اور قاری کے اس برا ہ راست تعامل سے کچھ نئے پہلو نمایا ں ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لکھاری خود ہی کاتب ، خود پروف ریڈر، خود مدیر اور خود ہی ناشر بن گیا۔ وہ جو بھی خیال حرف کرے، سونا بنائے یا مٹی، اس کا انحصار کسی’ دوسرے ‘پر نہیں رہا۔ وہ اپنے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے قاری تک رسائی میں خود مختار ہو گیاہے۔ یوں کہئے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا عوامی تھڑا ہے جس میں لکھاری اور قاری کے وصال میں کوئی رابطہ کار نہیں،کوئی مدیر نہیں، کوئی ناشر نہیں، معیار کا کوئی معروضی پیمانہ نہیں۔ اس سے لکھنے والے کو مفت اور مکمل آزادی مل گئی ۔ایسی آزادی جس میں وقت کی بھی قید نہیں۔

س:ہم دیکھتے ہیں کہ اردو کا شاعر و ادیب طبقہ فیس بک یا سماجی رابطے کی دوسری ویب سائٹس پر ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں کہ اس سے ادب کی عوام تک فوری رسائی ہو رہی ہے۔اور آپ کے کلام کی زیادہ پذیرائی ہو سکتی ہے؟

دیکھو، جس طرح گوئیّے کو سنوئیّاچاہئے ہوتا ہے اور مداری کوتماش بین ، اسی طرح لکھاری کو قاری چاہیے ہوتا ہے ۔ آپ صدر، وزیراعظم (بادشاہ) کے دربار میں گائیں ، صوفی کے دربار پر، کوکا کولا کے دربار میں یا گھر کی بیٹھک میں موبائل پراپنا گانا بمعہ وڈیو ریکارڈ کر کے آن لائن ( فیس بک چوک ) میں رکھ دیں، سب اظہار کے راستے ہیں۔لوگ آپ کو دیکھیں گے ، سنیں گے، ایک دوسرے کی نقالی کریں گے اور داد دیں گے۔ اسی طرح، شاعر ادیب لوگ خواہ ایوانِ صدر میں مشاعرے پڑھیں ، ٹی وی چینلوں کے عید شوز میں کلام آزمائی کریں ، سنجیدہ ادبی رسائل میں تحریریں چھپوائیں یا فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام پر لکھاری بمعہ مدیری بمعہ اشتہاری کی سہ جہتی ڈیوٹی کریں۔ سب اظہار کے راستے ہیں۔ (یہاں اشتہاری سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی تشہیر آ پ کرے) ۔ویسے تو اخباروں اور ادبی رسائل میں بھی روزانہ ڈھیروں کچرا شائع ہوتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر لکھاری کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ (اپنی فیس بک وال پر بطور سٹیٹس ) بیک وقت لکھ بھی رہا ہے اور شائع بھی رہا ہے۔ یعنی لکھاری کے لیے اپنی تحریر کی نظرِثانی بھی بے معنی بات ہے اور بلا وجہ کی تاخیر اور رکاوٹ ہے۔لکھار ی اور قاری کے درمیان یہ نیا تعلق مثبت ہے یا منفی؟ میرے نزدیک یہ مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔اس کا انحصار تحریر کے تناظر (context) پر ہے۔

جہاں تک ادب کی ترسیل اور پذیرائی کی بات ہے، کم سہی لیکن سنجیدہ پڑھنے والے آپ کو کتابیں پڑھتے ہی نظر آئیں گے۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کو پڑھنے والے (کچھ سنجیدہ اورزیادہ تر غیر سنجیدہ)،آپ کی یک حرفی تعریف کرنے والے ا ور فوراً فین بن جانے والے لوگ مل جائیں گے۔آپ سوشل میڈیا پر بے حد مشہور ہیں یا بالکل مشہور نہیں ہیں، آپ کو ہزاروں لائک ملتے ہیں یا سو پچاس، ایک بات طے ہے کہ اس سے آپ کی ادبی و علمی قد و قامت اور معیارِ تحریر متعین نہیں ہو سکتیں۔ادب کے لیے سنجیدہ فورم کون سا ہے اور غیر سنجیدہ کون سا، اس کا فیصلہ ہم ابھی نہیں کرتے۔البتہ میرے نزدیک ایک سنجیدہ لکھنے والے کو جن باتوں اور حرکات سے دور رہنا چاہئے ، سوشل میڈیا انہیں حرکات کے بدولت چلتا ہے۔

س: ان حرکات سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا معروف ادب اور سنجیدہ ادب دو مختلف چیزیں ہیں؟کتنے ہی اچھے شاعرا ور فنکار سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں؟

یہ اس اختیار و رسائی کا مثبت پہلو ہے کہ کثیر مرکزیت سے کئی نئے در کھلے ہیں۔ لیکن یہاں ہم سوشل میڈیا بطور متبادل ادبی فورم کی بات کر رہے ہیں۔نئے شاعر ادیب تو سوشل میڈیا سے پہلے بھی متعارف ہوتے رہے ہیں اور اس کے لیے سوشل میڈیا کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ یہ بڑا ادب ہے اور یہ بڑا ادب نہیں ہے اس کا پیمانہ یہ ہرگز نہیں کہ کسی تحریر یا وڈیو یا فلم کو کتنے لائکس ملے ہیں یا اسے کتنے لوگوں نے دیکھا ہے۔ تخلیقی عمل اس کے بالکل بر عکس ہے۔ کسی بھی تحریر (یہاں تحریر سے مراد textہے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر حسی تجربہ ایک تحریر/ textہے)کے راتوں رات مشہور ہو جانے کے لیے ضروری ہے کہ یہ عام فہم یعنی familiarہو، پہلے سے آپ کے مشاہدے میں ہو اور اُس میں کوئی اجنبیت نہ ہو۔ آپ اسے سرسری دیکھیں اور سوچے بغیر اسے سمجھ لیں۔ ایسی تحریر جو آپ کے تصوارت اور عقائد کو چیلنج نہ کرے اور کسی الجھن میں نہ ڈالے ۔ ایسی ادبی تحریریں کلیشے سے بھری ہوتی ہیں۔ اور کلیشے ادبی تحریر کی موت ہے۔ بڑا ادب کسی نئے تجربے کے بیان میں آنے سے یا کسی عام تجربے سے نیابیانیہ تشکیل دینے سے پیدا ہوتاہے ۔ اس میں ایک پر اسراریت، ایک اجنبیت ہوتی ہے۔ وہ آپ کو چیلنچ کرتا ہے اور مروّجہ نقطہ نظر کو بدل دیتا ہے۔سوشل میڈیا اس کا متحمل نہیں۔ بڑے ادب کی اس اجنبیت اور غیر مانوسیت ) (Unfamiliarity کوسمجھنے کے لیے وقت درکا ر ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پر کسی تحریر یا پوسٹ کی عمر کچھ لمحے یا زیادہ سے زیادہ کچھ گھنٹے ہوتی ہے ۔اس کے بعد آنکھ اوجھل ، پہاڑ اوجھل ۔ آپ کو کچھ سنجیدہ قارئین ضرور مل جائیں گے۔سو پچاس اچھے پڑھنے والے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں۔ آپ خود دیکھیں۔ جن ادبی تحریروں کو سوشل میڈیا پرہزاروں لاکھوں لوگ لائک کرتے ہیں ان میں شاز و نادر ہی کوئی اچھی تحریر ہوتی ہے ورنہ وہی ادبی جگالی ۔ چونکہ یہاں آپ خود ہی سارے شعبوں پر ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ آپ جتنی خود تشہیری کر یں گے اتنے مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جستجو تخلیق کا ر کو تماشہ گر بنا دیتی ہے۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ تخلیقی عمل کے لیے جو بے فکری درکار ہوتی ہے وہ آلودہ ہو جاتی ہے۔ آپ ہمہ وقت لائکس اور کمنٹس گنتے رہتے ہیں۔ یہ گویا ہوا کے گولے جمع کرنے کے مترادف ہے۔

س: یعنی آپ کے نزدیک سوشل میڈیا پر تحریر شائع کرنا برانہیں ،اس سے اپنا ادبی قد متعین کرنا خام خیالی ہے؟

ہاں ، آپ کہہ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ایک نئی طرز کا شاعر ،ادیب پیدا کیا ہے ۔ یہ جھٹ لکھی، پٹ اپ لوڈ کی ، قسم کی عام فہم، مختصر، جذباتی نوعیت کی تحریریں جو انسٹاگرام، فیس بک، ٹویٹر پر وائرل ہو جاتی ہیں ،خیال اور کرافٹ کی سطح پر اکثر کوئی نیا تجربہ پیش نہیں کرتیں۔ یہ اردو شاعروں ادیبو ں کی تحریریں ہوں یا دوسری زبانوں میں لکھنے والوں کی، اس کے اصول و قوائدایک سے ہیں۔ قاری مصروف ہے۔ وہ میٹرو میں سفر کر رہا ہے،اسٹیشن پر بس کا انتظار کر رہا ہے، ٹائلٹ میں بیٹھا ہے، وہ دماغ سے نہیں پڑھ رہا اپنے سمارٹ فون کی سکرین پر رکھے انگوٹھے سے پڑھ رہا ہے۔ اس کا انگوٹھا اس کے دماغ سے زیادہ تیز چلتا ہے۔ بوریت کے خلا کو وہ کسی غزل یا مختصر نظم پڑھ کر پُر تو کر رہا ہے اور ممکن ہے یہ اس پر اثر انداز بھی ہو، لیکن اس دورانیے میں وہ ادبی تحریر سے ، کسی وڈیو یا تصویر سے لمحاتی تفریح سے زیادہ توقع نہیں رکھتا ۔ آپ سوشل میڈیا مواد کا تجزیہ کریں تو لاکھوں، کروڑوں لائکس حاصل کرنے والی پوسٹ عموماً موبائل سے بنائی گئی کسی ڈکیتی، کسی ظلم ، زیادتی، یا کسی راہ گیر سے پیش آئے واقع کی کوئی سنسی خیزوڈیو ہو گی۔کسی ایکٹر، ایکٹرس کا کوئی پرائیویٹ بیڈ روم منظر یا کسی عام لڑکی کا سطحی جنسی اشتہا دیتا ڈانس کلپ ہو گا۔ سماجی میڈیا اپنی فطرت میں ایک ورچوئل بازار ہے جو ہماری حقیقی زندگی کی نفسیات کی پرچھائیں ہے۔ اس ورچوئل بازار میں لوگ تفریح کے لیے نکلتے ہیں۔ ان کے پاس سنجیدہ مواد پڑھنے کا وقت نہیں۔ سنجیدہ ادب کے لیے آپ مخصوص ادبی ویب سائٹس پر جاناہو گا۔مثلاًآن لائن اردو میڈیا میں ریختہ، ادبی دنیا ، لالٹین یا عالمی سطح پر معروف ادبی رسالوں کی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں کسی تحریر کو مخصوص ادبی تناظر میں پیش کیاجاتا ہے۔سوشل میڈیا چونکہ ایک صحافیانہ فورم ہے اسے پروپیگنڈے کے لیے ، سیاسی اور تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، سنجیدہ ادبی سرگرمی کے لیے یہ غیر مناسب ہے۔

س: اگر آپ کسی بڑے شاعر ادیب کی شاعری یا فن پارے سوشل میڈیا پر پیش کریں تو آپ کے مطابق لوگ اسے کس طرح پڑھتے ہیں؟

مثلاً آپ بابا فریدیا غالب کو آج زندہ کر لیجئے اور ان کے سوشل میڈیا پروفائل بنادیں ۔ جہاں وہ فیس بکی ادیبوں شاعروں کی طرح روزانہ صبح شام اپنی تحریریں اپ لوڈکریں۔ ہر صبح ناشتے کے بعد اپنا ایک شعر یا اشلوک زنانہ تصویر کا پس منظر لگا کر انسٹاگرام یا فیس بک پر اپ لوڈ کریں،اس کی تشہر کریں ۔ لوگوں کواپنی تحریروں پر کمنٹس کرنے کے لیے اِن باکس میں ذاتی پیغامات اور سفارشیں بھیجیں ، تو کیا لوگ ان کے اشلوک یا اشعار ایک سرسری پڑھت میں سمجھ لیں گے؟ سمجھیں گے نہیں ، مروتاً لائک کر کے گزر جائیں گے۔ کسی تحریراور اس کے لکھاری کا عظیم ہونااس کی شہرت میں نہیں اس کے باطن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ دراصل کوئی بھی شے /تحریر بذاتِ خود مکمل معنی نہیں رکھتی اس کا تنا ظر اسے معنی و مفہوم فراہم کرتا ہے۔ اگر اس سوال کو ایک اور طرح سے دیکھیں تو میں کہوں گا کہ تحریر کا ایک تناظر اس کاذریعہِ اشاعت بھی ہے۔ آپ ایک تحریر اخبار میں شائع کریں، اسی کو ایک معیاری ادبی جریدے میں شائع کریں (جس کی مقبولیت مخصوص اور سخت ادبی معیار کے تحت ہو) ۔اسی تحریر کو بطور آن لائن بلاگ کے شائع کریں اور پھر اسی تحریر کو فیس بک پروفائل دیوار پربطور سٹیٹس لگا دیں۔ ایک ہی تحریر کے مختلف ذریعہِ اشاعت کے باعث اس کا تناظر بدل جائے گا اور پڑھنے والااس اشاعتی ذرائع/ میڈیم سے منسلک اپنی پیش بین جانب دار ی (Pre-conceived bias) یا میڈیم کے مزاج کے اثرکے تحت مختلف رائے قائم کرے گا۔ ہر تحریر اپنے مناسب ذریعہِ اشاعت کی محتاج ہے تاکہ وہ صحیح تناظر میں اصل قارئین تک پہنچ سکے۔اس کا مطلب ہوا کہ کسی تحریر کا کوئی حتمی تناظر نہیں ہوتا۔قاری اور تحریر ہر تعامل میں اپنی قدر اور معنی خود متعین کرتے ہیں۔ تحریر اور قاری کے درمیان رابطہ کسی بھی ذریعے سے ہواس کی کوئی معروضی اور حتمی شکل طے کرنا مشکل ہے۔

س: سوشل میڈیا کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ لامحالہ ادیب کو سرمایہ داری نظام کا صارف بنا دیتا ہے ، یہ کیسے کام کرتا ہے ۔ اگر یہ ادب کی خدمت نہیں کر رہا تو کیا اس سے کنارہ کشی ممکن ہے؟

آپ دیکھیں تو ان سماجی میڈیا ویب سائٹس کے خالقین اور منتظمین کے ذاتی پروفائل اکاونٹ قدرے غیر متحرک ہیں۔ وہ صبح شام فیس بک کے عادی اردو شاعروں ،ادیبوں کی طرح آن لائن نہیں رہتے۔ وجہ جاننے کے لیے اس وِرچوئل بازار کی نفسیات اور کاروباری حکمتِ عملی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج دنیاکے امیر ترین سرمایہ دارلوگ انہیں ورچوئل بازاروں مثلاً فیس بک، ٹویٹر ، انسٹاگرام کے مالکان ہیں۔ کروڑوں، اربوں صارفین کے مفت استعمال کے لیے دستیاب ویب سائٹس اتنا پیسہ کہاں سے کماتی ہیں؟در اصل یہ منافع آپ سے دوہری شکل میں وصول کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس کے نفسیاتی پہلو پر بات کرتے ہیں۔مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹس بنانے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسانی شعور اور نفسیات کیسے کام کرتی ہے۔ انسانی دماغ میں ایک مرکب ڈوپامائن (Dopamine)پایا جاتا ہے جس کے ذریعے نیوران کے درمیان عصبی ترسیل ہوتی ہے۔ ڈوپامائن مرکب ہمیں کسی چیز کے عادی ہوجانے میں ، لذت دینے والی اشیا کی طرف بار بار مائل ہونے میں ، کسی نشے سے لطف حاصل کرنے میں بنیادی محرک کاکردار ادا کرتا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی چیز کا عادی ہوتا ہے۔ کسی عادت کا پیدا ہونا اصل میں تو کسی ایسے کام کو شعوری یا غیر شعوری طور پر بار بار کرنے کا نام ہے جو آپ کو لطیف احساس دے اور آپ مزہ محسوس کریں، یہ کوئی بھی فعل ہو سکتا ہو۔ خواہ کسی نشے کی لت ہو، کوئی گیم ہو ،جنسی فعل ہو، سسپنس ڈائجسٹ ہوں یا کوئی اور عادت،آپ کے دماغ میں اس عمل سے ڈوپامائن لیول کا بڑھنا ایک لطیف احساس دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی ایسے اصولوں پر ڈیزائن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس ویب سائٹ کے استعمال کے دوران صارف کے دماغ میں ڈوپامائن لیول کو اشتہا ملے۔نفسیاتی سطح پر ٹیکنالوجی کی لت بھی نشے کی لت جیسا اثر کرتی ہے۔ اسی لیے پچھلے پندرہ سالوں میں موبائل فون میسجنگ، سوشل میڈیا پر اجنبی روابط، ٹنڈر، فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام جیسی ویب سائٹس استعمال کرتے ہوئے آپ کو بہت سا دلچسپی کا سامان ملتا ہے۔ دوسرے لوگوں کی شیئر کی ہوئی معلومات کے اس سمندر میں آپ بے سمت تیراکی (surfing)کرتے ہوئے دوستوں کی تصاویر دیکھتے ہیں۔ان کے روز مرہ کی سرگرمیوں سے واقف ہوتے ہیں، اجنبیوں کی پروفائل ٹٹولتے ہیں، کوئی ہنسی مزاق کی وڈیو دیکھتے ہیں۔ یہاں وہاں سے کوئی شعر، کوئی غزل ، نظم پڑ ھتے ہیں، لائکس ، کمنٹ کرتے جاتے ہیں۔اسی طرح گھنٹوں گزر جائیں گے اور آپ لطف لیں گے۔ لیکن اس وقت گزاری کے بعد آپ کا ذہن ایک خالی پن محسوس کرے گا۔آپ کئی لوگوں کے شیئر کیے ہوئے تجربات کو سکرین پر دیکھیں گے لیکن خود کسی تجربے سے نہیں گزریں گے۔آپ اس مغالطے میں مبتلا رہتے ہیں کہ آپ سکرین پر ہونے والی سرگرمی کا حصہ ہیں۔ لیکن حقیقت اور آپ کے درمیان ایک متحرک سکرین حائل ہے اورآپ اپنے کمرے میں بند محض ساکن تماش بین بنے بیٹھے ہیں۔ آپ لطف اندوز ضرور ہوتے ہیں لیکن کچھ نیا نہیں سیکھتے۔یہی لطیف کیفیت کسی نشے کے بعد ہوتی ہے۔ ان عادتوں اور تجربوں کی مماثلت کے پیچھے ڈوپامائن کام کر رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ کی اس وقت گزاری (یا آپ کی محدود ادبی سرگرمیوں کا) کا سوشل میڈیا مالکان کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ جب آپ سوشل میڈیا پر اپنا اکاؤنٹ بناتے ہیں ۔آپ اس سرمایہ داری منڈی میں ایک صارف بن جاتے ہیں۔ آپ اس بازار میں آجاتے ہیں جہاں ہر نوع کی اجناس موجود ہیں۔ سب کی طرح آپ بھی کچھ اپ لوڈ، کچھ شیئر کرتے ہیں۔ اور آپ کے پاس بھی اوروں کی طرح اپنی تصاویر، روز مرّہ سرگرمیوں کا حال، کچھ چبائے ہوئے سطحی سے خیالات اور دن بھر ارد گرد سے سنے ہوئے سیاسی تجزیئے وغیرہ ہوتے ہیں جو آپ اپنی آواز، اپنی شناخت پیدا کرنے کے لیے، اپنے وجود کی تصدیق کے لیے اور دوسروں کی نظر میں نمایاں ہونے کے لیے شیئر کرتے ہیں۔ یہ سب اس ورچوئل منڈی کا مال بن جاتا ہے۔جسے آپ کے جاننے والے ، دوست احباب اور’ اجنبی دوست ‘ صرف کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ دوسروں کا لایا ہوا ما ل/ مواد صرف کرتے ہیں۔ آپ جتنے کلک کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر اتنا ٹریفک بڑھتا ہے ۔ کروڑوں، اربوں کی تعداد میں جمع شدہ عالمی بھیڑکو سرمایہ داری کمپنیاں اشتہارات کی صورت میں اپنی مصنوعات متعارف کرواتی ہیں۔ ان اشتہاروں سے سوشل میڈیا مالکان پیسہ کماتے ہیں۔ آپ اپنی ساری نقل و حرکت، پسند ناپسند، اچھائی برائی، سوشل میڈیا پربراہ راست یا بلاواسطہ شیئر کرتے ہیں جسے کمپیوٹرز کے مصنوعی ذہانت پر مبنی حسابی کلیے (Algorithms) مسلسل جمع کرتے ہیں اور آپ کی نفسیات کا تجزیہ کرکے آپ کی دلچسپی کی خبریں اور صارفی مصنوعات کے اشتہارات آپ کے سامنے بار بار پیش کرتے ہیں۔یعنی ایک طرف توآپ صارف بن گئے۔ دوسرا آپ سوشل میڈیا پر جتتا زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان صارفی ویب سائٹس کے لیے مفت ملازمت کرتے ہیں۔اس سے بڑھ کر آپ ان ویب سائٹس کے استعمال کے عادی ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب وہاں آپ کی ایک شخصیت بن چکی ہے۔ آپ کے احباب ہیں، سننے ، پڑھنے والے ہیں ۔ اجنبی دوست آپ کے سٹیٹس لائک کرتے ہیں۔ کمنٹ کرتے ہیں۔ گو یا آپ ایک مشہور شخصیت celebrity) (بن جاتے ہیں۔حقیقی زندگی میں کوئی آپ کی رائے، آپ کی بات کو اہمیت نہ بھی دیتا ہو، یہاں آپ کو سو پچاس لائک مل جاتے ہیں اور آپ کی انا کی تسکین ہوتی ہے۔ یہی احساس آپ کا ڈوپامائن لیول بڑھاتا ہے جو نشے کی لت کی ایک صورت ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارا اردوشاعر ادیب ، دانش ور طبقہ ہمہ وقت فیس بک پر موجود رہتا ہے۔ یا تو وہ اس کے منفی اثرات سے غافل ہے یا اس لت کا شکار ہوچکا ہے جو اُسے سوائے وقتی لذت کے اور کچھ پیش نہیں کر رہی۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے میںیہی کہوں گا کہ سوچنے سمجھنے والے شاعروں ادیبوں کو سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے۔دوستوں سے رابطے ، ادبی سرگرمیوں کی معلومات اور سیاسی اور سماجی پروپیگنڈے کی حد تک تو درست ہے لیکن ہر روز اپنی صبحیں اور شامیں اس لت کی نذر کرنا مناسب نہیں۔ بڑا ادب پیدا کرنے کے لیے گہرا تفکر اور بے فکری درکارہوتی ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا کے شور سے دور خاموشی کو محسوس کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنے باطن کی جنبشوں کو محسوس کر سکیں جو گہری اور خوبصورت ہیں۔

Categories
اداریہ

مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ

بہاولپور میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پرصحابہ سے متعلق ‘توہین آمیز’ مواد پوسٹ کرنے کے ‘جرم’ میں سزائے موت سنائی ہے۔ مقدس شخصیات، صحائف اور عقائد کی توہین جیسے معمولی واقعات کی دہشت گردی کی عدالتوں میں سماعت اور اس پر پھانسی جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا مذہب کے نام پر جبر اور ظلم کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔یہ مقدمہ اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا اس لیے زیادہ خوفناک اور غیر انسانی ہے کیوں کہ یہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار خیال پر پاکستان میں دی جانے والی پہلی ایسی سزا ہے۔ اس مقدمے کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت بجائے خود ایک ناانصافی ہے۔ اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی، آزادانہ اظہار رائے پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔

توہین مذہب و رسالت کی کسی متفقہ تعریف کی عدم موجودگی میں کسی بھی واقعے کو سزائے موت کا موجب جرم قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں انسانی آزادیوں، حقوق اور زندگی کی اہمیت چند مذہبی لوگوں کے عقائد اور جذبات سے بھی ارزاں ہے۔ یہ قانون ریاستی اور معاشرتی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کی پامالیوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر ریاستی اور معاشرتی جبر پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کی ایسی پر تشدد اور غیر جمہوری روایات کو جنم دے رہا ہے جو کبھی مشتعل ہجوم کی صورت میں سرعام قتل و غارت کے بہیمانہ واقعات کے لیے جواز بخشتی ہیں تو کبھی عدالتوں میں غیر انسانی فیصلوں اور سزاؤں کی وجہ۔

توہین مذہب و رسالت کے غیر انسانی قانون کے تحت دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت اور موت کی سزا جبر کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ دور غیر مسلم اور غیر سنی اقلیتوں کے لیے بالخصوص اور دیگر مکاتب فکر کے افراد کے لیے بالعموم ابتلاء اور آزمائش کا ایک پرآشوب دور ثابت ہو گا۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر روا رکھے جانے والے ریاستی اور غیر ریاستی تشدد کی لپیٹ میں آزادی اظہار رائے، اختلاف رائے اور انسانی آزادیاں بھی آئیں گی اور بہت جلد یہ تشدد مزید غیر منصفانہ قوانین، مزید غیر انسانی سزاؤں اور مزید بہیمانہ غارت گری کو فروغ دے گا۔ عدم برداشت اور تشدد کی یہ صورت طالبان یا داعش سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔ پاکستان متعدد فرقوں اور عقائد کے حامل افراد کا ملک ہے ایسے میں ایک فرقے کے لیے جو توہین مذہب، توہین رسالت یا توہین صحابہ ہے وہ دوسرے فرقوں کے لیے تاریخی حقائق اور عین ایمان ہے۔ توہین مذہب و رسالت کی تعریف کا یہی اختلاف ہر فرد کو جان لینے کا خدائی اختیار دینے کا باعث بنے گا۔

مقدس شخصیات کے مرتبے اور تاریخی حیثیت کے حوالے سے اختلافات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، اور کسی بھی فرد کو مقدس شخصیات کی تاریخی حیثیت پر سوال اٹھانے یا کسی دوسرے فرقے میں ان شخصیات کی حیثیت سے مختلف رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کو توہین مذہب و رسالت قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ باور کرنا بھی ضروری ہے کہ واقعتاً کوئی فرد اگر توہین کا مرتکب ہوا بھی ہے تو بھی اس معمولی جرم کو انسداددہشت گردی کی عدالتوں میں سننے اور اس کے لیے سزائے موت جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا تجویز کرنے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

The Future of Faith is the Story of Social Media

The world is clearly becoming more spiritual than religious. In an increasingly more inter-connected, information saturated society where the natural human ideals of freedom and pluralism are becoming central to the tenants of governance across the globe, identities are becoming more and more fluid. Faith just like social media profiles has become the corner stone of 21st century identity and this post-modern social order has created a conscience against the institutional nature of religion. The beauty and success of social media platforms, is the freedom, ease, volatility and mutation of expression and ideas which circulate the online ether – change and re-change with time. In this world – the institutional framework of religion – is finding itself cornered in fewer and fewer undemocratic societal settings – be it a country, a community or a family unit.

Those who consider faith to the inextricably linked to identity, are likely to cut the institutional middle men and rituals, to achieve a personalized and subjective relationship with a higher power.

When Rupert Murdoch bought the social networking site MySpace for $580 million in 2005 to expand his media empire to cyberspace, he tested his model of content commoditization and regulation. MySpace soon tanked and Murdoch was forced to offload the site for less than half the money he had spent. This in my opinion is the future of religion, signs of which are already evident across the world. Those who consider faith to the inextricably linked to identity, are likely to cut the institutional middle men and rituals, to achieve a personalized and subjective relationship with a higher power. On the other hand, those who live in a system where institutional faith or singular ideologies are entrenched in the political system – are likely to be attracted to ‘unorganized’ faith narratives with the ‘self’ at the center – like Zen, Buddhism, Shintoism and Hinduism amongst others. The simple social evolution of mankind in an environment of expressional freedom and volatile organization is working to make faith a more salient tie-up of just Man and God – high on self-symbolism, but a gradual loss of focus on regiments, lineage or attendance at places of worship.

Earlier, religious sites like churches, temples and mosques used to be the prime centers of social and intellectual authority. With the advent of cyberspace and the liberation of opinion – intellectual authority has become more and more fractured, and so has man’s ability to understand God. In that scenario, faith will gradually mold and re-mold around core humanist beliefs, re-enforced by widely accepted social justice norms – yet expression will become highly subjective down to the very individual. 21st century piety will be completely disconnected from a traditional line of faith diktats. Social groups who have traditionally been kept away from certain faith systems will find themselves in not only a more favorable environment, but will have the opportunity, even the legitimacy to negotiate and re-negotiate their concept of god and religion. Even as there is already a fledgling yet sustained movement towards spiritual plurality, traditionalists and extremists are hitting back with seclusion, persecution politics, paranoia and even violence. But they have already lost the ideological battle. Their role is already being seen as medieval and outdated, a hindrance to more universal and individualistic spiritual identities, where there are no pre-requisite rules or parameters to adopt faith.

With the advent of cyberspace and the liberation of opinion – intellectual authority has become more and more fractured, and so has man’s ability to understand God.

One of the passages in the Gospel of Saint Thomas, a Coptic Christian text with the words of Jesus says – “The Kingdom is inside of you, and it is outside of you. Split a piece of wood, and I am there. Lift up
the stone, and you will find Me”. This is the core belief of every faith, even if some are clearer than others. We are shifting, although not harmoniously, to adopt these tenets in our spiritual experience and become the sole negotiators of our relationship with a higher power. The progress is natural, and reflects our basic human trait to seek ideological liberation.

Categories
اداریہ

یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی ؛ ساتھی طالبات کی تصاویر بلا اجازت پوسٹ کرنے پر طالب علم گرفتار

ملزم ابوبکر منہاس پولیس کی تحویل میں

ملزم ابوبکر منہاس پولیس کی تحویل میں

 

فیس بک پر ساتھی طالبات کی تصاویر بلا اجازت پوسٹ کرنے اور ذاتی زندگی میں مداخلت کے باعث یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی ) لاہورکے طالب علم ابوبکر منہاس کو گزشتہ روز گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سافٹ وئیر انجینئرنگ کے طالب علم ابوبکر فیس بک پر یونیورسٹی کے طلبہ کے لئے ایک گروپ چلانے کا الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جہاں طالبات کی تصاویر بلاجازت پوسٹ کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔
گروپ کا پتہ یو ایم ٹی کی سوشل میڈیا ٹیم نے چلایا ، جس کے بعد ابوبکر منہاس کو ٹریس کیا گیا ۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق ابوبکر کو آن لائن غیر اخلاقی حرکات پر یونیورسٹی سے خارج کر نے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملزم یونیورسٹی کے نام پر دو غیر قانونی پیجز (Pages) چلا رہا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے شریک طلبہ کے خلاف کاروائی کا اعلان بھی کیا ہے۔تاہم یونیورسٹی انتظامیہ اور مقامی پولیس اہلکاروں نے گرفتار طالب علم سے متعلق مقدمہ درج کئے جانے اور حراست سے متعلق تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔
“ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا اور ہماری تصاویر نہ جانے کن کن پیجز (Pages)اور گروپس میں شئیر کر دی جاتی ہیں۔اکثر ہمارے کلاس فیلوز یا دوست ہی ہماری تصاویر کے بلااجازت پوسٹ کئے جانے کی وجہ بنتے ہیں۔ ” یونیورسٹی آف میجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔
“کیمرہ فونز اور فوٹو شاپ کے ساتھ آپ کسی کو بھی بدنام کرنے کے لئے کچھ بھی بنا کو پوسٹ کر سکتے ہیں۔ کسی بھی شخص خصوصاً لڑکیوں کے لئے اپنی ذاتی زندگی کا تحفظ ناممکن ہوچکا ہے۔ سائبر قوانین کی تشکیل نفاذ جلد نہ کیا گیا تو سوشل میڈیا سائٹس بھی یو ٹیوب کی طرح متنازعہ ہو سکتی ہیں۔”مختلف یونیورسٹیز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مضمون پڑھانے والے طیب علی نے لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
پاکستان میں سائبر قوانین کی عدم موجودگی کے باعث سائبر جرائم کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ فیس بک پر بلااجازت تصاویر پوسٹ کرنے، اکاونٹ ہیک کرنے، فحش تصاویر اور ای میلز بھیجنے جیسے جرائم پر سزادینے کے لئے قوانین نہ ہونے سے خواتین سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اپنے اصل نام اور تصویر سے اکاونٹ بنانے سے گریز کرتی ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

Social Media for Change

Umair Vahidy

socialmediaforchange

The dynamism of our current world is perhaps best exemplified by the Internet, with its seemingly unlimited potential to present the interactions, thoughts, ideas, movements and marvels that this world and its people offer. The ‘cyber world’ – as it has come to be known – is one of the greatest inventions of our time, where a kind of parallel digital universe has been created to co-exist alongside our physical world.

And with this has come a fundamental shift in the way we communicate. Not only have ssocial networking sites, blogs, podcasts, wikis, video sharing sites, web applications and their like transformed our communication landscape, but are now increasingly impacting the social and political dynamics of our countries. In 2009, a series of mass protests in the Eastern European country of Moldova – coordinated through text message, Facebook and Twitter – resulted in a loss of power for the ruling Communist Party. And more recently we have seen how the uprisings in the Middle East have been propelled by social media interaction and youth mobilization. The really amazing thing is that nobody involved in the development of these various social media applications could have foreseen how these inventions would go on to become such groundbreaking tools for social change.

Authoritarian governments repress communication among their citizens because they fear (correctly) that a well-informed and better-coordinated public would constrain their ability to act with impunity and without oversight.

Authoritarian governments repress communication among their citizens because they fear (correctly) that a well-informed and better-coordinated public would constrain their ability to act with impunity and without oversight. But while such regimes are busy trying to curb access to these tools, their influence around the world is only getting stronger. China leads the pack when it comes to restricting the functions of online media through massive firewalls and intrusive software. The Chinese government employs thousands of paid commentators who pose as ordinary web users and infiltrate chat rooms and other online forums to counter any criticism of the government. Known derisively as “50 Cent Party” members (as they are usually paid 50 Chinese “cents” per post) these ‘shapers’ of public opinion sustain the government’s online propaganda efforts.

However, the huge numbers of people recruited into the “50 Cent Party” actually bear testament to the power of social media, showing us that even in the face of strict censorship policies, the government has been unable to put an embargo on online media and has instead had to resort to using the same social media platform to counter criticism. Therefore, regardless of the most stringent of censorship policies, the expression of honest public opinion on the internet cannot be curbed entirely, because social media applications are available in so many different forms and because they are inexpensive and widely accessible.

Regardless of the most stringent of censorship policies, the expression of honest public opinion on the internet cannot be curbed entirely, because social media applications are available in so many different forms and because they are inexpensive and widely accessible.

The explosion of new online media is also transforming journalism. Not only is it empowering media professionals but is also allowing amateur journalists and citizen media to reach out to a large and broad audience without the help of any sophisticated resources. In Tunisia’s recent Jasmine Revolution protesters used blogs, Facebook, Twitter, WikiLeaks documents, YouTube and other methods to mobilize and report on what was going on in the face of a media crackdown. The Internet was the largest source of news about the protests, and much of it has been provided by the demonstrators themselves, despite Tunisia’s strict internet censorship policies.

Throughout world history, revolutions have broken out and repressive regimes have been challenged by the masses. But these dramatic events did not take place overnight; it usually took years for public opinion to mobilize and enable public action against oppression. Now the dynamics of “change” are changing themselves.

This modern, enhanced capability to communicate, coordinate and mobilize masses towards a common objective has deeply impacted the collective conscience of nations. A regular teenager today who writes a blog, networks on Facebook, and exchanges thoughts on Twitter, can actually act as a unit for collective change. Social media has played a huge role in the Egyptian uprising and the successful ouster of the 30 year-old dictatorial regime of Hosni Mubarak. Facebook pages recording incidents of police torture and other forms of oppression, coupled with tweets and extensive blog coverage, mobilized Egypt’s tech-savvy youth into a thoroughly modern form of political action never before witnessed by the world. The reverberations of Egypt’s Revolution 2.0 are now being felt in neighboring countries with autocratic regimes, such as Yemen, Bahrain and Libya.

A regular teenager today who writes a blog, networks on Facebook, and exchanges thoughts on Twitter, can actually act as a unit for collective change.

But even before the “Facebook Revolutions” of 2011, social media has been used very effectively to engage the masses in awareness programs and mobilization towards peaceful change. On February 4, 2008 hundreds of thousands of protesters gathered in Columbian cities and around the world to decry the Revolutionary Armed Forces of Columbia (FARC), an ultra-leftist rebel group. The main source which sparked this uprising was a simple Facebook page called “One Million Voices Against FARC” set up by Oscar Morales, a well-known activist and web developer. Morales also helped mobilize the largest-ever global anti-terrorism demonstration, with over 12 million participants in 200 cities. In his recent visit to Pakistan for the launch of Khudi, a counter-extremism social movement, Morales told the audience that he can relate to Pakistan’s dilemma of being perceived as a dangerous and problem-ridden country but that despite all these issues, Pakistani youth can still voice their opinions very effectively through social media.

During Pakistan’s State of Emergency in November-December 2007, President Musharraf cracked down on major news channels such as Geo TV, ARY and even international outlets such as BBC. The ban on traditional media outlets allowed for the rise of social media as a viable alternative for information dissemination and mobilization of protestors. Students turned to the Internet to register their opposition to the Emergency, predominantly using blogs and Facebook to denounce Musharraf’s action and to organize flash protests.

It has also been argued that social media can contribute to the spread of negative ideas and hate speech due its inherently uncontrolled and global nature. While regulations and restrictions do exist with regards to hate speech, incitement to violence and targeted attacks on individuals in cyber media, the issue is murkier when it comes to cultural sensitivities. Susan Gordon from Facebook Causes discussed this issue at the International Youth Conference & Festival 2010 in Islamabad, where she argued that censorship won’t work in any case. It is important to realize that a policy of free speech in the social media sphere can only lead to a better understanding of different, complex situations. Moreover, the issues related to cultural sensitivities are quite relative in nature and we should never try to streamline such difficult topics through strict, wide-sweeping censorship policies.

It is important to realize that a policy of free speech in the social media sphere can only lead to a better understanding of different, complex situations. Moreover, the issues related to cultural sensitivities are quite relative in nature and we should never try to streamline such difficult topics through strict, wide-sweeping censorship policies.

Despite the challenges mentioned above, it is clear that the dynamic and resourceful tools of today’s online media help us cope with the multifarious challenges of the 21st century. Through the growing popularity of social media, the communication landscape is becoming more participatory: the networked population of today continues to acquire greater access to information, more opportunities to engage in public speech, and an enhanced ability to undertake collective action. It is high time that we, as the youth of a developing country, keep ourselves updated on these new developments which can be used to further empower ourselves.

SOCIAL MEDIA TOOLS FOR YOU:
Blogging:

“Blog is an abbreviated version of the term ‘weblog’ which is a term used to describe websites than maintain an ongoing chronicle of information. A blog features diary-type commentary and links to articles on other Web sites, usually presented as a list of entries in reverse chronological order. Blogs range from the personal to the political, and can focus on one narrow subject – such as web design, sports or mobile technology – or a whole range of eclectic issues. And others are more like personal journals, presenting the author’s daily life and thoughts.”
– WordPress.org.

Blogging can be considered as one of the easiest ways to express oneself on online media. To be a blogger, you don’t need to be tech-savvy since WordPress, Blogspot and many other websites not only provide free hosting services but also provide convenient tools to help new bloggers design their entire blog without have to learn complex html coding. A great number of bloggers have become opinion-makers for their internet audience, often fostering debate on taboo topics. Bloggers have various tools which allow them to connect with each other and help reach out to their target audience.
Podcasting

Podcasting is a very simple alternative to radio broadcasting, which basically involves making audio content available online using RSS Feed. Podcasters give listeners more control over what they listen to and when, as they can download content on demand, determine what they want to listen to and save archives to access at a later stage. Podcasting also gives far more options in terms of content and programming than radio does. Podcasting can cover just about any topic and is particularly useful for promoting or sharing music, educational and informational materials, discussions and commentaries and for generally sharing a personal opinion with a large audience. As someone described, “While blogs have turned many bloggers into journalists, podcasting has the potential to turn podcasters into radio personalities.” It is easy to get started on podcasting yourself as all it involves is recording your content and producing audio files and then publishing them online using RSS feeds, all of which can be done using free software. These podcasts can then be uploaded to a website and downloaded onto listeners’ computers, iPods and mp3 players.

Vlogging:

Video blogging (or Vlogging) is a form of blogging for which the medium is video. Entries often combine embedded video or a video link with supporting text, images, and other metadata. These videos can be recorded in one take or cut into multiple parts. Youtube is a very powerful tool for Vlogging as it allows individuals to share their video content on the main website as well as embed videos on blogs and websites. Vlogging is now becoming a major tool for sharing information and is playing a significant role in citizen media. Many amateur journalists, documentary filmmakers, human rights activists, NGOs, and social commentators have their own channels on Youtube and other video uploading websites. Not only do they have a following of millions of people but they have the ability to reach a very diverse audience all over the world with almost zero resources. As Susan Gordon from Facebook Causes said during the International Youth Conference and Festival 2010, “If every human rights activist had a video camera, it would have changed the world.”

To have your own video blog all you need is a camcorder and a computer with video editing software. Popular video editing programs for Vloggers include iMovie, Final Cut Pro, and Windows Movie Maker. Once you have made your Vlog, you will need to host it on a site (such as Youtube or Vimeo) and share it with the world.

Twitter:

Twitter offers free social networking and microblogging services, allowing its users to send and read messages called tweets. Each tweet is a short burst of information, up to 140 characters displayed. Users can choose which tweets to subscribe to (referred to as ‘following’ in the Twitter lingo). Tweets are publicly visible by default but senders can restrict message delivery to just their followers. Twitter is a very efficient, real-time information sharing tool in the social media sphere. Its simplicity and accessibility have made it a powerful tool for protests and campaigns, particularly in Egypt, Tunisia and Iran.