Categories
اداریہ

مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ

بہاولپور میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پرصحابہ سے متعلق ‘توہین آمیز’ مواد پوسٹ کرنے کے ‘جرم’ میں سزائے موت سنائی ہے۔ مقدس شخصیات، صحائف اور عقائد کی توہین جیسے معمولی واقعات کی دہشت گردی کی عدالتوں میں سماعت اور اس پر پھانسی جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا مذہب کے نام پر جبر اور ظلم کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔یہ مقدمہ اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا اس لیے زیادہ خوفناک اور غیر انسانی ہے کیوں کہ یہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار خیال پر پاکستان میں دی جانے والی پہلی ایسی سزا ہے۔ اس مقدمے کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت بجائے خود ایک ناانصافی ہے۔ اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی، آزادانہ اظہار رائے پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔

توہین مذہب و رسالت کی کسی متفقہ تعریف کی عدم موجودگی میں کسی بھی واقعے کو سزائے موت کا موجب جرم قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں انسانی آزادیوں، حقوق اور زندگی کی اہمیت چند مذہبی لوگوں کے عقائد اور جذبات سے بھی ارزاں ہے۔ یہ قانون ریاستی اور معاشرتی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کی پامالیوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر ریاستی اور معاشرتی جبر پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کی ایسی پر تشدد اور غیر جمہوری روایات کو جنم دے رہا ہے جو کبھی مشتعل ہجوم کی صورت میں سرعام قتل و غارت کے بہیمانہ واقعات کے لیے جواز بخشتی ہیں تو کبھی عدالتوں میں غیر انسانی فیصلوں اور سزاؤں کی وجہ۔

توہین مذہب و رسالت کے غیر انسانی قانون کے تحت دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت اور موت کی سزا جبر کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ دور غیر مسلم اور غیر سنی اقلیتوں کے لیے بالخصوص اور دیگر مکاتب فکر کے افراد کے لیے بالعموم ابتلاء اور آزمائش کا ایک پرآشوب دور ثابت ہو گا۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر روا رکھے جانے والے ریاستی اور غیر ریاستی تشدد کی لپیٹ میں آزادی اظہار رائے، اختلاف رائے اور انسانی آزادیاں بھی آئیں گی اور بہت جلد یہ تشدد مزید غیر منصفانہ قوانین، مزید غیر انسانی سزاؤں اور مزید بہیمانہ غارت گری کو فروغ دے گا۔ عدم برداشت اور تشدد کی یہ صورت طالبان یا داعش سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔ پاکستان متعدد فرقوں اور عقائد کے حامل افراد کا ملک ہے ایسے میں ایک فرقے کے لیے جو توہین مذہب، توہین رسالت یا توہین صحابہ ہے وہ دوسرے فرقوں کے لیے تاریخی حقائق اور عین ایمان ہے۔ توہین مذہب و رسالت کی تعریف کا یہی اختلاف ہر فرد کو جان لینے کا خدائی اختیار دینے کا باعث بنے گا۔

مقدس شخصیات کے مرتبے اور تاریخی حیثیت کے حوالے سے اختلافات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، اور کسی بھی فرد کو مقدس شخصیات کی تاریخی حیثیت پر سوال اٹھانے یا کسی دوسرے فرقے میں ان شخصیات کی حیثیت سے مختلف رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کو توہین مذہب و رسالت قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ باور کرنا بھی ضروری ہے کہ واقعتاً کوئی فرد اگر توہین کا مرتکب ہوا بھی ہے تو بھی اس معمولی جرم کو انسداددہشت گردی کی عدالتوں میں سننے اور اس کے لیے سزائے موت جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا تجویز کرنے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔
Categories
اداریہ

انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ

مردان میں مشعل خان کا بہیمانہ قتل محض ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ یہ مذہب کی ایسی تشریحات کا انسانیت سوز اظہار ہے جو عقیدے کو انسانیت سے مقدم قرار دیتی ہیں۔ مذہبی طبقات کی جانب سے حرمت رسول اور تقدیس مذہب کو انسانی حقوق اور آزادیوں سے زیادہ اہم ثابت کرنے کا رحجان پاکستان میں خونریزی کا باعث بن رہا ہے، ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی ایک جیتے جاگتے فرد کو اپنے عقیدے کی بنیاد پر قتل کرنے کا جواز بخشنے کی بنیادی وجہ ہے۔ حرمت رسول و مذہب کی یہ گمراہ کن تعبیریں پاکستانی معاشرے کو ایک ایسے تابوت میں تبدیل کر رہی ہیں جہاں مذہبی معاملات میں اختلاف کرنے، تنقید کرنے اور سوال کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے، ہمارا معاشرہ ایک ایسی کال کوٹھڑی کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کوئی بھی کسی کو بھی محض توہین مذہب و رسالت کے الزام کے تحت نہ صرف قتل کر سکتا ہے بلکہ غازی اور شہید کا مرتبہ بھی پا سکتا ہے۔

توہین مذہب و رسالت کے نام پر جہاں ایک جانب ممتاز قادریوں کے جتھے بستیاں جلا رہے ہیں وہیں ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس ضمن میں قانون سازی سے گریزاں ہیں۔ریاست اور اس کے ادارے نہ صرف انسانی جان کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں بلکہ وہ مذہب کی بنیاد پر خونریزی پر ابھارنے والوں کا سدباب کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ “گستاخانہ مواد” کی بناء پر گرفتاریوں، مقدمات اور پابندیوں کے نفاذ کی کوششوں سے “گستاخ رسول کی ایک سزا سر تن سے جدا” کے نعرے لگانے والوکی بیخ کنی نہیں کی جا سکی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں جب کسی جتھے نے توہین مذہب و رسالت کا ہتھیار اٹھا کر گلے کاٹے ہوں، سلمان تاثیر، شمع اور شہزاد سمیت کتنے ہی لوگ توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل کیے جا چکے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ مذہبی تشریحات میں بنیادی اصلاحات کی متقاضی بھی۔ اسلام خواہ کتنا ہی سچا مذہب ہو، پیغمبر اسلام خواہ کتنے ہی محترم ہوں لیکن اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت، تقدس اور اہمیت کسی بھی طرح ایک انسان کی زندگی سے زیادہ محترم، مقدس اور اہم نہیں۔ مذہب، مقدس شخصیات اور مذہبی کتب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس بناء پر انسانی آزادیوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام پر تنقید، اعتراض اور طنز اشتعال انگیز ہو سکتے ہیں لیکن انہیں جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توہین مذہب اور گستاخی رسول گناہ یا جرم ہو سکتے ہیں لیکن اس کی بناء پر کسی کو قتل کرنے کا جواز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

مردان میں طلبہ کے ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک طالب علم کی بہیمانہ ہلاکت کو کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قطع نظر اس کے کہ مشعل خان یا ایسے ہی دوسرے لوگ توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے یا نہیں لیکن یہ ضرور طے ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور امردان کا مشتعل ہجوم مجرم ہیں اور سخت سے سخت سزا کے مستحق بھی۔ لیکن محض چند قاتلوں کو سزا دے کر توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت روکا نہیں جا سکتا، اس مقصد کے لیے مذہب پر تنقید، اعتراض اور طنز کے حق کو تسلیم کرنا اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ضروری ہے۔ حرمت رسول پر جان قربان کرنے اور جان لینے کا درس دینے والے مبلغین کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ان کا مذہب اور ان کے پیغمبر کسی بھی طرح تنقید، اعتراض اور طنز سے بالاتر نہیں، انہیں یہ ماننا ہو گا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے تقدس کا تحفظ اپنی جگہ لیکن اس بناء پر کسی کی جان لینے کا اختیار انہیں نہیں، انہیں یہ باور کرنا ہو گا کہ ان کے مذہبی جذبات کا مجروح ہونا کسی جتھے کو مشتعل کر کے کسی کی جان لینے کا پروانہ نہیں۔

توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت کی روک تھام کے لیے عموماً ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں مذہبی معاملات میں اختلاف رائے اور اظہار رائے پر پابندیاں عائد کرنے کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، مذہبی طبقات کی جانب سے احترام مذہب و رسول کو یقینی بنانے کے لیے ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی کی جاتی ہے، تاہم ریاست اور مذہبی طبقات پابندیوں یا قتل و غارت کے ذریعے اختلاف رائے اور اظہار رائے کی آزادی سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

Image: Newsweek

Categories
نقطۂ نظر

اٹھتے ہیں حجاب آخر-پہلا حصہ

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے اور اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوسلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے اور علم و فہم اور شعور کے بساط بھر حصول کے بعد اب یہ حال ہے کہ جب کسی بڑے آدمی سے ملتا ہوں یا کسی بڑی شخصیت کی تحریر پڑھتا ہوں اور کوئی نئی بات سننے اور سیکھنے کو ملتی ہے تو فکر کی تحسین کرنے کے باوجود، فوراً کوئی رد عمل دینے کے بجائے کئی دن شعوری اور لا شعوری طور پر اس پر غور و فکر کرنے میں گزرتے ہیں، کیونکہ شعور کے ساتھ، تحت الشعور اور لاشعور بھی کسی بات کی درست تفہیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پھر ہم خیال اور غیر ہم خیال اہل علم دوستوں سے تذکرہ چلتا ہے، اور پھر اگر بات سمجھ میں آ جائے تو تسلیم کر لیتا ہوں۔ نہ سمجھ آئے تو موقوف یا مسترد کر دیتا ہوں۔ کسی بات کے تسلیم کرنے یا رد کرنے میں شخصیت کی عظمت اب شاید بالکل حائل نہیں ہوتی۔ میں نے اپنی یہ تربیت خود کی لیکن یہ میرے آسان نہ تھی۔ میں اصل میں اس سے بہت حد تک برعکس واقع ہوا تھا۔

 

ہمارے معاشرے میں فکری جبر تو بچپن سے ہی شروع ہو جاتا ہے، سوال پر پابندی، سوالوں کو شیطانی وساوس قرار دے کر، بنا جواب دییے ان کو دبا دینا عام وتیرہ ہے۔ دینی مدرسہ ہو یا جدید تعلیم کی یونیورسٹیاں اور تحقیق کے اعلی مراکز، سب کا حال یہ ہے کہ ان میں حصول علم کے لیے داخلے اور حصول ملازمت کی پہلی شرط ہی یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنی مرضی کا نظریہ اور عقیدہ نہیں رکھ سکتے۔ آپ کے لیے اپنے ادارے کا اختیار کردہ یا اس ادارے پر تسلط رکھنے والے مسلکی اور جماعتی نظریہ اور عقیدہ رکھنا بھی شرط ہے، ورنہ آپ کو داخلہ اور ملازمت، اوّل تو کوئی دے گا نہیں، اور اگر قسمت سے ایسا ہو بھی جائے تو جلد ہی نکال باہر کیا جائے گا، یا آپ سے مسلسل اچھوتوں جیسا سلوک ہوگا، امتیازی رویہ برتا جائے گا، آپ کو بار بار تنبیہ اور سرزنش کی جاتی رہے گی یہاں تک کہ آپ اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ کر اتھارٹی کے ہمنوا بن جائیں یا ملازمت قربان کر دیں یا ادارہ بدری قبول کر لیں۔

 

لا اکراہ فی الدین کے پرچارکوں کا یہ رویہ مسیحؑ کے وقت کے متعصب فریسیوں اور فقہیوں سے بالکل بھی مختلف نہیں، جنھوں نے اپنی علمی آمریت کی سان پر مسیحؑ کو اپنی طرف سے قربان کر دینے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ ابھی ہمارے معاشرے سے ازمنہ مظلمہ کا دور لدا نہیں۔ ذہنی اور شعوری طور پر ابھی ہم ایک نابالغ قوم ہیں اور اس پر ہمارے یہاں شرمندگی کی بجائے جاہلانہ فخر بھی پایا جاتا ہے۔ مزید المیہ یہ ہے کہ تعلیمی ادارے، خواہ دینی ہوں یا جدید تعلیم کے، اس نابالغ پن کی ترویج پوری شد و مد سے کرتے ہیں، کہیں کوئی شعوری جراثیم محسوس ہو جائیں، اس طالب علم کو نکّو بنا کر رکھ دیا جاتا ہے، اسے غدار، بے دین، گستاخ، ایجنٹ اور نہ جانے کیا کچھ قرار دے دیا جاتا ہے، امتحانات میں اس سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ بلکہ ایسا طالب علم بھی اس رویے کا شکار ہوتا ہے جو اپنے استاد کی علمی اور ذہنی استعداد سے بلند سوال پوچھنے کی جرات کرے یا اس سے مختلف بات اس کے دلائل کے باوجود اپنائے رکھے۔

 

اپنے مسلک کے دائرے میں محدود رہنا، اپنے زیرِ قبضہ اداروں کو اپنے مسلک اور جماعت کے نظرے کے حصار میں رکھنا دراصل ایک بے اعتماد اور خوف زدہ نفسیات کی علامت ہے۔ ذکی کیفی نے کیا خوب کہا تھا:

 

نہ ہو کفر مقابل تو لطف ایماں کیا

 

لیکن یہاں حال یہ ہے کہ اختلاف کی ہلکی پھلکی پھونکوں سے ‘چراغ حق’ ٹمٹانے لگتے ہیں، اور ابراہیمؑ مخالف پروہتوں والی چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے کہ“اگر کچھ کرنے کا ارادہ ہے تو اِس کو آگ میں جلا دو اور اپنے ‘معبودوں’ کی مدد کرو۔”

 

شخصیت پرستی ہمارا قومی وطیرہ ہے اور المیہ بھی۔ میرا علمی سفر بھی شخصیت پرستی سے ہی شروع ہوا تھا۔ میرا ہر استاد میرا ہیرو تھا، گُرو تھا، عقیدت کا مرکز تھا، جس کی زبان، حق ترجمان تھی، حرفِ آخر تھی، لیکن پھر رفتہ رفتہ ایک ایک کر کے ان کی علمیت اور عظمت کے بت ان کی علمی اور اخلاقی کمزوریوں اور میرے لگاتار کے غور و فکر کی عادت کی وجہ سے ایک ایک کر کے ٹوٹتے چلے گئے۔

 

اسی زمانے میں میں نے یہ ٹوٹا پھوٹا شعر کہا تھا:
کتنے عظمت کے مینارے میرے سامنے ٹوٹ گئے
جو کبھی دکھتے تھے مجھ کو آسمانوں کی طرح

 

دین ایمان اور عمل کا معیار اور بنیاد اگر کوئی شخصیت ہو تو اس شخصیت سے بھروسہ اٹھتے ہی آدمی دین و ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

 

شخصیات کے بتوں کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوئی تو میں نے احمقانہ تاویلات کر کر کے خود کو کچھ عرصہ بے وقوف بنانے کی کوشش بھی کی لیکن آخر کب تک۔ آخر میں نے اپنے ایمان اور عمل کی بنیاد شخصیت کو بنانے کی بجائے دلیل کو بنا لیا اور شخصیات کو خیر باد کہ دیا۔ میں اپنے فہم کے مطابق دلیل کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
شخصیات کی طرح ہی موٹی موٹی اصطلاحات کو بھی میں نے بت ہی پایا جو فہم میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، اور حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔ درست استدلال اور درست فہم کے لیے مجھے بہت کچھ علم بھلانا بھی پڑا۔ وہ کہتے ہیں نا:

 

True Learning is unlearning

 

چناچہ بہت کچھ علم کو دامن سے جھاڑا، بہت سے اصولوں اور مسلمات کی بھاری بھرکم گھٹڑیاں سر سے اتاریں کہ علم و عقل کو آزادی سے سوچنے کا راستہ مل سکے۔

 

لیکن یہ سب آسان نہیں تھا۔ اس سفر میں ایسی بہت سی باتیں، ایسے بہت سے اصول اور ایسی بہت سی شخصیات تھیں جو مجھے بے حد عزیز تھے، جن کی محبت اور تاثر میں میں نے اپنی عمر کے رومانوی دور کے حسین پل بتائے تھے۔ ان سب کو چھوڑنا، ان سب میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرنا ان کی باتوں اور اقدامات کو بھی تنقید کی چھلنی سے گزارنا آسان نہیں تھا۔ بڑی تکلیف سے گزرنا پڑا۔ ایسا لگتا تھا جیسے صحرا میں اکیلا بے سہارا کھڑا رہ گیا ہوں۔ سر سے سایہ اور پاؤں سے زمین چھن گئی تھی۔ خود کو علمی اور فکری طور پر یتیم محسوس کرتا تھا۔

 

بہرحال، سہاروں کی بیساکھیاں تج دینے کے بعد، جب علم و فہم کے نئے سفر پر نکلا تو اس بار تہیہ یہ کیا کہ صرف عقل و فہم اور دلیل کا زاد راہ ساتھ رکھوں گا تاکہ اگر ٹھوکر بھی کھائی تو الزام کسی اور کو نہیں خود ہی کو دوں گا۔ ارادہ کیا کہ بات وہی تسلیم کروں گا جس کی دلیل درست معلوم ہوگی۔

 

ہم سب کے انگلی پکڑ کر چلنے کی ایک عمر ہوتی ہے۔ کون کب انگلی چھوڑ کر اپنے قدموں پر چلنا شروع کر دے، اس کا انحصار ہر انسان کے اپنے اوپر ہے، لیکن یہاں کوئی انگلی چھوڑتا ہے نہ کوئی چھوڑنے دیتا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگوں کی ساری عمر میں بلوغت کا یہ مرحلہ کبھی آتا ہی نہیں۔

 

1۔ بریلویت

 

میرا سفر بریلویت کے سادہ اور پرجوش ماحول سے شروع ہوا، جہاں عوام کا جذبہ ایمانی ایک پر لطف چیز ہوا کرتا تھا۔ آج بھی میرا حال یہ ہے کہ علمی طور پر بریلویت سے بہت دور ہو جانے کے بعد بھی، کسی بریلوی مسجد میں نماز پڑھوں تو سکون کی کیفیت زیادہ پاتا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں عوامی سطح پر عقیدت کے نام پر عقل و فہم کی قربانی پہلا مطالبہ ہے، اور علمی سطح پر عقائد اور بدعات کے معاملے میں منطقی داؤ پیچ اور محتمل اور کمزور روایات سے استدلال مبلغ علم ہے۔ کم علم متصوفین کی مضبوط روایت کے زیرِ اثر یہاں دین ایک تخیلاتی چیز بن کر رہ گیا ہے، ایک دیو مالا ہے، جو دلچسپ افسانون کا مجوعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو معراج سے واپس تشریف لے آئے تھے، لیکن یہ اپنے گمان اور بیان میں وہیں رہ گئے ہیں، سیرت نبوی کے بیان کا مطلب محض معجزات کا، مافوق الفطرت واقعات کا بیان ہے۔ اس مذہب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قابل تقلید نمونہ نہیں رہتے، ایک ایسی ہستی بن جاتے ہیں جن سے صرف عقیدت رکھی جا سکتی ہے، ان کے اسوہ پر عمل کرنے کی جرات نہیں کی جا سکتی۔ محض ان کی محبت و عشق دنیا و آخرت کی فلاح اور نجات کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، یعنی عشقِ رسول کے دعوی کے بعد کوئی گناہ، کوئی بد اخلاقی ایسی نہیں جو آپ کی نجات کی راہ میں حائل ہو سکے۔ شریعت، مسائل، اعمال و اخلاق کی حیثیت ثانوی ہی نہیں بلکہ محض اضافی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس خاص تصورِ عشق کی ترجمانی علما سے زیادہ کم علم خطبا اور خانقاہی سجادہ نشینوں کے ہاتھ میں ہے۔ عشقِ رسول کے زور پر اب لوگوں کے ایمان اور کفر کے فیصلے ہونے لگے ہیں، ان کے واجب القتل کے فتوے جاری ہونے لگے ہیں۔ لوگوں کی تقاریر اور تحاریر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر الفاظ نکال کر ان پر گستاخی کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔ اس نازک معاملے کو گلی بازاروں اور چوک اور چوراہوں پر طے کیا جا رہا ہے۔ علما کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی ہے۔ بریلویت ان کے علما کے ہاتھوں سے مکمل طور پر نکل چکی ہے اور یہ صورت حال بہت تشویش ناک ہے۔

 

بریلویت میں خدا کی حیثیت ثانونی ہے، اصل مرکز و محور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے، جس کے لیے یہ سارا کارخانہء عالم وجود میں لایا گیا۔ لیکن قرآن مجید دیکھیے ہوں، تو وہ اس قسم کے تخیلات اور اس سے پیدا ہونے والے مزاج سے بالکل خالی ہے۔ قرآن مجید کا مرکز و محور محض خدا ہے۔ ہر چیز اسی کے لیے ہے اور اسی کے گرد گھومتی ہے۔ خدا کے لیے اس کا دین سب سے اہم ہے، جس کی تبلیغ اور جس پر عمل کرنے میں کسی نبی اور رسول کے لیے بھی کسی قسم کی بالفرض کمی اور کوتاہی قابل تحمل نہیں، بلکہ ایسے کسی امکان پر انہیں سخت وعید اور تنبیہ سنائی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں خدا کا لب و لہجہ دیکھیے۔ مثلاً، خدا کہتا ہے کہ رسول دین کے معاملے میں اگر اپنی طرف سے کچھ کہتا تو ہم اس کی رگِ جاں کاٹ ڈالتے۔ رسول کو کہا گیا کہ اگر تم نے دین کی کوئی ایک بات بھی لوگوں تک نہ پہنچائی تو تم نے کارِ رسالت گویا ادا ہی نہیں کیا۔ درحقیقت، رسول، خدا کا بندہ ہے، جسے تبلیغِ دین کی خاص ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے اور وہ اپنے کاموں کے لیے خدا کو جواب دہ ہے۔ میری دانست میں قرآن مجید کا تصور خدا اور رسول، بریلویت کے تصور خدا اور رسول سے مطابقت نہیں رکھتا، اور اسی وجہ سے اندازِ بندگی بھی وہ نہیں جو قرآن کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی بجائے، دامن رسول سے وابستہ ہو کر، ان کی شفاعت کے زعم میں شریعت کی پابندیوں سے آزادی کا بہانہ تلاش لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت کی پابندی کرانے کی علما کی کوششیں بار آور ہو کر نہیں دیتیں، کیونکہ تحت الشعور میں یہ بات چل رہی ہوتی ہے کہ گناہ گار تو سارے نبی کے ذمے ہیں جن کی بخشش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا سے کروا کر ہی چھوڑیں گے۔ میری دانست میں قرآن تو ایسی شفاعت کے تصور سے بھی خالی ہے۔ وہ تو بتاتا ہے کہ سفارش بھی ان کی ہی کی جا سکے گی، جو سفارش کے مستحق ہوں گے، اور خدا ان کے لیے سفارش کی اجازت دے گا، یہ نہیں کہ ہر گناہ گار کی سفارش کی جا سکے گی۔ ان باتوں کا احساس، بریلویت کے سنجیدہ اہل علم کو بھی ہے، اور عوام کو باور کرانے کی اپنی سی کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن معاملہ ان کے ہاتھ سے کب کا نکل چکا ہے۔

 

بریلوی مدارس میں تمام علمِ دین کا مقصد و منتہا دیوبندییت کا رد ہے۔ یہی مقصدِ وحید ان کا جینا مرنا ہے۔ سارے مذہب، سارے علم کا مرکز و محور چند اختلافی اعتقادی مسائل ہیں۔ آپ ان کے مولوی سے جدید مسائل کے بارے میں پوچھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا جواب ملتا ہے، وہ ان مسائل سے مکمل طور لا علم ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی حلقوں میں پایا جانے والا یہ رویہ سیکولرازم ہی ہے۔ بلکہ ان کا سیکولرازم عام سیکولرازم سے بھی زیادہ سیکولر ہے۔ سیکولرزم تو یہ کہتا ہے کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن یہاں تو مذھب، فرد کے ذاتی معاملات سے بھی بے دخل ہے۔ دین کو مسجد، نعت، نعروں اور جلوسوں میں محدود کر دیا گیا، اس سے زیادہ دین کی مداخلت اپنے ذاتی معامالات میں کسی کو گوارا نہیں۔

 

یہاں، عوام کے اخلاق و اعمال کی اصلاح زیرِ بحث ہی نہیں، جو کہ درحقیقت، دین کا مطمح نظر تھا۔ افسوس کہ منبر رسول جیسے طاقت ور اور مؤثر فورم کو بہت پست چیزوں میں ضائع کر دیا گیا ہے۔

 

(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

توہینِ رسالت کیوں ہوتی ہے؟

انسانی رویے، مختلف سماجی، نفسیاتی ،جینیاتی اور عقلی عوامل کا نتیجہ اور رد عمل ہوتے ہیں۔ انسانی رویوں کے باقاعدہ مطالعے کی روایت ہمارے ہاں بوجوہ پنپ نہیں سکی، حالانکہ اس کے بغیر کسی بھی انسانی رویے کی درست تشخیص ہو سکتی ہے اور نہ اس کا علاج ممکن ہے۔ ہمارے ہاں محض علامات دیکھ کر فیصلہ صادر کرنے کا چلن ہے۔ کسی رویے کے پیچھے کیا محرکات ہیں یہ جاننے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے۔

 

مسلمان افراد دوسرے مسلمان اورغیر مسلم افراد کے خلاف توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات قائم کرکے اپنے ذاتی مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔
توہینِ مذہب یا توہینِ رسالت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ توہینِ رسالت کے ہزاروں مقدمات پاکستانی عدالتوں میں قائم ہیں، اگر یہ سارے مقدمات درست ہیں (جو کہ درحقیقت نہیں ہیں) تو کیا یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ آخر ایسا ہوکیوں رہا ہے؟ رسول اللہﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے آخر ایسی کیا پرخاش ہو گئی ہے لوگوں کو کہ اپنی جان پرکھیل کر بھی آپ جیسی کریم ہستی کی توہین کا ارتکاب کر رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک طرف سزائے موت اور دوسری طرف عوام کےغیظ و غضب کے نتیجے میں ہونے والی دردناک اموات کے باوجود نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے خلاف توہین کا سلسہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا؟ اور یہ سب ایک اسلامی ملک میں ہو رہا ہے جہاں عوام، ادارے، تھانے اور عدالتیں سب مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ آج ہم ان سوالوں کے جوبات تلاش کریں گے۔

 

یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں توہینِ رسالت کے درج کیے جانے والے مقدمات میں ایک محتاط اندزے کے مطابق 80 سے 90 فیصد مقدمات جعلی ہوتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق توہین رسالت کی دفعہ 295-C کے تحت 1986 سے لے کے 2004 تک پاکستان میں رجسٹرڈ کیسوں کی تعداد 5000 سے زائد ہے۔ 5000 افراد جن کے خلاف توہین رسالت کے کیسز رجسٹر ہوئے، ان میں سے صرف 964 افراد کے کیس عدالتوں میں پہنچے، 4036 کیسز ابتدائی اسٹیج پر ہی جعلی ثابت ہونے پر خارج کر دئیے گئے، سب سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے، کہ 86% فیصد کیسز صرف پنجاب میں رجسٹر ہوئے، یعنی 5000 میں سے 4300 کیسز! مزید یہ کہ جن 964 افراد کے کیس عدالتوں میں گئے، ان میں سے بھی 92% فیصد کیسز کا تعلق پنجاب سے تھا۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات کے پیچھے بعض ایسی سماجی عوامل اور سماجی رویے کار فرما ہیں جو شاید پنجاب سے مخصوص ہیں۔ پنجاب میں ان واقعات کی کثرت کی وجہ زمین پر قبضے، ذاتی دشمنی اور رنجشیں ہیں۔ مسلمان افراد دوسرے مسلمان اورغیر مسلم افراد کے خلاف توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات قائم کرکے اپنے ذاتی مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔ اپنے مخالف پر توہینِ رسالت کا الزام سب سے آسان اور تیر بہدف ثابت ہوتا ہے۔ عوامی حمایت ایک لحظہ میں حاصل ہوجاتی ہے۔ ایک بار الزام لگ جائے تو پھر ملزم لاکھ یقین دلاتا رہے کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا مگرعوام کا غیظ وغضب اس کا تیا پانچہ کرنے پر تل جاتا ہے، پولیس اور عدالت پر ہر طرح سے دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ کہ سزا پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے بھی معافی کی گنجائش ہی نہیں قانون میں۔ مزید یہ کہ ملزم اگر عدالت سے بری ہو بھی جائے، تب بھی عوام اسے یا تو مار ڈالتی ہے اوراگرمارا نہ بھی جائے تومعاشرے میں اس کی سماجی حیثیت کی بحالی ممکن نہیں رہتی، حالانکہ بری کرنے والی عدالت بھی مسلمان جج کی ہوتی ہے۔

 

سچ تو یہ ہے کہ توہینِ رسالت کا اصل جرم توہین کے جھوٹے مقدمات بنانے والوں پر ثابت ہوتا ہے، جو توہین کے الفاظ خود اپنی طرف سے بناتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ توہینِ رسالت کا اصل جرم توہین کے جھوٹے مقدمات بنانے والوں پر ثابت ہوتا ہے، جو توہین کے الفاظ خود اپنی طرف سے بناتے ہیں۔ یقیناً یہ بڑی قبیح جسارت ہے۔ مگ رہمارا قانون جھوٹا مقدمہ کرنے والے کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کرتا۔ اگر قانون یہ بنا دیا جائے کہ توہینِ رسالت کا جھوٹا مقدمہ کرنے والے کو توہینِ رسالت کے قانون میں دھر لیا جائے گا تو جھوٹے مقدمات میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔

 

توہین رسالت کا صدور کسی صحیح الدماغ آدمی سے ممکن نہیں۔ پاکستان میں توہینِ رسالت کے موجودہ سخت قانون، جس میں توبہ کی گنجائش بھی نہیں اور اس سے بڑ ھ کراس معاملے میں عوام کی دیوانگی کی حدوں کو چھوتی ہوئی جذباتیت، جو محض الزام پر ہی نہایت خوفناک نتائج پیدا کردیتی ہے، ان سب کی موجودگی میں کوئی شخص بالفرض توہین ِ مذھب یا توہینِ رسالت کرنے کا ارادہ رکھتا بھی ہو توباہوش و حواس تو ایسا کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔

 

یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ دین یا رسول اللہ ﷺ پر سنجیدہ علمی تنقید چاہے، ہماری طبع پر کتنی ہی گراں گزرے، گستاخی کے زمرے میں نہیں آتی۔ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ کاموں پر سب سے پہلی تنقید کرنے والے خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ان کی تنقیدی آراء کو گستاخی تو کجا ان کی تائید میں وحی نازل ہوتی رہی۔ سر ولیم میور نے اپنی کتاب ‘لائف آف محمد’ میں رسول اللہ ﷺ پر تنقید کی لیکن کسی نے ولیم میور کو گستاخ رسول قرار نہیں دیا۔ سرسید نے اس کا جواب ‘خطباتِ احمدیہ’ کی صورت میں لکھا، لیکن کوئی فتویٰ ولیم میور پر نہیں لگایا۔ افسوس کا مقام ہے کہ علمی حلقوں میں بھی اب وہ وسعتِ نظری نہیں رہی کہ تنقید اور گستاخی کا فرق سمجھ سکیں۔ الا ماشاءاللہ۔ ماضی قریب تک یہ علمی بلوغت نظر آتی ہے، جہاں تنقید کے جواب میں تنقید لکھی جاتی تھی، ڈنڈے جوتے اٹھا کر سڑک پر آکر گلے نہیں پھاڑے جاتے تھے۔

 

توہینِ رسالت جہاں درحقیقت ہوتی بھی ہے تو اس کی وجہ وہ رد عمل، جبر، امتیازی سلوک اور نفرت ہے جو مسلم اکثریت غیر مسلم اقلیت کے ساتھ اسلام کے نام پر روا رکھے ہوئے ہے۔
بہرحال، معاشرے اور قانون کی طرف سے اگر اتنے خوفناک نتائج کے باوجود کوئی توہینِ رسالت کا مرتکب ہوتا ہے، جیسا کہ چند مقدمات میں ایسا ثابت ہوتا ہے، تو سزا کے نفاذ کے علاوہ اس رویے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا آخر ہوا کیوں؟ رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات کو ہدفِ گستاخی بنانے کی وجہ اور ضرورت کیوں پیش آ گئی اور وہ بھی اپنی جان پر کھیل کر؟

 

ہم سمجھتے ہیں کہ توہینِ رسالت جہاں درحقیقت ہوتی بھی ہے تو اس کی وجہ وہ رد عمل، جبر، امتیازی سلوک اور نفرت ہے جو اس معاشرے کی مسلم اکثریت اپنے جاہلانہ رویوں کی بنا پر غیر مسلم اقلیت کے ساتھ اسلام کے نام پر روا رکھے ہوئے ہے۔ انہیں اچھوت اور ناپاک سمجھا جاتا ہے، عوام کے ایک طبقے میں ان کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی مکروہ سمجھا جاتا ہے، ان کے ساتھ کھانا پینا تو دور کی بات ان کے کھانے پینے کے برتن الگ رکھے جاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں معاشرتی دباؤ ڈال کر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور انکار پر حقارت آمیز طرزِ عمل اختیار کیا جا تا ہے۔ جو زیادتیاں غیرمسلموں کے غریب ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوتی ہیں، جو ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے، وہ بھی مذھبی زیادتی کے زمرے میں شمار ہو جاتی ہیں۔ میں نے بطورِ استاد جس تعلیمی ادارے میں بھی پڑھایا وہاں مجھ سے میرے طلبہ نے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے، ان کے ساتھ کھاناکھایا جا سکتا ہے۔ یہ شہری تعلیمی اداروں کا حال ہے۔ اندازہ کیجیے کہ دیہی علاقوں کا کیا حال ہوگا، جو وقتاً فوقتاً مختلف واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔ تعلیم ملازمت اور زندگی کے دیگر شعبہ جات میں غیر مسلموں سے امتیازی سلوک عام ہے۔ ان کی بستیاں اور قبرستان تک الگ بسائے جاتے ہیں۔ خاکروب اورنچلی سطح کے کام ان کے ساتھ مخصوص کردیے گئے ہیں۔ ان کے مخصوص نام رکھ کر حقارت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

 

یہ تمام جہالت اسلام کے نام پر کی جاتی ہے۔ اور پھر اس کو نبی کریمﷺ کے عشق کا تقاضا بھی سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ اب ذرا سوچیے کہ رسول اللہ ﷺ کے نام پر اس نفرت اور حقارت آمیز رویے کے بعد ایک غیر مسلم کے ذہن میں اسلام اور نبی کریم ﷺ کا کیا تاثر بنتا ہے؟ ایک مثال لیجیے۔ ایک مغرور بدتمیز آدمی اپنے غرور اور بدتمیزی کو بڑے فخر سے اپنے والد اور خاندانی روایات کی طرف منسوب کرے تو اس کے خاندان اور والد کے بارے میں ہمارا کیا تاثر بنے گا؟ چاہے اس کا والد نیک نفس شخص ہی کیوں نہ ہو، لیکن ہمارے سامنے جو تاثر آئے گا ہم تو اس کے مطابق ہی سوچیں گے کہ یہ تمیز سکھائی ہے اس کو اسکے والد نے! اسی طرح جب ایک غیر مسلم، اسلام اور رسول اللہ ﷺ نام پر مسلمانوں کی طرف سے مسلسل امتیازی سلوک، حقارت آمیز رویے اور ظلم وستم سے تنگ آ کر دین کے اس منفی مظہر پر کوئی ردعمل ظاہر کر دیتا ہے تو توہینِ رسالت کا مرتکب قرار پاتا ہے۔

 

سوال یہ ہے کہ ہماری ان حرکتوں اور رویوں کے بعد غیر مسلم کے ذہن میں نبی پاک ﷺ کا جو منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اس تاثر کے پیدا کرنے والے مسلمان کیا توہینِ رسالت کے مرتکب قرارنہیں پاتے؟
سوال یہ ہے کہ ہماری ان حرکتوں اور رویوں کے بعد غیر مسلم کے ذہن میں نبی پاک ﷺ کا جو منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اس تاثر کے پیدا کرنے والے مسلمان کیا توہینِ رسالت کے مرتکب قرار نہیں پاتے؟ ان کی کیا سزا ہونی چاہیے؟
اس کے بعد پھرذرا سوچیے، بھلا ایسا کون سا غیر مسلم ہو گا جس کو نبی کریم ﷺ کے نام لیواؤں سے وہ عزت واحترام اور حقوق مل رہے ہوں جو نبی کریم ﷺ خود غیرمسلموں کو دیا کرتے تھے اوروہ پھر بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے؟ اگر اس کے باوجود کرے تو یقیناً سزا کا مستحق بنتا ہے۔

 

ہمارے مولویوں نے جتنی محنت نبی کریم کی محبت کی دیوانگی لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے میں لگائی ہے، اتنی ہی محنت اگروہ لوگوں میں اخلاقِ نبوی کی تربیت اور ترویج کے لیے بھی کرتے تو ایسی صورتِ حال پیدا ہی نہ ہوتی، جس سے آج پاکستانی معاشرہ دوچار ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے نام لیوا سود کا ایک روپیہ چھوڑنے کو تیار نہیں، لیکن ان کے نام پر کسی کو بھی قتل کرنے کو تیار ہیں۔ دودھ اور دوائیوں میں ملاوٹ کرنے والے میلاد کی محفلیں سجانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، بھائی بہنوں کی جائیداد دبا لینے والے نعت شریف کی محفلیں لگاتے ہیں، نعتیں سن کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اورآبدیدہ ہونے کے بعد بھی زمین کا قبضہ نہیں چھوڑتے۔ نعرہ رسالت کے آگے پیچھے (نعوذ باللہ) بلا تکلف گالیاں نکالتے ہیں۔ سوچیئے کہ ایک غیرمسلم ان مظاہر کے بعد اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا کیا تاثر لے گا۔ کس کے پاس اتنا وقت اور سمجھ ہے کہ خود قرآن یا سیرتِ رسول پڑھ کر پڑھ کر معلوم کرے کہ ان غافل مسلمانوں کے نبی ﷺکتنے عظیم تھے۔

 

رسول اللہ نے فرمایا ہے: “خبر دار! جس نے کسی معاہد (ذمی) پر ظلم کیا یا اُس کے حق میں کمی کی یا اُسے کوئی ایسا کام دیا جو اُس کی طاقت سے باہر ہو یا اُس کی دلی رضامندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے لے لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کروں گا۔” (ابو داؤد)

 

اب جو لوگ غیرمسلموں پر رسولِ پاک ﷺ کے نا م اور ان کی شفاعت کے بھروسے پر پر بلا جواز زیادتیاں کر رہے ہیں، بلا تحقیق قتل کر رہے، قیامت کے دن دیکھیں گے کہ خود رسول اللہ ﷺ خدا کی عدالت میں ان ظالم مسلمان کے خلاف ان مظلوم غیرمسلموں کا مقدمہ لڑیں گے۔ اور جس کے خلاف خود اللہ کا رسول کھڑا ہو جائے اس بدبخت کی تباہی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔

 

عالمی سطح پر توہینِ رسالت کی وجہ اسلام کا وہ سیاسی تصور ہے جو پوری دنیا پر طاقت کے بل بوتے پر مسلم حکمرانی کو ہر مسلمان کا مقصد اور اسلام کو بنیادی پیغام گردانتا ہے۔
عالمی سطح پر توہینِ رسالت کی وجہ اسلام کا وہ سیاسی تصور ہے جو پوری دنیا پر طاقت کے بل بوتے پر مسلم حکمرانی کو ہر مسلمان کا مقصد اور اسلام کو بنیادی پیغام گردانتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب عالمی سطح پر آزادی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کر لیا گیا ہے تو پھر کسی قوم کا یہ مقصدِ حیات کہ اس نے پوری دنیا کو محکوم بنانا ہے دوسروں کے لیے کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ یہ نظریہ اگر مولانا مودودی کے نام سے پھیلایا جائے تو لوگ ان کو برا بھلا کہیں گےاور رسول اللہ ﷺ کے نام سے فروغ دیں تو لوگ انجانے میں ان کی توہین کریں گے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس نظریہ کے حاملین کے عملی مظاہر اگر داعش کی صورت میں سامنے آئیں تو تحقیق کرنے پہلے ہی عوام سخت رد عمل میں آکر اس دین اور اس کے لانے والے کو برا کہنے لگتے ہیں، جو ایسی تعلیمات یا ایسی تربیت کرتا ہے۔

 

اسلام کے بارے میں غیروں اور اپنوں کا منفی پراپیگنڈا بھی اس کا سبب ہے۔ مثلاً،اسلام کے عورتوں کے بارے میں احکامات کو عجیب رنگ میں پیش کیا جاتا ہے جو بادی النظر میں بہت دقیانوسی لگتا ہے، اس دقیانیوسیت پر مہر تصدیق اس وقت ثبت ہوجاتی ہے جب کچھ مسلم ممالک میں اس پر پوری دقیانوسیت کے ساتھ عمل بھی نظر آتا ہے، جہاں عورت کو کسی جانور سے زیادہ حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس سب کا ردعمل اسلام اور پیغمبرِِ اسلام کے خلاف نکلتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ ردعمل نبی کریم کی حقیقی ذات کے خلاف نہیں بلکہ اس تصور کے خلاف ہے جو ان کے سامنے اسلام کی غلط ترجمانی سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں کو الزام دینے اور اس الزام پر ان کو سزا دینے سے پہلے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک لینا چاہیے کہ کہیں ہم ہی اپنے عظیم نبی ﷺ کی توہین کے ذمہ دار ہم خود تو نہیں؟
امتی باعثِ رسوائیِ پیمبر ہیں

Image: Dawn.com

Categories
نقطۂ نظر

عشق رسول اور بد اخلاقی کا اجتماع کیسے ممکن ہوا؟

معاشرے میں عمومًا پائی جانے والی بد اخلاقی کے ساتھ عشق رسول کے جو مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں اس پر اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ آخر کیسے ممکن ہوا کہ عشقِ رسول اور بد اخلاقی ایک جگہ کیسے اکٹھے ہو گئے۔
اسلام آباد میں مارچ 2016 کے دوران ہونے والے دھرنے میں خصوصاً اور معاشرے میں عمومًا پائی جانے والی بد اخلاقی کے ساتھ عشق رسول کے جو مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں اس پر اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ آخر کیسے ممکن ہوا کہ عشقِ رسول اور بد اخلاقی ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔ دودھ اور دوائیوں میں ملاوٹ کرنے والے میلاد کی محفلیں سجانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، بھائی بہنوں کی جائیداد دبا لینے والے نعت شریف کی محفلیں لگاتے ہیں اور نعتیں سن کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور آبدیدہ ہونے کے بعد بھی زمین کا قبضہ نہیں چھوڑتے۔ ‘اولیا’ء، ‘قطب’، ‘ابدال’ اور عوام، ماں بہن کی گالیوں کے اول و آخر نعرہ رسالت لگاتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس نبی ﷺ کے اعلٰی اخلاق کی گواہی ان کے دشمن بھی دیتے تھے، جن کے اخلاق کی کی عمدگی کا اعتراف خالق کائنات نے خود فرمایا، اور جن کا اسوہ حسنہ ان کے ماننے والوں کے لیے کامیابی اور نجات کا واحد ذریعہ قرار دیا گیا۔ ان کے نام لیوا ان کے ہی نام پر یہ سب بھی کر سکتے ہیں! لیکن اگر اس خاص مزاج کے تشکیلی عوامل جان لیے جائیں تو حیرت ختم ہو جائے گی، البتہ افسوس بلکہ صد افسوس اپنی جگہ بہر حال باقی رہے گا۔

 

بریلوی طبقے میں عشق رسول، ایک خاص مابعد الطبعیاتی تصور کا حامل ہے۔ آیاتِ قرانی اور احادیث کی ادھوری اور غلط ترجمانی، خصوصًا اولیاء اور مشائخ کے خود ساختہ قصوں اور خوابوں اور الہام کے ذریعے عشقِ رسول کا ایک خاص مفہوم اور اس کے مضمرات عوام کو ہر بریلوی مسجد اور خانقاہ سے باور کرائے جاتے ہیں۔ عشق رسول کی اس خاص تعبیر کے مطابق دنیا اور آخرت کی نجات کے لیے صرف اور صرف عشق رسول کا ہونا کافی ہے۔ شریعت، مسائل، اعمال و اخلاق کی حیثیت ثانوی ہی نہیں بلکہ محض اضافی ہے۔ مزید یہ کہ عشقِ رسول کے چند مظاہر مقرر کر دئیے گئے ہیں جن کے بارے میں اگر غور کیا جائے تو سب کے سب مولوی صاحب کی شخصیت، ان کی تشہیر اور ان کے معاش کے گرد گھومتے ہیں۔ مثلاً مساجد کی سجاوٹ، میلاد و نعت کی محفلیں اور ان کے لیے کھانے کے انتظامات، جلسے جلوس تقاریر، نعرے اور اب دھرنے بھی۔

 

عشقِ رسول کے چند مظاہر مقرر کر دئیے گئے ہیں جن کے بارے میں اگر غور کیا جائے تو سب کے سب مولوی صاحب کی شخصیت، ان کی تشہیر اور ان کے معاش کے گرد گھومتے ہیں۔
عشق رسول کا ایک لازمی تقاضا، اور سب سے بڑا مظہر اس تصور کو نا ماننے والوں سے نفرت اور انہیں گستاخِ رسول سمجھنا ہے۔ اب جو جتنا اس خاص تصورِ عشقِ رسول کے عملی مظاہر میں پرجوش ہو گا، وہ اتنا بڑا عاشق رسول سمجھا جائے گا۔ اس کی نجات کی ضمانت حلفاً دی جاتی ہے۔ یعنی عشق ِرسول ایک ایسا اکسیر ہے جس کے بعد کوئی گناہ، کوئی بد اخلاقی آپ کی نجات کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ عشقِ رسول کی سند بھی چونکہ مولوی اور پیر صاحب دیتے ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ ان کو خوش کرنا اور خوش رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ عشقِ رسول کی اسناد بانٹنے اور آخرت کے لافانی فوائد کے بدلے وہ مریدین سے دنیا کے فانی فوائد حاصل کرتے ہیں اور بے حد کرتے ہیں۔ یہاں تک کے بھوکے مفلس مریدوں سے بھی نذرانے وصول کرتے ہیں اور اپنی خاندان اور اولاد کے لیے شاہانہ زندگی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ آپ کسی بھی مستحکم پیر صاحب کے اثاثہ جات اور ان کے ذرائع آمدن کو دیکھ لیجیے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔

 

بریلوی طبقے کے معتبر علماء بریلوی مدارس اور خانقاہوں میں پلنے والے اس کرادر اور ذہنیت کے بارے میں عموماً کچھ کہنے سے گریز کرتے ہیں وجہ یہی ہے کہ عوام میں اسلام کی یہی تعبیر معروف ہے اور اس دھارے کے خلاف بات کرنا خود کو مطعون کرانے کے مترادف ہے۔ اب ان میں سے جو یہ ہمت کرتے ہیں ان کو اس روایتی فکر کے حاملین کی طرف شدید طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے دیوبند اور اہل حدیث کے معتبر اور معتدل علماء اپنے مسالک کے غلط رویوں کے بارے میں عمومًا لب کشائی کرنا پسند نہیں کرتے۔ ہم نے دیکھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ دھرنے میں ہونے والی کھلی فحش گفتگو اور بد اخلاقی کے باوجود معتدل اور معتبر بریلوی علماء نے زبان بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھی۔

 

بریلوی طبقے کے معتبر علماء بریلوی مدارس اور خانقاہوں میں پلنے والے اس کرادر اور ذہنیت کے بارے میں عمومًا کچھ کہنے سے گریز کرتے ہیں
عوام میں پائے جانے والے عشقِ رسول پر مبنی اس غلط دینی تعبیر کی جڑیں صدیوں پرانی بعض صوفیاء کی روایت سے چلی آتی ہیں، اس کو تبدیل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مستند علماء کرام شہادتِ حق کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سامنے آئیں اور عوام کو مخاطب کریں۔ علمی مجالس منعقد کی جائیں جو غیر علمی دینی مجالس کی جگہ لے سکیں۔ اس طرح عوام کو قرآن اور سنت کے درست اور مستند ماخذ سے روشناس کرائیں۔

 

حکومت کو بھی چاہیے کہ مصلحت کی چادر کو طے کرکے رکھ دے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عشقِ رسول کے حد سے بڑھتے مظاہر کو حد میں رکھنے کے لیے قانون کے بے لاگ نفاذ کی تاکید کرے اور اس کے لیے پولیس کی بھی مناسب ذہنی تربیت بھی کرے۔
Categories
نقطۂ نظر

عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گمراہ کن صورتیں

اگر ممتاز قادری اور علم دین جیسے افراد عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار ہیں تو میرے خیال میں ہم سے یقیناً کہیں کوئی بھول ہوئی ہے، ایک ایسے رسول سے جسے رحمت العالمین کہا جاتا ہے، جن سے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی کو گزند نہیں پہنچائی، کسی کی جان نہیں لی تو پھر ان کے عشق کا تقاضا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی جان ان سے عشق کے نام پر لے لی جائے یا اپنی جان قربان کر دی جائے؟ حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اگر ایک مخصوص حلیہ، ایک مخصوص شباہت اور ایک مخصوص تنگ نظری ہی مقصود ہے تو پھر تمام زمانوں، تمام علاقوں، تمام انسانوں کے لیے بہترین اور عملی نمونہ انہیں کیسے قرار دیا جائے؟

 

یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر سب سے مہربان ہو، خطائیں معاف کرنے والا ہو، شفاعت کا داعی ہو، مجبوروں، بے کسوں اور محتاجوں کا والی ہو وہ اپنی ناموس کے نام پر قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہو؟
اوکاڑہ کے ایک گاوں میں ایک پندرہ سالہ لڑکے کا اپنا ہاتھ اس گمان میں خود کاٹ لینا کہ اس سے گستاخی رسول کا ارتکاب ہوا ہے اس بیمار ذہنیت کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے جو ہم نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اپنی نسلوں کو منتقل کی ہے۔ یہ بیمار ذہنیت علم دین اور ممتاز قادری جیسے افراد کو جنم دیتی ہے اور اس نفرت کا باعث بنتی ہے جو ہم اپنے آس پاس موجود اقلیتوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ لیکن ایک لمحے کو عقل کو حاضر ناظر جان کر سوچیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ معلمِ انسانیت قرار دیا جانے والا پیغمبر ایسے بیمار، متشدد اور تکلیف دہ طرزہائے عمل کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ سکتا ہے؟

 

مولانا اختر شیرانی جیسے حضرات جو کم سنی کی شادی کے خلاف قوانین کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں اور انہیں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیتے ہیں، ابو بکر بغدادی، ابو بکر شیکاو، مولوی فضل اللہ اور عبدالعزیز جیسے حضرات جو عورتوں کو باندیاں بنانے کے قائل ہیں، جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں کیا یہ لوگ ہیں جو رسول اللہ کی سیرت پر عمل پیراء ہیں؟ شادی کی عمر کا تعین، حدود کے قوانین، جہاد کے فتوے اور قتل و غارت کے کتنے ہی غلغلے رسول اللہ کے نام پر بلند کیے جاتے ہیں اور حب رسول کے تقاضے نبھانے کے لیے ہم کتنے ہی انسانوں کی زندگیاں برباد کر چکے ہیں۔ لیکن کیا یہ سب واقعی بارگاہ محمدی میں مقبول بھی ہو گا؟ ہر گز نہیں۔ وہ جس کی زبان حب رسول کے نام پر مذہبی منافرت پھیلاتی ہے، وہ جس کا ہاتھ عشق رسول کے نام پر بندوق اٹھاتا ہے، وہ جن کے فتوے عورتوں اور اقلیتوں کی حیثیت کم تر قرار دیتے ہیں، وہ جن کی دکانوں پر نفرت امیز سٹیکر چسپاں ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین ہیں تو یہ سب ان کے لیے پسندیدہ نہیں ہو سکتا۔ یہ سب انہیں منظور نہیں ہو سکتا۔

 

عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گمراہ کن صورتیں کسی بھی طرح اس اجتماعی فلاح اور بہبود انساں کا راستہ نہیں ہو سکتیں جس کا خواب عرب کے صحراوں میں مقیم اس ہادی، اس رہبر اور اس معلم نے دیکھا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگوں پر سب سے مہربان ہو، خطائیں معاف کرنے والا ہو، شفاعت کا داعی ہو، مجبوروں، بے کسوں اور محتاجوں کا والی ہو وہ اپنی ناموس کے نام پر قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہو؟ تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیئے جانے والےکے نام پر کون یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی منشاء یہ ہے کہ محض ایک سبزی، یا داڑھی، یا مسواک، یا عربی زبان کو ناپسند کرنے پر کسی کو قتل کر دیا جائے، یا ایک غیر منصفانہ قانون پر تنقید کرنے والے کو گولیوں سے بھون دیا جائے، یا ایک مخصوص شباہت کو مسلط کر لیا جائے، یا کم سن بچیوں کی شادیاں کر دی جائیں، یا ایک غیر انسانی جہاد سے منع کرنے والی ماں کو قتل کر دیا جائے، یا آزادی اظہار پر پابندیاں عائد کر دی جائیں۔۔۔۔۔۔۔

 

درحقیقت ناموس رسالت، شریعت اور عشق رسول کے نام پر بنائے گئے ضابطے، قوانین، فتوے اور طرز معاشرت رسول اللہ کے پیغام اور ان کے مزاج کے بالکل برعکس ہیں۔
اگر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثبوت کے طور پر مجھے مخصوص لباس، مخصوص، شکل، مخصوص تنگ نظری، مخصوص چال ڈھال اپنانے ہو گی، کم سن بچیوں کی شادیوں کی حمایت کرنا ہو گی، حدود کے ظالمانہ اور جابرانہ قوانین کے حق میں بیان دینے ہوں گے، پردہ مسلط کرنا ہو گا، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کو درست سمجھنا ہو گا، مرنا ہو گا اور مارنا ہو گا، احمدیوں سے نفرت کرنا ہو گی اور جہادیوں کو چندے دینے ہوں گے تو میں ایسے عشق رسول کا قائل نہیں۔ اگر عشق رسول یہی ہے کہ ہم قدیم قبائلی روایات، رہن سہن، طرز معاشرت اور حب رسول کے نام پر مرنے مارنے والوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنا ہوں گی تو مجھے لگتا ہے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ ؤآلہ وسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داعین کے طرزعمل میں بہت بڑا تضاد موجود ہے۔ اگر رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت العالمین تھے تو پھر وہ ممتاز قادریوں جیسے بے رحم قاتلوں کے “نذرانہ عشق” کو پسند کرنے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر وہ واقعی مصلح اعظم تھے تو ان کی نسبت سے کم عمر بچیوں کی شادیوں کا جواز نکالنا کیسے ممکن ہے؟ اگر وہ تمام زمانوں کے لیے تھے تو پھر ایک مخصوص عرب قبائلی طرز معاشرت کو خود پر مسلط کرنے کے کیا معنی ہیں؟ میرے نزدیک عشق رسول کی مروجہ صورتیں جن کی بناء پر بنیادی انسانی آزادیاں سلب کی جاتی ہیں، انسانوں کو قتل کرنے کا جواز ڈھونڈا جاتا ہے، دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے نفرت کا پیغام دیا جاتا ہے، اسلامی قوانین کے نام پر جو ناانصافی روا رکھی جاتی ہے وہ سبھی غلط اور گم راہ کن ہیں۔ عشق رسول کو دنیا میں امن کی بنیاد ہونا چاہیے ناکہ قتل و غارت گری کا جواز۔

 

درحقیقت ناموس رسالت، شریعت اور عشق رسول کے نام پر بنائے گئے ضابطے، قوانین، فتوے اور طرز معاشرت رسول اللہ کے پیغام اور ان کے مزاج کے بالکل برعکس ہیں۔ یا تو سیرت کی کتابوں میں جس مہربان اور رحم دل ہستی کا ذکر کیا گیا ہے وہ ٹھیک ہے یا پھر ممتاز قادری، علم دین اور اختر شیرانی جیسے لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر جان لینے اور عورتوں کی حیثیت کم تر قرار دینے کے قائل ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور اختر شیرانی کے اقوال و افعال کسی بھی طرح حب رسول اور منشائے محمدی نہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا واقعی عشق رسول کا واحد تقاضا یہ ہے کہ کسی نہ کسی کو گستاخ رسول قرار دے کر قتل کیا جائے، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز سٹیکر چپکائے جائیں، عورتوں کے حقوق سلب کرنے والے قوانین بنائے جائیں، داڑھیاں بڑھا لی جائیں، ہتھیار اٹھا لیے جائیں یا عشق رسول کا حیقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم آسیہ بی بی اور جنید حفیظ جیسے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، اسلام کے نام پر بنائے گئے غیر منصفانہ قوانین کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور دنیا کے امن کے لیے کام کیا جائے؟

Image: Dawn.com

Categories
نقطۂ نظر

اگر میں ممتاز قادری سے بدلہ لوں؟

اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟
اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری سے میں بدلہ لینا چاہتا ہوں کیوں کہ اس نے میرے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں؟ اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ کیا میں ممتاز قادری کی پیروی کرنے والے وکلاء کو دھمکانے، ڈرانے اور پھر ان کی جان لینے کا حق رکھتا ہوں جیسے راشد رحمان کی جان لی گئی؟

 

اگر میں ایک ایسا پوسٹر چھپواوں جس پر ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کے لیے مغلظات لکھی ہوں، ان کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ کروں اور ان کی پھانسیوں کے حق میں جلسے جلوس نکالوں تو کیسا ہے؟ فرض کیجیے کہ اگر میں یہ فتوی دوں کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر، ان کی ناموس پر، اہل بیت کی ناموس پر، ان کے صحابہ کی ناموس پر قتل کرتا ہے، قتل کرنا چاہتا ہے، قتل کرنے کے فتوے دیتا ہے یا قتل کرنے کی زبانی یا اعلانیہ حمایت کرنا چاہتا ہے وہ سب مرتد، خارج از دائرہ اسلام، ملعون، مطون ،جہنمی اور واجب القتل ہیں تو؟؟؟؟
یہ بھی تو ممکن ہے کہ میں عدالتوں کے باہر جتھے لے کر کھڑا ہو جاوں کہ ممتاز قادری کی پھانسی تک ہم یہاں سے نہیں ٹلیں گے؟یا ڈندے لے کر عاشقان ممتاز قادری کے جلسوں جلوسوں کو تہس نہس کر دوں، یا میں بھی سلمان تاثیر شہید کانفرنس کراوں اور اس کانفرنس میں ببانگ دہل ریاست کو للکاروں کہ اگر توہین رسالت اور توہین مذہب کا قانون نہ بدلا گیا، اگر آسیہ بھی بی، جنید حفیظ اور ان جیسے تمام افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ہم لانگ مارچ کریں گے، جانیں دیں گے، جیلیں بھر دیں گے تو کیا ہو گا؟

 

انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔
یہ سب ہو سکتا ہے، یہ سب کیا جا سکتا ہے لیکن میں اور ممتاز قادری کو دہشت گرد سمجھنے والے تمام لوگ، وہ خاموش اکثریت جو اسلام کو امن کا مذہب سمجھتی ہے اوروہ سب لوگ جو توہین رسالت کے قوانین کو غیر منصفانہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں وہ کبھی بھی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔ انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔

 

یہ چند لوگ جو ہر برس 4 جنوری کو اکٹھے ہوتے ہیں، کسی چوک چوراہے یا پریس کلب کے باہر، چند پلے کارڈ اٹھا کر، چند موم بتیاں جلاتے ہیں یہ تمہارے ہزاروں اور لاکھوں کے مجمعے سے زیادہ طاقتور ہے کیوں کہ یہ حق پر ہے، کیوں کہ یہ ظلم کو ظلم کہنے والے ہیں اور کیوں کہ خدا ان کے ساتھ ہے تمہارے ساتھ نہیں کیوں کہ خدا بہرطور ظلم کرنے والوں، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارا بدلہ، ہمارا انتقام اور ہمارا ردعمل یہی ہے کہ ہم ہمیشہ حق کو حق اور ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے، ہم ہمیشہ نفرت پھیلانے والوں کے مقابلے میں نفرت نہ کرنے والوں میں شامل رہیں گے اور ہم ہمیشہ ممتاز قادری کو قاتل اور دہشت گرد قرار دیتے ہیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

توہین رسالت کی سزا کی شرعی حیثیت

توہین رسالت کی سزا کا جو قانون ریاست پاکستان میں نافذ ہے، اُس کا کوئی ماخذ قرآن و حدیث میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔اِس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانون کہاں سے اخذ کیا گیا ہے؟ اِس سوال کے جواب میں بعض اہل علم نے فرمایا ہے کہ یہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳۔۳۴ سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ اُن کا ارشاد ہے کہ مائدہ کی اِن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کی سزا بیان فرمائی ہے اور اُس کے رسول کی توہین و تحقیر بھی محاربہ ہی کی ایک صورت ہے۔ آیات یہ ہیں:

 

اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ، ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ، فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.

 

“جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں یا سولی پر چڑھا ئے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے، مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔” سورہ المائدہ ، آیت نمبر 33-34
قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ موت کی سزا کسی شخص کو دو ہی صورتوں میں دی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسرے یہ کہ ملک میں فساد برپا کرے اور لوگوں کی جان، مال اور آبرو کے لیے خطرہ بن جائے۔

 

اِس قانون کے ماخذ سے متعلق دوسرے نقطہ ہاے نظر کی طرح یہ راے بھی ہمارے نزدیک محل نظر ہے۔ اولاً، اِس لیے کہ آیت میں ’یُحَارِبُوْنَ‘کا لفظ ہے۔ یہ لفظ تقاضا کرتا ہے کہ آیت میں جو سزائیں بیان ہوئی ہیں، وہ اُسی صورت میں دی جائیں جب مجرم سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے؛فساد انگیزی پر اتر آئے؛ دعوت، تبلیغ، تلقین و نصیحت اور بار بار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے، بلکہ مقابلے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ آدمی الزام سے انکار کرے یا اپنی بات کی وضاحت کر دے اور اُس پر اصرار نہ کرے تو لفظ کے کسی مفہوم میں بھی اِسے محاربہ یا فساد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ثانیاً، اِس لیے کہ اقرار و اصرار کے بعد بھی مجرم قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے توبہ اور رجوع کر لے تو قرآن کا ارشاد ہے کہ اُس پر حکم کا اطلاق نہیں ہو گا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ توبہ کرلینے والوں کو یہ سزائیں نہیں دی جا سکتیں۔ اِس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ کارروائی سے پہلے اُنھیں توبہ و اصلاح کی دعوت دینی چاہیے اور بار بار توجہ دلانی چاہیے کہ وہ خدا و رسول کے ماننے والے ہیں تو اپنی عاقبت برباد نہ کریں اور اُن کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور ماننے والے نہیں ہیں تو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں اور اِس جرم شنیع سے باز آجائیں۔ ثالثاً، اِس لیے کہ آیت کی رو سے یہ ضروری نہیں ہے کہ اُنھیں قتل ہی کیا جائے۔ اُس میں یہ گنجایش رکھی گئی ہے کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات تقاضا کرتے ہوں تو عدالت اُسے کم تر سزا بھی دے سکتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اِس طرح کے مجرموں کو علاقہ بدر کر دیا جائے۔ اِس وقت جو قانون نافذ ہے، اِن میں سے کوئی بات بھی اُس میں ملحوظ نہیں رکھی گئی۔ وہ مجردشہادت پر سزا دیتا ہے، اُس میں انکار یا اقرار کو بھی وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا آیت تقاضا کرتی ہے، سرکشی اور اصرار بھی ضروری نہیں ہے، دعوت و تبلیغ اور اِس کے نتیجے میں توبہ اور اصلاح کی بھی گنجایش نہیں ہے، اُس کی رو سے قتل کے سوا کوئی دوسری سزا بھی نہیں دی جا سکتی۔ علما اگر آیت محاربہ کو قانون کا ماخذ مان کر اُس کے مطابق ترمیم کے لیے راضی ہو جائیں تو اِس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔ اِس کے نتیجے میں وہ تمام اعتراضات ختم ہو جائیں گے جو اِس وقت اِس قانون پر کیے جا رہے ہیں۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ موت کی سزا کسی شخص کو دو ہی صورتوں میں دی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسرے یہ کہ ملک میں فساد برپا کرے اور لوگوں کی جان، مال اور آبرو کے لیے خطرہ بن جائے۔ آیت محاربہ کے مطابق ترمیم کر دی جائے تو قرآن کا یہ تقاضا پورا ہو جائے گا۔ پھر یہی نہیں، قانون بڑی حد تک اُس نقطۂ نظر کے قریب بھی ہو جائے گا جو فقہ اسلامی کے جلیل القدر امام ابو حنیفہ اور جلیل ا لقدر محدث امام بخاری نے اختیار فرمایا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی نقطۂ نظر اِس معاملے میں قرین صواب ہے۔ ریاست پاکستان میں احناف کی اکثریت ہے، لیکن باعث تعجب ہے کہ قانون سازی کے موقع پر اُن کی راے یکسر نظر انداز کر دی گئی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ قانون قرآن کے بھی خلاف ہے، حدیث کے بھی خلاف ہے اور فقہاے احناف کی راے کے بھی خلاف ہے۔ اِسے لازماً تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

 

توہین رسالت کی سزا کے جو واقعات بالعموم نقل کیے جاتے ہیں، اُن کی حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے۔ ابو رافع اُن لوگوں میں سے تھا جو غزوۂ خندق میں قبائل کو مدینہ پر چڑھا لانے کے مجرم تھے۔ ابن اسحاق کے الفاظ میں ، ’فیمن حزب الاحزاب علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘۔کعب بن اشرف کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد اُس نے مکہ جا کر قریش کے مقتولین کے مرثیے کہے جن میں انتقام کی ترغیب تھی ، مسلمان عورتوں کا نام لے کر تشبیب لکھی اور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں رہتے ہوئے آپ کے خلاف لوگوں کو بر انگیختہ کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ بعض روایتوں کے مطابق آپ کو دھوکے سے قتل کر دینا چاہا۔ عبداللہ بن خطل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی تحصیل کے لیے بھیجا۔ اُس کے ساتھ ایک انصاری اور ایک مسلمان خادم بھی تھا۔ راستے میں حکم عدولی پر اُس نے خادم کو قتل کر دیا اور مرتد ہو کر مکہ بھاگ گیا۔ پھر یہی نہیں، یہ تینوں خدا کے رسول کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود آپ کی تکذیب پر مصر رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون قرآن میں جگہ جگہ بیان فرمایا ہے کہ رسولوں کے براہ راست مخاطبین عذاب کی زد میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ معاندت پر اتر آئیں تو قتل بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ محض توہین کے مجرم نہیں تھے، بلکہ اِن سب جرائم کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔ لہٰذا اِنھی کی پاداش میں قتل کیے گئے۔ عبداللہ بن خطل ایک خونی مجرم تھا۔ اُس کے بارے میں اِسی بنا پر حکم دیا گیا کہ کعبے کے پردوں میں بھی چھپا ہوا ہو تو اُسے قتل کر دیا جائے۔ اِسی طرح کے مجرم تھے جن کا ذکر سورۂ احزاب میں ہوا ہے۔ خدا کے پیغمبر سے مسلمانوں کو برگشتہ اور بدگمان کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ بالکل برباد کر دینے کے لیے یہ اُن کی خانگی زندگی کے بارے میں افسانے تراشتے، بہتان لگاتے اور اسکینڈل پیدا کرتے تھے، ازواج مطہرات سے نکاح کے ارمان ظاہر کرتے تھے، مسلمانوں میں گھبراہٹ پھیلانے اور اُن کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کی افواہیں اڑاتے تھے، مسلمان عورتیں جب رات کی تاریکی میں یا صبح منہ اندھیرے رفع حاجت کے لیے نکلتی تھیں تو اُن کے درپے آزار ہوتے اور اِس پر گرفت کی جاتی تو اِس طرح کے بہانے تراش کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے تھے کہ ہم نے تو فلاں اور فلاں کی لونڈی سمجھ کر اُن سے فلاں بات معلوم کرنا چاہی تھی۔ اِن کے بارے میں یہ سب چیزیں قرآن کے اشارات سے بھی واضح ہیں اور روایتوں میں بھی صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ مسلمان عورتیں اپنی کوئی چادر اوپر ڈال کر باہر نکلیں تاکہ لونڈیوں سے الگ پہچانی جائیں اور اُن کو ستانے کے لیے یہ اِس طرح کے بہانے نہ تراش سکیں۔ نیز فرمایا کہ یہ اشرار بھی متنبہ ہو جائیں کہ اِن حرکتوں سے باز نہ آئے تو عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں گے:

 

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلَّا قَلِیْلًا، مَّلْعُوْنِیْنَ، اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا.

 

ترجمہ: “یہ منافق اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ بھی جو مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اِن کے خلاف تمھیں اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ مشکل ہی سے تمھارے ساتھ رہ سکیں گے۔ اِن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں گے۔” سورہ الاحزاب، آیت نمبر 60-61
کعب بن اشرف کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد اُس نے مکہ جا کر قریش کے مقتولین کے مرثیے کہے جن میں انتقام کی ترغیب تھی ، مسلمان عورتوں کا نام لے کر تشبیب لکھی اور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں رہتے ہوئے آپ کے خلاف لوگوں کو بر انگیختہ کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ بعض روایتوں کے مطابق آپ کو دھوکے سے قتل کر دینا چاہا۔

 

اِن کے علاوہ جو واقعات سنائے جاتے ہیں، وہ اگرچہ سند کے لحاظ سے ناقابل التفات ہیں، لیکن بالفرض ہوئے ہوں تو اُن کی نوعیت بھی یہی سمجھنی چاہیے کہ منکرین کے سب و شتم سے اُن کی معاندت پوری طرح ظاہر ہو جانے کے بعد رسولوں کی تکذیب کا وہ قانون اُن پر نافذکر دیا گیا جو قرآن میں ایک سنت الٰہی کی حیثیت سے مذکور ہے۔ بعض مقتولین کے خون کو ہدر قرار دینے کی وجہ بھی یہی تھی۔ ’ لا یقتل مسلم بکافر‘ اِسی کا بیان ہے۔ علما اِن حقائق سے واقف ہیں، لیکن اِس کے باوجود اُن کا اصرار ہے کہ اِن واقعات سے وہ توہین رسالت کا قانون اخذ کریں گے۔ یہاں ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اُس قصے سے بھی استدلال کرنا چاہے جو سیدنا عمر کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے پر اُنھوں نے ایک شخص کی گردن اڑا دی تھی۔ ہمارے علما یہ واقعہ منبروں پر سناتے اور لوگوں کو بالواسطہ ترغیب دیتے ہیں کہ توہین رسالت کے مرتکبین کے ساتھ وہ بھی یہی سلوک کریں، مگر حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے پہلے، دوسرے ، یہاں تک کہ تیسرے درجے کی کتابیں بھی اِس واقعے سے خالی ہیں۔ ابن جریر طبری ہر طرح کی تفسیری روایتیں نقل کر دیتے ہیں، مگر اُنھوں نے بھی اِسے قابل اعتنا نہیں سمجھا۔یہ ایک غریب اور مرسل روایت ہے جسے بعض مفسرین نے اپنی تفسیروں میں نقل ضرور کیا ہے ،لیکن جن لوگوں کو علم حدیث سے کچھ بہرہ حاصل ہے ، اُنھوں نے وضاحت کر دی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اِس کی سند بالکل واہی ہے اور ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم کی سندوں میں اِس کا راوی ابن لہیعہ ضعیف ہے۔اِس کے بارے میں یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ مفسرین سورۂ نساء (۴) کی آیت ۶۵ کی شان نزول کے طور پر یہی واقعہ بیان کرتے ہیں۔ نساء کی یہ آیت اگرچہ کسی شان نزول کی محتاج نہیں ہے، تاہم جو واقعہ امام بخاری اور دوسرے ائمۂ محدثین نے اِس کی شان نزول کے طور پر بیان کیا ہے اور جسے مفسرین بالعموم نقل کرتے ہیں، وہ اِس کے برخلاف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر کا ایک انصاری سے پانی پر اختلاف ہو گیا۔ معاملہ حضور کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ زبیر اپنے کھیت کو سیراب کرکے باقی پانی اُس کے لیے چھوڑ دیں گے۔ اِس پر انصاری نے فوراً کہا: یا رسول اللہ، اِس لیے نا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں؟ یہ صریح بے انصافی اور اقرباپروری کا اتہام اور انتہائی گستاخی کی بات تھی۔ چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، مگر آپ نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنی بات مزید وضاحت کے ساتھ دہرا دی اور فرمایا کہ کھیت کی منڈیر تک پانی روک کر باقی اُس کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ علماکو حسن انتخاب کی داد دینی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو و درگذر اور رأفت و رحمت کی یہ روایت تو اُنھوں نے نظر انداز کر دی ہے، دراں حالیکہ یہ بخاری و مسلم میں مذکور ہے اور حضرت عمر کے گردن ماردینے کی ضعیف اور ناقابل التفات روایت ہر جگہ نہایت ذوق و شوق کے ساتھ سنا رہے ہیں۔

 

توہین رسالت کی سزا کے بارے میں جمہور فقہا کی راے کیا خاص اِس سزا سے متعلق قرآن و حدیث کے کسی حکم پر مبنی ہے؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ مسلمانوں کے لیے اِس کی بنا ارتداد اور ذمیوں کے لیے نقض عہد پر قائم کی گئی ہے۔ فقہا یہ کہتے ہیں کہ مسلمان اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے گا تو مرتد ہو جائے گا اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح غیر مسلم ذمی اِس کا مرتکب ہو گا تو اُس کے لیے عقد ذمہ کی امان ختم ہو جائے گی اور اِس کے نتیجے میں اُسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔ اِس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ سورۂ توبہ (۹)کی آیت ۲۹ میں غیر مسلم اہل کتاب کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے محکوم اور زیردست بن کر رہنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اُنھیں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اگر کوئی ذمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سب و شتم کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اِس کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ سرکشی پر اتر آیا ہے اور محکوم اور زیردست بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ فقہ اسلامی میں اِس استدلال کی ابتدا غالباً عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اِس راے سے ہوئی ہے، اُن کا ارشاد ہے:

 

ایما مسلم سب اللّٰہ ورسولہ او سب احدًا من الانبیاء، فقد کذب برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وھی ردۃ یستتاب، فان رجع والاقتل، وایما معاہد عاند فسب اللّٰہ او سب احدًا من الانبیاء وجھر بہ،فقد نقض العھد فاقتلوہ.

 

“جو مسلمان اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یا نبیوں میں سے کسی دوسرے نبی پر سب و شتم کرے گا، وہ رسول اللہ کی تکذیب کا مرتکب ہو گا۔ یہ ارتداد ہے جس پر اُس سے توبہ کا تقاضا کیا جائے گا۔ اگر رجوع کر لیتا ہے تو چھوڑ دیا جائے گا اور نہیں کرتا تو قتل کر دیا جائے گا۔ اِسی طرح غیرمسلم معاہدین میں سے کوئی شخص اگر معاند ہو کر اللہ یا اللہ کے کسی پیغمبر پر علانیہ سب و شتم کرتا ہے تو عہد ذمہ کو توڑنے کا مجرم ہو گا، تم اُسے بھی قتل کر دو گے۔” زاد المعاد، ابن قیم 379/4

 

منکرین حق کے خلاف جنگ اور اِس کے نتیجے میں مفتوحین پر جزیہ عائد کر کے اُنھیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اِس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اُس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔

 

فقہا کے نزدیک سزا کی بنیاد یہی ہے، لیکن قرآن و حدیث پرتدبر سے واضح ہو جاتا ہے کہ دور صحابہ کے بعد یہ بنیاد ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ ہم نے اپنی کتابوں، ’’میزان‘‘ اور ’’برہان‘‘ میں پوری طرح مبرہن کر دیا ہے کہ ارتداد کی سزا اُنھی لوگوں کے ساتھ خاص تھی جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اتمام حجت کیا اور آپ پر ایمان لانے کے بعد وہ کفر کی طرف پلٹ گئے۔ اُن کے بارے میں خدا کا فیصلہ یہی تھا کہ اگر کفر پر قائم رہیں گے تو اُس کی سزا بھی موت ہے اور ایمان لے آنے کے بعد دوبارہ کفر اختیار کریں گے تو اُس کی سزا بھی موت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’من بدل دینہ فاقتلوہ‘ (جو شخص اپنا دین تبدیل کرے ، اُسے قتل کر دو) اُنھی سے متعلق ہے۔ اُن کے لیے یہ سزا اُس سنت الٰہی کے مطابق مقرر کی گئی تھی جو قرآن میں رسولوں کے براہ راست مخاطبین سے متعلق بیان ہوئی ہے۔ زمانۂ رسالت کے بعد پیدا ہونے والے مسلمانوں سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نقض عہد کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اب دنیا میں نہ کوئی ذمی ہے، نہ کسی کو ذمی بنایا جا سکتا ہے۔ سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۲۹ اتمام حجت کے اُسی قانون کی فرع ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ چنانچہ منکرین حق کے خلاف جنگ اور اِس کے نتیجے میں مفتوحین پر جزیہ عائد کر کے اُنھیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اِس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اُس پر جزیہ عائد کرنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ مسلمان ریاستوں کے غیر مسلم شہری نہ اصلاً مباح الدم ہیں، نہ ذمی ہیں اور نہ کسی امان کے تحت رہ رہے ہیں جس کے اُٹھ جانے کی صورت میں اُن کے بارے میں قتل کا حکم دیا جائے۔ یہ سب چیزیں اب قصۂ ماضی ہیں۔ اِنھیں کسی لحاظ سے بھی بناے استدلال نہیں بنایا جا سکتا۔ اِس کے بعد دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں: ایک یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو سامنے رکھ کر قانون سازی کی جائے اور تعزیر کے طور پر کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ دوسرے یہ کہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳۔۳۴ کو قانون سازی کی بنیاد بنایا جائے۔ یہی دوسری صورت ہے جس کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ مائدہ کی اِن آیتوں کو بنیاد بنا کر قانون سازی کی جائے گی تو یہ تین چیزیں لازماً ملحوظ رکھنا ہوں گی، قرآن کے الفاظ اِس کا تقاضا کرتے ہیں: ۱۔ توہین کے مرتکب کو توبہ و اصلاح کی دعوت دی جائے گی اور باربار توجہ دلائی جائے گی کہ وہ خدا اور رسول کا ماننے والا ہے تو اپنی عاقبت برباد نہ کرے اور اُن کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور ماننے والا نہیں ہے تو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرے اور اِس جرم شنیع سے باز آجائے۔ ۲۔ اُس کے خلاف مقدمہ صرف اُس صورت میں قائم کیا جائے گا، جب وہ توبہ اور رجوع سے انکار کر دے؛ سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے؛ فساد انگیزی پر اتر آئے؛ دعوت، تبلیغ، تلقین و نصیحت اور باربار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے، بلکہ مقابلے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ ۳۔ سزا میں گنجایش رکھی جائے گی کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات تقاضا کرتے ہوں تو قتل جیسی انتہائی سزا کے بجاے اُسے کوئی کم تر سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

 

[spacer color=”BCBCBC” icon=”fa-times” style=”2″]

(پاکستان میں توہین مذہب کے قوانینی کی شرعی حیثیت پر یہ مضمون معروف عالم دین اور دانش ورجاوید احمد غامدی نے تصنیف کیا ہے اور ان کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔ ہم غامدی صاحب اور ان کے ادارہ المورد کے عملہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے یہ مضمون لالٹین کے قارئین کے لئے اپ لوڈ کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ )
یہ مضمون جاوید احمد غامدی صاحب کی ویب سائٹ پر پڑھنے کیلیے مندررجہ ذیل لنکس پر کلک کریں:

http://www.javedahmadghamidi.com/muqamaat/view/punishment-for-blasphemy-against-the-prophet-sws-part-1/ur

http://www.javedahmadghamidi.com/muqamaat/view/punishment-for-blasphemy-against-the-prophet-sws-part-2/ur

http://www.javedahmadghamidi.com/muqamaat/view/punishment-for-blasphemy-against-the-prophet-sws-part-3/ur