Categories
اداریہ

مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ

بہاولپور میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پرصحابہ سے متعلق ‘توہین آمیز’ مواد پوسٹ کرنے کے ‘جرم’ میں سزائے موت سنائی ہے۔ مقدس شخصیات، صحائف اور عقائد کی توہین جیسے معمولی واقعات کی دہشت گردی کی عدالتوں میں سماعت اور اس پر پھانسی جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا مذہب کے نام پر جبر اور ظلم کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔یہ مقدمہ اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا اس لیے زیادہ خوفناک اور غیر انسانی ہے کیوں کہ یہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار خیال پر پاکستان میں دی جانے والی پہلی ایسی سزا ہے۔ اس مقدمے کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت بجائے خود ایک ناانصافی ہے۔ اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی، آزادانہ اظہار رائے پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔

توہین مذہب و رسالت کی کسی متفقہ تعریف کی عدم موجودگی میں کسی بھی واقعے کو سزائے موت کا موجب جرم قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں انسانی آزادیوں، حقوق اور زندگی کی اہمیت چند مذہبی لوگوں کے عقائد اور جذبات سے بھی ارزاں ہے۔ یہ قانون ریاستی اور معاشرتی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کی پامالیوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر ریاستی اور معاشرتی جبر پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کی ایسی پر تشدد اور غیر جمہوری روایات کو جنم دے رہا ہے جو کبھی مشتعل ہجوم کی صورت میں سرعام قتل و غارت کے بہیمانہ واقعات کے لیے جواز بخشتی ہیں تو کبھی عدالتوں میں غیر انسانی فیصلوں اور سزاؤں کی وجہ۔

توہین مذہب و رسالت کے غیر انسانی قانون کے تحت دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت اور موت کی سزا جبر کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ دور غیر مسلم اور غیر سنی اقلیتوں کے لیے بالخصوص اور دیگر مکاتب فکر کے افراد کے لیے بالعموم ابتلاء اور آزمائش کا ایک پرآشوب دور ثابت ہو گا۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر روا رکھے جانے والے ریاستی اور غیر ریاستی تشدد کی لپیٹ میں آزادی اظہار رائے، اختلاف رائے اور انسانی آزادیاں بھی آئیں گی اور بہت جلد یہ تشدد مزید غیر منصفانہ قوانین، مزید غیر انسانی سزاؤں اور مزید بہیمانہ غارت گری کو فروغ دے گا۔ عدم برداشت اور تشدد کی یہ صورت طالبان یا داعش سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔ پاکستان متعدد فرقوں اور عقائد کے حامل افراد کا ملک ہے ایسے میں ایک فرقے کے لیے جو توہین مذہب، توہین رسالت یا توہین صحابہ ہے وہ دوسرے فرقوں کے لیے تاریخی حقائق اور عین ایمان ہے۔ توہین مذہب و رسالت کی تعریف کا یہی اختلاف ہر فرد کو جان لینے کا خدائی اختیار دینے کا باعث بنے گا۔

مقدس شخصیات کے مرتبے اور تاریخی حیثیت کے حوالے سے اختلافات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، اور کسی بھی فرد کو مقدس شخصیات کی تاریخی حیثیت پر سوال اٹھانے یا کسی دوسرے فرقے میں ان شخصیات کی حیثیت سے مختلف رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کو توہین مذہب و رسالت قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ باور کرنا بھی ضروری ہے کہ واقعتاً کوئی فرد اگر توہین کا مرتکب ہوا بھی ہے تو بھی اس معمولی جرم کو انسداددہشت گردی کی عدالتوں میں سننے اور اس کے لیے سزائے موت جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا تجویز کرنے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

ارباب اختیار کے نام کھلا خط

محترم سالار اعظم، محترم وزیر اعظم اور جناب چیف جسٹس صاحب!

 

سانحہ پشاور میں شہید طالب علموں کی دکھی ماؤں کو کچھ صبر آہی گیاہوگا جب سانحہ پشاور کے ذمہ داردرندوں اور وحشیوں کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا ہوگا۔ لیکن کلیجہ منہ کو آتا ہے جب ایک گونگی معذور بچی ادھورے اشاروں اور ان سنی آوا ز سے اپنی ماں آسیہ بی بی کے بارے میں پوچھتی ہے جس کو سانحپہ پشاور کے ذمہ داران جیسے جہنم زادوں کے خوف کے باعث جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟ ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہوئے ہمارا سماج ان کو چوڑے، چمار، ناپاک، پلید کہہ کر ان کے برتن الگ رکھتا ہے، ان سے مصافحہ کرنے سے قبل لاؤڈ اسپیکر سے فتوے کی آواز پر کان دھرتا ہے ان کو سکول میں باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ سماج کی ایسی ذہنی تربیت کون کرتا ہے۔کون ہے جس نے سمندری کے علاقے میں زاہدہ رانا ہیڈ مسٹرس کی ایسی مذہبی تربیت کی کہ اُس نے ایک8سالہ مسیحی بچی کو کہا کہ تم کوایک”کرسچن چوڑا” ہونے کے ناطے مسلمانوں کا باتھ روم استعمال کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ زہر پھیلانے والے ان ملاؤں کے سامنے عدلیہ، قانون اور ریاستی ادارے آخر کب تک سر تسلیم خم رکھیں گے؟ کب تک ان کو دین فروشی کے اجازت نامے جاری کریں گے؟

 

کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟
لعنت ہو ہم پر۔ لعنت ہو ہم پر۔ ہم پیغمبر رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے نام پر لوگوں کو قید کرتے ہیں، زندہ جلاتے ہیں، اینٹیں مارتے ہیں، قتل کرتے ہیں، گلیوں میں گھسیٹتے ہیں، بھٹے میں زندہ جلا دیتے ہیں۔کئی ایسٹر، کئی کرسمس گزر گئے لیکن ایک بے بس اور لاچار بیٹی توہین رسالت کے نام پر اڈیالہ جیل میں قید اپنی ماں سے برسوں سے جداہے۔ مختلف فرقوں کی تکفیری تحریریں سرعام بازاروں میں پڑی ہیں، فتوؤں کی آلائشوں سے لتھڑی کتابیں ہر بڑے کتب فروش کے ہاں بک رہی ہیں، فرقوں کے درمیان لفظی جنگ کے علاوہ بارہا دنگافساد بھی ہوئے ہیں جن میں مذہبی کتب بھی جلائی گئیں لیکن کبھی قانون حرکت میں نہیں آیا۔ کسی دانشور نے کبھی توہین رسالت کے قانون کے نام پر اقلیتوں پر ہونے والے طلم اور ان کے خلاف منافرت پھیلانے پر تنقید نہیں کی جبکہ ہندوستان میں اعزازات واپس کیے جارہے ہیں، لیکن یہاں بلدیاتی انتخابات میں انہی دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کیا جا رہا ہے جن کے سبب یہ ارض پاک اس حال کو پہنچی ہے۔کیا آپ نہیں جانتے ہیں کہ بے بس غیرمسلم پاکستانی اپنے لخت جگر سینوں میں چھپائے ہندوستان جارہے ہیں۔ مسیحی و ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کیا جا رہاہے۔ غارت گری کے حلف قرآن پر اُٹھائے جارہے ہیں۔

 

محترم وزیر اعظم!
ریاست تو اپنے عوام کی محافظ ہے، لیکن ایک مسیحی دکھیاری ماں پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگاکر اسے مذہبی شدت پسندوں کے خوف سے پابند سلاسل کر دیا گیاہے۔ مملکت خداد پاکستان کے سنہری قوانین کے تحت توہین مذہب کے قوانین تمام مذاہب اور ان کی محترم ہستیوں کو تحفظ حاصل ہے۔ لیکن احمدیوں، عیسائیوں، ہندووں اور یہودیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام چسپاں کیا جاتا ہے۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں، مسیحی بستیوں پر حملوں کے دوران انجیل مقدس اور احمدیوں کی مقدس کتب کے صحیفے بھی جلائے گئے ہیں، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام دکانوں پر فخر سے لگایا جاتا ہے لیکن ریاست انہیں تحفظ نہیں دیتی۔ مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔

 

مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔
محترم چیف جسٹس صاحب!
یہ سچ ہے کہ ایک بے بس اورلاچار مسیحی عورت شاید آئین پاکستان کے تحت مسلمان قرار پانے والوں کی طرح پنج وقتہ نمازی، پرہیزگار اور متقی نہیں، اکثریت کی رگوں میں موجزن دیانت داری اور حب الوطنی کی ایمانی حرارت کے برعکس شاید ہماری دانست میں آسیہ بی بی اس ایمان سے محروم ہے لیکن کیا آپ کی عقل اور ضمیر تسلیم کرتاہے کہ ایک ان پڑھ اور بے بس عورت آسیہ بی بی کو محض الزام اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر قید کر دیا جائے؟ ایک استاد جنید حفیظ کو نہ صرف قید رکھا جائے بلکہ اس کے وکیل راشد رحمان کو بھی قتل کر دیا جائے؟ آسیہ بی بی کے حق میں آواز اٹھانے پر سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا جائے۔ دن اور رات کے فرق سے محروم اس قیدی عورت کی بینائی اب ختم ہو رہی ہے جو8×10 کی کال کوٹھڑی میں قید ہے، جس کے ساتھ دونوں قید خانے بھی عورت قیدی نہ ہونے کی وجہ سے خالی اور ویران ہیں۔

 

محترم چیف جسٹس صاحب!
توہین رسالت کا الزام لگانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ ان گھناونے کرداروں کو بے نقاب کون کرے گا جو اپنے مفادات کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں، ان مظلوموں کو انصاف کون دے گا جو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بے گھر ہوتے ہیں، جان بچاتے پھرتے ہیں؟ ان کے تحفظ کے لیے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے جلسے، جلوس اور ریلیاں کیوں نہیں نکالی جاتیں؟ کیاآپ کا ضمیر یہ گواہی دینے کو تیار ہے کہ دنیا کے افضل ترین اور اعلیٰ ترین انسان حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، عقیدت اور حرمت کے نام پر سفاکیت، بے رحمی اور ایذارسانی جائز ہے؟ کیا ان کے نام پر ایسے گھناؤنے قوانین متعارف کروا کر بے گناہوں کو اذیتیں دینا گناہِ کبیرہ نہیں؟ کیا توہین مذہب اور توہین رسالت کے یہ قوانین غیر انسانی نہیں جو مزاج محمدیہ سے بھی متصادم ہیں؟

 

کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ کیا اسی بیٹیوں کو یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ جو زہرقید کی صورت میں تمہاری ماں کی رگوں میں اتار جارہا ہے اس سے سماج کے اندھیرے دور ہورہے ہیں؟ کون ہے جو ان معصوموں کو بتا سکتا ہے کہ اسلام کی خدمت کے لیے ان کی ماں پر توہین رسالت کو مقدمہ قائم کرنا ضروری تھا؟ اس مقدمے کے بعد سے پاکستان میں برکتوں اور رحمتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہر چہرہ نورو ہدایت سے جگمگا رہاہے۔ وظائف و تسبیحات میں مشغول معاشرہ اب صرف قیامت کے انتظار میں بے قرار ہے۔ دین کا خوب بول بالا ہو رہا ہے۔ ہر مدرسے سے رواداری، تحمل اوربرداشت کے چشمے پھوٹ رہے ہیں جو گلی کوچوں سے راستہ بناتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی کے پھاٹک پر دستک دے رہے ہیں، جو سیاست دانوں کے لیے بھی رشد و ہدایت کا باعث بن رہے ہیں ۔گویا تمہاری ماں آسیہ بی بی کو سزا دینے کے بعد پاکستان کا ہر کونہ ایمان اوراخلاق کے زیور سے آرستہ ہو چکا ہے۔ محبت، اخوت، بھائی چارے اور امن و سکون کی صدائیں چاروں صوبوں سے بلند ہو رہی ہیں۔

 

اے سپہ سالارِ اعظم!
سیاست دان، جج حضرات سب ہی مشکل حالات میں آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جمہوریت کے غسل کے لیے آپ ہی کے متبرک ہاتھوں کو چوما جاتا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت کے جج بھی آپ جیسے جری اوربہادر سپہ سالاروں کی ایک فون کال پر بحال ہوتے ہیں۔ آپ کے حلال شب خون کے دوران ریڈیو، ٹیلی ویژن کی دیواریں آپ کی ابرو کی ہلکی سی جنبش سے ریت کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ لہٰذا آپ سے ہی عاجزانہ درخواست ہے کہ ایک لاچار اور بے بس عورت کو قید سے آزاد کرنے کا بندوبست فرمائیں تاکہ ایک معذور بیٹی اپنی ماں سے مل کر اپنی گونگی زبان میں آپ کے لیے اظہار تشکر کے الفاظ دل میں ہی دہرا سکے۔

 

والسلام
ایک خیر اندیش شہری
Categories
نقطۂ نظر

مذہب کے نام پر خونریزی

چند روز پہلے خبر نشر ہوئی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالت کے مقدمے میں قید آسیہ بی بی کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد سے روک دیا ہے ۔آسیہ بی بی کے خلاف توہین رسالت کے مقدمے کی تفصیلات پڑھ کر تشویش ہوتی ہے کہ یہ کیسی متشدد سوچ اور فکر ہے جس کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت اور شان کے نام پر لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں غیر مسلموں کے لیے نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ۔کیا ایک نبی کے پیروکاروں کی یہ شان ہوتی ہےکہ دین کے نام پرایک غریب اور بے بس عورت کو اس کے بچوں سے جدا کر دیا جائے؟ توہین مذہب کے نام پرہندؤوں کے مندرڈھائے جارہے ہیں،عیسائیوں کی صلیبیں گرائی جا رہی ہیں ،مقدس اوراق جلائے جا رہے ہیں، گھروں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے، املاک کو لوٹا جا رہاہے ۔ عقید ے کے بنیاد پر شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کوگاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہاہے ۔احمدیوں کی قبروں کے کتبوں پر لکھا کلمہ طیبہ قانون کے رکھوالے مٹا رہے ہیں۔کیا یہ لوگ واقعی عشق الہیٰ اور عشق نبی میں ڈوبے ہوئے ہیں؟
پاکستان میں توہین رسالت کا قانون ایک ایسا آسان ترین پھندہ ہے جسے کوئی بھی مفاد پرست اور تنگ نظر شخص کسی غیر مسلم کے گلے میں ڈال سکتا ہے
نبی ؐسے جھوٹی اور منافقانہ محبت کے نام پر خون بہایا جا رہا ہے ۔لوگوں کے عقیدے ، جذبات، ایمان اور یقین کو فتوؤں کے زہر آلود تیروں سے چھلنی کیا جارہاہے یہی وجہ ہے کہ ایمان، اخلاق اور شعور سے عاری یہ گروہ جب حیوانوں کا سا وحشی روپ دھارتا ہے تو پھر لازماًتباہی و بربادی آتی ہے ۔ ان لوگوں کی زبان اور ہاتھ سے کوئی محفوظ نہیں ہے۔ ان کاکوئی وعظ کوئی درس ایسا نہیں جس میں نفرت ،تشدد اور تعصب کے بچھو رینگتے دکھائی نہ دیتے ہوں۔دین فروشی اور فتوی ٰبازی کے اس مکروہ کھیل تماشے میں غیر مسلم انتہائی خوف اور دہشت کی زندگی گزار رہے ہیں۔اموال ، جانیں اور عزتیں لوٹ مار اورجلاؤ گھیراؤ کی نذر ہو رہی ہیں۔اشتعال انگیزی اور نفرت کے انگاروں میں توہین رسالت کے جھوٹے مقدمات دہک رہے ہیں۔کتنے ہی بے گناہ افراد اس قانون کی وجہ سے جیلوں میں اپنی زندگی کے کئی برس گزار چکےہیں۔ان مقدمات میں جو عدالتوں سے باعزت بری ہوگئے وہ معاشرے کے تعصب ، نفرت اور غصے کی نذر ہوکر اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
پیچ دار عمامے پر امت مسلمہ کے دکھ کی کلغی سجانے والے سر کٹے فوجیوں سے فٹبال کھیلنے والوں کی حمایت میں دلائل و براہین کا انبار لگائے بیٹھے ہیں۔پاکستان میں توہین رسالت کا قانون ایک ایسا آسان ترین پھندہ ہے جسے کوئی بھی مفاد پرست اور تنگ نظر شخص کسی غیر مسلم کے گلے میں ڈال سکتا ہے ۔ معصوم اور بے گناہوں کے خون کی چاٹ لگ چکی ہے ۔افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ جب توہین رسالت کے قوانین کے غلط استعما ل کی بات کی جاتی ہے تودین فروش شر پسند کہتے ہیں کہ چونکہ ملک میں انگریزوں کے تمام قوانین میں خرابی اور سقم ہے اور ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے لہذااگر کوئی شخص توہین رسالت کے غلط الزام میں ہجوم یا کسی قاتل کا نشانہ بن جاتا ہے تو یہ بات بھی معمول کی قانونی غفلت سمجھنی چاہیے۔
آپ ﷺ نے منافقین کے سردارعبداللہ بن ابی سلول کی نماز جنازہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منع کرنے کے باوجود پڑھائی اور رحمت العالمین ہونے کاعملی ثبوت دے کر اسوہ حسنہ کی بنیاد رکھی
توہین رسالت کے مقدمات میں عوام کی جانب سےجس جاہلانہ اور ظالمانہ رد عمل دکھانے کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام تنگ نظر، شدت پسند اور متعصب دین سمجھا جاتاہے ۔ مسلمانوں کے اسی طرزعمل کا نتیجہ متنازع کارٹون ، دل آزار خاکے اور قرآن پاک کو نذر آتش کرنے والے واقعات کی صورت میں نکلتا ہے ۔مذہب کے نام پر قتل و غارت ،لوٹ مار، جلاؤ، گھیراؤ ، مذہبی علامات کی توڑ پھوڑ اور بے حرمتی کرنے والے واقعات کے پس پردہ کوئی بھی قوتیں ہوں انگلی ہمیشہ امن پسند اسلام کی جانب اُٹھتی ہیں ۔ایسی حرکتیں نہ صرف اسلام اور پاکستان کی رسوائی کا سبب بنتی ہیں بلکہ بعض بد بختوں کو توہین قرآن مجید اور توہین انبیاء کرام پر اکساتی ہیں۔
مشرکین نے آنحضرت ؐ کی ہر طرح سے توہین کی۔طائف کی وادی میں پتھروں سے لہولہان کیا۔سجدے کی حالت میں آپ ؐ پر اونٹ کی غلیط اور بد بودار آلائش رکھی گئی ۔گلی سے گزرتے ہوئے آپ ؐ پر گندگی پھینکی گئی ۔کبھی گلے میں پٹہ ڈال کر انتہائی سختی سے کھینچا گیا۔کبھی کسی شقی القلب نے آپ ؐ کو زہر دے ڈالا۔سرعام آپ ؐ کی تکذیب و تکفیر کی گئی ۔آپ ؐ کا نام بگاڑا گیا ۔آپ ؐ کو سخت مفلسی اور بے بسی کی حالت میں شعب ابی طالب کی گھاٹی میں ساتھیوں سمیت محصور کر دیا گیا۔قتل کی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کی گئیں۔ابو سفیان ، اس کی بیوی ہندہ اور حبشی غلام بھی فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ؐ کی رحمت اور معافی کے مستحق ٹھہرے ۔ وہی ہندہ جس نے آپ ؐ کے محبوب چجا حضرت حمزہؓ کی شہادت کے بعد انتہائی نفرت اور انتقام کی خاطر ان کا کلیجہ چبایا تھا۔لیکن ان سب واقعات کے باوجود آپ ؐ نے مخالفین کے ساتھ عفو درگزر سے کام لیابلکہ آپ ؐ کو اللہ تعالی ٰ کی طرف سے ان لوگوں سے اعراض کرنے اور صبر کرنے کی تعلیم دی گئی ۔منافقین کے لیے بھی کسی سزا کا ذکر نہیں ۔ آپ ﷺ نے منافقین کے سردارعبداللہ بن ابی سلول کی نماز جنازہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منع کرنے کے باوجود پڑھائی اور رحمت العالمین ہونے کاعملی ثبوت دے کر اسوہ حسنہ کی بنیاد رکھی۔ احکامات الہیٰ کی بجاآوری میں سستی کرنے پر مومنین کے گھروں کو آگ لگا دینے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن عملاً ایسا کرنے کی بجائے صرف اور صرف دعا اور صبر کی طرف متوجہ رہے ۔
توہین رسالت اور توہین مذہب کے لیے موت کی سزا درست سمجھنے والے احباب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رحمت للعالمین ؐ کا اسوہ ہرگز متشدد نہیں تھا اور اس حوالے سے مشہور تاریخی حوالے مستند نہیں ہیں مگر پھر بھی محض اپنے سیاسی عزائم کی خاطر ضعیف روایات کی تبلیغ فرماتے رہتےہیں
بعض محققین اور تاریخ دانوں کے مطابق آنحضرتﷺ نے شان میں گستاخی کرنے والوں کے قتل کا حکم دیااور صحابہ کرام نے بھی اسی فکر کو اپناتے ہوئے بعض گستاخوں کا سر تن سے جدا کیااور اس فعل پر آنحضرت ؐ نے بھی ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا۔سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو بد ترین مخالفین کی ایذا رسانی کے باوجود ان لوگوں سے اعراض ، عفو در گزر اور صبر سے کام لیتا رہا وہ جوش انتقام میں گستاخوں کے قتل کا حکم کیسے دے سکتا ہے۔ کیا یہ رویہ مذکورہ شخص کو رحمت للعالمینﷺ کے لقب سے سرفراز کرسکتا ہے ؟مزید یہ کہ کیا آنحضرت ؐکی حیات طیبہ میں ایسا متنازعہ اور متضاد رویہ ممکن ہے کہ آپ ؐ اپنی بیشتر زندگی میں بد ترین گستاخوں کے لیے رحم ، عفوودر گزر، صلہ رحمی کا مجسم وجود ہوں اور چند افراد سے اس کے بر خلاف سلوک فرمائیں۔ہر گز نہیں۔۔ہر گز نہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا بعض افراد سے سخت رویہ اپنانے کا سبب توہین رسالت نہیں بلکہ بعض ایسے ناقابل معافی قومی جرائم تھے جوقومی مفادات اور مسلمانوں کی مجموعی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے قابل تعزیر تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کا یہ فرمان آنحضرت ؐ کے رحمت للعالمین ہونے کی سچی گواہی دیتا ہے کہ ” آپﷺ نے کبھی اپنی ذات کی خاظر اپنے اوپر ہونے والی کسی زیادتی کا انتقام نہیں لیا۔ ”
توہین رسالت کے موضوع پر لکھے جانے والے مواد کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے نام نہاد محققین، ادیب، ناقدین، کالم نگار اور مفتیان اسلام کے سینوں میں علم و عرفان کے دریا موجزن ہیں۔آیتیں، حدیثیں اورواقعات نبویؐ زبانی یا د ہیں۔سب کچھ حفظ ہونے کے باوجود توہین رسالت کے ملزمان کو قتل کرنے کے لیے دوسروں کو اکساتے ہیں۔ توہین رسالت اور توہین مذہب کے لیے موت کی سزا درست سمجھنے والے احباب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رحمت للعالمین ؐ کا اسوہ ہرگز متشدد نہیں تھا اور اس حوالے سے مشہور تاریخی حوالے مستند نہیں ہیں مگر پھر بھی محض اپنے سیاسی عزائم کی خاطر ضعیف روایات کی تبلیغ فرماتے رہتےہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چونکہ توہین رسالت کے ملزم کو شدید ترین سزا دینی مقصود ہوتی ہے لہٰذ ا توہین رسالت کے سلسلے میں ملزم کے خلاف کاٹی گئی FIR میں ملزم سے منسوب کیے گئے الفاظ کے علاوہ آنحضرت ؐ، انبیاء کرام اور قرآن مجید کے بارے میں من گھڑت باتیں بھی شامل کر دی جاتی ہیں ۔ جج حضرات بھی عموماًتصدیق، بحث یا جرح کے بغیر ہی محض ایف آئی آرپڑھ کرہی ملزم کو موت کی سزا سنا دیتے ہیں۔ توہین رسالت کے مقدمات میں عشق رسول کے داعین کا طرزعمل سراسر اسوہ حسنہ کے خلاف ہے۔