Categories
نقطۂ نظر

کیا ہم سوشل میڈیا پر تنازعات تلاش کرتے ہیں؟

[blockquote style=”3″]

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ‘یہ ویب سائٹس کس طرح پاکستان اور دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں؟’ اس موضوع پر مضامین کا ایک سلسلہ لالٹین پر شروع کیا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں ان مضامین سے ادب، معاشرے، سیاست، صحافت، تفریح اور دیگر شعبہ ہائے زندگی پر ان ویب سائٹس کے اثرات سمجھنے میں مدد ملے گی۔

[/blockquote]

اس سلسلے کے دیگر مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

معلوم نہیں کوئی بھی چیز وائرل کس طرح ہوتی ہے اور کیوں اتنے بہت سے لوگ کسی ایک بات پر فوراً ٹویٹس اور تبصروں کے خنجر ایک دوسرے پر سونت لیتے ہیں۔ میرے لیے ایک تصویر یا ویڈیو کا ٹرینڈ کرنا اور پر ہونے والے مباحثوں کامعاملہ ایک معمہ ہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ایک تنازعے کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ بھی ایسا جو سنسنی پھیلا دے۔ ہم صرف ان باتوں کو پھیلاتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی ناپسندیدہ شخصیات کو بدنام کر سکیں یا اپنے پسندیدہ لوگوں کو ہر معاملے میں درست ثابت کر سکیں۔ وہ تمام باتیں جن سے ہمارے موقف کی تائید یا تردید نہیں ہوتی ہمارے لیے بے معنی ہیں۔ وہ تمام واقعات جو کسی بھی طرح ہمارے سیاسی رحجانات کی مخالفت یا حمایت نہیں کرتے ہمارے لیے قابل توجہ نہیں۔ ہمیں ہر وقت کچھ ایسا چاہیئے جو متنازع ہو یا جس کے باعث جھگڑا کھڑا ہو سکے، بات توتو میں میں تک پہنچے، گالم گلوچ کی نوبت آئے، پگڑیاں اچھالی جائیں اور ایک دوسرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑی جائے۔

 

ہمیں ہر وقت کچھ ایسا چاہیئے جو متنازع ہو یا جس کے باعث جھگڑا کھڑا ہو سکے، بات توتو میں میں تک پہنچے، گالم گلوچ کی نوبت آئے، پگڑیاں اچھالی جائیں اور ایک دوسرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑی جائے۔
ابھی حال ہی میں دو تین ایسے واقعات پیش آئے جو میرے اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں ملالہ یوسفزئی نے ایک بیان میں یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ ہجرت کر کے آنے والے بچوں کی تعلیم کے لیے عملی اقدامات کریں۔ یہ خبر کہیں بہت سی خبروں میں دبی رہی حالانکہ ملالہ یوسفزئی اور اس کے بیانات ہمارے ہاں ایک ایسا موضوع ہیں جو مذہبی غیر مذہبی، لبرل اشتراکیت پسند، دائیں اور بائیں بازو غرض ہر قسم کے حلقوں کے لیے ایک بہت بڑے تنازعے کا باعث ہے۔ ملالہ کے اس بیان پر اوریا مقبول جان کا کوئی کالم اس کے خلاف نہیں آیا، کسی اینکر پرسن نے اس معاملے پر ملالہ کی نیت پر شبہ کیا۔ اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر کوئی تنازع کھڑا نہیں ہوا۔ اس بات کو بس ایک خبر کے طور پر دیکھا گیا اور بات آگے بڑھ گئی چند فیس بک صفحات نے اس بات پر بھی مخالفین کا منہ چڑانے کی کوشش کی مگر دال نہیں گلی اور سب بھول بھال گئے۔

 

اسی طرح عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے ہندوستانی فوج کے کشمیر میں مظالم پر ہندوستان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا کشمیر کی صورت حال سے موازنہ درست نہیں۔ عاصمہ جہانگیر کو کئی مذہبی فیس بک صفحات ہندوستان کی ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ ان کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ یوٹیوب پر ویڈیوز میں انہیں ملک دشمن ثابت کیا جاتا ہے اور جب بھی وہ فوج پر گرجتی برستی ہیں تو یہ ویڈیوز وائرل ہو جاتی ہیں مگر میں نے کسی مذہب پسند صفحے پر اس بیان کے حوالے سے کچھ نہیں دیکھا۔ لیکن اس کے برعکس جب بھی وہ فوج کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کی جاتی ہے تو عاصمہ جہانگیر کے خلاف وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے کہ الامان۔

 

ماضی قریب میں سامنے آنے والی خبروں پر ہونے والی بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ان خبروں کے متنازع ترین پہلووں پر ہی بات چیت کی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بم دھماکوں اور انسانی سانحات کو بھی تنازعات میں تبدیل کر دیا گیا۔ مرنے والوں کے لاشوں، ان کے عقائد، ان کی بے گناہی اور ان پر سامنے آنے والا ردعمل ہر طرح سے جانبدار ہوتا ہے۔ اکثر فیس بک صفحات پر میں اس قسم کا مواد دیکھتی ہوں کہ اگر یہی بم دھماکہ کسی مسلم ملک میں ہوا ہوتا تو کیا تب بھی لبرلز کا یہی ردعمل ہوتا(مثلاً فرانس میں ہونے والے حملے اور امریکہ میں ایک ہم جنس پرستوں کے کلب پر حملہ)۔ اسی طرح ہم نے فرانس میں برقینی پر پابندی کے معاملے میں ایسی پوسٹس پڑھیں کہ اگر خواتین کے ساتھ فلاں واقعہ کسی مسلم ملک میں ہوا ہوتا تو کیا مذہبی جماعتیں اسی طرح احتجاج کرتیں وغیرہ۔

 

ماضی قریب میں سامنے آنے والی خبروں پر ہونے والی بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ان خبروں کے متنازع ترین پہلووں پر ہی بات چیت کی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بم دھماکوں اور انسانی سانحات کو بھی تنازعات میں تبدیل کر دیا گیا۔
ایسے لگتا ہے جیسے ہر فرد نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک نظریاتی مورچہ سنبھالا ہوا ہے اور وہ کسی بھی طرح کسی ایسی بات کی حمایت یا مخالفت کرنے کو تیار نہیں جس سے اس کے نظریاتی موقف کو گزند پہنچنے کا امکان ہو۔ ہر خبر اور ہر واقعے پر ہمارا ردعمل کبھی بھی متوازن، غیر جانبدارانہ یا عالمانہ نہیں ہوتا۔ بس ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اپنی نظریاتی جنتوں اور جہنموں کا وجود ثابت کیا جائے۔ کوئی یورپ پر آنچ نہیں آنے دیتا، کسی نے سعودی اور ایرانی حکومتوں کے دفاع کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ کچھ فیس بکیے فوج کے دفاع پر کمربستہ ہیں تو کچھ سیاستدانوں کے متوالے ہیں، کچھ کو سب خرابیاں مذہب اور مولوی میں دکھائی دیتی ہیں اور کوئی ہر معاملے میں امریکہ کی مخالفت فرض سمجھتا ہے۔

 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے ہمارے تنازعات کی ٹوہ میں رہنے کے رویے کو پرورش دی ہے۔ ہم جو پہلے ہی ہر چیز میں سازش تلاش کرتے رہے ہیں اور ہر بات کو جھگڑے کی شکل دینے میں مہارت رکھتے ہیں سوشل میڈیا پر جہاں ہمارے لیے اپنی شناخت چھپانا بھی ممکن ہے اور کسی بھی شخص سے براہ راست ٹاکرے کا امکان بھی نہیں وہاں تنازعات کو تصادم کی شکل دینا بے حد آسان ہو گیا ہے۔ ہم ہر معاملے کو ایک تنازعے کی شکل دینا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اگر ایک تنازعہ موجود نہیں ہے تو کھڑا کیا جائے، اگر موجود ہے تو اسے بھڑکایا جائے، اگر تنازع بھڑک رہا ہے تو ہم اس میں اپنے اپنے نظریات کا ایندھن جھونکنے میں لگے رہتے ہیں تاوقتیکہ کہ ہمارے اپنے ہاتھ جھلسنے لگیں۔ یہ الاو تب تک روشن رکھے جاتے ہیں جب تک کہیں کوئی اور چنگاری آن لائن نہ ہو جائے۔

 

ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اگر ایک تنازعہ موجود نہیں ہے تو کھڑا کیا جائے، اگر موجود ہے تو اسے بھڑکایا جائے، اگر تنازع بھڑک رہا ہے تو ہم اس میں اپنے اپنے نظریات کا ایندھن جھونکنے میں لگے رہتے ہیں تاوقتیکہ کہ ہمارے اپنے ہاتھ جھلسنے لگیں۔
تنازعات کی ٹوہ میں رہنے کے اس رحجان نے ہماری عام زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم جو پہلے ہی ہر شخص کے معاملے میں Judgmental تھے ہم نے اب یہ کام پہلے سے کہیں زیادہ شروع کر دیا ہے۔ فلانے کی بات مت سنو وہ لبرال فاشسٹ ہے، اس کی تحریر مت پڑھو کہ وہ بنیاد پرست مولوی ہے، اس کا پیج لائیک مت کرنا وہاں را کے ایجنٹ بیٹھے ہیں، اس کو بلاک کر دو یہ تو ملحد ہو گیا ہے، فلاں یہ ہے اور فلاں وہ ہے کے لیبل لگانا اتنا آسان ہو گیا ہے کہ ہر کسی کی ہر بات متنازع ہو گئی ہے اور ایسے میں کہیں بھی کوئی بھی معقول یا متوازن رائے پڑھنے کو نہیں ملتی۔ موٹروے پولیس کے اہلکار پر فوجی افسران اور جوانوں کے تشدد کی خبر پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہوا وہ اس کی ایک حالیہ مثال ہے۔ سوائے ‘ہم سب’ پر شائع ہونے والی ایک دو تحاریر خصوصاً محترم وجاہت مسعود کی تحریر کے ہر کسی نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے اور سنگ باری شروع ہو گئی۔ پہلے پہل فوج کو بدنام کیا گیا پھر اس پورے واقعے کو ہی فوج کے خلاف پروپیگنڈا قرار دے کر تنازعے کی نذر کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ تخریب پسندی بہت بری طرح سے ہمارے دنیا اور لوگوں سے متعلق تصورات کو بدل رہی ہے۔ اور بدقسمتی سے یہ تبدیلی نہایت منفی ہے۔ اب ہم سوشل میڈیا سے باہر بھی ایسے ہی رویوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سبزی خریدتے ہوئے، بچوں کو سکول چھوڑتے ہوئے، کلاس میں پڑھاتے ہوئے یا اپنے گھر والوں، پڑوسیوں اور کولیگز سے بات کرتے ہوئے ہم صرف تنازعات کو ہوا دیتے رہتے ہیں اور کسی بھی ایسے شخص پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں جو ہم سے مختلف نظریات رکھتا ہو۔ ہمیں ہر وقت ایک تنازعے کی تلاش رہتی ہے اور اگر نیٹ نہ ہو، یا کوئی متنازع چیز ٹرینڈ نہ کر رہی ہو تو ہم عجیب سی craving کا شکار ہو جاتے ہیں کہ بس ابھی کوئی ایسی بات ہو کہ ہم خوب تالیاں پیٹیں، تو تڑاخ کریں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں۔

 

‘تنازع پسندی’ کی یہ انسانی جبلت معلوم نہیں آگے کیا رخ اختیار کرے گی لیکن یہ بات طے ہے کہ اب جنگیں ٹی وی پر نہیں درحقیقت سوشل میڈیا پر لڑی جا رہی ہیں۔ کسی بھی خبر کے نیچے بس پاکستانیوں یا ہندوستانیوں کے کمنٹس پڑھ لیجیے آپ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ تنازعات کس طرح پیدا ہو رہے ہیں۔ کس طرح ہم سب ایک طرف ان تنازعات کا حصہ بننے پر مجبور بھی ہیں اور اپنی ٹویٹس، پوسٹس اور میمز کے ذریعے تنازعات کھڑے کرنے کی دبی دبی خواہش بھی رکھتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

کیا سوشل میڈیا پاکستان کو تبدیل کر رہا ہے؟

[blockquote style=”3″]

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ‘یہ ویب سائٹس کس طرح پاکستان اور دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں؟’ اس موضوع پر مضامین کا ایک سلسلہ لالٹین پر شروع کیا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں ان مضامین سے ادب، معاشرے، سیاست، صحافت، تفریح اور دیگر شعبہ ہائے زندگی پر ان ویب سائٹس کے اثرات سمجھنے میں مدد ملے گی۔

[/blockquote]

اس سلسلے کے دیگر مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی واقعے کی تصایر یا ویڈیوز سامنے آئی ہوں اور پورے پاکستان میں اس پر بات چیت شروع ہو گئی ہو۔ تصور کیجیے کہ فوج جیسا طاقت ور ادارہ محض چند تصاویر اور ایک ویڈیو کے وائرل ہونے سے اس واقعے پر تحقیقات کا بیان دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔کیا یہ سوشل میڈیا کے بغیر ممکن تھا؟ ہم سب کو سوات کی وہ ویڈیو بھی یاد ہو گی جس میں طالبان ایک لڑکی کو سرعام کوڑوں سے پیٹ رہے ہیں۔ اس ایک ویڈیو نے پورے پاکستان میں رائے عامہ کو سوات آپریشن کے حق میں پھیر دیا تھا۔ کیا یہ سوچا جا سکتا ہے کہ اس ایک ویڈیو کے بغیر کسی بھی طرح سوات آپریشن کی حمایت پر لوگ آمادہ ہوتے؟ یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوا، ایلان کردی کی تصویر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ داعش کی جانب سے ٹویٹر اور فیس بک کے ذریعے بھرتیاں نئی بات نہیں۔

 

تصور کیجیے کہ فوج جیسا طاقت ور ادارہ محض چند تصاویر اور ایک ویڈیو کے وائرل ہونے سے اس واقعے پر تحقیقات کا بیان دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔کیا یہ سوشل میڈیا کے بغیر ممکن تھا؟
دھرنے کے دوران آئی ایس پی آر کی ٹویٹس ہوں، پشاور حملے کے بعد لال مسجد کے باہر Reclaim your mosque کا احتجاج ہو، کراچی میں رینجرز اہلکاروں کے نوجوانوں پر تشدد کی ویڈیو ہو، عائشہ ممتاز کے ریسٹورنٹس پر چھاپے ہوں۔۔۔ کئی اہم معاملات میں ایک عام سے آدمی کے ہاتھ میں پکڑا ایک عام سا سمارٹ فون بھی اتنا ہی طاقت ور ثابت ہوتا ہے جتنا فوج جیسے طاقت ور ادارے کا سوشل میڈیا اکاونٹ۔ ہم نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز، تصاویر اور میمز کے ہاتھوں پاکستان میں صورت حال تبدیل ہوتے دیکھی ہے۔ ایک ٹویٹ، ایک ویڈیو، ایک تصویر وائرل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام آدمی بھی اب ہمہ وقت ایک صحافی ہے۔ بلوچستان میں بیٹھے علیحدگی پسند بھی اپنی آواز دنیا تک اسی ذریعے سے پہنچا رہے ہیں، جماعت الدعوۃ اپنی فلاحی سرگرمیوں کی تشہیر بھی یہاں کر رہی ہے، کھانے پینے کی چیزوں کے اشتہار بھی یہاں دکھائی دیتے ہیں۔ 2013 میں تحریک انصاف کے نوجوان کارکنوں نے اپنی جماعت کی کامیابی کا خواب سوشل میڈیا پر ہی دیکھا اور دکھایا تھا۔ قندیل بلوچ نے لاکھوں لوگوں کو اپنا مداح اسی پلیٹ فارم پر بنایا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا واقعی پاکستان کو تبدیل کر رہا ہے؟ کیا ہماری سیاست، ادب، ثقافت، مذہب اور معیشت پر اس ذریعہ اظہار کا کوئی بہت ٹھوس اثر ہوا ہے یا یہ محض چائے کی پیالی میں ایک طوفان جیسا ہے۔

 

سوشل میڈیا کیا واقعی حقیقی معنوں میں کوئی تبدیلی لے کر آ رہا ہے؟ کیا اس کے اثرات پرنٹنگ پریس، ریڈیو اور ٹی وی کی طرح ہمہ گیر ہوں گے؟ کیا وی سی آر اور ڈش انٹینا کی آمد کی طرح سوشل میڈیا کی دستیابی بھی ہماری ایک پوری نسل کو متاثر کر رہی ہے؟ یا یہ تبدیلی وبدیلی کی بات بھی بس سوشل میڈیا کے ایک وائرل سٹیٹس کی طرح ہے اور پھر سب کچھ پہلے جیسا ہی ہو جائے گا یا سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے؟ سوشل میڈیا کے پاکستانی معاشرے، سیاست، ادب، ثقافت اور زندگی کے روزمرہ پہلووں پر اثرات کو کئی طرح سے دیکھا جا سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں بہت سے مصنفین اس معاملے پر لالٹین کے لیے لکھیں گے۔ میری ناقص رائے میں سوشل میڈیا سے آنے والی تبدیلی کو کئی مختلف طرح سے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس درحقیقت سماج ہی کا ایک عکس ہیں اور یہ عکس حقیقی دنیا سے متعلق آپ کو ایک فریب تو دے سکتا ہے لیکن اس سے حقیقی دنیا اور اس کو تبدیل کرنے والے محرکات بہت شدت سے متاثر نہیں ہوتے۔
ایک نقطہ نظر تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمارے معاشرے کو بہت زیادہ تبدیل کیا ہے۔ یہ تبدیلی اخبار، ریڈیو، ٹی وی اور سنیما سے بڑی تبدیلی ہے کیوں کہ اب لوگ صرف ابلاغ عام کے ذرائع سے حاصل ہونے والے پیغام کو وصول کرنے والے ہی نہیں رہے اب وہ خود بھی اپنی بات اربوں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اب ہر فرد بغیر کسی ادارتی کنٹرول کے کچھ بھی کہیں بھی پوسٹ کر سکتا ہے اور وہ حقیقی معنوں میں ایک عالمی برادری کا حصہ ہے۔ اب معلومات کے بہاو کو کوئی نہیں روک سکتا۔ کوئی سنسر شپ عائد نہیں کی جا سکتی۔ ہر شخص کو صحیح معنوں میں اظہار کا حق مل گیا ہے اور اب انسان واقعی اپنی آواز پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ اب ہم دنیا سے غیر متعلق نہیں رہ سکتے ہم ہر وقت پوری دنیا سے رابطے میں ہیں۔

 

دوسرا نقطہ نظر یہ ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا نے کچھ بہت تبدیل نہیں کیا سوائے ایک میڈیم کے۔ اس سے پہلے بھی لوگ یونہی افواہیں پھیلاتے تھے، جھوٹ سچ پر یقین کرتے تھے اور ایسے ہی تعصبات کے ساتھ اپنے ہم خیال حلقوں تک محدود رہا کرتے تھے۔ خود نمائی کیا کرتے تھے، ان میں ایسے ہی تعصبات تھے جیسے آج فیس بک پر دکھائی دیتے ہیں۔ فیس بک کے نتیجے میں لوگوں کو اظہار کی طاقت تو مل گئی ہے لیکن اس کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوا کہ ہر شخص کا دائرہ اثر بھی عالمی وسعت کا حامل ہو گیا ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ بلوچستان کے پہاڑوں میں روپوش علیحدگی پسندوں کی ٹویٹس بھی اتنی ہی طاقت ور ہوں جتنی آئی ایس پی آر کی ہیں۔ یہ لازم نہیں کہ ایک نئے گلوکار کا گیت بھی اتنا ہی وائرل ہو جائے جتنا کوک سٹوڈیو کی ویڈیوز ہیں۔

 

بدقسمتی سے ہم مختلف الخیال لوگوں کی ایک کائنات کا حصہ بننے کی بجائے ایک ہی سورج کے گرد چکرانے والے سیاروں کی کہکشاوں میں بٹ گئے ہیں
ایک تیسرا تجزیہ یہ بھی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس درحقیقت سماج ہی کا ایک عکس ہیں اور یہ عکس حقیقی دنیا سے متعلق آپ کو ایک فریب تو دے سکتا ہے لیکن اس سے حقیقی دنیا اور اس کو تبدیل کرنے والے محرکات بہت شدت سے متاثر نہیں ہوتے۔ مثلاً سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود انتخابات میں اسے سوشل میڈیا کے برعکس بہت کم نشستیں ملیں۔ فیس بک پر مسلم لیگ نواز کے خلاف بے پناہ پراپیگنڈا کے باوجود ان کی جماعت پاکستان میں ناصرف حکمران ہے بلکہ اپنے ووٹ بنک کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ درحقیقت ہم جس طرح ماضی قریب میں ٹیلی وژن چینلوں پر دکھائی دینے والے پاکستان کو اصل پاکستان سمجھتے تھے اسی طرح ہم اب سوشل میڈیا پر نظر آنے والے پاکستان کو حقیقی پاکستان سمجھ رہے ہیں۔ حقیقی دنیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس میں جو تعلق ہے وہ ان دونوں دنیاوں کو متاثر تو کر رہا ہے مگر اس سے سماجی، سیاسی اور معاشی نظام بالکل بدل جائے گے یہ قیاس کرنا مشکل ہے۔ سماجی، سیاسی اور معاشی نظام کو سماجی، سیاسی اور معاشی عوامل ہی تبدیل کریں گے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تبدیلی کے بہت سے محرکات میں سے محض ایک ہے۔ اس کا اثر حقیقت میں اس سے کہیں کم ہے جتنا ہمیں محسوس ہوتا ہے۔

 

میرے خیال میں اس تمام بحث کو یوں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بہر طور سماجی رابطوں کے لیے ہیں، ان ویب سائٹس سے فرد کو اظہار اور رابطے کی آزادی ملی ہے لیکن اس آزادی کے نتیجے میں ہم اپنے ہم خیال حلقوں تک محدود تر ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم مختلف الخیال لوگوں کی ایک کائنات کا حصہ بننے کی بجائے ایک ہی سورج کے گرد چکرانے والے سیاروں کی کہکشاوں میں بٹ گئے ہیں اور مسلسل دوسرے سورجوں اور کہکشاوں سے دور ہو رہے ہیں۔ ہم سب کو یہی لگ رہا ہے کہ ہم سب کے نقطہ نظر کے مطابق دنیا بہتر یا کہتر ہو رہی ہے، مگر درحقیقت ہم اپنی ذات اور اپنی پسند کے کنوئیں میں پہلے سے زیادہ گہرائی میں اتر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو اپنے لائیک کیے ہوئے پیجز اور فرینڈ لسٹ پر ایک نظر ڈالیے اور دیکھیے کہ لائیکس اور فینڈز کی اس فہرست میں آپ سے اختلاف رائے رکھنے والے کتنے لوگ اور پیجز ہیں۔