Categories
فکشن

عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)

اس کے جرموں کی فہرست طویل ہے، یہ تو ہمیں پہلے معلوم تھا لیکن یہ جرم اتنے سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ ان کی زندگی میں ہمیں نہیں ہوسکا۔جس قاضی نے زہر کے ذریعے اس کی موت کا فیصلہ لکھا، وہ بھی اس کے جرائم کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ہمیں یقین ہے کہ اگر اسے یہ اندازہ ہوتا کہ اس نے کتنے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اس کی موت کے لیے زہر کا انتخاب نہ کرتا۔ اسے اندازہ ہوتا بھی کیسے؟۔۔۔۔لیکن اسے اندازہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ٹھیک ہے اس نے دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ لکھا، لیکن اگر قاضی جیسا شخص بھی دستیاب شواہد کے پار نہ دیکھ سکے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ ہر جرم میں لذت ہوتی ہے جو بعد میں عادت میں بد ل جاتی ہے۔۔۔ تو اور کون سمجھے گا۔۔۔۔اہل علم؟۔۔۔۔انھیں تو آپس کے جھگڑوں سے فرصت نہیں۔۔۔۔۔خلیفہ؟۔۔۔۔اس کے لیے جرم صرف وہی ہے جس سے اس کے تخت کو خطرہ ہواور ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا ہے کہ ان کے تخت کے تین پائیوں کو انھی لوگوں نے سہارا دے رکھا ہوتا ہے جن کے کرتوتوں سے خلق خدا کی جان پربنی ہوتی ہے۔اسے بھی قاضی نے اس وقت طلب کیا تھا،جب خلیفہ کو اس کے جاسوسوں نے بتایاکہ اس نے شہر کے چوک میں اپنی نئی کتاب سے ایک صفحہ پڑھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے،اسے رات کو نیند نہیں آتی۔قاضی کو کہا گیا کہ وہ اس کی ساری کتاب پڑھے۔ قاضی نے بس اسی بات پر عمل کیا جو خلیفہ نے کہی۔ اس کی دوسری کتابیں تو اب سامنے آئی ہیں۔ خدا کے نیک بندو، کھود ڈالو اس کی قبر،نکالو اس ملعون کو۔ ٹھوکریں مارو اس کے اس سر کو جو مجرمانہ باتیں سوچتا تھا، توڑ ڈالو ایک ایک انگلی جس سے مجرمانہ باتیں لکھتا تھا۔ روند ڈالو اس کے سینے کو جس میں ایک گناہ گار دل تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصر کا وقت تھا۔ نماز کے فوراً بعد خبر جنگل کی آگ سے بھی تیز ی سے بستی میں پھیلی۔ سوائے دو لوگوں کے سب اشتعال میں آ گئے۔ سب کا رخ قبرستان کی طرف تھاجو بستی سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔

چار اشخاص ایک قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ابھی آگے نہ جاو، رکو۔ پہلے شیخ صاحب تقریر فرمائیں گے۔ وہ ان سب ہانپتے لوگوں سے کہہ رہے تھے جو ایک دوسرے سے پہلے پہنچنے کی کوشش میں تھے اور جن کے چہروں سے وہ ایمان افروزجلال نمایاں تھا، جس سے یہ بستی والے چند سال پہلے تک خود واقف نہیں تھے۔

’’ہم نے مشکل سے اپنی بستی کو ان کے پلید وجود سے پاک کیا تھا۔ ہمارے بزرگ بڑے بھولے تھے، انھیں یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ روئے زمین پر ان سے بڑھ کر کوئی وجود ناپاک نہیں۔ انھوں نے انھیں یہاں رہنے کی اجازت دیے رکھی،ان کے ساتھ میل جول رکھا۔انھیں اپنے گھروں میں آنے جانے، دکانوں سے سودا سلف خریدنے کی اجازت دیے رکھی۔اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ خود کو ہم جیسا سمجھنے لگے۔ اکڑ کر چلنے لگے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوادی۔ بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔ ہمارے بڑے، بھولے تھے، یہ احمق نکلے۔عہدہ بڑ اہوتا ہے یا عقیدہ؟ آگے حساب عہدے کا ہوگا یا عقیدے کا؟ بھائیو، مت بھولو، ہم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں نے دنیا کی دولت، طاقت، عہدے،اختیار کے لالچ میں آکر بد عقیدہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کیا کیا؟ ہم سب نے،خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے، ان سب کو اپنی بستی سے نکال دیا۔الحمد للہ،ان کے گھروں کو آگ لگائی تاکہ ان کے وجود کی طرح نجس ملبے کا نشان بھی مٹ جائے۔ہم نے ان کے ٹھکانوں کی جگہ نئے گھر بنائے، سوائے ایک گھر کے جسے عبرت کی خاطر چھوڑ دیا گیا ہے۔ان گھروں کی تقسیم پر ہم آپس میں لڑے،مقدمہ بازی بھی ہوئی۔یہ سب ان کی بد روحوں کے اثرات تھے کہ ہم میں اتفاق نہ ہوسکا۔ ان کی دکانوں پر ہم میں جھگڑا ضرور ہوا، مگر خدا کا شکر ہے کہ دو جانوں کی قربانی کے بعد ہمیشہ کے لیے وہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ اب وہاں اللہ کا گھر تعمیر کر دیا گیا ہے۔ان میں سے کچھ نے اپنا بد عقیدہ چھوڑ کر ہماری طرح صحیح العقیدہ ہونے کی پیش کش کی مگر ہم ان کے جھانسے میں نہیں آئے۔ ان کی ایک بڑی سازش کو ہم نے ناکام کیا۔ وہ اپنے چند لوگوں کو ہم میں شامل کرکے،ہمارے عقیدے خراب کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے بروقت ان کی توبہ میں ان کی بد نیتی کو بھانپ لیا۔ لاریب،خدا اپنے نیک بندوں کو گناہگاروں کی چالوں کو پہچاننے کی توفیق ارزاں فرماتا ہے۔ ہم نے اب ان کی نئی چال کو بھی بھانپ لیا ہے۔ وہ ہمارے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کرکے واپس بستی میں آنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے زیادہ ان کے عقیدے کے غلط اور گمراہ ہونے کا ثبوت کیا ہوگا کہ انھوں نے رات کی تاریکی میں ہمارے قبرستان میں اپنے ایک پلید وجود کو دفن کیا۔ یہاں ہمارے بزرگوں کی نیک روحیں بستی ہیں۔ ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟ آئو، اس ناپاک وجود کو اس پاک مٹی سے نکال باہر کرو۔‘‘

شیخ صاحب کی تقریر ابھی جاری تھی کہ ایک بزرگ بولے۔’’ رات اور قبر سب عیب چھپاتی ہے، لیکن ایک بد عقیدہ وجود عیب تھوڑا ہے۔ پر ہم اسے کیسے نکالیں گے؟ اسے ہاتھ کیسے لگا سکتے ہیں؟‘‘
سب نے اس بزرگ کی تائید کی۔
’’اس کا بھی حل ہے‘‘۔ شیخ صاحب ترنت بولے۔’’ ہم اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ جوان لوگ کفن کو پکڑ کر کھینچیں گے۔بعد میں سات بار کلمہ شریف پڑھ کو خود کو پاک کر لیں گے‘‘۔
’’ہم اسے کہاں پھینکیں گے‘‘؟
’’کتوں کے آگے‘‘ ایک نوجوان جوش سے بولا۔
’’ہماری بستی کے کتے بھی ناپاک ہوجائیں گے‘‘۔ایک اور نوجوان زیادہ جوش سے بولا۔
اس پر قہقہہ پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی جس کتاب کا جو صفحہ کھولتے ہیں، اس میں کفر ہی کفر ہے۔ ایک شیطان ہمارے درمیان موجود رہا،اور ہم بے خبر رہے۔ اس کا دماغ آدمی کا تھا ہی نہیں۔اتنا کفر ایک شیطان کے ذہن ہی میں بھرا ہوا ہوسکتا ہے۔شیطان سے زیادہ ذہین کون ہوگا؟۔۔۔ذہین لوگوں سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں ہوتا۔۔۔جو خود سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔خلیفہ اور اس کے دربار میں موجود عالموں کے ہوتے ہوئے جو سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔ اس کے شر سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے سوچنے ہی نہ دیا جائے۔۔۔۔ سنا ہے ایک دور کے ملک میں ایسے آدمی ہیں جو اسی کی طرح کی باتیں کہتے ہیں۔آپ سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ بھی وہیں سے آیا ہوگا یا اس نے وہاں کی سیر کی ہوگی،جبھی وہ ہم سے مختلف تھا۔ ہم نے غور کیا ہی نہیں کہ وہ کس کس سے ملتا تھا،کہاں کہاں جاتا تھا۔ ہمارے خلیفہ نے بھی تو ظلم کیا، سب کے لکھنے پڑھنے کا انتظام نہیں کیا۔ بس چار آدمی پڑھ لیے، باقی سب ان کی مجلس میں جا کر ان کی باتیں سن لیتے تھے۔۔۔۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں خلیفہ کے لیے یہی مناسب تھا۔ بس اپنا ایک خاص آدمی وہاں بٹھا دیا۔سب معلوم ہوگیا کہ عالم کیا سوچتے ہیں،عوام کس بات کی تائید،کس کی تردید کرتے ہیں۔۔۔۔ اگر وہ چوک والا واقعہ نہ ہوتا تو اس کی حقیقت کا پتا کس کو چلنا تھا۔۔۔۔ویسے خلیفہ کی حکمت کی داد دینی چاہیے۔ اسے ایک عام سی بات سے،اس شیطان کے ذہن میں چلنے والی خاص بات کا پتا چل گیا۔ خلیفہ اگر اشارے نہ سمجھ سکے تو اسے خلیفہ کون کہے اور کیسے وہ خلیفہ رہ سکے۔۔۔۔۔ابھی کل کی بات ہے،میں نے اس کی ایک کتاب کہیں سے حاصل کی۔۔۔۔آپ ٹھیک فرماتے ہیں کفر کی طرف ہر آدمی کھنچتاہے۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس کی سب کتابوں میں کفر کی باتیں ہیں، مگر میرا دل۔۔۔یا شاید میرا ذہن ان کی طرف کھنچا۔۔۔۔شیطان کے فریب میں ہم ایسے ہی تو نہیں آتے۔۔۔۔اس کی کتاب میں ایک حکایت تھی۔ ’’ ایک کوے نے دوسرے کوے سے پوچھا، ہم سب کالے کیوں ہیں؟ دوسرے کوے نے کہا: تو ضرور کسی ایسے دیس سے ہوکر آیا ہے جہاں سفید کوے بستے ہیں۔ پہلا بولا: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا: دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتا۔ پہلے نے پوچھا، یہ علم تجھے کیسے حاصل ہوا؟ دوسرا بولا: میں اس دیس سے ہو کر آیا ہوںجہاں کے سب کوے سفید ہیں، مگر میں چپ رہا۔پہلا اس بات پر بھی چپ نہ رہ سکا۔پوچھا: تو اتنی بڑی بات جان کر کیسے چپ رہا؟ اس پر دوسرے کوے نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر گویا ہوا: میں نے پہلے آدھی بات بتائی۔اب پوری بات سن۔ یہ سچ ہے دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتااور یہ بھی سچ ہے کہ دوسروں کو دیکھ کرہم اپنی اصل پر شر مندہ بھی ہوتے ہیں، جیسے تو‘‘۔وہ ہمیں اپنی اصل پر شرمندہ کرتا تھا۔ایسے بد طینت شخص کی لاش کو قبر سے نکال کر ہم نے نیکی کا کام کیا۔خلیفہ کے حکم سے اس کی ساری کتابیں جمع کی جارہی ہیں۔ ان کے بارے میں جلد ہی فیصلہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے اس لاش کی منھ مانگی قیمت وصول کرلیں۔
یہ تمھارا کیا لگتا ہے؟
کچھ نہیں، مگر بہت کچھ۔
تم اس بستی کے ہو،ہم تمھاری سات نسلوں کو جانتے ہیں، تمھیں اس سے کیا ہمددری ہے؟
یہ آدمی نہیں لاش ہے۔ عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں۔
تم گمراہ کررہے ہو، یہ لاش اسی آدمی کی ہے جو بد عقیدہ تھا۔
ویسے تم اس کا کیا کرو گے؟
میں اسے کسی ہسپتال کو دے دوں گا،جہاں طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالب علموں کا بھلا ہوگا۔
تم اگر اس بستی کے نہ ہوتے تو تمھیں اس قبر میں ا س کی جگہ دفن کردیتے، اسی وقت۔ شیخ صاحب گرجے۔ اس کے پلید وجود کو ہمارے ہم عقیدہ لوگ ہاتھ لگائیں گے؟ تم ہوش میں ہو؟
تم ایمان کے جس درجے پر اس وقت فائز ہو مجھے زندہ اس قبر میں گاڑ سکتے ہو، مان لیا۔ لیکن یاد رکھو، تم اسی طرح کی قبر میں یہیں کہیں آئو گے۔
لیکن میں بد عقیدہ نہیں ہوں۔
اس کا فیصلہ تم نہیں، خدا کرے گا۔
خد انے ہی ہمیں نیکی پھیلانے اور برائی روکنے کا حکم دیا ہے۔
ایک لاش کیا برائی پھیلا سکتی ہے؟
لاش ہے تو آدمی کی،جس کا عقیدہ۔۔۔۔؟
تمھیں معلوم ہے،جس قبر پر تم کھڑے ہو کس کی ہے؟
کس کی ہے؟
ذرا قبر کی تختی پڑھو۔ یہ اسی کارشتہ دار ہے جو پچاس سال پہلے مرا۔ اور بھی قبریں یہاں ان کی ہیں۔
ہم سب کو نکال پھینکیں گے۔کچھ پرجوش جوان بولے۔
نکال پھینکو۔ اس سے بھی آسان حل ہے۔ ساری زمین کو بھی صحیح العقیدہ بنالو۔ وہ بد عقیدہ کو قبول ہی نہ کرے تمھاری طرح۔
یہ چار جماعتیں پڑھ کر پاگل ہوگیا ہے۔ بھائیو، نکالوا س لاش کو اور اس کی بستی کے کتوں کے آگے پھینک آئو۔
کچھ لوگ اس نوجوان کی طرف بڑھے۔ایک نے دھکا دیا۔ دوسروں نے اسے ٹھوکریں ماریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت سے بڑی سزا کیا ہوسکتی ہے؟
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔
موت سے بڑی سزا ہوسکتی ہے، لیکن وہ سب کے لیے نہیں ہوتی۔ صرف ان کے لیے ہوسکتی ہے جنہوں نے زندگی بھر عزت کی آرزو کی ہو۔
ہم سمجھے نہیں۔
جو عزت کی آرزو کرتا ہے،وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ جو موت سے نہیں ڈرتا، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
ہم اب بھی نہیں سمجھے۔
عزت دو چیزوں میں ہے۔ علم میں اور عمل میں۔ علم نافع اور عمل صحیح میں۔جس نے یہ دونوں حاصل کر لیے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ جو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا،اسے موت سے بڑی اور موت کے بعد بھی سزا ہوسکتی ہے۔
کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے تمھاری بات، آگے کہو۔
جن لوگوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا،ان کی عزت برباد کردو۔ سزا اسے ہوگی جس نے وہ علم پیدا کیا۔
اس کی لاش کو ٹھوکریں مارنے سے کیا فائدہ؟
وہ ٹھوکریں،ا س شخص کو نہیں،ان کے سینوںکو لگیں جنھوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا۔ وہ بے عزت ہوئے۔ انھیں موت سے پہلے اور موت سے بڑی سزا ملی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہی چوک ہے جہاں اس نے کہا تھا کہ ’’ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے، اسے رات کو نیند نہیں آتی‘‘۔چند لوگ اس واقعے کے گواہ بھی موجود ہیں۔ شہر کے سب جوان اور کہن سال جمع ہیں۔ صرف چند بوڑھے گھروں میںرہ گئے ہیں،جنھیںان کے جوان بیٹے اس واقعے کی تفصیل بتائیں گے۔الاؤ روشن ہوچکا ہے۔ابھی شام ہے اورسخت سردی کا موسم ہے۔ الاؤ کی گرمی سب کو پہنچ رہی ہے۔ خلیفہ کے دربار کے سب بڑے عہدے دار یہاں موجود ہیں۔ شہر کے ایک ایک گھر، ایک ایک کونے، ایک ایک کتب خانے کو چھان کر اس کی سب کتابیں جمع کی گئی ہیں۔ اس کے کچھ شاگردوں کی کتابیں بھی لائی گئی ہیں، جن کے بارے میں باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ کچھ شاگردوں نے توبہ کی ہے، مگر ان کی توبہ اس شرط پر قبول کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ساری زندگی کوئی کتاب نہیں لکھیں گے، کسی مجلس میں گفتگو نہیں کریں گے۔بقیہ زندگی صرف نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر چپ چاپ بسر کریں گے۔ علما کی کسی بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ ایک درباری نے خلیفہ سے عرض کی کہ انھیں معاف کیوں کیا گیا ہے، خلیفہ خلافِ معمول طیش میں آنے کے بجائے مسکرایا اور کہا، معاف کہاں کیا ہے؟ اس سے کڑی سزا ان کے لیے کیا ہوسکتی ہے؟ درباری بھی بندر کی طرح مسکرا دیا، پر اسے پوری بات سمجھ میں نہ آئی۔ خلیفہ نے اپنے فرمان میں خاص طور پر یہ بات درج کروائی ہے تاکہ کوئی شک نہ رہے۔ جو شخص ایک بار دوسروں کی باتوں کو ماننے کے بجائے ان پر جرح کی عادت ڈالتا ہے، وہ اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ (اس پر چوک میں کھڑے ایک شخص نے دوسرے سے سرگوشی کی۔ اب سمجھ آیا، اس کے شاگردوں کی سزا واقعی کڑی ہے)۔ ایسا شخص دین کی سچائی کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن کے لیے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ کوئی شخص کسی عالم کی بات پر اور دربار کے حکم پر جرح کرتا پایا گیا تو اس کی سزا موت ہوگی۔۔۔۔۔پہلے خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے ہر کتاب کا خلاصہ پڑھا جائے گا پھر اسے الاؤ میں پھینکا جائے گا، مگر پھر فیصلہ بد ل دیا۔کچھ کا خیال ہے کہ خلیفہ نے اس لیے فیصلہ بدلا کہ اسے لگا ہو گا کہ اس طرح وہ کتابوں کو جلانے کا جواز پیش کر رہا ہے۔ خلیفہ اگر اپنے عمل کا جواز پیش کرنے لگا تو کر لی اس نے حکومت۔ بعض کی رائے تھی کہ خلیفہ ڈر گیا۔ اس طرح تو سب لوگ اس کی کتابوں میں بھرے کفر سے واقف ہوجائیں گے اور کون نہیں جانتا کہ کفر طاعون کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب کہ کچھ کا یہ بھی خیال تھا کہ خلیفہ نے ان کتابوں میں کچھ ایسے علما کی کتابیں بھی شامل کر دی ہیں جو اس کے مسلک کے نہیں ہیں۔ نوبت بجنے لگی ہے۔ایک درباری اعلان کر رہا ہے کہ آج کی شام اس شہر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آج،بس تھوڑی ہی دیر بعد اس اس شر اور کفر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا، جس سے اس شہر ہی کو نہیں آنے والوں کے دین وایمان کو بھی خطرہ تھا۔ ایک ایک کتاب اس الاؤ میں ڈالی جائے گی اور ہر کتاب کے جلنے کے ساتھ جشن منایا جائے گا۔کفر کے خاتمے کو یادگار بنایا جائے گا۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، گلے ملیں گے۔ تاشے بجائے جائیں گے۔شر پر فتح کے نعرے لگائے جائیں گے۔ آخر میں سب کی تواضع اس مشروب خاص سے کی جائے گی جسے خلیفہ اور اس کے خاص درباری نوش فرماسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم صرف اس لاش کو جلانا چاہتے تھے جو رات کے ا ندھیرے میں دفن کی گئی تھی، اسے نہیں۔ شیخ صاحب نے بوڑھے باپ کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔اس سے کوئی ہماری کوئی دشمنی نہیں تھی۔ اسے ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ ضدی نکلا۔ دین کے دشمن کے حق میں باقاعدہ جرح کرنے والوں کا نجام ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔ اس نے ایک دشمن کا ساتھ دے کر اپنے عقیدے کو بھی خراب کر لیا۔ ہم اب اس کی مغفرت کی دعا بھی نہیں کرسکتے۔البتہ خد اسے دعا کرتے ہیں کہ آپ کو صبر دے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔آپ پانچ وقت ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔

Categories
شاعری

شہر سنگ کے باسی، زندگی سے بیگانے

اے خدائے خاموشی، اے خدائے تنہائی
دیکھ تیری دنیا میں قتل کرنے والوں کی
ہر جگہ حکومت ہے
قتل ان ہواؤں کا
جن سے تیرے دامن میں لفظ پھوٹ سکتے تھے
قتل ان صداؤں کا
جن سے اہل نفرت کے
خواب ٹوٹ سکتے تھے، سنگ چھوٹ سکتے تھے
تو کہیں نہیں موجود، پھر بھی ان جیالوں نے
نام پر ترے کیسے سرخ شور ڈالے ہیں
ہول ان کی آنکھوں میں، گونج ان کی بانچھوں میں
کلمہ جہالت کے بوجھ سے دبے یہ لوگ
جو زباں نکالے ہیں، اس زباں پہ تالے ہیں
ابلہوں کی آنکھوں میں عکس ہے کتابوں کا
اور ان کتابوں کا رنگ آسمانی ہے
آسمانی رنگوں کی ہر کتاب کے اندر
خون کی کہانی ہے، پھر بھی تیرے لوگوں کو
یہ کتابیں پیاری ہیں، یہ ترے پجاری ہیں
ایک رنگ کے شیدائی، اک علم کے دیوانے
شہر سنگ کے باسی، زندگی سے بیگانے

Categories
فکشن

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

“ جب میری شادی ہوئی، میں گڑیا پٹولے کھیلنے والی عمر میں تھی”۔

سرجھکائے بیٹھے انیس نے چونک کر ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ اب وہاں نہیں تھی،پیچھے بہت دور کسی شوخ لمحے میں گم ہوگئی تھی۔اُس کے قدرے ڈھیلے پڑ جانے والے گالوں پر جمی ہوئی پیلاہٹ جیسے دُھل سی گئی تھی۔
وہ کل صبح ہی یہاں پہنچا تھا اور شاید ہی کوئی لمحہ گزرا ہوگا کہ اس کے گلے لگ کر ملنے والے دھاڑیں مار مار کر نہ روئے ہوں۔ سانحہ ہی ایسا تھا کہ سب کے جگر کٹ گئے تھے۔یوں تویہ واقعہ پچھلی جمعرات کا تھا۔کفن دفن بھی اسی روز ہو گیا اور سوگ میں بیٹھنے والے قل کے بعد اپنے اپنے دھندوں میں جٹ گئے تھے مگر انیس کے بوسٹن سے آنے کی خبر جسے ملی وہ ایک بار پھر وہاں آیا اور یوں اس سے گلے لگ کر رویا جیسے مرنے والا انیس کا بیٹا نہیں انہی پرسا دینے والوں کا سگاتھا۔ دوسرے روز شام ڈھلے تک رونے والے رو رو کر شاید تھک گئے تھے کہ وہ بیٹھک میں اکیلا رہ گیا۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو ماں تخت پرگھٹنے دوہرے کیے کمر دیوار سے ٹیکے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں بھی ماں کے سوا کوئی نہ تھاتاہم سارے گھر میں جاچکی عورتوں کے بدنوں کی چھوڑی ہوئی باس اور گرمی فرش پر بچھی دریوں اور یہاں وہاں پڑی پیڑھیوں سے اٹھتی محسوس کی جا سکتی تھی۔وہ ماں کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا۔اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ساتھ والے کمرے کے دروازے کے اندر جھانکا اور اندازہ لگا لیا کہ ابا وہاں نہیں تھے۔یقیناً وہ ابھی تک مغرب کی نماز پڑھ کرمسجد سے نہیں آئے تھے۔اسے یاد آیا اباکا معمول رہا تھا وہ مغرب کی نماز سے پہلے مسجد چلے جاتے اور عشا کی پڑھ کر ہی لوٹا کرتے تھے، گویا ان کاا بھی تک وہی معمول تھا۔

اُس نے اپنا سر ماں کے گھٹنوں پر ٹیک دیا تو اس نے اپنا دایاں ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھ دیا اور انگلیاں اس کے گھنے بالوں میں گھسیٹر لیں۔

“میں کہتی رہی،میرے انیس کے آنے کا انتظار کرو مگر سب کہتے تھے، امریکہ بہت دور ہے وہ جنازے تک نہ پہنچ سکے گا۔ “

ماں نے سر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اور دوپٹے میں منہ چھپا کر گسکنے لگی۔

“ چھوٹے کفن میں لپٹا دُکھ کتنا بھاری نکلا بیٹا انیس، تمہارے توقیر کی ماں کی لاش سے بھی بھاری۔ “

انیس کی بیوی لائبہ کو مرے سولہواں سال ہو چلا تھا اور امریکہ گئے انیس کو نواں سال۔

لائبہ توقیر کو جنم دیتے ہی مر گئی تھی،اُسے شہر کے ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید بہت دیر ہو چکی تھی،وہ زچگی کے درد سہتے سہتے نڈھال ہو چکی تھی اور ترغیب دینے پر بھی اپنے رحم میں کہیں اُلجھے بچے کو زور لگا کر نیچے دھکیلنے کی رَتی بھر کوشش نہ کر رہی تھی،ڈاکٹروں نے اپنے تئیں بہت جلدی کی مگر وہ آپریشن سے پہلے ہی دم توڑ گئی، تاہم آپریشن ہوا اور اس کا بچہ بچا لیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ جب بچہ نیچے کھسک رہا تھا تب کہیں انول نال اس کی گردن کے گرد پھندے کی صورت لپٹ گئی تھی۔یہ تو اچھا ہوا زچہ کو ہسپتال لے آیا گیا ورنہ بچے نے بھی انول نال سے پھندا لے کر مر جانا تھا۔

بچہ جو لگ بھگ سولہ سال پہلے ماں کے رحم میں پھندا لے کر مرنے سے بچ گیا تھا، گولیوں سے بھون کر مار ڈالا گیا تھا۔

مرنے والا اپنی زندگی میں بھی زندوں میں تھا ہی کہاں۔آٹھ سال کا ہوگا کہ اُس کی گردن ایک طرف کو مٹر گئی اوروہ ڈھنگ سے بول نہیں سکتا تھا۔خیر وہ اپنے دادا اور دادی کے گھر کی رونق تھااور وہ اسی میں اپنے انیس کی جھلک دیکھ دیکھ کر جیتے تھے مگر اب جب کہ انہوں نے اس کی ننھی منی لاش دیکھ لی تھی،اُنہیں کھٹکا سا لگ گیا تھا کہ اب وہ دونوں بھی بس مہمان ہی تھے۔ ماں نے بیٹے کو ٹیلی فون ملوایا، خوب بین ڈالے اور اتنی منتیں کیں کہ بیٹے کو سب کچھ چھوڑ چھاڑکرواپس آنا پڑا۔

چوتھے روز وہ پہنچا تو سارا دن اور رات گئے تک کا وقت روتے رُلاتے گزر گیا۔ اگلے دن شام تک جنہیں پرسا دینا تھا، دے چکے تھے،جب سب چلے گئے اوروہ اندراپنی ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا تو تب تک وہ بھی رو رو کر تھک چکی تھیں۔ا ب وہ اپنے بیٹے سے اور طرح کی باتیں کرنا چاہتی تھیں۔ ایسی باتیں جو اس کے بجھے ہوئے دل میں زندگی کی اُمنگ بھر دیں۔پہلی کوشش میں وہ کامیاب نہ ہو پائیں کہ اُن کا جی بھر آتا تھا،خوب ضبط کیا،حلقوم کی طرف اُٹھتے گولے کو نیچے دبایا اور ہونٹوں کو سختی سے باہم بھینچ لیا۔اُن کا پکا ارادہ تھا کہ دل پر قابو رکھیں گی یا شایدخود ہی اندر سے کچھ اور طرح کی اُمنگ جاگ اُٹھی تھی کہ اندر سے اٹھتا غبارواپس گرنے لگا تھا۔ایسے میں انہیں کچھ وقت لگ گیا تاہم اب وہ سہولت سے اپنے ماضی کی طرف بھٹک سکتی تھیں۔یہ ان کا پسندیدہ علاقہ تھا، سو بھٹک گئیں:

“ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ میری ماں، جسے میں بے بے کہا کرتی تھی، میرے سر پر آ کر کھڑی ہوئی اور ناراض ہو کر کہا: نی نکیے حیا کر، آج تیرا ویاہ ہے اور تو گڑیوں سے کھیل رہی ہے۔میں نے کہا:بے بے، آج تو میری گڑیا کی شادی ہے۔بے بے نے مجھے بازو سے پکڑا اور کھینچ کر اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔پھر میرے ہاتھ سے گڑیا اور رنگ برنگے پٹولے لے کر انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا: “جھلیے تمہیں اس گڑیا سے بھی سوہنے کپڑے پہنائوں گی۔اس وقت میں یہی سمجھتی تھی کہ شادی خوب صورت اور کام والے کپڑے پہننے کانام تھا،میں جھٹ تیار ہوگئی،کہا :بے بے،پھر تو میں شادی ضرورکروں گی۔بے بے ہنسی مگر میں نے دیکھا اس کی آنکھیں جیسے چھلکنے کو تھیں۔”

ماں کی آنکھیں بھی چھلک پڑی تھیں۔

سید پور کی کچھ آبادی اُونچائی پر تھی جسے اُچی ڈھکی کہا جاتا اور باقی تھلی پانڈی میں۔یہ گاؤں پہاڑی سلسلے کے دامن میں کچھ اس طرح واقع تھا کہ لگ بھگ سو سواسو گھر پہاڑی کے اُبھار پر تھے اور باقی آبادی نیچے ہموار میدان میں پھیلی ہوئی تھی۔ماسٹر سلیم الرحمن کا مکان اُچی ڈھکی پر تھا۔تین کمرے اور ایک بیٹھک ایک قطار میں تھے اور سامنے لمبوترا برآمدہ تھا جسے پسار کہا جاتاتھا۔ اسی پسار کی بغل میں رسوئی بنالی گئی تھی جس کے سامنے دیوار سے لگے تخت پرماں کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ابا بھی گھر میں ہوتے تو وہیں آ بیٹھتے۔ جب ماں بیٹا باتوں میں مگن تھے تو بیچ میں چپکے سے ماسٹر صاحب بھی وہاں آکر بیٹھ گئے تھے۔ اپنی شادی کے قصے کا یہ حصہ سنا تو کھلکھلا کر ہنس دیے اور کہا:

“ بیٹا محمد انیس،اپنی ماں کی باتوں سے یہ نہ سمجھنا کہ میں شادی کے وقت بہت عمر رسیدہ تھا اور تمہاری ماں کم عمر بچی،ہم دونوں ہی کم سن تھے،اگر یہ بارہ تیرہ سال کی ہوں گی تو میں پندرہ سولہ سال کا تھا،تب یہی عمر ہوتی تھی شادی کی۔”

جب ماسٹر صاحب ہنس رہے تھے تواُن کے گال اور بھی زیادہ سرخ ہو گئے تھے۔ ان کی سفید داڑھی پر مدہم روشنی پڑرہی تھی مگر ہنسنے سے لگتا ساری روشنی ایک ایک بال سے پھوٹ رہی تھی۔ دونوں ماں بیٹے کو باپ کا یوں ہنسنا اور سارے میں ایک نور کی خنکی سی بھر دینا اچھا لگ رہا تھا۔ ماں نے چھچھلتی نظر بیٹے پر ڈالی اور پھر اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر گزرے وقتوں کو یاد کرنے لگیں:

“تمہارے ابا کا رنگ ایسا تھا جیسے کوئی دودھ میں شہد ملا دے۔ اب بھی ویسا ہی ہے مگر تب ایک اور طرح کی چمک سی اٹھتی تھی اس رنگت سے، کم سنی والی انوکھی چمک۔گھڑولی بھرنے والی رات میری سہیلیوں نے تب ایک گانا پہلی بار تیار کرکے گایا تھا، جی خود گھڑ کر، خاص تمہارے ابا کی مناسبت سے۔ پھر تو یہ گانا اتنا مشہور ہوا کہ تب سے اب تک سب شادیوں میں گایا جاتا ہے۔”
ماں نے دایاں ہاتھ کان پر رکھا اور بایاں قدرے فضا میں بلند کر دیا:

“گھر اُچی ڈھکی تے رنگ سوہا بھلا۔۔۔ ہو سوہا بھلا “۔

ماں کی آواز میں عجب طرح کا لوچ اور رس تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور آواز سارے میں تھرا رہی تھی۔ ماسٹر صاحب نے ادبدا کر بیوی کو گانے سے روک دیا،کہنے لگے :

“ ماتم والا گھرہے نیک بختے،آنڈھ گوانڈھ والے سنیں گے تو کیا کہیں گے۔”

تاہم وہ آنڈھ گوانڈھ سے بے خبر رات گئے تک باتیں کرتے رہے، ادھر ادھر کی باتیں، یوں جیسے اب وہ ماتم والا گھر نہیں تھا۔

ماسٹرصاحب کہا کرتے تھے:زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے مگر ناس مارے دکھ کا برا ہو کہ دکھ کے گولے کو حلقوم سے پیچھے دھکیل دینے والی عورت کے ایک ڈیڑھ جملے سے وہ غم تینوں کے دلوں پر بھاری پتھروں کی طرح پھر سے آ پڑا تھا۔اگلے لمحے میں وہ تینوں اپنے اپنے بستروں میں دبکے ایک دوسرے تک اپنی سسکیوں کی آوازیں پہنچنے سے روکنے کے جتن کر رہے تھے۔ اماں نے اُٹھتے اٹھتے کہا تھا:

“ بیٹا انیس،جس عمر میں تمہارے ابا کے سر پر سنہرے تاروں والا سہراسجا تھا عین اس عمر میں تمہارے معصوم بیٹے کی لہو میں لتھڑی ہوئی لاش میں نے اس گھر کے صحن میں دیکھی ہے۔ ہائے کہ یہ لاش دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی تھی۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماسٹر سلیم الرحمن عمر بھر محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہے تھے اور نکہ کلاں کے مڈل سکول سے ہیڈ ماسٹر ہو کر ریٹائر ہوئے۔تاہم اپنی ملازمت کے اسی عرصے کسی نہ کسی مسجد سے ضرور وابستہ رہے۔ سید پور گاؤں میں یا پھر آس پاس کے علاقوں میں ایسا نہیں تھا کہ کوئی کسی مسجد کا پیش امام ہو یا نماز جمعہ پڑھاتا ہو اور سرکار کی ملازمت بھی کرے کہ اسے بالعموم نادرست سمجھا جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب بھی اسے غلط سمجھتے تھے کہ امامت اور خطابت کا معاوضہ لیں۔ وہ اسے پیشہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ماسٹر صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد، سید پور والوں کی درخواست پر، وہاں کی جامع مسجد سے وابستہ ہوگئے تو انہوں نے اس خدمت کے بدلے کوئی معاوضہ نہ لینے کے اصول کو قائم رکھا۔اس بات سے گاؤں والوں کی نظر میں اُن کی عزت بڑھ گئی تھی۔ تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ ماسٹرصاحب اپنے متنازع نظریات کی وجہ سے،علاقہ بھر کے لوگوں میں ہمیشہ موضوع بحث بنے رہتے تھے۔ایٹم بم کے دھماکے کرنے والے دن کو جب یوم تکبیر کہا گیا تو جمعہ کے خطبے میں انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام تو سلامتی والا مذہب ہے اس میں ہر ایسا ہتھیار استعمال کرنا حرام ہے جو جنگ کرنے والے شخص اور عام شہری میں تمیز نہ کر سکے،جو اپنے ہدف پر پڑتے ہوئے بچوں، عورتوں،بوڑھوں، فصلوں اور جانوروں کوبھی نشانہ بنالے۔ وہ کہتے: جنہیں میرے پیارے آقا ؐنے پناہ اور امان دی ہے، اُن بے گناہوں کو مارنے والا ہتھیار حلال نہیں ہو سکتا۔

مولوی افضال نے تو کئی بار ان کے خلاف مہم چلائی تھی کہ اپنے فاسق خیالات کی وجہ سے وہ امامت کے لائق نہیں رہے مگر وہ ہر بار بچ جاتے رہے۔ مولوی افضال کے مطابق “ماسٹر، ماسٹر تھا عالم نہیں تھا اور جب اس ماسٹرنے سود کو بھی حلال قرار دیا تھا تب ہی انہیں جامع مسجد سے نکال باہر کرنا چاہیے تھا۔ “

یہ سود کو حلال کرنے والا قصہ بھی عجیب ہے۔اسی گاؤں میں ایک بیوہ تھی، حاجراں،اس نے بہت مشقتوں میں پڑ کر اپنے بیٹے کو پڑھایا۔اسے ڈگری مل گئی مگر پچھلے دو سال سے بے روزگار تھا۔خدا خدا کرکے اس نے ایک بنک میں ملازمت حاصل کر لی۔ حاجراں مولوی صاحب کے گھر کام کرتی تھی اب جو بیٹے کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے وہاں کام کرنا چھوڑ دیا۔مولوی صاحب نے حاجراں کو بلواکر کہا: “بیٹے سے کہو نوکری چھوڑ دے کہ بنک سود ی کاروبار کرتے ہیں جو حرام ہے۔”مولوی صاحب نے صاف صاف کہہ دیا: “تم نے ساری عمر محنت مشقت سے حلال کمایا اور بچے کو حلال کا لقمہ دیا ہے،یہ نوکری نہیں چھوڑے گا تو ساری عمر کی نیکیوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گی اور جہنم کا ایندھن بنو گی۔” حاجراں کے بیٹے کو بہ مشکل نوکری ملی تھی مگر وہ حرام کھانا چاہتی تھی نہ اس کا بیٹا۔بیٹے سے مشورہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گیا، اسی پریشانی میں وہ ماسٹر صاحب کے پاس پہنچے، انہوں نے ساری بات توجہ سے سنی اور کہا: “تمہارے بیٹے کی کمائی حرام نہیں ہے۔”

بات گاؤں بھر میں پھیل گئی۔سب کا ماننا تھا کہ سود حرام تھا اور بنک سودی کاروبار کرتے تھے۔لوگوں کے اعتقاد اور جذبات کو مولوی افضال نے خوب بھڑکایا اور پھرایک روز وہ اپنے ساتھیوں سمیت جامع مسجد جا پہنچا،یوں لگتا تھا ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کر دیا جائے گا۔خیر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے کہا:’ اگر آپ سب لوگ کچھ وقت کے لیے تشریف رکھیں تو ہم یہ مسئلہ سمجھنے کی طرف آ سکتے ہیں۔” لوگ سکون سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے پہلے قرآن پاک کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا گیا تھا۔پھر احادیث کی کتب سے متعلقہ حدیثیں بیان کیں اور آخر میں سیرت پاک کا واقعہ سنانے لگے، وہ واقعہ جس کے مطابق حضرت خدیجہؓ نے حضور اکرم ؐکے لیے پیغام بھیجا تھا کہ ان کا اسباب لے کر تجارت کریں اور متعلقہ کتاب سے پڑھ کر سنایا کہ آپ ؐنے تجارت کی تھی اور چوں کہ آپؐ مکہ میں سب سے بڑھ کر صادق اور امین تھے لہٰذا اس کاروبار میں خوب منافع بھی کمایا تھا۔یہاں پہنچ کر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے سوال کیا:” میرا پوچھنا یہ ہے کہ یہ تجارت تو جناب رسالت مآبؐ کر رہے تھے، منافع حضرت خدیجہؓ کو کیوں ملا؟” مولوی ا فضال نے ترت کہا :” اس لیے کہ سرمایہ حضرت خدیجہؓ کا تھا۔”ماسٹر صاحب مسکرائے۔”ٹھیک “ پہلو بدلا اور کہا:
“ گویا اسلام میں سرمایہ کاری حرام نہیں ہے۔ہاں اسلام میں سود حرام ہے۔ایسا قرض، جس کے ذریعے ضرورت پوری کر لی جائے اور سرمایہ ختم ہو جائے،اس پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہے اور وہ حرام ہے۔ تاہم ایسی سرمایہ کاری جس میں اصل زر محفوظ رہے اور سرمائے میں بڑھوتری ہوتی ہے، حلال عمل ہے۔ایسے چاہے افراد ہوں یا ادارے،اگر وہ صرف قرض دینے اور وصول کرنے کاکام نہیں کرتے بلکہ سرمایہ کاری کو منافع بخش کاروبار سے منسلک کرتے ہیں، حلال کام کرتے ہیں۔تب انہوں نے مخصوص بنک کا طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا، جس میں وہ اس نوجوان کو ملازمت ملی تھی اور کہا: چوں کہ وہ بنک صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے اور اس امرکو یقینی بناتا ہے کہ منصوبے تکمیل کو پہنچیں اس لیے اس کاکام حلال عمل ہے اور اس نوجوان کا ملازمت کرنا رزق حلال سے جڑنا ہے۔ “

ماسٹر صاحب کا فتویٰ درست تھا یا نادرست مگر اس نئے استدلال نے مولوی افضال کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے سوچتا رہ گیا تو لوگوں میں سر گوشیاں ہونے لگیں۔ فوری طور پر کچھ نہ سوجھا تو دلیل سے جواب دینے کے بجائے اسے ماسٹر صاحب کاایک ایسا حیلہ قرار دیا جس میں وہ حرام کو حلال بنا رہے تھے تاہم اس بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ فوری طور پر ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کرنے سے باز رہے تھے۔

اسی طرح جب سے افغانستان میں شورش شروع ہوئی تب سے وہ جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کو خلاف اسلام کہتے آئے تھے۔پہلے پہل اُنہیں روسی ایجنٹ کہا گیا اور جب روس پسپا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجاہدین دہشت گرد ہوگئے تو وہ اسی مولوی کی نظر میں وہ امریکی ایجنٹ ہو گئے مگر ان کا موقف بدلنا تھا نہ بدلا۔وہ کہتے تھے کہ نجی جہاد کا یہ عمل انارکی اور تباہی کے نتائج لائے گا اور سب نے دیکھا، ایسا ہی ہوا تھا۔ماسٹر صاحب اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خودکش حملوں اور ایٹم بم دونوں کو حرام ہتھیار کہا تھا اور دلیل یہ دی تھی کہ دونوں ظالم اور مظلوم میں تمیز نہیں کر سکتے تھے۔جس روز پشاور میں طالبان نے ڈیڑھ سو بچوں کو بے دردی سے مار ڈالا تھا اُنہوں نے فوراً بعد والے جمعے کو بہت درد بھرا خطبہ دیا تھا۔ستم ظریفی دیکھیے کہ اس خطبے والے جمعے کے بعد پڑنی والی جمعرات کوان کا اپنا پوتاتوقیرخود کش حملہ آور سمجھتے ہوئے گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔

جب ننھے توقیر کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش گھر کے آنگن میں لائی گئی تھی تو وہ بھاگ کرکئی روز پہلے والا وہ اخبار لے آئے تھے جس میں پشاور سکول کے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی تصویریں چھپی تھیں۔وہ کبھی اخبار کی طرف انگلی لے جاتے اور کبھی پوتے کی لاش کی جانب،پھر انہوں نے اوپر آسمان کی طرف منھ کیا اور چلاتے ہوئے کہا:” ان بچوں کا کیا قصور ہے میرے مولا۔”یہ بات انہوں نے گڑ گڑاتے ہوئے تین بار کہی،پھر چاروں طرف گھوم کر ہاتھ پھیلائے پھیلائے کہا:”اگر اس دھرتی پر اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ہے تو کیا تم بھی۔۔۔۔ “ وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئے تھے اور آسمان کی طرف یوں خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے اُنہیں یقین نہیں تھا کہ وہاں کوئی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں وہ تینوں تھے۔ سلیم عرف لالہ، شفیق عر ف جھگڑا اور شریف عرف پھرکی۔

تھٹی نور احمد شاہ کا گورنمنٹ اسلامیہ سکول مدرسہ بھی تھا اور سکول بھی۔ہیڈ ماسٹر صاحب شام مسجد کے صحن میں قرآن،حدیث، فقہ اور سیرت کی تعلیم دیتے جب کہ سکول کی باقاعدہ پڑھائی کمرہ جماعت میں ہوتی تھی۔ ان دنوں ورنیکلر فائنل کے امتحان کے لیے ضلعی دفتر انتظام کرتا تھا۔سلیم اسی امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔اس کے باقی دونوں بھائی نچلی جماعتوں میں تھے۔ سلیم کے لالہ جی کے طور پر سکول بھر میں مشہور ہونے کا قصہ بھی عجیب ہے۔جب ان کے ابا نے سلیم کے دونوں بھائیوں کو بھی تھٹی پڑھنے بھیج دیا تو تینوں وہیں اقامت گاہ میں رہنے لگے۔ شفیق اورشریف دونوں بڑے بھائی کے احترام میں سلیم کو لالہ کہہ کر بلاتے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے سکول کے سارے بچے اُسے لالہ کہنے لگے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سکول کے ماسٹر بھی اسے لالہ کہتے۔ شفیق بڑا جھگڑالو تھا اور شریف تیز طرار، لہٰذا دونوں اسی مناسب سے جھگڑا اور پھرکی ہو گئے۔اسی زمانے کا واقعہ ہے ایک صبح ہیڈ ماسٹر صاحب نے لالہ سلیم کو بلا بھیجا۔یہ معمول کی بات تھی۔وہ کسان کا بیٹا تھااور مال ڈنگر سنبھالنے کا ہنر رکھتا تھا۔جب ضرورت پڑتی ان کی بھینس کو چارہ ڈالتا اور پانی پلا دیا کرتا۔اس بار بھی یہی کرنا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب آٹھویں کا نتیجہ لینے کیمبل پور جا رہے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا:

“میں شام تک لوٹوں گا دیکھو، میں نے بھینس کو چارہ ڈال دیا ہے۔”

وہ اس بھینس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کی نظریں اس کی سیاہ چمکتی ہوئی کھال پر جمی تھیں اور ہاتھ سے اس کا بدن سہلا رہے تھے۔یکایک انہوں نے سلیم کی طرف دیکھا اور پھر گھر کے سامنے موجود بڑے تنے والے بوہڑ کے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا :

“ کچھ دیر میں بھینس فارغ ہو جائے تو اسے کھول کر وہاں سائے میں لے جا کر باندھ دینا، اور ہاں دن کو اسے پانی بھی پلانا،خیال کرنا کہیں دھوپ میں نہ جھلستی رہے۔”

لالہ سلیم پر ہیڈ ماسٹر صاحب کا بہت اعتماد تھا۔وہ جو ذمہ داری دیتے وہ پوری ہو جایا کرتی تھی۔محنت کرانے والے استاد تھے، طالب علموں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے اور طالب علم بھی ان کے کام جی جان سے کرتے تھے مگراُس روز یوں ہوا کہ بھینس کے گتاوا ختم کرنے تک لالہ سلیم کو وہیں کُھرلی کے پاس انتظار کرنا پڑا۔اس میں اتنی دیر لگ گئی کہ وہ اُکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ گتاوے میں شاید شیرہ تھا کہ آخر میں بھینس کھرلی میں تلچھٹ چاٹنے لگی تھی۔ابھی اس نے بھینس کھولی نہ تھی کہ اس کے بھائیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ اُسے کھیلنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اُس نے جلدی سے بھینس کھولی اور اُسے بوہڑ کے نیچے لے گیا۔تنے کے ساتھ پہلے سے ایک رسی بندھی ہوئی تھی جس سے بھینس کو باندھا جا سکتا تھا مگراس کی نظر اچانک اوپر ایک کٹی ہوئی مگرمضبوط شاخ پر پڑی۔ اس نے کھیل ہی کھیل میں تاک کر بھینس کی رسی اُس کی سمت اُچھالی کہ دیکھے وہاں پہنچتی بھی ہے یا نہیں۔وہ سیدھا اُسی ٹھنٹھ میں جاکر اٹک گئی۔ اس نے اسے کھینچا، ایک بار، دو بار،تین بارمگر وہاں رسی ایسی پھنسی کہ نکلتی ہی نہ تھی، حالاں کہ وہ لگ بھگ اس رسی سے لٹک ہی گیا تھا۔ جھگڑا، پھرکی اور دوسرے لڑکے اسے مسلسل بلا رہے تھے ؛ “لالہ !او لالہ آجاؤ۔” اس نے سوچا بھینس ہی باندھنی تھی، بوہڑ کے تنے سے بندھی رسی سے نہ سہی، اسی بوہڑ کے ٹھنٹھ سے ہی سہی۔وہ مطمئن ہو کرکھیلنے نکل گیا۔بیچ میں ایک دفعہ بھینس دیکھنے آیا،وہ مزے سے بوہڑ تلے بیٹھی جگالی کر رہی تھی۔اگرچہ یوں بیٹھے ہوئے اس کی رسی ذرا سی تنی ہوئی تھی اور جگالی کرنے کے لیے بھینس کو اپنی گردن کچھ اوپر اُٹھا کر رکھنا پڑ رہی تھی، مگراس کی نظر میں سب ٹھیک تھا لہٰذا وہ اقامت گاہ کے طعام خانے سے کھانا کھا کر پھر دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا۔ حتٰی کہ سورج سر سے ہوتا دوسری طرف جھک گیا تھا۔

اچانک اُسے ہیڈ ماسٹر صاحب کی آواز سنائی دی۔ “لالہ !او لالہ۔” وہ بھاگم بھاگ پہنچا اور مری ہوئی بھینس کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔اس نے ایک ہی لمحے میں اندازہ لگا لیا تھا کہ دھوپ سے بچنے کے لیے بھینس درخت کے دوسری طرف ہو لی تھی۔ایسے میں اس کی رسی تن گئی۔ وہ گری اوراُسے اپنی ہی رسی سے پھندا آگیا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب پاس کھڑے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ لالہ کی سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے تھیں۔ آخر کار ہیڈماسٹر صاحب نے چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا :

“ لالہ یہ تم نے۔۔۔۔”

اُنہوں نے بات نامکمل چھوڑ دی،انا للہ پڑھا، چہرے پر جیسے ایک اطمینان سا آگیا تھا۔ کہنے لگے:

“ خدا کا شکر ہے اسی میں معاملہ طے ہوا،میں تو بہت زیاہ خوش تھا۔”

پھر انہوں نے لالہ کو خبر سنائی کہ اسکول کا نتیجہ سو فی صد رہا تھا اور یہ کہ لالہ نے اس امتحان میں پہلی پوزیشن لی تھی۔
اپنے بچپن کا یہ واقعہ ماسٹر سلیم الرحمن نے بہت دفعہ اپنے بیٹے انیس کو سنایا تھا۔یہ واقعہ سنا کر ہر بار وہ کہا کرتے بچوں کی تربیت استاد اگر اس جذبے سے کرے تو وہ معاشرے کا کار آمد فرد بنتا ہے۔یہی واقعہ وہ اپنے پوتے توقیر کو بھی سنایا کرتے جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ اپنے دماغ کے خلل کی وجہ سے وہ کم کم ہی سمجھ پاتا ہوگا۔اس واقعہ کو دہراتے ہوئے ہر بار وہ ان مدرسوں میں پڑھنے والوں نوجوانوں کی بابت بھی سوچا کرتے تھے جو کہنے کو تو طالب علم تھے مگر اساتذہ نے انہیں طالبان بنا دیا تھا؛ شقی القلب طالبان۔مذہب کے نام پر ہر قسم کا بدترین تشدد کر گزرنے والے،گردنوں پر چھری رکھ کر شاہ رگ کاٹ ڈالنے والے، کمر سے بارود باندھ کر اپنے آپ کو اوردوسرے بے گناہوں کو اڑا دینے والے،ان سے مسجدیں محفوظ تھیں نہ مدرسے، بازار محفوظ تھے نہ دفاتر اور سب سے شرمناک بات یہ تھی کہ وہ ایسا کرتے ہوئے نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے حالاں کہ خوف خدا ان کے دلوں کو چھو کر نہ گزرا تھا۔
عجب طرح کی سوچیں تھیں کہ ماسٹر سلیم الرحمن کا دِل خوف خدا سے لرزنے لگتا تھا۔نہ جانے کیوں اُنہیں یقین تھاکہ گھر گھر سے دہشت پھوٹ پڑنے کاعذاب یونہی اس قوم پر نہیں ٹوٹاتھا،کہیں نہ کہیں کوئی چوک اُن کی نسل سے ہو گئی تھی۔اپنے طالب علموں کو انہوں نے حساب پڑھایا اور انگریزی بھی،وہ اسلامیات پڑھا رہے ہوتے یا اُردو، شاگردوں کی روح سے مکالمہ کرتے تھے۔ ایک زمانے میں وہ ہر طرح کی کہانیاں پڑھ جایا کرتے تھے انہوں نے رنگ رنگ کی کہانیاں پڑھائیںبھی بہت۔ تاہم پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعدانہوں نے منٹو کی ایک کہانی “کھول دو” کا چرچا سنا تو اسے بہ طور خاص پڑھا تھا۔ وہ کہانی انہیں اب رہ رہ کریاد آتی تھی۔پوری کہانی نہیں: کھیت کا وہ منظر جب رضا کاروں کا ٹولہ ایک لڑکی پر ٹوٹ پڑا تھا۔ انہیں لگتا وہ وہیں کہیں تھے اور اپنی آنکھوں سے وہ سارا منظر دیکھ رہے تھے مگر اُسے روک دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود ایک لذت بھرے سہم کے اسیر ہو گئے تھے۔ خوف خدا کہیں نہیں تھا، شاید آس پاس خدا بھی نہیں تھا۔ وہ وہیں دبکے سارا منظر دیکھتے تھے اور اب بھی شاید کہیں دبکے سارا منظر دیکھتے ہیں۔ منٹو کے افسانے کے رضاکار،خدائی فوجدار ہو کر مسجدوں کی سیڑھیوں پر کھڑے چندہ بٹورتے ہیں۔ مال داروں کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور ان کے مالوں سے خدا کا حصہ ہتھیاتے ہیں۔اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ سمجھنے والے یہ خدائی فوج دار یوں تاثر دیتے ہیں کہ جیسے وہ اسی منصب کے لیے اُوپر سے اُتارے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وہ اوپر سے اُترتے تھے،چھتریوں کے ذریعے اور سارے خوف زدہ تھے۔”

ماسٹر صاحب رُکے،کھنگار کر گلا صاف کیا۔شاید ان کا گلا خشک ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو ذرا فاصلے پر بیٹھی اون کا گولا لپیٹ رہی تھی اور کہا :” نیک بختے پانی “۔

اس نے اُون کا گولا ایک طرف رکھ دیا۔پاؤں کھسکا کر تخت سے نیچے لٹکائے اورگھٹنے پر ہاتھ ٹیک کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ایسے میں اُس کے ہونٹوں سے “ہائے” نکلی اور دائیاں ہاتھ خود بخود کمر پر جا ٹکا تھا۔ اُسے وہاں کھچاؤ محسوس ہوا تھا۔تاہم یہ کھچاؤ وہاں شاید وہ اِتنی ہی دیر کے لیے تھا کہ اب وہ اسے بھول کر سیدھی کمر کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس نے ماسٹر صاحب کی چارپائی کے پاس پڑے میز پر خالی گلاس دیکھا اور اسے اٹھا کر پانی لینے باہر نکلتے نکلتے کہنے لگی :

“اس معصوم کو کیا بتاتے ہو “۔

ماسٹر صاحب نے ننھے توقیر کی سمت دیکھا: اس کی گردن دائیں جانب جھکی ہوئی تھی اور ہونٹوں سے رال بہہ رہی تھی۔ اتنے میں اس کی بیوی پانی کا بھرا ہوا گلاس لے کر پہنچ گئی تھی،ماسٹر صاحب کہنے لگے :

“ہاں تم ٹھیک کہتی ہو،اس بے چارے کو کیا سمجھ۔”

ننھے توقیر کا بدن زور سے لرزا اور اس کی گردن پر اس کا سرجھٹکے لینے لگا، لگتا تھا وہ سب سمجھ رہا تھا،اپنی توتلائی ہوئی لکنت میں کہنے لگا:

“ممومو جھے سمجھ اے،سب سنوں گا،اوووپر والے،چھتررری والے “۔

ماسٹر صاحب کی بیوی بھی پاس ہی بیٹھ گئی،گزرے وقتوں کو یوں یاد کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ ماسٹر صاحب کو اب بات سنانے میں لطف آنے لگا تھا،کہنے لگے :

“وہ دوسری بڑی جنگ کا زمانہ تھا، مجھے یاد ہے رمضان کا مہینہ تھا،لام، جرمن فوج اور فوجیوں کا چھتریوں کے ذریعے اترنا، اس طرح کی باتیں ہمارے کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔ایک مرتبہ یوں ہوا کہ ہم ایک منصوبے کے تحت،تراویح کی جماعت میں سب سے آخری صف میں کھڑے ہوئے اور جوں ہی لوگ سجدے میں گئے، پیچھے سے کھسک لیے،اقامت گاہ میں اپنے اپنے کمروں میں گئے،خاکی نکریں پہنیں اور اوپر بنیانیں؛ وہی وردی جو ہم پہن کر پی ٹی کرتے تھے۔پھرچھتریاں لیں اور گاؤں کی ایک طرف سے سیڑھیاں چڑھے اور گھروں کی چھتوں سے بھاگتے،رکاوٹیں الاہنگتے پھلانگتے دوسری طرف سے اُتر گئے۔اس زمانے میں شاید ہی کو ئی مکان پکا ہوتا ہوگا، سب مٹی گارے کے بنے ہوئے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ ابھی بجلی نہ آئی تھی لوگ چھتوں پر کھاٹیں بچھا کر سویا کرتے۔جسے مچھر دانی جڑتی، وہ مچھر دانی لگا کر ورنہ یونہی کمر کی چادریں اوپر تان کر سوجایا کرتے تھے۔ہم گاؤں کی چھتوں پر چھاتے لیے بھاگ رہے تھے اور اپنے پیچھے ایک ہنگامہ اٹھاتے جارہے تھے۔ہم صاف مردوں اور عورتوں کے شور اور چیخوں میں سن سکتے تھے :

“جرمن آگئے”، “چھتریوں والے اتر گئے”، بچاؤ بچاؤ”۔

ہم دوسری طرف سے اُتر گئے۔کمروں میں گئے اور کپڑے بدل کر پھر تراویح میں شامل ہو گئے، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔خیر رات بھر یوں لگتا تھا جیسے لوگ چھتریوں والے جرمنوں کو ڈھونڈتے رہے تھے، کلہاڑیاں، ڈنڈے جس کے ہاتھ جو لگا، تھاما اور گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ہم اپنے تئیں خوف زدہ ہو گئے،اگلے روز شہر کے تھانے سے پولیس آئی،پولیس والے ہیڈ ماسٹر سے بھی ملے تھے۔ شاید انہوں نے سمجھا بجھا کر انہیں واپس کر دیا تھا۔ہماری پیشی ہو گئی۔ہیڈ ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا،انہوں نے ہماری طرف دیکھ کر وقفے سے دو بار یوں زور سے “ہونہہ،ہونہہ” کیا تھا کہ ان کا کلف لگا شملہ جھولنے لگا، انہوں نے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے اور نرخرہ اوپر نیچے تھرک رہا تھا جیسے زور سے آئی ہنسی دبا رہے تھے،اسی کیفیت میں ان کا ڈنڈا فضا میں بلند ہوا اور کہنے لگے :
“ چھتری والے جرمن، تمہاری پی ٹی کی وردیاں پہن کر گاؤں میں اترے تھے۔”

بہ مشکل اُنہوں نے جملہ مکمل کیا اوران کے ہونٹوں سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ بہا۔

“لالہ !تم بھی بہت شریر ہو۔ دفعان ہو جاؤ”۔

ہم عجلت میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل آئے تھے مگر میں نے پلٹ کر دیکھا تھا وہ اپنی میز پر ایک ہاتھ رکھے اور دوسری سے پیٹ دبائے ہنس رہے تھے۔”

جس رات ماسٹر صاحب نے یہ واقعہ سنایا تھا اس رات ننھا توقیر چپکے سے اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ توقیر کے پیدا ہونے سے قتل ہونے تک کا ایک ایک لمحہ دادا،دادی کے دلوں پر نقش تھا۔ اُس نے آنکھ کھولی تو ماں نہیں تھی، ڈھنگ سے رشتوں کو پہچاننا شروع کیاتو باپ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔باپ کے جانے تک وہ بھلا چنگا تھا مگر ایک رات وہ اُٹھا تو اُس کی گردن درد سے ٹوٹ رہی تھی۔اُسے ہسپتال لے جایا گیا، کئی ٹسٹ ہوئے اور پتا چلا اسے گردن توڑ بخار تھا، علاج ہوتا رہا مگر وہ گردن سیدھی رکھنے کے قابل نہ ہو سکا،چلتا تو سر سے پیر تک جھٹکے کھاتا،بولتا تو زبان میں تتلاہٹ آ جاتی، بات کرتے کرتے بھول جاتا،کبھی کبھی ایک بات میں دوسری کو ملا دیتا تو سننے والوں کے قہقہے نکل جاتے تھے مگر اس بار کچھ ایسا ہوا تھا کہ سب کی چیخیں نکل گئی تھی۔شاید رات دادا سے جو سنا تھا اُس میں کچھ خبروں کو ملا کراُس نے ایک منصوبہ بنایا تھا،چھوٹے ذہن سے بڑے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے والا منصوبہ۔ اپنے وقت سے کٹا ہوا جنگ کا جو تماشا اِس معصوم کے سامنے کھینچا گیا تھا وہ کچے ذہن پر نقش ہو گیاتھا۔

جب اُس کی لاش لائی گئی تو اسی ننھے بدن پر خون میں تر ایک ڈھیلی ڈھالی جیکٹ تھی۔ یہ وہ جیکٹ تھی جس میں سامنے کی طرف کئی جیبیں بنائی گئی تھیں۔اسے ماسٹر صاحب نے بہت سال قبل حج پر جانے سے پہلے لنڈے بازار سے اس لیے خریدا تھا کہ اِن جیبوں میں پاسپورٹ، دعاؤں کی کتابیں اور کرنسی، کچھ بھی رکھا جا سکتا تھا۔ ننھے توقیر نے اس کی جیبوں میں اپنے کھلونے بھر لیے تھے۔ایک چادر سر پر باندھی اور اس کا پلو پیچھے لٹکنے دیا اور ہاتھ میں وہ کھلوناپستول اُٹھالیا جو باپ نے پچھلے سال امریکہ سے بھیجا تھا۔وہ یہ خیال کر کے ہی خوش ہو رہا تھا کہ لوگ اُس سے ڈر کر بھاگیں گے۔بالکل اسی طرح جیسے اس کے دادا چھتری لے کر نکلے تھے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اِدھر اُدھر دیکھا اور بھاگتے ہوئے بازار کی طرف ہو لیا۔ وہ کہتا جاتا تھا :
“ میں پھٹ جاااااؤں دا۔۔ میں پھٹ جاؤں داااا”۔

اس کے پیچھے ایک شور مچ گیا تھا :

“خود کش آگیا خود کش آگیا”۔

وہ اس شور شرابے سے اور پر جوش ہو گیا حتٰی کہ وہ جامع مسجد والے چوک میں پہنچ گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد اب وہاں بھی پولیس والے کی ڈیوٹی لگ گئی تھی، سپاہی چوکنا ہو گیاکہ اسی عمر کے نوجوان دھماکے سے پھٹ جایا کرتے تھے۔توقیر کی نظراُس پر پڑی،تو ٹھٹھک کر رُکا، پھر یہ سوچ کہ جی ہی جی میں خوش ہوا کہ وردی والے کو ڈرانے میں بہت مزا آئے گا۔اگلے ہی لمحے وہ اُس کی جانب لپک رہا تھا۔پولیس والا واقعی خوف زدہ ہو گیا تھا،اس نے بوکھلا کر بندوق سیدھی کی اور ٹریگر دبا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لام: جنگ قتلام: قتل عام

Categories
شاعری

گلیڈی ایٹرز

گلیڈی ایٹرز
(ہجوم کی وحشت کا شکار ہونے والوں کے نام ایک نظم)

اے خدا!
یہ ہے مرے دیس کی بستی
کہ کوئی روم کےاس عہد کا منظر
کہ اکھاڑے میں جہاں چار طرف
خول چہروں پہ چڑھائے ہوئے
کچھ وحشی درندوں کا ہجوم
جن کے نرغے میں گھرے
درد کی شدت سے بلگتے یہ نہتےانساں
اور اطراف میں ہنستی ہوی احساس سے عاری مخلوق
جس کو تہذیب کوئی نام نہیں دے پائی
آج بھی محض تماشائی کہا جاتا ہے

اے خدا!
یہ تو مرے دیس کا دستور نہ تھا
مری تعلیم کا، تہذیب کا منشور نہ تھا
اور گر خون میں بہتی ہوی دیرینہ جبلت کی بدولت پھر سے
جاگ اٹھی ہے کوئی لذتِ وحشت
تو ہوئے کیا
مری تاریخ پہ پھیلے
وہ محبت کے الوہی قصے
دردِ انساں کے زمینی دعوے
وہ ترے عشق میں ڈوبے نعرے
وہ طریقت کی کتابیں
وہ صحیفوں کے ورق
وہ محبت کی رسومات
وہ صوفی کے سبق

اے خدا!
کچھ بھی نہیں
کچھ بھی نہیں کہنےکو
جھوٹ کی نذر کئے سب ترے
فرماں برحق
تجھ سے کیا عشق کریں گے
کہ نہیں ہے باقی
ہم میں انساں سے محبت کی ذرا سی بھی رمق
شرمساری ترے دربار میں لائی ہے ہمیں
جرم ثابت ہے
کہ ہم تیری خلافت کے تقاضوں سے وفادار نہیں
تری امید کو جو زخم دیا ہے ہم نے
وہ ہماری ہے، تری ہار نہیں
چھین لے ہم سے مقدس عہدہ
کہ زمیں پر ترے نائب ٹھہریں
ہم کسی طور سے حق دار نہیں
Categories
فکشن

جہاد النکاح

“اپنے دین کو بچا نے کے لئے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کی قسم کھاتے ہیں”

 

المدینہ نے باقی دس لڑکیوں کے ساتھ آواز میں آواز ملائی لیکن اس کی آواز کا جوش الگ ہی سنائی دے رہا تھا ۔
عائشہ نے المدینہ کا کندھا پیار سے تھپتھپایا۔

 

“تم پر خدا کی رحمت ، ہو مجھے یقین ہے کہ تم اللہ کی پسندیدہ ہو”
عائشہ جو ان لڑکیوں سے عمر میں کافی بڑی تھی اب اس نے کچھ اور بلند آوا ز میں لڑکیوں کو مخاطب کیا

 

میں نے آپ کو یہ قسم دہرانے کو اس لئے کہا کہ آپ کی آواز کی سچائی اور جوش نہ صرف اللہ پاک کے حضور سربسجود ہے بلکہ امیر ابو ربا ب بھی سن رہے ہیں اور گواہ ہیں آ پ کی ہمتوں کے، آپ نے چھ ماہ میں اپنا ہر مشن نہایت شاندار کامیابی سے پورا کیا اور اب اللہ کی منتخب عورتوں میں سے ہیں۔ ہمارے امیر حضرت ابورباب نے بہت خا ص لڑکیوں کا انتخاب کیا ہے اس محترم کام کے لئےجو آپ کو جنت میں اعلی درجہ پر فائز کر ے گا اور وہ دس خوش نصیب آپ ہیں۔

 

امیر ابورباب کا نام سنتے ہی لڑکیوں نے ادب سے اپنے ہاتھ سینے پر باندھ کے سر جھکا لئے تھے ۔
“آپ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے مرد اپنے دین کی حفاظت کے لئے اپنے جسموں سے بارود باندھ کےخود کو قربان کرنے میں بھی ذرا سی دیر نہیں کرتے ،،
وہ ایمان کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ کیا ہماری جان، ہمارے جسم ہمارے مال کی اللہ کی راہ میں جہاد کے آگے کوئی اہمیت ہے؟
“نہیں ہے، ہمارا سب کچھ قربان اس کے نام پر” لڑکیوں نے جوش سے کہا ۔
“جو بھی اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو ہم اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے”
“یہی ہے نا ہماری قسم؟”عائشہ نے اونچی آواز میں پوچھا۔
“یہی ہمارا ایمان ہے مادام”ا لمدینہ نے بلند آواز میں جواب دیا۔
“تو اب یہ قسم پوری کرنے کاوقت آ گیا ہے”
لڑکیوں نے جوش سے تالی بجائی ۔

 

“ہمارے مرد اپنے بیوی بچوں سے دور رہ کے خدا کی راہ میں جہا د کررہے ہیں۔اللہ ان کو اپنے خاص بندے مانتا ہے اور آپ کو منتخب کیا گیا ہے اس سعادت کے لئے کہ ان کے کام آئیں حضرت ابورباب نے اللہ کی ہدایت پر فتوی جاری کیا ہے ۔ آپ سب جانے کی تیاری کریں سعادت کا یہ سفر بہت مبارک ہو آپ کو۔”

 

ہم کہاں جارہے ہیں مادام ؟ فروا کی آواز سے خوشی کی جھلک رہی تھی ۔
عائشہ گہری نظروں سے کچھ سیکنڈ فروا کو دیکھتی رہی پھر غصہ کی ہلکی سی آمیزش سے فروا سے مخاطب ہوئی۔

 

“کیا آپ کو تاکید نہیں ہے کہ کبھی غیر ضروری سوال نہیں کریں؟

 

فروانے گھبرا کے ہاتھ سینے پہ باند ھ لئے اوراقرا رمیں سرہلایا ۔

 

ماہم کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن اس سے پہلے فروابول پڑی تھی اورعائشہ نے یہ دیکھ لیا تھا لہذا اب وہ ماہم سے مخا طب ہوئ ی۔
“ ماہم جوسوال ادھورا چھوڑدیا تھا پوچھیں “

 

ماہم گھبرا گئی اوراٹک اٹک کے بولی۔ “ جی۔۔۔ نہیں۔۔ مادام۔۔ کوئی سوال نہیں ہے“
“مجھ سے ادھوری بات کرنے کی اجازت نہیں ہے آپ لوگوں کو، کیا کہہ رہی تھیں آپ ؟ “ عائشہ نے غصہ سے ایک ایک لفظ پر زور دے کے کہا ۔

 

ماہم ؔنے نظریں جھکا کے اور ہاتھ سینے پر باندھ کے ڈری ڈری سی آواز میں سوال کیا
“ہمارے سپرد کیا کام ہے مادام؟”

 

عائشہ نے ایک گہرا سانس لیا ۔ اب وہ مسکرا رہی تھی ۔

 

“آپ سب کو جہاد کی سعادت کے برابر سعادت نصیب ہوئی ہے ۔ ہمارے جہادی اپنے جسم اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی طلب میں بے چین ہیں لیکن کتنا عرصہ لگ جائے اس قربانی کی قبولیت میں اس کا انہیں اور ہمیں علم نہیں ۔ میرے لئے اور آپ سب کے لئے اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ ہم دل و جان سے ان کی ہر خدمت کے لئے مستعد رہیں”

 

عائشہ نے جوش سے کہا ۔پھر کچھ سوچ کے وہ چند سیکنڈ ماہم کے چہرے پر نظریں گاڑے اسے کڑی نظروں سے دیکھتی رہی اور اس کے قریب آ کے اس کاجھکا ہوا سر ایک جھٹکے سے اوپر کیا ، اب اس کا لہجہ میں چنگاریاں سی بھڑک رہی تھیں ۔

 

“کیا تمہارے دل میں شیطانی وسوسے جگہ لے رہے ہیں ؟ ماہم نے جلدی سے انکار میں سر ہلایا اس کے لہجہ میں خوف کی کپکپاہٹ تھی ۔

 

“ مجھے معاف کردیں مادام ، میں نادم ہوں ، مجھ سے بڑا گناہ سرزد ہواہے “

 

“ درست کہا ، اللہ کے حکم پر کسی سوال کی گنجائش نہیں، آپ کو کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے اللہ کی اطاعت اورامیر ابورباب کے پیغام کے بعد کسی سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیا ہماری تربیت میں میں کمی رہ گئی اورکیا ہم نے جہاد کے لئے آپ کا انتخاب غلط کیا؟”
عائشہ اپنی جگہ پر واپس گئی اور پھر ساری لڑکیوں سے مخاطب ہوئی:

 

“آپ کو مجاہدین کے لئے امیر ابوربا ب نے اللہ کے حکم سے حلال قرار دیا ہے۔ یاد رہے ہم نے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے ہمارا سب کچھ اس کا ہے اور یہ سب کچھ آپ اللہ کے حکم پرکر یں گی”
ماہم کے اندر بے چینی کی ایک اونچی لہر اٹھی، وہ پھرکچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس کی آواز اس میں ٹوٹ ٹوٹ کے بکھر گئی۔
“میں تو شادی شدہ۔۔۔۔ اور میرا شوہر؟”پھراس نے جلدی سے اپنا سرجھٹکا ۔دل میں توبہ کا ورد کیا
“میری توبہ قبول کرمالک، میرے وسوسے شیطانی ہیں، امیر ابور باب کے فتوی پر صدقِ دل سے ایمان رکھتی ہوں “
عائشہ اپنی بات ختم کرچکی تھی ۔
لڑکیوں نے اللہ اکبر کاپر جوش نعرہ لگایا اور بلند آواز سے کہا ۔
“پرور دگار دین کے لئے ہماری رضا قبول کر”
ماہم نے آنکھوں سے آنسوپوچھے اور آنکھیں بند کرکے صدق دل سے آمین کہا ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

گاڑی کے شیشوں پر گہرے سیاہ شیشے ہونے کے سبب باہر کا منظر لڑکیوں کو نظر نہیں آ رہا تھا ۔ان کی تربیت ہنسی مذاق کی اجازت نہیں دیتی تھی اور ایک دوسرے سے صرف ضروری بات کرنے کی اجازت تھی لہذا سب خاموشی سے سفر کررہی تھیں لیکن ان کے چہرے سے تھکن عیاں تھی ۔اس گاڑی میں صرف چار لڑکیاں تھیں اور انہیں بالکل علم نہیں تھا کہ باقی لڑکیوں کو الگ الگ گاڑیوں میں اورمختلف اوقات میں سفر کرنا تھا ۔ تربیت کیمپ میں لڑکیوں کو گھڑی پہنے کی اجازت نہیں تھی ۔ کیوں نہیں تھی نہیں تھی؟ انہیں ایسا کوئی سوال پوچھنے کی اجازت نہیں تھی ۔ تھکن سے چور اونگھتی ہوئی ایک لڑکی نے دوسری سے پوچھا
“ ہم کتنے گھنٹوں سے سفر کررہے ہیں ؟”

 

“ آرام کرو آنکھیں بند کرکے فضول سوال مت کروـ” اس لڑکی نے درشت لہجہ میں کہا جس کو عائشہ نے “ٓآپ سب کی رہنما” کہہ کے تعارف کرایا تھا اور جس کو ان لڑکیوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

 

رات کے گہرے اندھیرے میں گاڑی اونچی اونچی دیواروں والے احاطہ میں داخل ہوئی اورگیٹ کو واپس بند کردیا گیا ۔ڈرائیور نے گاڑی ورانڈے کے قریب لا کے کھڑی کی ۔ لڑکیوں کی رہنما لڑکی سب سے پہلے اتری اوراس کے پیچھے با قی لڑکیاں ورانڈے سے ملحق ہال میں داخل ہوئیں ۔ ہال کےاندرسامنے کی دیوار میں ایک دردوازہ تھا جوبند تھا اور ایک نقاب پوش شانے سے بندوق لٹکا ئ کھڑا تھا اس نے دروازہ کھولا اور رہ نمالڑکی کے ہاتھ میں ایک لال ٹین تھما دی ۔ وہ سب ایک سرنگ نما راستے پر چلتی ہوئی ایک اورلق ودق ہال میں پہنچیں جس کے چارونطرف چھوٹی چھوٹی کو ٹھریان بنی ہوئی تھیں ۔ ہال میں لالٹینوں کی ہلکی ہلکی روشنی میں لڑکیوں نے چار عورتوں کواپنی طرف آتے دیکھا۔ان عورتوں نے قریب آ کے بھی اپنے چہرے سے نقاب نہیں ہٹا ئی اوربنا کچھ بولے ایک ہاتھ سینے پر رکھ کے لڑکیوں کی محافظ کوجھک کے تعظیم پیش کی پھر باری باری سب نے لڑکیوں کے ہاتھ پکڑکے اپنے ماتھے سے چھلائے تھوڑا سا جھک کے بہت ادب سے اپنے پیچھے آنے کی اشارے سے درخواست کی ۔ چاروں لڑکیاں الگ الگ کوٹھریوں میں پہنچا دی گئیں۔ان کوٹھریوں میں ایک جیسا سامان تھا۔۔ کوٹھری کی ۔ایک دیوار کے ساتھ بچھا ہوا گدا جس پر ہرے رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی ۔سامنے کی دیوار کے ساتھ لکڑی کے کھوکھے پر جائے نماز اور قرآن مجید، اورسلے ہوئے کپڑوں کا ایک پیکٹ جس میں ہرے رنگ کے دو جوڑے کپڑے ۔اسی کے ساتھ ذرا ہٹ کے دیوار پر کپڑا ٹانگنے کی کھونٹی سب کوایک سی ہری چا دریں اورایک سا ہرے رنگ کالباس دیا گیا تھا ۔

 

لڑکیاں تھکن سے چور تھیں اپنے اپنے کمرے میں پہنچ کے بے سدھ ہوکے گدے پر گریں اور سو گئیں۔

 

ناشتہ کے وقت تمام لڑکیوں کی ان ہدایات کی ایک ایک کاپی بانٹ دی گئی جس میں ان کی دن بھر کی مصروفیات کی تفصیل اور دیگر ہدایات درج تھیں ۔اس ہدایت نامہ میں دن کو چار گھنٹہ سونے کو بھی دیا گیا تا کہ رات کو جہاد کی عبادت ادا کرتے وقت ان کے چہروں پر تھکن نہ ہو۔

 

المدینہ دس لڑکیوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی ۔ اس کی گہری سبز آنکھیں، سو رج کی کرنوں جیسےسنہرے، گھنے اورلمبے بال، بہت مہارت سے تر اشے ہو ئے سنگ مرمر کے مجسمے جیسا دودھیا بدن بھوکے جہادیوں کے لئے جنت کے توشے جیسا تھا سو سب کی بھوک اس پر ٹوٹ پڑی وہ سب اس کو نوالہ نوالہ توڑ کے کھا رہے تھے۔ ۔جس کا جی چاہتا تین بار اللہ اکبر کہہ کے اسے حلال کرلیتا ۔ پندرہ دن گزر چکے تھے ۔ المدینہ اپنے سوندھے بدن کی خوشبو ایک کے بعد دوسری پلیٹ میں دھرتے دھرتے اب خود کو کسی جھوٹی پلیٹ جیسا ہی محسو س کرنے لگی تھی ایسی پلیٹ جس کو وہ جیسے ہی دھوتی پھر جھوٹی ہو جاتی ۔وہ گھبرا گھبرا کے استغفار کی تسبیح پڑھتی جب اس کے اندر کے فخر پر اسے کائی جمتی محسو س ہوتی ۔”پروردگار دیں کے لئے میری رضا قبول کر ، مجھے خود پر فخر کرنے کی توفیق عطا کر، یہ کون سا بے دینی کا گدھ ہے جو مجھے اندر سے نوچ نوچ کے کھا رہا ہے؟ میں اپنے فرض کو ادا کرتے ہوئے اپنے وعدوں سے مکرتا کیوں محسو س کررہی ہوں خود کو۔ میری مدر فرما میرے معبود”اس کا چہرہ آنسووں سے تر ہو جاتا توبہ استغفا ر کرتے ہوئے ۔ لیکن دن رات کی مشقت اس کی تر بیت کو پھر سے ادھ موا کرنے لگتی ۔

 

المدینہ ، ماہم ، دعا اور باقی ساری لڑکیاں صرف کھانا کھانے ، با جماعت نماز پڑھنے یا جنگی مشقوں کے لئے اکھٹا ہوتی تھیں باقی وقت وہ کب کس کے تصرف میں ہوں گی انہیں خود معلوم نہیں ہوتا ۔ لیکن جب وہ ایک جگہ موجود ہوتیں تو ان کی آ نکھون کی ویرانی اور بدن کی تھکن ایک دوسرے سے مخا طب رہتی تھی ۔ انکے اندر کا خوف انکی زبانیں کا ٹ چکا تھا انکی تربیت انہیں اپنی زنجیروں میں جکڑ کے خا موشی کی کال کوٹھڑی میںبند کرچکی تھی ۔ لیکن بدن چیخ چیخ کے فریاد کرتا سنا ئ دیتا ایک دوسرے کو جس کو وہ استغفار کی تسبیح کے ورد سے چپ کرا دیتیں۔ اس دن ساری لڑکیا ں مغرب کی نمازکے لئے اکٹھا تھیں ماہم بھی مو جود تھی لیکن اس حال میں جیسےاس پر کوڑے برسائے گئے ہوں اس کے ہونٹوں کے کنا رے پر خون جما ہوا تھا ،چہرے پر نیل اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں ۔ اس نے نہ وضو کیا نہ نما ز پڑھی نہ ہی کسی کے سوال کا کوئی جواب دیا بس سر جھکائے اپنی سوچوں میں غرق بیٹھی رہی ۔نماز ختم ہوتے ہی عائشہ دو مجاہدین کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوئی اور ماہم کو گھسیٹے ہوئے وہ لوگ باہر لے گئے ۔ دوسری صبج لڑکیا اس گرا ونڈ میں لے جائی گئیں جہاں ماہم کے سر پہ شیطانی سایہ ہو جانے اور دیں کے احکامات سے روگردانی کرنے کے سبب موت کی سزا سنا ئی جانی تھی ۔ ما ہم سر سے پیر تک سیاہ برقعہ میں لپٹی دو برقع پوش عورتوں کی ہمراہی میں لڑ کھڑاتی ہوئی بیچ میدا ن کے لا ئی گئی گھٹنوں کے بل اسے زمیں پر بیٹھایا گیا ایک مجاہد آگے بڑھا اس نے بلند آواز سے ماہم کے گناہ گنوائے ”یہ اللہ کے فرمان پر سوال اٹھاتی ہے، اس نے ایک جہادی کے منہ پر طمانچہ مارکے دین کے منہ پر طمانچہ مارا ہے اور جہاد النکا ح کے نام پر چیخ چیخ کے گالیاں بک کے توہینِ فرمانِ رسالت کی مرتکب ہوئی ہے اور ایسے مرتد کی سزا موت ہے ۔بیشک بیشک اور اللہ اکبر کے پر جو ش نعروں سے میدان گونج رہا تھا ۔ ایک جہا دی کی بندوق نے ماہم کے سر کا نشانہ لیا ۔ لڑ کیوں نے گھبرا کے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا ان کا بدن تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ نشانہ گو ماہم کے سرکا لیا گیا تھا لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ اس ایک گولی نے باقی لڑکیوں کے بچے کھچے وجود کو بھی پھٹکی پھٹکی کرکے ان کے اندر دور دور تک بچھے خوف کے کوڑے دان پر ڈال دیا ۔ المدینہ کی عجب کیفیت تھی اسے لگ رہا تھا کہ ماہم کا خون زمیں پہ نہیں بلکہ اس کی رگوں میں جم رہا تھا۔ ماہم کی آخری چیخ اسے اپنے سینے میں تڑپتی محسوس ہورہی تھی ۔ المدینہ اس واقعہ کے بعد وہ المدینہ نہیں رہی جو جہا د کےجذبہ سے سر شار تھی اب وہ اپنی سوچو ں پر گھبرا گھبرا کے استغفار کی تسبیح نہیں پڑھتی تھی بلکہ اب تو اسے اپنے بدن سے سڑے ہوئے مردار جیسی بو آتی محسو س ہوتی تھی مقدس گدھ جتنا نوچ نوچ کے اس کا بدن کھاتے اس کی روح میں نئی سوچوں کے اتنے ہی اکھوے پھوٹ رہے تھے۔ ماہم کے سانحے پر کسی لڑکی نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا سوا ئے اس کے کہ اب ان کی آنکھوں میں خوف کی تہہ کچھ اور دبیز ہو گئی تھی ۔

 

تمام معاملا ت اس سانحے کے فوراً بعد ہی معمول پر آگئے یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگرالمدینہ کواپنے بدن سے کٹر کی بدبوابلتی محسوس ہو رہی تھی اوراندر کوئی آ گ تھی جواسے پھونکے دے رہی تھی ۔وہ اپنے کمرے میں دیوانہ وار چکرلگا تی اوردعا کرتی “ کوئی راستہ سجھا دے مرے معبود یہاں سے نکلنے کا یا مرجانے کا ۔ اس کی ہرسانس دعا بن گئی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ یہاں سے زندہ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔اسے ہررات مرنا ہوگا اورہرصبح اس خبیث گدھ کا شکرانہ ادا کرنا ہوگا جس نے اس کی جسم کونوچ نوچ کے کھایا ہو ۔المدینہ کوہرچیز سے نفرت ہوتی جارہی تھی ۔جانمازپربیٹھتی توصف ایک ہی گردان ہوتی اس کے اندر۔” میرے معبود اس ذلت کی زندگی کے بجائے مجھے موت دے دے۔”

 

۔ المدینہ کے حسین بدن کا ذائقہ جب مجاہدین کانشہ بڑھاتا تو وہ ایک دوسرے کو اپنی اپنی سرشاریاں اور اپنی اپنی فتوحات کی دا ستان مزے لے لے کے سناتے ۔ یوں امیرابو رباب تک بھی اس حسن بے مثال کی دا ستان پہنچ گئی ۔انہیں افسوس تھا کہ سا ت مہینے سے تربیت کیمپ میں موجود ہونے کے باوجود انہوں نے ا س کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی ان کے اندر کی بیتا بی ہاتھ مل رہی تھی، بپھر رہی تھی، ڈکار رہی تھی ۔وہ کئی دنوں تک گہری سو چ میں غرق رہے اور پھر ان کی آنکھوں میں وہی مخصوص چمک در آئی جو ہر فتوی سے پہلے نظر آتی تھی ۔انہوں نے مادام عائشہ کو فوراً طلب کیا ۔

 

“آج لڑکیوں کی نشانہ بازی کی تربیت کا ہم خود جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ ہمیں اطلا ع ملی ہے کہ المد ینہ نامی لڑکی سر کش ہے اور وہ جہاد کی تر بیت میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں رکھتی؟
عائشہ نے حیرانی سے جواب دیا ۔

 

“ایسا نہیں ہے میرے آقا ۔ بلکہ اسک ا نشانہ تو کبھی چوکتا ہی نہیں ۔ یہ اطلا ع بالکل غلط ہے آپ خود جائزہ لےسکتے ہیں”

 

“ٹھیک ہے ۔ ہم خود جائزہ لیں گے”

 

ٹریننگ کے وقت لڑکیاں سر پرصرف حجاب لیتی تھیں ۔ عائشہ نے ابورباب کی مو جودگی کی خوشخبری سنائی لڑکیوں کو اور سب سے پہلے المدینہ کا نام پکارا گیا ۔

 

المدینہ بندوق کا نشانہ باندھے زمیں پر مخصوص پوزیشن میں لیٹی تھی اور ابورباب کی بھوکی آنکھیں اس کی چا ندی کی صراحی جیسی گردن سے ہو تی ہوئی جسم کے چپہ چپہ کی سیر میں مصروف تھیں ۔ ابو رباب کو ایسا مدہوش کن نظارہ اس قیامت خیز حسن کی طلب کی بھٹی میں ڈال بھون رہا تھا ۔ المدینہ کا ایک بھی نشانہ خطا نہیں ہوا تھا ۔ ابو رباب مرحبا مرحبا کو ورد کرتے ہوئے المدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ ان کا جی چا ہ رہا تھا کہ اسی وقت اسے اپنے سینے سے لگا کے اپنی خواب گاہ میں لے جا ئیں لیکن اپنے مر تبے کا خیال صرف المدینہ کے سر پا ہا تھ رکھنے پر مجبور کررہا تھا ۔ دوسرے دن ابورباب نے پھر ما دام عائشہ کو طلب کیا ۔
“مادام عائشہ ۔ ہمیں المدینہ کے بارے میں خا ص ہدا یات سر کار دوعالم کی جانب سے مل رہی ہیں ۔ میری جان فدا ہو میرے سرکار کے فرمان پر۔ میں ان کے غلا موں کا غلام بہت گڑ گڑایا ان کے حضور کہ مجھے سوائے ان کی غلامی کے اور کو ئی کام نہ سونپا جائے مگر آقا کا حکم ماننا غلام کا فرض اولین ہے ۔ اس لڑکی کو اپنے مشن کی کامیابی کے لئے ہمیں بذات خود تر بیت دینے کی تاکید فرمائی ہے آقا نے ۔ اسے ہماری خدمت میں پیش کیا جا ئے مادام عائشہ ۔ امیرابورباب کی لہجے میں رقت آمیز جلال تھا ۔

 

“جو حکم میرے آقا”عائشہ نے جھک کے تعظیم پیش کی ۔

 

المدینہ نے عائشہ کا سنایا امیرابو رباب کاپیغام سر جھکا کے سنا لیکن اس کے چہرے پر کسی قسم کے تا ئثرات نہیں تھے نہ غم کے نہ خوشی کے نہ فخر کے ۔ عائشہ نے حیرانی سے سوال کیا “المدینہ کیا تم اتنے بڑے اعزاز پر خو ش نہیں ہو”

 

“ما دام۔۔۔ خوشی اور غم موت اور زندگی سب کے معنی اب بدل چکے ہیں میرے لئے ۔ میں اس خبر کو اپنی کسی مراد کی قبولیت جیسا سمجھ کے اندر سے سر شا ر ہوں ۔ میں اپنے کسی فیصلے کے سامنے سرخرو ہونے جا رہی ہوں اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوگی ، میری دعا قبول ہوئی، ما لک کی شکر گزار ہوں ، میں اس حکم کو خدا وند کا ایک عظیم فیصلہ سمجھ رہی ہوں ۔

 

عائشہ نے خوشی سے اسے سینے سے لگا لیا ۔

 

“یاد رہے کہ یہ بہت بڑا اعزاز ہے ۔تمہارے لئے خاص لباس منگوایا گیا ہے کل کے لئے تا کہ تمہارے حسن میں چار چاند لگ جائے”

 

جمعہ کے نماز کے بعد امیرابو رباب کا خطبہ تھا لہذا مجاہدین کا اشتیاق لائق دید تھا کہ انہیں ان کی ذیارت کا شرف کم کم نصیب ہوتا تھا ۔وہ بہت خاص مو قع پر تشریف لا تے تھے ۔
امیر ابورباب نے خطبہ دیا اور ایمان کے حرارت سے دلوں کو گرما دیا ۔ انہوں نے آ خر میں رقت آمیز لہجے میں المدینہ کے بارے میں سر کار دو عالم کی ہدایات کا ذکر ا یسے دلگیر اورایمان افروز لہجے میں کیا کہ فضا اللہ اکبر ک نعروں سے گونج اٹھی۔ سر سے پیر تک سیاہ عبایا میں لپٹی المدینہ کو بہت احترام سے امیر ابورباب کے روبرو لا کے کھڑا کیا گیا ۔
امیرابو رباب نے تین بار اللہ اکبر کہا کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو اپنی ذاتی تربیت میں نہیں رکھنا چا ہتے تھے ۔ المدینہ اب ان پر حلال تھی۔ فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج رہی تھی اور ابورباب کا چہرہ خو شی سے تمتما رہا تھا ۔ المدینہ نے اچا نک اپنا نقاب الٹ دیا اپنا برقع اتار کے مجمع کی طرف پھینکا اور پوری قوت سے جنونی انداز میں چلائی ۔”تو نہیں جانتا ابو رباب کہ مجھے میرے اللہ نے کیا
ہدایت فرمائی ہے”

 

اس نے پورے جلال کے ساتھ اپنا ہا تھ بلند کیا اور پلک چھپتے میں وہ ہو گیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔۔۔ اس کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا تھا۔ المدینہ کی پہلی گولی امیر ابورباب کے سینے کو چیرگئی اورپھر عائشہ سمیت وہ سب جو اسے اپنے واسطے جب جی چاہے حلال قرار دے دیتے تھے اپنے خون میں نہائے فرش پر پڑے تھے۔ المدینہ ہررات مرتی تھی اورہرصبح اپنی زندگی ختم کرنے کی ترکیبیں سوچا کرتی تھی۔ ابو رباب کا پیغام اسے اس جہاد کو اپنی ذات سے نوچ کے پھینک دینے کا پیغام دے گیا جس نے اسے عورت سے کیچڑ میں بدل دیا تھا۔ المدینہ نے ایک گولی اپنے لئے بچا لی تھی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ المدینہ نے پلٹ کے لڑکیوں کی طرف دیکھا، اس کی آواز غصہ سے کانپ رہی تھی “ تم سب گواہی دینا کہ المدینہ نے اس جہاد کو ٹھوکر ماردی جس نے اسے عورت سے رنڈی بنا دیا۔ اس نے پستول اپنی کنپٹی پر رکھی اور سر آسمان کی طرف سر اٹھایا”پر وردگار میں تجھے ان مقدس شیطانوں کے مکروہ کرتوتوں پر گواہ کرتی ہوں”

 

اور اس کا واحد گواہ، اس کا معبود ! شاید اپنی بنائی ہر مورت میں اس مورت کو سب سے اونچے طاق پہ رکھ کے مسکرارہا ہوگا
Categories
شاعری

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں
وہ سال کے مختلف دنوں میں
اپنے اپنے خداؤں کا سنگھار کر کے
باہر نکالتے ہیں
پھر میری طرف استہزایئہ ہنسی کے
کنکر پھینکتے ہیں
میں تیس سال سے
خداؤں کی جنگ دیکھ رہا ہوں
میں نے اکثر دیکھا ہے
خالی کھوپڑیوں والے سپاہیوں کو
اپنے بھیجے کے بم بنا کے
اپنے خداؤں کو خوش کرتے ہوئے
ان کے خدا ان کو
ہر وقت عالمِ خواب میں رکھتے ہیں
میں یہ خواب نہیں دیکھنا چاہتا
میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا

Image: Frank Vincentz

Categories
شاعری

ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے

ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے
ہم آگ پیتے ہیں
اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
ہم حبس کی موت مررہے ہیں
لہذا ہماری انگلیاں
حبس کا ذا ئقہ ہی تحریر کرسکتی ہیں
ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواس کی ساری سیونوں سے بختہ بخیہ ادھڑ رہے ہیں
ادھڑ چکے ہیں ۔
ہمارے شہروں کی ہر گلی کے نکڑ پر
ایک مذبح خانہ ہے
جہاں بہت سے مشعال
ظہر کی اذان کے ساتھ ذبح کردئیے جا تے ہیں
لا تعداد گدھ
ان مذبح خانوں میں
کچلی ہوئی انگلیوں کو اپنے خونی پنجوں میں دبوچے
نوچ نوچ کے کھاتے ہیں اور خوشی سے
“نعرے لگا تے ہیں “اللہ اکبر
ہم ان کی شکلیں پہچانتے ہیں
ہمیں ان شکلوں کو تصویر کرنا ہے
یہی تو وہ گدھ ہیں جنہوں نے
چودہ سو سال پہلے بھی
اپنے نیزوں کی نوک پر
“اللہ اکبر” کو بلند کرکے
اپنی فتح کا جشن منایا تھا
مذبح خانوں کے بھوکے گدھ
دھت ہیں اپنی وحشت کا جشن منا نے میں
اور شاید اپنا انجام بھول گئے ہیں
مگر ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ
نہیں بھول سکتے
حالانکہ ان کی وحشی بھوک نے ہماری انگلیاں چپا لی ہیں
مگرہم کچلی ہوئ انگلیوں سے
حبس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حبس
مکرکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکر
اور جھوٹ کو جھوٹ
لکھتے رہیں گے ۔
انہیں نہیں معلوم
گھپ خامشی کا آتش فشاں پھٹنے کی دیر ہے
نہ جانے کتنے مشعال
لاوا بن کے نگل لیں گے ان بھوکے گدھوں
اور وحشی مذبح خانوں کو ۔
Categories
نقطۂ نظر

Democratic Deficit in Pakistan

Existence of divergent point of views among people in a society regarding any aspect of life is inevitable. Appreciating and recognizing this multiplicity of views is an essential element of a democratic society. And accompanying this appreciation, there is also tolerance and respect for these views, both among the ruling class and masses which is the very essence of democracy. This is the very ingredient that differentiates a democratic state from a despotic one. Looking at Pakistan along this dimension of democracy depicts a very interesting picture. While at the time we have democratic elections, a representative democratic government, it is this lack of patience for a plurality of views that I wish to highlight in Pakistani context that is becoming increasingly problematic with every passing day.

Appreciating and recognizing this multiplicity of views is an essential element of a democratic society.

The Pakistani society provides a classic example of forced labeling leading to societal polarization. What this means is that ordinary people and individuals are not asked their views, rather the dominant and prominent political elites decide their views and ideologies for them. Let me explain how and why. The most obvious and current example of this labeling which is becoming ever precarious day by day is this dichotomy between being a “liberal” and a “conservative” in Pakistani society. From the heated debates between the conservatives and liberals on media, events such as the murder of Mr. Salman Taseer to the episode of a TV anchor poking into the lives of people in a public park, arguments for Pakistan being a secular or an Islamic state, we see a confrontation between these two ideologies. These contradicting ideologies seem to have been there for a long time in Pakistan. However the problems among the two became acute, when they were made the only available choices for people with different mindsets, or on the contrary, people are forced into choosing these or labeled with these ideologies without determining their consent. These ideologies have a history of becoming polarized to the extent that they are now. As in the Pakistani context, it had a lot to do with the world becoming a global village in the post 2000 time period. This was a time of watershed in the history of this country, as the people due to the explosion of mass media; internet and advanced telecommunication were increasingly being integrated into the global village. While the conservative were historically powerful in Pakistan, due to internet revolution the liberal elites also found new grounds like twitter and Facebook to express their discontent which previously they were deprived off. There was also mushroom growth of universities and colleges around the country but mainly concentrated in cities, which lead to increased awareness among the educated middle classes. Both these coincided with the phenomena of 9/11, incidentally or accidentally. Now these three factors, along with the power and intent of the state to root out militancy and extremism on pressure from the West, collided with the conservative institutions and mindsets that had gained substantial strength since the Zia period. With the advent of War against Terror and the resulting resistance by the conservatives, the masses resisted strongly to the “enlightened modernization” and rallied behind the conservative forces. The reason being that the rural Pakistan remained largely conservative with low or no access to modern education and under profound influence of religious clerics who dictated extremist ideologies; this was supplemented by their economic marginalization. On the contrary, the urban classes had mainly, partly due to due to their exposure to globalization and adaptation of modern technology and part due to modern education, established an identity that was neither conservative nor liberal in the western sense of the word. This educated middle class progressed economically and wanted to get ahead further, but they were not politically empowered and this produced apathy in them from the current system of politics. It this large mass of educated Pakistani population that want to progress, develop and become globalized, become politically empowered but not at the expense of their conservative attitudes and religion and could not be labeled as a classic conservative or liberal. These classes are in a state of social evolution, where they have become modernized by adopting western technology and education but their mindsets have not undergone fundamental changes yet. It is also this very mass that has rallied behind Imran Khan for his call of a new Pakistan with religious mindset. While in countries like Egypt, increased globalization led to social revolution, in Pakistan it polarized the society. Another important aspect of this dichotomy is the segregated education system of Pakistan, which is largely polarized between English and Urdu medium schooling, producing in turn polarized societal classes. This educational polarity has been there also, but was increased with the growth of modern schooling. And lastly, there is also lack of tolerance for non-muslin sections by labeling them as minority. The increasing number of abductions of Hindu girls is a living evidence of this fact which reflects the insecurity among the conservatives with pockets of modernization in urban parts of the country.

These classes are in a state of social evolution, where they have become modernized by adopting western technology and education but their mindsets have not undergone fundamental changes yet.

Concluding I would like to say that even the existence of these ideologies need not be destructive, as long as they exist peacefully, the problems arise when their existence poses a threat to peaceful national co-existence. The state of Pakistan, apart from talking the rhetoric of being the champions of democracy, shall develop a popular discourse that is based upon tolerance and respect for other’s ideologies and views. This could be done by forging a consensus through dialogue among the polarized sections of the society through involving civil society in Pakistan and other relevant social actors representing different religious sections and ideologies. Most importantly, it has to include the general public, because it is only by involving the ordinary man that a sense of ownership for this new “tolerance discourse” can be generated leading to a society that is tolerant to divergent point of views, thereby overcoming the democratic deficit in our current socio-political system.

Categories
نقطۂ نظر

Of Holy Months and Unholy Terror

Zoha Waseem

Of-Holy-Months-and-Unholy-Terror-2

‘And so, the contention is, Ramadan is “the month of Jihad”. Yet, there can be no moral equivalence between a battle fought in self-defence, such as those waged by the Prophet during Ramadan, and brutal militant attacks that maim and murder innocent men, women, and children. Just because some of the most important battles of Islamic history occurred during Ramadan, it does not mean that murder could ever be justified. Ever.’ – Hesham A. Hassaballah (2013)

It began in 624 C.E., on the 17th Ramadan. The great Battle of Badr was to mark the beginning of the first conflict in Muslim history fought during the holy month of Ramadan. This historical event is regularly exploited within terrorists’ rhetoric for recruiting militants and justifying violence.

It began in 624 C.E., on the 17th Ramadan. The great Battle of Badr was to mark the beginning of the first conflict in Muslim history fought during the holy month of Ramadan. This historical event is regularly exploited within terrorists’ rhetoric for recruiting militants and justifying violence. Of the dozens of historic conflicts ensuing since that year, remembered in contemporary history are the Ramadan War of 1973 (also known as the Yom Kippur War or the fourth Arab-Israeli War); the Lebanese civil war, which began in 1975 and continued through seventeen months of Ramadan; Operation Ramadan, the first battle in the Iran-Iraq war fought in 1982, one of the largest land battles since World War II; the first Palestinian intifada, which began in 1987 and was waged over 6 Ramadans; and the 2003-2007 Iraq war.

Today, terrorists worldwide allude to these conflicts non-contextually to wage their own versions of jihad. In the Middle East and North Africa, countries such as Lebanon, Egypt, Algeria, Yemen, and – most notably – Iraq, have regularly suffered from these extreme narratives.

Abu Musab al-Zarqawi
Abu Musab al-Zarqawi

It was on the third of Ramadan in 2004, when Abu Musab al-Zarqawi, a world renowned terrorist known for advocating suicide attacks and hostage executions, pledged allegiance to Osama bin Ladin, leading to the creation of Al Qaeda in Iraq. In his pledge, he reportedly stated that ‘with the appearance of Ramadan, the month of the gift of victories, Muslims are compelled to join forces and be a stick in the eye of Islam’s enemies’. It was his affiliate that called a surge of terrorist activity in Ramadan their ‘blessed foray of violence’. This year, mid-way through the holy month, Al-Qaeda in Iraq (AQI) carried out one of the most alarming prison breaks in recent history. As the world watched Iraq crumbling amidst sectarian violence, 500 militants broke out of Baghdad’s notorious Abu Ghraib prison.

In 2006, just two weeks before Ramadan, Osama bin Laden’s second-in-command Ayman al-Zawahiri released a video tape threatening Algerians who were still reeling from a civil war. ‘The Salafist Group for Preaching and Combat (GSPC) has joined the Al Qaeda organization… may this be a bone in the throat of American and French crusaders, and their allies, and sow fear in the hearts of French traitors and sons of apostates’. GSPC has existed in Algeria since the 1990s. Since its transformation into Al Qaeda in the Islamic Maghreb, Algeria has experienced a spike in terrorist activity during Ramadan.

The month of Muharram, like Ramadan, too has borne the brunt of such activity and rhetoric, with Shias being targeted in Lebanon, Iran and Iraq. In 2012, in a streak of bombings on the eve of Muharram, 17 people were killed across Iraq. But seldom has a country witnessed the threat of Muharram violence that Pakistan has.

Last year, an arrested TTP militant in Karachi, Akhtar Mehsud confessed during interrogation that four suicide bombers had been trained and selected to carry out attacks during Muharram processions in the city. Law enforcement and intelligence agencies worked intensively to ward off security threats during the month of commemoration, successfully foiling several attempts as was revealed by suspects arrested from various cities in Punjab between 2010 and 2013.

The prevailing threat stems from violently sectarian rhetoric embossed with Islamic history. On December 28 2009, Pakistan’s largest procession of Shias was targeted in Karachi, killing 43 and causing the city to erupt in clashes amongst rioters. TTP claimed responsibility, notifying the use of a suicide bomber. The attack came a day after suicide attacks killed 15 near Pir Alam Shah Bukhari’s tomb in Muzaffarabad.

December 28 2009, bombing in a procession of Shias at Karachi, killing 43
December 28 2009, bombing in a procession of Shias at Karachi, killing 43

Last November, a remote-controlled bombing in Dera Ismail Khan during Muharram took eight lives. TTP spokesperson Ehsanullah Ehsan was quick to justify that the group ‘carried out the attack against the Shia community’. Other than TTP, responsible for inciting violence during Muharram are Lahskar-e-Jhangvi and its mother-ship Sipah-e-Sahaba Pakistan.

‘The holy month of jihad’, has suffered its share of violence in Pakistan as well, hazed by sectarian tones. In 2010, multiple blasts targeted a Shia procession in Lahore killing 30. They were followed shortly by a suicide attack on Shias in Quetta which killed more than 50 people. This year, the deadliest attack targeting Shias during Ramadan took place in Parachinar, taking over 56 lives. Media channels, perhaps too distressingly involved in comic Ramadan transmissions, failed to provide adequate coverage to such an atrocity.

Apart from sectarian attacks during Ramadan, Pakistan has witnessed a surge of other TTP and LEJ-led attacks including those on police recruits in Mingora that killed 16 (2009); the attack on a mosque in Khyber agency which claimed 50 lives (2011); a rage of attacks in Khyber Pakhtunkhwa and FATA in the beginning of Ramadan in 2012; a mosque attack in Kohat on the first day of Ramadan and the Sukkur attacks on ISI headquarters (2013). Every TTP and LeJ-led rhetoric during Ramadan in Pakistan has been dressed in the kafan of jihad.

Adding to these holy months of martyrdom is the factor of Islamic charities, several of which collect funds for jihad, attracting zakat during Ramadan, such as Jamaat-ud-Dawa. Last year, the government prohibited collection of zakat and donations by banned groups and/or outfits, but given that several of these are unregistered, tracing and controlling financing through illicit charitable donations remains a serious problem in Pakistan.

Undertaking an offensive during a religious period has dual characteristics: motivation for the terrorist group and vulnerability of the target.

If external jihad was not enough, the Pakistani Taliban seems to have become caretakers of the practice of internal jihad as well. TTP-South Waziristan’s Mullah Nazir recently banned men and women from wearing tight or see-through clothing in Ramadan – a move that bears no religious or historic significance, and one TTP fails to explain the ‘Islamic’ nature of. The Ramadan ‘code of conduct’ issued by TTP has further warned one month of imprisonment for not fasting in South Waziristan.

Attacks during Rabbi-al-Awwal, the third month of the calendar, have hit several cities in the country as well. While citizens – Sunni, Shia, Ahmedis and Christians alike – celebrate the birth of the Prophet, aggressive disapproval is made known by certain Deobandi, Wahabi and Salafi groups in Pakistan who strongly oppose these celebrations and see fit to attack rejoicing participants. It takes but a mention of Nishtar Park to remind Karachiites of the 56 citizens killed during an attack carried out in 2006 by Lashkar-e-Jhangvi operatives on Barelvi Sunnis responsible for organizing the ceremony.

What triggers escalation of violence during sacred times is a subject of much contention. Ron E. Hessner wrote that ‘sacred dates in the religious calendar provide meaning to the faithful by evoking history, social structure or religious precepts and, ultimately, by hinting at the underlying order of the cosmos’. Instigators of violence during sacred months seem to benefit from the so-called ‘auspicious’ timing of attacks, almost in an attempt to justify them, vindicating initiators from guilt and shame.

The best way to contain this vicious cycle of motivation and vulnerability is through changing perceptions towards extremist rhetoric by providing alternate interpretations of religious history.

Undertaking an offensive during a religious period has dual characteristics: motivation for the terrorist group and vulnerability of the target. Religious periods act as force multipliers, motivating militants to act with greater ferocity and fervour on holy days that resonate with their cause (such as the motivation to instigate violence against Shias during Muharram). Hessner’s findings on the Iraq conflict between 2003 and 2009, for example, illustrate that in Ramadan the average number of terrorist attacks increased by 7.2%, with sectarian attacks alone rising by 8.3%. Zarqawi’s quote below represents the rhetoric employed for this motivation.
‘Sunnis, wake up, pay attention and prepare to confront the poisons of the Shiite snakes, who are afflicting you with all agonies since the invasion of Iraq until our day. Forget about those advocating the end of sectarianism and calling for national unity.’ – Abu Musab al-Zarqawi (2006), former leader of al Qaeda in Iraq (2006)
Vulnerability of the group being attacked is the second characteristic influencing the rise of conflict during a religious period. Attacking Shia processions during Muharram or Friday mosque-goers during Ramadan are known as ‘surprise attacks’, meant to weaken the ‘enemy’ further by endangering its mobilisation on days most significant to the practitioners. Vulnerability encourages motivation. Motivation becomes a show of hadd and jurrat, thus furthering vulnerability. By definition, ‘hadd’ can mean either ‘limit’ or ‘a punishment which is fixed and enjoyed as the right of Allah’. For the purposes of extremism, it implies more conclusively the extremes one is willing to reach in order to punish apostates or non-believers. ‘Jurrat’ (bravery or courage) – with regards the tactical utilisation of terrorism – refers to the theatrical display of violence highlighting strength and power in order to suppress the adversary and impress the following.

The best way to contain this vicious cycle of motivation and vulnerability is through changing perceptions towards extremist rhetoric by providing alternate interpretations of religious history. It must also be accounted that violence has blooded histories of all religions and can never be utilised as a means of successfully spreading or eradicating belief systems. Salafi preacher Sayyid Qutb, Zawahiri’s mentor, spent his ink and sweat advocating for an offensive jihad, whereas the Prophet devoted his life insisting on its defensive and internal nature. Understanding the difference is a good place to start.

 


Zoha-Waseem

Zoha Waseem is from Karachi and has a post-graduate from King’s College London in Terrorism, Security and Society.


Categories
نقطۂ نظر

Growing Extremism in Our Approaches

I am reading Laaltain from its very first issue. It covers a wide range of important issues, be they international or national ones. This letter is apropos to the article “Why Baluchistan is burning?”  I am sensing a growing level of extremism in people around me, case of Baluchistan is not an exception. Everyone is suffering from the intolerance syndrome. From minor issues related to traffic and road sense to the grave one regarding religious identity and faith, we all are under its trance. It not that there is no remedy of it – we can still compensate the loss by promoting higher values in our society.

Parveen Kamal
Rawalpindi