Categories
شاعری

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے
جب اس کا دم گھٹنے لگے تو
کھڑکی پہ پردہ ڈال کر
مدھم روشنی کو
اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے

ایک آخری کام رہ گیا ہے
تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے
اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو
تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر
زمانے کی زنجیر کھینچنی ہے

میں وحشت کا استعارہ ہوں
زندگی میری آہٹ سے ڈر جاتی ہے
موت آواز کے سنّاٹے میں ہڑبھڑا اُٹھتی ہے
جانتے ہو، میں جہاں ہوں۔۔۔وہاں آسماں کا سایہ نہیں
بس اُس کی اک آہ نے
میرے خواب کی تعبیر اُلٹ دی۔۔۔
Image: Krisztian Tejfel

Categories
شاعری

کون بتائے گا

وائلن کے تاروں کی چیخ میں
کتنے سینٹی گریڈ وحشت تھی
خزانی ہوائیں چلیں تو
پتے پیلے کیوں پڑ جاتے ہیں
اور محبت کو اجنبی راہ میں خالی بنچ پہ
چھوڑ کے جانے والے نے ہمت
کہاں سے مستعار لی
کون بتائے گا؟

آنسو پینے والی کو
بستر کی سلوٹیں گنتے گنتے
روزانہ شام ہو جاتی ہے
اور جانے والا پرائی دھوپ میں
اپنا بدن کیوں سینکتا رہا
کون بتائے گا؟

وہ۔۔۔۔۔ جسے معلوم ہے کہ
رسے کی کمزوری کے باعث
خود کشی پہ آمادہ لڑکی کی
داھنی ٹانگ کیوں ٹوٹی
یا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اپنی خود کشی موخر کر کے
زہر میں ملاوٹ کے خلاف
سارا دن احتجاج کرتا رہا
Image: Matthew Li