Categories
شاعری

کون بتائے گا

وائلن کے تاروں کی چیخ میں
کتنے سینٹی گریڈ وحشت تھی
خزانی ہوائیں چلیں تو
پتے پیلے کیوں پڑ جاتے ہیں
اور محبت کو اجنبی راہ میں خالی بنچ پہ
چھوڑ کے جانے والے نے ہمت
کہاں سے مستعار لی
کون بتائے گا؟

آنسو پینے والی کو
بستر کی سلوٹیں گنتے گنتے
روزانہ شام ہو جاتی ہے
اور جانے والا پرائی دھوپ میں
اپنا بدن کیوں سینکتا رہا
کون بتائے گا؟

وہ۔۔۔۔۔ جسے معلوم ہے کہ
رسے کی کمزوری کے باعث
خود کشی پہ آمادہ لڑکی کی
داھنی ٹانگ کیوں ٹوٹی
یا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اپنی خود کشی موخر کر کے
زہر میں ملاوٹ کے خلاف
سارا دن احتجاج کرتا رہا
Image: Matthew Li

Categories
شاعری

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں
وہ سال کے مختلف دنوں میں
اپنے اپنے خداؤں کا سنگھار کر کے
باہر نکالتے ہیں
پھر میری طرف استہزایئہ ہنسی کے
کنکر پھینکتے ہیں
میں تیس سال سے
خداؤں کی جنگ دیکھ رہا ہوں
میں نے اکثر دیکھا ہے
خالی کھوپڑیوں والے سپاہیوں کو
اپنے بھیجے کے بم بنا کے
اپنے خداؤں کو خوش کرتے ہوئے
ان کے خدا ان کو
ہر وقت عالمِ خواب میں رکھتے ہیں
میں یہ خواب نہیں دیکھنا چاہتا
میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا

Image: Frank Vincentz