میری زندگی کا شیزوفرینیا

تنویر انجم: میری زندگی کا شیزوفرینیا
ناقابل یقین انداز سے
غائب کر دیتا ہے
ہر لمحے میں چھپی بے شمار نظمیں
رستے میں کھو جانے والا اعتبار

ثاقب ندیم: چشمِ دشت میں وحشت دیکھ کر بھی
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں