Categories
شاعری

میری زندگی کا شیزوفرینیا

میری زندگی کا شیزوفرینیا
مجھے مسلسل ایک جیسی زندگی گزارنے نہیں دیتا
ایک ایسی زندگی
جس میں میں چاہوں تو
لوگوں کو جوتے کی نوک پر رکھوں
سب سے ملنا چھوڑ دوں
سچ بول بول کر لوگوں سے تعلقات توڑ لوں
نظموں کی برسات میں بیٹھی بھیگتی رہوں

لیکن افسوس
میری زندگی کا شیزوفرینیا
ناقابل یقین انداز سے
غائب کر دیتا ہے
ہر لمحے میں چھپی بے شمار نظمیں
اور مجبور کر دیتا ہے مجھے
اپنی کہی باتوں پر شرمندہ ہونے کے لیے
ایک طویل بے حد طویل عرصے تک کے لیے
حتیٰ کہ ناامیدی قدم اکھاڑنے کے قریب ہوتی ہے
تو مجھے بچانے کے لیے
زندگی لے لیتی ہے
ایک شیزوفرینک کروٹ

Image: Henrietta Harris

Categories
شاعری

رستے میں کھو جانے والا اعتبار

رستے میں کھو جانے والا اعتبار
چشمِ دشت میں وحشت دیکھ کر بھی
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
وہ ناراض ہے اپنے
ستر سالہ بُوڑھے خواب سے
اور سامنے بیٹھی ہوئی
رعونت میں غوطے کھاتی ریش سے
اُس کا جی چاھتا ہے کہ——–؟
لیکن افسوس کہ
اُس کی جیب میں رکھا اُسترا
راستے میں کہیں کھو گیا ہے
نہتے شخص کے خوابوں پر
کیا اعتبار کرنا، اور نہ ہی
اس کے غصے پر۔۔۔۔۔۔۔
استرے کی طرح
اس کا غصہ بھی راستے ہی میں کہیں
کھو سکتا ہے

Image: Henrietta Harris