دائرہ اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

کسی خواب میں اتر جاؤ
اسے مزید گہرا کرو
اور گہرے اترتے چلے جاؤ
مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے ایک راستہ چاہیے جو پاؤں سے نہیں دل سے نکلتا ہو مجھ تک آنے کے لیے ایک دروازہ چاہیے جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے کھل سکتا ہو اور ایک کھڑکی جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو مجھ تک آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت […]
خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ! وسیع تر کائناتوں کے قیام کے بعد ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے پکار اٹھی۔۔۔۔ کوئی ہے جو ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!! دعا قبول ہوئی ہم ایک نئی سرزمین پر اترے جو بہت حسین تھی پھر ہمیں ایک خدا اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی! ہمارے قدموں […]
خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے

نصیر احمد ناصر: وہ محض نظمیں لکھ سکتے ہیں
یا زیادہ سے زیادہ
مرگِ خود پر
تعزیتی قرارداد پیش کر سکتے ہیں!
ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

عذرا عباس: وقت تشدد کی چوکڑی بھرتا ہوا
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے