Categories
شاعری

میں خوف ہوں (ایچ-بی-بلوچ)

حلیے اور
شکلیں بدل بدل کر
مجھ سے مت پوچھو
کہ میں کون ہوں

میں محنت اور اطاعت کا
کالا رنگ ہوں
جس سے تم نے
نسلی تعصب گھڑ ڈالا

میں گول چکرا ہوں
جس سے
موہن جو دڑو کے باسیوں نے پہیہ بنایا
اور جس سے تم نے
دار کی چرخیاں بنا ڈالیں

میں کنور رام کی آواز ہوں
جس سے تم نے سائرن بنا لیے

میں محبت ہوں
جس سے تم نے شیطان بنا ڈالا
میں طلب ہوں
جس سے تم نے دیوتا بنا لیے

میں خوف ہوں
آج کل تم جس سے
انسان بنانے کے چکر میں ہو!

Categories
شاعری

گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر
کاغذی گلوب نے
تیزی سے حرکت کی
اور مجھے کئی حصوں میں
منقسم کردیا
میں نہیں جانتا
میرا کون سا ٹکڑا
گلوب کے کس حصے میں گرا
یا اس کی سطح میں
جذب ہو کر رہ گیا

جن سلگتے ہوئے لمحوں کے گہرے کش لے کر
زندگی نے اُن کے ٹکڑوں کو کہیں پھینک دیا تھا
رگوں میں تیزی سے گردش کرتے
خون کی دھند میں
وہ مجھے دکھائی ہی نہیں دیے
لیکن
جب سے رات کی انگلیوں میں کرچیاں بھری ہوئی ہیں
اسے پسلیوں میں ٹہوکے دینے کی عادت پڑ گئی ہے
یہ سمجھے بغیر
کہ ایک منقسم بدن کے کسی حصے میں پسلی نہیں ہوتی
اورکوئی مضطرب اداس بے خوابی
پیہم رائگانی کا حساب نہیں کر سکتی

میں کڑے جتن کر کے
اپنا بدن سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں
میری روح
پانی پر تیرتے کنول چننے میں مصروف ہو جاتی ہے
مگر آنکھیں دُور کہیں
تم سے منسوب اُس بینچ پر جا بیٹھتی ہیں
جس کے ارد گرد پڑے
بجھی ہوئی سگرٹوں کے
ان گنت ٹکڑے اٹھا کر
زندگی پھر
ٹوٹے ہوئے گلوب کی سرحدوں پر
گہرے کش لگانے لگتی ہے!

Categories
شاعری

تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر
مَیں اکیلا ہی ہوں
اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر
اکیلے ہی طے کرنا ہے
باقی سب ہمسفر
شاید ابھی سو رہے ہیں
جب وہ جاگیں گے
تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا ہو گا

اس تنہائی کا کوئی سدِ باب ہے؟
کوئی ہمسفر، ہم نفس، ہم راز
ہے کہ نہیں ہے؟
کیا میں کسی اور سیارے پہ
کوئی پیغام بھیج سکتا ہوں؟
شاید وہاں کوئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا ہمسفر، ہم نفس، ہم راز
میرا غمگداز، ہم دم، ہم زاد

مجھے لگتا ہے میَں
کسی غلط جگہ پیدا ہو گیا ہوں
اب ایسے میں میَں
کیا شیو کروں
کیا کپڑے بدلوں
نہاؤں بھی کیوں؟
زندہ ہی کیوں رہوں
کاش میں خلائی مخلوق ہوتا
تیرتا رہتا
اور کہیں نہ پہنچ پاتا
واپس لوٹ آتا
تنہائی کی گہرائی میں ۔۔۔۔۔۔

اے خدائے عزوجل!!
اس سیارے پر یا تو کسی کو بھیج
یا مجھے اپنے پاس بلا لے
یا مجھے وہ گُر بتا
کہ میں کسی کو جگا سکوں
کسی کو اپنا بنا سکوں
رُلا سکوں، ہنسا سکوں

Categories
شاعری

پتھر پر لکیر

تم مجھ پر حرفِ آخر کی طرح نازل ہوئے ہو
تم سے پہلے کی اتری کتابوں، صحیفوں
میں رد و بدل کی گنجائش نے
ان کے سچ کو جھوٹ سے ملا دیا ہے
اور تمہارے سچ نے میرے جسم پر لکیر کھینچ کر
اسے پتھر کا بنا دیا ہے!