Categories
شاعری

کششِ ثقل (رضوان علی)

میرے پیر زمین پہ جمے ہوئے ہیں
لیکن میں دراصل
اس زمین سمیت
خلاء میں تیر رہا ہوں
ایک کائنات سے دوسری کی طرف
جاتے ہوئے

ازل سے ابد تک کا سفر
مجھے اپنے اندر ہی طے کرنا ہے

بہت جلد
سارے خداؤں کے درمیان
ایک گھمسان کی جنگ چھڑے گی
بس وہی فیصلے کی گھڑی ہے
اور پھر ۔۔۔
نو آسمان تہہ بہ تہہ
ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں گے
اور میں تم سے
بہت دور چلا جاؤں گا

مجھے تمہاری کمی
پہلے سے بھی زیادہ
محسوس ہو رہی ہے

یہاں آؤ ۔۔۔
بچھڑنے سے پہلے
میں ایک بار تمھیں
بہت قریب سے
دیکھنا چاہتا ہوں

Categories
شاعری

حیرت کا شکار (رضوان علی)

کل ایسا لگا
کہ جیسے کسی جنگلی جانور نے
پینترہ بدل کر
میری کمر پہ کاٹ لیا ہو

سینہ، گردن، سر تو شاید
ایک آدھ زخم سہہ بھی جاتا
لیکن کمر سے جب یکلخت
گوشت کا بڑا سا ٹکڑا
کاٹ کر نکال دیا جائے
تو شکار وہیں ڈھیر ہو جاتا ہے

اور میں زمین پہ گرا بے بسی سے
اس جنگلی جانور کی طرف دیکھتا رہا
ارے، یہ تو میرا برسوں پرانا پالتو کتا ہے!!

Categories
شاعری

تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر
مَیں اکیلا ہی ہوں
اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر
اکیلے ہی طے کرنا ہے
باقی سب ہمسفر
شاید ابھی سو رہے ہیں
جب وہ جاگیں گے
تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا ہو گا

اس تنہائی کا کوئی سدِ باب ہے؟
کوئی ہمسفر، ہم نفس، ہم راز
ہے کہ نہیں ہے؟
کیا میں کسی اور سیارے پہ
کوئی پیغام بھیج سکتا ہوں؟
شاید وہاں کوئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا ہمسفر، ہم نفس، ہم راز
میرا غمگداز، ہم دم، ہم زاد

مجھے لگتا ہے میَں
کسی غلط جگہ پیدا ہو گیا ہوں
اب ایسے میں میَں
کیا شیو کروں
کیا کپڑے بدلوں
نہاؤں بھی کیوں؟
زندہ ہی کیوں رہوں
کاش میں خلائی مخلوق ہوتا
تیرتا رہتا
اور کہیں نہ پہنچ پاتا
واپس لوٹ آتا
تنہائی کی گہرائی میں ۔۔۔۔۔۔

اے خدائے عزوجل!!
اس سیارے پر یا تو کسی کو بھیج
یا مجھے اپنے پاس بلا لے
یا مجھے وہ گُر بتا
کہ میں کسی کو جگا سکوں
کسی کو اپنا بنا سکوں
رُلا سکوں، ہنسا سکوں

Categories
شاعری

زندگی کی کشمکش (رضوان علی)

مجھے ہر سمت سے کھینچا جا رہا ہے
رسیاں میرے نتھنوں میں بھی
نکیل بنا کر
ڈال دی گئی ہیں
میرے جوڑ اب مجھ سے الگ ہونے والے ہیں
کیا میں یہ سب کچھ سہہ پاؤں گا؟

میں تھکنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتا
لیکن مجھے مرنے سے پہلے تھکایا جا رہا ہے
کبھی اس طرف کھینچ کر، کبھی اُس طرف کھینچ کر
یہ اتنے سارے بونے آخر مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
Image: Garth Knight

Categories
شاعری

دھند

جیسے مدھم سا، نرم سا احساس
جیسے جنگل میں مُشک کی خوشبو
دھند چاروں طرف ہے چھائی ہوئی
ایسا گہرا لطیف سناٹا
سانس لینا سنائی دیتا ہے
کہر ایسا کہ اپنا ہاتھ بھی اب
غور پر ہی دکھائی دیتا ہے
ایک ایسا عجیب سا جادو
جیسے ٹھنڈک لپٹ کے سوئی ہو
اک پرندہ بھی جب نہ جاگا ہو
گھپ اندھیرے سے دن نکلتا ہے
سارے جنگل پہ چپ کی چادر ہے
صبح کچھ کسمسا کے اٹھتی ہے
اک کرن دھوپ سے ذرا پہلے
آکے کہرے میں ٹوٹ جاتی ہے
چار سُو رنگ ہیں، دھنک کے رنگ
میرے قدموں میں رنگ ناچتے ہیں
جیسے قوسِ قزح کو گھیر کے دھند
قید کرنے مجھے ہی آئی ہو
مجھ کو لگتا ہے تیرا سایہ ہے
مجھ کو لگتا ہے کوئی آیا ہے
مجھ سے ملنے، مری تلاش میں تُو

جیسے مدھم سا، نرم سا احساس
جیسے جنگل میں مُشک کی خوشبو
Image: Vilhelm Bjerke Petersen

Categories
شاعری

سوم رس

میں ایک ایسا درخت ہوں
جس کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئی ہیں
اور سوکھ گئی ہیں
اب مجھے مستقل کسی تنے، کسی ٹہنی
یا کسی شاخ کی تلاش رہتی ہے
اپنے پتوں تک سوم رس پہنچانے کے لیے
مجھے کسی جاندار چیز سے چمٹنا پڑتا ہے
میں اپنی بقاء کی جنگ جاری رکھنا چاہتا ہوں

Categories
شاعری

بازیابی

اب ہم اُن لوگوں کو
جو خواب دیکھتے ہیں
اور خواب بیچتے ہیں
مارتے نہیں
بہت مصیبت ہو جاتی ہے
ان کی لاشیں دفنانی پڑ جاتی ہیں
ورنہ بہت تعفن پھیلتا ہے
اور سب کو پتہ بھی چل جاتا ہے

ہم نے ایک مشین ایجاد کر لی ہے
اب ہم انھیں پکڑتے ہیں
اور ان کی آنکھوں میں
ایسی برقی رو دوڑاتے ہیں
کہ وہ ہمیشہ کے لیے خواب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں
پھر ہم انھیں واپس چھوڑ دیتے ہیں

زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے

Image: Karen Wippich