Categories
شاعری

گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر
کاغذی گلوب نے
تیزی سے حرکت کی
اور مجھے کئی حصوں میں
منقسم کردیا
میں نہیں جانتا
میرا کون سا ٹکڑا
گلوب کے کس حصے میں گرا
یا اس کی سطح میں
جذب ہو کر رہ گیا

جن سلگتے ہوئے لمحوں کے گہرے کش لے کر
زندگی نے اُن کے ٹکڑوں کو کہیں پھینک دیا تھا
رگوں میں تیزی سے گردش کرتے
خون کی دھند میں
وہ مجھے دکھائی ہی نہیں دیے
لیکن
جب سے رات کی انگلیوں میں کرچیاں بھری ہوئی ہیں
اسے پسلیوں میں ٹہوکے دینے کی عادت پڑ گئی ہے
یہ سمجھے بغیر
کہ ایک منقسم بدن کے کسی حصے میں پسلی نہیں ہوتی
اورکوئی مضطرب اداس بے خوابی
پیہم رائگانی کا حساب نہیں کر سکتی

میں کڑے جتن کر کے
اپنا بدن سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں
میری روح
پانی پر تیرتے کنول چننے میں مصروف ہو جاتی ہے
مگر آنکھیں دُور کہیں
تم سے منسوب اُس بینچ پر جا بیٹھتی ہیں
جس کے ارد گرد پڑے
بجھی ہوئی سگرٹوں کے
ان گنت ٹکڑے اٹھا کر
زندگی پھر
ٹوٹے ہوئے گلوب کی سرحدوں پر
گہرے کش لگانے لگتی ہے!

Categories
شاعری

استعاروں کے مقتل میں

ہاں ۔ یہ کائنات
خدا کی شاعری ہے
اور انسان
اُس کی سب سے خوبصورت
یک سطری نظم

حسن اِس پر نچھاور ہوتا
اور عشق اس کی بلائیں لیتا ہے
کیونکہ اس کا وجود
اُن کے اثبات کی دلیل ہے
مگر
کور چشموں اور کور فہموں کے لئے
یہ قابلِ دید ہے نہ قابل فہم

کسی کی مذہب دشمنی سے مجھے کوئی علاقہ نہیں
کسی کی دہریت بھی میرے لئے باِ رِ خاطر نہیں
کسی کا ولی اللہ ہونا بھی میرے لئے باعثِ شادمانی نہیں
مذہبی،مارکسسٹ، جمہوریت پسند
ایک ہی لفظ کے اضافی معانی ہیں
عقائد و نظریات میں وہی اختلاف ہو سکتا ہے
جوپارٹیکل فزکس اور کوانٹم تھیوری میں ہے
لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں
کہ ایک استعارے کو
نظم کی سطر میں سے نکال کر کیسے قتل کیا جا سکتا ہے؟
ایک لفظ کے حروف کیسے الگ کئے جا سکتے ہیں؟

شہروں اور ویرانوں میں
تشبیہات کی عصمت دری کرنے والوں کو
کون بتائے
عقیدے اور سیاست کی بنیاد پر
لہو بہانے اور لاشیں گرانے والوں کو کون سمجھائے
الفاظ کے اعضا نہیں کاٹے جاتے
تشبیہوں کی عصمت دری نہیں کی جاتی
استعارے قتل نہیں کئے جا تے
اُن سے نئی نظمیں تشکیل دی جاتی ہیں

روشنی کے راستے میں
یہ کون ہیں؟
جو اِسی نظم کا حصّہ ہیں
لیکن
جن کے وجود کی رکاوٹ
نئی نظموں کے بجائے
سائے اور تیرگی تخلیق کرتی ہے

نظم کی سانس اکھڑ رہی ہے
زمین بگڑ رہی ہے
لفظ چلّا رہے ہیں
کیا تمہیں یہ علم نہیں
“خدا یہ نظم دوبارہ نہیں لکھے گا”

Image: Marcel Duchamp

Categories
شاعری

ایک خالی کمرے میں معرکہ

ایک خالی کمرے میں معرکہ
میں باہر کھڑا انگلیوں پر قبریں گن رہا ہوں
اندر فرش پر حروف بکھرے پڑے ہیں
شکستہ تن و بدحال حروف
جنہیں لفظ میں ڈھلنے سے پہلے
ادھیڑ دیا گیا

اپنی اپنی دریدہ کھالوں میں
سمٹے ہوئے خیال اور خواہشیں
کمرے کی فضا پر
پھپھوندی کی طرح جمے ہیں
اور اُن کا جسم پھیل رہا ہے

نم کاغذوں کے پرزے
کسی رزم گاہ میں بریدہ ہاتھوں کی صورت
کسی شہر کی گلی میں
کسی خودکش کے بدن کے چیتھڑوں کی طرح
اُچھلتے ہوئے
کسی بیضوی میز کے تلے
تلواروں سے
قلم تراشنے کی ناکام کوشش میں
نڈھال ہو رہے ہیں

یہ ادھورے قلم
ہوا کی مٹّھی میں نہیں آئیں گے
اور ہوا یونہی کمرے کی خاموشی پر پھسلتی رہے گی
روشندان سے جھانکتے ستاروں نے
ابھی سنگلاخ پہاڑوں سے اترتے
اُس سرخ پانی کا دائرہ نہیں دیکھا
جسے اس کمرے کے گرد کھینچ دیا گیا ہے
ابھی ستاروں کے ماتم میں کچھ دیر ہے

کمرے میں موجود خالی کرسی
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں
اور کمرے کی ریڑھ کی ہڈی
ابھی اُس سرد لہر سے آشنا نہیں
جو سرخ دائرے کی لکیر سے
کمرے کی دہلیز تک موج زن ہے

اُس کرسی پر کوئی نہیں بیٹھ پائے گا
ادھورے قلموں میں کبھی سیاہی نہیں بھری جا سکے گی
یہ کمرہ ہر عبارت سے خالی رہے گا
کیونکہ
بیضوی میزیں
کٹے ہوئے ہاتھوں
اور ادھورے قلم کے فیصلے
کبھی قبول نہیں کرتیں
Categories
شاعری

غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں

غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں
جہاں چھتوں پر
کبوتروں کی گٹکتی ہوئی آوازوں میں
مدغم ہوتی
پروں کی پھڑپھڑاہٹ کے بجائے
سوختنی قربانیوں کا دھواں پھیلا ہے
میں دو گھروں کے درمیان
نومینز لینڈ” میں ہوں”
ہوا کے رحم و کرم پر
ایک ناکارہ وجود
جسے سانس لینے کے لیے
ہوا کا دم بھرنا پڑتا ہے

اسی “نومینز لینڈ” میں
ایک گھر تھا
جسے اُنہوں نے پہلے دو حصوں میں تقسیم کیا
پھر بلا اجازت
اُن حصوں کی دیواریں بدل دیں
اور
چھتریوں پر موجود
قاصد کبوتروں کی گردنوں سے
محبت کے تعویذ نکال کر
اُن میں ناموں کے کتبے لٹکا دیے

قاسموں کی کلائیوں سے
جڑے پنجے
دہکتی سلاخوں کی طرح
دونوں کے آنگنوں پر تن گئے
آنگنوں کے چھتنار پیڑ
کیاریوں میں کھلے پھول
اور اُن پر اُڑتی رنگ برنگی تتلیاں
اُن سلاخوں کی تپش سے راکھ ہوتے گئے

سبز رنگ کا منتظر
دنیا کا جادوئی نقشہ
پیلا پڑتے پڑتے سرمئی اور بھورا ہو گیا
مگر
سرخ کی قید سے آزاد نہ ہو سکا

میں چلاتا رہا
تم نے میرے گھر کا
یہ کیا کیا؟
یہ میرا گھر تھا
میرا آنگن ،کیاریاں اور کبوتر

میں پوچھتا رہا
تم نے میرے کبوتروں کی گردنوں میں
محبت کے سندیسوں کے بجائے
ناموں کے کتبے کیوں لٹکا دیے؟؟

لیکن
ہر بار میرے پھیپھڑے
دھوئیں سے بھر دیے گئے
اور چھتوں سے
سوختنی قربانیوں کی مہک اٹھتی رہی
Categories
شاعری

واپس دو

واپس دو
یہ جتنے نام ہیں
یہ نام تصویروں میں مت ڈھالو
یہ میرے خون کی بوندیں ہیں
میں ہوں
انہیں ایسے سر کوئے ستم
کنکر سمجھ کر مت اچھالو

میں تم سے آج اپنا آپ واپس مانگتا ہوں
مجھے تم خوں بہا مت دو
کسی ایوان بالا سے
کسی زرتار منبر سے
کسی نمرود کے در سے
کوئی ایسی صدا مت دو
جسے چنگیز خانی راہداری میں کہیں تحلیل ہونا ہو

مجھے وہ تمتماتے، زندگی بر دوش بانکے دو
وہ میرے لوگ واپس دو
جو میرے خون کی بوندیں ہیں
میں ہوں
مجھے تم خوں بہا مت دو
اگر تاریخ عالم سے
ذرا بھی تم شغف رکھتے ہو
اتنا جان لو
حق گو صدائیں قتل ہوتی ہیں نہ تہہ خانوں میں چھپتی ہیں
وہ اٹھتی ہیں ،مچلتی ہیں
ستمگر کے گلے کا ہار بنتی ہیں
وہ ہر اک جبر کے پتھیریلے رستے پر
دوانہ وار چلتی ہیں
کہ آوازیں زمانے کی امانت ہیں
زمانہ تو اُنہیں محفوظ رکھتا ہے
مگر تم جو کہانی لکھ رہے ہو
اُس کا ہر کردار خائن ہے،منافق ہے
سو تم اپنی کہانی کو مرا عنوان دینے کی جسارت مت کرو
مرے کردار کو اپنی کہانی کا کوئی کردار مت سمجھو
سمجھداری اسی میں ہے
کہ میرے لوگ ،میرا خون واپس دو
مجھے تم خوں بہا مت دو
مجھے جینے کا حق دو
اور میرا نام واپس دو!
Categories
شاعری

ایک گیت (پیڑا کتھا)

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک گیت (پیڑا کتھا)

[/vc_column_text][vc_column_text]

آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے
کاہے برہن کی سنتا نہیں ہے پیا
پریت پر موری الزام دھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

ساتوں ساگر سے آتی ہے اس کی مہک
جس کنارے چلوں دیکھوں اُس کی چمک
اُس کے سائے میں لپٹے ہیں رستے سبھی
ناؤ ناؤ پڑےاس کے ناؤں کے پھول
سب کی اکھین میں سپنوں کی پروا چلی
مورے نینوں میں اٹکی ہے
اک پل کی بھول
آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

کوئی پنچھی نہ تارا نہ کوئی سکھی
موہے پیڑا کی سدھ بدھ بھی کب رہ گئی
مورے سندیسے مورے ہی من میں رہے
کس سے بتیاں کروں نیر ارپن کروں
میں وہ مورکھ جو مکھ کو چھپاتی پھروں
پاس کیا ہے جسے
اپنا درپن کروں
آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

(مہربان دوست اور سخن فہم شاعر جگدیش پرکا ش کے نام)

Image: M. F. Hussain
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

صبح و شام کے درمیان

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

صبح و شام کے درمیان

[/vc_column_text][vc_column_text]

سورج دیوتا نے
شہزادے کا رتھ الٹ دیا
شہزادے کا کچھ پتہ نہیں چلا
لیکن
شہزادی کی لاش کے ٹکڑے
راہگیرون کو گھاٹی میں ملے!

 

کہسار پر ہونے والی خفیہ ملاقات کی پاداش میں
کہسار کا سینہ چاک کر دیا گیا
اور رتھ کے پہیے طالبانِ وصل کے لئے
نا مختتم عذاب کا چکر ویو بنا دئے گئے!

 

شہر اور گاؤں میں
جنگل کے بھیڑیے
پہریداروں کی غفلت میں
معصوم کمسنوں کا نرم گوشت چبا کر
اُن کی ہڈیاں
اُن کے پاسبانوں کے
دستر خوانوں پر چھوڑ جاتے ہیں
لیکن
کوئی دیوتا
یہ دیکھنے کے لئے فارغ نہیں!

Image: M. F. Hussain
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کینوس پر لگتے اسٹروکس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کینوس پر لگتے اسٹروکس

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہاں کچھ پھول تھے
جنہیں بکریاں چر گئیں
یہاں کچھ تتلیاں تھیں
جنہیں بھڑوں نے لپک لیا
یہاں کچھ ہرن تھے
جنہیں بھیڑیے کھا گئے
یہاں کچھ گلہریاں تھیں
جنہیں راہی پکڑ کر لے گئے
یہاں کچھ پیڑ تھے
جنہیں کاٹ دیا گیا

 

ہر ستارے کے لیےیہاں
ایک بلیک ہول پہلے سے موجود تھا
جس کی دہشت نے ہرسورج کو گہنا دیا
اور دلوں کے رشتے ایسے ذہنی رشتوں میں بدل دیے
جنہیں نمی ملتے ہی زنگ لگ گیا

 

موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے!!!

Image: Gyurka
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ

[/vc_column_text][vc_column_text]

اُس نے زمین کی انگلیاں گن لیں اور آسمان کی ناف کھود لی
اب اُسے کیکڑے کی آنکھوں پر چشمہ درست کرنا ہے
لیکن اُس کے لمبے نوکیلے ناخن
ٹوٹ کر
تاریک سمندر میں کشتیوں کی طرح تیر رہے ہیں

 

کیکڑوں کی شعلہ بار آنکھوں کے سامنے
وہ زمین سے کچھ انگلیاں ادھار مانگ رہا ہے
مگر زمین کو اپنی کوکھ کے ستر کی فکر ہے
وہ اُسے اپنی کوئی انگلی قرض نہیں دے گی

 

آسمان کی کھدی ہوئی ناف سے سبز شہد
اوربانچھوں سے جمع شدہ رال
سیال آگ کی طرح
ٹپک رہی ہے

 

اُسے عجلت سے کام لینا ہوگا
ورنہ کیکڑے اُسے بھون کر کھا جائیں گے
اور سبز شہد ملی ہوئی رال
سبھی جانگیے جھلسا دے گی

Image:
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہاں یہ اعلان ۔۔ انساں کی تاریخ کا شاہی فرمان ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہاں یہ اعلان ۔۔ انساں کی تاریخ کا شاہی فرمان ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

بستیوں، شہروں اور مُلکِ تہذیب کے ساکنو
اپنے اعمال کی جنتیں بارِ شب کی طرح
اپنے اپنے سروں پر اٹھائے ہوئے بے خبر راہیو
تم میں ہمت ہے کیا؟
میرا اعلان بھی سن سکو؟
ہاں یہ انساں کی تاریخ کا
شاہی فرمان ہے

 

تو۔۔سنو!!
اب صحیفوں میں انسانیت کے حوالے سے مرقوم آثار مفقود ہیں
جنگلوں کے سبھی بھیڑیے
وحشی، سفاک، ابلیس کے ہم نفس بھیڑیے
جامہء آدمیت پہن کر جو پاگل ہوئے
ہم میں موجود ہیں
یہاں سب ہمارے ہی مابین محراب و منبر پہ موجود ہیں
اپنے خونخوار پنجوں کو کھولے ہوئے
ہر گھڑی گھات میں جسم تولے ہوئے

 

جو بھی معصوم تنہا و بے بس یہاں اپنی رہ پر چلے
وہ نشانے پہ ہے
اُس کی ہستی کا اثبات وبطلان اب منحصر
گرگ اور میمنے کی کہانی کے مانند
اِن کے چنیدہ بہانے پہ ہے

 

اس طرح دیکھتے کیا ہو؟
یہ جان لو
آج میں ہوں اگر زد پہ ان کی تو کل تم بھی آجاؤ گے
چپ رہو گے اگر اِن کے پنجوں سے تم بھی نہ بچ پاؤ گے!

Image: Minjun Yue
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]