Categories
شاعری

گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر
کاغذی گلوب نے
تیزی سے حرکت کی
اور مجھے کئی حصوں میں
منقسم کردیا
میں نہیں جانتا
میرا کون سا ٹکڑا
گلوب کے کس حصے میں گرا
یا اس کی سطح میں
جذب ہو کر رہ گیا

جن سلگتے ہوئے لمحوں کے گہرے کش لے کر
زندگی نے اُن کے ٹکڑوں کو کہیں پھینک دیا تھا
رگوں میں تیزی سے گردش کرتے
خون کی دھند میں
وہ مجھے دکھائی ہی نہیں دیے
لیکن
جب سے رات کی انگلیوں میں کرچیاں بھری ہوئی ہیں
اسے پسلیوں میں ٹہوکے دینے کی عادت پڑ گئی ہے
یہ سمجھے بغیر
کہ ایک منقسم بدن کے کسی حصے میں پسلی نہیں ہوتی
اورکوئی مضطرب اداس بے خوابی
پیہم رائگانی کا حساب نہیں کر سکتی

میں کڑے جتن کر کے
اپنا بدن سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں
میری روح
پانی پر تیرتے کنول چننے میں مصروف ہو جاتی ہے
مگر آنکھیں دُور کہیں
تم سے منسوب اُس بینچ پر جا بیٹھتی ہیں
جس کے ارد گرد پڑے
بجھی ہوئی سگرٹوں کے
ان گنت ٹکڑے اٹھا کر
زندگی پھر
ٹوٹے ہوئے گلوب کی سرحدوں پر
گہرے کش لگانے لگتی ہے!

Categories
شاعری

محبت کا ڈائمینشنل سٹریس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

محبت کا ڈائمینشنل سٹریس

[/vc_column_text][vc_column_text]

میرے لبوں نے
تمہاری آنکھوں اور ہونٹوں سے رس کیا نچوڑا
کھال
میرے بدن سے الگ ہو کر
پھیلنے لگی
ساری کائنات کو خود میں سمیٹ کر
وہ شہد کا ایسا چھتا بن گئی
جس کے مرکز میں میرا دل تھا
مگر میں نہیں تھا
میں تو شہد جمع کرنے والے کارکن کی طرح
بس مرکز کے گرد منڈلا رہا تھا
میری آنکھیں کسی ربڑ کی طرح کھنچی ہوئی تھیں
اور اُس ربڑ کی مسافت میں نایاب پھول کھلے تھے
میں نے جس پھول سے چاہا رس لیا
اور اُسے چھتے میں انڈیل دیا

 

میرے لیے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا
پھول تھے یا کھنچی ہوئی کھال کی دیوار
میں وہ شہد بنا رہا تھا
جس کے طلبگار کسی حاتم سے
مدد مانگنے کے باوجود اُسے
حاصل نہیں کر سکتے تھے

 

تمہارے ہونٹوں اور آنکھوں سے نچوڑا ہوا رس
میرے لیے
وہ قفس تعمیر کر گیا ہے
جس میں
ایک اڑان کے علاوہ صرف ابدی پیاس ہے !

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

وصل گزیدہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وصل گزیدہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

داستان اپنی مسہری پر
برہنہ سو رہی تھی
جب
عنوان نے
اُس کی خوابگاہ پر دستک دی!

 

داستان
ابھی کوئی لباس ڈھونڈ ہی رہی تھی
کہ عنوان
دبے قدموں
دروازہ کھول کر
خوابگاہ میں داخل ہو گیا!

 

عنوان اور داستان
اب ایک دوسرے کے روبرو ہیں
داستان
ایک وحشی کی طرح
عنوان کو برہنہ کرنے میں مصروف ہے
اور انجانی لذّتیں قطار باندھے
مسہری پر ٹپکتے جرثوموں کی
کلبلاہٹ پر ہنس رہی ہیں!!!!!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کینوس پر لگتے اسٹروکس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کینوس پر لگتے اسٹروکس

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہاں کچھ پھول تھے
جنہیں بکریاں چر گئیں
یہاں کچھ تتلیاں تھیں
جنہیں بھڑوں نے لپک لیا
یہاں کچھ ہرن تھے
جنہیں بھیڑیے کھا گئے
یہاں کچھ گلہریاں تھیں
جنہیں راہی پکڑ کر لے گئے
یہاں کچھ پیڑ تھے
جنہیں کاٹ دیا گیا

 

ہر ستارے کے لیےیہاں
ایک بلیک ہول پہلے سے موجود تھا
جس کی دہشت نے ہرسورج کو گہنا دیا
اور دلوں کے رشتے ایسے ذہنی رشتوں میں بدل دیے
جنہیں نمی ملتے ہی زنگ لگ گیا

 

موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے!!!

Image: Gyurka
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ

[/vc_column_text][vc_column_text]

اُس نے زمین کی انگلیاں گن لیں اور آسمان کی ناف کھود لی
اب اُسے کیکڑے کی آنکھوں پر چشمہ درست کرنا ہے
لیکن اُس کے لمبے نوکیلے ناخن
ٹوٹ کر
تاریک سمندر میں کشتیوں کی طرح تیر رہے ہیں

 

کیکڑوں کی شعلہ بار آنکھوں کے سامنے
وہ زمین سے کچھ انگلیاں ادھار مانگ رہا ہے
مگر زمین کو اپنی کوکھ کے ستر کی فکر ہے
وہ اُسے اپنی کوئی انگلی قرض نہیں دے گی

 

آسمان کی کھدی ہوئی ناف سے سبز شہد
اوربانچھوں سے جمع شدہ رال
سیال آگ کی طرح
ٹپک رہی ہے

 

اُسے عجلت سے کام لینا ہوگا
ورنہ کیکڑے اُسے بھون کر کھا جائیں گے
اور سبز شہد ملی ہوئی رال
سبھی جانگیے جھلسا دے گی

Image:
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

“میں کس ‘سماریہ’ میں ہوں؟”

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

“میں کس ‘سماریہ’ میں ہوں؟”

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: جمیل الرحمن

 

جب کچھ ایسا ہونے لگتا ہے
جو نہیں ہونا چاہیے
اور ذلتوں کی لکیر محرومیوں کی بارش سے
مٹنے کے بجائے مزید نمایاں ہو جائے
چاروں طرف اڑتی دھول میں
خون آشام ہیولوں کی لپلپاتی زبانیں سرسرانے لگیں
فضا میں کتوں کے رونے کی آوازیں گونجتی ہیں
اور محصور زندگی مسدود راستوں میں
سرنگ لگانے کی کوشش کرتی ہے

 

ایسے میں اپنے حواس سنبھالنے کے لیے
میں جیسے ہی کوئی قدم اٹھاتا ہوں
ایلیاہ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے والے
یوشع نبی کے سماریہ میں آ نکلتا ہوں
جہاں میری موجودگی میں
دو قحط زدہ عورتیں
سخت کال میں اپنی بھوک مٹانے کے لیے
اپنے بیٹوں کو باہم مل کر کھانے کا معاہدہ کرتی ہیں
ایک اپنے بیٹے کو بھون کر
دوسری کی ضیافت کا اہتمام کرتی ہے
لیکن
دوسری وقت آنے پر اپنے بیٹے کو چھپا دیتی ہے
اور دانستہ فراموش کر دیتی ہے
کہ پہلی عورت سے
اُس نے کیا معاہدہ کیا تھا

 

شاہ اسرائیل پہلی عورت کی فریاد سن کر
حیرانی میں اپنے کپڑے پھاڑتا اور گواہی مانگتا ہے
کہ اس کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا

 

سماریہ میری شہادت کا طلبگار ہے
لیکن مجھے کچھ یاد نہیں
کہ کچھ ہی دیر پہلے
دو عورتیں کہاں
کس عورت کے بیٹے کو بھون کر کھا رہی تھیں
اور کس عورت کا بیٹا
اپنی محفوظ پناہ گاہ میں تھا

 

میں کیا کروں؟
کہ بن حداد کے جاری محاصرے میں
میرے سماریہ میں جو کال پڑا ہے
اُس میں کسی فریبی کا چہرہ شناخت نہیں کیا جا سکتا
لالچی بھوک اور ممتا میں کشاکش جاری ہے
کچھ بیٹے قربان گاہوں میں بھونے جارہے ہیں
کچھ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں
آسائشوں کی سیج پر محوِ عیش ہیں
اور
میرے سماریہ کا شاہ
ہر معاہدے کی خلاف ورزی کو روا جانتا ہے!!!

 

(اس نظم کا ماخذ پرانے عہد نامہ کے باب سلاطین -2 کا وہ واقعہ ہے جب قدیم اسرائیلی شہر سماریہ کا، شاہ آرام بن حداد نے ایسا سخت محاصرہ کیا تھا کہ سماریہ میں شدید کال پڑ گیا ایسے میں اس واقعے نے جنم لیا جس کی بازگشت سنتے ہوئے اس واقعہ کا عملی اطلاق آج بھی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔)

 

لالٹین پر یہ سلسلہ ‘نظم نماء’ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]